Baaghi TV

Category: خواتین

  • "نہیں” کب کہنا ہے؟تحریر:نور فاطمہ

    "نہیں” کب کہنا ہے؟تحریر:نور فاطمہ

    نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔
    یہ تین لفظ بظاہر چھوٹے ہیں، لیکن عورت کی زندگی میں ان کی طاقت بے حد بڑی ہوتی ہے۔ ہماری معاشرتی روایات میں خواتین کو اکثر سکھایا جاتا ہے کہ وہ نرم مزاج، برداشت کرنے والی، اور خاموش رہنے والی ہوں۔ لیکن کیا ہم کبھی یہ سکھاتے ہیں کہ عورت کو "نہیں کہنا” بھی آنا چاہیئے؟”نہیں” کہنا کمزوری نہیں، شعور ہے،عورت جب کسی چیز سے انکار کرتی ہے، تو اکثر اُسے ضدی، خودسر یا بدتمیز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ "نہیں” کہنا، ایک مضبوط ذہن، خود اعتمادی اور حد بندی کی نشانی ہے۔ جب ایک عورت نہیں کہتی ہے، تو وہ دراصل خود کو، اپنے جذبات کو، اور اپنی زندگی کو ترجیح دے رہی ہوتی ہے۔

    کب "نہیں” کہنا ضروری ہے؟
    جب دل راضی نہ ہو،خواہ وہ کسی رشتے کی بات ہو، شادی، یا کسی تعلق کی نوعیت، اگر دل مطمئن نہیں ہے، تو نہیں کہنا حق ہے۔ عورت کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ محض خاندان یا سماج کے دباؤ میں فیصلے کرے۔ جب جسمانی یا ذہنی حدود کی خلاف ورزی ہو،اگر کوئی عورت کی جسمانی یا ذہنی حدوں کو پار کرنے کی کوشش کرے، چاہے وہ قریبی ہو یا اجنبی، تو "نہیں” کہنا ایک حفاظتی دیوار ہے۔ اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دینا بزدلی نہیں بلکہ عقلمندی ہے۔ہر بار "ہاں” کہنا، عورت کو تھکا دیتا ہے۔ اگر کوئی کام آپ کی ذہنی یا جسمانی صحت پر اثر ڈال رہا ہے، تو اسے رد کرنا سیکھنا ضروری ہے۔ اپنی حدوں کو سمجھنا اور ان کا دفاع کرنا زندگی کو متوازن بناتا ہے۔کبھی کبھی لوگ عورت کی نرم دلی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بار بار جذباتی بلیک میلنگ، یا فائدہ اٹھانے کی کوشش پر خاموش رہنا خود کے ساتھ زیادتی ہے۔ ایسے وقت میں "نہیں” کہنا ضروری ہوتا ہے۔

    "نہیں” کہنا سیکھنا کیسے ممکن ہے؟سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی رائے، احساسات اور حدود اہم ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں "نہیں” کہنے کی مشق کریں، جیسے غیر ضروری وعدے، یا ایسے کام جن کا آپ پر بوجھ ہو۔دوسروں کی ناراضی کا خوف چھوڑ دیں،سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں، اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اپنی خوشی کو ترجیح دیں۔صاف گوئی سے بات کریں،”نہیں” کہنے کے لیے بے احترامی یا سختی کی ضرورت نہیں، بلکہ نرمی سے لیکن واضح انداز میں انکار کرنا سیکھیں۔

    عورت کا "نہیں” کہنا، اُس کی خودمختاری، شعور اور طاقت کی علامت ہے۔ یہ صرف انکار کا لفظ نہیں، بلکہ یہ اعلان ہے کہ "میری زندگی، میرے فیصلے میرے ہاتھ میں ہیں۔”یاد رکھیں، جب عورت "نہیں” کہنا سیکھ جاتی ہے، تو وہ اپنی تقدیر خود لکھنا شروع کر دیتی ہے۔نہیں، نہیں، نہیں،یہ الفاظ کمزور نہیں، بہادر لوگوں کے ہوتے ہیں۔

  • اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، جس میں ہم بہت سے چہروں سے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے ہمیں خوشی دیتے ہیں، کچھ ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے بغیر ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن کبھی کبھار وہی چہرے ہمیں سب سے زیادہ دکھ دے جاتے ہیں۔ ایسے میں دل چاہتا ہے کہ رو لیا جائے، کسی سے شکوہ کیا جائے، لیکن ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”اتنی سی انا تو ہونی چاہئے”

    محبت کا مطلب زبردستی تھوڑی ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا ساتھ چھوڑنا چاہتا ہے، تو اُس کی خواہش کا احترام کرو۔ دل کا تعلق زبردستی سے نہیں جڑتا۔ ایسے تعلق کو نبھانے کا فائدہ کیا جس میں دوسرا فریق دل سے آپ کے ساتھ نہ ہو؟اکثر ہم اُسی شخص کی طرف لوٹ جاتے ہیں جو ہمیں توڑ چکا ہوتا ہے۔ لیکن یہ خود پر ظلم ہے۔ خودداری کا مطلب یہی تو ہے کہ جس نے ایک بار آپ کو گرا دیا، اُس کے ہاتھ پھر سے پکڑنے کی نوبت نہ آئے۔ سہارے تلاش کرنا کمزوری نہیں، لیکن غلط سہارے بار بار چننا خود پر ظلم ضرور ہے۔جب کسی کا لہجہ اجنبی سا لگنے لگے، اُس میں محبت کی بجائے طنز، سختی اور بیگانگی نظر آئے، تو سمجھ جاؤ کہ احساسات یک طرفہ ہو چکے ہیں۔ اپنے مخلص جذبات کو وہاں ضائع نہ کرو جہاں ان کی قدر نہیں۔ مخلصی کا جواب اگر خاموشی یا سختی ہو، تو وہ تعلق زہر بن جاتا ہے۔

    محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو عزت مانگتا ہے۔ اگر بار بار آپ کی قدر نہیں کی جا رہی، اگر آپ کے جذبات کو مذاق سمجھا جا رہا ہے، تو پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ خود کو اتنا سستا نہ کرو کہ کوئی آپ کو استعمال کرے اور آپ خاموش رہو۔زندگی کا راستہ طویل ہے۔ کبھی کبھی ساتھی راستے میں چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفر ختم ہو گیا۔ اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کرو کہ اکیلے بھی چل سکو، خود سے جڑ سکو، اور خود کو مکمل محسوس کر سکو۔تعلق میں سب سے بڑی بے رُخی یہ ہے کہ جب آپ کسی کو پوری اہمیت دیتے ہو اور وہ آپ کو نظر انداز کرے۔ ایسے میں بار بار اُس کی توجہ کے لیے خود کو پیش کرنا خودداری کے خلاف ہے۔ بس نظریں ہٹا لو، خود کو مصروف رکھو، اور اُن لوگوں کے ساتھ جڑو جو تمہیں اہم سمجھیں۔

    "انا” اور "غرور” میں فرق ہوتا ہے۔انا وہ وقار ہے جو ہمیں خود سے پیار کرنا سکھاتا ہے، جو ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ یہ خود کو عزت دینا ہے، اپنی ذات کو مقام دینا ہے۔تو بس…اتنی سی انا تو ہونی چاہئے کہ خود کو ہر بار قربان نہ کرنا پڑے، اور جب وقت آئے، تو خاموشی سے، وقار سے، رخصت ہو جاؤ۔

  • ” کون ہے میرا؟ "تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ” کون ہے میرا؟ "تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ستاروں کی جھلملاتی روشنیوں، سمندر کے گہرے پانیوں اور انسانوں کے جذبات واحساسات نے ہماری التفات کو ایسے اپنی جانب مبذول کیا یے کہ ہم اپنی ذات سے پرے انہی لطافت میں کہیں کھو گئے ہیں۔ ہم انسانوں کی ایک دوسرے سے انیست اور محبت کی ضرورت کسی طور کم نہیں ہو سکتی۔ ازل یہ نظام محبت قائم ہے۔ جب یہ دنیا تخلیق کی گئی تو حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام دونوں کو ساتھ زمین پر اتارا گیا، تاکہ وہ ایک دوسرے کے لیے سکون و راحت کا سبب بنے۔

    بتدریج انبیاء کرام آتے رہے، اور لوگوں کو اللّٰہ کی راہ پر گامزن کرتے رہے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ نظام کائنات بدلتا گیا، لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات اور انبیاء کرام کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں۔ اور نتیجتاً اپنی اصل کو بھولتے گئے۔ جب ساتویں صدی عیسوی میں اسلام آیا، تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے رہے اور ایمان رگوں میں سرایت کرتا گیا۔ مگر اکیسویں صدی کے لوگ جدیدیت کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ تمام کام جن کو کرنے کی ممانعت کی گئی ہے، اب انہیں بصد شوق سر انجام دیا جاتا ہے اور پھر اسے ” ماڈرنزم” کا لقب دے جاتا ہے

    درحقیقت یہ ماڈرنزم انسان کی اصل کو تیرگی میں چھپا دیتی یے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں، ہمیں زندگی بخشنے والا کون ہے؟ اور ہم سے زندگی چھینے والا کون ہے؟ ہم یوں ہی تو دنیا میں نہیں آگئے ہیں؟
    ” لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
    اپنی خوشی آئے نہ اپنی خوشی چلے ”
    وقت بدلتا گیا، اور چیزوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جذبات واحساسات میں بھی ملاوٹ کی آمیزش ہوتی گئی۔ اور گزرے سمے کے ساتھ محبت بھی زائل ہوتی گئی۔ لوگ اپنے ہی جیسے لوگوں کی تلاش میں سرگراں رہے۔
    "اتم سے اتم ملے اور ملے نیچ سے نیچ، پانی سے پانی ملے اور ملے کیچ سے کیچ”
    جب اپنی ہی صفات و نوعیت کے لوگوں میں کیف و سرور نہ ملا تو، انسان اپنے ذہن میں بنتے حبس میں مبتلا ہوتا گیا، یوں محبت اور عقیدت کی آس میں ڈپریشن کا مریض بن گیا۔
    دماغ میں چلتی ہزار ہا فکروں اور پریشانیوں کے ملبے تلے یہ آواز آئی۔
    ” کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو”
    یکایک دل سے صدا آئی:
    ” کون ہے میرا؟ ”
    یہ سوال سن کر روح نے عہد الست کی یاد تازہ کی۔
    جب عالم ارواح میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے عہد و پیمان باندھا تھا۔
    "کیا میں تمہارا رب نہیں ؟”
    کیوں نہیں؟ ” تو ہی تو ہمارا رب ہے۔”

  • قناعت میں چھپی مسکراہٹ.تحریر:نور فاطمہ

    قناعت میں چھپی مسکراہٹ.تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کی گہما گہمی، مقابلے کی دوڑ، اور مادی خواہشات کی بھرمار نے آج کے انسان کو بے چین کر رکھا ہے۔ ہر شخص بہتر زندگی کی تلاش میں ہے، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ "بہتر زندگی” کا مطلب صرف زیادہ دولت، آسائشیں یا شہرت نہیں بلکہ دل کا سکون اور قناعت ہے۔ یہی قناعت خوش رہنے کا وہ راز ہے جس سے لوگ آج بھی غافل ہیں۔”خوش رہنے والوں کے پاس ہر چیز نہیں ہوتی، بلکہ وہ جو کچھ ہوتا ہے، اس پر مطمئن رہتے ہیں” یہ جملہ گویا ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ خوشی کا انحصار ہماری سوچ پر ہے، نہ کہ وسائل پر۔

    قناعت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے "راضی رہنا”۔ جو لوگ قناعت کو زندگی کا اصول بنا لیتے ہیں، وہ ہمیشہ شکر گزار ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں لالچ، حسد یا جلن کے لیے جگہ نہیں ہوتی۔ وہ جانتے ہیں کہ،”جو کچھ میرے پاس ہے، وہی میرے لیے کافی ہے۔”قناعت انسان کو سکون عطا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ہماری ذہنی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ہماری روحانی ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف خود خوش رہتے ہیں بلکہ دوسروں میں بھی مثبت توانائی پھیلاتے ہیں۔اکثر لوگ خوشی کو باہر تلاش کرتے ہیں۔ نئے کپڑے، قیمتی موبائل، بڑی گاڑی یا بیرونِ ملک سفر ، یہ سب وقتی خوشی دے سکتے ہیں، مگر اصل اور دیرپا خوشی ہمیشہ اندر سے آتی ہے۔ خوش رہنے والے لوگ اپنی اندرونی دنیا کو صاف، روشن اور مثبت رکھتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کم وسائل ہوں تو بھی وہ ان میں سے اچھائی تلاش کرتے ہیں۔ اگر مشکلات آئیں، تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ ان کی خوشی کسی شے سے منسلک نہیں بلکہ ان کی سوچ سے جُڑی ہوتی ہے۔

    آج کا انسان ہر وقت دوسروں سے خود کا موازنہ کرتا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جب ہم دوسروں کی چمکتی زندگی کو دیکھتے ہیں، تو اپنی زندگی کم تر لگنے لگتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی کہانی الگ ہے، ہر کسی کا سفر مختلف ہے۔خوش رہنے والے لوگ دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں، لیکن خود کو ان سے کمتر نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی زندگی میں موجود ہر نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔شکر گزاری وہ خوبی ہے جو خوش رہنے والے لوگوں میں لازمی پائی جاتی ہے۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو محسوس کرتے ہیں،ماں کی دعا، بچوں کی ہنسی، بارش کی خوشبو، پرندوں کی چہچہاہٹ ، یہ سب چیزیں ان کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق، جو لوگ روزانہ شکر ادا کرتے ہیں وہ زیادہ خوش، صحت مند اور مثبت ہوتے ہیں۔ وہ پریشانیوں کو بھی زیادہ بہتر انداز میں جھیل سکتے ہیں۔

    خوشی ہمیشہ مہنگی چیزوں میں نہیں ہوتی۔ اکثر وہ لوگ جو سادہ زندگی گزارتے ہیں، زیادہ مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔ خوش رہنے والے لوگ دکھاوے سے دور ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سادگی میں عظمت ہے۔ ان کے لیے خوشی کا مطلب کسی چیز کو پانا نہیں بلکہ کسی لمحے کو محسوس کرنا ہے۔یہی لوگ ہوتے ہیں جو دوستوں کے ساتھ چائے کے کپ، کسی کتاب کا مطالعہ، یا تنہا کسی باغ میں وقت گزارنے کو بھی خوشی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔خوش رہنے والے لوگ اندر سے پر سکون ہوتے ہیں۔ ان کا ذہن الجھنوں سے پاک، اور دل نفرتوں سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرنا جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاف کرنا دوسروں سے زیادہ خود کے لیے ضروری ہے۔آج کامیابی کو صرف مادی پیمانوں پر ناپا جاتا ہے، لیکن خوش رہنے والے لوگ کامیابی کی تعریف کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی دل کا سکون ہے،والدین کی دعائیں ہیں،کسی کو ہنسانا ہے،روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں جینا ہے،یہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اندر سے خوش اور مطمئن رکھتی ہے۔خوشی ایک انتخاب ہے، حالت نہیں۔ اگر ہم یہ سیکھ لیں کہ جو ہمارے پاس ہے وہی کافی ہے، اور ہر حال میں شکر ادا کریں، تو زندگی خود بخود خوبصورت لگنے لگے گی۔

    لہٰذا، اگلی بار جب دل پریشان ہو، تو خود سے ایک سوال کریں،”کیا میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں جو میرے پاس نہیں ہے؟ یا میں شکر گزار ہوں ان نعمتوں کے لیے جو مجھے حاصل ہیں؟” خوش رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ ہو۔ بلکہ ضروری یہ ہے کہ جو کچھ ہے، اس پر دل سے راضی رہیں۔

  • شعور، خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے،تحریر:  رضوانہ چغتائی

    شعور، خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے،تحریر: رضوانہ چغتائی

    شروع سے سکھایا جاتا ہے کہ بیٹیاں وہی اچھی ہوتی ہیں جو ریڈ کارپٹ بن جائیں کہ ہر رشتے کے قدموں تلے بچھ جائیں ۔۔۔۔ ماں کے سامنے، باپ کے سامنے، بھائی، شوہر، سسرال، معاشرہ—سب کے سامنے۔۔۔۔۔
    لیکن پھر۔۔۔۔کہیں سے ایک لہر اُٹھتی ہے۔ پہلے سوال بنتی ہے۔۔۔۔۔۔پھر سوچ… پھر شعور… اور آخر میں ایک طوفان—فیمنزم کا طوفان۔
    ہاں، اس میں بہت کچھ بکھر جاتا ہے۔کچھ اقدار، کچھ رشتے، کچھ سلیقے۔۔۔۔لیکن جو باقی رہ جاتا ہے۔۔۔۔
    وہ صدیوں کی بند زنجیروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے— خودی، اختیار، اور "نہیں” کہنے کا ہنر۔۔۔۔۔ پھر بہت ہی عام سی گھرانوں کی بیٹیاں بھی سمجھنے لگتی ہیں کہ” نہیں ” کہنا اتنا مشکل نہیں ہے۔۔۔۔ باؤنڈریز بنانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔۔۔۔

    بہت ذیادہ شعور نہیں تھا جب میری چھوٹی پھپھو کی ڈیتھ ہوئی لیکن اب سوچنے سے مطالعہ کرنے سے ان کی زندگی کے بارے میں جو باتیں شعور میں رہ گئیں تو یاد آتا ہے کہ وہ کمال کی فیمینسٹ خاتون تھیں۔۔۔ وہ پہلی خاتون جو اپنے حق کے لئے لڑتی تھیں ، یقیناً وہ ہمارے ٹیپیکل پرانی روایات والے خاندان کی پہلی بیٹی تھیں جنہوں نے ہمارے لاشعور میں فٹ کر دیا کہ عورت کو doormat نہیں ہونا۔۔۔۔ جو بھی ہو جائے ایک واضح سیدھی لکیر کھینچنا ضروری ہے۔۔۔۔
    میری زندگی کی وہ پہلی فیمینسٹ ہیں جن کو اپنی زندگی میں فیمینزم کا پرچار کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ ان کا نام نسیم تھا۔۔۔۔ اور وہ اپنے ڈیٹا پر پورے کانفیڈنٹ سے نسیم چغتائی لکھتی اور بولتی تھیں۔۔۔۔ یہ وہ دور تھا جب خواتین کا شادی کے بعد آئی ڈی کارڈ پر ذیادہ تر بی بی یا شوہر کا نام ساتھ لگا دیا جاتا۔۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی ” نہیں” کہنے کی۔۔۔۔

    باؤنڈری بنانا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ان لوگوں کے سامنے جنہیں آپ کی خاموشی، خدمت اور قربانیوں کی عادت پڑ چکی ہو۔۔۔۔۔ جو لوگ آپ سے صرف فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ کبھی بھی آپ کی حقیقت، آپ کے جذبات، اور آپ کی قائم کردہ حد بندی کو اچھا نہیں جانیں گے،قرآن میں بھی بار بار ہمیں "عدل” اور "نفس کی حفاظت” کا سبق دیا گیا ہے۔ "وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ” (سورہ الاسراء: 29) — "اور نہ ہی اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا رکھو (کہ کچھ دو ہی نہ)، اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو (کہ سب کچھ خرچ کر ڈالو)”۔ یہ آیت ہمیں توازن سکھاتی ہے—اپنے آپ کو ضائع کیے بغیر دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔۔۔۔

    اگر آپ خوش قسمتی سے باؤنڈری بنا سکی ہیں، اور لوگ آپ سے دور ہو گئے ہیں—تو سمجھ لیجیے وہ کبھی آپ کے اپنے تھے ہی نہیں۔ جو رشتے باؤنڈریز کے احترام پر قائم ہوں، وہی دیرپا اور مخلص ہوتے ہیں۔ باقی سب محض استعمال کی خواہش ہوتی ہے، جس کا پردہ "محبت” اور "تعلق” کے الفاظ سے ڈھانپا گیا ہوتا ہے۔اس لیے اگر آپ کو باؤنڈریز بنانے کی قیمت چکانی پڑی ہے، تو یاد رکھیں آپ نے کچھ کھویا نہیں، بلکہ اپنے گرد موجود منافقت کا پردہ چاک کیا ہے۔ اور یہ پہچان، یہ شعور، یہ خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے۔۔۔۔۔!!!

  • عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کو اگر کتاب سے تشبیہ دی جائے تو یہ مثال نہایت خوبصورت اور معنی خیز ہے۔کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ جذبات، خیالات، فہم و ادراک، اور وقت کا عکس ہوتی ہیں۔ عورت بھی کچھ ایسی ہی ہستی ہے،گہرائیوں سے بھری ہوئی، نرمی سے مزین، اور اسرار سے لبریز،مرد کی فطرت میں تجسس ہے۔ وہ عورت کو جاننا، سمجھنا اور اس کے دل کے رازوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔لیکن عورت محض ظاہر میں موجود خوبصورتی یا نرم لہجے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک پورا جہان آباد ہوتا ہے۔اس جہان تک رسائی حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

    کتاب کو پڑھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں ہوتیں، دل، وقت، توجہ، اور احترام بھی درکار ہوتا ہے۔اسی طرح عورت کو سمجھنے کے لیے محض گفتگو یا ظاہری حرکات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ احساس درکار ہوتا ہے،صبر درکار ہوتا ہے،سمجھ بوجھ،اور سب سے بڑھ کر احترام درکار ہوتا ہے،بہت سے مرد عورت کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ عورت ایک آزاد ہستی ہے، ایک مکمل وجود، جسے صرف محبت سے، سمجھ بوجھ سے اور عزت دے کر ہی پڑھا جا سکتا ہے۔

    چند خوش نصیب مردوہہوتے ہیں جو عورت کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ سے زیادہ اس کی خاموشیوں کو سمجھتے ہیں۔
    جو اس کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرتے ہیں۔جو عورت کو ایک شخصیت، ایک انسان سمجھتے ہیں، نہ کہ محض ایک کردار،ایسے مرد عورت کی کتاب کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اسے سلیقے سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عورت کے ہر صفحے پر ایک الگ کہانی ہے،کبھی ماں کی محبت،کبھی بیوی کی وفاداری،کبھی بیٹی کی معصومیت،
    اور کبھی بہن کی شفقت،عورت کو سمجھنے کے لیے کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں،بلکہ خود اس "کتاب” کو سمجھنے کی نیت، ہنر، اور سلیقہ ہونا چاہیے۔جو یہ سلیقہ سیکھ لیتے ہیں، وہ زندگی کی سب سے حسین اور گہری کتاب کو پا لیتے ہیں۔

  • جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    زندگی میں ہر انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی شہرت چاہتا ہے، کوئی دولت، کوئی کامیابی کے پیچھے دوڑتا ہے اور کوئی رشتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان تمام ترجیحات میں ایک چیز اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے ، دل۔ہم اکثر ان لوگوں کی قدر تب کرتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتے۔ وہ لوگ جو دن رات ہمیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے ہیں، ہمارے لیے اپنے جذبات کو قربان کر دیتے ہیں، ہم انہیں معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے خلوص کو، ان کے پیار کو، ان کی توجہ کو ہم کبھی مکمل طور پر محسوس ہی نہیں کرتے۔لیکن وقت جب ہاتھ سے نکل جاتا ہے، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ "کچھ دل کبھی دوبارہ نہیں ملتے”

    دل جو خاموشی سے محبت کرتا ہے،ایسے دل نہ تو واویلا کرتے ہیں، نہ ہی محبت کے لیے مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ دل صرف چاہتے ہیں کہ انہیں سمجھا جائے۔ ان کی بے آواز چیخوں کو سنا جائے، ان کی خاموش قربانیوں کو پہچانا جائے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اُن دلوں کو کھو دیتے ہیں، جو ہمارے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔جب ایک طرف سے محبت ہو، اور دوسری طرف صرف بے نیازی، تو ایک وقت آتا ہے جب وہ مخلص دل بھی تھک کر خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ جو کبھی تمہیں خوش کرنے کے لیے ہر حد پار کرتا تھا، وہ ایک دن خاموش ہو کر دور ہو جاتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل ٹوٹتے ہیں ، نہ صرف ایک، بلکہ دونوں طرف کے۔

    اگر ہم وقت پر آنکھیں کھولیں، اگر ہم اُن لوگوں کی قدر کریں جو بے غرض محبت کرتے ہیں، تو ہم بہت کچھ بچا سکتے ہیں۔ ہم اُن دلوں کو سنبھال سکتے ہیں جو شاید وقت کے ساتھ تھکنے لگے ہیں۔محبت کرنے والے دل بہت نایاب ہوتے ہیں۔ جس دل نے آپ کے لیے بہت کچھ کیا ہے، جس نے ہر بار آپ کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا ہے، اُسے کبھی نہ کھوئیں۔ کیونکہ جب وہ دل چلا جاتا ہے تو نہ وقت واپس آتا ہے، نہ وہ خلوص، نہ وہ جذبہ،جو چاہو کھو دو، مگر کبھی اس دل کو مت کھونا۔۔۔ کیونکہ کچھ دل واقعی کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔

  • سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    دنیا کی بھیڑ میں، جہاں ہر شخص کسی نہ کسی نقاب کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے، وہاں سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ انسان خود کو وہی ظاہر کرے جو وہ حقیقت میں ہے۔ یہ ایک سادہ سا جملہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر ایک بہت گہری دانائی چھپی ہوئی ہے۔آج کی دنیا میں لوگ اکثر دوسروں کی خوشنودی، سماجی دباؤ یا ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے خود کو چھپاتے ہیں۔ ہم اکثر وہ دکھاتے ہیں جو دوسرے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ بولتے ہیں جو دوسرے سننا چاہتے ہیں، اور وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو معاشرہ ہم سے چاہتا ہے۔ مگر اس سارے عمل میں ہم خود سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے اصل کو کھو بیٹھتے ہیں۔

    اپنی اصل کو قبول کرنا کیوں مشکل ہے؟
    خود کو اپنی حقیقت کے ساتھ ظاہر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں
    تنقید کا خوف: اگر میں نے اپنے خیالات اور جذبات سچ سچ بیان کیے تو لوگ کیا کہیں گے؟
    رد کیے جانے کا ڈر: کیا اگر میں اپنی اصل شکل دکھاؤں تو لوگ مجھے قبول کریں گے؟
    موازنہ: سوشل میڈیا اور دنیاوی کامیابیوں نے ہمیں دوسروں سے موازنہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو "کامیاب” دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ ہماری فطرت سے میل نہ کھاتا ہو۔

    حقیقی دلیری کیا ہے؟
    حقیقی دلیری تلوار چلانے یا اونچی آواز میں بولنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانک کر، اپنی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ خود کو ایسے قبول کرنا جیسا کہ ہم ہیں، اور بغیر کسی خوف یا دکھاوے کے ویسا ہی دنیا کے سامنے پیش آنا—یہی اصل بہادری ہے۔

    خود کو اپنی حقیقت میں ظاہر کرنے کے فوائد
    اندرونی سکون: جب آپ خود کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے، تو دل کو ایک سکون ملتا ہے۔
    خالص رشتے: آپ کے اردگرد وہی لوگ رہتے ہیں جو آپ کو حقیقت میں پسند کرتے ہیں، نہ کہ آپ کے نقاب کو۔
    ذاتی ترقی: جب آپ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں تو ہی آپ انہیں بہتر بنا سکتے ہیں۔
    اعتماد میں اضافہ: جب آپ خود پر اعتماد کرتے ہیں، تو دوسروں کا اعتماد بھی آپ پر بڑھتا ہے۔

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں سب سے خوبصورت ساتھی ہمارا "اصل خود” ہے۔ تو کیوں نہ ہم اس کے ساتھ سچائی سے جئیں؟ سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ ہم خود کو نہ بدلیں، نہ چھپائیں، بلکہ اپنی اصل کو فخر سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔

  • اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نے کہا تھا
    وجود زن سے تصویر کائنات میں ہے رنگ
    یہ درست ہے اس کائنات میں خواتین کا رول بہت اہم ہے نسل انسانی کو پروان چڑھانے اور ان کی تربیت کی زمہ داری اللہ تعالیٰ نے خواتین کے کندھوں پر ڈالی اور تاریخ شاہد ہے جن خواتین نے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی ان کی اولاد نے اپنے اعلیٰ اوصاف سے ایسے رنگ بھرے کہ جو کبھی ماند نہیں ہوئے، فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ہم قدم رہیں کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑا ،رعنا لیاقت علی خان نے اپنے شوہر لیاقت علی خان کا ساتھ دیا مال و دولت جمع نہیں کیا اسی طرح تاریخ اسلام اور دنیا کی تاریخ خواتین کے کار ناموں سے بھری پڑی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ حقوق جو اسلام نے اور قانون نے عورتوں کو دئیے ان پر عملدرآمد بہت کم دیکھنے میں آ یا اور معاشرے میں خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا اور ایسے ماحول میں اگر خواتین کو عزت و تکریم دینے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہنے کی کی بات ہو تو بہت خوش آئند ہے، اسی حوالے سے آ ل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن ( اپووا ) نے کل بارہ اپریل ہفتے کے دن پاک ھیرٹج ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی .


    اپووا کے بانی اور صدر ایم ایم علی ہیں جبکہ چئیرمین زبیر احمد انصاری ہیں ان کی طرف سے منعقد کردہ یہ تقریب شاندار تھی اپنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایوارڈ حاصل کرنے پر خواتین خوش نظر آ رہی تھیں تمام گیسٹ سپیکرز اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز مقام رکھتی تھیں ان میں سامعہ خان ، عذرا آ فتاب ، عارفہ صبح خان ، دعا مرزا ، ثنا آ غا خان ، ڈاکٹر فضلیت بانو ، گل ارباب ، کومل جوئیہ ، لالہ رخ اور دیگر شامل تھیں اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کو غزہ کے مظلوموں سے منسوب کیا گیا کالی پٹیاں باندھ کر اور فلسطین کے جھنڈے لہرا کر احتجاج کیا گیا اور فلسطین کی مظلوم عورتوں اور بچوں سے اظہار یک جہتی کیا گیا ،اس تقریب میں پشاور ، کراچی ، اور کئی دوسرے شہروں سے آ نے والی خواتین شامل تھیں یہ بھر پور اور باوقار تقریب تھی اس کے لیے اپووا کے بانی اور چئیرمین لائق تحسین ہیں ان کو بہت مبارکباد اور انتظامیہ میں شامل تمام خواتین جن میں سحرش خان ، ڈاکٹر ثمینہ طاہر اور دیگر بہت مستعد تھیں ان سب کا بھی شکریہ اور مبارکباد
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    الحمداللہ! 12 اپریل 2025 کو لاہور کے پاک ہیرٹج ہوٹل میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے پانچویں خواتین کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں پاکستان کے تمام صوبوں سے خواتین نے شرکت کی۔ مختلف شعبہ جات میں کامیاب خواتین نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نئی نسل کو آگے بڑھنے کا جذبہ دیا۔ بہت سے مسائل پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس کا مقصد بہت بڑا تھا۔

    آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اللہ پاک نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے بس اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم قانون قدرت کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار، داتا، ملکیت، تکبر سب اللّٰہ ربّ العزت کی صفات ہیں جب بھی کسی انسان نے یا کسی قوم نے ان صفات کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ فرمان نبوی کے مطابق اگر آپ کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے منع کرو اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو اسے دل سے برا جانو اگرچہ یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ "مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کے کسی ایک حصے میں درد ہو گی تو دوسرا حصہ خود بخود تکلیف میں ہو گا۔” کانفرنس میں غزہ کے مسلمانوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور ان کے ساتھ یکجتی کا اظہار کیا گیا مگر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہم ایمان کے کون سے درجے پر ہیں۔ نہ ہم ہاتھ سے روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ ہماری زبان حق کے لیے بولتی ہے تو کیا ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے سے بھی گر گئے جہاں ہم کفار کو برا بھلا ہی کہہ سکیں؟ ان کی بنائی مصنوعات کو چھوڑ سکیں؟ مسلمان جو ایک جسم کی مانند ہیں پھر ہمارا جسم ہمارا دل ہماری روح غزہ کے مسلمانوں کے لیے تکلیف میں کیوں نہیں؟ کیا ہم مسلمان ہی نہیں رہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔

    خواتین کانفرنس میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا میں تو سمجھتی ہوں جس کا جتنا برتن ہوتا ہے اس میں وہ اتنی اشیاء بھر لیتا ہے۔ ایک سپیکر خاتون نے تو جیسے میرے دل کی باتیں کہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میں نے باہر معاشرے میں نکل کر دیکھا ہے جتنی ٹانگ خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کھینچتی ہیں اس کے برعکس مردوں میں حسد جلن اور نفرت کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کامیابی برداشت نہیں کرتیں بلکہ ان کو سیدھے راستے کی بجائے غلط راستہ دکھاتی ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتی ہیں کسی دوسری کے پاس نہ ہو۔

    تو واقعی خواتین کا عالمی دن منانے سے کچھ نہیں ہونے والا میری نظر میں خواتین کے حقوق کی جنگ مردوں سے نہیں اپنی ہی ہم جنس خواتین سے ہے۔ مقابلہ تو برابر والے سے ہوتا ہے جنگ کے اصولوں میں بھی برابری شامل ہے۔ ہم جو پلے کارڈ اٹھا کر مردوں کے سامنے آ گئی ہیں ان کے برابر کے حقوق مانگنے اگر عورت اپنی سوچ کو مثبت کر لے تقدیر پر راضی رہنا اور ہمیشہ دوسری عورت کی مدد کرنا اس کا ساتھ دینا سیکھ لے تو ہمیں کسی مرد سے اپنے حق مانگنے کی ضرورت نہیں۔ باقی میں متفق ہوں کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں بس اللہ نے آپ کو جتنی طاقت اور جتنی ہمت و سہولت دی ہے اس میں انسانیت کو فایدہ پہنچاتے رہیں۔ آگے بڑھ کر اپنی خواتین ساتھیوں کی مدد کریں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جو کسی کا مقدر ہے وہ آپ چھین نہیں سکتیں اور جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی آپ سے لے نہیں سکتا تو پھر ڈر کس بات کا۔ یہ دنیا فانی ہے اس کی ہر شے کو فنا ہے یہ دولت یہ شہرت یہ عزت یہ مقام سب منوں مٹی تلے دب جانے ہیں باقی رہ جانی ہیں صرف اور صرف نیکیاں۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ چلنے اور برابری کے چکر میں یہ بھول ہی گئی ہے اس کی عزت اس کا وقار اس کے سر کی چادر اور سر کے سائیں کے ساتھ ہے۔ اپنی چادر اور اپنے سائیں کی عزت کا خیال رکھیں کبھی معاشرہ آپ کے حقوق نہیں چھینے گا۔ دوپٹہ یا چادر اتار کر ہم نہ مرد بن سکتیں ہیں نہ ان کے برابر جس کو اللہ نے قوام بنایا ہم اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں۔ آدم کے لیے حوا لازم تھی اور حوا کے لیے آدم۔ ہم بھی اپنے ساتھی اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سب باتیں لکھنا کہنا برتنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے اٹھارہ سال لگے یہ سب لکھنے میں مگر دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنی سیکھیں لڑائی جھگڑے اور پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس کے ساتھ حقوق مانگنے کی جنگ ہے وہ کسی سڑک پر نہیں رہتا وہ ہمارے گھر پر ہمارے دل میں رہتا ہے اور یہ جنگ لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ محبت اور دلیل کے ساتھ جیتنی ہے ان شاءاللہ!


    میری نظر میں ہر عورت خاص ہے چاہے وہ باہر کام کرنے والی خاتون ہے یا گھر سنبھالنے والی۔ عورت اللہ کی مخلوق ہے اس کے خاص ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کیا۔ حدود اللّٰہ میں رہتے ہوئے جو عورت بھی معاشرے کے لیے نفع مند رہے گی وہ کبھی ناکام نہیں رہے گی۔

    میں اپووا کی تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اتنے کامیاب پروگرام کے لیے۔ علی بھائی، زاہد بھائی، ثمینہ آپا، مدیحہ، سحرش اللہ پاک آپ سے آپ کی تمام کوششوں کو قبول فرمائے اسی طرح سب کو ہمت دلاتے رہیں اللہ پاک آپ کی عزت میں اضافہ فرمائے آمین
    قرۃالعین خالد
    نائب صدر پنجاب (اپووا)
    سیالکوٹ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان