Baaghi TV

Category: خواتین

  • لباس، شخصیت اور تمکنت — شہنیلہ بیلگم والا

    لباس، شخصیت اور تمکنت — شہنیلہ بیلگم والا

    بائیس سال سے درس و تدریس سے وابستہ ہوں. ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے مختلف قومیتوں سے دن رات کا واسطہ رہتا ہے.ان دو دہائیوں میں پہننے اوڑھنے کے اطوار بہت بدل گئے ہیں. آپ اگر انٹرنیشنل لیول کے ادارے میں کام کرتے ہیں تو گمان غالب ہے کہ مغربی پہناوا زیادہ نظر آئے گا. عرب کلچر میں عبایا کے نیچے زیادہ تر مغربی لباس ہی پہنا جاتا ہے. اسی طرح ایشیائی غیر مسلم ممالک کی خواتین بھی زیادہ تر ویسٹرن وئیر ہی پسند کرتی ہیں. پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر جگہ دستیاب ہے اور دوسرا وہی ہماری ذہنی غلامی.

    جہاں تک میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے ہم پاکستانی خواتین ابھی تک اپنی اصل سے جڑی ہوئی ہیں. پاکستانی برانڈز کے خوشنما اور انتہائی ڈیسنٹ کپڑے. دلکش پرنٹس، نفیس کڑھائی اور پھر اس پہ بڑا سا دوپٹہ آپ کی شخصیت کو تمکنت اور وقار عطا کرتا ہے.

    عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ہر کپڑا، ہر فیشن سب کے لیے نہیں ہوتا. لیکن پاکستانی لباس کی خاص بات یہی ہے کہ وہ ہر جسامت، رنگت اور عمر کو سوٹ کرتا ہے. ویسٹرن کپڑے خاص جسامت کے لوگوں پر ہی اچھے لگتے ہیں. پہننے والے پہنتے ہیں لیکن دیکھنے والوں کو کیسے لگتا ہے وہ سب بتاتے نہیں. اس لیے لباس وہی پہننیے جو آپ کو سوٹ کرتا ہو آپ کی پسندیدہ ماڈل کو نہیں.

    اپنی اصل سے جڑے ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ نہ صرف پروقار لگتی ہیں بلکہ بطور ایک پاکستانی آپ اپنے کلچر کو پروموٹ بھی کر رہی ہوتی ہیں. اپنا تجربہ بتاؤں تو میری کولیگز اب کھاڈی، نشاط لینن، سفائر، جے ڈاٹ، گل احمد کے ساتھ سایا، ست رنگی، کیسریا اور ژیلبری کی بھی فینز ہو چکی ہیں.

  • چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی پنجاب (انڈیا) میں سانحہ پیش آیا ہے۔ایک طلبا نے مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر یونیورسٹی فیلوز کے ساٹھ سے زائد ایم ایس ایس تب بنائے جب وہ نہا رہی تھیں۔۔۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ تو قبول کیا ہے لیکن خود کشی کے کسی کیس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔معاملے کی تحقیقات البتہ جاری ہیں۔۔۔انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک لڑکی نے ہی دوسری لڑکیوں کی پرائیوسی پیسوں کے عوض بیچ دی۔۔

    سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں کچھ لڑکیاں بےہوش نظر آ رہی ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق قریب آٹھ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔ہو سکتا ہے کہ خودکشی نہ ہو ذہنی دباؤ کے باعث لڑکیاں بےہوش ہو رہی ہوں۔۔۔لیکن اصل معاملہ ہی ذہنی دباؤ اور خوف ہے۔۔۔

    پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک جنسی جرائم میں خواتین وکٹم ہونے کے باوجود معاشرے کی سپورٹ نہیں حقارت برداشت کرتی ہیں۔۔۔آہستہ آہستہ معاشرہ بدل رہا ہے لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔۔۔

    چونکہ جنسی جرائم واضح اکثریت کے ساتھ خواتین کے خلاف ہوتے ہیں تو انکو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس میں آپکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔آپکی عزت کو کچھ نہیں ہوا بلکہ عزت اسکی خراب ہوئی جس نے جرم کیا ہے۔۔۔

    معاشرے میں مجموعی طور پر جنسی جرائم سے متاثرہ افراد کے حق میں سوچ پیدا ہونے سے انکے سروائیو کرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

    عامر خان ایک ریپ وکٹم خاتون سے گفتگو کر رہے تھے کہ زندگی کی طرف واپس کیسے آئیں۔۔ان خاتون نے بہت خوبصورت جواب دیا جو کچھ ردوبدل کے ساتھ کوٹ کر رپی ہوں۔۔

    "میری عزت میری شلوار میں نہیں تھی جو چلی گئی۔۔ عزت اسکی گئی جس نے جرم کیا۔۔۔میری عزت کیوں جاتی۔۔۔”

  • پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    1960 کے بعد سے خواتین میں خوش رہنے کی شرح خطرناک رفتار سے کم ہوئی ہے۔ نیشنل بیور آف اکنامک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں اس بات کے باوجود کہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں، نوکریاں مل رہی ہیں، امن حاصل ہے ان میں پھر بھی خوش رہنے کی شرح حد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

    وجہ؟

    اگر ہم بائیولوجیکلی دیکھیں تو کیرئر کا سٹریس ارتقائی ہسٹری میں کبھی بھی کسی خاتون کا گول رہا ہی نہیں ہے۔ عورتیں اس بات کے لئے ہارڈ وائرڈ ہیں کہ وہ کم سے کم فزیکل یا مینٹل سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔

    اس میں قصور کس کا تھا؟

    اوورآل یہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک فیصلہ تھا جس میں اولاد کی بہترین پرورش کے لئے مرد نے روزی ڈھونڈنا چنا تو عورت نے گھر رہنا۔ انسان اگر ایسا کرنا نا چنتے تو آج ہم ایسے نا ہوتے۔ یہ لاکھوں سال کا ارتقاء اب ہماری رگ رگ میں چھپا ہمیں ڈستا رہتا ہے۔ اس کی وجہ عورتوں کی بائیولوجی نکل آتی ہے۔

    لیکن حالیہ 60 برسوں میں باوجود اس بات کے کہ خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں ان کے لئے خوش رہنے کے مواقعے کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر ایک خاتون ہی صرف گھر کو پال رہی ہیں تو ان کے لئے زندگی ایک کھٹن سفر بنتی جا رہی ہے۔ اخلاقی طور پہ وہ عظیم کام کر رہی ہیں مگر بائیولوجیکلی خود پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔

    میں خود خواتین کے کیرئر بنانے کے حق میں ہوں لیکن یہ تحقیق آج مجھے بھی حیران کر چکی ہے کہ واقعی میں کیرئر کی ٹینشن، ورک پریشر اور خاندان سنبھالنے کی ذمہ داریاں ان کو خوشیوں سے دور لیجا چکی ہیں۔

    اسکے علاوہ ایک اور تحقیق یہ بھی ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد خواتین کی جاب پرفارمنس کا گراف تیزی سے نیچے گر جاتا ہے اور اس بات کی وجہ بھی مردانہ سماج نہیں بلکہ ان کا ہارمونل سسٹم ہے۔

    اب اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آن ایوریج خواتین کی سبجیکٹو خوش رہنے کی شرح مردوں سے حد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ جہاں نوکریوں میں آج جینڈر گیپ ختم ہو رہا ہے تو وہیں بائیولوجیکل جینڈر گیپ یہاں پہ بڑھ چکا ہے۔

  • کلیجی کی بد بو کیسے ختم کریں؟ چند آسان ٹپس

    کلیجی کی بد بو کیسے ختم کریں؟ چند آسان ٹپس

    بکرا عید ہو گھر میں کلیجی نہ پکے یہ کیسے ممکن ہے، بڑی عید پر جیسے قربانی کا گوشت تیار ہوتا ہے تو سب سے پہلے کلیجی چولہے پر چڑھا دی جاتی ہے لیکن کچھ خواتین یہ شکایت کرتی ہیں کہ کلیجی تیار ہونے کے بعد اس کی بُو ختم نہیں ہوئی اور ٹھیک طرح سے گلی بھی نہیں۔

    آج ہم آپ کو کلیجی کی بو ختم کرنے کا آسان طریقہ بتائیں گے، اس کے علاوہ ایک ترکیب بھی بتائیں گے جس سے کلیجی بے حد ذائقے دار اور نرم بنے گی۔

    کلیجی دھونے کا طریقہ:

    سب سے پہلے کلیجی کو باؤل میں موجود صاف پانی میں بھگوئیں اور اسے دھو لیں ، دوسرے باؤل میں تقریباً آدھا کپ دودھ اور ایک گلاس پانی شامل کرلیں (کلیجی زیادہ ہو تو دودھ اور پانی کی مقدار اس حساب سے لیں) اور پھر اسے 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں ، اس کے بعد دوبارہ اسے صاف پانی سے دھو لیں۔

    بو ختم کرنے کا طریقہ:

    لہسن کے کچھ جوے لیں اور انہیں چھلکے سمیت پیس لیں، ساتھ ہی اس میں حسبِ مقدار لیمو کا رس یا سرکا ملا لیں، اس آمیزے کو اچھی طرح سے کلیجی پر ڈال دیں اور مکس کردیں اب اس کلیجی کو 20 سے 25 منٹ تک رکھ دیں، پھر اسے ایسے ہی پانی سے دھو لیں اور چھان لیں تاکہ اس کا سارا پانی مکمل طور پر نکل جائے-

    کلیجی کو پکانے سے پہلے اگر تیل میں چار سے پانچ دانے میتھی کے ڈال دیے جائیں تو اس سے بھی کلیجی سے بدبو نہیں آئے گی، کلیجی کو بنا دھوئے اس میں ایک عدد لیموں نچوڑ کر ڈالیں اور پندرہ منٹ تک ایسے ہی چھوڑ دیں پھر پانی اچھی طرح دھولیں اب اس کو پکائیں تو بدبو ختم ہو چکی ہوگی –

    علازہ ازیں کلیجی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنے کے بعد پانی میں ڈال کر اس میں پانچ چمچ سرکہ ڈالیں اور 20منٹ کے لیے چھوڑ دیں ایسا کرنے سے بھی کلیجی بلکل صاف ہوجاتی ہے اور بدبو بھی ختم ہو جاتی ہے-

    مزیدار کلیجی بنانے کی ترکیب:

    کلیجی کا سالن:

    ایک کپ دہی میں آدھا چمچ لال پسی مرچیں، ایک چوتھائی کٹی مرچیں، تھوڑی سی ہلدی، ایک چمچ ثابت دھنیا، ایک چمچ کٹا ہوا زیرا ملا کر بوٹیوں کو آدھے گھنٹے کے لیے میرینیٹ کرکے رکھ دیں۔

    کڑھائی میں آئل ڈال کر 4 ثابت کالی مرچیں، 2 لونگ اور 2 بڑی الائچی ڈال دیں، پھر کدوکش کی ہوئی ایک پیاز اس میں شامل کریں پیاز ہلکی سی براؤن ہو جائے تو اس میں ایک سرخ ٹماٹر کاٹ کر ڈالیں، ٹماٹر گل جائے تو اس میں دہی میں میرینیٹ کی گئی کلیجی شامل کریں اور اس کو اچھی طرح بھون لیں، دہی کے پانی میں ہی کلیجی گل جائے گی۔

    کلیجی آئل چھوڑ دے تو اس میں نمک شامل کریں، 2 سے 3 منٹ پکانے کے بعد چولہا بند کردیں اور اوپر سے ہرا دھنیا، ہری مرچ اور ادرک کاٹ کر ڈال دیں۔

    ہمیشہ کلیجی میں نمک ہمیشہ پکنے کے بعد شامل کریں کیونکہ شروع میں ڈالنے سے کلیجی سخت ہو جائے گی۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازیخان کی تحصیل کوٹ چھٹہ میں اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ احمد نوید بلوچ نے ریڈ کرکے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹریشن کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون کو موقع پر گرفتارکروا دیا ہے۔اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ احمد نوید بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ کوٹ چھٹہ کی بھٹہ کالونی میں ایک خاتون بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رجسٹریشن کے نام سے300 روپے فی کس بٹور رہی ہے جس پر ہم نے بسپ ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر خاتون کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا ہے،ملزمہ سے خواتین کے شناختی کارڈز بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔دوسری طرف پولیس نے مقدمہ درج کرکے خاتون سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔

  • وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس
    انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اورحکم دیا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے،گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے، و زیراعلی پنجاب حمزہ شہبازنے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں ،انہوں مزیدکہا کہ ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا کا حقدار ہے، یاد رہے کہ جام پور میں بس کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ،متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں۔
    باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میںاکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ گئی کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔

  • جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ، متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں
    باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میں اکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے

  • ایکبار پھر گھٹنوں تک لمبی قمیضوں کا فیشن

    ایکبار پھر گھٹنوں تک لمبی قمیضوں کا فیشن

    اس سال کے فیشن ٹرینڈز دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ گھٹنوں تک لمبی قمیضیں ،میکیساں ،انگرکھا اور فراکس فیشن ٹرینڈز میں ہیں ۔اس بار فیشن سے تنگ پاجامے اور سیگریٹ پینٹس بالکل آﺅٹ ہیں۔ کھلے پائنچوں کے ٹراﺅزرز،بیل بوٹم اور فلیپرپر جالی اور اورگنزا، ٹشو اور لیسیں لگائی جا رہی ہیں ۔یہاں تک کہ غرارے کے ساتھ قمیضیں روٹین میں بھی زیب تن کی جا رہی ہیں.

    ایک وقت تھا جب غرارے خاص کر شادی بیاہ کی تقریبات پر خاص کر بنائے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔بات کریں ہم جوڑوں کی ڈیزائننگ کی تو بازﺅوں کو جالی کے جبکہ لمبے دوپٹوں کو ٹسلز اور لیسوں کے ساتھ سجایا جا رہا ہے۔ ہاتھ کی کڑھائی کا فیشن تو اب ماند پڑ چکا ہے لیکن مشینی کڑھائی کا زور نہیں ٹوٹا، مشینی کڑھائی قمیضوں کے گلوں اور گھیروں پر کی جا رہی ہے اس کڑھائی میں خوبصورت موتی لگائے جارہے ہیں. رنگ برنگی کُرتیوں کو وائٹ کھلے پائنچوں کے ٹراﺅزرزکے ساتھ زیب تن کیا جا رہا ہے. جہاں تک ملبوسات میں رنگوں‌ کی بات ہے تو صرف ہلکے نہیں بلکہ ہلکے اور گہرے رنگ کے امتزاج کو پسند کیا جا رہا ہے.

  • عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    غیر شادی شدہ خواتین کو جس طرح معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح شادی شدہ خواتین کو بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے, کہیں پہ عورت کے کندھوں پہ تہذیب کا بوجھ ہوتا ہے تو کہیں پہ طلاق کا دھبہ اس کے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے
    کئی جگہوں پر تو عورت کی خود مختاری ضبط کر لی جاتی ہے تو کہیں اس کا کام صرف گھر سنبھالنا ہی طے ہوتا ہے کیونکہ اس معاشرے میں اکثر عورت کے حقوق کو سبو تاژ کیا جاتا رہا ہے کہیں عورت کو ہمیشہ عیش اور عشرت پرستی کا ذریعہ سمجھ کر حکمرانی کی جاتی ہے.
    ابھی بھی کچھ لوگ عورت کو اس کا اصل مقام دینے کے حامی نہیں ہیں اور یہی لوگ آزادی نسواں کے خلاف بھی ہیں.
    یہی وجہ ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع مختلف تہذیبوں میں زیر بحث رہا ہے
    مختلف معاشروں میں عورتوں کے طبقے پر ظلم ہوا ہے عورتوں کے ساتھ جبروتششدد کے واقعات میں زیادہ تر مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن
    پس منظر کو دیکھیں تو ایک عورت ہی کہیں نہ کہیں آ لےکار ثابت ہوئی ہے ایک عورت پر ظلم کرنے میں خواہ وہ سوتن کے روپ میں, نند کے روپ میں یا پھر ساس کے روپ میں..
    بےشک معاشرے میں بےشمار خرابیاں ہیں مگر اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سب میں کہیں تھوڑا سا قصور عورت کا بھی تو نہیں ہے

    ایسا ہی کچھ دنوں پہلے کشمیر کے ایک گاؤں کاچلیاں میں ہوا
    لڑکی کی شادی کو تین سال کا عرصہ ہوا ایک بیٹی ایک سال کی اور وہ دوسرے بچے کی امید سے تھی. اس بےخبر کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے تعلقات اپنی کزن کے ساتھ ہیں
    لڑکی کا شوہر کام کے سلسلے میں دوبئی میں رہتا تھا پر اپنی کزن کے ساتھ رابطے میں تھا.
    یہ لڑکی دوسری بار ماں بن رہی تھی اور اسے پتا نہیں تھا کہ اس کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس کی ساس اور شوہر منصوبہ بندی کر رہے ہیں
    ایک دن لڑکی اپنی بچی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی کہ ساس نے اپنی بھتیجی ( لڑکی کے شوہر کی معشوقہ) کو فون کرکے بتایا کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کرسکتی ہے.

    گاؤں میں گھر دور دور ہوتے ہیں جب شوہر کی معشوقہ چھری لے کے لڑکی کے گھر گئی تو وہ سو رہی تھی, اسکے سر پر کسی چیز سے ایسا وار کیا کہ لڑکی بے ہوش ہوگئی اور بےہوشی میں ہی اس کے ہاتھ پیر کی سب انگلیاں کاٹ دی جب گلے پہ چھری رکھی تو لڑکی کو ہوش آگیا مزاحمت کرنے کی کوشش کرنے لگی اور اس کی دو سال کی بچی کے رونے کی آواز اور لڑکی کے چلانے کی آواز کھیت میں کام کرنے والے ایک آدمی کو سنائی دی وہ بھاگ کے مدد کو آیا تو دیکھا شوہر کی معشوقہ نے لڑکی کی گردن پہ چھری رکھی ہوئی ہے اور لڑکی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کے ساتھ واسطے دے رہی ہے کہ میں نے کیا کیا ہے مجھے مت مارو

    اس آ دمی نے اس عورت سے چھری چھین لی اور اسے کمرے میں بند کرکے پولیس کو کال کی.
    زخمی لڑکی کو اسپتال لے جایا گیا مگر اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث راولپنڈی اسپتال ریفر کر دیا گیا. گاؤں والوں نے لڑکی سے پوچھا ایسا کیوں کیا تو اس نے بتایا کہ میرے کزن نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو راستے سے ہٹاؤ تو تم سے شادی کرونگا اور اس منصوبہ بندی میں میری پھپھو ( لڑکے کی ماں) بھی شامل ہے.
    خیر یہ اچھا ہوا مظلوم لڑکی کی جان بچ گئی اور مجرمہ جیل چلی گئی پر اس کے اقرار جرم اور اس کے عمل نے یہ ثابت کردیا کہ عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے. شاہد یہ بات سننے میں عجیب لگے پر آپس کی دشمنی یا لالچ کی وجہ سے دوسری عورت کو مارنے یا برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی. اور کئی گھرانوں میں عام دیکھا گیا ہے کہ مرد کو ہتھیار بنایا جاتا ہے جب اس کو ایک عورت خواہ ماں ہو یا بہن یا بیوی) اسے دوسری عورت کے خلاف اکساتی ہے تو وہ قہر برسانے لگتا ہے…

    ہمیں اپنی خامیوں کو بھی قبول کرنا ہوگا مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی لڑائی کو ختم کرنا ہوگا, اور جب عورت ہی عورت کی ڈھال بن جائے تو ہھر کوئی عورت کا مقابلہ نہیں کرسکتا.

    @Rehna_7

  • بلا عنوان   ،تحریر : فضیلت اجالہ

    بلا عنوان ،تحریر : فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے کہ

    زمین و آسماں ، ہر جگہ پر خدا کی بادشاہت ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔( سورۃ الشوریٰ ۴۹)

    آج میرے قلم پہ لفظوں کا قحط طاری ہے ، احساسات ششدر اور دل و دماغ میں حشر برپا ہے ۔ نوک قلم ایک ماں کا، پورے میانوالی کا یا شائد پورے پاکستان کا رنج و الم الفاظ میں سمونے سے قاصر ہے
    کتنی اندوہناک اور لرزا دینے والی خبر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں
    ایک ننھی پری عورتوں کے عالمی دن سے صرف ایک دن پہلے اپنے ہی سفاک باپ کے ہاتھوں رب کی جنت میں واپس چلی گئی ۔ ایک ننھا سا گوشت پوست اور اس قدر بربریت کیا کیا ازیت نا جھیلی ہوگی اس ننھی جان نے یا شائد اس کی سانس تو گولی چلنے کی آواز سے ہی سہم کے ساکن ہوگئ ہوگی۔ سوچتی ہوں تو روح لرز جاتی ہے کہ کیا وہ معصوم کلی رب کی بارگاہ میں سوال نہیں کرے گی کہ میرے مالک مجھے کہاں بھیجا تھا؟میں نے کیا خطا کی تھی ؟ باپ تو تپتے صحرا میں چھاؤں کا نام ہے نا پھر میرے اپنے ہی باپ نے مجھ میں اتنی آگ کیوں انڈیل دی۔
    یہ خبر یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ افسردگی سی افسردگی ہے ۔ تکلیف زیادہ ہے کہ غصہ ، دل اظہار کرنے سے قاصر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقعے سے عرب کے دور جہالت کی یاد تازہ ہوگئی ۔
    جہاں بیٹیوں کو زندہ ہوتے ہی دفنا دیا جاتا تھا۔
    وہ اسلام جس نے بیٹیوں کو رحمت خداوندی کا درجہ دیا آج اسی اسلام کے نام پہ حاصل کردہ ملک میں کبھی نئے کپڑے مانگنے کی پاداش میں تین تین بیٹیوں کو موت کا لباس اوڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بیٹا نا پیدا ہونے کی جرم میں معصوم سات روزہ کلی کی سانسیں کھینچ لی جاتی ہیں لیکن کوئ قیامت برپا نہیں ہوتی ، نا کہیں بجلی گرتی ہے اور نا آسمان ہی ٹوٹتا ہے ، کیوں بے بس و لاچار ماں کی آہیں عرش و فرش کو نہیں ہلاتی
    آخر کیوں فرشی منصفوں کا ضمیر نہیں جاگتا؟ کیوں ایسے ظالم کرداروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا
    کب تک آخر کب تک ریاست اس گھناؤنے واقعات کو نجی مسائل کہہ کر درگزر کرتی رہے گی کب تک حوا کی بیٹی نا کردہ جرائم کی سزا پاتی رہے گی

    اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھول

    اک روئی سی دھی پنجاب دی، تُوں لکھ لکھ مارے بین
    اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن

    اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
    اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

    یہ پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے عورت ہمیشہ مرد کی نام نہاد انا و غیرت اور ظلم و بر بریت کا نشانہ بنتی رہی ہے اس ننھی پری کے سفاک باپ جیسے کردار دنیا میں ہزاروں ، لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ دل کو اطمینان دینے والا احساس یہ ہے کہ اس سے کئی سو گنا زیادہ تعداد ان مردوں کی ہے جن کے لیے ان کی بیٹیاں ان کے جگر کا ٹکڑا ہیں۔

    ہمارے اطراف موجود ملنے جلنے والوں رشتے داروں دوستوں میں اکثریت ایسے گھرانوں کی ہے جہاں باپ کی جان ان کی بیٹیوں کا وجود ہے ۔ جہاں بیٹیاں کو رحمت سمجھ کر ان کو مان سمان اور پیار سے پالا جاتا ہے ۔

    اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات ہر معاشرے میں قابل نفرین سمجھے جاتے ہیں کسی بھی معاشرے میں ایک سفاک باپ کے ایسے سفاک عمل کے پیچھے صرف غلط معاشرتی سوچ ہی نہیں کبھی کھی ذہنی مرض ، نفسیاتی الجھنیں اور کئی دوسرے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں ۔

    ورنہ حقیقی صورتحال کیا ہے اس کو جاننا مشکل نہیں۔ آج صرف سوشل میڈیا کی ہی مثال لیں کسی بھی صنفی امتیاز کے بنا مردوں کی اکثریت اس واقعے کی مذمت کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں سے اپنی محبت کا کھل کر اظہار کررہے ہیں ۔

    کیونکہ ایک باپ کے لئے بیٹیاں تو خالق کی اتنی پیاری مخلوق ہے جن کے وجود کا جن کے ہونے کا صرف شکرانہ ہی ادا کیا جاسکتا ہے ۔

    اللہ سب کے گھر کی رحمتوں کو سلامت رکھے ۔ آمین
    اس خاندان کے معتبر بزرگوں سے بہتے اشکوں کے ساتھ التماس ھے کہ اس کیس ک مدعی صلح یا رشوت کے پیسوں کی بجائے اس ننھی کلی کو سامنے رکھے اگر آج ایک بیٹی کا خون بخش دو گے یا خون بہا لے کر چپ کر جاؤ گے تو کل دوسری اور تیسری بیٹی کی قبر کھودنے کے لئیے بھی تیار رہنا

    یہ کیس ایک خاندان یا ایک ماں کا نہیں پورے پاکستان کا ہے ،یہ کیس ہر لاچار و مجبور ماں کا ہے جو نام نہاد غیرت مند مردوں کے ہاتھوں روز قتل ہوتی ہیں یہ کیس ہر ہر اس بنت حوا کہ ہے جس کا جرم اس دنیا میں سانس لینا ہے ۔ اس کیس کا نتیجہ ایسے تمام گھناؤنے کرداروں کے لئیے ایک پیغام ایک واضح نشان عبرت ہونا چاہیئے ۔
    @_Ujala_R