Baaghi TV

Category: خواتین

  • تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی یا سگریٹ آج کل اس طرح عام ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی پہنچ میں ہے جیسے ٹافیاں گولیاں پہنچ میں ہوتی تھیں۔ "تمباکونوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت” کے چلنے والے اشتہارات کے باوجود میڈیا کے زریعے بڑے منظم انداز میں اسکا پھیلاؤ ہورہا ہے۔ جس طرح خوبصورتی سے سگریٹ پینے والوں کو بڑے بڑے سخت کام کرتے دیکھایا جاتا ہے بلڈنگز پار کرنا سکھایا جاتا ہے دریاؤں کو عبور کرنا سکھایا جاتا ہے بعد میں مضر صحت کا میسج دے بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ دوسری طرف ضروریات زندگی دن بدن مہنگی ہورہی ہے ہر چیز، پر ٹیکس عائد ہورہا ہے لیکن تمباکو نوشی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے جس کی وجہ سے ہر ایک کی پہنچ میں ہے جس کا نقصان ابھی تو ہوہی رہا ہے آنے والے وقت میں شدید ہوگا۔

    سگریٹ نوشی کے دو طرح کے نقصانات ہیں ایک ہے صحت دوسری اخلاقیات۔ صحت کے حوالے سے بات کریں تو منہ کے کینسر سے لے کر جگر اور پھیپھڑوں کے کینسر تک کا موجب یہی سگریٹ ہے۔ اس کے دھوئیں سے پھیپڑے سیاہ ہوجاتے ہیں سانس لینے والے مسائل سارے اسی کی وجہ سے ہیں۔سگریٹ کا دھواں صرف سگریٹ پینے والوں کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسکے آس پاس موجود تمام لوگ بلواسطہ یا بلاواسطہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ فضا کی الودگی گاڑیوں رکشوں موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھواں کی وجہ سے بھی ہے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی بات کریں تو سگریٹ پینے والوں کی تعداد جتنی ٹوٹل تھی آج اتنی سگریٹ پینے سے مرنے والوں کی ہے۔ سگریٹ پینا گھر کے اندر معیوب سمجھا جاتا تھا اگر کسی لڑکے کو عادت پڑ بھی جاتی تھی تو وہ گھر کے اندر نا سگریٹ لا سکتا تھا اور ناہی پی سکتا تھا اس کا مطلب لحاظ کسی حد تک قائم تھا۔ لیکن آج یہ حال ہے کہ پانچویں کلاس کے طالبعلم کے پاس سگریٹ پینے کے پیسے بھی ہیں اور جگہیں بھی ہیں۔ اس کا دوسرا نقصان اخلاقی تباہی کی صورت میں ہے آپ خود سوچیں ایک برائی دوسری برائی کو جنم دیتی ہے۔

    اگر آج کچھ بچے یا نوجوان سادہ سگریٹ پیتے ہیں تو لازماً کچھ ماہ یا سالوں بعد اس میں چرس، افیون، یا پاؤڈر بھر کے پی رہے ہونگے۔ یعنی سگریٹ کو ہم محض ایک شوق نہیں کہہ سکتے ہیں بلکہ یہ اخلاقی برائیوں کی طرف پہلا قدم ہے اور اسکی روک تھام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس پر ٹیکس بڑھایا جائے مہنگی کی جائے اور بیس سال سے کم عمر کے بچوں کی پہنچ سے دور ہو۔ بیس سال اس لیے لکھا ہے کہ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ عام طور پر بچے سگریٹ کی طرف مائل 13،14 سال کی عمر میں ہوتے ہیں اگر بیس سال کی عمر تک نا عادی ہوں تو بیس سال کے بعدعادی ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ سکول کالج کی کینٹین سختی سے دیکھی اور پرکھی جائیں تاکہ یہ زہر سکول و کالج میں نا پہنچ سکے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی ناصرف سگریٹ کی عادی ہورہی ہیں بلکہ دوسری نشہ اور اشیاء کی بھی ہورہی ہیں اسکی روک تھام اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ معمار قوم ہیں آنے والی نسل انکے ہاتھوں پرورش پائےگی انکو سمبھالنا انے والی نسل کو سبھالنا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں دے بھی گزارش ہے کہ وہ سکول و کالج پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان ٹھیلوں اورریڑھیوں پر ضرور نظر رکھیں کیونکہ انکے بنے ہوئے شوارموں، گول گپوں، اور برگرز میں نشہ آور اشیاء ملائی جاتی ہیں تاکہ بچے عادی ہوں اوران سے پھر خود، مانگ کریں اس نشہ کی۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ بچوں کے دوست بنیں ان سے انکے دوست احباب کے بارے میں پوچھتے رہیں انکی حرکات پر نظر رکھیں۔ آپکا مستقبل آپکے یہی بچے ہیں اگر وہ سگریٹ اور دوسری نشہ آور چیزوں کے عادی ہوگئے تو آپکا جمع کیا گیا مال بیکار جائے گا۔ بچائیں خود کو اپنے بچوں کو
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کا ہماری عمرکے زیادہ یا کم ہونے، جسمانی صحت کے اچھے یا برے ہونے اور زندگی میں کئے گئے مختلف فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی سے کیا تعلق ہے۔۔۔ اور وہ کون سی خطرناک بیماریاں ہیں جن سے بچاو میں ہماری نیند کی روٹین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔آپ نے اپنے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم توپورے دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں یا پھر یہ کہ ہماری تو نیند بہت کم ہے ہم زیادہ دیر تک سو نہیں سکتے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اس عادت کی وجہ سے ان کے دماغ اور جسم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اور سونے کے دوران ہمارے جسم کے ساتھ کیا عمل ہوتا ہے؟

    بھوک لگنے پر کھانا کھانے، پیاس محسوس ہونے پر پانی پینے اور سانس لینے کی طرح نیند بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی دن نہ سوئیں تو پہلے پہل ہمارا جسم تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کم سونے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل جب ہم سوتے ہیں تو نیند کے دوران ہمارے جسم میں کچھ ایسے خاص مادے پیدا ہوتے ہیں جو پورے دن جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی ایک طرح سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی آفس میں پورے دن کام ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں صفائی کا عمل کیا جاتا ہے چیزوں کو دوبارہ ترتیب سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے جسم اور نیند کا بھی کچھ ایسا ہی حساب ہے پورے دن کام کاج کے بعد جب ہم رات کو سوتے ہیں تو نیند کا عمل ہمیں آنے والے دن کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ ہم اپنا اگلا دن اچھا گزار سکیں۔ اگر نیند اچھی ہوگی تو آنے والا وقت بہت اچھا گزرے گا لیکن اگر نیند پوری نہیں ہوگی تو ظاہری بات ہے کہ آپ کا وقت بھی برا گزرے گا۔ اور اگر کسی انسان کی روٹین بن جائے اور وہ لمبے عرصے تک کم نیند لے تو پھر مختلف بیماریوں کا اس پر حملہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ اور اگر آپ کا جسم اور دماغ صحت مند نہیں ہے تو سوچ لیں کہ آپ کیسے کوئی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ دراصل آج کل لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نیند ان کی Priorities میں سب سے آخر میں آتی ہے۔ پچھلے سو برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم کام زیادہ کرتے ہیں، پھر سفر میں بھی خاصا وقت گزرتا ہے۔ ہم صبح جلدی گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔اس کے بعد ہم اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال الگ ہے اور آخر میں ہمارے پاس نیند کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے۔اور آپ کو حیرت کی بات بتاوں کہ مختلف Age groupsکے لئے ہم نے نیند کا Required timeمختلف بنایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل اور سست شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔اب کسی انسان کو کتنی نیند چاہیے تو اس کا مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹےسات گھنٹے سے کم نیند ہماری جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور ہمارے Immune systemکو متاثر کرتی ہے۔بیس گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثرکسی بھی انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔جبکہ نیند کی کمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نشہ میں دھت انسان خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔ مگر آس پاس والے جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    وہ کونسی بیماریاں ہیں جو نیند کی کمی سے ہوتی ہیں۔ کچھ باتیں تو عام طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق نیند سے بنتا ہے جس میں موٹاپا، نظر کی کمزوری، کمزور مسلز، انفیکشنز سے جلد متاثر ہونے کا خطرہ، ویکسینینشن کا اثر کم ہونا، بولنے میں مشکلات، نزلہ زکام رہنا، پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہونا، ہر وقت بھوک لگنا، قبل از وقت بڑھاپا، ڈپریشن، ہر وقت بھوک لگنا وہ عام مسائل ہیں جو کہ نیند کی کمی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ الزائمر امراض، بانجھ پن، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کی شروعات ہونے کی بھی ایک وجہ نیند کا پورا نہ ہونا ہی ہے۔ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی بھی ایک وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے۔عام الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیند کا directlyتعلق ہماری عمر کے ساتھ ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

    پچاس سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ نیند کے فائدے کیا ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔بلکہ ایک حالیہ تحقیق میں تو یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کی صحت کے لیے رات کو دس سے گیارہ بجے کے درمیان کا وقت سونے کے لیے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ اور یہ نتیجہ 88 ہزارلوگوں پر تحقیق کے بعد نکالا گیا ہے۔ یہ ریسرچ Europian Heart Journalمیں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق
    UK bio bankکے لیے کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق مکمل نیند لیں تو اس سے دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    اس ریسرچ میں شامل لوگوں کو ایک گھڑی نما ڈیوائس کلائی پر باندھی گئی اور ان کے سونے اور جاگنے کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اور تقریبا چھ سال تک اس ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ اور اس دوران تین ہزار سے زیادہ لوگوں میں دل کی بیماریاں ظاہر ہوئیں۔اور یہ تمام وہ افراد تھے جو یا تو سونے میں دیر کرتے تھے یا پھر وہ میعاری وقت دس اور گیارہ بجے سے پہلے سو جاتے تھے۔ اور سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جو کہ آدھی رات کے بعد سوتے تھے۔یعنی اس ریسرچ کے مطابق ہر انسان کے جسم کے اندر قدرتی طور پر بھی ایک گھڑی فٹ ہوئی ہوئی ہے جس کا نیند سے بہت گہرا تعلق ہے اگر وہ گھڑی ٹھیک چلتی رہے تو سب اچھا ورنہ اس کا ٹائم خراب ہو جائے تو انسان کی صحت اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے۔یعنی نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے لیکن اس کے فائدے بے شمار ہیں۔

    لیکن اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نیند کو سٹور نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر آپ یہ سوچیں کہ پورا ہفتہ آپ خوب کام کریں اور چھٹی والا پورا دن سو کر گزار دیں تو یہ کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ نیند کی نہ تو کوئی قضا ہے اور نہ ہی ایڈوانس ادائیگی۔ اس کا سرکل روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دن نیند پورا کئے بغیر گزار دیا تو اس کو جو نقصان ہے وہ آپ آنے والے دن میں پورا نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لئے بہترین یہی ہے کہ جو نیند کا ٹائم ہے اس پر سوئیں اور جاگنے کے وقت پر جاگیں۔اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ اس پر پورا عمل بھی کریں۔ کیونکہ کوئی بھی کام آپ تب تک ہی کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ کی صحت ہے اور زندگی ہے۔

  • محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    کسی بھی کام میں کامیابی کے لیے محنت لازمی ہے محنت کے بغیر کامیابی حاصل کرنا نا ممکن ہے لیکن محنت کیا ہے اور کیوں ضروری ہے اور اس میں توازن کا کیا عمل دخل ہے اس پر بات کرتے ہیں

    کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کی جانی والی کوشش محنت کہلاتی ہے کامیابی اور محنت کا چولی دامن کا ساتھ ہے قسمت سے زیادہ محنت پر کامیابی کا انحصار ہے کیوں کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی اور قسمت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی

    انسان سچے دل سے جو کام کرے اس میں کامیاب ہوتا ہے محنت انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا بہانہ نہیں ہو سکتا جب انسان بہانہ بنانے کی بجائے محنت کرنے لگے تو کامیابی اس کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے محنت انسان کو عزم مصمم سکھاتی ہے

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محنت کا پھل اسی وقت نہیں ملتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ محنت ضائع ہو گئی کیوں کہ محنت ضائع نہیں ہوتی وقتی طور پر اگر محنت کا ثمر نہ بھی ملے تو زندگی میں آگے جا کر ضرور محنت کا پھل مل جاتا ہے

    محنت اثر رکھتی ہے اور اثر ثمر پیدا کرتی ہے محنت سے ملنے والا ثمر پر تاثیر ہوتا ہے جتنی محنت کرو گے اس سے ملنے والے ثمر میں اتنی تاثیر ہو گی دوسرے الفاظ میں جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہو گا محنت انسان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے جب انسان محنت کو اپنا مددگار بناتا ہے اسے ثمر ملتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر میں محنت کروں گا تو کوئی طاقت مجھے میرے ثمر سے محروم نہیں کر سکتی یہ خود اعتمادی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے خود اعتمادی ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو ہار نہ ماننے کا درس دیتی ہے اور محنت کرنے پر آمادہ کرتی ہے کیوں کہ محنت اور خود اعتمادی آپس میں جڑے ہوتے ہیں

    محنت سبق دیتی ہے ہار نا ماننے کا اور جو شخص ہار نا ماننا سیکھ لے اسے کبھی ہرایا نہیں جا سکتا یہ جذبہ انمول ہوتا ہے یہ جذبہ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب آپ کو اپنی محنت پر یقین ہو محنت پر یقین نہیں ہو گا تو یہ جذبہ نہیں مل سکتا محنت انمول چیز ہے جو انسان کو نا قابل یقین ہمت عطاء کرتی ہے انسان میں جرات پیدا کرتی ہے ایسی جرات کہ انسان خود پر یقین کرتا ہے کہ سب کر سکتا ہوں
    محنت انسان کو بتاتی ہے کہ وہ اس وقت کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب اس میں لگن ہو چھا جانے کی جب اسے پتا ہو کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے سب کر سکتا ہے جب اسے پتا ہو کہ اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اگر وہ اپنے ہنر کو پہچان لے کیوں کہ خود کو پہچانے بغیر انسان کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو جانچ لیتا ہے تو وہ ان کو استعمال کرنے لگتا ہے اور اس محنت سے وہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے

    محنت کرتے ہوئے توازن برقرار رکھنا ضروری ہے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کسی مقصد کو حاصل کرنے میں اس قدر مگن نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ان لوگوں ان چیزوں سے دور ہو جائیں جو آپ کی طاقت ہیں ذہنی سکون انتہائی لازمی ہے کسی بھی کام کو اس حد تک کیا جاۓ کہ ذہنی سکون برباد نہ ہو جسمانی حالت آپ کی طاقت ہوتی ہے انسان کو کبھی بھی اپنی فٹنس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے اپنے آپ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے جسمانی صحت انتہائی ضروری ہے اس لیے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ محنت کرتے ہوئے زندگی کا توازن برقرار رہے زندگی کا توازن بگڑنا نہیں چاہیے
    @_Ujala_R

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ دوئم

    آپ ہر روز ٹی وی کے سامنے کتنا وقت گزارتے ہیں؟ اگر آپ کے روزمرہ کے معمولات میں کام سے گھر آنا شامل ہے ، ذہنی طور پر صرف ٹی وی آن کرنے کے لیے تھک جاتا ہے اور اگلے تین سے چار گھنٹے بغیر سوچے سمجھے شوز دیکھتا رہتا ہے۔ آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں

    دن کا آغاز نیت سے کریں کے آپ نے کیا اہم کام کرنے ہیں ۔
    اگر آپ دن کا آغاز ہر دن مکمل کرنے کے معنی خیز مقاصد کے ساتھ کرتے ہیں تو آپ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کر استعمال کر رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر ، اگر آپ تیس منٹ ورزش ، ایک گھنٹہ سوشل میڈیا اور ایک دو گھنٹے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گزارنے کے منصوبے کے ساتھ اٹھتے ہیں تو آپ اپنے وقت کا اچھا استعمال کر رہے ہیں۔ (اور یہ آپ کے دن کے صرف ساڑھے تین گھنٹے ہیں) باقی وقت کو گزارنے کے لیے بھی اچھا منصوبہ بنائیں.

    صحت اور تندرستی ، تعلیم اور تعلقات کی تعمیر فضول سرگرمیاں نہیں ہیں۔ آپ کو سونے سے پہلے اپنے کیلنڈر کو دیکھنے کی ضرورت ہے ، دیکھیں کہ اگلے دن آپ کہاں جا رہے ہیں اور ان سرگرمیوں میں شامل کریں جو آپ اس دن کرنا چاہتے ہیں۔

    دن کے لیے اپنے مقاصد کو مکمل کرکے ، آپ محسوس کریں گے کہ آپ نے ایک معنی خیز دن گزارا ہے ، اور اس سے بہت زیادہ مثبت توانائی آئے گی۔ یہ آپ کو اگلے دن اسی طرح کے مزید کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

    کچھ ایسے مقاصد اپنی زندگی میں شامل کریں جو آپ کو بطور فرد بہتر بناتے ہیں ، آپ کے مثبت جذبات کو بلند کرتے ہیں اور آپ کی صحت کو برقرار رکھتے ہیں آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

    ایک فعال حالت میں رہیں توجہ رکھیں اپنی کاموں پر.
    ہر دن اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کرنا ایک رد عمل کی حالت سے تبدیل ہونے کے بارے میں ہے۔

    ایک رد عمل کی حالت وہ ہے جہاں آپ غیر ضروری چیزوں پے وقت لگا رہے ہوتے ہیں. جہاں آپ اپنے کنٹرول سے باہر کے واقعات کو کنٹرول کرتے کی کوشش میں وقت ضایع کرتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں اور آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال ، منفی خبریں ، بے مقصد مباحثوں میں شامل ہونا اور ای میل کو کنٹرول کرنے کی اجازت دینا کہ آپ کام پر ہر روز کیا کرتے ہیں۔

    ایک فعال حالت وہ ہے جہاں آپ دن کا آغاز نیت سے کرتے ہیں۔ آپ کچھ ورزش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اپنے علم کو بہتر بنائیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ اس دن کیا کام کریں گے۔ آپ اپنے کنٹرول سے باہر ہونے والے واقعات کو آپ کے مزاج پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور آپ سیاست ، موجودہ معاملات یا مشہور شخصیات کی گپ شپ کے بارے میں فضول بحث سے گریز کرتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس دن کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے تو آپ ایک رد عمل کی حالت میں ہوں گے۔

    دن کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ پیچیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو صرف چند سرگرمیوں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو آپ کو تقویت بخشیں ، ایسی سرگرمیاں جو آپ کرنے کے منتظر ہوں گے اور کسی نہ کسی طرح آپ کی زندگی کو بہتر بنائیں گے۔

    ایک پھنسے ہوئے منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانے کے ارادے سے اپنے کام کا دن شروع کرنا ، تیس منٹ باہر فطرت میں بغیر کسی کسی کام کسی وجہ کے پر سکون گزاریں، صرف تیس منٹ آف لائن رہنے کی آزادی سے لطف اندوز ہونا آپ کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ سوچنے کا موقع فراہم کرے گے یہ 30 منٹ.

    روزانہ کرنے کے لیے چند ایک سرگرمیوں کا انتخاب ہو آپکو آپ کے وقت کو زیادہ سے زیادہ بہتر گزارنے کا احساس دیں ، یہ چیز آپ کے مزاج کو بہتر بناتی ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ نے اپنا دن ضائع نہیں کیا۔اور اس کا کچھ اچھا استعمال کیا اور اس سے آپ نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا.وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سب سے اہم ہے منصوبہ بندی اس کے بارے میں سوچیں منصوبہ بنائیں اپنا دن گزرنے کا اور اپنا وقت بچائیں۔

    Twitter Handle
    @umesalma_

  • فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین انٹر پرینوئر کی مصنوعات کی نمائشوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر سے نہ صرف خواتین کے کاروبار کا دائر ہ کار وسیع ہوگا بلکہ انہیں خریداروں سے براہ راست رابطوں میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سابق نائب صدر محترمہ شمع احمد نے مسزعقیلہ عاطف کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر کے آڈیٹوریم میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا ربن کاٹ کے افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔ اس نمائش کا اہتمام فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے تناسب سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ دلانے کیلئے وومن چیمبر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے وومن چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کو سرمایے کی فراہمی کیلئے کئی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ خواتین پر زور دیا کہ وہ وومن چیمبر کے پلیٹ فارم سے اپنے مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے حل کیلئے قومی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ مائکرو، چھوٹے اور درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والی خواتین کی مصنوعات کی تشہیر کیلئے قومی اور علاقائی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد کی سرکردہ کاروباری خواتین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ”ایک ٹیم اور ایک مقصد“ کے نعرے کے تحت کام کر رہی ہیں جن سے بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے اس نمائش کے انعقاد کے سلسلہ میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، نائب صدر محترمہ فرحت نثار، محترمہ عائشہ مسعود، محترمہ حنا بابر کی خدمات کو سراہا جبکہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی نمائش دیکھی اور خواتین کی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جبکہ اس سلسلہ میں مصنوعی جیولری، فیشن ڈریسز، ہوم ٹیکسٹائل، جوتوں، فوڈ پراڈکٹس کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔

  • اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    ذندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع کرنے کی بجائے محبتیں بانٹیں اور بعض دفعہ کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرکے سکون پائیں…
    کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک ردعمل دکھائیں اور ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دے سکتے ہیں پر جہاں اپنے حق کے لئے بولنا لازم ہوجائے وہاں چپ رہنا کسی اور کے ساتھ زیادتی ہو نہ ہو اپنی ذات کے ساتھ زیادتی ضرور ہے

    بےحسی ہمارے معاشرے میں ایسے رچ بس گئی ہے کہ ہمیں صحیح اور غلط کا فرق بھی نہیں پتا چلتا کسی کی تکلیفوں کا اندازہ لگانا تو دور ہم سننا گوارہ نہیں کرتے..
    انسان اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے جہاں اسے اپنے حق کے لئے بولنا چاہیئے وہاں وہ چپ سادھ لیتا ہے
    باجی یہ تو ظلم ہے)
    ایسا جملہ جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پہ مجبور کیا.
    ہمارے ساتھ والے گھر میں ایک فیملی کرائے پر رہنے آ ئی
    اس عورت کے 4 بیٹے 3 بیٹیاں تھیں
    بیٹیاں شادی شدہ تھیں.
    میں جب بھی اس عورت کو دیکھی سہما ہوا اسکا چہرہ دیکھی..
    ایک دن ایسا ہوا وہاں پانی کا مسئلہ تھا پانی کا ٹینکر منگوا کے استعمال کیا جاتا تھا. میں نے کبھی اس عورت کی اونچی آواز نہیں سنی کیونکہ اسکا شوہر سخت مزاج تھا پانی کا ٹینکر آیا میں نے سوچا غریب فیملی ہے کچھ پیسے میں نے پانی کے دئیے اور 400 اس عورت کو کہا کہ آپ دے دیں. پانی ٹینکی میں ڈالنے سے پہلے میں نے اسے کہا کہ پینے کے لئے ایک واٹر کولر بھر لیں, اس نے پانی بھرا اور باقی پانی ٹینکی میں ڈال دیا گیا. جب میں نے اس عورت کو 400 روپے دینے کا کہا تو اسنے حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا باجی یہ تو ظلم ہے…

    میں نے ایک کولر بھرا آپ نے 400 روپے دلوا دئیے….
    مجھے اسکی معصومیت پہ ہنسی ائی میں نے کہا کہ آپا یہ جو پانی ٹینکی میں ڈالا گیا ہے یہ بھی آپکا ہی ہے جو آپ روز مرہ استعمال کریں گی ایک واٹر کولر کے پیسے 400 روپے نہیں ہیں..
    تب اس نے خوشی سے کہا اوو اچھا باجی خفا نہیں ہونا
    میں نے کہا کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہے کہ آپ کو یہ بولنا بھی تو آیا کہ یہ تو ظلم ہے پر میری ایک بات کا جواب دیں یہ جو آپ اپنی فیملی میں سہہ رہی ہیں یہ کیا ہے ؟
    بیٹا ماں کے منہ پہ تھپڑ مار رہا ہے, اور شوہر آپ پہ ہاتھ اٹھا رہا ہے ( صرف اس لئے کہ گیٹ آپ نے کیوں کھلا چھوڑا)
    کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
    میری بات سن کے میرا ہاتھ پکڑ کے بولی… باجی میرا شوہر میرے سے بہت پیار کرتا ہے بس کسی نے اسے جادو کھلا دیا ہے اس لئے اسے غصہ زیادہ آتا ہے
    اور جو بیٹا آپکے منہ پہ تھپڑ مارا وہ کیا ہے ؟ میں نے پھر سوال کیا

    وہ عورت مسکراتے ہوئے بولی باجی میرا وہ بیٹا بچپن سے ہی غصے والا ہے میں جب غلطی کرجاتی ہوں تو اسکو غصہ آتا ہے پر میرے سے پیار بہت کرتا ہے.
    اسکے جواب سن کے میں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ کس طرح اپنے شوہر اور بیٹے کے دفاع میں بول رہی تھی اور میری بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے مذید دلائل دینے لگی.
    ایسی بھی عورتیں ہمارے معاشرے میں ہیں جو اچھا برا صیحیح غلط, سچ جھوٹ جانتے ہوئے بھی ان سب سے لاعلم ہوں
    میرے خیال میں 400 روپے کے لئے اسکا کہنا کہ باجی یہ تو ظلم ہے اس بات کی عکاس کرتا کہ اسے ظلم اور جبر کی پہچان ضرور ہے مگر اپنی ذات کے معاملے میں وہ بالکل اس سے لاعلم ہے یا لاعلم رہنا چاہتی ہے.

    خیر کچھ دن بعد گھر کے باہر ایک ٹرک کھڑا تھا جس پر انکا سامان لادا جارہا تھا ،معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ یہاں سے شفٹ ہورہے ہیں.
    خدا حافظ کہنے وہ میرے گھر آئی میں خوش اسلوبی سے اس سے ملی مگر وہ نظریں چرا رہی تھی جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو
    میں نے اسکا ہاتھ تھام کہ کہا آپا اپنی زندگی اپنی ذات کا بھی انسان کو سوچنا چاہیئے ناں
    جب تک آپ کسی کو اپنی خوشی یا اپنے غم کا احساس نہیں دلائیں گی کوئی آپکی قدر نہیں کریگا
    وہ پھر کچھ بولنے کے لئے میری طرف دیکھی پر صرف مسکرا کے چلی گئی.
    اسکے جانے کے بعد میں وہیں بیٹھ گئی ایک عورت کو اپنے خاوند سے چاہیے ہی کیا ہوتا ہے ؟ ایک ماں کو اپنے بیٹے سے کس چیز کی امید ہوتی ہے ؟؟
    شاید یہ خواہش یا مطالبات اس عورت نے کہیں دفن کر دئیے تھے

  • ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    اس وقت دیکھا جائے تو غریب عوام اس وقت مہنگائی کے دریا میں ڈوب رہی ہے اور وہ کسی مسیح کے انتظار میں ہیں کوئی تو آیا جو ان کو ڈوبنے سے بچائے روزمرہ کی چیزیں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہ پیٹرولیم منصوعات ، گیس ، بجلی میں اضافہ ہو۔
    اور ابھی تو سردیاں شروع بھی نہیں ہوئی گیس لوڈشینگ میں شروع ہو چکی ہیں کچھ جہگوں پر گیس کا پریشر کم ہے جس کی وجہ سے عوام سلنڈر کے استعمال کر رہے ہیں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے 120 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان تو کر دیا کیاغریب عوام یہ مہنگائی کا بوجھ اس ریلیف پیکج کوحاصل کر کے گئی؟ ایسے عوام کوریلیف تو نا ملا
    پاکستان میں تیل کی قیمت میں 33 فیصد اضافہ ہوا پاکستان میں مہنگائی کی شرح کے تعین کا ذمہ دار ادارہ شماریات پاکستان ہوتا ہےپاکستان میں کھلی منڈی کی قیمتیں اور سرکاری ادارے کی جانب سے اُنھیں اکٹھا کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح کا تعین کیا جاتا ہے

    کیا پاکستان میں مہنگائی کی اصل وجہ ’کارٹلائزیشن‘ ہے؟ کیا کارٹل زائد منافع حاصل کررہے ہیں اور قیمتوں کو ایک سطح سے نیچے آنے سے روک رہے ہیں کارٹلز اور مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ حکومت بھی ان کو کنٹرول نہیں کر پا رہی یا حکومت میں ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو جن کا تعلق ان سے ہیں؟ جو نہیں چاہتے پاکستان میں غریب عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے
    جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق کھانی پینے کی اشیا کی قیمتوں میں بیس فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے اور اس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے حکومت یہ غلطیاں کیسے سودارتی ہیں اور اس مہنگائی پر کنڑول کر سکے گی یا نہیں ؟ یا صرف یا کہا جائے گا گھبرانا نہیں ہے اور حکومت کے نمائندے بس ٹی وی سکرین پر آ کر یہی بولے گئے پاکستان میں مہنگائی باقی ملکوں سے کم ہیں۔
    ہمارے وزیرا عظم عمران خان صاحب فرمایا کرتے تھےکہ جب مہنگائی میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں عوام کہ وزیراعظم کرپٹ ہے، جس طرح سے اب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے کیا اب ہم موجودہ وزیراعظم کو عوام بھی کرپٹ سمجھیں؟ قرضوں میں اضافہ بھی اسی طرح جاری ہے حکومت تو دعوے کرتی رہی کہ مہنگائی کم کریں گے اور آمدن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن یہاں سب کچھ الٹا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے مہنگائی تو بڑھ گئی ہے لیکن آمدن میں اضافہ نہیں ہوا۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

  • "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں بچے کی تربیت ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہے کسی بچے کی تربیت دیکھنی ہوتو اس کی ماں کو دیکھ لیں بچہ ماں کا پرتو ہوتا ہے ۔بچہ ایسی موم کی گڑیا ہوتا ہے شروع دن سے آپ اس کو جس طرف موڑنا چاہئیں گےمڑ جائے گا اللہ جب یہ نعمت۔رحمت دیتا ہے ماں کا فرض ہوتا ہے وہ بچے کا دنیا میں آنے کا حق ادا کردے اچھی تربیت کرکے۔۔۔ماں کا اس لیے کہہ رہی ہوں بچے کے ساتھ ذیادہ وقت ماں کا گزرتا ہے باپ تو روزی روٹی کی تلاش میں باہر کی چھان ۔چھان رہا ہوتا ہے اس لیے بچوں کی تربیت کی ذیادہ ذمہ داری ماں پر آجاتی ہے اپنے بچوں کے ذہین کی صاف سلیٹ پر آپ جو کچھ لکھیں گے جو کچھ نقش کریں گے وہ ان مٹ چھاپ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جائے گی جو کچھ بچوں
    کو ہم آج دیں گے کل کو وہی ہم پائیں گے اپنے بچوں کی تربیت میں سب سے پہلے خوش اخلاقی جیسی خوبی شامل کریں اچھا بولنا سکھائیں بڑوں کا ادب چھوٹوں سے پیار کرنا سکھائیں ۔
    انھیں بچپن سے ہی تعزیت۔تیماداری۔برداشت انکساری ۔تواضع اور صبر کرنا سکھائیں ان کو بچپن سے ہی نماز کا عادی بنائیں ۔ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وآلہ علیہ وسلم کی محبت ڈالیں ان کے دلوں میں صلہ رحمی ڈالیں بچوں کے دلوں میں ان چیزوں کی محبت ڈالنے کا سب سے بہترین وقت ان کا بچپن ہی ہے۔ جب ان کے دلوں میں اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کی محبت ہو گئی تو وہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی لازمی کوشش بھی کریں گے ان کے دل میں لگن پیدا ہوگی ۔حرام حلال کھانے میں فرق بتائیں ۔ہمارے مذہب میں کن چیزوں کی سختی سے ممانعت فرمائی گی ہے ان چیزوں کے لیے ان کے دلوں میں ناپسندیدگی پیدا کریں ۔غلط صیحح کی پہچان کروائیں یہی ایک اچھے انسان کی خوبی ہے ورنہ تو کھلا پلا کرجانور بھی بچے پال لیتے ہیں اور آپ کے بچے آج کا سیکھا کل آپ پر آزمائیں گے اس لیے ہر وہ چیز اپنے بچے کے دماغ میں ڈالنے کی کوشش کریں جو کل اسے ایک صحت مند شہری بننے میں مدد کرے ایک صحت مند معاشرہ اکائی سے ہی بنتا ہے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا رول ادا کرنا والدین کا فرض ہے۔ایک اور ضروری چیز ‏کوشش کریں اپنے بچوں کےسامنے
    اپنے گھر والوں بھائیوں۔بہنوں کی باتیں ڈسکس مت کریں
    بھائیوں،بہنوں میں جتنی جلدی غلط فہمیاں پیداہوتی ہیں وہ اتنی جلدی ختم بھی ہوجاتی یقین جانئےآپ کا جذبات میں آ کرکہا جانےوالا ایک بھی غلط لفظ آپکے بچوں کو عرصہ تک یادرہتااورتعلق میں غلط فہمی کاباعث بنتا.پھر آپ کے لاکھ سر پٹخنے سمجھانے کے باوجود آپ کے بچے کے دل سے وہ باتیں نہیں نکلتی جو آپ نے جذبات میں آکر ڈال دی تھیں آس لیے یہ والدین کے لیے امتحان ہوتا ہے تکلیف دہ باتیں اپنے تک محدود رکھ کر خود تکلیف برداشت کرکے بچوں کے دلوں کو زہر آلود ہونے سے بچا لیا جائے ۔

    آپ آج اپنے رشتہ داروں کے خلاف ان کے دلوں میں زہر ڈالیں گے تو یہ زہر کل سب سے پہلے آپ پر ازمائیں گے ۔ اپنے بچوں کو اچھے استاد سے قران مجید کی تعلیم دلوائیں جب آپکا بچہ قرآن مجید ختم کرلیتا ہےتو والدین انہیں، سورہ یوسف، سورہ نور ۔سورہ احزاب کی تفسیر اچھی طرح سے سمجھا دیں تاکہ انہیں معاشرتی قوائد کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کی حفاظت کرنا، سمجھ میں آجائے گااپنے بچوں کی دن بھر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں ۔جھوٹ بولنےچوری جیسی برائیوں کی ناپسندگی اور اللہ کی ناراضگی اور اس کے نقصانات شروع سے ہی بچے کے دل ودماغ میں ڈال دیں ۔یورپ میں رہنے والے والدین کو چاہئیے کھانے پینے کی چیزیں خود گھر لاکر رکھیں 18 سال سے پہلے بچے کو کبھی پیسے نہ دیں اسے بولیں جو کچھ کھانا ہے یا لینا ہے ہم لے کر دیں گے ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا بچہ باہر کے ماحول کی برائیوں سے بچ جائے گا کسی سے کچھ بھی نہیں لیکر کھائے گا ۔۔ جب جب موقع ملے اپنے آس پاس یا پھر اپنے پڑوسی رشتہ داروں کے بچوں کو بھی اچھی تربیت دینے کی کوشش کریں اپنے بچوں جیسی جیسا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سلجھے ہوئے ہوں ایک اچھے شہری بنیں اسی طرح باقی بچوں پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ ہم نے روز قیامت صرف اپنے بچے کے بارے میں حساب نہیں دینا بلکہ ارد گرد کے بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گااس لیے دوسروں کے بچوں کو بھی اپنے بچے سمجھ کر ان کو صحیح غلط کی تمیز سکھائیں جو کچھ اپ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں وہ ان بچوں کو بھی سکھائیں ۔بچوں کی بہترین پروش کرنے کے ساتھ اپنے آس پاس کا ماحول بھی خوبصورت بنائیں کہ سیانے کہتے ہیں جہاں رہو ایسے رہو کہ آپ پاس ہوں تو ہنسیں ۔آپ چلے جائیں تو روئیں کسی کو ذلیل کرنے کی کوشش بھی نہ کریں، جو بات آپ کو تکلیف دیتی ہےآپکو کو بےچین کرتی ہے وہ بات دوسروں سے بھی نہ کریں جس سے وہ انسان درد محسوس کرے اگر کسی کو اپنی زات سے خوشی نہیں دے سکتے تو درد بھی نہ دیں انسان اللہ کی سب سے پیاری مخلوق ہے۔ اگر کوئی انسان آپ کے مطلوبہ معیار کا نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کم معیاری یا غیر معیاری ہے بلکہ وہ صرف آپ کے معیار کا نہیں ہے، یہ بھی تو ممکن ہے کہ آپ بھی کسی کے مطلوبہ معیار سے نچلے درجے پر ہوں، اور وہ اپکی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتا ہو ۔اللہ کی مخلوق کو اپنی پسند کے معیار پر نہ پرکھیں اگر آپ کے پاس بےشمار دولت ہے تو وہ اپ کی اپنی ذات کے لیے ہے دوسروں کو اس کا رتی بھر فائدہ نہیں ان کو فائدہ اگر کچھ ہے تو اپ کا ان کے ساتھ اچھا رویہ ہے اگر آپ ان کو دھتکاریں گے تووہ کونسا آپکو پھولوں کے ہار پہنائیں گے پیار عزت دینا بھی اعلی ظرف لوگوں کے پاس ہوتا ہے کم ظرف لوگوں کو اللہ نے یہ خوبی دی ہی نہیں ہوتی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اسوہ حسنہ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی انسان اگر اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ معیار کا بھی نہیں ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اسے بطور انسان اسے کبھی کم تر نہیں جانا اس کی سب سے بڑی مثال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورہ طائف سے ملتی ہے کہ جہاں آپ پر پتھر برسا کر آپ کو زخمی کیا گیا زبانی اور جسمانی ایذا دیا گیا وہاں بھی آپ نے بد کلامی، بد گمانی اور بد دعا کا سہارا نہیں لیا بلکہ اچھے گمان کے ساتھ دعا فرمائی، اس لئے اپنی پسند اپنی سوچ اور اپنی مرضی اپنی خواہش کو ٹھیک جان کر اللہ کے بندوں کے لئے فیصلے نہ کیجئے،بےشک آپ دن رات مصلحے پر بیٹھے ہوں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہوں بے شک، آپ ایک سال میں چھ مہینے روزے رکھتے ہوں بے شک، آپ ہر ہفتے دو قرآن مجید مکمل کرتے ہوں بے شک،آپ جتنا کوئی نیک بندہ دنیا میں نہ ہو ، لیکن اللہ کے بندوں کو سخت سست سناتے ہوں، انہیں اپنے لیول کا نہیں مانتے ان سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہوں اپنی باتوں سے اپنے رویے سے ان کے دل چھلنی کرتے ہوں تو صرف ایک دفعہ وہ حدیث مبارک ضرور یاد کریں جس میں ایک نمازی، روزہ دار، زکوٰۃ ادا کرنے والے کے منہ پر اس کے اعمالوں کی گٹھڑی واپس مار دینے کا ذکر ہے،اور یہ واقعہ ایسا ڈرا دینے والا ہے کہ اگر انسان کو خود سے واقعی محبت ہے تو وہ ایسے کاموں سے بچ کر نکلنے کی کوشس کرے گا جس سے اللہ کی پکڑ کا ڈر ہوتا ہو اللہ تعالی ایسا وقت کسی دشمن پر بھی نہ لائے کہ اس کے اچھے کام اس کی عبادت ۔ایک ذرا سے تکبر کی وجہ سے اس کے منہ پر ماردی جائے اللہ سبحان تعالی ہمیں سیدھے راستے پر چلائے گمراہی اور تکبر سے محفوظ رکھے آمین ثمہ آمین