وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس
انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اورحکم دیا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے،گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے، و زیراعلی پنجاب حمزہ شہبازنے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں ،انہوں مزیدکہا کہ ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا کا حقدار ہے، یاد رہے کہ جام پور میں بس کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ،متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں۔
باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میںاکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ گئی کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔
Category: خواتین

وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی
جام پور۔بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ، متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں
باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میں اکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے
ایکبار پھر گھٹنوں تک لمبی قمیضوں کا فیشن
اس سال کے فیشن ٹرینڈز دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ گھٹنوں تک لمبی قمیضیں ،میکیساں ،انگرکھا اور فراکس فیشن ٹرینڈز میں ہیں ۔اس بار فیشن سے تنگ پاجامے اور سیگریٹ پینٹس بالکل آﺅٹ ہیں۔ کھلے پائنچوں کے ٹراﺅزرز،بیل بوٹم اور فلیپرپر جالی اور اورگنزا، ٹشو اور لیسیں لگائی جا رہی ہیں ۔یہاں تک کہ غرارے کے ساتھ قمیضیں روٹین میں بھی زیب تن کی جا رہی ہیں.

ایک وقت تھا جب غرارے خاص کر شادی بیاہ کی تقریبات پر خاص کر بنائے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔بات کریں ہم جوڑوں کی ڈیزائننگ کی تو بازﺅوں کو جالی کے جبکہ لمبے دوپٹوں کو ٹسلز اور لیسوں کے ساتھ سجایا جا رہا ہے۔ ہاتھ کی کڑھائی کا فیشن تو اب ماند پڑ چکا ہے لیکن مشینی کڑھائی کا زور نہیں ٹوٹا، مشینی کڑھائی قمیضوں کے گلوں اور گھیروں پر کی جا رہی ہے اس کڑھائی میں خوبصورت موتی لگائے جارہے ہیں. رنگ برنگی کُرتیوں کو وائٹ کھلے پائنچوں کے ٹراﺅزرزکے ساتھ زیب تن کیا جا رہا ہے. جہاں تک ملبوسات میں رنگوں کی بات ہے تو صرف ہلکے نہیں بلکہ ہلکے اور گہرے رنگ کے امتزاج کو پسند کیا جا رہا ہے.
عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون
غیر شادی شدہ خواتین کو جس طرح معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح شادی شدہ خواتین کو بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے, کہیں پہ عورت کے کندھوں پہ تہذیب کا بوجھ ہوتا ہے تو کہیں پہ طلاق کا دھبہ اس کے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے
کئی جگہوں پر تو عورت کی خود مختاری ضبط کر لی جاتی ہے تو کہیں اس کا کام صرف گھر سنبھالنا ہی طے ہوتا ہے کیونکہ اس معاشرے میں اکثر عورت کے حقوق کو سبو تاژ کیا جاتا رہا ہے کہیں عورت کو ہمیشہ عیش اور عشرت پرستی کا ذریعہ سمجھ کر حکمرانی کی جاتی ہے.
ابھی بھی کچھ لوگ عورت کو اس کا اصل مقام دینے کے حامی نہیں ہیں اور یہی لوگ آزادی نسواں کے خلاف بھی ہیں.
یہی وجہ ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع مختلف تہذیبوں میں زیر بحث رہا ہے
مختلف معاشروں میں عورتوں کے طبقے پر ظلم ہوا ہے عورتوں کے ساتھ جبروتششدد کے واقعات میں زیادہ تر مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن
پس منظر کو دیکھیں تو ایک عورت ہی کہیں نہ کہیں آ لےکار ثابت ہوئی ہے ایک عورت پر ظلم کرنے میں خواہ وہ سوتن کے روپ میں, نند کے روپ میں یا پھر ساس کے روپ میں..
بےشک معاشرے میں بےشمار خرابیاں ہیں مگر اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سب میں کہیں تھوڑا سا قصور عورت کا بھی تو نہیں ہےایسا ہی کچھ دنوں پہلے کشمیر کے ایک گاؤں کاچلیاں میں ہوا
لڑکی کی شادی کو تین سال کا عرصہ ہوا ایک بیٹی ایک سال کی اور وہ دوسرے بچے کی امید سے تھی. اس بےخبر کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے تعلقات اپنی کزن کے ساتھ ہیں
لڑکی کا شوہر کام کے سلسلے میں دوبئی میں رہتا تھا پر اپنی کزن کے ساتھ رابطے میں تھا.
یہ لڑکی دوسری بار ماں بن رہی تھی اور اسے پتا نہیں تھا کہ اس کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس کی ساس اور شوہر منصوبہ بندی کر رہے ہیں
ایک دن لڑکی اپنی بچی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی کہ ساس نے اپنی بھتیجی ( لڑکی کے شوہر کی معشوقہ) کو فون کرکے بتایا کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کرسکتی ہے.گاؤں میں گھر دور دور ہوتے ہیں جب شوہر کی معشوقہ چھری لے کے لڑکی کے گھر گئی تو وہ سو رہی تھی, اسکے سر پر کسی چیز سے ایسا وار کیا کہ لڑکی بے ہوش ہوگئی اور بےہوشی میں ہی اس کے ہاتھ پیر کی سب انگلیاں کاٹ دی جب گلے پہ چھری رکھی تو لڑکی کو ہوش آگیا مزاحمت کرنے کی کوشش کرنے لگی اور اس کی دو سال کی بچی کے رونے کی آواز اور لڑکی کے چلانے کی آواز کھیت میں کام کرنے والے ایک آدمی کو سنائی دی وہ بھاگ کے مدد کو آیا تو دیکھا شوہر کی معشوقہ نے لڑکی کی گردن پہ چھری رکھی ہوئی ہے اور لڑکی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کے ساتھ واسطے دے رہی ہے کہ میں نے کیا کیا ہے مجھے مت مارو
اس آ دمی نے اس عورت سے چھری چھین لی اور اسے کمرے میں بند کرکے پولیس کو کال کی.
زخمی لڑکی کو اسپتال لے جایا گیا مگر اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث راولپنڈی اسپتال ریفر کر دیا گیا. گاؤں والوں نے لڑکی سے پوچھا ایسا کیوں کیا تو اس نے بتایا کہ میرے کزن نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو راستے سے ہٹاؤ تو تم سے شادی کرونگا اور اس منصوبہ بندی میں میری پھپھو ( لڑکے کی ماں) بھی شامل ہے.
خیر یہ اچھا ہوا مظلوم لڑکی کی جان بچ گئی اور مجرمہ جیل چلی گئی پر اس کے اقرار جرم اور اس کے عمل نے یہ ثابت کردیا کہ عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے. شاہد یہ بات سننے میں عجیب لگے پر آپس کی دشمنی یا لالچ کی وجہ سے دوسری عورت کو مارنے یا برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی. اور کئی گھرانوں میں عام دیکھا گیا ہے کہ مرد کو ہتھیار بنایا جاتا ہے جب اس کو ایک عورت خواہ ماں ہو یا بہن یا بیوی) اسے دوسری عورت کے خلاف اکساتی ہے تو وہ قہر برسانے لگتا ہے…ہمیں اپنی خامیوں کو بھی قبول کرنا ہوگا مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی لڑائی کو ختم کرنا ہوگا, اور جب عورت ہی عورت کی ڈھال بن جائے تو ہھر کوئی عورت کا مقابلہ نہیں کرسکتا.
@Rehna_7

بلا عنوان ،تحریر : فضیلت اجالہ
ارشاد باری تعالی ہے کہ
زمین و آسماں ، ہر جگہ پر خدا کی بادشاہت ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔( سورۃ الشوریٰ ۴۹)
آج میرے قلم پہ لفظوں کا قحط طاری ہے ، احساسات ششدر اور دل و دماغ میں حشر برپا ہے ۔ نوک قلم ایک ماں کا، پورے میانوالی کا یا شائد پورے پاکستان کا رنج و الم الفاظ میں سمونے سے قاصر ہے
کتنی اندوہناک اور لرزا دینے والی خبر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں
ایک ننھی پری عورتوں کے عالمی دن سے صرف ایک دن پہلے اپنے ہی سفاک باپ کے ہاتھوں رب کی جنت میں واپس چلی گئی ۔ ایک ننھا سا گوشت پوست اور اس قدر بربریت کیا کیا ازیت نا جھیلی ہوگی اس ننھی جان نے یا شائد اس کی سانس تو گولی چلنے کی آواز سے ہی سہم کے ساکن ہوگئ ہوگی۔ سوچتی ہوں تو روح لرز جاتی ہے کہ کیا وہ معصوم کلی رب کی بارگاہ میں سوال نہیں کرے گی کہ میرے مالک مجھے کہاں بھیجا تھا؟میں نے کیا خطا کی تھی ؟ باپ تو تپتے صحرا میں چھاؤں کا نام ہے نا پھر میرے اپنے ہی باپ نے مجھ میں اتنی آگ کیوں انڈیل دی۔
یہ خبر یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ افسردگی سی افسردگی ہے ۔ تکلیف زیادہ ہے کہ غصہ ، دل اظہار کرنے سے قاصر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقعے سے عرب کے دور جہالت کی یاد تازہ ہوگئی ۔
جہاں بیٹیوں کو زندہ ہوتے ہی دفنا دیا جاتا تھا۔
وہ اسلام جس نے بیٹیوں کو رحمت خداوندی کا درجہ دیا آج اسی اسلام کے نام پہ حاصل کردہ ملک میں کبھی نئے کپڑے مانگنے کی پاداش میں تین تین بیٹیوں کو موت کا لباس اوڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بیٹا نا پیدا ہونے کی جرم میں معصوم سات روزہ کلی کی سانسیں کھینچ لی جاتی ہیں لیکن کوئ قیامت برپا نہیں ہوتی ، نا کہیں بجلی گرتی ہے اور نا آسمان ہی ٹوٹتا ہے ، کیوں بے بس و لاچار ماں کی آہیں عرش و فرش کو نہیں ہلاتی
آخر کیوں فرشی منصفوں کا ضمیر نہیں جاگتا؟ کیوں ایسے ظالم کرداروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا
کب تک آخر کب تک ریاست اس گھناؤنے واقعات کو نجی مسائل کہہ کر درگزر کرتی رہے گی کب تک حوا کی بیٹی نا کردہ جرائم کی سزا پاتی رہے گیاج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھولاک روئی سی دھی پنجاب دی، تُوں لکھ لکھ مارے بین
اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہناُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چنابیہ پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے عورت ہمیشہ مرد کی نام نہاد انا و غیرت اور ظلم و بر بریت کا نشانہ بنتی رہی ہے اس ننھی پری کے سفاک باپ جیسے کردار دنیا میں ہزاروں ، لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ دل کو اطمینان دینے والا احساس یہ ہے کہ اس سے کئی سو گنا زیادہ تعداد ان مردوں کی ہے جن کے لیے ان کی بیٹیاں ان کے جگر کا ٹکڑا ہیں۔
ہمارے اطراف موجود ملنے جلنے والوں رشتے داروں دوستوں میں اکثریت ایسے گھرانوں کی ہے جہاں باپ کی جان ان کی بیٹیوں کا وجود ہے ۔ جہاں بیٹیاں کو رحمت سمجھ کر ان کو مان سمان اور پیار سے پالا جاتا ہے ۔
اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات ہر معاشرے میں قابل نفرین سمجھے جاتے ہیں کسی بھی معاشرے میں ایک سفاک باپ کے ایسے سفاک عمل کے پیچھے صرف غلط معاشرتی سوچ ہی نہیں کبھی کھی ذہنی مرض ، نفسیاتی الجھنیں اور کئی دوسرے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں ۔
ورنہ حقیقی صورتحال کیا ہے اس کو جاننا مشکل نہیں۔ آج صرف سوشل میڈیا کی ہی مثال لیں کسی بھی صنفی امتیاز کے بنا مردوں کی اکثریت اس واقعے کی مذمت کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں سے اپنی محبت کا کھل کر اظہار کررہے ہیں ۔
کیونکہ ایک باپ کے لئے بیٹیاں تو خالق کی اتنی پیاری مخلوق ہے جن کے وجود کا جن کے ہونے کا صرف شکرانہ ہی ادا کیا جاسکتا ہے ۔
اللہ سب کے گھر کی رحمتوں کو سلامت رکھے ۔ آمین
اس خاندان کے معتبر بزرگوں سے بہتے اشکوں کے ساتھ التماس ھے کہ اس کیس ک مدعی صلح یا رشوت کے پیسوں کی بجائے اس ننھی کلی کو سامنے رکھے اگر آج ایک بیٹی کا خون بخش دو گے یا خون بہا لے کر چپ کر جاؤ گے تو کل دوسری اور تیسری بیٹی کی قبر کھودنے کے لئیے بھی تیار رہنایہ کیس ایک خاندان یا ایک ماں کا نہیں پورے پاکستان کا ہے ،یہ کیس ہر لاچار و مجبور ماں کا ہے جو نام نہاد غیرت مند مردوں کے ہاتھوں روز قتل ہوتی ہیں یہ کیس ہر ہر اس بنت حوا کہ ہے جس کا جرم اس دنیا میں سانس لینا ہے ۔ اس کیس کا نتیجہ ایسے تمام گھناؤنے کرداروں کے لئیے ایک پیغام ایک واضح نشان عبرت ہونا چاہیئے ۔
@_Ujala_R
عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور
8 مارچ عورتوں کا عالمی دن جو پوری دنیا میں عورتوں کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے
اس دن کا مقصد مظلوم عورتوں کے حقوق پر آواز اٹھانا ہوتا ہے
لیکن میرے پاکستان میں 8 مارچ کو عورت مارچ کا نام دیا جاتا ہے
جہاں ایک طرف مدارس کی باپردہ عورتیں حجاب کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے تو دوسری طرف کچھ کالجز اور یونیورسٹیز کی عورتیں اپنے مردوں سے آزادی لینے کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے
ان کے نعرے بھی مختلف ہوتے ہیں
ایک طرف یہ
مجھے وراثت میں حق دو
میری پیدائش پر دکھی مت ہو
میں اللہ کی رحمت ہوں مجھے بوجھ مت سمجھو
مجھے تعلیم دو
میری عزت کرو
تو دوسری طرف نعرے ہوتے ہیں
لو بیٹھ گئ ایسے ۔۔۔
کھانا خود گرم کرو
نہی پہنوں گی پورے کپڑے
میں اپنی مرضی سے بچہ پیدا کروں گی
مجھے اپنے مردوں سے آزادی چاہیے
علی وزیر کو رہا کرو
منظور پشتین کو ریاست مخالف جلسوں کی آزادی دو
فوج بری ہے فوج یہ ہے فوج وہ ہے ۔بلوچستان دہشتگرد تنظمیں معصوم ہے ان کو کچھ نہ کہو
اس کے علاوہ اسلام کے خلاف توہین آمیز بینر ہوتے ہیں۔۔پچاس مرد تو بیس عورتیں ہوتی ہے مردوں کے گلے میں پٹا ڈال کر بظاہر مرد کو کتا کہتی ہے۔۔اور وہ مرد خود خوشی خوشی اپنی تذلیل برداشت کررہے ہوتے ہیں ۔پتہ ہے کیوں؟کیونکہ یہ عورتیں ان کے ہی اشاروں پہ ناچ رہی ہوتی ہے
پاکستان کو عورتوں کے لیے دنیا بھر کی نظروں میں برا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے
2020 عورت مارچ پہ پابندی لگانے کے لیے عدالت میں درخواست بھی دی گئ تھی کہ عورت مارچ کے روپ میں یہ بیکار گروہ ہماری نوجوان نسل کا برین واش کررہا ہے
میرا جسم میری مرضی کے نعرے اور عورت مارچ کے پیچھے لادینیت اور الحاد کا ایجنڈا کارفرما ہے ورنہ اسلام نے تو عورت کو بہت ذیادہ حقوق دے رکھے ہیں.عورت ماں، بہن، بیٹی کے طور پر پاکستان میں بہت اچھا رول پلے کر رہی ہیں ہمیں کسی نئے حقوق، نعرے یا عورت مارچ کی ضرورت نہیں ہے
اس پر 6 مارچ 2020 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا عورت مارچ کے نعرے درست ہیں خواتین اسلام میں دیےگئےاپنے حقوق مانگ رہی ہیں اور جج صاحب نے عورت مارچ پہ پابندی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔۔حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں بیٹھے اعلی عہدوں کے لوگ خود اس ایجنڈے کو پرموٹ کررہے ہیں خواہ وہ شیریں مزاری ہو یا فواد چوہدری جیسا لبرل ۔جس نے ہمیشہ خود کو ایک خودساختہ مولانا بنایا ہوا ہے ۔کہ ہمیشہ جب اسلام پہ بات آتی ہے فواد صاحب جن کو شاید چھ کلمے بھی نہ آتے ہوں لیکن لبرل کہ روپ میں علماء والے کام بھی خود ہی کرنے لگ جاتے ہیں کہ جیسے ان صاحب کا ایک ہی کام ہے اور وہ علماوں اور لوگوں کے درمیان انتشار پھیلانے کا
ورنہ اکثر ایسے موضوع پر جن پر بولنا ہو موصوف ہمیشہ خاموش ہی رہتے ہیں اور خاموشی سے ایسے ایجنڈوں کو پرموٹ کرتے ہیںاور سب سے اہم بات ۔جب ہمارے ٹی وی چینلز پر اخلاق سے گرئے ہوئے ڈرامے دیکھائے جائیں گے جب اک اسلامی ریاست کے نام پر بننے والے ملک میں عورت مارچ کے نام پر میرا جسم میری مرضی جیسے گھٹیا نعرے کے ساتھ ملکی شاہراوں پر سرعام بےحیائی پھیلای جاے گی تو پھر اس کا رزلٹ ایسے ہی یونیورسٹیز اور کالجوں نکلے گا۔
کبھی سوچا ہے آپ نے یہ کیسی عورتیں ہیں ، ان کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے ، یہ نعرے یہ سلوگنز کہاں پے ترتیب دیے جا رہے ہیں ، حکومتی مشینری کو فعال ہونے کی اشد ضرورت ہے ، ورنہ ! بڑی خوفناک صورتحال پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے ، ہر سال انکے ڈرامے بڑھتے جارہے ہیں ، پہلے یہ صرف (کھانا) گرم کرنے کی بات کرتی تھیں اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہےجب بھی عورت مارچ پہ پابندی کی بات ہوتی ہے عورت مارچ کے منتظمین ہمیشہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ غیر اخلاقی سلوگنز اور پلے کارڈز نہیں ہوں گے اور پھر تحریر شدہ بیہودہ اور انتہائی غلیظ نعروں والے بینر پکڑے ہوتے ہیں جو انہوں نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ بھی کیے ہوتے ہیں سعودیہ میں ڈانس کلب کھلے ہوں تو آپ میں یہاں بیٹھے غیرت جاگنے لگتی ہے اور آپ سعودیہ کے خلاف ہیش ٹیگ چلاتے ہیں گستاخ سعودیہ ۔ترکی میں کچھ ایسا ہو تو آپ دین اسلام کہ ٹھیکدار بن کر ترکی خلاف ٹرینڈ چلاتے ہیں گستاخ ترکی اور خود نیک اچھے مسلمام بن جاتے ہو ۔
لیکن آپ کے اپنے ملک میں پچھلے چند سالوں میں ہر سال یہ ہوتا ہے ۔اور دنیا بھر کا میڈیا اسے کوریج کرتا ہے اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوتے ہو ۔
کیا ہماری عدالت ان پر ایکشن لے گی۔یا یوں ہی فحاشی کی ذمہ دار بنتی رہیں گی.
ایک بار پھر دینی حلقوں علماء و اکابرین سے درخواست ہے کہ آپسی رنجشیں اور فرقہ پرستی سے نکلیں اور یک جان ہو کر خدارہ ایسے فتنوں کی سر کوبی کریں۔
حنا سرور
عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
اسلام میں عورت کا بہت خوبصورت اور بلند مقام ہے.
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے والی پہلی شخص تھی.
زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل عورتوں پیدا ہوتے دفنا دیا جاتا تھا اور ماہواری کے دونوں میں گھر سے نکال دیا جاتا تھا لیکن اسلام آنے کے بعد اسلام نے عورتوں کے حقوق کا صحیح طرح تحفظ کیا.اور معاشرے میں ان کے اہم کردار کی صحیح طرح تشریح کی عورت ماں ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود کو ماں کے پیار سے تشبیہہ دی۔غلط فہمیوں کے باوجود اسلام میں عورت کی حیثیت ایک محبوبہ کے برابر ہے۔ ایک گہرے جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی منفرد شراکت کا جشن منانا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرنا اور ان کے حقوق کے لیے مہم چلانا۔
اکثر لوگ آپ کو بحث کرتے نظر آتے ہیں کے عورتوں کے ساتھ معاشرے میں زیادتی ہوتی ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کے آخر معاشرے میں ہوتی عورت کے ساتھ زیادتی کی وجوہات کیا ہیں؟؟
اسلام میں خواتین کے بارے میں بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں،خاص کر ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ پارٹیشن سے پہلے کچھ غلط رسم و رواج شامل ہوئے جو کے ہم معاشرے میں آج تک جاری رکھے ہوئے ہیں.
جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی توہین کرتے ہیں، بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے براہ راست مخالف بھی ہیں۔ .اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام عورت کو عزت دینے، اس کی حفاظت کرنے، اسے بنی نوع انسان کے بھیڑیوں سے بچانے، اس کے حقوق کی حفاظت اور اس کے درجات کو بلند کرنے کے لیے آیا ہے۔
تاریخ، ثقافت اور مذہب کے درمیان تمام الجھنوں کے ساتھ، اپنے آپ سے سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن اور احادیث اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں ہمیں کیا درس دیتی ہیں؟
اسلام ہمیں صنفی مساوات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا ایک ہی روح سے پیدا ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر مجرم، یکساں ذمہ دار اور یکساں قابل قدر۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک پاکیزہ حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور عورت – اور ہمیں اس پاکیزگی کو ایمان کے ساتھ ساتھ نیک نیتوں اور اعمال کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مساوات کا موضوع دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعے بھی چلتا ہے۔ قرآن کی ایک اہم آیت میں ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔
یہ آیت ہمیں دکھاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔
ایک اور قرآنی آیت میں عورت اور مرد کو برابر کا درجہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’جو کوئی مرد ہو یا عورت، نیک عمل کرے گا اور ایمان لائے گا، ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دیں گے۔‘‘ (16:97)
اسلام سے قبل یورپ سے لے کر عربی دنیا تک عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام بذات خود جزیرہ نما عرب میں پیدا ہوا، جو اب سعودی عرب ہے، جہاں خواتین کے پاس کاروبار، جائیداد یا وراثت میں پیسہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لیے تعلیم نایاب تھی، اور لڑکیوں کو اکثر پیدا ہوتے پھینک دیا جاتا تھا یا زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور ان کی کاروباری زوجہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت سے غیر منصفانہ طریقوں کے خلاف کھڑے ہوئے، مردوں کو عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق، تمام زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مردوں اور عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کریں اور ان پر کبھی زبردستی نہیں کی جانی چاہیے۔
اسلامی قوانین کے تحت خواتین کو جائیدادیں بیچنے اور خریدنے، کاروبار چلانے، شادی کے دوران کسی بھی موقع پر اس سے جہیز کا مطالبہ کرنے، ووٹ ڈالنے اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حق بھی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے کئی اسلامی ممالک میں خواتین صدر رہ چکی ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک مساوی رسائی کو بھی فروغ دیا، ہمیں یہ سکھایا کہ، "علم کا حصول ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محترم تھیں۔ اس سے ثابت ہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اپنی نشست ان کو دے دیتے۔آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ایسے کئی واقعات ہیں جن سے ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کے کس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات اور اپنے عمل سے بتایا کے ایک اچھے معاشرے میں عورت کی کیا اہمیت ہے.
سوشل میڈیا پے چلتی عورتوں کی آزادی کی بحث میں پڑنے کے بجائے اسلام میں عورت کے حقوق اور عورت کے کردار کے بارے میں پڑھیں اور ایک اچھے معاشرے کے لیے عورت کے کردار کو صحیح طرح جانیں.Twitter handle
@umesalma_
ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی
دنیا میں بہت سی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ کئی بیماریاں جسمانی و نفسیاتی ہیں تو کئی بیماریاں روحانی ہیں۔ کچھ بیماریاں بہت ہی قدیم ہیں تو کچھ جدید ،شاید جو جدید ہیں وہ بھی قدیم ہی ہیں پر انسان نے ان کی تشخیص ابھی کی۔ہر بیماری کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی ہوتی اور اس کا علاج بھی ہوتا ہے۔
ان بیماریوں سے ایک قدیم اور خطرناک بیماری حسد بھی ہے۔جس کو حسد ہوجائے اسے حاسد کہتے ہیں جس پر حسد ہوجائے اسے محسود کہتے ہیں۔ حسد کو قدیم ترین بیماری کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا،یہ بیماری انسان کی تخلیق سے بھی پہلے کا ہے،ابلیس کو بھی مردود بنانے کی وجہ بھی یہی بیماری بنی۔یہ ایسا وائرس ہے جو ہر نفس سے چمٹنے کی کوشش کرتی ہے۔اسی نے قابیل کے ہاتھوں ہابیل کو قتل کروایا۔ اس نے برداران یوسف کو سیدنا یوسف کو کنوے میں ڈالنے کی ترغیب دی۔اسی بیماری کی وجہ سے بہت سے یہودی و نصاریٰ اسلام سے آج تک دور ہیں۔
اس بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں پہلی بڑی وجہ اللہ تعالی کے عادل ہونے پر یقین نہ کرنا ہے کیوں کہ تمام عطائیں اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہیں چاہے کسی کو کم عطا کرے کسی کو زیادہ کسی کو کچھ عطا کرے تو کسی کو کچھ۔کسی سے عطا کرنے کے بعد واپس اٹھالے سب اس مالک حقیقی کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔حاسد جب حسد کرتا ہے تو اللہ کی عدل و رضا کا انکار کر بیٹھتا ہے کیوں کہ جو اس کے پاس ہے وہ بھی اللہ کی رضا ہے اور جو دوسرے کے پاس ہے وہ بھی اللہ ہی کی رضا سے ہے۔
حسد کی بہت سے اقسام ہیں۔مختصرا ذکر کیا جائے تو تین ہیں۔ اول یہ کہ میرے پاس نہیں فلاں کے پاس کیوں ہے۔دوئم یہ کہ فلاں سے چھین کر یہ بھی میرا ہی ہو۔سوئم فلاں کے پاس سے بھی چھین جائے پھر بیشک مجھ سے بھی چلا ہی جائے۔حسد کی ہر ایک قسم بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے مگر تیسری قسم شرمناک بھی ہے۔
حسد کی تیسری قسم پر ایک مثال بھی دی جاتی ہے کہ ایک درویش شخص دریا کے کنارے ایک ٹانگ پر اپنی مراد و مقصد کے حصول کے لیے اللہ کے سامنے دعائیں مانگ رہا تھا پھر ایک دوسرا شخص بھی بالکل اسی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیج دیا جاتا ہے کہ وہ جاکر ان اشخاص کی مرادیں پوری کردے۔ فرشتہ جب پہلے شخص کی طرف آتا ہے تو وہ شخص اسے اپنی حاجت بتاتا ہے اور فرشتہ اس کی تکمیل کرتا ہے جب فرشتہ دوسرے شخص سے پوچھتا ہے کہ تجھے کیا طلب ہے تو وہ کہتا ہے میری فقط اتنی سی حاجت ہے کہ جو اس نے مانگا ہے وہ اسے نہ ملے۔
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ایمان اور حسد ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔اس مرض کا مریض خود بھی اندر سے جل کر کھوکھلا ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کا نقصان بھی کرتا ہے کبھی حسد دشمنی تک کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔
حسد سے بچنے کی ہر طرح کوشش کرنی چاہیے یہ بندے کو محنت سے بھی دور کرتا ہے اور بندہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آخرت اور موت کو کثرت سے یاد کرنی چاہیے

"میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف
باغی ٹی وی کی آج دسویں سالگرہ ہے جو کہ آج ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پہ ہے الحمدللہ تو سوچا اس خوشی میں کوئی ارٹیکل ہی لکھ دوں تو معاشرتی موضوع پر ہی لکھنے کو دل کیا ۔۔۔!!!
شادی ایک مقدس بندھن ہے جس کو دونوں طرف سے پورے دل اور خوشی سے نبھایا جانا چاہئیے جس میں وفا ۔ایمانداری صاف نیت اس کی بنیاد ہو لیکن کچھ لوگ شارٹ کٹ سے اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے بھی یہ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ کسی معافی کے قابل نہیں ہوتے ان کو اگر متاثرہ شخص سزا نہ بھی دے لیکن میں نے ایسے لوگوں پر اللہ کی بےآواز لاٹھی ضرور برستی دیکھی ہے۔۔۔!!
یہ ایک تلخ حقیقت ہے اگر داماد اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے تو اس کی سرے عام تعریفیں کی جاتی ہیں اور اگر بیٹا بہو کے آگے پیچھے پھرے تو اسے زن مریدی کا طعنہ دیا جاتا ہےبیٹی اور داماد کا رومانس تو بہت اچھا لگتا ہے لیکن بہو اور بیٹے کا رومانس بےشرمی لگتا ہےاگر بیٹے کو بہو کے ساتھ بیٹھے ہوئے ساس دیکھ لے تو اپنی 40 سال پرانی مثالیں دینی شروع کردیتی ہیں کہ ہم تو جب تک ہمارے ساس سسر ذندہ رہے کبھی ان کے سامنے بات بھی نہیں کرتے تھے ایک دوسرے کے سامنے ایک ساتھ بیٹھ کر یوں بےشرمی سے لاڈ کرنا تو بڑے دور کی بات ہے اور نئی نویلی دلہن دل ہی دل میں اس بات پر شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہے وہ دلہن جس کو شادی سے پہلے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے اپنے اصلی گھر مطلب سسرال میں جاکر اپنے سارے شوق پورے کرنا اپنی مرضی کے فیشن کرنا جیسے دل کیا رہنا ۔(70 فیصد لڑکیوں کی بات بتارہی ہوں 30 فیصد وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو اچھی قسمت لیکر دنیا میں آتی ہیں بنا کسی امتحان کے سب کچھ پلیٹ میں سجا اسے ملتا ہے سسرال میں والدین کے گھر جیسا ماحول پیار ملتا ہے عزت ملتی ہے اور بنا محنت کے دنیا کی ہر آسائش ملتی ہے اور ان 30 فیصد لڑکیوں جیسی قسمت پانے کے لیے کچھ لڑکیوں کو اپنی آدھی ذندگی مشکل ترین حالت کا سامنا کرنے کے ساتھ انگاروں پر ایک طویل سفر کرنے کے بعد ملتی ہے) وہ دن جو میاں بیوی کے ایک دوسرے کے سمجھنے کے ہوتے ہیں لاڈ اٹھانے اٹھوانے کے ہوتے ہیں وہ دن سسرال والوں کے دل جیتنے میں صرف ہوجاتے ہیں سالوں سال لگ جاتے ہیں اس کوشش میں کوئی خوش قسمت لڑکی ہی ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوتی ہے۔عمومآ لڑکی کی شادی 19سال سے بیس بائیس سال تک ہوجاتی ہے شادی شدہ ذندگی اس کے لیے خوبصورت خوابوں کے جیسی ہوتی ہے جہاں اس نے اپنے سارے ارمان خواب پورے کرنے کا سوچا ہوتا ہے وہ خوبصورت خواب اپنے ہم سفر کے ساتھ مل کر پورے کرنے ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ دو الگ الگ انسان ایک دوسرے سے جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کریں ہوتا کیا ہے لڑکی کے سسرال میں موجود کچھ لوگ لڑکی کو ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کرتے ہیں کہ آخر انیس بیس سال کی لڑکی کے سب خواب مرجاتے ہیں لڑکی میں پچاس سالہ روح سرائیت کر جاتی ہے۔جو خواب اس نے اس خوبصورت بندھن میں بندھ جانے کے بعد کے سوچے ہوتے ہیں وہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں یوں ایک کالج گرل دنوں میں 19 سالہ سے 50 سالہ عورت کی روح اپنے اندر محسوس کرنے لگتی ہے اور اپنا درد تکلیف اپنے والدین کو بھی نہیں بتاسکتی۔یوں درد سہتے سہتے اچھے وقت کے انتظار میں اپنی جوانی کے قیمتی سال ضائع کردیتی ہے پھر جب اچھا وقت آتا ہے تو اپنا مشکل وقت ایک فلم کی طرح اس کے دماغ کے ایک کونے میں ہمیشہ کے لیے سیو ہوجاتا ہے اب یہ اس لڑکی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں خود پر جھیلی ہوئی تکلیفیں اپنی نئی نسل کو ان تکلیفوں سے بچانے کی کوشش کرتی ہے یا وہ یہ روائت جاری رکھتی ہے۔۔ یہ تو کہانی بیان کی مظلوم عورت کی ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ۔
ہر پہلو کے دو رخ ہوتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ اگر عورت ایک جگہ مظلوم ہے تو دوسری طرف ایسی عورتیں بھی دیکھی جو ہر نعمت ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود "ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں "مارتی بھی دیکھیں لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مرد کا جینا حرام کردیتی ہیں ان کا سکون ختم کردیتی ہیں لایعنی باتوں سے ۔ہر بات میں جھوٹ بولتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ اسی مرد نے انھیں زمین سے اٹھا کر تخت پر بٹھایا ہوتا ہے دنیا کی ہر سہولت دی ہوتی ہے بقول شاعر کے
"جن پتھروں کو ہم نے زباں بخشی تھیجو ملی انھیں زباں تو وہ ہمیں پہ برس پڑے”
احسان فراموشی کی حد ختم کردیتی ہیں جب دیکھتی ہیں سب کچھ ہتھیا لیا ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر لڑجھگڑ کر نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑتی ہیں ۔جب تک شوہر کے ساتھ رہتی ہیں گھر کو میدان جنگ بنائے رکھتی ہیں اچھے خاصے خوش مزاج شوہر کو نفسیاتی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ایسے شوہر کو جس میں اقدار ہیں، ناموس ہے، ایمان ہے۔ باوقار، با حیا، اور خوبرو ہے۔لیکن خودغرض اور کانوں کی کچی عورت ایسے نیک فطرت شوہر کو دکھ دینے سے پہلے ایک دفعہ بھی نہیں سوچتی کہ اس مرد کی وجہ سے مجھے معاشرے میں اتنی عزت ملی ہے لیکن اس کی آنکھوں میں خودغرضی کی ایسی پٹی بندھی جاچکی ہوتی ہے کہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوکر رہ جاتی ہے ۔۔!! لیکن اللہ نے شائد مرد میں برداشت کرنے کی قوت کچھ ذیادہ ہی رکھی ہوئی ہے شائد اسی لیے قرآن مجید میں بھی عورت سے مرد کا ایک درجہ اوپر رکھا گیا ہے اس کا حوصلہ آئرن کی طرح سخت ہوتا ہے کہ ہر درد تکلیف برداشت کرنے کے باوجود جب آپ اس سے ملیں گے، تو آپ اس انسان کے لیے دل میں بےحد عزت محسوس کریں گے اس کی اعلی ظرفی آپکو متاثر کرے گی آپکو وہ انسان اپنی سچائی اور فیاضی کی وجہ سے پسند آئے گا اگرچہ اسے دھوکے ملے ہیں،درد ملا ہے تکلیف پہنچی ہے لیکن آپ اسے اللہ کا شکر ادا کرتے پائیں گے اور شکر ایک ایسا عمل ہے جس نے کیا اللہ نے اسے پھر اپنے خزانوں سے بےحد بےشمار نوازا ہے ہر مومن جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہمارا بگاڑ سکتا ہے، اور کب تک بگاڑ سکتا ہے.جب تک اللہ نہ چاہے کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا نہ ہمیں نقصان دے سکتا نہ نفع دے سکتا ہے ہم تو بس اس کے’کن” کے محتاج ہیں وہ ‘کن”کہہ دے . پلک جھپکتے ہی سب کچھ سنور جاتا ہے وہ کچھ اللہ عطا فرما دیتا ہے جو ایک بندے کے گمان میں بھی نہیں ہوتا بس اس پر یقین کامل رکھنا چاہئیے بےشک وہ اپنے بندے سے بےانصافی نہیں کرتا اس کو صبر کا بہترین انعام ایک اچھے باوفا ہمسفر کی شکل میں ضرور عطا فرماتاہے

باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ
سوشل میڈیا پے میری پہچان باغی ٹی وی کے زریعے ہوئی
اور آج باغی ٹی وی کی 10 ویں سالگرہ ہے ایک ایسا ادارہ جس نے نئے لکھنے والوں کا اپنا پلیٹ فارم دیا ایسے وقت میں جب کوئی بھی اچھا ادارہ پہلے ریفرینس مانگتا ہے ایسے وقت میں میری پہلی ہی تحریر باغی ٹی وی پر شائع ہوئی بغیر کسی سفارش اور بغیر کسی ریفرینس کے.اور یہ ہی نہں مجھ جیسے اور کئی لکھاریوں کو باغی ٹی وی نے ایک پلیٹ فارم دیا جو پچھلے کئی سالوں سے باغی ٹی وی سے جُڑے ہیں. آئیں تھوڑا سا جانتے ہیں آج باغی ٹی وی کے بارے میں کون ہے جو اس ادارے کی سربراہی کر رہا ہے اور کس طرح صحافت کی دنیا میں نئے قدم رکھنے والوں کو بغیر کسی سفارش کے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے ؟اس ادارے کی سربراہی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں مبشر لقمان صاحب سینئر تجزیہ نگار دفاعی امور کے ماہر صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت جن کی سربراہی میں یہ ادارہ پچھلے 10 سال سے بہت محنت سے ڈیجیٹل میڈیا میں اپنا ایک خاص مقام پیدا کر چکا ہے.باغی ٹی وی اس وقت چار زبانوں میں اپنی نشریات لوگوں تک پہنچا رہا ہے اور باغی ٹی وی اپنی نشریات کا دائرہ کار اور وسیع کر رہا ہے. باغی ٹی وی اس وقت اردو , انگلش,پشتو, چینی زبان میں نشریات آپ تک پہنچا رہا ہے.باغی ٹی وی کا سینٹرل آفس اس وقت لاہور سے آپریٹ کر رہا ہے اور اس کے علاوہ ایک اور مین آفس کراچی میں بھی کام کر رہا ہے.
باغی ٹی وی جس کا آغاز آج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے اور پوری دنیا میں ہی باغی ٹی وی کے چّا ہنے والے موجود ہیں ، سوشل میڈیا کے اس ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکوبھرپور طریقے سے بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا باغی ٹی وی اس کام کو بہترین طریقے سے انجام دے رہا ہے اور رہے گا بھی
اس چینل نے جہاں معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے.اور معاشرے میں بہتری میں باغی ٹی وی کے کردار کو سراہتے بھی ہیں.
باغی ٹی وی نہ صرف معاشرے میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہا ہے بلکہ معاشرے میں ہونے والے برائیوں کے سد باب کے لیے مستقل سوشل میڈیا پے ٹرینڈ کی صورت میں مہم جا رہی رکھتا ہے۔باغی ٹی وی کی سگریٹ نوشی کے خلاف بھرپور مہم کا میں بھی حصہ رہی اور باغی ٹی وی مستقل اس معاشرتی برائی کو ختم کرنے اور گورمنٹ سے اس پر ٹیکس بڑھانے کی بھرپور قسم کی مہم چلا رہا ہے.
اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی کئی اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں۔
اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا.
باغی ٹی وی کے ذریعے پورے پاکستان میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں جو لمحہ بہ لمحہ ہر طرح کی خبر آپ تک پہنچاتے ہیں.اُمید ہے باغی ٹی وی اس ہی طرح اپنے قارئین کو تازہ ترین خبریں پہنچتا رہے گا اور نئے آنے والے لکھاریوں کو بھی ضرور موقع دے گا جیسا ماضی میں کرتا رہا ہے.ایک بار پھر باغی ٹی وی کو 10 ویں سالگرہ مبارک ہو.
Twitter
Handle
@umesalma_









