Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    8 مارچ عورتوں کا عالمی دن جو پوری دنیا میں عورتوں کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے
    اس دن کا مقصد مظلوم عورتوں کے حقوق پر آواز اٹھانا ہوتا ہے
    لیکن میرے پاکستان میں 8 مارچ کو عورت مارچ کا نام دیا جاتا ہے
    جہاں ایک طرف مدارس کی باپردہ عورتیں حجاب کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے تو دوسری طرف کچھ کالجز اور یونیورسٹیز کی عورتیں اپنے مردوں سے آزادی لینے کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے
    ان کے نعرے بھی مختلف ہوتے ہیں
    ایک طرف یہ
    مجھے وراثت میں حق دو
    میری پیدائش پر دکھی مت ہو
    میں اللہ کی رحمت ہوں مجھے بوجھ مت سمجھو
    مجھے تعلیم دو
    میری عزت کرو
    تو دوسری طرف نعرے ہوتے ہیں
    لو بیٹھ گئ ایسے ۔۔۔
    کھانا خود گرم کرو
    نہی پہنوں گی پورے کپڑے
    میں اپنی مرضی سے بچہ پیدا کروں گی
    مجھے اپنے مردوں سے آزادی چاہیے
    علی وزیر کو رہا کرو
    منظور پشتین کو ریاست مخالف جلسوں کی آزادی دو
    فوج بری ہے فوج یہ ہے فوج وہ ہے ۔بلوچستان دہشتگرد تنظمیں معصوم ہے ان کو کچھ نہ کہو
    اس کے علاوہ اسلام کے خلاف توہین آمیز بینر ہوتے ہیں۔۔پچاس مرد تو بیس عورتیں ہوتی ہے مردوں کے گلے میں پٹا ڈال کر بظاہر مرد کو کتا کہتی ہے۔۔اور وہ مرد خود خوشی خوشی اپنی تذلیل برداشت کررہے ہوتے ہیں ۔پتہ ہے کیوں؟

    کیونکہ یہ عورتیں ان کے ہی اشاروں پہ ناچ رہی ہوتی ہے
    پاکستان کو عورتوں کے لیے دنیا بھر کی نظروں میں برا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے
    2020 عورت مارچ پہ پابندی لگانے کے لیے عدالت میں درخواست بھی دی گئ تھی کہ عورت مارچ کے روپ میں یہ بیکار گروہ ہماری نوجوان نسل کا برین واش کررہا ہے
    ‏میرا جسم میری مرضی کے نعرے اور عورت مارچ کے پیچھے لادینیت اور الحاد کا ایجنڈا کارفرما ہے ورنہ اسلام نے تو عورت کو بہت ذیادہ حقوق دے رکھے ہیں.عورت ماں، بہن، بیٹی کے طور پر پاکستان میں بہت اچھا رول پلے کر رہی ہیں ہمیں کسی نئے حقوق، نعرے یا عورت مارچ کی ضرورت نہیں ہے
    اس پر 6 مارچ 2020 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا ‏عورت مارچ کے نعرے درست ہیں خواتین اسلام میں دیےگئےاپنے حقوق مانگ رہی ہیں اور جج صاحب نے عورت مارچ پہ پابندی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔۔

    حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں بیٹھے اعلی عہدوں کے لوگ خود اس ایجنڈے کو پرموٹ کررہے ہیں خواہ وہ شیریں مزاری ہو یا فواد چوہدری جیسا لبرل ۔جس نے ہمیشہ خود کو ایک خودساختہ مولانا بنایا ہوا ہے ۔کہ ہمیشہ جب اسلام پہ بات آتی ہے فواد صاحب جن کو شاید چھ کلمے بھی نہ آتے ہوں لیکن لبرل کہ روپ میں علماء والے کام بھی خود ہی کرنے لگ جاتے ہیں کہ جیسے ان صاحب کا ایک ہی کام ہے اور وہ علماوں اور لوگوں کے درمیان انتشار پھیلانے کا
    ورنہ اکثر ایسے موضوع پر جن پر بولنا ہو موصوف ہمیشہ خاموش ہی رہتے ہیں اور خاموشی سے ایسے ایجنڈوں کو پرموٹ کرتے ہیں

    اور سب سے اہم بات ۔جب ہمارے ٹی وی چینلز پر اخلاق سے گرئے ہوئے ڈرامے دیکھائے جائیں گے جب اک اسلامی ریاست کے نام پر بننے والے ملک میں عورت مارچ کے نام پر میرا جسم میری مرضی جیسے گھٹیا نعرے کے ساتھ ملکی شاہراوں پر سرعام بےحیائی پھیلای جاے گی تو پھر اس کا رزلٹ ایسے ہی یونیورسٹیز اور کالجوں نکلے گا۔
    کبھی سوچا ہے آپ نے یہ کیسی عورتیں ہیں ، ان کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے ، یہ نعرے یہ سلوگنز کہاں پے ترتیب دیے جا رہے ہیں ، حکومتی مشینری کو فعال ہونے کی اشد ضرورت ہے ، ورنہ ! بڑی خوفناک صورتحال پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے ، ہر سال انکے ڈرامے بڑھتے جارہے ہیں ، پہلے یہ صرف (کھانا) گرم کرنے کی بات کرتی تھیں اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے

    جب بھی عورت مارچ پہ پابندی کی بات ہوتی ہے عورت مارچ کے منتظمین ہمیشہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ غیر اخلاقی سلوگنز اور پلے کارڈز نہیں ہوں گے اور پھر تحریر شدہ بیہودہ اور انتہائی غلیظ نعروں والے بینر پکڑے ہوتے ہیں جو انہوں نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ بھی کیے ہوتے ہیں سعودیہ میں ڈانس کلب کھلے ہوں تو آپ میں یہاں بیٹھے غیرت جاگنے لگتی ہے اور آپ سعودیہ کے خلاف ہیش ٹیگ چلاتے ہیں گستاخ سعودیہ ۔ترکی میں کچھ ایسا ہو تو آپ دین اسلام کہ ٹھیکدار بن کر ترکی خلاف ٹرینڈ چلاتے ہیں گستاخ ترکی اور خود نیک اچھے مسلمام بن جاتے ہو ۔

    لیکن آپ کے اپنے ملک میں پچھلے چند سالوں میں ہر سال یہ ہوتا ہے ۔اور دنیا بھر کا میڈیا اسے کوریج کرتا ہے اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوتے ہو ۔

    کیا ہماری عدالت ان پر ایکشن لے گی۔یا یوں ہی فحاشی کی ذمہ دار بنتی رہیں گی.
    ایک بار پھر دینی حلقوں علماء و اکابرین سے درخواست ہے کہ آپسی رنجشیں اور فرقہ پرستی سے نکلیں اور یک جان ہو کر خدارہ ایسے فتنوں کی سر کوبی کریں۔
    حنا سرور

  • عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    اسلام میں عورت کا بہت خوبصورت اور بلند مقام ہے.

    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے والی پہلی شخص تھی.
    زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل عورتوں پیدا ہوتے دفنا دیا جاتا تھا اور ماہواری کے دونوں میں گھر سے نکال دیا جاتا تھا لیکن اسلام آنے کے بعد اسلام نے عورتوں کے حقوق کا صحیح طرح تحفظ کیا.اور معاشرے میں ان کے اہم کردار کی صحیح طرح تشریح کی عورت ماں ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود کو ماں کے پیار سے تشبیہہ دی۔

    غلط فہمیوں کے باوجود اسلام میں عورت کی حیثیت ایک محبوبہ کے برابر ہے۔ ایک گہرے جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی منفرد شراکت کا جشن منانا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرنا اور ان کے حقوق کے لیے مہم چلانا۔

    اکثر لوگ آپ کو بحث کرتے نظر آتے ہیں کے عورتوں کے ساتھ معاشرے میں زیادتی ہوتی ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کے آخر معاشرے میں ہوتی عورت کے ساتھ زیادتی کی وجوہات کیا ہیں؟؟
    اسلام میں خواتین کے بارے میں بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں،خاص کر ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ پارٹیشن سے پہلے کچھ غلط رسم و رواج شامل ہوئے جو کے ہم معاشرے میں آج تک جاری رکھے ہوئے ہیں.
    جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی توہین کرتے ہیں، بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے براہ راست مخالف بھی ہیں۔ .

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام عورت کو عزت دینے، اس کی حفاظت کرنے، اسے بنی نوع انسان کے بھیڑیوں سے بچانے، اس کے حقوق کی حفاظت اور اس کے درجات کو بلند کرنے کے لیے آیا ہے۔

    تاریخ، ثقافت اور مذہب کے درمیان تمام الجھنوں کے ساتھ، اپنے آپ سے سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن اور احادیث اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں ہمیں کیا درس دیتی ہیں؟

    اسلام ہمیں صنفی مساوات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔

    قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا ایک ہی روح سے پیدا ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر مجرم، یکساں ذمہ دار اور یکساں قابل قدر۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک پاکیزہ حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور عورت – اور ہمیں اس پاکیزگی کو ایمان کے ساتھ ساتھ نیک نیتوں اور اعمال کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    مساوات کا موضوع دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعے بھی چلتا ہے۔ قرآن کی ایک اہم آیت میں ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔

    یہ آیت ہمیں دکھاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔

    ایک اور قرآنی آیت میں عورت اور مرد کو برابر کا درجہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’جو کوئی مرد ہو یا عورت، نیک عمل کرے گا اور ایمان لائے گا، ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دیں گے۔‘‘ (16:97)

    اسلام سے قبل یورپ سے لے کر عربی دنیا تک عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام بذات خود جزیرہ نما عرب میں پیدا ہوا، جو اب سعودی عرب ہے، جہاں خواتین کے پاس کاروبار، جائیداد یا وراثت میں پیسہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لیے تعلیم نایاب تھی، اور لڑکیوں کو اکثر پیدا ہوتے پھینک دیا جاتا تھا یا زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور ان کی کاروباری زوجہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت سے غیر منصفانہ طریقوں کے خلاف کھڑے ہوئے، مردوں کو عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق، تمام زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مردوں اور عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کریں اور ان پر کبھی زبردستی نہیں کی جانی چاہیے۔

    اسلامی قوانین کے تحت خواتین کو جائیدادیں بیچنے اور خریدنے، کاروبار چلانے، شادی کے دوران کسی بھی موقع پر اس سے جہیز کا مطالبہ کرنے، ووٹ ڈالنے اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حق بھی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے کئی اسلامی ممالک میں خواتین صدر رہ چکی ہیں۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک مساوی رسائی کو بھی فروغ دیا، ہمیں یہ سکھایا کہ، "علم کا حصول ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محترم تھیں۔ اس سے ثابت ہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اپنی نشست ان کو دے دیتے۔آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ایسے کئی واقعات ہیں جن سے ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کے کس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات اور اپنے عمل سے بتایا کے ایک اچھے معاشرے میں عورت کی کیا اہمیت ہے.
    سوشل میڈیا پے چلتی عورتوں کی آزادی کی بحث میں پڑنے کے بجائے اسلام میں عورت کے حقوق اور عورت کے کردار کے بارے میں پڑھیں اور ایک اچھے معاشرے کے لیے عورت کے کردار کو صحیح طرح جانیں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں بہت سی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ کئی بیماریاں جسمانی و نفسیاتی ہیں تو کئی بیماریاں روحانی ہیں۔ کچھ بیماریاں بہت ہی قدیم ہیں تو کچھ جدید ،شاید جو جدید ہیں وہ بھی قدیم ہی ہیں پر انسان نے ان کی تشخیص ابھی کی۔ہر بیماری کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی ہوتی اور اس کا علاج بھی ہوتا ہے۔

    ان بیماریوں سے ایک قدیم اور خطرناک بیماری حسد بھی ہے۔جس کو حسد ہوجائے اسے حاسد کہتے ہیں جس پر حسد ہوجائے اسے محسود کہتے ہیں۔ حسد کو قدیم ترین بیماری کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا،یہ بیماری انسان کی تخلیق سے بھی پہلے کا ہے،ابلیس کو بھی مردود بنانے کی وجہ بھی یہی بیماری بنی۔یہ ایسا وائرس ہے جو ہر نفس سے چمٹنے کی کوشش کرتی ہے۔اسی نے قابیل کے ہاتھوں ہابیل کو قتل کروایا۔ اس نے برداران یوسف کو سیدنا یوسف کو کنوے میں ڈالنے کی ترغیب دی۔اسی بیماری کی وجہ سے بہت سے یہودی و نصاریٰ اسلام سے آج تک دور ہیں۔

    اس بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں پہلی بڑی وجہ اللہ تعالی کے عادل ہونے پر یقین نہ کرنا ہے کیوں کہ تمام عطائیں اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہیں چاہے کسی کو کم عطا کرے کسی کو زیادہ کسی کو کچھ عطا کرے تو کسی کو کچھ۔کسی سے عطا کرنے کے بعد واپس اٹھالے سب اس مالک حقیقی کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔حاسد جب حسد کرتا ہے تو اللہ کی عدل و رضا کا انکار کر بیٹھتا ہے کیوں کہ جو اس کے پاس ہے وہ بھی اللہ کی رضا ہے اور جو دوسرے کے پاس ہے وہ بھی اللہ ہی کی رضا سے ہے۔

    حسد کی بہت سے اقسام ہیں۔مختصرا ذکر کیا جائے تو تین ہیں۔ اول یہ کہ میرے پاس نہیں فلاں کے پاس کیوں ہے۔دوئم یہ کہ فلاں سے چھین کر یہ بھی میرا ہی ہو۔سوئم فلاں کے پاس سے بھی چھین جائے پھر بیشک مجھ سے بھی چلا ہی جائے۔حسد کی ہر ایک قسم بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے مگر تیسری قسم شرمناک بھی ہے۔

    حسد کی تیسری قسم پر ایک مثال بھی دی جاتی ہے کہ ایک درویش شخص دریا کے کنارے ایک ٹانگ پر اپنی مراد و مقصد کے حصول کے لیے اللہ کے سامنے دعائیں مانگ رہا تھا پھر ایک دوسرا شخص بھی بالکل اسی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیج دیا جاتا ہے کہ وہ جاکر ان اشخاص کی مرادیں پوری کردے۔ فرشتہ جب پہلے شخص کی طرف آتا ہے تو وہ شخص اسے اپنی حاجت بتاتا ہے اور فرشتہ اس کی تکمیل کرتا ہے جب فرشتہ دوسرے شخص سے پوچھتا ہے کہ تجھے کیا طلب ہے تو وہ کہتا ہے میری فقط اتنی سی حاجت ہے کہ جو اس نے مانگا ہے وہ اسے نہ ملے۔

    فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ایمان اور حسد ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔اس مرض کا مریض خود بھی اندر سے جل کر کھوکھلا ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کا نقصان بھی کرتا ہے کبھی حسد دشمنی تک کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔

    حسد سے بچنے کی ہر طرح کوشش کرنی چاہیے یہ بندے کو محنت سے بھی دور کرتا ہے اور بندہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آخرت اور موت کو کثرت سے یاد کرنی چاہیے

  • "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    ‏باغی ٹی وی کی آج دسویں سالگرہ ہے جو کہ آج ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پہ ہے الحمدللہ تو سوچا اس خوشی میں کوئی ارٹیکل ہی لکھ دوں تو معاشرتی موضوع پر ہی لکھنے کو دل کیا ۔۔۔!!!

    شادی ایک مقدس بندھن ہے جس کو دونوں طرف سے پورے دل اور خوشی سے نبھایا جانا چاہئیے جس میں وفا ۔ایمانداری صاف نیت اس کی بنیاد ہو لیکن کچھ لوگ شارٹ کٹ سے اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے بھی یہ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ کسی معافی کے قابل نہیں ہوتے ان کو اگر متاثرہ شخص سزا نہ بھی دے لیکن میں نے ایسے لوگوں پر اللہ کی بےآواز لاٹھی ضرور برستی دیکھی ہے۔۔۔!!
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے اگر داماد اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے تو اس کی سرے عام تعریفیں کی جاتی ہیں اور اگر بیٹا بہو کے آگے پیچھے پھرے تو اسے زن مریدی کا طعنہ دیا جاتا ہے

    بیٹی اور داماد کا رومانس تو بہت اچھا لگتا ہے لیکن بہو اور بیٹے کا رومانس بےشرمی لگتا ہےاگر بیٹے کو بہو کے ساتھ بیٹھے ہوئے ساس دیکھ لے تو اپنی 40 سال پرانی مثالیں دینی شروع کردیتی ہیں کہ ہم تو جب تک ہمارے ساس سسر ذندہ رہے کبھی ان کے سامنے بات بھی نہیں کرتے تھے ایک دوسرے کے سامنے ایک ساتھ بیٹھ کر یوں بےشرمی سے لاڈ کرنا تو بڑے دور کی بات ہے اور نئی نویلی دلہن دل ہی دل میں اس بات پر شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہے وہ دلہن جس کو شادی سے پہلے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے اپنے اصلی گھر مطلب سسرال میں جاکر اپنے سارے شوق پورے کرنا اپنی مرضی کے فیشن کرنا جیسے دل کیا رہنا ۔(70 فیصد لڑکیوں کی بات بتارہی ہوں 30 فیصد وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو اچھی قسمت لیکر دنیا میں آتی ہیں بنا کسی امتحان کے سب کچھ پلیٹ میں سجا اسے ملتا ہے سسرال میں والدین کے گھر جیسا ماحول پیار ملتا ہے عزت ملتی ہے اور بنا محنت کے دنیا کی ہر آسائش ملتی ہے اور ان 30 فیصد لڑکیوں جیسی قسمت پانے کے لیے کچھ لڑکیوں کو اپنی آدھی ذندگی مشکل ترین حالت کا سامنا کرنے کے ساتھ انگاروں پر ایک طویل سفر کرنے کے بعد ملتی ہے) وہ دن جو میاں بیوی کے ایک دوسرے کے سمجھنے کے ہوتے ہیں لاڈ اٹھانے اٹھوانے کے ہوتے ہیں وہ دن سسرال والوں کے دل جیتنے میں صرف ہوجاتے ہیں سالوں سال لگ جاتے ہیں اس کوشش میں کوئی خوش قسمت لڑکی ہی ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوتی ہے۔عمومآ لڑکی کی شادی 19سال سے بیس بائیس سال تک ہوجاتی ہے شادی شدہ ذندگی اس کے لیے خوبصورت خوابوں کے جیسی ہوتی ہے جہاں اس نے اپنے سارے ارمان خواب پورے کرنے کا سوچا ہوتا ہے وہ خوبصورت خواب اپنے ہم سفر کے ساتھ مل کر پورے کرنے ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ دو الگ الگ انسان ایک دوسرے سے جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کریں ہوتا کیا ہے لڑکی کے سسرال میں موجود کچھ لوگ لڑکی کو ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کرتے ہیں کہ آخر انیس بیس سال کی لڑکی کے سب خواب مرجاتے ہیں لڑکی میں پچاس سالہ روح سرائیت کر جاتی ہے۔جو خواب اس نے اس خوبصورت بندھن میں بندھ جانے کے بعد کے سوچے ہوتے ہیں وہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں یوں ایک کالج گرل دنوں میں 19 سالہ سے 50 سالہ عورت کی روح اپنے اندر محسوس کرنے لگتی ہے اور اپنا درد تکلیف اپنے والدین کو بھی نہیں بتاسکتی۔یوں درد سہتے سہتے اچھے وقت کے انتظار میں اپنی جوانی کے قیمتی سال ضائع کردیتی ہے پھر جب اچھا وقت آتا ہے تو اپنا مشکل وقت ایک فلم کی طرح اس کے دماغ کے ایک کونے میں ہمیشہ کے لیے سیو ہوجاتا ہے اب یہ اس لڑکی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں خود پر جھیلی ہوئی تکلیفیں اپنی نئی نسل کو ان تکلیفوں سے بچانے کی کوشش کرتی ہے یا وہ یہ روائت جاری رکھتی ہے۔۔ یہ تو کہانی بیان کی مظلوم عورت کی ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ۔

    ہر پہلو کے دو رخ ہوتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ اگر عورت ایک جگہ مظلوم ہے تو دوسری طرف ایسی عورتیں بھی دیکھی جو ہر نعمت ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود "ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں "مارتی بھی دیکھیں لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مرد کا جینا حرام کردیتی ہیں ان کا سکون ختم کردیتی ہیں لایعنی باتوں سے ۔ہر بات میں جھوٹ بولتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ اسی مرد نے انھیں زمین سے اٹھا کر تخت پر بٹھایا ہوتا ہے دنیا کی ہر سہولت دی ہوتی ہے بقول شاعر کے
    "جن پتھروں کو ہم نے زباں بخشی تھی

    جو ملی انھیں زباں تو وہ ہمیں پہ برس پڑے”

    احسان فراموشی کی حد ختم کردیتی ہیں جب دیکھتی ہیں سب کچھ ہتھیا لیا ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر لڑجھگڑ کر نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑتی ہیں ۔جب تک شوہر کے ساتھ رہتی ہیں گھر کو میدان جنگ بنائے رکھتی ہیں اچھے خاصے خوش مزاج شوہر کو نفسیاتی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ایسے شوہر کو جس میں اقدار ہیں، ناموس ہے، ایمان ہے۔ باوقار، با حیا، اور خوبرو ہے۔لیکن خودغرض اور کانوں کی کچی عورت ایسے نیک فطرت شوہر کو دکھ دینے سے پہلے ایک دفعہ بھی نہیں سوچتی کہ اس مرد کی وجہ سے مجھے معاشرے میں اتنی عزت ملی ہے لیکن اس کی آنکھوں میں خودغرضی کی ایسی پٹی بندھی جاچکی ہوتی ہے کہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوکر رہ جاتی ہے ۔۔!! لیکن اللہ نے شائد مرد میں برداشت کرنے کی قوت کچھ ذیادہ ہی رکھی ہوئی ہے شائد اسی لیے قرآن مجید میں بھی عورت سے مرد کا ایک درجہ اوپر رکھا گیا ہے اس کا حوصلہ آئرن کی طرح سخت ہوتا ہے کہ ہر درد تکلیف برداشت کرنے کے باوجود جب آپ اس سے ملیں گے، تو آپ اس انسان کے لیے دل میں بےحد عزت محسوس کریں گے اس کی اعلی ظرفی آپکو متاثر کرے گی آپکو وہ انسان اپنی سچائی اور فیاضی کی وجہ سے پسند آئے گا اگرچہ اسے دھوکے ملے ہیں،درد ملا ہے تکلیف پہنچی ہے لیکن آپ اسے اللہ کا شکر ادا کرتے پائیں گے اور شکر ایک ایسا عمل ہے جس نے کیا اللہ نے اسے پھر اپنے خزانوں سے بےحد بےشمار نوازا ہے ہر مومن جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہمارا بگاڑ سکتا ہے، اور کب تک بگاڑ سکتا ہے.جب تک اللہ نہ چاہے کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا نہ ہمیں نقصان دے سکتا نہ نفع دے سکتا ہے ہم تو بس اس کے’کن” کے محتاج ہیں وہ ‘کن”کہہ دے . پلک جھپکتے ہی سب کچھ سنور جاتا ہے وہ کچھ اللہ عطا فرما دیتا ہے جو ایک بندے کے گمان میں بھی نہیں ہوتا بس اس پر یقین کامل رکھنا چاہئیے بےشک وہ اپنے بندے سے بےانصافی نہیں کرتا اس کو صبر کا بہترین انعام ایک اچھے باوفا ہمسفر کی شکل میں ضرور عطا فرماتاہے

  • باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    سوشل میڈیا پے میری پہچان باغی ٹی وی کے زریعے ہوئی
    اور آج باغی ٹی وی کی 10 ویں سالگرہ ہے ایک ایسا ادارہ جس نے نئے لکھنے والوں کا اپنا پلیٹ فارم دیا ایسے وقت میں جب کوئی بھی اچھا ادارہ پہلے ریفرینس مانگتا ہے ایسے وقت میں میری پہلی ہی تحریر باغی ٹی وی پر شائع ہوئی بغیر کسی سفارش اور بغیر کسی ریفرینس کے.اور یہ ہی نہں مجھ جیسے اور کئی لکھاریوں کو باغی ٹی وی نے ایک پلیٹ فارم دیا جو پچھلے کئی سالوں سے باغی ٹی وی سے جُڑے ہیں. آئیں تھوڑا سا جانتے ہیں آج باغی ٹی وی کے بارے میں کون ہے جو اس ادارے کی سربراہی کر رہا ہے اور کس طرح صحافت کی دنیا میں نئے قدم رکھنے والوں کو بغیر کسی سفارش کے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے ؟اس ادارے کی سربراہی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں مبشر لقمان صاحب سینئر تجزیہ نگار دفاعی امور کے ماہر صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت جن کی سربراہی میں یہ ادارہ پچھلے 10 سال سے بہت محنت سے ڈیجیٹل میڈیا میں اپنا ایک خاص مقام پیدا کر چکا ہے.باغی ٹی وی اس وقت چار زبانوں میں اپنی نشریات لوگوں تک پہنچا رہا ہے اور باغی ٹی وی اپنی نشریات کا دائرہ کار اور وسیع کر رہا ہے. باغی ٹی وی اس وقت اردو , انگلش,پشتو, چینی زبان میں نشریات آپ تک پہنچا رہا ہے.

    باغی ٹی وی کا سینٹرل آفس اس وقت لاہور سے آپریٹ کر رہا ہے اور اس کے علاوہ ایک اور مین آفس کراچی میں بھی کام کر رہا ہے.

    باغی ٹی وی جس کا آغاز آج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے اور پوری دنیا میں ہی باغی ٹی وی کے چّا ہنے والے موجود ہیں ، سوشل میڈیا کے اس ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکوبھرپور طریقے سے بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا باغی ٹی وی اس کام کو بہترین طریقے سے انجام دے رہا ہے اور رہے گا بھی

    اس چینل نے جہاں معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے.اور معاشرے میں بہتری میں باغی ٹی وی کے کردار کو سراہتے بھی ہیں.

    باغی ٹی وی نہ صرف معاشرے میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہا ہے بلکہ معاشرے میں ہونے والے برائیوں کے سد باب کے لیے مستقل سوشل میڈیا پے ٹرینڈ کی صورت میں مہم جا رہی رکھتا ہے۔باغی ٹی وی کی سگریٹ نوشی کے خلاف بھرپور مہم کا میں بھی حصہ رہی اور باغی ٹی وی مستقل اس معاشرتی برائی کو ختم کرنے اور گورمنٹ سے اس پر ٹیکس بڑھانے کی بھرپور قسم کی مہم چلا رہا ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی کئی اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں۔

    اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا.

    باغی ٹی وی کے ذریعے پورے پاکستان میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں‌ اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں جو لمحہ بہ لمحہ ہر طرح کی خبر آپ تک پہنچاتے ہیں.اُمید ہے باغی ٹی وی اس ہی طرح اپنے قارئین کو تازہ ترین خبریں پہنچتا رہے گا اور نئے آنے والے لکھاریوں کو بھی ضرور موقع دے گا جیسا ماضی میں کرتا رہا ہے.ایک بار پھر باغی ٹی وی کو 10 ویں سالگرہ مبارک ہو.
    Twitter
    Handle
    @umesalma_

  • تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی یا سگریٹ آج کل اس طرح عام ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی پہنچ میں ہے جیسے ٹافیاں گولیاں پہنچ میں ہوتی تھیں۔ "تمباکونوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت” کے چلنے والے اشتہارات کے باوجود میڈیا کے زریعے بڑے منظم انداز میں اسکا پھیلاؤ ہورہا ہے۔ جس طرح خوبصورتی سے سگریٹ پینے والوں کو بڑے بڑے سخت کام کرتے دیکھایا جاتا ہے بلڈنگز پار کرنا سکھایا جاتا ہے دریاؤں کو عبور کرنا سکھایا جاتا ہے بعد میں مضر صحت کا میسج دے بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ دوسری طرف ضروریات زندگی دن بدن مہنگی ہورہی ہے ہر چیز، پر ٹیکس عائد ہورہا ہے لیکن تمباکو نوشی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے جس کی وجہ سے ہر ایک کی پہنچ میں ہے جس کا نقصان ابھی تو ہوہی رہا ہے آنے والے وقت میں شدید ہوگا۔

    سگریٹ نوشی کے دو طرح کے نقصانات ہیں ایک ہے صحت دوسری اخلاقیات۔ صحت کے حوالے سے بات کریں تو منہ کے کینسر سے لے کر جگر اور پھیپھڑوں کے کینسر تک کا موجب یہی سگریٹ ہے۔ اس کے دھوئیں سے پھیپڑے سیاہ ہوجاتے ہیں سانس لینے والے مسائل سارے اسی کی وجہ سے ہیں۔سگریٹ کا دھواں صرف سگریٹ پینے والوں کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسکے آس پاس موجود تمام لوگ بلواسطہ یا بلاواسطہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ فضا کی الودگی گاڑیوں رکشوں موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھواں کی وجہ سے بھی ہے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی بات کریں تو سگریٹ پینے والوں کی تعداد جتنی ٹوٹل تھی آج اتنی سگریٹ پینے سے مرنے والوں کی ہے۔ سگریٹ پینا گھر کے اندر معیوب سمجھا جاتا تھا اگر کسی لڑکے کو عادت پڑ بھی جاتی تھی تو وہ گھر کے اندر نا سگریٹ لا سکتا تھا اور ناہی پی سکتا تھا اس کا مطلب لحاظ کسی حد تک قائم تھا۔ لیکن آج یہ حال ہے کہ پانچویں کلاس کے طالبعلم کے پاس سگریٹ پینے کے پیسے بھی ہیں اور جگہیں بھی ہیں۔ اس کا دوسرا نقصان اخلاقی تباہی کی صورت میں ہے آپ خود سوچیں ایک برائی دوسری برائی کو جنم دیتی ہے۔

    اگر آج کچھ بچے یا نوجوان سادہ سگریٹ پیتے ہیں تو لازماً کچھ ماہ یا سالوں بعد اس میں چرس، افیون، یا پاؤڈر بھر کے پی رہے ہونگے۔ یعنی سگریٹ کو ہم محض ایک شوق نہیں کہہ سکتے ہیں بلکہ یہ اخلاقی برائیوں کی طرف پہلا قدم ہے اور اسکی روک تھام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس پر ٹیکس بڑھایا جائے مہنگی کی جائے اور بیس سال سے کم عمر کے بچوں کی پہنچ سے دور ہو۔ بیس سال اس لیے لکھا ہے کہ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ عام طور پر بچے سگریٹ کی طرف مائل 13،14 سال کی عمر میں ہوتے ہیں اگر بیس سال کی عمر تک نا عادی ہوں تو بیس سال کے بعدعادی ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ سکول کالج کی کینٹین سختی سے دیکھی اور پرکھی جائیں تاکہ یہ زہر سکول و کالج میں نا پہنچ سکے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی ناصرف سگریٹ کی عادی ہورہی ہیں بلکہ دوسری نشہ اور اشیاء کی بھی ہورہی ہیں اسکی روک تھام اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ معمار قوم ہیں آنے والی نسل انکے ہاتھوں پرورش پائےگی انکو سمبھالنا انے والی نسل کو سبھالنا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں دے بھی گزارش ہے کہ وہ سکول و کالج پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان ٹھیلوں اورریڑھیوں پر ضرور نظر رکھیں کیونکہ انکے بنے ہوئے شوارموں، گول گپوں، اور برگرز میں نشہ آور اشیاء ملائی جاتی ہیں تاکہ بچے عادی ہوں اوران سے پھر خود، مانگ کریں اس نشہ کی۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ بچوں کے دوست بنیں ان سے انکے دوست احباب کے بارے میں پوچھتے رہیں انکی حرکات پر نظر رکھیں۔ آپکا مستقبل آپکے یہی بچے ہیں اگر وہ سگریٹ اور دوسری نشہ آور چیزوں کے عادی ہوگئے تو آپکا جمع کیا گیا مال بیکار جائے گا۔ بچائیں خود کو اپنے بچوں کو
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کا ہماری عمرکے زیادہ یا کم ہونے، جسمانی صحت کے اچھے یا برے ہونے اور زندگی میں کئے گئے مختلف فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی سے کیا تعلق ہے۔۔۔ اور وہ کون سی خطرناک بیماریاں ہیں جن سے بچاو میں ہماری نیند کی روٹین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔آپ نے اپنے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم توپورے دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں یا پھر یہ کہ ہماری تو نیند بہت کم ہے ہم زیادہ دیر تک سو نہیں سکتے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اس عادت کی وجہ سے ان کے دماغ اور جسم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اور سونے کے دوران ہمارے جسم کے ساتھ کیا عمل ہوتا ہے؟

    بھوک لگنے پر کھانا کھانے، پیاس محسوس ہونے پر پانی پینے اور سانس لینے کی طرح نیند بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی دن نہ سوئیں تو پہلے پہل ہمارا جسم تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کم سونے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل جب ہم سوتے ہیں تو نیند کے دوران ہمارے جسم میں کچھ ایسے خاص مادے پیدا ہوتے ہیں جو پورے دن جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی ایک طرح سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی آفس میں پورے دن کام ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں صفائی کا عمل کیا جاتا ہے چیزوں کو دوبارہ ترتیب سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے جسم اور نیند کا بھی کچھ ایسا ہی حساب ہے پورے دن کام کاج کے بعد جب ہم رات کو سوتے ہیں تو نیند کا عمل ہمیں آنے والے دن کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ ہم اپنا اگلا دن اچھا گزار سکیں۔ اگر نیند اچھی ہوگی تو آنے والا وقت بہت اچھا گزرے گا لیکن اگر نیند پوری نہیں ہوگی تو ظاہری بات ہے کہ آپ کا وقت بھی برا گزرے گا۔ اور اگر کسی انسان کی روٹین بن جائے اور وہ لمبے عرصے تک کم نیند لے تو پھر مختلف بیماریوں کا اس پر حملہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ اور اگر آپ کا جسم اور دماغ صحت مند نہیں ہے تو سوچ لیں کہ آپ کیسے کوئی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ دراصل آج کل لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نیند ان کی Priorities میں سب سے آخر میں آتی ہے۔ پچھلے سو برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم کام زیادہ کرتے ہیں، پھر سفر میں بھی خاصا وقت گزرتا ہے۔ ہم صبح جلدی گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔اس کے بعد ہم اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال الگ ہے اور آخر میں ہمارے پاس نیند کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے۔اور آپ کو حیرت کی بات بتاوں کہ مختلف Age groupsکے لئے ہم نے نیند کا Required timeمختلف بنایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل اور سست شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔اب کسی انسان کو کتنی نیند چاہیے تو اس کا مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹےسات گھنٹے سے کم نیند ہماری جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور ہمارے Immune systemکو متاثر کرتی ہے۔بیس گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثرکسی بھی انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔جبکہ نیند کی کمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نشہ میں دھت انسان خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔ مگر آس پاس والے جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    وہ کونسی بیماریاں ہیں جو نیند کی کمی سے ہوتی ہیں۔ کچھ باتیں تو عام طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق نیند سے بنتا ہے جس میں موٹاپا، نظر کی کمزوری، کمزور مسلز، انفیکشنز سے جلد متاثر ہونے کا خطرہ، ویکسینینشن کا اثر کم ہونا، بولنے میں مشکلات، نزلہ زکام رہنا، پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہونا، ہر وقت بھوک لگنا، قبل از وقت بڑھاپا، ڈپریشن، ہر وقت بھوک لگنا وہ عام مسائل ہیں جو کہ نیند کی کمی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ الزائمر امراض، بانجھ پن، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کی شروعات ہونے کی بھی ایک وجہ نیند کا پورا نہ ہونا ہی ہے۔ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی بھی ایک وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے۔عام الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیند کا directlyتعلق ہماری عمر کے ساتھ ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

    پچاس سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ نیند کے فائدے کیا ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔بلکہ ایک حالیہ تحقیق میں تو یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کی صحت کے لیے رات کو دس سے گیارہ بجے کے درمیان کا وقت سونے کے لیے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ اور یہ نتیجہ 88 ہزارلوگوں پر تحقیق کے بعد نکالا گیا ہے۔ یہ ریسرچ Europian Heart Journalمیں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق
    UK bio bankکے لیے کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق مکمل نیند لیں تو اس سے دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    اس ریسرچ میں شامل لوگوں کو ایک گھڑی نما ڈیوائس کلائی پر باندھی گئی اور ان کے سونے اور جاگنے کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اور تقریبا چھ سال تک اس ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ اور اس دوران تین ہزار سے زیادہ لوگوں میں دل کی بیماریاں ظاہر ہوئیں۔اور یہ تمام وہ افراد تھے جو یا تو سونے میں دیر کرتے تھے یا پھر وہ میعاری وقت دس اور گیارہ بجے سے پہلے سو جاتے تھے۔ اور سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جو کہ آدھی رات کے بعد سوتے تھے۔یعنی اس ریسرچ کے مطابق ہر انسان کے جسم کے اندر قدرتی طور پر بھی ایک گھڑی فٹ ہوئی ہوئی ہے جس کا نیند سے بہت گہرا تعلق ہے اگر وہ گھڑی ٹھیک چلتی رہے تو سب اچھا ورنہ اس کا ٹائم خراب ہو جائے تو انسان کی صحت اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے۔یعنی نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے لیکن اس کے فائدے بے شمار ہیں۔

    لیکن اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نیند کو سٹور نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر آپ یہ سوچیں کہ پورا ہفتہ آپ خوب کام کریں اور چھٹی والا پورا دن سو کر گزار دیں تو یہ کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ نیند کی نہ تو کوئی قضا ہے اور نہ ہی ایڈوانس ادائیگی۔ اس کا سرکل روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دن نیند پورا کئے بغیر گزار دیا تو اس کو جو نقصان ہے وہ آپ آنے والے دن میں پورا نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لئے بہترین یہی ہے کہ جو نیند کا ٹائم ہے اس پر سوئیں اور جاگنے کے وقت پر جاگیں۔اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ اس پر پورا عمل بھی کریں۔ کیونکہ کوئی بھی کام آپ تب تک ہی کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ کی صحت ہے اور زندگی ہے۔

  • محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    کسی بھی کام میں کامیابی کے لیے محنت لازمی ہے محنت کے بغیر کامیابی حاصل کرنا نا ممکن ہے لیکن محنت کیا ہے اور کیوں ضروری ہے اور اس میں توازن کا کیا عمل دخل ہے اس پر بات کرتے ہیں

    کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کی جانی والی کوشش محنت کہلاتی ہے کامیابی اور محنت کا چولی دامن کا ساتھ ہے قسمت سے زیادہ محنت پر کامیابی کا انحصار ہے کیوں کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی اور قسمت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی

    انسان سچے دل سے جو کام کرے اس میں کامیاب ہوتا ہے محنت انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا بہانہ نہیں ہو سکتا جب انسان بہانہ بنانے کی بجائے محنت کرنے لگے تو کامیابی اس کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے محنت انسان کو عزم مصمم سکھاتی ہے

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محنت کا پھل اسی وقت نہیں ملتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ محنت ضائع ہو گئی کیوں کہ محنت ضائع نہیں ہوتی وقتی طور پر اگر محنت کا ثمر نہ بھی ملے تو زندگی میں آگے جا کر ضرور محنت کا پھل مل جاتا ہے

    محنت اثر رکھتی ہے اور اثر ثمر پیدا کرتی ہے محنت سے ملنے والا ثمر پر تاثیر ہوتا ہے جتنی محنت کرو گے اس سے ملنے والے ثمر میں اتنی تاثیر ہو گی دوسرے الفاظ میں جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہو گا محنت انسان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے جب انسان محنت کو اپنا مددگار بناتا ہے اسے ثمر ملتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر میں محنت کروں گا تو کوئی طاقت مجھے میرے ثمر سے محروم نہیں کر سکتی یہ خود اعتمادی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے خود اعتمادی ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو ہار نہ ماننے کا درس دیتی ہے اور محنت کرنے پر آمادہ کرتی ہے کیوں کہ محنت اور خود اعتمادی آپس میں جڑے ہوتے ہیں

    محنت سبق دیتی ہے ہار نا ماننے کا اور جو شخص ہار نا ماننا سیکھ لے اسے کبھی ہرایا نہیں جا سکتا یہ جذبہ انمول ہوتا ہے یہ جذبہ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب آپ کو اپنی محنت پر یقین ہو محنت پر یقین نہیں ہو گا تو یہ جذبہ نہیں مل سکتا محنت انمول چیز ہے جو انسان کو نا قابل یقین ہمت عطاء کرتی ہے انسان میں جرات پیدا کرتی ہے ایسی جرات کہ انسان خود پر یقین کرتا ہے کہ سب کر سکتا ہوں
    محنت انسان کو بتاتی ہے کہ وہ اس وقت کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب اس میں لگن ہو چھا جانے کی جب اسے پتا ہو کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے سب کر سکتا ہے جب اسے پتا ہو کہ اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اگر وہ اپنے ہنر کو پہچان لے کیوں کہ خود کو پہچانے بغیر انسان کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو جانچ لیتا ہے تو وہ ان کو استعمال کرنے لگتا ہے اور اس محنت سے وہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے

    محنت کرتے ہوئے توازن برقرار رکھنا ضروری ہے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کسی مقصد کو حاصل کرنے میں اس قدر مگن نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ان لوگوں ان چیزوں سے دور ہو جائیں جو آپ کی طاقت ہیں ذہنی سکون انتہائی لازمی ہے کسی بھی کام کو اس حد تک کیا جاۓ کہ ذہنی سکون برباد نہ ہو جسمانی حالت آپ کی طاقت ہوتی ہے انسان کو کبھی بھی اپنی فٹنس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے اپنے آپ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے جسمانی صحت انتہائی ضروری ہے اس لیے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ محنت کرتے ہوئے زندگی کا توازن برقرار رہے زندگی کا توازن بگڑنا نہیں چاہیے
    @_Ujala_R

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ دوئم

    آپ ہر روز ٹی وی کے سامنے کتنا وقت گزارتے ہیں؟ اگر آپ کے روزمرہ کے معمولات میں کام سے گھر آنا شامل ہے ، ذہنی طور پر صرف ٹی وی آن کرنے کے لیے تھک جاتا ہے اور اگلے تین سے چار گھنٹے بغیر سوچے سمجھے شوز دیکھتا رہتا ہے۔ آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں

    دن کا آغاز نیت سے کریں کے آپ نے کیا اہم کام کرنے ہیں ۔
    اگر آپ دن کا آغاز ہر دن مکمل کرنے کے معنی خیز مقاصد کے ساتھ کرتے ہیں تو آپ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کر استعمال کر رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر ، اگر آپ تیس منٹ ورزش ، ایک گھنٹہ سوشل میڈیا اور ایک دو گھنٹے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گزارنے کے منصوبے کے ساتھ اٹھتے ہیں تو آپ اپنے وقت کا اچھا استعمال کر رہے ہیں۔ (اور یہ آپ کے دن کے صرف ساڑھے تین گھنٹے ہیں) باقی وقت کو گزارنے کے لیے بھی اچھا منصوبہ بنائیں.

    صحت اور تندرستی ، تعلیم اور تعلقات کی تعمیر فضول سرگرمیاں نہیں ہیں۔ آپ کو سونے سے پہلے اپنے کیلنڈر کو دیکھنے کی ضرورت ہے ، دیکھیں کہ اگلے دن آپ کہاں جا رہے ہیں اور ان سرگرمیوں میں شامل کریں جو آپ اس دن کرنا چاہتے ہیں۔

    دن کے لیے اپنے مقاصد کو مکمل کرکے ، آپ محسوس کریں گے کہ آپ نے ایک معنی خیز دن گزارا ہے ، اور اس سے بہت زیادہ مثبت توانائی آئے گی۔ یہ آپ کو اگلے دن اسی طرح کے مزید کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

    کچھ ایسے مقاصد اپنی زندگی میں شامل کریں جو آپ کو بطور فرد بہتر بناتے ہیں ، آپ کے مثبت جذبات کو بلند کرتے ہیں اور آپ کی صحت کو برقرار رکھتے ہیں آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

    ایک فعال حالت میں رہیں توجہ رکھیں اپنی کاموں پر.
    ہر دن اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کرنا ایک رد عمل کی حالت سے تبدیل ہونے کے بارے میں ہے۔

    ایک رد عمل کی حالت وہ ہے جہاں آپ غیر ضروری چیزوں پے وقت لگا رہے ہوتے ہیں. جہاں آپ اپنے کنٹرول سے باہر کے واقعات کو کنٹرول کرتے کی کوشش میں وقت ضایع کرتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں اور آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال ، منفی خبریں ، بے مقصد مباحثوں میں شامل ہونا اور ای میل کو کنٹرول کرنے کی اجازت دینا کہ آپ کام پر ہر روز کیا کرتے ہیں۔

    ایک فعال حالت وہ ہے جہاں آپ دن کا آغاز نیت سے کرتے ہیں۔ آپ کچھ ورزش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اپنے علم کو بہتر بنائیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ اس دن کیا کام کریں گے۔ آپ اپنے کنٹرول سے باہر ہونے والے واقعات کو آپ کے مزاج پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور آپ سیاست ، موجودہ معاملات یا مشہور شخصیات کی گپ شپ کے بارے میں فضول بحث سے گریز کرتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس دن کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے تو آپ ایک رد عمل کی حالت میں ہوں گے۔

    دن کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ پیچیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو صرف چند سرگرمیوں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو آپ کو تقویت بخشیں ، ایسی سرگرمیاں جو آپ کرنے کے منتظر ہوں گے اور کسی نہ کسی طرح آپ کی زندگی کو بہتر بنائیں گے۔

    ایک پھنسے ہوئے منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانے کے ارادے سے اپنے کام کا دن شروع کرنا ، تیس منٹ باہر فطرت میں بغیر کسی کسی کام کسی وجہ کے پر سکون گزاریں، صرف تیس منٹ آف لائن رہنے کی آزادی سے لطف اندوز ہونا آپ کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ سوچنے کا موقع فراہم کرے گے یہ 30 منٹ.

    روزانہ کرنے کے لیے چند ایک سرگرمیوں کا انتخاب ہو آپکو آپ کے وقت کو زیادہ سے زیادہ بہتر گزارنے کا احساس دیں ، یہ چیز آپ کے مزاج کو بہتر بناتی ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ نے اپنا دن ضائع نہیں کیا۔اور اس کا کچھ اچھا استعمال کیا اور اس سے آپ نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا.وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سب سے اہم ہے منصوبہ بندی اس کے بارے میں سوچیں منصوبہ بنائیں اپنا دن گزرنے کا اور اپنا وقت بچائیں۔

    Twitter Handle
    @umesalma_

  • فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین انٹر پرینوئر کی مصنوعات کی نمائشوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر سے نہ صرف خواتین کے کاروبار کا دائر ہ کار وسیع ہوگا بلکہ انہیں خریداروں سے براہ راست رابطوں میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سابق نائب صدر محترمہ شمع احمد نے مسزعقیلہ عاطف کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر کے آڈیٹوریم میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا ربن کاٹ کے افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔ اس نمائش کا اہتمام فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے تناسب سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ دلانے کیلئے وومن چیمبر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے وومن چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کو سرمایے کی فراہمی کیلئے کئی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ خواتین پر زور دیا کہ وہ وومن چیمبر کے پلیٹ فارم سے اپنے مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے حل کیلئے قومی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ مائکرو، چھوٹے اور درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والی خواتین کی مصنوعات کی تشہیر کیلئے قومی اور علاقائی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد کی سرکردہ کاروباری خواتین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ”ایک ٹیم اور ایک مقصد“ کے نعرے کے تحت کام کر رہی ہیں جن سے بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے اس نمائش کے انعقاد کے سلسلہ میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، نائب صدر محترمہ فرحت نثار، محترمہ عائشہ مسعود، محترمہ حنا بابر کی خدمات کو سراہا جبکہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی نمائش دیکھی اور خواتین کی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جبکہ اس سلسلہ میں مصنوعی جیولری، فیشن ڈریسز، ہوم ٹیکسٹائل، جوتوں، فوڈ پراڈکٹس کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔