Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    انہوں نے اپنا ” عورت پن ” خود ختم کیا اور برابر کے حقوق کا نعرہ لگایا بلکہ فیمنزم کے نام پر اس برابری کے حصول کے لیے تحریک بپا کی ۔

    اس کے بعد یہ خواتین کس برتے پر خود کے لیے الگ سے عزت و احترام کا تقاضا کرتی ہیں ؟

    ان کا یہ مطالبہ بذات خود ان کے ایجنڈے کی نفی ہے ، لیکن کند ذہنی کے سبب سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ آٹھ مارچ کو عورت مارچ کے نام پر اکٹھ کر کے اور مطالبوں کے نام پر بےہودگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ” اضافی ” عزت و احترام کا انہیں کوئی حق نہیں ہے ۔

    ” لیڈیز فرسٹ ” اس کے بعد کہنا سیدھی سیدھی ” دھاندلی ” ہے ۔

    اگلا سوال ، کہ کیا اضافی عزت و احترام کا تقاضا کسی کا بنتا بھی ہے یا نہیں تو عرض ہے بلکہ ان کا بنتا ہے کہ جو واقعتاً معزز خواتین ہیں ، مذہب اور معاشرے کی درست تقسیم کو دل و جان سے قبول کرتی ہیں جوابی طور پر انہیں بسا اوقات مردوں سے بھی زیادہ عزت سے نوازا جائے گا ۔۔۔۔کہ ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مرگ پر ان کے بارے میں فرمان تھا کہ ان کا خیال کرنا ۔

    سو !

    سو ہم جب کبھی بازار میں نکلیں گے تو بارش دھوپ میں واحد چھتری ان کے سر پر تانیں گے اور خود دھوپ بارش سہیں گے ، ہم دن بھر جون جولائی کی گرمیوں میں محنت کر کے ان معزز خواتین کے لیے ٹھنڈی چھت ، ائیر کنڈیشنر ، پنکھے ، ائیر کولر فراہم کریں گے کہ یہ معزز خواتین ہیں ، ہم دن میں بازاروں کا غیر معیاری کھانا ، کھا کر انہیں گھر میں بہترین خوراک فراہم کریں گے ، ہم اپنے کپڑے سستے سستے سے بنائیں گے اور انہیں ہزاروں روپے کے برانڈڈ کپڑے اور وہ بھی الماری بھر بھر کر بنوا کر دیں گے ۔۔۔

    ہم ویگنوں سے لٹک کر سفر کر لیں گے اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے لاکھ لاکھ بلکہ کئی کئی ملین روپے کی بالیاں بندے کانوں میں بنوا کر دیں کہ یہ بقول رسول ہاشمی نازک آبگینے ہیں سو ان کا دل بھی تو خوش کرنا ہے ۔۔۔۔ یہ معزز خواتین ہیں ۔

    لیکن !

    جنہوں نے خود اپنا عورت پن ختم کیا وہ کیونکر ایسا اضافی اور خصوصی سلوک مانگتی ہیں ؟

    وہ ویگنوں سے لٹکیں پھر بات کریں ۔۔۔۔۔۔

    خصوصی سلوک و حقوق و حیثیت کی حق دار تو وہ معزز خواتین ہیں کہ جو خاص رہیں ، جو عام ہو گئیں وہ کیونکر طلب گار ہیں ۔۔۔۔۔

  • کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    ہم نے اکثر و بیشتر ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کامیاب لوگوں سے خوامخواہ چڑتے ہیں۔ امیر اور دولت مند لوگوں سے خار کھاتے ہیں۔
    اگر کسی دولت مند اور غریب کی لڑائی ہو جائے تو از خود ہمیشہ امیر بندے کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ گاڑی یا بائیک ٹکرا جائے تو صرف گاڑی والے کو ہی برا بھلا سناتے ہیں۔ ریڑھی یا رکشہ والا قیمتی گاڑی میں رکشہ ٹھوک دے ہمیشہ ریڑھی اور رکشے والے کو ہی مظلوم ثابت کرتے ہیں اور گاڑی والے کو مغرور اور بد تمیز گردانتے ہیں۔

    ہم نے از خود فرض کر لیا ہے کہ دولت مند ہی ہمیشہ غلط ہے۔ اور تمام تر سمجھوتے اور درگزر اور خوف خدا بھی صرف اور صرف دولت مند کو ہی کرنے چاہیے اور سب کے سب اصولوں کی پاسداری بھی صرف دولت مند یا کھاتے پیتے لوگ کریں باقی غریبوں کو ہر بات کی ریلیکسیشن ہے۔

    ہم سمجھتے ہیں کیونکہ ہم غریب ہیں اس لیے بد دیانتی جائز ہے جب کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم غریب اسی لیے ہیں کہ ہم بد دیانت ہیں۔

    ہم اپنے ورکرز اور ملازمین میں دیکھیں یہ جہاں دل کرئے گا وہاں کام میں آنا کانی کریں گے جب دل کرئے گا خاندان کے ہر دور و نذدیک کی فوتگیوں شادیوں میں جائیں گے ہر زرا سی بات پہ چھٹیاں کریں گے جب دل چاہے گا کام بیچ میں چھوڑ کے بھاگ جائیں گے مگر امیر لوگوں پہ یہ فرض ہے کہ وہ ان کی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود ان کو تنخواہ پوری دے کیونکہ یہ غریب آدمی ہے۔

    مجھے حیرت ہوتی ہے کیا غریب آدمی کو خود احساس نہیں ہے کہ وہ غریب ھے اس کو بد نیتی نہیں دیکھانی چاہیے؟ اس کو چھٹیاں نہیں کرنی چاہیں؟ اس کو بہانے نہیں بنانے چاہیے؟ اس کو کام میں ڈنڈیاں نہیں مارنی چاہیں؟
    اس سے اس کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔

    یہاں رکشہ سواروں کو دیکھیں سڑکوں پہ رکشہ ایسے چلاتے ہیں جیسے موت کے کنوئیں میں چلا رہے ہوں بعض مرتبہ اچانک سامنے آ کے کسی بھی نئی شاندار گاڑی میں لا کے رکشہ ٹھوک دیں گے خود کپڑے جھاڑ کے ہنستے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے دوسرے کی شاندار گاڑی کی ہزاروں روپے کی لائٹس توڑیں ڈینٹ ڈالا نقصان کیا اس کا کوئی ہمدرد نہیں سارا مجمع اکھٹا ہو کہ گاڑی والے کو کہے گا جانے دو غریب آدمی ہے. کیا غریب آدمی کے لیے چھوٹ ہے کہ وہ اندھا دھن رکشہ چلائے یا بائیک چلائے ؟ کیا اس پہ کسی کے نقصان کی کوئی زمہ داری نہیں ھے؟ اور کیوں نہیں ھے؟

    اگر کوئی دوست وقت کے ساتھ ترقی کر گیا کامیاب ھو گیا تو پرانے دوست لازم ہے کہ اس پہ طنز کریں گے۔ وقت بے وقت فون کریں گے۔ فون نا اٹھانے پہ اس کے بخیے ادھیڑیں گے۔ اسے پرانا وقت یاد دلائیں گے۔ اس کو مغرور گردانیں گے۔ صرف اس کیے کہ اب وہ چوک پہ آپ کے ساتھ بیٹھ کے گپیں نہیں لگاتا یا وقت بے وقت فون نہیں اٹھاتا؟

    کبھی آپ نے سوچا ھے کہ وہ مصروف ہو سکتا ھے یا وہ سارا دن کام کے بعد آرام کر رہا ہو سکتا ھے یا اس کا فیملی ٹائم ہو سکتا ھے۔

    اگر آپ نے یہ نہیں سوچا تو اب یہ ضرور سوچیں کہ وہ اسی لیے آپ سے آگے نکلا ہے کیونکہ اس نے وقت کے ساتھ وقت کی قدر کو پہچانا ھے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ اس نے گپوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے انتھک محنت کی ھے۔

    اکثر لوگوں کو کہتے سنا جب سے فلاں کے پاس گاڑی آئی ہے فلاں بہت مغرور ہو گیا ھے فلاں تو ہمیں اپنی گاڑی میں بیٹھاتا ہی نہیں کبھی آپ نے سوچا ھے کہ کیا آپ نے کسی کہ ذاتی سواری میں اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اس کی پرائیویسی کا خیال رکھا ہے سفر کے دوران اس کی ٹیلیفون کالز پہ کی گئی ڈیلز یا کوئی بھی ذاتی بات کا پاس رکھا ہے۔

    اکثر لوگوں کو شکوہ ہوتا ہے فلاں اپنے گھر نہیں بلاتا فلاں ہمارے گھر نہیں آتا۔ فلاں فلاں جگہ نہیں جاتا۔

    ٹھیک ہے خوشی غمی میں شامل ہونا اچھی بات ہے مگر کیا آپ نے کبھی کسی کامیاب دولت مند امیر آدمی کے جوتوں میں پاوں ڈالے ہیں کبھی اس کے پاوں کے آبلے دیکھے ہیں کبھی آپ کو احساس ہو گا اس انتھک محنت کا جس کو نا موسموں کی پروا تھی نا اس کے پاس کسی تفریح کی گنجائش۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا ھے کہ ایک کامیاب آدمی نے کتنی شادیوں، اور تفریحات کی قربانی دی ہے۔

    کبھی کامیاب لوگوں کی روٹین دیکھی ہے وہ کتنے کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کی نیند کا ٹائم کتنا ہے۔ ان کی کھانے پینے کی روٹین کیا ہے اور یہ اپنے خاندان
    کو کتنا وقت دے پاتے ہیں اس میں بھی ہم کہتے ہیں ہمارا فون نہیں اٹھایا جبکہ فون پہ کرنی آپ نے صرف ادھر ادھر کی ھے۔

    اگر کسی کی دولت کا احسان کسی دوسرے پہ نہیں ہے تو کسی کی غربت کی ذمہ داری بھی کسی دوسرے کی نہیں ہے۔
    بعض مرتبہ یہ خدا کی تقسیم ہے اور بے شمار مرتبہ ہر انسان کی ذاتی محنت، ہمت، استقامت۔
    اور صحیح وقت پہ ترجیحات کا تعین۔

    آخر میں دل تو چاہتا ھے یہی جملہ لکھوں کہ

    محنت کر حسد نا کر۔

    مگر اس کے ساتھ یہ ضرور کہوں گی کہ کامیاب لوگوں کو سٹڈی کریں ان کے وہ اوصاف ڈھونڈیں جنہوں نے انہیں کامیابی دلائی اور خود میں وہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

  • اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میرے ایک جاننے والے ہیں جن کی بیٹیاں ہماری یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب والی ایک مسجد میں نماز پر پچھلے دو تین دن سے ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھ لیا کہ آپ کا گھر تو مسلم ٹاؤن کی طرف ہے تو یہاں خیریت سے روز آتے ہیں۔ کہنے لگے کہ میری بیگم کا ایک بیماری کی وجہ سے آپریشن کروانا پڑا ہے۔ گھر میں کھانا وغیرہ وہی بناتی تھیں تو اب جب سے وہ بستر پر پڑی ہیں تو یہاں سے شام کو اپنی بہن کو لے کر جاتا ہوں وہ کھانا وغیرہ بنا آتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی تو ماشاءاللہ تین بیٹیاں جوان ہیں اور تینوں گھر ہیں تو پھر بھی کھانے پکانے کے بہن کو لیجانے کی ضرورت پڑتی ہے؟

    کہنے لگے کہ ماں نے بیٹیوں کو کھانا پکانا سکھایا ہی نہیں۔ بس پڑھائی میں مصروف رہیں اس لیے کسی کو بھی نہیں آتا۔

    میں نے کہا کہ بھائی اگر پہلے نہیں سیکھا تو اب سکھا دیں تاکہ یہ محتاجی ختم ہو۔

    وہ مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے میں نے پتہ نہیں کیا بات کر دی ہو۔

    میرے لیے یہ انتہائی حیرت کی بات تھی۔ لیکن ایسی ہی باتیں اکثر مختلف لوگوں کے رشتے کی بات کہیں چلے تو اکثر سننے کو ملتی ہے کہ بیٹی کو کھانا پکانا تو ہم نے سکھایا ہی نہیں۔ ہماری بیٹی تو نازوں میں پلی ہے۔

    ایسے لوگ جو بیٹیوں کو کھانا بنانا نہیں سکھاتے وہ ان میں سے کونسی بات سوچ کر ایسا کرتے ہیں

    1۔پہلی آپشن یہ ہے کہ اس کا شوہر ہی کھانا پکا کر اسے کھلائے گا۔ اب اس میں یہ صورتیں ممکن ہیں:

    یا تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی جاب کر کے کما کر لائے اور ان کا داماد گھر سنبھالے، کھانا وغیرہ پکائے۔ خود بتائیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کوئی بھی پسند کرتا ہے؟ یہاں تک کہ نہ کوئی بھی شوہر یہ پسند کرے گا اور نہ ہی کوئی بھی بیوی یہ پسند کرتی ہے۔
    اسی میں دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ کما کر بھی شوہر لائے اور پھر کھانا وغیرہ بھی وہی بنائے۔
    اگر کوئی بھی یہ سوچتا ہے تو پھر یہ بھی بتا دیں کہ کوئی بھی مرد کسی عورت کو بیاہ کر ہی کیوں لائے گا جبکہ گھر اور باہر خود اس نے ہی سنبھالنے ہیں تو پھر مزید ایک شخص کی ذمہ داریاں وہ کیوں اپنے سر لے؟

    2۔دوسری آپشن یہ ہو سکتی ہے کہ شوہر کمائے اور بیوی کوئی بھی کام نہ کرے یا پھر وہ بھی جاب کرے اور کھانا بنا نا سب نوکروں کے ذمہ ہو۔ بظاہر یہ ممکن لگتا ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو ایسے گھروں کا حلیہ دیکھنے لائق ہوتا ہے جس میں گھر سنبھالنا نوکروں کے ذمہ ہو۔ نوکرانی شاید ہی کوئی ایسی ملے جو دل سے اچھا کھانا بناتی ہو ۔ پھر صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتی ہیں۔ کوئی بہت ہی امیر کبیر گھرانہ ہو جس نے کئی باورچی رکھے ہوں اور وہ کل وقتی ملازم ہوں تو صرف وہاں یہ چل سکتا ہے لیکن ایسا عام گھرانوں میں ممکن نہیں۔

    3۔تیسری آپشن یہ ہے کہ سارا کھانا باہر ہی کھایا جائے یا پھر باہر سے منگوایا جائے۔ یہ کبھی کبھار تو ممکن ہے لیکن ہر وقت نہیں کیوں کہ ایک تو باہر والے ریٹ ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہر وقت منگوانا افورڈ ہی مشکل ہو پائے گا اور پھر اس سے صحت کا جو کباڑہ ہو گا اس کا سب کو معلوم ہے۔

    دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، چاہے عورت گھر رہتی ہو یا کام کرتی ہو، کھانا بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور وہی اس کو احسن طریقے سے کر سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ بہت سے ایسے دوسرے کام ہیں جو ہمارے معاشرے میں صرف مرد ہی کرتا ہے اور عورت کر سکتی ہو تب بھی نہیں کرتی۔ تھوڑا سا بھی غور کریں تو بہت سے ایسے کام مل جائیں گے۔ فرانس میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ زیادہ تر گھروں میں کھانا عورت ہی بناتی تھی ۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ وہاں اس پر مزیدکمانے کی بھی پوری ذمہ داری ہوتی ہے۔

    یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ پڑھائی کسی بھی کلاس کی ہو اتنی مشکل نہیں ہوتی کہ اس میں تھوڑا سا وقت بھی گھریلو کاموں کےلیے نکالا نہ جا سکے۔ میٹرک اور ایف ایسی سی کو تھوڑا سا ایسا بنا دیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد والی تعلیم میں ایسا کچھ نہیں کہ بیٹیوں کو گھر داری سکھانے کا بھی وقت نہ ہو۔ اس میں سب سے زیادہ نااہلی ماؤں کی ہے۔

    کسی بھی ماں کے لیے کہوں گا کہ اگر آپ کو گھر کے کام کرنے میں عار محسوس نہیں ہوتی تو یہ آپ کی بیٹی کے لیے بھی باعث عار نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا بنا کر خوشی محسوس کرتی ہیں تو یہی خوشی اپنی بیٹی کو بھی محسوس کرنے دیجیے ۔ اگر آپ یہ پسند نہیں کرتیں کہ آپ کا شوہر، آپ کا باپ یا آپ کی ماں، آپ کا بیٹا یا بیٹی گھر آئے اور اسے کہوں کہ خود بنا لیں یا باہر سے کھا لیں تو پھر اپنے بیٹی کے لیے بھی یہ پسند نہ کریں کہ وہ اپنے سے جڑے رشتوں کے لیے ایسا سوچیں۔

    گھر میاں بیوی دونوں مل کر بناتے ہیں۔ اس میں دونوں پر کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسلام نے مرد کو قوام بنا کر کمانے کی اور حفاظت کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے۔ عورت کو معاشی معاملات اور باہر کے معاملات سے بالکل آزاد کر کے صرف گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا تو گھر کا سکون برباد ہو جائے گا۔

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں۔ اگر گھر میں یہ کام کر کے راضی نہیں ہونگی تو یاد رہے کہ کمانے کی ذمہ داری مرد لینا چھوڑ دے گا اور پھر بہت سی عورتوں کو یہی کام گھر سے باہر سارے مردوں کے لیے کرنے پڑیں گے۔ نہیں یقین تو ذرا غیر مسلم ممالک کا ایک چکر لگا کر دیکھ لیجیے۔

  • عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    فیمن ازم سے دانستہ یا نادانستگی میں متاثرہ خواتین کو ان احادیث پر شدید اعتراض ہے:

    "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ”. رواه البخاري (بدء الخلق/2998) .

    ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :”إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ”. رواه البخاري.(النكاح/4795)

    ترجمہ: جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا”. رواه مسلم. (النكاح/1736)

    ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔

    "وعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ”. رواه الترمذي”. ( الرضاع/ 1080)

    ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگر چہ تنور پر روٹی بنارہی ہو ( تب بھی چلی آئے)

    اوپر سے مغربی فیمنسٹس نے میریٹل ریپ کی جو اصطلاح نکالی ہے، وہ جلتی پر تیل ہے۔ اگر بیوی کی رضامندی نہ ہو اور شوہر تشدد کے بغیر بھی ہمبستری کر لے ( مثلاً کوئی نشہ آور دوا دے کر) تو یہ بھی ریپ ہے اور بہت سے ممالک میں قابل سزا جرم ہے۔۔۔

    اسکے برعکس یہ دیکھیں کہ بیشمار تحقیقات کے مطابق خواتین میں سب سے زیادہ پائی جانے والی "فینٹسیز” میں سے ایک ریپ ہے۔۔۔۔!!! جی ہاں، بہت سی خواتین اپنے ساتھ زبردستی سیکس کے منظر کو تصور میں لا کر خود لذتی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ کئی سیکشوؤلوجسٹس کا کہنا ہے کہ عورت کی جنسی تسکین کا اصل محرک اسکا مرد سے تعلق یا محبت نہیں بلکہ اسکا راست تناسب مرد کے اندر اپنی خاطر "ہوس” کی مقدار کے ساتھ ہے۔ جی ہاں، اسے دوبارہ پڑھیں اور اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی گہری بات ہے۔

    البتہ یہ حقیقت فیمنسٹس کیلیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ نیو یارک میں ایک فیمنسٹ، یونیورسٹی پروفیسر، مارٹا مینا، کہتی ہیں کہ مجھے افسوس اور مایوسی کے ساتھ اس بات کا اقرار کرنا پڑ رہا ہے کہ جتنا لٹریچر عورت کی جنسیت کو اسکے جذبات اور محبت سے جوڑتا ہے، اسکے بالکل برعکس عورت کی جنسی تسکین کا (مرد کیلئے) اسکی محبت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اسکی زنانہ "نرگسیت” کا ایک مظہر ہے۔ "چاہے جانا” ہی اسکا کلائمیکس ہے۔ "خود سے محبت” کے اپنے جذبے کی مرد کے ذریعے تصدیق اور مرد کے اندر اپنی خاطر جذبات کی آگ کو بھڑکتے دیکھنا ہی اسکی جنسیت کا نکتہ عروج ہے، خواہ اسکے دل میں اس مرد کی خاطر کوئی محبت ہو اور نہ اس سے کوئی تعلق ۔۔۔۔!!!

    ان سب باتوں کا مقصد کسی صورت میں بھی کسی غیر خاتون کے ساتھ جبری جنسی تعلق یا ریپ کو جسٹیفائی کرنا ہرگز ہرگز نہیں ہے۔

    البتہ کوئی شوہر اگر اپنی تسکین کیلئے بیوی کو زبردستی مجبور کرتا ہے، اور کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچاتا تو مذہبی حکم سے قطع نظر، اسے تو اپنی فینٹسی پوری ہونے پر خوش ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ اور اگر اللہ کی رضا کی خاطر وہ موڈ نہ ہونا، سردی میں نہانا، کسی ناراضگی کی وجہ سے شوہر کو سزا دینا، جیسے بہانوں کی قربانی دے دے تو یہ تو گویا سونے پر سہاگہ ہے۔۔۔

    پر برا ہو اس موئے فیمن ازم کا جو نہ عورت کو زندگی کا لطف لینے دیتا ہے اور نہ اسکے شوہر کو۔۔۔۔

    (انتہائی اہم) نوٹ: اس تحریر میں وہ "مظلوم” شوہر مراد ہیں جو اپنی بیویوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے ہیں لیکن انکی کچھ عادات یا دوسرے (مالی/خاندانی) مسائل کی وجہ سے بیویاں ان سے نالاں رہتی ہیں اور قریب نہ پھٹکنے دے کر انتقام کا نشانہ بناتی ہیں اور ظاہر ہے دوسری شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ "بیچارہ” اپنی ضرورت وہاں سے پوری کر لے۔۔۔

    رہے وہ شوہر جو حقوق بھی پورے نہیں کرتے اور بات بہ بات ہتک اور تشدد پر اتر آتے ہیں، وہ میری طرف سے جائیں بھاڑ میں۔۔۔

  • چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    پچھلے دنوں ہماری ایک کولیگ کی ترقی ہوئی تو انھیں مبارک باد دینے ان کے آفس گیا۔ مبارک باد دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اتنی کم عمر میں اس عہدے پر پہنچ گئی ہیں۔ کہنے لگیں کہ میں نے بہت سخت وقت دیکھا ہے لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ مسلسل محنت اور ہمت نہ ہارنے سے ہی سب کچھ ملا ہے۔ میں بی ایس سی میں تھی کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ والد صاحب نے دوسری شادی کر لی۔ چند ہفتے سب ٹھیک چلا مگر پھر سوتیلی ماں نے اپنا سوتیلا پن دکھانا شروع کیا۔ ہم صرف دو بہن بھائی تھے۔ بھائی مجھ سے بڑا تھا جسے والد صاحب نے پاکستان سے باہر پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔

    سوتیلی ماں گھر کے سارے کام مجھ سے کرواتی تھی، والد صاحب کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی تھی کہ اسے گھرداری سکھا رہی ہوں، ورنہ اگلے گھر جا کر یہی گلہ آئے گا کہ سوتیلی تھی اس لیے کچھ نہیں سکھایا۔ صبح جلدی اٹھ کر سب کے لیے ناشتہ بناتی تھی،اور گھر کی صفائی کر کے یونیورسٹی جاتی تھی۔ پھر یونیورسٹی سے واپس آتے ہی سب کے لیے کھانا بنانا ، برتن دھونا ، کپڑے دھونا وغیرہ سب کچھ کرتے رات کے دس گیارہ بج جاتے تھے۔ یہ روز کا معمول تھا۔

    ہمارے والد صاحب کا اچھا بزنس تھا مگر سوتیلی ماں کے کہنے پر اب مجھے جیب خرچ بھی بہت کم ملتا تھا ، اتنا کم کے میں نے والد صاحب سے کہنا ہی چھوڑ دیا۔ محلے کےبچوں کو شام کو ٹیوشن پڑھانا شروع کی تاکہ اپنا جیب خرچ بنا سکوں جس سے گھر کے کام مزید رات کو دیر سے ختم ہوتے تھے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ یونیورسٹی کی سمسٹر کی فیس کی باری آئی تو سوتیلی ماں نے والد صاحب کو کہہ دیا کہ اب یہ خود اتنا کماتی ہے، اپنی فیس خود دے سکتی ہے۔ جس کے بعد مجھے مزید زیادہ محنت کرنی پڑی تاکہ اپنی فیس بھی خود جمع کر سکوں۔زیادہ پیسوں کے لیے ایک جگہ ہوم ٹیوشن پڑھانا شروع کی تو ان بچوں کے والد نے تنگ کرنا شروع کردیا مجبوراً چھوڑنا پڑی۔

    بہنوں کو بھائی کا بڑا سہارا ہوتا ہے لیکن بھائی اپنی عیاشیوں میں مصروف تھا۔ میں جتنی بھی کوشش کرتی تھی مگر وہ میری بات اول تو سنتا ہی نہیں تھا، کبھی سن بھی لیتا تھا تو ایک ہی بات ہوتی تھی کہ تم عورتوں کی لڑائیاں کبھی ختم نہیں ہونگی۔

    والد صاحب کا سہارا تھا تو وہ سوتیلی ماں نے چھین لیا تھا۔ میری ڈگری ہوتے ہی سوتیلی ماں نے اپنے کسی رشتہ دار کے ساتھ میرے رشتے کے لیے والد صاحب کے کان بھرنے شروع کیے۔ وہ نشئی سا تھا، واجبی سی تعلیم، محلے میں ہی کوئی دکان چلاتا تھا۔ عمر میں بھی مجھ سے کافی بڑا تھا۔ میں نے انکار کیا تو سوتیلی ماں نے کہنا شروع کیاکہ یونیورسٹی میں ہی اس کا کسی سے چکر ہوگا اس لیے نہیں مان رہی۔ اب تو میرے دل میں آتا تھا کہ اچھا تھا کہ کوئی ہوتا جس سے شادی کر کے اس جہنم سے نکل سکتی۔ بڑی مشکل سے ایم فل کی اجازت ملی۔ اپنے اخراجات تو میں پہلے ہی خود پورے کر رہی تھی لیکن ایم فل کی فیس زیادہ تھی۔ اس لیے والد صاحب سے بہرحال کچھ نہ کچھ سپورٹ ضروری تھی۔ ان کی اچھی مالی حیثیت کی وجہ سے مجھے کوئی سکالرشپ بھی نہیں مل سکتا ہے۔ مشکل سے ایم فل میں داخلے کی اجازت مل ہی گئی۔ ایم فل کے پورا ہونے کے قریب ایک کلاس فیلو نے پروپوز کیا، میں کسی سہارے کی تلاش میں تھی اس لیے اسے فوراً کہا کہ رشتہ بھیجو۔ اس رشتہ کے آنے پر سوتیلی ماں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ وہ وہ الزام لگائے کہ خدا کی پناہ۔ لیکن میں ڈٹی رہی۔ کلاس میں وہ لڑکا کافی اچھا تھا ۔ شکل و صورت اور اخلاق بھی مناسب تھا۔ والد صاحب نے لڑکے کا گھر بار نہ دیکھا بس ایسے ہی ناراض ہو کر ہاں کر دی اور کہہ دیا کہ شادی کر کے جاؤ اور واپس کبھی اس گھر میں نہ آنا۔

    شادی بغیر کسی جہیز کے سادگی سے ہوئی۔ جہیز نہ لانے کی وجہ سے لڑکے کی ماں اور بہنوں نے چند دنوں میں ہی طعنے دینے شروع کر دیے۔ میں ایک جہنم سے نکل سے کردوسرے میں آگئی تھی۔ شادی سے قبل اس نے کوئی وعدے تو نہیں کیے تھے مگر مجھے اتنا تھا کہ وہ مجھے پیار اور عزت دے گا۔ وہ بھی نہ ملے۔ کچھ دنوں بعد بات طعنوں سے جسمانی ازیت تک پہنچ گئی۔ میں نے جاب کی بات کی تو فوراً سے مان گئے۔ اچھی جاب مل جانے سے گھر میں کچھ دن سب اچھا رہا لیکن کچھ مہینوں بعد پھر سے وہی حالات۔ شاید انھیں اس بات نے شیر بنا دیا تھا کہ اس کا آگے پیچھے تو کوئی ہے نہیں ۔ باپ سوتیلی ماں کا ہو چکا تھا اور گھر آنے سے منع کر چکا تھا۔ بھائی نے باہر ہی کسی میم سے شادی کر لی تھی اور اسے بہن کا کچھ یاد ہی نہیں تھا۔ جن لڑکیوں کا میکہ نہ ہو وہ کٹی پتنگ کی مانند ہوتی ہیں۔ مجھے تنخواہ ملتے ہی شوہر ساری لے لیتا تھا۔ گھر میں ساس کی مرضی چلتی تھی۔

    مجھے جاب سے واپس کر گھر کے سارے کام بھی کرنے ہوتے تھے۔ اس کے باوجود بھی طعنے اور مارکٹائی ہاتھ آتی تھی۔ ہر ماہ اتنا کما کے دیتی تھی پھر بھی جہیز نہ لانے والے طعنے ختم نہیں ہوتے تھے۔ باپ اور بھائی سے تحفظ نہ ملنے کے بعد مجھے شوہر سے یہ توقع تھی مگر اب وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔ شوہر سے کئی بار بات کی، اسے سب بتایا مگر اسے صرف یہ تھا کہ میرا میکہ تو ہے نہیں تو کہاں جاؤں گی۔ جب سب کچھ برداشت سے باہر ہو گیا تو میں نے خلع کے لیے کیس دائر کر دیا۔ جب تک خلع کا کیس چلتا رہا، شوہر کے گھر ہی رہی، اسے کہتی رہی کہ آپ ابھی حالات کو بہتر کر لو تو میں خلع کا کیس واپس لے لوں مگر اسے تھا کہ میں خلع نہیں لونگی بلکہ صرف اسے بلیک میل کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔ مجبوراً خلع لے لی۔

    خلع لے کر والد صاحب کے پاس پہنچی تو سوتیلی ماں نے گھر میں ہی داخل نہ ہونے دیا۔ والد صاحب کو کال کرتی رہی مگر وہ اٹینڈ نہیں کر رہے تھے۔ وہیں دروازے پر ان کا انتظار کیا مگر جب وہ آئے تو میری بات سنے بغیر ہی اندر چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ بھائی سے بھی بات کی انھیں سب بتایا مگر انکا کہنا تھا کہ اپنے مسئلے خود حل کرو۔

    وہاں سے ایک گرلز ہاسٹل میں آگئی ۔ جاب کی وجہ سے پیسے کا مسئلہ نہیں تھا اس لیے ایک دو سال میں ہاسٹل میں ہی رہی۔ مرد ذات سے نفرت سی ہو گئی تھی۔

    میرے ایک کولیگ کو کسی طرح میرے حالات کا پتہ چلا جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی، اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ اس نے ایک بزرگ کی مدد سے مجھ سے رشتے کی بات کی۔ اس کی کافی کوشش کے بعد میں نکاح پر راضی ہو گئی۔ اب مجھے قدرت نے وہیں لا کھڑا کیا تھا جہاں کچھ عرصہ قبل میں اور میری سوتیلی ماں تھی۔ دونوں بچے سہمے ہوئے تھے۔ لڑکا بڑا تھا اور لڑکی چھوٹی۔

    میں نے انھیں حقیقی ماں جیسا پیار دینے کا سوچا۔میرے جو بچے کبھی کبھی آپ کے بچوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں کھیلتے ہیں وہ میرے شوہر کی پہلی بیوی سے ہیں۔ بچوں کو ایسا پیار دیا ہے کہ شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ میرے سگے بچے ہیں یا سوتیلے۔ میرا شوہر نہیں چاہتا کہ ابھی میری اولاد ہو، شاید اسے خوف ہے کہ میری اپنی اولاد ہو گئی تو میں ان بچوں کو پہلے جیسا پیار نہیں دونگی ۔ اس لیے میں نے اس پر کبھی زور نہیں دیا۔ والد صاحب بوڑھے ہونے کے بعد کاروبار کے قابل نہیں رہے، بھائی ملک سے باہر ہے۔

    میرے اس شوہر کی تنخواہ اچھی ہے اس لیے اس نے میری تنخواہ کے بارے کبھی نہیں پوچھا۔ اپنی تنخواہ میں سے ایک بڑا حصہ اپنے باپ اور سوتیلی ماں کے اخراجات کے لیے بھجوا دیتی ہوں۔ باپ پیسے تو لے لیتا ہے مگر ابھی بھی ناراض ہے، بات نہیں کرتا مجھ سے نہ ملتا ہے ورنہ اس کی مزید خدمت بھی کرتی۔

    شوہر سے پیار ملا ہے۔ ان دو بچوں کی صورت اللہ نے اولاد بھی دے دی ہے۔ اب یہ ترقی بھی مل گئی ہے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ اتنے مشکل حالات کے باوجود میں نے کبھی بھی خودکشی کا نہیں سوچا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میرے ساتھ جو بھی ظلم ہوئے ان کا بدلہ میں کسی سے بھی لوں۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ میری زندگی میں سکون ہے۔

    میں نے نم آنکھوں کے ساتھ رخصت ہونے سے پہلے ان سے اجازت چاہی کہ ان کی سٹوری اپنی وال پر لکھ لوں۔ انھوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ضرور لکھیں تاکہ نوجوان نسل کو معلوم ہو سکے کہ کسی بھی کامیاب شخص کو اس سیٹ تک پہنچنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شاید اس سے کسی کو اپنی پریشانیاں چھوٹی لگنے لگیں۔ اس لیے اس میں شناخت چھپانے کے لیے تھوڑا سی تبدیلیاں کی ہیں لیکن مرکزی مضمون وہی رہنے دیا ہے۔ انھیں دکھانے کے بعد ان کی اجازت سے ہی یہ سٹوری پوسٹ کی جار ہی ہے۔

  • عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں نے عورتوں کو وراثت میں حصہ دینے سے متعلق پوسٹ کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے علمبردار لبرل ہوں یا اسلام پر عمل کرنے کے دعویدار مذہبی لوگ، عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے معاملے پر دونوں ہی ڈنڈی مارتے ہیں۔

    اس پر ایک عورت نے رابطہ کیا اور کہا کہ عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہ دینے والے معاملے میں عورتیں بھی قصووار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے والد صاحب وراثت میں بہت سی زمین جائیداد چھوڑ کر گئے۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والدہ صاحبہ بھی حیات ہیں۔ والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد تک اس زمین جائیداد کی ساری آمدن اکیلے بھائی ہی کھاتے رہے اور بہنوں کو کسی نے کچھ نہ دیا۔ میرے علاوہ کسی بہن نے کبھی اس بارے کوئی بات نہیں کی۔ والدہ صاحبہ ایک عورت ہونے کے باوجود اس بات کی قائل ہیں کہ جائیداد پر صرف بیٹوں کا حق ہے۔ میں نے جب بھی بات کی مجھے ہمیشہ لالچی اور پیسے کی حریص ہونے کا طعنہ ملا حالانکہ میں صرف اپنے جائز حق کی بات کرتی تھی۔ آخر والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد بھائیوں کو جائیداد اپنے نام لگوانے کی سوجھی۔ وراثت میں ہمارا بھی حصہ تھا تو ہماری دستخط کے بنا تو ان کے نام نہیں لگ سکتی تھی۔ رسمی کاروائی کے لیے ہمیں بھی بلایا گیا اور رسماً کہا گیا کہ آپ تینوں بہنوں نے بھی حصہ لینا ہے تو دے دیتے ہیں۔ یا پھر ہمارے نام لگوانے کے لیے بیان دے دیں اور دستخط کر دیں۔ اس موقع پر والدہ صاحبہ کا بھی یہی موقف تھا کہ آپ لوگوں یعنی بیٹیوں کو زمین دی تو وہ غیروں میں چلی جائے گی۔

    میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ زمین ہو یا جائیداد ، ہمیشہ کسی ایک کی نہیں رہتی بلکہ کبھی ایک کے پاس تو کبھی دوسرے کےپاس ہوتی ہیں۔ یہ زمینیں ہزاروں لاکھوں سال سے یہی ہیں اور یہی رہیں گی۔ ہر صدی میں کئی بار ان کے مالکان بدل جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کسی صورت درست نہیں کہ غیروں کے پاس چلی جائے گی۔ پھر بھی اس کا یہ حل بھی ہے کہ یہ مہنگی گاڑیاں بیچ کر ہمیں جائیداد کی بجائے اس کی قیمت ادا کر دیں یا ابھی ہمارے نام لگوا دیں اور جیسے جیسے اس قابل ہوتے جائیں ہم سے خریدتے جائیں۔

    اس ساری بحث میں میری بہنیں گونگی بہری بنی رہیں۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ البتہ میری ماں کی کوشش تھی مجھے چپ کروا دیں۔

    میری بہنیں اگلے دن عدالت جا کر ساری جائیداد بھائیوں کے نام کروانے پر تیار تھیں لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔ مجھے یہ کہا گیا کہ یہ بھی تو ہمارے نام لگوا رہی ہیں، صرف آپ ہی لالچی ہو۔ میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ صرف اور صرف معاشرے میں رائج اس رسم ورواج کی وجہ سے خاموش ہیں۔ ان میں اپنے حق کے لیے اس سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں ہے۔ میرا ایک چیلنج قبول کریں آپ لوگ۔ کل ان کا حصہ ان کے نام لگوائیں یا اس کی قیمت انھیں ادا کریں، پھر انھیں گھر جانے دیں اور اس سے اگلے دن آپ انھیں کہیں کہ اب وہ حصہ آپ کو واپس کر دیں کیونکہ پہلے بھی تو ہمارے نام لگوانے پر راضی تھیں۔ اگر تب پورا کیا آدھا حصہ بھی یہ آپ کو دینے پر راضی ہو جائیں تو میرا سارا حصہ آپ لے لیجیے گا۔ یہ میں آپ کو لکھ کر دینے کو تیار ہوں۔

    ساری رات اس بحث و مباحثہ کے بعد بالآخر اسی پر بات طے ہوگئی۔ اگلے دن ہمارا حصہ ہمارے نام کروا دیا گیا۔ اس میں بھی ڈنڈی ماری گئی کہ جو اچھی زمین تھی وہ خود رکھ لی ۔ لیکن یہ بھی غنیمت تھی کہ ہمیں حصہ مل گیا۔

    سب کے نام لگنے کے کچھ دن بعد بھائیوں نے بہنوں سے کافی کہا، تحائف بھی دیے، میٹھے بنے، اچھے سے پیش آئے لیکن کوئی بھی اب اپنا حصہ کسی بھائی کے نام لگوانے پر راضی نہیں تھی۔

    مجھے اس کا نقصان یہ ہوا کہ میرے ساتھ میرے بھائیوں اور والدہ صاحبہ نے ہر تعلق توڑ لیا اور آج تک ٹوٹا ہوا ہے۔ میں نے کوشش کی لیکن مجھے اپنے گھر میں بھی داخل نہیں ہونے دیتے۔ میری بہنوں نے بھی اپنا حصہ لے لیا لیکن وہ خاموش رہی تھیں تو ان سے تعلقات ہیں۔

    کاش کہ ہمارے معاشرے کی خواتین اپنے اس حق کے لیے بولنا سیکھ جائیں۔ یہ کوئی خیرات نہیں، حق ہے جو اللہ نے خود ہمیں دیا ہے۔ صرف اس لیے نہ چھوڑیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس لیے بھی اس کی کوشش کریں کہ آپ کا یہ لڑنا کئی دوسری خواتین کے لیے بھی مشعل راہ ہوگا اور ان کے لیے ایک راستہ کھولے گا کہ وہ اپنا حق لے سکیں۔

  • دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دراصل دوسری شادی عورت کی ضرورت ہے مرد کی نہیں، یہی بات عورتیں نہیں سمجھتیں تبھی اقبال نے کہا تھا

    تو ان کو سکھا خار شگافی کے طریقے
    مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا

    اس درد کو سمجھنے کے لیے عورت کا کم عمری میں بیوہ ہونا یا ان کا طلاق ہونا ضروری ہے تب انہیں سمجھ آتا ہے کہ کوئی مجھے اپنی دوسری بیوی بنا لیتا اور عزت سے رکھتا میں کسی کی محتاج نہ رہتی نہ ماں باپ کی نہ بھائی بہن کی، ایک بیوہ کی پوری زندگی داؤ پر لگی رہتی ہے اور وہ شہر کی زندگی میں تو بہر حال محفوظ نہیں ہے اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے اللہ نے قرآن میں مردوں کے لیے نکاح کے احکامات میں دو سے شروعات کی اور مرد پر ایک سے زائد نکاح کا بوجھ ڈالا گیا تاکہ اس کے مال سے دوسری عورت اور اس کے بچے عزت کی زندگی گزار سکیں یہ احکام عورتوں کی بھلائی کے لیے ہی دیا گیا تھا رسول اللہ ص اور ان کے صحابہ رض نے عملاً کر کے دکھایا ورنہ ان کے اتنا بڑا زاہد و عابد اور کون تھا؟ وہ اکثر اوقات ساری رات نمازوں میں گزار دیتے تھے یہاں تک کہ عورتیں رسول اللہ کے پاس شکایت لے کر آنے لگیں کہ میرے شوہر میرے بستر پر قدم کم ہی رکھتے ہیں۔

    کہتے ہیں اکثریت اقلیت کو کھا جاتی ہے آزادی کے پہلے ایک صاحب استطاعت مرد دو نکاح آرام سے کر لیتا تھا اگر کسی کی بیٹی و بہن بیوہ ہو جاتی تھی تو مرد حضرات ان کی توجہ ادھر مبذول کراتے تھے کہ اللہ نے تمہیں دو مکان اور دولت سے نوازا ہے فلاں کی بیوہ کو اپنے نکاح میں لے لو اور ان کے گھر والے بھی بیوہ و مطلقہ کا نکاح فورآ کر دیتے تھے حالات انگریزی دور حکومت میں بھی بہت اچھے نہیں تھے لیکن جب سے آزادی ملی تب سے جدید طرز تعلیم نے کفر کی آمیزش کر کے ایک خاص مزاج بنایا اور نئی نسل کو بالکل بگاڑ دیا اور اسلامی فکر سے دور کر دیا بلکہ سچ کہیں تو نماز و روزہ اور حج کے علاؤہ کچھ
    باقی نہ رہا اقبال نے اسی لیے کہا تھا ”

    تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو،
    ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر”

    سو بڑی محنت و یکسوئی سے اس کام کو کیا اور پوری طرح پھیر چکے، انہوں نے نئی تعلیم وضع کی اور اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں عورت اپنے شوہر کے ناجائز رشتے برداشت کرنے کو تیار ہے لیکن ایک عدد شریف سوکن قابل قبول نہیں ہے۔ یہ اللہ و رسول کے احکامات سے کھلی سرتابی اور بغاوت ہے اور اس کا جو انجام ہونا چاہیے وہ آپ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

    اس فکر کو عام کرنے کے لیے بچوں کو بچپن سے ہی اسلامی لٹریچر پڑھانا چاہیے اور انہیں مردوں اور عورتوں کے حقوق بتانے چاہیں۔ ہم سب نے اسلام کبھی حلق کے نیچے اتارا ہی نہیں، عائلی قوانین تو حلق کے نیچے مرد و زن میں سے کسی کے کبھی نہ اتر سکا، لڑکے جہیز لیتے رہے کیا نمازی کیا پرہیزگار حالانکہ یہ انتہائی رذالت و ذلت کا کام ہے کہ تم کسی کی بیٹی بھی لو اور اس کے باپ سے پیسہ بھی لو؟

    لڑکیاں دوسرے نکاح کی مخالفت کرتی رہیں کیوں کے انہوں نے کبھی قرآن ترجمہ سے پڑھا ہی نہیں اس کے معنی و مطالب تفسیر پر غور و فکر بھی نہیں کیا.

    نتیجہ معاشرے میں کنواری عمر دراز عورتوں کی بھرمار اور بیوہ و مطلقہ کی بہتات ہے اور عورت کسی صورت مرد کے دوسرے نکاح کو راضی نہیں ہے چاہے عالمہ فاضلہ ہی کیوں نہ ہو؟ بس زنا کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور عام اور آسان ہیں روز اس راستے کو ہموار کرنے کی فکر لیے ہوئے تہذیب کے آزر کام میں لگے ہوئے ہیں کیوں کہ ہم سب نے مل کر جائز راستے بند کر رکھے ہیں اور محمد رسول اللہ کے دین کا تماشہ بنا رکھا ہے۔

  • عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

    انگلینڈ پڑھائی کے دوران دنیا بھر سے آئی لڑکیوں سے گھلنے ملنے (معروف معنوں میں ہی لیا جائے) کا اتفاق ہوا۔ ہاسٹل میں ساتھ رہتی تھیں۔ کچن میں چائے، کھانا بنانے، برتن دھونے کا کام اکٹھے کرتے کبھی احساس نہیں ہونے دیتیں تھیں کہ صنف نازک انداز دلربائی بھی جانتی ہے۔

    یونان سے آئی پینی میرے ہاسٹل کے ساتھ والے کمرے میں رہتی تھی۔ دن رات کا ساتھ تھا۔ بحثوں اور باتوں کے درمیان دوستی بھی ہو گئی۔ رات گئے تک پڑھائی کرتے جب ہم بور ہو۔جاتے تو کافی کے دو مگ بنا کر کچن ٹیبل پر بیٹھ جاتے اور دنیا جہان کے مسائل حل کرتے۔

    پینی کے ساتھ اس طرح رہتے میرے دل میں خیال پیدا ہو گیا کہ یورپی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنا آسان ہے۔ کوئی نخرہ نہیں، مردوں کی طرح گھر باہر کے کاموں میں ہاتھ ڈال دیتی ہیں۔ آپ سے بطور مرد کوئی فیور بھی نہیں مانگتیں۔ اپنے سارےکام خود کرتیں ہیں حتی کہ شاپنگ بھی جلدی نمٹا لیتی ہیں۔

    مگر یہ فسوں بس اس وقت تک قائم رہا جب تک پینی کو راج پسند نہیں آ گیا۔ راج ایک انڈین لڑکا تھا جو میتھ میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جینئس تو تھا ہی بلا کا وہمی اور پاکستانیوں سے الرجک بھی تھا۔

    درمیان کی تفصیل فضول ہے، مگر آپ۔میں سے جو دلچسپی رکھتے ہیں انکے لیے بتا رہا ہوں، کہ ایک پورا سیمیسٹر پینی راج کے لیے پسندیدگی کے جذبات رکھنے کے باوجود اسکی طرف سے پہل کرنے کا انتظار کرتی رہی۔ بالاخر راج نے پینی کو ڈیٹ پر جانے کے لیے پوچھ لیا۔

    اس روز پینی کی خوشی دیدنی تھی۔

    دونوں کا ریلیشن شپ شروع ہوا اور پینی ہر دوسرے روز راج کے ہاسٹل میں وقت گذارنے لگی اور راج کبھی کبھار پینی کے کمرے میں نظر آنے لگا۔

    میں نے حیرت سے نوٹ کیا کہ پینی راج کے ساتھ ٹیپیکل گرل فرینڈ بنی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ مارکسزم اور فیمنزم پر گھنٹوں بحث کرنے اور صبر سے دلائل کے علاوہ طعن و تشنیع سن کر کبھی کبھی مان کینے اور اکثر ڈٹ جانے والی پینی راج کے ساتھ دوسرے جملے پر ناراض ہو۔جاتی۔

    راج دیر سے کیوں آیا۔ راج نے ایسا کیوں کیا۔ راج نے ویسا کیوں کیا۔ بالاخر میں نے پینی کو ایک روز بازوؤں سے پکڑ کر سنجیدگی سے جھنجھوڑ ڈالا۔

    یہ سب کیا ہے؟، میں نے حیرت سے سوال کیا۔

    کیا سب؟، اس کی ذہین آنکھوں میں حیرت تھی۔

    یہ ۔ ۔ یہ راج کے ساتھ تمہاری شکایات، سلوک؟ کیوں کر رہی ہو ایسا؟ تم تو باقی لڑکیوں سے مختلف ہو ۔ ۔ ہو نا؟

    میری شکایات؟ وہ۔حیرت سے چلائی، تم نے اس الو کی حرکتیں دیکھی ہیں؟ ۔ ۔ ۔

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ؟؟ میں نے سوالیہ اسکو گھورا

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ہمممم ۔ ۔ ۔ مثلاً وہ اکثر میری بات توجہ سے نہیں سنتا ۔ ۔ ۔ لاپرواہ ہے، میری۔باتیں بھول۔جاتا ہے، ۔ ۔ ۔

    پینی! میں بھی اکثر تمہاری بات پر توجہ نہیں دیتا۔ لاپرواہ ہوں، اور تمہاری اکثر باتیں بھول۔جاتا ہوں۔

    تم۔ ۔ ۔ ؟؟ وہ حیرت سے چلائی ۔ ۔ ۔ تم میرے بوائے فرینڈ تو۔نہیں ہو۔نا ۔ ۔ ۔ اس نے قہقہہ لگایا۔

    مگر، ۔ ۔ میں کنفیوز ہو۔کر بولا، ۔ ۔ ۔ کیا بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ نہیں ہونا چاہیے؟

    ہونا چاہیے، مگر ۔ ۔ ۔ پینی ہنستے ہوئے یکدم رک کر سوچنے لگی ۔ ۔

    واقعی ۔ ۔ ۔میں تمہارے ساتھ زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ ہوں۔ ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ وہ الٹا مجھے سے سوال کرتے ہوئے معصومیت سے اپنی آنکھیں پٹپٹانے لگی۔

    اسکو بات سمجھتے دیکھ کر میں پرجوش ہوگیا، اپنی بات مزید سمجھانے لگا۔

    دیکھو! تمہارا ریلیشن شپ کمال کا ہو سکتا ہے اگر تم اسکے ساتھ ویسا سلوک رکھو جیسا مجھ سے رکھتی ہو۔ نخرے وخرے مت کرو۔ انسان سمجھو وغیرہ ۔ ۔ ۔ وہ اسکول گوئنگ بچی کی طرح سر ہلانے لگی ۔ ۔ ۔ تصور میں وہ خود کو راج کے ساتھ ‘دوستی’ کرتے دیکھ رہی تھی۔

    یکایک وہ جھرجھری لے کر اپنے خیالات سے بیدار ہوئی، اور قہقہہ لگا کر کہنے لگی ۔ ۔ ۔ نہ نہ ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا راج سے دوستی ووستی ۔ ۔ ۔ وہ میرا بوائے فرینڈ ہے، ۔ ۔ ۔ اور ایسے ہی ٹھیک ہے۔

    کیا؟ میں ہر۔بات کو۔منطق میں تولنے والی پینی کو گھور رہا تھا۔ ۔ ۔ ایسا کیوں؟

    نہ نہ ، اس خیال سے ہی عجیب کریپی فیلنگ آتی ہے، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا، ۔ ۔ اب تم میرے بوائے فرینڈ کیسے ہو سکتے ہو ۔ ۔ ۔ اس نے بات کو الٹا دیا۔ ۔ ۔ ایسے ہی میرا بوائے فرینڈ ۔ ۔ تم۔کیسے ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے رات تین بجے میں کافی بنانے اٹھ سکتی ہوں، ۔ ۔ ۔ مگر وہ میرا بوائے فرینڈ ہے۔ ۔ اسکو رات دو بجے میرے لیے برگر لانے جانا ہی پڑیگا۔ ۔ ۔

    مجھے تب ہی سمجھ آ گئی،

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

  • بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    انیلہ کے کئی رشتے آئے لیکن والدین کو خالد ہی پسند آیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ خالد پاکستان سے باہر کسی عرب ملک میں کام کرتا تھا اور ہر ماہ ایک اچھی رقم پاکستان اپنی فیملی کو بھیجتا تھا۔اس رشتے کو ہاں کرنے سے پہلے انیلہ سے کسی نے رائے طلب ہی نہیں کی۔

    شادی کے بعد سب خوش تھے سوائے انیلہ کے۔ اس کا شوہر خالد شادی کے دوہفتے بعد ہی واپس چلا گیا تھا اور اس کی واپسی ایک سال کے بھی بعد ہوئی تھی۔ اب بھی چند دنوں کے بعد اسے واپس جانا تھا۔ انیلہ اسے فون پر تو اکثر کہتی ہی تھی لیکن اب کی بار اس کے آنے پر اس کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھاکہ یا مجھے بھی ساتھ لے جاؤ یا پھر تم بھی پاکستان آجاؤ۔

    خالد کی ماں، باپ، بھائی، بہن وغیرہ میں سے سب کو خالد کے پیسے سے غرض تھی، کسی کو بھی اس کے پاکستان سے باہر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن انیلہ کو جسمانی طور پر بھی خالد کی ضرورت تھی۔ شادی سے پہلے تو جیسے تیسے زندگی گزر رہی ہوتی ہے لیکن شادی کے بعد مجرد زندگی گزارنا بہت ہی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

    یہ بات اس کے والدین نے بھی نہیں سوچی تھی کہ شادی پیسے سے نہیں انسان سے ہوتی ہے۔ اگر صرف کھانا پینا پہننا وغیرہ ہی چاہیے تو یہ ضروریات تو والدین کے گھر میں بھی پوری ہو رہی تھیں۔ شادی کے جو مقاصد ہوتے ہیں ان میں سب سے پہلے جسمانی (جنسی) ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا اور نسل ِانسانی کی بقا ہے۔

    اس شادی کے بعد اس کو پیسہ تو مل رہا تھا لیکن جسمانی ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ شادی کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان یہ جسمانی تعلق ہو جائے تو پھر خود کو لمبے عرصے تک اس سے دور رکھنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک دوسرے سے لمبی جدائی ہو تو دونوں کا خود کو گناہ سے محفوظ رکھ پانا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔

    یہی بات انیلہ اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا موقف یہی تھا کہ پیسے کم ہو جائیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ پاکستان میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کر لو لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ آخری بات اس نے یہ کہ جتنے پیسے ہر ماہ پاکستان بھیجتے ہو، وہ آدھے کر دو اور آدھے اپنے پاس بچاتے رہو اور اگلے سال جب واپس آؤ تو ان پیسوں سے یہاں کام کا آغاز کر لینا۔

    انیلہ کی یہ بات جب خالد کے گھروالوں کو معلوم ہوئی تو گویا گھر میں بھونچال آگیا۔ ان سب کو یہی تھا کہ خالد واپس آگیا تو ان سب کی عیاشیاں ختم ہو جائیں گی۔ خالد جب پاکستان سے گیا تو انیلہ کے ساتھ سب گھروالوں کا رویہ بہت زیادہ برا ہو گیا۔ اس نے اس سب کے بارے خالد سے فون پر بات کی۔ خالد اور اس کے گھروالوں نے یہ شرط رکھ دی کہ اگر انیلہ کے گھر والے خالد کو یہاں کوئی بزنس سیٹ کر کے دے دیں تو وہ واپس پاکستان آجائے گا۔ یہ مطالبہ ماننا انیلہ کے گھر والوں کے بس سے باہر تھا۔

    اگلے دو سال بھی انیلہ نے اسی طرح گزارے۔ شادی کے ان تین سالوں میں ایک بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔ تیسرے سال جب خالد واپس جانے لگا اور انیلہ کی بات نہیں مانی تو وہ ناراض ہو کر میکے آگئی۔ خالد یا اس کے گھروالوں نے منانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ چھ ماہ کے بعد انیلہ نے خلع لے لی کہ جو ایک خواہ مخواہ کی آس ہے وہ بھی ٹوٹ ہی جائے کہ کہیں اور بھی رشتہ جڑنے کا کوئی چانس ہو سکے۔

    لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ اسے شاید معلوم نہیں تھا کہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ بچوں والی عورت سے کوئی بھی شادی نہیں کرتا چاہے مرد خود بھی بچوں والا کیوں نہ ہو۔ جس اذیت سے بچنے کے لیے اس نے خلع لی تھی وہ اذیت اس کا شاید زندگی بھر کا مقدر تھی۔ ہر مرد چاہے وہ کنوارا ہو، شادی شدہ یا رنڈوہ۔۔۔ وہ انیلہ سے حرام تعلق تو قائم کرنے کے لیے تیار تھا لیکن کوئی بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انیلہ بس یہی سوچتی ہے کہ

    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

    والدین سے یہی کہوں گا کہ بیٹیوں کی شادی کرتے وقت یہ لازمی یاد رکھیں کہ خوشیاں صرف پیسوں سے نہیں، میاں بیوی کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ملتی ہیں۔ صرف پیسہ ہی سب کچھ ہے تو وہ سب کچھ آپ کے پاس بھی مل رہا ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ اس رشتے کو اہمیت دیں جس میں میاں بیوی ساتھ رہیں اور الگ گھر بسائیں۔ پیسہ ضرورت تو ہے لیکن اتنا نہیں کہ اس کی وجہ سے میاں بیوی کا رشتہ سال میں دو چار ہفتوں کا رشتہ ہی رہ جائے۔

  • بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    آج ایک دوست نے چوبیس سالہ انجینئر لڑکے کی تصویر دکھائی جس نے کراچی کے مال کے اندر اونچائی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ۔ اس قدر خوبرو اور گبھرو جوان کہ دیکھ زبان گنگ رہ گئی۔ اس کی موت کو بیروزگاری سے جوڑا گیا۔ اسی مال میں میری دوست کے بڑے بھائی چیف سیکیورٹی آفیسر ہیں ۔ ایف آئی آر میں ذہنی دباو اور بیروزگاری بتایا گیا یوں معاملہ دب گیا۔

    چونکہ واقعہ مال کے اندر ہوا تھا تو دوسرے روز وہی چیف سیکیورٹی آفیسر اس لڑکے کی ماں سے ملے اور رہن سہن سے اندازہ ہوا کہ مالی معاملات تو ہر گز خراب نہ تھے ۔ بار بار پوچھنے پر ماں نے بتایا کہ اس واقعے سے پہلے اس کی والد سے تکرار ہوئی تھی اور تکرار کی وجہ رشتہ تھا۔ والدین بھتیجی کو بہو بنانا چاہ رہے تھے جبکہ لڑکے نے بتایا کہ وہ فلاں جگہ رشتہ کرنا چاہتا ہے آپ پرپوزل لے کر جائیں ۔ والدین نے انکار کردیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ اگلے ہفتے منگنی کی رسم ہوگی۔ اس سے پہلے بھی لڑکا تین چار بار ذکر کر چکا تھا لیکن وہی انکار۔۔۔
    اس روز مال سے اس کی منگنی کی تیاری کے سلسلے میں شاپنگ ہو رہی تھی ، وہ ذہنی اذیت برداشت نہ کر سکا اور سب سے اوپر والی منزل سے چھلانگ لگا دی۔

    یہ بظاہر ایک عام قصہ ہے ، ہم عموما اولاد پر نافرمان اور جذباتی ہونے کا لیبل لگا دیتے ہیں لیکن کبھی دوسرے رخ کو دیکھنا گوارا نہیں کرتے ۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں اکثر اپنے والدین کے فیصلوں پر سر جھکا لیتے ہیں ساری عمر کمپرومائز بھی کر لیتے ہیں لیکن والدین جبرا کیسے یہ رشتے جوڑ سکتے ہیں ؟

    بچوں سے پسند نا پسند پوچھ لی جائے اور اگر وہ بتا دیں تو اس میں انا اور ہٹ دھرمی کا کیا سوال ؟؟ ہم میں سے اکثر کو دوسروں کی لائے ہوئے کپڑے ،جوتے اور دیگر استعمال کی چیزیں پسند نہیں آتیں تو دوسرے کا منتخب کردہ ہمسفر کیسے پسند آ سکتا ہے ؟؟

    میں نے تو حقیقی زندگی میں ایسے جوڑے دیکھے ہیں جن کی پسند کو رد کرکے اپنی پسند مسلط کئی گئی اور ایک چھت تلے رہ کر بھی ان کے دل نہ جڑ پائے ۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ زندگی ہی تو گزارنی ہے گزر جائے گی لیکن یہی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔۔۔۔۔۔ زندگی گزارنی نہیں ،جینی ہوتی ہے ۔۔۔ !!!