Baaghi TV

Category: خواتین

  • اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    ذندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع کرنے کی بجائے محبتیں بانٹیں اور بعض دفعہ کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرکے سکون پائیں…
    کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک ردعمل دکھائیں اور ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دے سکتے ہیں پر جہاں اپنے حق کے لئے بولنا لازم ہوجائے وہاں چپ رہنا کسی اور کے ساتھ زیادتی ہو نہ ہو اپنی ذات کے ساتھ زیادتی ضرور ہے

    بےحسی ہمارے معاشرے میں ایسے رچ بس گئی ہے کہ ہمیں صحیح اور غلط کا فرق بھی نہیں پتا چلتا کسی کی تکلیفوں کا اندازہ لگانا تو دور ہم سننا گوارہ نہیں کرتے..
    انسان اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے جہاں اسے اپنے حق کے لئے بولنا چاہیئے وہاں وہ چپ سادھ لیتا ہے
    باجی یہ تو ظلم ہے)
    ایسا جملہ جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پہ مجبور کیا.
    ہمارے ساتھ والے گھر میں ایک فیملی کرائے پر رہنے آ ئی
    اس عورت کے 4 بیٹے 3 بیٹیاں تھیں
    بیٹیاں شادی شدہ تھیں.
    میں جب بھی اس عورت کو دیکھی سہما ہوا اسکا چہرہ دیکھی..
    ایک دن ایسا ہوا وہاں پانی کا مسئلہ تھا پانی کا ٹینکر منگوا کے استعمال کیا جاتا تھا. میں نے کبھی اس عورت کی اونچی آواز نہیں سنی کیونکہ اسکا شوہر سخت مزاج تھا پانی کا ٹینکر آیا میں نے سوچا غریب فیملی ہے کچھ پیسے میں نے پانی کے دئیے اور 400 اس عورت کو کہا کہ آپ دے دیں. پانی ٹینکی میں ڈالنے سے پہلے میں نے اسے کہا کہ پینے کے لئے ایک واٹر کولر بھر لیں, اس نے پانی بھرا اور باقی پانی ٹینکی میں ڈال دیا گیا. جب میں نے اس عورت کو 400 روپے دینے کا کہا تو اسنے حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا باجی یہ تو ظلم ہے…

    میں نے ایک کولر بھرا آپ نے 400 روپے دلوا دئیے….
    مجھے اسکی معصومیت پہ ہنسی ائی میں نے کہا کہ آپا یہ جو پانی ٹینکی میں ڈالا گیا ہے یہ بھی آپکا ہی ہے جو آپ روز مرہ استعمال کریں گی ایک واٹر کولر کے پیسے 400 روپے نہیں ہیں..
    تب اس نے خوشی سے کہا اوو اچھا باجی خفا نہیں ہونا
    میں نے کہا کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہے کہ آپ کو یہ بولنا بھی تو آیا کہ یہ تو ظلم ہے پر میری ایک بات کا جواب دیں یہ جو آپ اپنی فیملی میں سہہ رہی ہیں یہ کیا ہے ؟
    بیٹا ماں کے منہ پہ تھپڑ مار رہا ہے, اور شوہر آپ پہ ہاتھ اٹھا رہا ہے ( صرف اس لئے کہ گیٹ آپ نے کیوں کھلا چھوڑا)
    کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
    میری بات سن کے میرا ہاتھ پکڑ کے بولی… باجی میرا شوہر میرے سے بہت پیار کرتا ہے بس کسی نے اسے جادو کھلا دیا ہے اس لئے اسے غصہ زیادہ آتا ہے
    اور جو بیٹا آپکے منہ پہ تھپڑ مارا وہ کیا ہے ؟ میں نے پھر سوال کیا

    وہ عورت مسکراتے ہوئے بولی باجی میرا وہ بیٹا بچپن سے ہی غصے والا ہے میں جب غلطی کرجاتی ہوں تو اسکو غصہ آتا ہے پر میرے سے پیار بہت کرتا ہے.
    اسکے جواب سن کے میں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ کس طرح اپنے شوہر اور بیٹے کے دفاع میں بول رہی تھی اور میری بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے مذید دلائل دینے لگی.
    ایسی بھی عورتیں ہمارے معاشرے میں ہیں جو اچھا برا صیحیح غلط, سچ جھوٹ جانتے ہوئے بھی ان سب سے لاعلم ہوں
    میرے خیال میں 400 روپے کے لئے اسکا کہنا کہ باجی یہ تو ظلم ہے اس بات کی عکاس کرتا کہ اسے ظلم اور جبر کی پہچان ضرور ہے مگر اپنی ذات کے معاملے میں وہ بالکل اس سے لاعلم ہے یا لاعلم رہنا چاہتی ہے.

    خیر کچھ دن بعد گھر کے باہر ایک ٹرک کھڑا تھا جس پر انکا سامان لادا جارہا تھا ،معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ یہاں سے شفٹ ہورہے ہیں.
    خدا حافظ کہنے وہ میرے گھر آئی میں خوش اسلوبی سے اس سے ملی مگر وہ نظریں چرا رہی تھی جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو
    میں نے اسکا ہاتھ تھام کہ کہا آپا اپنی زندگی اپنی ذات کا بھی انسان کو سوچنا چاہیئے ناں
    جب تک آپ کسی کو اپنی خوشی یا اپنے غم کا احساس نہیں دلائیں گی کوئی آپکی قدر نہیں کریگا
    وہ پھر کچھ بولنے کے لئے میری طرف دیکھی پر صرف مسکرا کے چلی گئی.
    اسکے جانے کے بعد میں وہیں بیٹھ گئی ایک عورت کو اپنے خاوند سے چاہیے ہی کیا ہوتا ہے ؟ ایک ماں کو اپنے بیٹے سے کس چیز کی امید ہوتی ہے ؟؟
    شاید یہ خواہش یا مطالبات اس عورت نے کہیں دفن کر دئیے تھے

  • ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    اس وقت دیکھا جائے تو غریب عوام اس وقت مہنگائی کے دریا میں ڈوب رہی ہے اور وہ کسی مسیح کے انتظار میں ہیں کوئی تو آیا جو ان کو ڈوبنے سے بچائے روزمرہ کی چیزیں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہ پیٹرولیم منصوعات ، گیس ، بجلی میں اضافہ ہو۔
    اور ابھی تو سردیاں شروع بھی نہیں ہوئی گیس لوڈشینگ میں شروع ہو چکی ہیں کچھ جہگوں پر گیس کا پریشر کم ہے جس کی وجہ سے عوام سلنڈر کے استعمال کر رہے ہیں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے 120 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان تو کر دیا کیاغریب عوام یہ مہنگائی کا بوجھ اس ریلیف پیکج کوحاصل کر کے گئی؟ ایسے عوام کوریلیف تو نا ملا
    پاکستان میں تیل کی قیمت میں 33 فیصد اضافہ ہوا پاکستان میں مہنگائی کی شرح کے تعین کا ذمہ دار ادارہ شماریات پاکستان ہوتا ہےپاکستان میں کھلی منڈی کی قیمتیں اور سرکاری ادارے کی جانب سے اُنھیں اکٹھا کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح کا تعین کیا جاتا ہے

    کیا پاکستان میں مہنگائی کی اصل وجہ ’کارٹلائزیشن‘ ہے؟ کیا کارٹل زائد منافع حاصل کررہے ہیں اور قیمتوں کو ایک سطح سے نیچے آنے سے روک رہے ہیں کارٹلز اور مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ حکومت بھی ان کو کنٹرول نہیں کر پا رہی یا حکومت میں ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو جن کا تعلق ان سے ہیں؟ جو نہیں چاہتے پاکستان میں غریب عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے
    جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق کھانی پینے کی اشیا کی قیمتوں میں بیس فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے اور اس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے حکومت یہ غلطیاں کیسے سودارتی ہیں اور اس مہنگائی پر کنڑول کر سکے گی یا نہیں ؟ یا صرف یا کہا جائے گا گھبرانا نہیں ہے اور حکومت کے نمائندے بس ٹی وی سکرین پر آ کر یہی بولے گئے پاکستان میں مہنگائی باقی ملکوں سے کم ہیں۔
    ہمارے وزیرا عظم عمران خان صاحب فرمایا کرتے تھےکہ جب مہنگائی میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں عوام کہ وزیراعظم کرپٹ ہے، جس طرح سے اب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے کیا اب ہم موجودہ وزیراعظم کو عوام بھی کرپٹ سمجھیں؟ قرضوں میں اضافہ بھی اسی طرح جاری ہے حکومت تو دعوے کرتی رہی کہ مہنگائی کم کریں گے اور آمدن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن یہاں سب کچھ الٹا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے مہنگائی تو بڑھ گئی ہے لیکن آمدن میں اضافہ نہیں ہوا۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

  • "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں بچے کی تربیت ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہے کسی بچے کی تربیت دیکھنی ہوتو اس کی ماں کو دیکھ لیں بچہ ماں کا پرتو ہوتا ہے ۔بچہ ایسی موم کی گڑیا ہوتا ہے شروع دن سے آپ اس کو جس طرف موڑنا چاہئیں گےمڑ جائے گا اللہ جب یہ نعمت۔رحمت دیتا ہے ماں کا فرض ہوتا ہے وہ بچے کا دنیا میں آنے کا حق ادا کردے اچھی تربیت کرکے۔۔۔ماں کا اس لیے کہہ رہی ہوں بچے کے ساتھ ذیادہ وقت ماں کا گزرتا ہے باپ تو روزی روٹی کی تلاش میں باہر کی چھان ۔چھان رہا ہوتا ہے اس لیے بچوں کی تربیت کی ذیادہ ذمہ داری ماں پر آجاتی ہے اپنے بچوں کے ذہین کی صاف سلیٹ پر آپ جو کچھ لکھیں گے جو کچھ نقش کریں گے وہ ان مٹ چھاپ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جائے گی جو کچھ بچوں
    کو ہم آج دیں گے کل کو وہی ہم پائیں گے اپنے بچوں کی تربیت میں سب سے پہلے خوش اخلاقی جیسی خوبی شامل کریں اچھا بولنا سکھائیں بڑوں کا ادب چھوٹوں سے پیار کرنا سکھائیں ۔
    انھیں بچپن سے ہی تعزیت۔تیماداری۔برداشت انکساری ۔تواضع اور صبر کرنا سکھائیں ان کو بچپن سے ہی نماز کا عادی بنائیں ۔ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وآلہ علیہ وسلم کی محبت ڈالیں ان کے دلوں میں صلہ رحمی ڈالیں بچوں کے دلوں میں ان چیزوں کی محبت ڈالنے کا سب سے بہترین وقت ان کا بچپن ہی ہے۔ جب ان کے دلوں میں اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کی محبت ہو گئی تو وہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی لازمی کوشش بھی کریں گے ان کے دل میں لگن پیدا ہوگی ۔حرام حلال کھانے میں فرق بتائیں ۔ہمارے مذہب میں کن چیزوں کی سختی سے ممانعت فرمائی گی ہے ان چیزوں کے لیے ان کے دلوں میں ناپسندیدگی پیدا کریں ۔غلط صیحح کی پہچان کروائیں یہی ایک اچھے انسان کی خوبی ہے ورنہ تو کھلا پلا کرجانور بھی بچے پال لیتے ہیں اور آپ کے بچے آج کا سیکھا کل آپ پر آزمائیں گے اس لیے ہر وہ چیز اپنے بچے کے دماغ میں ڈالنے کی کوشش کریں جو کل اسے ایک صحت مند شہری بننے میں مدد کرے ایک صحت مند معاشرہ اکائی سے ہی بنتا ہے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا رول ادا کرنا والدین کا فرض ہے۔ایک اور ضروری چیز ‏کوشش کریں اپنے بچوں کےسامنے
    اپنے گھر والوں بھائیوں۔بہنوں کی باتیں ڈسکس مت کریں
    بھائیوں،بہنوں میں جتنی جلدی غلط فہمیاں پیداہوتی ہیں وہ اتنی جلدی ختم بھی ہوجاتی یقین جانئےآپ کا جذبات میں آ کرکہا جانےوالا ایک بھی غلط لفظ آپکے بچوں کو عرصہ تک یادرہتااورتعلق میں غلط فہمی کاباعث بنتا.پھر آپ کے لاکھ سر پٹخنے سمجھانے کے باوجود آپ کے بچے کے دل سے وہ باتیں نہیں نکلتی جو آپ نے جذبات میں آکر ڈال دی تھیں آس لیے یہ والدین کے لیے امتحان ہوتا ہے تکلیف دہ باتیں اپنے تک محدود رکھ کر خود تکلیف برداشت کرکے بچوں کے دلوں کو زہر آلود ہونے سے بچا لیا جائے ۔

    آپ آج اپنے رشتہ داروں کے خلاف ان کے دلوں میں زہر ڈالیں گے تو یہ زہر کل سب سے پہلے آپ پر ازمائیں گے ۔ اپنے بچوں کو اچھے استاد سے قران مجید کی تعلیم دلوائیں جب آپکا بچہ قرآن مجید ختم کرلیتا ہےتو والدین انہیں، سورہ یوسف، سورہ نور ۔سورہ احزاب کی تفسیر اچھی طرح سے سمجھا دیں تاکہ انہیں معاشرتی قوائد کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کی حفاظت کرنا، سمجھ میں آجائے گااپنے بچوں کی دن بھر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں ۔جھوٹ بولنےچوری جیسی برائیوں کی ناپسندگی اور اللہ کی ناراضگی اور اس کے نقصانات شروع سے ہی بچے کے دل ودماغ میں ڈال دیں ۔یورپ میں رہنے والے والدین کو چاہئیے کھانے پینے کی چیزیں خود گھر لاکر رکھیں 18 سال سے پہلے بچے کو کبھی پیسے نہ دیں اسے بولیں جو کچھ کھانا ہے یا لینا ہے ہم لے کر دیں گے ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا بچہ باہر کے ماحول کی برائیوں سے بچ جائے گا کسی سے کچھ بھی نہیں لیکر کھائے گا ۔۔ جب جب موقع ملے اپنے آس پاس یا پھر اپنے پڑوسی رشتہ داروں کے بچوں کو بھی اچھی تربیت دینے کی کوشش کریں اپنے بچوں جیسی جیسا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سلجھے ہوئے ہوں ایک اچھے شہری بنیں اسی طرح باقی بچوں پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ ہم نے روز قیامت صرف اپنے بچے کے بارے میں حساب نہیں دینا بلکہ ارد گرد کے بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گااس لیے دوسروں کے بچوں کو بھی اپنے بچے سمجھ کر ان کو صحیح غلط کی تمیز سکھائیں جو کچھ اپ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں وہ ان بچوں کو بھی سکھائیں ۔بچوں کی بہترین پروش کرنے کے ساتھ اپنے آس پاس کا ماحول بھی خوبصورت بنائیں کہ سیانے کہتے ہیں جہاں رہو ایسے رہو کہ آپ پاس ہوں تو ہنسیں ۔آپ چلے جائیں تو روئیں کسی کو ذلیل کرنے کی کوشش بھی نہ کریں، جو بات آپ کو تکلیف دیتی ہےآپکو کو بےچین کرتی ہے وہ بات دوسروں سے بھی نہ کریں جس سے وہ انسان درد محسوس کرے اگر کسی کو اپنی زات سے خوشی نہیں دے سکتے تو درد بھی نہ دیں انسان اللہ کی سب سے پیاری مخلوق ہے۔ اگر کوئی انسان آپ کے مطلوبہ معیار کا نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کم معیاری یا غیر معیاری ہے بلکہ وہ صرف آپ کے معیار کا نہیں ہے، یہ بھی تو ممکن ہے کہ آپ بھی کسی کے مطلوبہ معیار سے نچلے درجے پر ہوں، اور وہ اپکی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتا ہو ۔اللہ کی مخلوق کو اپنی پسند کے معیار پر نہ پرکھیں اگر آپ کے پاس بےشمار دولت ہے تو وہ اپ کی اپنی ذات کے لیے ہے دوسروں کو اس کا رتی بھر فائدہ نہیں ان کو فائدہ اگر کچھ ہے تو اپ کا ان کے ساتھ اچھا رویہ ہے اگر آپ ان کو دھتکاریں گے تووہ کونسا آپکو پھولوں کے ہار پہنائیں گے پیار عزت دینا بھی اعلی ظرف لوگوں کے پاس ہوتا ہے کم ظرف لوگوں کو اللہ نے یہ خوبی دی ہی نہیں ہوتی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اسوہ حسنہ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی انسان اگر اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ معیار کا بھی نہیں ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اسے بطور انسان اسے کبھی کم تر نہیں جانا اس کی سب سے بڑی مثال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورہ طائف سے ملتی ہے کہ جہاں آپ پر پتھر برسا کر آپ کو زخمی کیا گیا زبانی اور جسمانی ایذا دیا گیا وہاں بھی آپ نے بد کلامی، بد گمانی اور بد دعا کا سہارا نہیں لیا بلکہ اچھے گمان کے ساتھ دعا فرمائی، اس لئے اپنی پسند اپنی سوچ اور اپنی مرضی اپنی خواہش کو ٹھیک جان کر اللہ کے بندوں کے لئے فیصلے نہ کیجئے،بےشک آپ دن رات مصلحے پر بیٹھے ہوں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہوں بے شک، آپ ایک سال میں چھ مہینے روزے رکھتے ہوں بے شک، آپ ہر ہفتے دو قرآن مجید مکمل کرتے ہوں بے شک،آپ جتنا کوئی نیک بندہ دنیا میں نہ ہو ، لیکن اللہ کے بندوں کو سخت سست سناتے ہوں، انہیں اپنے لیول کا نہیں مانتے ان سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہوں اپنی باتوں سے اپنے رویے سے ان کے دل چھلنی کرتے ہوں تو صرف ایک دفعہ وہ حدیث مبارک ضرور یاد کریں جس میں ایک نمازی، روزہ دار، زکوٰۃ ادا کرنے والے کے منہ پر اس کے اعمالوں کی گٹھڑی واپس مار دینے کا ذکر ہے،اور یہ واقعہ ایسا ڈرا دینے والا ہے کہ اگر انسان کو خود سے واقعی محبت ہے تو وہ ایسے کاموں سے بچ کر نکلنے کی کوشس کرے گا جس سے اللہ کی پکڑ کا ڈر ہوتا ہو اللہ تعالی ایسا وقت کسی دشمن پر بھی نہ لائے کہ اس کے اچھے کام اس کی عبادت ۔ایک ذرا سے تکبر کی وجہ سے اس کے منہ پر ماردی جائے اللہ سبحان تعالی ہمیں سیدھے راستے پر چلائے گمراہی اور تکبر سے محفوظ رکھے آمین ثمہ آمین

  • لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    دور حاضر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر متحرک ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے مثبت اثرات ہیں وہیں پر ایک تعداد اپنی منفی سوچ اور عوامل سے سوشل میڈیا سے منسلک لوگوں کے لئے تکلیف اور منفیت کا بھی باعث ہے۔
    ذاتی حیثیت میں کوئی بھی چیز بُری نہی ہوتی جبتک اُس میں منفی عوامل کی آمیزش نہ کر دی جائے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ایک مضبوط اور وسیع پلیٹفارم مہیا کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کُچھ منفی سوچ کے حامل لوگوں کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی برائی کے اثرات سے بچ نہ پایا۔
    سوشل میڈیا پر مرد و زن اپنی صلاحیات کو بروئےکار لانے میں یکساں طور پر متحرک اور اپنی قابلیت کی نکھار میں مصروفِ عمل ہیں۔
    لیکن ایک بڑی تعداد اُن خواتین کی بھی ہے جو سوشل میڈیا پر موجود اوباش نوجوانوں کے منفی عوامل کی شکار نظر آتی ہیں اور بعظ اوقات انہی ہراسانی کیوجہ سے کنارہ کشی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دنیا کے بائیس مختلف ممالک کی لڑکیوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹفارمز میں سے فیس بُک پر سب سے سے زیادہ خواتین کو بدسلوکی کاسامنا نوٹ کیا گیا ہے۔

    ایک عالمی سروے کے مطابق آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے لڑکیاں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنےپر مجبور ہورہی ہیں۔ اس سروے میں شامل 58 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کے مطابق انہیں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسٹاگرام، واہٹس ایپ اور سنیپ چیٹ کا نمبر ہے۔
    پلان انٹرنیشنل نامی تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں 22 ممالک میں 15 سے 22 برس کی عمر کی 14000 لڑکیوں سے بات کی گئی۔ اس میں امریکا، برازیل، یورپین ممالک اور بھارت کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔  ادارے کے مطابق ان لڑکیوں سے تفصیلی گفتگو کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بدسلوکی کا یہ سلسلہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی بدولت نوجوان اور ٹیلینٹڈ لڑکیوں کی بڑی تعداد خود یا اپنی فیملی کی وجہ سے سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوئیں

    فیس بُک
     سوشل میڈیا پر خواتین پر بد سلوکی اور ہراسانی ایک عام بات تصور کی جاتی ہے۔ فیس بک پر یہ حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔  39 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق انسٹا گرام پر 23 فیصد، واہٹس ایپ پر 14 فیصد، اسنیپ چیٹ پر 10 فیصد، ٹوئٹر پر 9فیصد اور ٹک ٹاک پر6 فیصد لڑکیوں کو  ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کا رجحان پایا گیا ہے۔ جو بتدریج بڑھ رہا ہے

    کوئی سوشل میڈیا محفوظ ہے؟
    سروے سے اندازہ ہوا کہ بدسلوکی یا ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک لڑکی نے سوشل میڈیا کا استعمال یا تو بند کردیا یا اسے بہت حد محدود کردیا۔ سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد ہر دس میں سے ایک لڑکی کے اپنی رائے کے اظہار کے طریقہ میں بھی تبدیلی آئی۔
    سروے میں شامل 22 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ یا ان کی سہیلیوں نے ہراسانی کے خوف کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
    سروے میں شامل 59 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرحملے کا سب سے عمومی طریقہ توہین آمیز، غیر مہذب اور نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال تھا۔  41 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ارداتاً شرمندہ کرنے کے اقدامات سے متاثر ہو کر کنارہ کش ہوئیں، حتیٰ کہ باڈی شیمنگ‘ اور جنسی تشدد کے خطرات کے خوف نے اُنہیں مجبور کر دیا۔ اسی طرح 39 فیصد نسلی اقلیتوں پر حملے، نسلی بدسلوکی کی شکار ہوئیں۔

    خود اعتمادی کو زوال
    پلان انٹرنیشنل کی سی ای او اینی بریگیٹ البریکسٹن کا کہنا تھا کہ ”اس طرح کے حملے جسمانی نہیں ہوتے لیکن وہ لڑکیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور سوشل ایکٹیویٹی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ان کے اعتماد محدود کردیتے ہیں۔

    اینی بریگیٹ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو آن لائن تشدد کا خود ہی مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    فیس بک اور انسٹا گرام انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بدسلوکی سے متعلق رپورٹوں کی نگرانی کرتے ہیں اور دھمکی آمیز مواد کا پتہ لگانے کے لیے آرٹیفیشل یا فہمی انٹلی جینس کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
    ٹوئٹر کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایسی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جو توہین آمیز مواد کی نشاندہی کرسکے اور اسے روک سکے۔
    سوشل میڈیا مینجمنٹ کے اِن اقدامات کے باوجود مذکورہ بالا سروے  سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے والی تکنیک اب تک اُس طرح سے موثر نہیں رہی۔
    چنانچہ مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اِس اخلاقی اور قانونی جُرم کی روک تھام کی جا سکے۔
    اس کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں کے اعتماد اور ہمت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ ہر آنے والے چیلنج کے ساتھ کامیابی سے نمٹ سکیں۔ شکریہ

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے رکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    وقت ضائع کرنے سے کیسے رکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ اول

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے اور زیادہ نتیجہ خیز بنایا جہ سکے اس تحریر میں ہم آپکو گائیڈ کریں گے.

    اگر کوئی ساتھی آپ کی میز پر آیا ، آپ کا پرس اٹھایا اور آپ سے پوچھے بغیر پوچھے کچھ پیسے آپ کے پرس سے نکال لے تو کیا آپ مشتعل ہو جائیں گے؟ پھر بھی ، اگر کوئی ساتھی آپ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ کا ویک اینڈ کیسا رہا ، آپ اس کے ساتھ بالکل ٹھیک ہوں گے؟

    یہ مثال یہاں اس لیے دی گئی کسی نے آپ کے پیسے لیے۔ دوسرے میں ، کسی نے آپ کے وقت کا دس منٹ لیا۔ آپ ہمیشہ زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں لیکن آپ کبھی زیادہ وقت نہیں کمائیں گے۔تو اس سے ثابت ہوا کے وقت اہم ہے زیادہ پیسوں سے.

    بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ یقین ہے کہ پیسہ ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ وقت ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے اگر آپ کے پاس اس سے لطف اندوز ہونے کا وقت نہیں ہے۔ جب آپ کا وقت ختم ہو جائے تو آپ کبھی بھی اپنے پیسے اپنے ساتھ نہیں لے سکیں گے۔ وقت ضائع کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کی پیمائش کرنے کا ایک اچھا طریقہ یہ دیکھنا ہے کہ آپ ہر دن اپنا وقت کیسے گزار رہے ہیں۔کیا اس وقت کا آپ صحیح استعمال کر رہے ہیں یہ پھر آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے.

    اگر آپ ہر دن بے مقصد گزر رہے ہیں – بالکل آخری لمحے میں جاگتے ہوئے ، کافی پیتے ہوئے ، دروازے سے باہر نکل کر ایسی نوکری پر جانے کے لیے جو آپ کو متاثر نہیں کرتی یا آپ کو اپنے مقاصد کی طرف نہیں لے جاتی اور دن کے اختتام پر گھر لوٹ کر صوفے پر بیٹھ کر اپنے ٹی وی یا فون پر گھنٹوں بے معنی تفریح ​​کرتے ہیں… تو آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا دن ضائع ہو گیا ہے ، تو شاید یہ تھا۔ آپ ہر دن اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ تو اس وقت کو ضائع کرنے سے روکنے کے لیے اب سے آپ کیا کر سکتے ہیں؟

    اپنا ہر دن کسی منصوبے سے شروع کریں دن کے لئے ایک منصوبہ ضروری ہے وقت کا سب سے بڑا ضیاع دن یا ہفتے کے لیے کسی قسم کا منصوبہ نہ بنانا ہے۔ جب ہمارے پاس دن کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہوتا ہے ، ہم دن بھر کسی بھی ایسی چیز پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں جو ہمارے راستے میں آتی ہے اور اپنے مقاصد یا مقصد کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کرتی ہے۔
    جیسے کے سوشل میڈیا کے لوگو کے پیغامات ان پر اپنا گھنٹوں وقت ضائع کرنا. ہم خبریں دیکھتے ہیں اور سیاستدانوں پر ہم پر غصہ کرنے لگتے ہیں اور اس ہی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے پھر ان لوگوں کے بارے میں ہیں کسی کے ساتھ سیاسی گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے جو ہمارے خیالات نہیں بانٹتے۔ یہ ‘مباحثے’ ہمیں مایوس کرتے ہیں ، ہمارے منفی جذبات کو بڑھاتے ہیں اور ہم ناراض اور خالی محسوس کرتے ہیں۔اور اس طرح صرف اور صرف ہم وقت ضائع کرتے ہیں.اور ساتھ اپنی طاقت بھی. اگر آپ رک گئے اور اپنے آپ سے پوچھا کہ آپ اس طرح کے مباحثوں میں کیوں شامل ہو رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔ آپ کسی ایسے شخص کو قائل کرنے کا امکان نہیں رکھتے جو آپ کے سیاسی عقائد کا اشتراک نہیں کرتا ہے تاکہ وہ اپنا خیال بدل سکے۔تو پھر ہم اپنا وقت اسکو سمجھانے میں کیوں ضائع کریں. اگر سیاست آپ کے لیےاتنا ہی اہم ہے تو سیاستدان بنیں۔ اگر نہیں ، تو ان ‘مباحثوں’ سے دور رہیں۔ وہ کچھ بھی تبدیل نہیں کریں گے اور صرف آپ کے وقت کا ضیاع ہیں۔

    کن چیزوں میں باتوں میں وقت یہ ضیا ع ہے ہمیں علم ہونا چائیے. اس بات سے آگاہ ہونا کہ آپ کا وقت کہاں ضائع ہوگیا ضروری ہے ، آپ کے دستیاب وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا پہلا قدم ہے یہ ہی ہے کے پتہ رکھیں کیا کام آپکی ضرورت ہے اور کیا آپ غیر ضروری کر رہے ہیں۔ بنیادی باتوں سے شروع کرتے ہوئے ، ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے جو ہمیں متاثر کرے۔ اگر آپ کی موجودہ نوکری آپ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے تو ، کچھ وقت لگانے کے لیے ایسی پیشہ تلاش کریں جو آپ کو متاثر کرے آپ اپنے وقت کا اچھا استعمال کریں گے۔

    یہ دیکھنا کہ آپ سوشل میڈیا پر کتنا وقت گزار رہے ہیں اس سے آگاہ ہونا ایک اور شعبہ ہے۔ کیا آپ اپنے سوشل میڈیا فیڈز کے ذریعے سکرول کرنے میں بہت زیادہ وقت گزار رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ، شاید آپ کو ہر دن وہاں گزارنے والے وقت کو محدود کرنا چاہئے۔اس چیز کو اکثر ہم توجہ نہں دیتے کے ہم گھنٹوں سوشل میڈیا کا استعمال اور وہ بھی بے وجہ کرتے اور سے ضائع ہونے والے وقت کو ہیں کہیں صحیح استعمال کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @Aworrior888

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی؛ چھاتی کا سرطان کیسے ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہیں ؟  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    چھاتی کا سرطان یہ ہے کہ خواتین میں سب سے عام حملہ آور کینسر اور اس لئے کارسینوما کے بعد خواتین میں کینسر کی موت کی دوسری اہم وضاحت ہے۔چھاتی کا سرطان ایک بیماری ہے جس کے دوران چھاتی کے اندر خلیات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔چھاتی کے سرطان کی مختلف اقسام ہیں۔ کارسینوما کی قسم کا انحصار اس بات پر ہے کہ چھاتی کے اندر کون سے خلیات کینسر بن جاتے ہیں۔چھاتی کا سرطان چھاتی کے مختلف حصوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ایک چھاتی تین اہم حصوں سے بنتی ہے: لوبلز، نالیاں اور جانوروں کے ٹشو۔لوبلوہ وہ غدود ہیں جو دودھ پیدا کرتے ہیں۔ نالیاں ٹیوبیں ہیں جو دودھ کو نپل تک لے جاتی ہیں۔جانوروں کے ٹشو (جو ریشے دار اور چربی دار ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے) ہر چیز کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور گھیر لیتا ہے۔زیادہ تر چھاتی کے سرطان نالیوں یا لوبلز میں شروع ہوتے ہیں۔ چھاتی کا سرطان خون کی شریانوں اور لمف شریانوں کے ذریعے چھاتی کے باہر پھیل سکتا ہے۔جب کارسینوما جسم کے دیگر حصوں میں پھیلتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں میٹاسٹائزڈ ہوتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی اقسام: چھاتی کے سرطان کی کئی مختلف اقسام ہیں، بشمول: ڈکٹل کارسینوما: یہ دودھ کی نالیوں کے اندر شروع ہوتا ہے اور یہ عام قسم ہے۔لوبلر کارسینوما: یہ لوبلز میں شروع ہوتا ہے۔ حملہ آور کارسینوما اس وقت ہوتا ہے جب کینسر کے خلیات لوبلز یا نالیوں کے اندر سے فرار ہو جاتے ہیں اور قریبی ٹشو پر حملہ کرتے ہیں۔اس سے کینسر کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ کیسے ہوتا ہے؟ بلوغت کے بعد عورت کی چھاتی چربی، جانوروں کے ٹشو اور ہزاروں لوبلز پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ چھوٹے غدود ہیں جو دودھ پلانے کے لئے دودھ پیدا کرتے ہیں۔ چھوٹی ٹیوبیں، یا نالیاں، دودھ کو نپل کی طرف لے جاتی ہیں۔سرطان خلیوں کو بے قابو ہونے کا سبب بنتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چکر میں معیاری مقام پر نہیں مرتے ہیں۔خلیات کی یہ ضرورت سے زیادہ نشوونما کینسر کا سبب بنتی ہے کیونکہ ٹیومر غذائی اجزاء اور توانائی کا استعمال کرتا ہے اور اس کے ارد گرد کے خلیوں کو محروم کرتا ہے۔چھاتی کا سرطان عام طور پر دودھ کی نالیوں یا دودھ کی فراہمی کرنے والی لوبلز کی اندرونی لائننگ میں شروع ہوتا ہے۔وہاں سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی علامات: کارسینوما کی پہلی علامات عام طور پر چھاتی کے اندر گاڑھے ٹشو کے پڑوس یا چھاتی یا بغل کے اندر ایک گٹھلی کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔دیگر علامات میں شامل ہیں: بغلوں یا چھاتی کے اندر درد جو چھاتی کی جلد کے ماہانہ چکر پٹنگ یا لالی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، تقریبا ایک نارنگی کی سطح کی طرح ایک نپل سے خارج ہونے والی چونچوں میں سے ایک کے ارد گرد یا ایک پر دانے، ممکنہ طور پر خون میں ایک ڈوبا ہوا یا الٹا نپل چھاتی کے چھلکے کے سائز یا شکل کے اندر ایک تبدیلی، چھاتی یا نپل پر جلد کی چھلکا لگانا، یا اسکیلنگ کرنا زیادہ تر چھاتی کی گٹھلیاں کینسر زدہ نہیں ہوتی ہیں۔تاہم، خواتین کو معائنہ کے لئے ڈاکٹر سے ملنے جانا چاہئے اگر انہیں چھاتی پر گٹھلی نظر آئے۔اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے؟ چھاتی کے سرطان کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔یہ چھاتی کے سرطان کی قسم اور اس کے پھیلنے کی حد تک پر منحصر ہے۔کارسینوما کے شکار افراد اکثر کافی خاموش علاج حاصل کرتے ہیں۔ سرجری: ایک آپریشن جہاں ڈاکٹروں نے کینسر کے ٹشو کو کاٹ دیا۔کیموتھراپی: کینسر کے خلیوں کو سکڑنے یا مارنے کے لئے خصوصی ادویات کا استعمال۔دوائیں اکثر گولیاں ہیں جو آپ لے رہے ہیں یا آپ کی رگوں میں دی جانے والی دوائیں ہیں، یا کبھی کبھی دونوں۔ہارمونل تھراپی: کینسر کے خلیات کو ان ہارمونز کو حاصل کرنے سے روکتا ہے جو انہیں بڑھنا ہوتا ہے۔حیاتیاتی تھراپی.: کینسر کے خلیوں سے لڑنے یا کینسر کے دیگر علاج سے ضمنی اثرات کو منظم کرنے میں مدد کرنے کے لئے اپنے جسم کے نظام کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔تابکاری تھراپی. کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لئے اعلی توانائی کی شعاعوں (ایکسرے کی طرح) کا استعمال کرنا۔علاج کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، بشمول: کینسر کی قسم اور مرحلہ عمر، مجموعی صحت اور فرد کی ترجیحات ہارمونز کے بارے میں شخص کی حساسیت۔کسی فرد کے علاج کی قسم کو متاثر کرنے والے عوامل میں کینسر کا مرحلہ، دیگر طبی حالات اور انفرادی ترجیح شامل ہوں گے۔

    TA: @AhtzazGillani

  • باحجاب خواتین تحریر:رضوان۔

    بعض نام نہاد پروفیسر سرکولر طبقہ جس نے ستمبر میں ایک پروفیسر ہود نامی شخص کے بیان کے تناظر میں خواتین کے حجاب کو لیکر باحجاب خواتین کو یہ کہہ رہے تھے کہ وہ نارمل نہیں ہوتی کیوں نارمل نہیں ہوتی کیا حجاب پہننے سے دماغ کمزور ہوتا ہے؟ کیا حجاب کے وزن سے انرجی ضائع ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں حجاب والی خواتین ناصرف نارمل ہوتی ہے بلکہ سب سے اوپر درجہ کی عزت رکھتی ہے ہر کوئی ان کو گردن نیچ کر کے آداب و سلام کرتا ہے معاشرے میں ان کے آنے سے لفنگر بھی راستے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ باحجاب خواتین صحافی اس وقت بھی پاکستانی میڈیا میں کام کر رہی ہے  مردان میں باحجاب لڑکی نے انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ کیا ہے 

     قرآن پاک حجاب کی بات کرتا ہے۔  قرآن مجید کی سورہ 24 کی آیات 30-31 جو کہ معنی دیتی ہیں:

     *{مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور حیا کریں۔  یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔  لو!  اللہ ان کے کاموں سے باخبر ہے۔  اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور نرمی اختیار کریں اور اپنی زینت کو صرف ظاہر کریں اور اپنے سینوں پر پردہ ڈالیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں اور باپوں یا شوہروں کے۔  باپ ، یا ان کے بیٹے یا ان کے شوہروں کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے بھائیوں کے بیٹے یا بہنوں کے بیٹے ، یا ان کی عورتیں ، یا ان کے غلام ، یا جوان جوان جوش و خروش سے محروم ہیں ، یا وہ بچے جو عورتوں کی برہنگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔  اور وہ اپنے پاؤں پر مہر نہ لگائیں تاکہ وہ اپنی زینت کو چھپائیں۔  اور اللہ کی طرف رجوع کرو اے ایمان والو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ}}*

     نیز سورہ کی آیت 59 ، جس کے معنی یہ ہیں:

     *{اے نبی!  اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہو کہ جب وہ بیرون ملک جاتے ہیں تو اپنے چادر ان کے قریب رکھیں۔  یہ بہتر ہوگا ، تاکہ وہ پہچانے جائیں اور ناراض نہ ہوں۔  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔}*

     مندرجہ بالا آیات بہت واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خود اللہ تعالی ہے ، جو عورتوں کو حجاب پہننے کا حکم دیتا ہے ، حالانکہ مذکورہ آیات میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔  درحقیقت ، اصطلاح حجاب کا مطلب جسم کو ڈھانپنے سے کہیں زیادہ ہے۔  اس سے مراد ضابطہ اخلاق ہے جو اوپر بیان کردہ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

     استعمال شدہ تاثرات: "ان کی نگاہیں نیچی رکھیں” ، "معمولی رہیں” ، "اپنی زینت نہ دکھائیں” ، "ان کے سینوں پر پردہ ڈالیں” "ان کے پاؤں پر مہر نہ لگائیں” وغیرہ۔

     یہ کسی بھی سوچنے والے شخص کے لیے واضح ہونا چاہیے کہ قرآن کریم میں مذکورہ بالا تمام بیانات سے کیا مراد ہے۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں ایک قسم کا لباس پہنتی تھیں جو سر کو ڈھانپتا تھا ، لیکن سینے کو صحیح طریقے سے نہیں۔  چنانچہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں پر اپنے پردے کھینچیں تاکہ ان کی خوبصورتی ظاہر نہ ہو ، تو یہ بات واضح ہے کہ لباس کو سر کے ساتھ ساتھ جسم کو بھی ڈھانپنا چاہیے۔  اور بالوں کو دنیا کی بیشتر ثقافتوں میں لوگ سمجھتے ہیں – نہ صرف عرب ثقافت میں – عورت کی خوبصورتی کا ایک پرکشش حصہ۔

     انیسویں صدی کے اختتام تک ، مغرب میں خواتین کسی قسم کا ہیڈ گیئر پہنتی تھیں ، اگر پورے بالوں کا احاطہ نہیں۔  یہ خواتین کے لیے اپنے سر ڈھانپنے کے بائبل کے حکم کے مطابق ہے۔  یہاں تک کہ ان تنزلی کے اوقات میں ، لوگ معمولی لباس زیب تن کرنے والی خواتین کو زیادہ احترام کرتے ہیں ، کم لباس پہننے والوں کے مقابلے میں۔  ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ایک خاتون وزیراعظم یا ملکہ نے کم کٹ بلاؤز یا منی سکرٹ پہنے تصور کریں!  کیا وہ وہاں اتنی عزت دے سکتی ہے جتنی اسے ملتی اگر وہ زیادہ معمولی لباس میں ہوتی؟

     مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر ، اسلام کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اوپر بیان کردہ قرآنی آیات کا واضح مطلب ہے کہ عورتوں کو سر اور پورے جسم کو ڈھانپنا چاہیے سوائے چہرے اور ہاتھ کے۔

     کیا حجاب عورت کو اپنے روز مرہ کے فرائض انجام دینے سے روکتا ہے؟

     ایک عورت عام طور پر اپنے گھر میں حجاب نہیں پہنتی ، اس لیے جب وہ گھر کا کام کر رہی ہو تو اس کے راستے میں نہیں آنا چاہیے۔  اگر وہ مشینری کے قریب یا کسی لیبارٹری میں کسی فیکٹری میں کام کر رہی ہے ، مثال کے طور پر – وہ ایک مختلف انداز کا حجاب پہن سکتی ہے جس میں ڈریگنگ اینڈز نہیں ہیں۔  دراصل ڈھیلا پتلون اور لمبی قمیض مثال کے طور پر اسے قدموں یا سیڑھیوں کو موڑنے ، اٹھانے یا چڑھنے کی اجازت دیتی ہے ، اگر اس کا کام اس کی اجازت دیتا ہے۔  اس طرح کا لباس یقینی طور پر اسے نقل و حرکت کی زیادہ آزادی دے گا جبکہ ایک ہی وقت میں اس کی شائستگی کی حفاظت کرے گا۔

     تاہم یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ وہی لوگ جو خواتین کے اسلامی ڈریس کوڈ میں عیب تلاش کرتے ہیں وہ راہبہ کے لباس میں کسی بھی چیز کو نامناسب نہیں سمجھتے۔  یہ واضح ہے کہ مدر ٹریسا کے "حجاب” نے اسے سماجی کام سے نہیں روکا!  اور مغربی دنیا نے اسے نوبل انعام سے !  لیکن وہی لوگ بحث کریں گے کہ حجاب ایک مسلمان لڑکی کے لیے سکول میں یا ایک مسلمان خاتون کے لیے سپر مارکیٹ میں کیشیئر کے طور پر کام کرنے میں رکاوٹ ہے۔  یہ ایک قسم کی منافقت یا دوہرا معیار ہے جو کہ متضاد طور پر کچھ "نفیس” لوگوں کو فیشن لگتا ہے!

     کیا حجاب ظلم ہے؟  یہ یقینی طور پر ایسا ہوسکتا ہے ، اگر کوئی عورت کو پہننے پر مجبور کرے۔  لیکن اس معاملے کے لیے ، نیم عریانی بھی ایک ظلم ہوسکتی ہے ، اگر کوئی عورت کو اس طرز کو اپنانے پر مجبور کرے۔  اگر مغرب میں یا مشرق میں عورتوں کو اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی آزادی ہے تو مسلم خواتین کو زیادہ معمولی لباس کو ترجیح دینے کی اجازت کیوں نہیں

    Twitter @RizwanANA97

  • بچوں کی مشین تحریر :ذیشان اخوند خٹک

    بچوں کی مشین

    آپ نے بچوں کی مشین کا نام دیکھ کر ضرور سوچا ہوگا کہ انگریزوں نے کوئی روبوٹ یا مشین ایجاد کیا ہوگا جو کہ بچے کو تیار کریگا مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے کہ یہ مشین ہم لوگوں نے ہی ایجاد کی ہے اور یہ مشین کسی لوہے سے نہیں بنائی ہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان سے بنائی ہے اور اس بدنصیب جیتی جاگتی کو معاشرہ میں عورت کے نام سے پکارا جاتا ہے.

    پاکستان میں اس ظلم کی شرح شہروں کے مقابلے میں گاوں میں بہت زیادہ ہے. اس ظلم کے خلاف معروف ڈرامہ نگار نور الہدی شاہ نے 2017 میں سمی کے نام پر ایک ڈرامہ لکھا جو کہ ہم ٹی وی پر نشر ہوگیا. وہ ڈرامہ تو دراصل ونی مطلب دیت میں لڑکی دینے کے مکروہ عمل کے خلاف تھا مگر انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈرامہ سیریل میں بچوں کی مشین کی مسئلہ بھی اجاگر کیا.
    پاکستان دنیا میں عورتوں کے بدترین حالت میں نویں نمبر پر ہے.

    آج سے چودہ سو سال پہلے عرب میں یہ رواج شروع ہوگیا تھا کہ زندہ بیٹیوں کو دفنا دیتے تھے مگر آج کل تو یہ عمل ان سے بھی بدتر ہورہا ہے کیونکہ مرد کی غلطی بھی عورت کے جھولی میں ڈال دیتی ہے اور اسے پھر ساری زندگی طعنے دیتے رہتے ہیں اور وہ بیچاری روزمرہ کے طعنوں کی وجہ سے روزانہ زندہ اور مرتی ہے.

    آج کل ایک بیٹا پیدا کرنے کیلئے مرد اور ان کے سسرال اس بیچاری کو بچوں کی مشین بنادیتے ہیں اور اس زیادہ بچے پیدا ہونے کی وجہ سے عورت کے جسم میں خون ناپید ہوجاتا ہے. جس سے ان کی زندگی کمزوری کی وجہ سے زندہ لاش بن جاتی ہے اور ہر بیماری ان کے جسم میں پیدا ہوجاتی ہے اور پھر ان بیچاری عورت کو ہر وقت بیمار رہنے کی طعنے بھی سننے پڑتے ہیں.

    ہم تو بس نام کے مسلمان ہے اور اس موقعہ پر ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے کہ وہ کس کو بیٹیوں سے نوازتا ہے اور کسی کو بیٹوں سے اور کسی کو بے اولاد کر دیتا ہے. پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ بانجھ عورت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے سے نوازا.

    عورت معاشرہ کا ایک حصہ ہے اور انہیں وہ مقام اور عزت دے جو انہیں اسلام نے عطا کردیا ہے. بیٹے کے نام پر عورت کی تذلیل نہ کرے کیونکہ اولاد باپ کے نصیب سے پیدا ہوتے ہیں. بیٹی پیدا ہونے میں ماں کا کوئی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک تقسیم ہے. بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہوتی ہیں. جو شخص اپنے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کرتا ہے اسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی.

    بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہے۔
    گھر جو خدا کو پسند ہوتا ہے وہاں ہوتی ہے

    ٹویٹر ہینڈل
    @ZeeAkhwand10