Baaghi TV

Category: خواتین

  • ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے
    آن لائن تجربات تمام عمر کے افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن نو عمر افراد کے لیے اِس کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح کے خطرات کا بآسانی ہدف بن سکتے ہیں۔یہ بات حیران کن نہیں ہے والدین اگرانٹرنیٹ کے استعمال کے دوران اپنے بچوں کی نگرانی کرنا چاہتیں ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رابطے میں ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں، کسے تلاش کر رہے ہیں اور اپنا وقت کس طرح گزار رہے ہیں۔انٹر نیٹ پر اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظررکھنا ایک مشکل کام ہے لیکن مختصر دورانیے کی ویڈیوز کے مقبول پلیٹ فارم، ٹک ٹاک (TikTok) نے’فیملی پیئرنگ‘ فیچر متعارف کراکے والدین کی زندگی آسان بنا دی ہے۔

    فیملی پیئرنگ (Family Pairing) فیچر کیا ہے؟
    یہ فیچر والدین کو اِس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک کر سکیں اور مختصر دروانیے کی ویڈیو پلیٹ فارم پر اْن کی سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکیں۔بچوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا یہ زبردست طریقہ ہے جو تمام وقت ڈیجیٹل سیفٹی یقینی بناتا ہے۔ یہاں پر اس فیچر کے چھ پہلو ہیں جن کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے:

    اسکرین ٹائم(Screen Time): اگر بچوں کا اسکرین پر صرف ہونے والا وقت آپ کو پریشان کررہا ہے تو خاطر جمع رکھیں کیوں کہ اب آپ ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے ذریعے اسے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک والدین کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ،اپنا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے،بچوں کے لیے اسکرین ٹائم مقرر کر سکیں۔ اگر آپ کا بچہ ایک سے زیادہ ڈیوائسز سے استعمال کرتا ہے تب یہ سیٹنگ تمام ڈیوائسز پر لاگو ہوجاتی ہے۔

    ریسٹریکٹڈ موڈ(Restricted Mode): والدین کو مزید بااختیار بنانے کی غرض سے، ٹک ٹاک اْنھیں اِس بات کے انتخاب کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اْن کے بچے ایپ میں کیا دیکھیں اور کیا نہیں۔آسان لفظوں میں، اگر والدین محسوس کرتے ہیں کہ کوئی مواد اْن کے بچوں کے لیے غیر موزوں ہے تو وہ اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کی اْس مواد تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔

    سرچ (Search): والدین اِس بات کا بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اْن کے بچے کس قسم کی ویڈیوز، ہیش ٹیگس(hashtags)، ساؤنڈز، لوگ یا مواد سرچ کر سکتے ہیں۔اس طرح اْنھیں اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر مزید بہتر نگرانی حاصل ہوتی ہے۔

    ڈائریکٹ میسیجز(Messages Direct): ڈائریکٹ میسیجز جہاں 13 سے 15سال کی عمر کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے پہلے سے ہی غیر فعال ہوتاہے، والدین اْسے 16 سال یا اْس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے بھی مکمل طور پر آف کر سکتے ہیں یا اْس تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔یہ فیچر یقینی بناتا ہے کہ آپ کے والدین اجنبی افراد کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں اور اِس طرح اُنھیں محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

    لائیکڈ ویڈیوز اور کمنٹس(Liked Videos & Comments): والدین اِس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ اْن کے نو عمر افرادکے اکاؤنٹ پر موجود ویڈیوز کون لوگ دیکھ سکتے ہیں یا لائیک کر سکتے ہیں۔ وہ اس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ کون لوگ ان کے نوعمر افراد کی ویڈیوز پر کمنٹ کر سکتے ہیں۔یہ فیچر نہ صرف نو عمر افراد کے تجربے میں اضافہ کرتا ہے بلکہ والدین کو سکون کا احساس دیتا ہے ورنہ وہ پریشان ہوتے رہتے ہیں کہ اْن کے بچے انٹرنیٹ پر کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    قابل دریافت ہونا (Discoverability) اور دوسروں کو اکاؤنٹ تجویز کرنا (Suggestions)
    نوعمر افراد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر آپ کوکنٹرول دینے اور اْن کے آن لائن تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے ٹک ٹاک آپ کو اس بات کے انتخاب کا بھی موقع دیتا ہے کہ آپ کے نوعمر ا فراد کے اکاؤنٹس ’پبلک‘ یا’پرائیویٹ‘ سیٹ ہے یا نہیں۔آپ کے پاس یہ آپشن ہوتا ہے کہ آپ بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس دوسرے لوگوں کو تجویز (Suggest)کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
    مختصر اً یہ کہ ٹک ٹاک ڈیجیٹل سیفٹی کے اہمیت کو سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ والدین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے اکاؤنٹس کے ساتھ مربوط کر سکیں اور اْنھیں محفوظ رکھنے کے ساتھ پلیٹ فارم پر ان کا تجربہ مزید بہتر بنا سکیں۔

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

  • جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    اٹھائیس سالہ ایم فِل سوشیالوجی کی طالبہ نازیہ نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا والدہ سے ڈسکس کر لے گی۔ چند ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا۔ ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کر ہی لیا۔ ماں نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو دکھا لیتے ہیں ڈاکٹر کو، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو یہ آپ ہی “گُھل” جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔

    چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نازیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نازیہ کو عجیب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک تگڑا سا پین کِلر انجیکشن ٹھوکا اور گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع!

    اب نازیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ موئی درد جان کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ اس نے اپنی ڈاکٹر دوست کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نازیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔

    نازیہ نے مجھے سلام کر کے ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں درد کی شکایت ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا “آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے”، جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ وظیفے اور مالش سے بہتر ہو گیا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔

    نازیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔

    شاید ہمارے ارد گرد بہت سی نازیہ موجود ہوں۔ کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے میں تاخیر نہ کریں۔ پہلی اسٹیجز میں اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور تصویر میں دکھائی گئی کوئی علامات آپ میں ہیں تو فوراً کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔

  • بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آج سے بیس سال پہلے تک بریسٹ (چھاتی) کا کینسر پچاس سالہ یا اس سے اوپر کی خواتین میں زیادہ دیکھتے تھے۔ اس وقت ہمارے (کینسر کے ڈاکٹروں کے) پاس آنے والی بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین میں سے لگ بھگ آدھی چالیس سال سے کم ہیں۔ بہت سی تو بیس کے پیٹے میں ہیں یعنی بالکل جوان بچیاں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ جو بوڑھوں کی بیماری سمجھی جاتی تھی وہ اب جوانی میں حملہ آور ہونے لگی ہے؟ پاکستان کی ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہو گی، موجودہ اعداد و شمار ایسا کہتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے یہ نمبر نو سے کم ہو کر سات ہو جائے گا۔

    وجوہات پر اسٹدیز کم ہیں اور جو ہیں ان کے نتائج بھی متنازعہ سے ہیں۔ جینیات، آلودگی، ورزش نہ ہونا، ناقص غذا (ماڈرن جَنک فُوڈ)، یہاں تک کہ بہت سے سوچتے ہیں کہ موبائل ریڈی ایشن بھی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں کیسز بڑھنے کی۔ اس پر پاکستان میں ماہرین کو سر جوڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی شرح سے کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ہمارا سسٹم اس سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

    پہلی اسٹیجز میں یہ مرض بالکل قابل علاج ہے۔ لیکن ہمارے پاس خواتین کیس خراب ہو چکنے کے بعد آتی ہیں۔ جو بروقت آ بھی جائیں ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہوتے۔ کارڈ شارڈ اس وقت جتنے موجود ہیں وہ زیادہ کومپنی کی مشہوری ہی ہیں ان سے کینسر کے مریضوں کو عملی فوائد کم ہی ہو رہے ہیں (مریضوں کی شرح اموات اس کا ثبوت ہے، اگر کوئی نمبر گیم میں جانا چاہے تو خوشی سے جائے)۔

    اپنے ارد گرد خواتین کو کانفیڈینس دلائیے کہ اگر چھاتی میں کوئی منفی تبدیلی محسوس کریں تو چیک اپ سے نہ جھجکیں۔ حکومت و ریاست سے نا امید رہیے اور اپنی سی کوشش کر کے کسی بھی آزمائش کے لیے رقم اور ہمت جوڑ کر رکھیے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ دعا کرتے رہیے کیونکہ یہ چیز بھی زلزلے یا قدرتی آفت ہی کی طرح بغیر وارننگ کے آ پکڑتی ہے۔

  • گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    تعلیم کی کمی یا تربیت کا فقدان ۔ دین سے دوری یا غلط صحبت کا شکار ہمارا معاشرہ ظلم و بربریت کی جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ اور اس ظلم و جبر کا نشانہ ہمیشہ عورت ہی بنی ۔ مرد اپنی ہر بات، لین دین کاغصہ بیچاری اس عورت پہ نکالتا ہے جو اس کے گھر میں بیٹھی ہوتی ہے ۔اسلامی معاشرہ نے، دین اسلام نے عورت کو عزت دی ۔ اس کا مقام بلند کیا ۔ماں کا روپ دیا اور قدموں میں جنت رکھ دی ۔ بیٹی کا درجہ دیا اور رحمت بنا ڈالا ،بہن کا درجہ دیا تو محبت کا گہوارہ بنا دیا ۔بیوی کا درجہ دیا گھر کے مرد کے دل کا سکون بنا دیا ۔ مگر یہی مرد جب عورت پہ مار پیٹ ظلم وجبر اور تشدد کی انتہا تک چلا جاتا ہے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اس کے اندر بھی روح ہے ۔

    ہمارے معاشرے عورت کو ہمیشہ چپ کا سبق دیا جاتا ہے ۔رخصت کرتے وقت یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔ جو بھی ہو واپسی کا سوچنا بھی مت ۔ اب اس گھر سے صرف تمہارا جنازہ ہی نکلے گا ۔ کبھی سننے میں آتا ہے شوہر نے جھگڑے کے دوران مار پیٹ کی اور بیوی کا بازو ٹوٹ گیا ۔کبھی جھگڑے میں سر پھوڑ دیا جاتا ہے تو کبھی جسم میں لال نیلے نشان پڑ جاتے ہیں ۔

    ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے کئے گئے سروے میں بتایا گیا پاکستان میں 10سے 20 فیصد عورتیں کسی نا کسی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں ہر دن 19 سے 20 گھریلو تشدد کے واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور بہت سے تشدد کے واقعات ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے ۔ پاکستان میں ہر سال 5000 عورتیں گھریلو تشدد میں قتل کی جاتی ہیں ۔ یہی نہیں آئے روز سوشل میڈیا پہ نت نئی گھریلو تشدد کی ویڈیوز سامنے اتی رہتی ہیں جہاں کبھی شوہر بیوی پہ بہمانہ تشدد کر رہا ہوتا ہے تو کہیں بھائی وراثت میں حصہ مانگنے پر طاقت کے بل پر بہن کا منہ بند کرتا نظر آتا ہے ۔ہر روز ایک ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے جسٹس فار قرات العین ۔جسٹس فار صائمہ جسٹس فار بشری فلاں فلاں ۔جو ہمارے معاشرے کی بے حصی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ گھریلو تشدد میں عورتیں مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اور یوں وہ خود کیلئے بھی دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہیں ۔

    گھریلو تشدد میں عورتیں ڈیریشن اضطرابی کیفیات سے دو چارنظر آتی ہیں۔گھریلو تشدد کا اثر بچوں کی صحت پہ بھی پڑتا ہے وہ زندگی کے کی میدان میں باقیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تعلیمی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے ہیں ۔خدارا عورتوں پہ ظلم و زیادتی کی انتہا کی بجائے انہیں وہ درجہ دیں جو انکا حق ہے جو اسلام نے انکو دیا۔ بحیثیت خاندان پر امن قوم بنیں اور پر امن زندگی گزاریں ۔ گھریلو تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے .مرد حضرات کو چاہئے کہ ہر بات کا غصہ بیوی پر نکالنے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے .دین اسلام کی تعلیمات کو خود بھی اپنی زندگی میں نافذ کرکے اپنے گھر کو ایک مثالی خاندان بنایا جائے اس کے بغیر ہم مضبوط، پرسکون اور جنت نظیر خاندان اور گھر کا تصور نہیں کرسکتے،یہی آخری آپشن ہے

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    گائے ذبیحہ کے نام پر بھارت میں مسلمانوں کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں زنجیرمیں جکڑ کر زندہ جلا دیا گیا

  • بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    عورت کسی بھی گھر بلکہ کسی بھی معاشرے میں اہمیت کی حامل اور مانندِ ریڑھ ہوتی ہے۔ اگر عورت صحت مند اور تندرست نہ رہے تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور اگر عورتیں کسی ایسی موزی و خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو گھر تو گھر معاشرے کا نظام اور توازن بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔

    کیونکہ ایک عورت ایک گھر ایک خاندان پر مشتمل یونٹ کی وہ بنیادی اکائی ہوتی ہے جو کسی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجائے تو پورا گھر ایک ایسی افرا تفری اور انتشار سے روبرو ہوتا ہے جو اپنے آپ میں ایک الگ مسئلہ ہے۔

    اس صورتحال میں گھر اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کی صحت کا خیال کرے, اس کو پیش آمدہ صحت کے مسائل سے ناصرف باخبر رہے بلکہ عورت کو ہر دم آگاہی بہم پہنچاتا رہے تاکہ عورت اپنا اور اپنی صحت کا خیال رکھ سکے۔

    بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان بھی ایک ایسی موزی اور خطرناک بیماری ہے جس کا شکار مرد اور عورت دونوں ہوسکتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار عورتیں ہورہی ہیں اور ہوتی ہیں۔

    اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص بروقت ہوجائے تو قیمتی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں, ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے لیکن گزشتہ دس پندرہ سالوں سے پاکستان میں اس حوالے شعور و آگاہی پھیلانے کی مہم چلائی جاتی ہے جس کا سہرا بلخصوص پنک ربن Pink Ribbon نامی این جی او کو جاتا ہے جو فی سبیل اللہ اس موذی مرض کے خلاف نا صرف متحرک ہیں بلکہ اس کے تدراک کے لیے عملی کوششوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon پاکستان بھر میں بریسٹ کینسر اویئرنس سیمینارز, کانفرنس اور لیکچرز منعقد کرواتے ہیں اور معاشرے کے باشعور و پڑھے لکھے طبقے کی مدد سے ناخوانداہ افراد کو آگاہی پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر 24 گھنٹے میں 109 خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہیں۔ سالانہ 90,000 نئے چھاتی کے کینسر کے واقعات کے اضافے کے ساتھ سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات ایک سنگین تشویش کا معاملہ اختیار کرتا جارہا ہے۔ اگرچہ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات کو 90 فیصد تک بڑھا سکتا ہے, لیکن اس کے لیے ہمیں کھل کر بریسٹ کینسر پر بات کرنی ہوگی کیونکہ ماہواری اور دیگر خواتین کے نفسیاتی و جسمانی اور معاشرتی مسائل کی طرح اس بیماری پر بات کرنا بھی ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو ہے مطلب لوگ ناک منہ چڑھاتے اور اس مسئلے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔

    اسی لیے ملک بھر میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے سے لے کر حکومتوں اور نجی تنظیموں کے ساتھ مؤثر اتحاد قائم کرنے سے لے کر سپریم کورٹ کے ذریعے عدالتی وکالت تک؛ پنک ربن نے کامیابی کے ساتھ ‘چھاتی کے کینسر’ کے ممنوع موضوع کو ایک فعال ‘نیشنل ہیلتھ ایجنڈا’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    دوسری طرف، پنک ربن Pink Ribbon پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں جو اب تک 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ہسپتال کا مقصد سالانہ 40,000 چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو او پی ڈی، الٹراساؤنڈ، میموگرام، کیموتھراپی، سرجری، اور ان ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سہولت سمیت عالمی معیار کی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

    پنک ربن ایک خیراتی ادارہ ہے جو خالصتاً زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی شکل میں عوامی فلاحی کاموں پر منحصر ہے, اس لیے عوام کو جس میڈیم سے بھی بریسٹ کینسر اور پنک ربن کی بابت معلومات ملیں وہ حسب توفیق اس کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ضرور جمع کروائیں۔

    یاد رکھیں یہ مرض زیادہ تر عورتوں کو لاحق ہوتا ہے جو آپ کی ماں, بہن, بیوی اور بیٹی کے روپ میں اس معاشرے میں ہر لمحہ موجود رہتی ہیں اس لیے اس خطرناک اور موذی مرض کی آگاہی لازمی لیں اور اپنے گھر کی عورتوں کو اس بارے میں بتاکر ان کا خوف کم کریں کہ اگر بروقت تشخیص ہوجائے تو سروائیول کے چانسز بہت زیادہ ہیں البتہ دیر ہوجائے یا بلکل معلوم ہی نہ ہو تو پھر اس مرض سے موت ہونا طے امر ہے۔

    یہ بیماری خاموشی سے ہمارے معاشرے میں پھیل اور پھل پھول رہی ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف اس بابت ناقص معلومات یا کم علمی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی اس بیماری کے پھیلنے اور اس قدر خطرناک ہونے کی اصل وجہ شرمساری اور خاموشی بھی ہے۔

    گھریلو خواتین جن کی آنکھ ایک پدر سری اور توہم پرستی سے لبریز معاشرے میں کھلی ہے وہ نہ تو خود توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے ایسے مسائل کھل کر ڈسکس کرتی ہیں کہ نام نہاد مشرقیت اور خود ساختہ شریعت کا بھاری بھرکم بوجھ پہلے ہی سینے پر ہوتا ہے کہ اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوگئی تو دنیا کیا سوچے گی, میرے گھر کے مرد کیا سوچیں گے وغیرہ وغیرہ اور بیشک ہمارے سماج کی عورتوں کا یہ ڈر خوف اور شرمساری بے جا بھی نہیں کہ ہمارے معاشرےکا مرد عورت کی زیب و زینت کا تو خوب عاشق اور متمنی رہتا ہے لیکن اس کی اسی زیب و زینت کی طبی صحت اور نفسیاتی عوامل سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

    آپ مرد ہیں تو یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے معاشرے کا ٹیبو Taboo خواہ وہ ماہواری کے مسائل پر آگاہی ہو, سیکسشوئیل معاملات پر آگاہی ہو یا پھر سروائیکل و بریسٹ کینسر کی بابت آگاہی ہو کو آپ ہی توڑ سکتے ہیں اگر آپ خود سے ان معاملات پر آگاہی حاصل کریں اور اپنی بیوی کو بتائیں اور سمجھائیں اور وہ پھر آگےآپکی ماں بہن بیٹی اور تمام رشتہ دار خواتین کو آگاہی دے تو آپ صدقہ جاریہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    عورتیں خواہ مغرب کی ہوں یا مشرق کی۔ ۔ ۔ جب تک ان کو ان کے باپ, شوہر, بھائی اور بیٹے ہمت, حوصلہ اور اعتماد نہ دیں وہ بیچاریاں اپنی ذات سے متعلق مسائل, امراض اور معاملات میں بھی تذبذب, ڈر, خوف اور شرمساری کا شکار رہ کر موت کو تو گلے لگالیتی ہیں لیکن کسی اپنے یا پرائے سے اس قدر ممنوعہ بنا دیئے گئے معاملات ڈسکس نہیں کرپاتی۔

    آج بریسٹ کینسر کی آگاہی کا عالمی دن تھا لیکن ہمارے ہاں سوائے پنک ربن Pink Ribbon کے کوئی اس دن کو یاد نہیں کرتا اور نہ ہی خود سے اپنی گھر کی عورت کو اس بابت کچھ پتہ کرنے یا بتانے کا قصد کرتا ہے۔

    بریسٹ کینسر کو مات دینی ہے تو پہلے معاشرتی اور سماجی شرم و حیا کا میکنزم اور ڈیکورم بدلیں ورنہ بریسٹ کینسر اور اس جیسی دیگر موذی بیماریاں آپ کے معاشرے کی عورت کو نگلتی رہیں گی کہ وہ شرم و حیا کا چولا پہنے مرتی مر جائیں گی لیکن اپنی بیماری یا اپنی تکلیف کو راز ہی رکھیں گی, جس سے عورتوں اور مردوں کا تناسب خراب ہوگا اور معاشرہ عدم توازن کی طرف جائے گاکہ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    بہر کیف آپ کو بریسٹ کینسر سے متعلق جس طرح کی بھی معلومات درکار ہوں آپ بذریعہ انٹرنیٹ پنک ربن کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا روابط سے حاصل کرسکتے۔ اس پیغام کو آج کے دن بلخصوص اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کی خواتین سے ضرور شیئرکیجیئے تاکہ وہ خود اس مرض کی تشخیص کرنا سیکھ سکیں اور بروقت آگاہی سے موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں۔

  • لباس، شخصیت اور تمکنت — شہنیلہ بیلگم والا

    لباس، شخصیت اور تمکنت — شہنیلہ بیلگم والا

    بائیس سال سے درس و تدریس سے وابستہ ہوں. ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے مختلف قومیتوں سے دن رات کا واسطہ رہتا ہے.ان دو دہائیوں میں پہننے اوڑھنے کے اطوار بہت بدل گئے ہیں. آپ اگر انٹرنیشنل لیول کے ادارے میں کام کرتے ہیں تو گمان غالب ہے کہ مغربی پہناوا زیادہ نظر آئے گا. عرب کلچر میں عبایا کے نیچے زیادہ تر مغربی لباس ہی پہنا جاتا ہے. اسی طرح ایشیائی غیر مسلم ممالک کی خواتین بھی زیادہ تر ویسٹرن وئیر ہی پسند کرتی ہیں. پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر جگہ دستیاب ہے اور دوسرا وہی ہماری ذہنی غلامی.

    جہاں تک میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے ہم پاکستانی خواتین ابھی تک اپنی اصل سے جڑی ہوئی ہیں. پاکستانی برانڈز کے خوشنما اور انتہائی ڈیسنٹ کپڑے. دلکش پرنٹس، نفیس کڑھائی اور پھر اس پہ بڑا سا دوپٹہ آپ کی شخصیت کو تمکنت اور وقار عطا کرتا ہے.

    عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ہر کپڑا، ہر فیشن سب کے لیے نہیں ہوتا. لیکن پاکستانی لباس کی خاص بات یہی ہے کہ وہ ہر جسامت، رنگت اور عمر کو سوٹ کرتا ہے. ویسٹرن کپڑے خاص جسامت کے لوگوں پر ہی اچھے لگتے ہیں. پہننے والے پہنتے ہیں لیکن دیکھنے والوں کو کیسے لگتا ہے وہ سب بتاتے نہیں. اس لیے لباس وہی پہننیے جو آپ کو سوٹ کرتا ہو آپ کی پسندیدہ ماڈل کو نہیں.

    اپنی اصل سے جڑے ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ نہ صرف پروقار لگتی ہیں بلکہ بطور ایک پاکستانی آپ اپنے کلچر کو پروموٹ بھی کر رہی ہوتی ہیں. اپنا تجربہ بتاؤں تو میری کولیگز اب کھاڈی، نشاط لینن، سفائر، جے ڈاٹ، گل احمد کے ساتھ سایا، ست رنگی، کیسریا اور ژیلبری کی بھی فینز ہو چکی ہیں.

  • چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی پنجاب (انڈیا) میں سانحہ پیش آیا ہے۔ایک طلبا نے مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر یونیورسٹی فیلوز کے ساٹھ سے زائد ایم ایس ایس تب بنائے جب وہ نہا رہی تھیں۔۔۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ تو قبول کیا ہے لیکن خود کشی کے کسی کیس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔معاملے کی تحقیقات البتہ جاری ہیں۔۔۔انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک لڑکی نے ہی دوسری لڑکیوں کی پرائیوسی پیسوں کے عوض بیچ دی۔۔

    سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں کچھ لڑکیاں بےہوش نظر آ رہی ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق قریب آٹھ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔ہو سکتا ہے کہ خودکشی نہ ہو ذہنی دباؤ کے باعث لڑکیاں بےہوش ہو رہی ہوں۔۔۔لیکن اصل معاملہ ہی ذہنی دباؤ اور خوف ہے۔۔۔

    پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک جنسی جرائم میں خواتین وکٹم ہونے کے باوجود معاشرے کی سپورٹ نہیں حقارت برداشت کرتی ہیں۔۔۔آہستہ آہستہ معاشرہ بدل رہا ہے لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔۔۔

    چونکہ جنسی جرائم واضح اکثریت کے ساتھ خواتین کے خلاف ہوتے ہیں تو انکو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس میں آپکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔آپکی عزت کو کچھ نہیں ہوا بلکہ عزت اسکی خراب ہوئی جس نے جرم کیا ہے۔۔۔

    معاشرے میں مجموعی طور پر جنسی جرائم سے متاثرہ افراد کے حق میں سوچ پیدا ہونے سے انکے سروائیو کرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

    عامر خان ایک ریپ وکٹم خاتون سے گفتگو کر رہے تھے کہ زندگی کی طرف واپس کیسے آئیں۔۔ان خاتون نے بہت خوبصورت جواب دیا جو کچھ ردوبدل کے ساتھ کوٹ کر رپی ہوں۔۔

    "میری عزت میری شلوار میں نہیں تھی جو چلی گئی۔۔ عزت اسکی گئی جس نے جرم کیا۔۔۔میری عزت کیوں جاتی۔۔۔”

  • پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    1960 کے بعد سے خواتین میں خوش رہنے کی شرح خطرناک رفتار سے کم ہوئی ہے۔ نیشنل بیور آف اکنامک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں اس بات کے باوجود کہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں، نوکریاں مل رہی ہیں، امن حاصل ہے ان میں پھر بھی خوش رہنے کی شرح حد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

    وجہ؟

    اگر ہم بائیولوجیکلی دیکھیں تو کیرئر کا سٹریس ارتقائی ہسٹری میں کبھی بھی کسی خاتون کا گول رہا ہی نہیں ہے۔ عورتیں اس بات کے لئے ہارڈ وائرڈ ہیں کہ وہ کم سے کم فزیکل یا مینٹل سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔

    اس میں قصور کس کا تھا؟

    اوورآل یہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک فیصلہ تھا جس میں اولاد کی بہترین پرورش کے لئے مرد نے روزی ڈھونڈنا چنا تو عورت نے گھر رہنا۔ انسان اگر ایسا کرنا نا چنتے تو آج ہم ایسے نا ہوتے۔ یہ لاکھوں سال کا ارتقاء اب ہماری رگ رگ میں چھپا ہمیں ڈستا رہتا ہے۔ اس کی وجہ عورتوں کی بائیولوجی نکل آتی ہے۔

    لیکن حالیہ 60 برسوں میں باوجود اس بات کے کہ خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں ان کے لئے خوش رہنے کے مواقعے کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر ایک خاتون ہی صرف گھر کو پال رہی ہیں تو ان کے لئے زندگی ایک کھٹن سفر بنتی جا رہی ہے۔ اخلاقی طور پہ وہ عظیم کام کر رہی ہیں مگر بائیولوجیکلی خود پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔

    میں خود خواتین کے کیرئر بنانے کے حق میں ہوں لیکن یہ تحقیق آج مجھے بھی حیران کر چکی ہے کہ واقعی میں کیرئر کی ٹینشن، ورک پریشر اور خاندان سنبھالنے کی ذمہ داریاں ان کو خوشیوں سے دور لیجا چکی ہیں۔

    اسکے علاوہ ایک اور تحقیق یہ بھی ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد خواتین کی جاب پرفارمنس کا گراف تیزی سے نیچے گر جاتا ہے اور اس بات کی وجہ بھی مردانہ سماج نہیں بلکہ ان کا ہارمونل سسٹم ہے۔

    اب اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آن ایوریج خواتین کی سبجیکٹو خوش رہنے کی شرح مردوں سے حد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ جہاں نوکریوں میں آج جینڈر گیپ ختم ہو رہا ہے تو وہیں بائیولوجیکل جینڈر گیپ یہاں پہ بڑھ چکا ہے۔

  • کلیجی کی بد بو کیسے ختم کریں؟ چند آسان ٹپس

    کلیجی کی بد بو کیسے ختم کریں؟ چند آسان ٹپس

    بکرا عید ہو گھر میں کلیجی نہ پکے یہ کیسے ممکن ہے، بڑی عید پر جیسے قربانی کا گوشت تیار ہوتا ہے تو سب سے پہلے کلیجی چولہے پر چڑھا دی جاتی ہے لیکن کچھ خواتین یہ شکایت کرتی ہیں کہ کلیجی تیار ہونے کے بعد اس کی بُو ختم نہیں ہوئی اور ٹھیک طرح سے گلی بھی نہیں۔

    آج ہم آپ کو کلیجی کی بو ختم کرنے کا آسان طریقہ بتائیں گے، اس کے علاوہ ایک ترکیب بھی بتائیں گے جس سے کلیجی بے حد ذائقے دار اور نرم بنے گی۔

    کلیجی دھونے کا طریقہ:

    سب سے پہلے کلیجی کو باؤل میں موجود صاف پانی میں بھگوئیں اور اسے دھو لیں ، دوسرے باؤل میں تقریباً آدھا کپ دودھ اور ایک گلاس پانی شامل کرلیں (کلیجی زیادہ ہو تو دودھ اور پانی کی مقدار اس حساب سے لیں) اور پھر اسے 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں ، اس کے بعد دوبارہ اسے صاف پانی سے دھو لیں۔

    بو ختم کرنے کا طریقہ:

    لہسن کے کچھ جوے لیں اور انہیں چھلکے سمیت پیس لیں، ساتھ ہی اس میں حسبِ مقدار لیمو کا رس یا سرکا ملا لیں، اس آمیزے کو اچھی طرح سے کلیجی پر ڈال دیں اور مکس کردیں اب اس کلیجی کو 20 سے 25 منٹ تک رکھ دیں، پھر اسے ایسے ہی پانی سے دھو لیں اور چھان لیں تاکہ اس کا سارا پانی مکمل طور پر نکل جائے-

    کلیجی کو پکانے سے پہلے اگر تیل میں چار سے پانچ دانے میتھی کے ڈال دیے جائیں تو اس سے بھی کلیجی سے بدبو نہیں آئے گی، کلیجی کو بنا دھوئے اس میں ایک عدد لیموں نچوڑ کر ڈالیں اور پندرہ منٹ تک ایسے ہی چھوڑ دیں پھر پانی اچھی طرح دھولیں اب اس کو پکائیں تو بدبو ختم ہو چکی ہوگی –

    علازہ ازیں کلیجی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنے کے بعد پانی میں ڈال کر اس میں پانچ چمچ سرکہ ڈالیں اور 20منٹ کے لیے چھوڑ دیں ایسا کرنے سے بھی کلیجی بلکل صاف ہوجاتی ہے اور بدبو بھی ختم ہو جاتی ہے-

    مزیدار کلیجی بنانے کی ترکیب:

    کلیجی کا سالن:

    ایک کپ دہی میں آدھا چمچ لال پسی مرچیں، ایک چوتھائی کٹی مرچیں، تھوڑی سی ہلدی، ایک چمچ ثابت دھنیا، ایک چمچ کٹا ہوا زیرا ملا کر بوٹیوں کو آدھے گھنٹے کے لیے میرینیٹ کرکے رکھ دیں۔

    کڑھائی میں آئل ڈال کر 4 ثابت کالی مرچیں، 2 لونگ اور 2 بڑی الائچی ڈال دیں، پھر کدوکش کی ہوئی ایک پیاز اس میں شامل کریں پیاز ہلکی سی براؤن ہو جائے تو اس میں ایک سرخ ٹماٹر کاٹ کر ڈالیں، ٹماٹر گل جائے تو اس میں دہی میں میرینیٹ کی گئی کلیجی شامل کریں اور اس کو اچھی طرح بھون لیں، دہی کے پانی میں ہی کلیجی گل جائے گی۔

    کلیجی آئل چھوڑ دے تو اس میں نمک شامل کریں، 2 سے 3 منٹ پکانے کے بعد چولہا بند کردیں اور اوپر سے ہرا دھنیا، ہری مرچ اور ادرک کاٹ کر ڈال دیں۔

    ہمیشہ کلیجی میں نمک ہمیشہ پکنے کے بعد شامل کریں کیونکہ شروع میں ڈالنے سے کلیجی سخت ہو جائے گی۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازیخان کی تحصیل کوٹ چھٹہ میں اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ احمد نوید بلوچ نے ریڈ کرکے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹریشن کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون کو موقع پر گرفتارکروا دیا ہے۔اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ احمد نوید بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ کوٹ چھٹہ کی بھٹہ کالونی میں ایک خاتون بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رجسٹریشن کے نام سے300 روپے فی کس بٹور رہی ہے جس پر ہم نے بسپ ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر خاتون کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا ہے،ملزمہ سے خواتین کے شناختی کارڈز بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔دوسری طرف پولیس نے مقدمہ درج کرکے خاتون سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔