Baaghi TV

Category: خواتین

  • لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    دور حاضر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر متحرک ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے مثبت اثرات ہیں وہیں پر ایک تعداد اپنی منفی سوچ اور عوامل سے سوشل میڈیا سے منسلک لوگوں کے لئے تکلیف اور منفیت کا بھی باعث ہے۔
    ذاتی حیثیت میں کوئی بھی چیز بُری نہی ہوتی جبتک اُس میں منفی عوامل کی آمیزش نہ کر دی جائے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ایک مضبوط اور وسیع پلیٹفارم مہیا کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کُچھ منفی سوچ کے حامل لوگوں کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی برائی کے اثرات سے بچ نہ پایا۔
    سوشل میڈیا پر مرد و زن اپنی صلاحیات کو بروئےکار لانے میں یکساں طور پر متحرک اور اپنی قابلیت کی نکھار میں مصروفِ عمل ہیں۔
    لیکن ایک بڑی تعداد اُن خواتین کی بھی ہے جو سوشل میڈیا پر موجود اوباش نوجوانوں کے منفی عوامل کی شکار نظر آتی ہیں اور بعظ اوقات انہی ہراسانی کیوجہ سے کنارہ کشی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دنیا کے بائیس مختلف ممالک کی لڑکیوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹفارمز میں سے فیس بُک پر سب سے سے زیادہ خواتین کو بدسلوکی کاسامنا نوٹ کیا گیا ہے۔

    ایک عالمی سروے کے مطابق آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے لڑکیاں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنےپر مجبور ہورہی ہیں۔ اس سروے میں شامل 58 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کے مطابق انہیں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسٹاگرام، واہٹس ایپ اور سنیپ چیٹ کا نمبر ہے۔
    پلان انٹرنیشنل نامی تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں 22 ممالک میں 15 سے 22 برس کی عمر کی 14000 لڑکیوں سے بات کی گئی۔ اس میں امریکا، برازیل، یورپین ممالک اور بھارت کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔  ادارے کے مطابق ان لڑکیوں سے تفصیلی گفتگو کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بدسلوکی کا یہ سلسلہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی بدولت نوجوان اور ٹیلینٹڈ لڑکیوں کی بڑی تعداد خود یا اپنی فیملی کی وجہ سے سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوئیں

    فیس بُک
     سوشل میڈیا پر خواتین پر بد سلوکی اور ہراسانی ایک عام بات تصور کی جاتی ہے۔ فیس بک پر یہ حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔  39 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق انسٹا گرام پر 23 فیصد، واہٹس ایپ پر 14 فیصد، اسنیپ چیٹ پر 10 فیصد، ٹوئٹر پر 9فیصد اور ٹک ٹاک پر6 فیصد لڑکیوں کو  ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کا رجحان پایا گیا ہے۔ جو بتدریج بڑھ رہا ہے

    کوئی سوشل میڈیا محفوظ ہے؟
    سروے سے اندازہ ہوا کہ بدسلوکی یا ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک لڑکی نے سوشل میڈیا کا استعمال یا تو بند کردیا یا اسے بہت حد محدود کردیا۔ سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد ہر دس میں سے ایک لڑکی کے اپنی رائے کے اظہار کے طریقہ میں بھی تبدیلی آئی۔
    سروے میں شامل 22 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ یا ان کی سہیلیوں نے ہراسانی کے خوف کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
    سروے میں شامل 59 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرحملے کا سب سے عمومی طریقہ توہین آمیز، غیر مہذب اور نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال تھا۔  41 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ارداتاً شرمندہ کرنے کے اقدامات سے متاثر ہو کر کنارہ کش ہوئیں، حتیٰ کہ باڈی شیمنگ‘ اور جنسی تشدد کے خطرات کے خوف نے اُنہیں مجبور کر دیا۔ اسی طرح 39 فیصد نسلی اقلیتوں پر حملے، نسلی بدسلوکی کی شکار ہوئیں۔

    خود اعتمادی کو زوال
    پلان انٹرنیشنل کی سی ای او اینی بریگیٹ البریکسٹن کا کہنا تھا کہ ”اس طرح کے حملے جسمانی نہیں ہوتے لیکن وہ لڑکیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور سوشل ایکٹیویٹی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ان کے اعتماد محدود کردیتے ہیں۔

    اینی بریگیٹ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو آن لائن تشدد کا خود ہی مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    فیس بک اور انسٹا گرام انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بدسلوکی سے متعلق رپورٹوں کی نگرانی کرتے ہیں اور دھمکی آمیز مواد کا پتہ لگانے کے لیے آرٹیفیشل یا فہمی انٹلی جینس کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
    ٹوئٹر کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایسی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جو توہین آمیز مواد کی نشاندہی کرسکے اور اسے روک سکے۔
    سوشل میڈیا مینجمنٹ کے اِن اقدامات کے باوجود مذکورہ بالا سروے  سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے والی تکنیک اب تک اُس طرح سے موثر نہیں رہی۔
    چنانچہ مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اِس اخلاقی اور قانونی جُرم کی روک تھام کی جا سکے۔
    اس کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں کے اعتماد اور ہمت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ ہر آنے والے چیلنج کے ساتھ کامیابی سے نمٹ سکیں۔ شکریہ

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے رکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    وقت ضائع کرنے سے کیسے رکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ اول

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے اور زیادہ نتیجہ خیز بنایا جہ سکے اس تحریر میں ہم آپکو گائیڈ کریں گے.

    اگر کوئی ساتھی آپ کی میز پر آیا ، آپ کا پرس اٹھایا اور آپ سے پوچھے بغیر پوچھے کچھ پیسے آپ کے پرس سے نکال لے تو کیا آپ مشتعل ہو جائیں گے؟ پھر بھی ، اگر کوئی ساتھی آپ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ کا ویک اینڈ کیسا رہا ، آپ اس کے ساتھ بالکل ٹھیک ہوں گے؟

    یہ مثال یہاں اس لیے دی گئی کسی نے آپ کے پیسے لیے۔ دوسرے میں ، کسی نے آپ کے وقت کا دس منٹ لیا۔ آپ ہمیشہ زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں لیکن آپ کبھی زیادہ وقت نہیں کمائیں گے۔تو اس سے ثابت ہوا کے وقت اہم ہے زیادہ پیسوں سے.

    بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ یقین ہے کہ پیسہ ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ وقت ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے اگر آپ کے پاس اس سے لطف اندوز ہونے کا وقت نہیں ہے۔ جب آپ کا وقت ختم ہو جائے تو آپ کبھی بھی اپنے پیسے اپنے ساتھ نہیں لے سکیں گے۔ وقت ضائع کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کی پیمائش کرنے کا ایک اچھا طریقہ یہ دیکھنا ہے کہ آپ ہر دن اپنا وقت کیسے گزار رہے ہیں۔کیا اس وقت کا آپ صحیح استعمال کر رہے ہیں یہ پھر آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے.

    اگر آپ ہر دن بے مقصد گزر رہے ہیں – بالکل آخری لمحے میں جاگتے ہوئے ، کافی پیتے ہوئے ، دروازے سے باہر نکل کر ایسی نوکری پر جانے کے لیے جو آپ کو متاثر نہیں کرتی یا آپ کو اپنے مقاصد کی طرف نہیں لے جاتی اور دن کے اختتام پر گھر لوٹ کر صوفے پر بیٹھ کر اپنے ٹی وی یا فون پر گھنٹوں بے معنی تفریح ​​کرتے ہیں… تو آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا دن ضائع ہو گیا ہے ، تو شاید یہ تھا۔ آپ ہر دن اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ تو اس وقت کو ضائع کرنے سے روکنے کے لیے اب سے آپ کیا کر سکتے ہیں؟

    اپنا ہر دن کسی منصوبے سے شروع کریں دن کے لئے ایک منصوبہ ضروری ہے وقت کا سب سے بڑا ضیاع دن یا ہفتے کے لیے کسی قسم کا منصوبہ نہ بنانا ہے۔ جب ہمارے پاس دن کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہوتا ہے ، ہم دن بھر کسی بھی ایسی چیز پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں جو ہمارے راستے میں آتی ہے اور اپنے مقاصد یا مقصد کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کرتی ہے۔
    جیسے کے سوشل میڈیا کے لوگو کے پیغامات ان پر اپنا گھنٹوں وقت ضائع کرنا. ہم خبریں دیکھتے ہیں اور سیاستدانوں پر ہم پر غصہ کرنے لگتے ہیں اور اس ہی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے پھر ان لوگوں کے بارے میں ہیں کسی کے ساتھ سیاسی گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے جو ہمارے خیالات نہیں بانٹتے۔ یہ ‘مباحثے’ ہمیں مایوس کرتے ہیں ، ہمارے منفی جذبات کو بڑھاتے ہیں اور ہم ناراض اور خالی محسوس کرتے ہیں۔اور اس طرح صرف اور صرف ہم وقت ضائع کرتے ہیں.اور ساتھ اپنی طاقت بھی. اگر آپ رک گئے اور اپنے آپ سے پوچھا کہ آپ اس طرح کے مباحثوں میں کیوں شامل ہو رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔ آپ کسی ایسے شخص کو قائل کرنے کا امکان نہیں رکھتے جو آپ کے سیاسی عقائد کا اشتراک نہیں کرتا ہے تاکہ وہ اپنا خیال بدل سکے۔تو پھر ہم اپنا وقت اسکو سمجھانے میں کیوں ضائع کریں. اگر سیاست آپ کے لیےاتنا ہی اہم ہے تو سیاستدان بنیں۔ اگر نہیں ، تو ان ‘مباحثوں’ سے دور رہیں۔ وہ کچھ بھی تبدیل نہیں کریں گے اور صرف آپ کے وقت کا ضیاع ہیں۔

    کن چیزوں میں باتوں میں وقت یہ ضیا ع ہے ہمیں علم ہونا چائیے. اس بات سے آگاہ ہونا کہ آپ کا وقت کہاں ضائع ہوگیا ضروری ہے ، آپ کے دستیاب وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا پہلا قدم ہے یہ ہی ہے کے پتہ رکھیں کیا کام آپکی ضرورت ہے اور کیا آپ غیر ضروری کر رہے ہیں۔ بنیادی باتوں سے شروع کرتے ہوئے ، ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے جو ہمیں متاثر کرے۔ اگر آپ کی موجودہ نوکری آپ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے تو ، کچھ وقت لگانے کے لیے ایسی پیشہ تلاش کریں جو آپ کو متاثر کرے آپ اپنے وقت کا اچھا استعمال کریں گے۔

    یہ دیکھنا کہ آپ سوشل میڈیا پر کتنا وقت گزار رہے ہیں اس سے آگاہ ہونا ایک اور شعبہ ہے۔ کیا آپ اپنے سوشل میڈیا فیڈز کے ذریعے سکرول کرنے میں بہت زیادہ وقت گزار رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ، شاید آپ کو ہر دن وہاں گزارنے والے وقت کو محدود کرنا چاہئے۔اس چیز کو اکثر ہم توجہ نہں دیتے کے ہم گھنٹوں سوشل میڈیا کا استعمال اور وہ بھی بے وجہ کرتے اور سے ضائع ہونے والے وقت کو ہیں کہیں صحیح استعمال کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @Aworrior888

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی؛ چھاتی کا سرطان کیسے ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہیں ؟  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    چھاتی کا سرطان یہ ہے کہ خواتین میں سب سے عام حملہ آور کینسر اور اس لئے کارسینوما کے بعد خواتین میں کینسر کی موت کی دوسری اہم وضاحت ہے۔چھاتی کا سرطان ایک بیماری ہے جس کے دوران چھاتی کے اندر خلیات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔چھاتی کے سرطان کی مختلف اقسام ہیں۔ کارسینوما کی قسم کا انحصار اس بات پر ہے کہ چھاتی کے اندر کون سے خلیات کینسر بن جاتے ہیں۔چھاتی کا سرطان چھاتی کے مختلف حصوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ایک چھاتی تین اہم حصوں سے بنتی ہے: لوبلز، نالیاں اور جانوروں کے ٹشو۔لوبلوہ وہ غدود ہیں جو دودھ پیدا کرتے ہیں۔ نالیاں ٹیوبیں ہیں جو دودھ کو نپل تک لے جاتی ہیں۔جانوروں کے ٹشو (جو ریشے دار اور چربی دار ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے) ہر چیز کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور گھیر لیتا ہے۔زیادہ تر چھاتی کے سرطان نالیوں یا لوبلز میں شروع ہوتے ہیں۔ چھاتی کا سرطان خون کی شریانوں اور لمف شریانوں کے ذریعے چھاتی کے باہر پھیل سکتا ہے۔جب کارسینوما جسم کے دیگر حصوں میں پھیلتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں میٹاسٹائزڈ ہوتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی اقسام: چھاتی کے سرطان کی کئی مختلف اقسام ہیں، بشمول: ڈکٹل کارسینوما: یہ دودھ کی نالیوں کے اندر شروع ہوتا ہے اور یہ عام قسم ہے۔لوبلر کارسینوما: یہ لوبلز میں شروع ہوتا ہے۔ حملہ آور کارسینوما اس وقت ہوتا ہے جب کینسر کے خلیات لوبلز یا نالیوں کے اندر سے فرار ہو جاتے ہیں اور قریبی ٹشو پر حملہ کرتے ہیں۔اس سے کینسر کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ کیسے ہوتا ہے؟ بلوغت کے بعد عورت کی چھاتی چربی، جانوروں کے ٹشو اور ہزاروں لوبلز پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ چھوٹے غدود ہیں جو دودھ پلانے کے لئے دودھ پیدا کرتے ہیں۔ چھوٹی ٹیوبیں، یا نالیاں، دودھ کو نپل کی طرف لے جاتی ہیں۔سرطان خلیوں کو بے قابو ہونے کا سبب بنتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چکر میں معیاری مقام پر نہیں مرتے ہیں۔خلیات کی یہ ضرورت سے زیادہ نشوونما کینسر کا سبب بنتی ہے کیونکہ ٹیومر غذائی اجزاء اور توانائی کا استعمال کرتا ہے اور اس کے ارد گرد کے خلیوں کو محروم کرتا ہے۔چھاتی کا سرطان عام طور پر دودھ کی نالیوں یا دودھ کی فراہمی کرنے والی لوبلز کی اندرونی لائننگ میں شروع ہوتا ہے۔وہاں سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی علامات: کارسینوما کی پہلی علامات عام طور پر چھاتی کے اندر گاڑھے ٹشو کے پڑوس یا چھاتی یا بغل کے اندر ایک گٹھلی کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔دیگر علامات میں شامل ہیں: بغلوں یا چھاتی کے اندر درد جو چھاتی کی جلد کے ماہانہ چکر پٹنگ یا لالی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، تقریبا ایک نارنگی کی سطح کی طرح ایک نپل سے خارج ہونے والی چونچوں میں سے ایک کے ارد گرد یا ایک پر دانے، ممکنہ طور پر خون میں ایک ڈوبا ہوا یا الٹا نپل چھاتی کے چھلکے کے سائز یا شکل کے اندر ایک تبدیلی، چھاتی یا نپل پر جلد کی چھلکا لگانا، یا اسکیلنگ کرنا زیادہ تر چھاتی کی گٹھلیاں کینسر زدہ نہیں ہوتی ہیں۔تاہم، خواتین کو معائنہ کے لئے ڈاکٹر سے ملنے جانا چاہئے اگر انہیں چھاتی پر گٹھلی نظر آئے۔اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے؟ چھاتی کے سرطان کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔یہ چھاتی کے سرطان کی قسم اور اس کے پھیلنے کی حد تک پر منحصر ہے۔کارسینوما کے شکار افراد اکثر کافی خاموش علاج حاصل کرتے ہیں۔ سرجری: ایک آپریشن جہاں ڈاکٹروں نے کینسر کے ٹشو کو کاٹ دیا۔کیموتھراپی: کینسر کے خلیوں کو سکڑنے یا مارنے کے لئے خصوصی ادویات کا استعمال۔دوائیں اکثر گولیاں ہیں جو آپ لے رہے ہیں یا آپ کی رگوں میں دی جانے والی دوائیں ہیں، یا کبھی کبھی دونوں۔ہارمونل تھراپی: کینسر کے خلیات کو ان ہارمونز کو حاصل کرنے سے روکتا ہے جو انہیں بڑھنا ہوتا ہے۔حیاتیاتی تھراپی.: کینسر کے خلیوں سے لڑنے یا کینسر کے دیگر علاج سے ضمنی اثرات کو منظم کرنے میں مدد کرنے کے لئے اپنے جسم کے نظام کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔تابکاری تھراپی. کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لئے اعلی توانائی کی شعاعوں (ایکسرے کی طرح) کا استعمال کرنا۔علاج کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، بشمول: کینسر کی قسم اور مرحلہ عمر، مجموعی صحت اور فرد کی ترجیحات ہارمونز کے بارے میں شخص کی حساسیت۔کسی فرد کے علاج کی قسم کو متاثر کرنے والے عوامل میں کینسر کا مرحلہ، دیگر طبی حالات اور انفرادی ترجیح شامل ہوں گے۔

    TA: @AhtzazGillani

  • باحجاب خواتین تحریر:رضوان۔

    بعض نام نہاد پروفیسر سرکولر طبقہ جس نے ستمبر میں ایک پروفیسر ہود نامی شخص کے بیان کے تناظر میں خواتین کے حجاب کو لیکر باحجاب خواتین کو یہ کہہ رہے تھے کہ وہ نارمل نہیں ہوتی کیوں نارمل نہیں ہوتی کیا حجاب پہننے سے دماغ کمزور ہوتا ہے؟ کیا حجاب کے وزن سے انرجی ضائع ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں حجاب والی خواتین ناصرف نارمل ہوتی ہے بلکہ سب سے اوپر درجہ کی عزت رکھتی ہے ہر کوئی ان کو گردن نیچ کر کے آداب و سلام کرتا ہے معاشرے میں ان کے آنے سے لفنگر بھی راستے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ باحجاب خواتین صحافی اس وقت بھی پاکستانی میڈیا میں کام کر رہی ہے  مردان میں باحجاب لڑکی نے انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ کیا ہے 

     قرآن پاک حجاب کی بات کرتا ہے۔  قرآن مجید کی سورہ 24 کی آیات 30-31 جو کہ معنی دیتی ہیں:

     *{مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور حیا کریں۔  یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔  لو!  اللہ ان کے کاموں سے باخبر ہے۔  اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور نرمی اختیار کریں اور اپنی زینت کو صرف ظاہر کریں اور اپنے سینوں پر پردہ ڈالیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں اور باپوں یا شوہروں کے۔  باپ ، یا ان کے بیٹے یا ان کے شوہروں کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے بھائیوں کے بیٹے یا بہنوں کے بیٹے ، یا ان کی عورتیں ، یا ان کے غلام ، یا جوان جوان جوش و خروش سے محروم ہیں ، یا وہ بچے جو عورتوں کی برہنگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔  اور وہ اپنے پاؤں پر مہر نہ لگائیں تاکہ وہ اپنی زینت کو چھپائیں۔  اور اللہ کی طرف رجوع کرو اے ایمان والو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ}}*

     نیز سورہ کی آیت 59 ، جس کے معنی یہ ہیں:

     *{اے نبی!  اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہو کہ جب وہ بیرون ملک جاتے ہیں تو اپنے چادر ان کے قریب رکھیں۔  یہ بہتر ہوگا ، تاکہ وہ پہچانے جائیں اور ناراض نہ ہوں۔  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔}*

     مندرجہ بالا آیات بہت واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خود اللہ تعالی ہے ، جو عورتوں کو حجاب پہننے کا حکم دیتا ہے ، حالانکہ مذکورہ آیات میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔  درحقیقت ، اصطلاح حجاب کا مطلب جسم کو ڈھانپنے سے کہیں زیادہ ہے۔  اس سے مراد ضابطہ اخلاق ہے جو اوپر بیان کردہ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

     استعمال شدہ تاثرات: "ان کی نگاہیں نیچی رکھیں” ، "معمولی رہیں” ، "اپنی زینت نہ دکھائیں” ، "ان کے سینوں پر پردہ ڈالیں” "ان کے پاؤں پر مہر نہ لگائیں” وغیرہ۔

     یہ کسی بھی سوچنے والے شخص کے لیے واضح ہونا چاہیے کہ قرآن کریم میں مذکورہ بالا تمام بیانات سے کیا مراد ہے۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں ایک قسم کا لباس پہنتی تھیں جو سر کو ڈھانپتا تھا ، لیکن سینے کو صحیح طریقے سے نہیں۔  چنانچہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں پر اپنے پردے کھینچیں تاکہ ان کی خوبصورتی ظاہر نہ ہو ، تو یہ بات واضح ہے کہ لباس کو سر کے ساتھ ساتھ جسم کو بھی ڈھانپنا چاہیے۔  اور بالوں کو دنیا کی بیشتر ثقافتوں میں لوگ سمجھتے ہیں – نہ صرف عرب ثقافت میں – عورت کی خوبصورتی کا ایک پرکشش حصہ۔

     انیسویں صدی کے اختتام تک ، مغرب میں خواتین کسی قسم کا ہیڈ گیئر پہنتی تھیں ، اگر پورے بالوں کا احاطہ نہیں۔  یہ خواتین کے لیے اپنے سر ڈھانپنے کے بائبل کے حکم کے مطابق ہے۔  یہاں تک کہ ان تنزلی کے اوقات میں ، لوگ معمولی لباس زیب تن کرنے والی خواتین کو زیادہ احترام کرتے ہیں ، کم لباس پہننے والوں کے مقابلے میں۔  ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ایک خاتون وزیراعظم یا ملکہ نے کم کٹ بلاؤز یا منی سکرٹ پہنے تصور کریں!  کیا وہ وہاں اتنی عزت دے سکتی ہے جتنی اسے ملتی اگر وہ زیادہ معمولی لباس میں ہوتی؟

     مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر ، اسلام کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اوپر بیان کردہ قرآنی آیات کا واضح مطلب ہے کہ عورتوں کو سر اور پورے جسم کو ڈھانپنا چاہیے سوائے چہرے اور ہاتھ کے۔

     کیا حجاب عورت کو اپنے روز مرہ کے فرائض انجام دینے سے روکتا ہے؟

     ایک عورت عام طور پر اپنے گھر میں حجاب نہیں پہنتی ، اس لیے جب وہ گھر کا کام کر رہی ہو تو اس کے راستے میں نہیں آنا چاہیے۔  اگر وہ مشینری کے قریب یا کسی لیبارٹری میں کسی فیکٹری میں کام کر رہی ہے ، مثال کے طور پر – وہ ایک مختلف انداز کا حجاب پہن سکتی ہے جس میں ڈریگنگ اینڈز نہیں ہیں۔  دراصل ڈھیلا پتلون اور لمبی قمیض مثال کے طور پر اسے قدموں یا سیڑھیوں کو موڑنے ، اٹھانے یا چڑھنے کی اجازت دیتی ہے ، اگر اس کا کام اس کی اجازت دیتا ہے۔  اس طرح کا لباس یقینی طور پر اسے نقل و حرکت کی زیادہ آزادی دے گا جبکہ ایک ہی وقت میں اس کی شائستگی کی حفاظت کرے گا۔

     تاہم یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ وہی لوگ جو خواتین کے اسلامی ڈریس کوڈ میں عیب تلاش کرتے ہیں وہ راہبہ کے لباس میں کسی بھی چیز کو نامناسب نہیں سمجھتے۔  یہ واضح ہے کہ مدر ٹریسا کے "حجاب” نے اسے سماجی کام سے نہیں روکا!  اور مغربی دنیا نے اسے نوبل انعام سے !  لیکن وہی لوگ بحث کریں گے کہ حجاب ایک مسلمان لڑکی کے لیے سکول میں یا ایک مسلمان خاتون کے لیے سپر مارکیٹ میں کیشیئر کے طور پر کام کرنے میں رکاوٹ ہے۔  یہ ایک قسم کی منافقت یا دوہرا معیار ہے جو کہ متضاد طور پر کچھ "نفیس” لوگوں کو فیشن لگتا ہے!

     کیا حجاب ظلم ہے؟  یہ یقینی طور پر ایسا ہوسکتا ہے ، اگر کوئی عورت کو پہننے پر مجبور کرے۔  لیکن اس معاملے کے لیے ، نیم عریانی بھی ایک ظلم ہوسکتی ہے ، اگر کوئی عورت کو اس طرز کو اپنانے پر مجبور کرے۔  اگر مغرب میں یا مشرق میں عورتوں کو اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی آزادی ہے تو مسلم خواتین کو زیادہ معمولی لباس کو ترجیح دینے کی اجازت کیوں نہیں

    Twitter @RizwanANA97

  • بچوں کی مشین تحریر :ذیشان اخوند خٹک

    بچوں کی مشین

    آپ نے بچوں کی مشین کا نام دیکھ کر ضرور سوچا ہوگا کہ انگریزوں نے کوئی روبوٹ یا مشین ایجاد کیا ہوگا جو کہ بچے کو تیار کریگا مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے کہ یہ مشین ہم لوگوں نے ہی ایجاد کی ہے اور یہ مشین کسی لوہے سے نہیں بنائی ہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان سے بنائی ہے اور اس بدنصیب جیتی جاگتی کو معاشرہ میں عورت کے نام سے پکارا جاتا ہے.

    پاکستان میں اس ظلم کی شرح شہروں کے مقابلے میں گاوں میں بہت زیادہ ہے. اس ظلم کے خلاف معروف ڈرامہ نگار نور الہدی شاہ نے 2017 میں سمی کے نام پر ایک ڈرامہ لکھا جو کہ ہم ٹی وی پر نشر ہوگیا. وہ ڈرامہ تو دراصل ونی مطلب دیت میں لڑکی دینے کے مکروہ عمل کے خلاف تھا مگر انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈرامہ سیریل میں بچوں کی مشین کی مسئلہ بھی اجاگر کیا.
    پاکستان دنیا میں عورتوں کے بدترین حالت میں نویں نمبر پر ہے.

    آج سے چودہ سو سال پہلے عرب میں یہ رواج شروع ہوگیا تھا کہ زندہ بیٹیوں کو دفنا دیتے تھے مگر آج کل تو یہ عمل ان سے بھی بدتر ہورہا ہے کیونکہ مرد کی غلطی بھی عورت کے جھولی میں ڈال دیتی ہے اور اسے پھر ساری زندگی طعنے دیتے رہتے ہیں اور وہ بیچاری روزمرہ کے طعنوں کی وجہ سے روزانہ زندہ اور مرتی ہے.

    آج کل ایک بیٹا پیدا کرنے کیلئے مرد اور ان کے سسرال اس بیچاری کو بچوں کی مشین بنادیتے ہیں اور اس زیادہ بچے پیدا ہونے کی وجہ سے عورت کے جسم میں خون ناپید ہوجاتا ہے. جس سے ان کی زندگی کمزوری کی وجہ سے زندہ لاش بن جاتی ہے اور ہر بیماری ان کے جسم میں پیدا ہوجاتی ہے اور پھر ان بیچاری عورت کو ہر وقت بیمار رہنے کی طعنے بھی سننے پڑتے ہیں.

    ہم تو بس نام کے مسلمان ہے اور اس موقعہ پر ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے کہ وہ کس کو بیٹیوں سے نوازتا ہے اور کسی کو بیٹوں سے اور کسی کو بے اولاد کر دیتا ہے. پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ بانجھ عورت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے سے نوازا.

    عورت معاشرہ کا ایک حصہ ہے اور انہیں وہ مقام اور عزت دے جو انہیں اسلام نے عطا کردیا ہے. بیٹے کے نام پر عورت کی تذلیل نہ کرے کیونکہ اولاد باپ کے نصیب سے پیدا ہوتے ہیں. بیٹی پیدا ہونے میں ماں کا کوئی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک تقسیم ہے. بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہوتی ہیں. جو شخص اپنے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کرتا ہے اسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی.

    بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہے۔
    گھر جو خدا کو پسند ہوتا ہے وہاں ہوتی ہے

    ٹویٹر ہینڈل
    @ZeeAkhwand10

  • "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے اکثر مرد دیکھے جن کی بیویاں اللہ کو پیاری ہوگئیں اور اولاد نے کوشش ہی نہیں کی ان کو دوسری شادی کی طرف راغب کرنے کی یوں ان کی ذندگی کے قیمتی سال ضائع کردیے صرف اپنی جھوٹی آنا کی تسکین کے لیے اور اگر کچھ نے شادی کرنے کی کوشش بھی کی تو اولاد راہ میں آگی کہ لوگ کیا کہیں گے اس اولاد کو یہ احساس نہیں کہ آپ اپنے بیوی بچوں ۔یا خاوند بچوں کے ساتھ خوشحال ذندگی گزار رہے ہو تو کیا آپکے والد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی عمر کا بقیہ حصہ اپنی لائف پارٹنر کےساتھ گزار سکے ۔ایسی اولادیں بھی دیکھی ہیں جھنوں نے اپنے والد کی تنہائی کو دیکھتے ہوئے ان سے میچ کرتی سوٹ ایبل عورت سے اپنے والد کا نکاح پڑھوادیا اور ایسی خود غرض اولاد بھی دیکھی جن کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے والد کو لائف پارٹنر کی ضرورت ہے وہ اکیلا کیسے پوری ذندگی گزار سکتا ہے اسے جذباتی سہارا صرف اپنی لائف پارٹنر سے مل سکتا ہے اگر آپ اپنے والد کی خوشی سے خود شادی کروگے تو اللہ کے بندو آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا کمی کسی صورت نہیں ہوگی ۔خود سوچیں اولاد کتنی دیر پاس بیٹھ سکتی ہے 5گھنٹے 6گھنٹے جبکہ آپکے والد صاحب کو 24گھنٹے کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جیسے آپکو اپنے لائف پارٹنر کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔!!

    اسی طرح اکثر عورتوں کو دیکھا مرد وفات پاجاتے ہیں تو عورت اپنی ساری جوانی اس مرد کے نام گزار دیتی ہے اور بڑھاپے میں بہین بھائیوں کی محتاج ہو کر رہ جاتی ہے میرا مشورہ ان کو یہ ہے کہ اگر آپ کو بچوں کی مجبوری نہ ہوتو کسی صورت یہ گھاٹے کا سودا نہ کرو کسی صاحب حثیت انسان سے شادی کرنے میں دیر نہ کرو جو آپکے بچوں کو بھی سپورٹ کرسکے اور آپکو بھی جذباتی سہارا مل جائے لوگ باتیں بناتے ہیں بنانے دیں لوگوں کی پرواہ کرنی چھوڑ دیں آپ ان کے سامنے سونے کے بھی بن کر آجاو وہ پھر بھی کہیں گے ضرور دال میں کچھ کالا ہے ذندگی اللہ کی دی ہوئی بہت پیاری نعمت ہے اسے دوسروں کے ڈر سے ضائع نہ کریں اپنی ذندگی خود جیئں دوسروں کو اپنی ذندگی جینے نہ دیں ۔۔!!!

    اسی طرح اگر مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میری بہنوں سے گزارش ہوگی کہ پہلے پوری کوشش کریں اپنے شوہر کی سب امیدوں پر پورا اترنے کی اس کی خاطرخدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اسے بھرپور اپنی محبت دیں اس کے ساتھ سچی وفادار بن کر رہیں پھر بھی اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے بجائے اس کے کہ وہ غلط راستہ چنے ۔جو گناہ کبیرہ کی طرف لیکر جایے ۔اسے خوشی سے دوسری شادی کی اجازت دے دیں۔ یہ اجازت اسے اللہ نے دی ہوئی ہے شائد اس کی فطرت دیکھ کر ہی کہ بعض اوقات مرد ایک بیوی سے مطمئن نہیں ہوتا اس کی تمنا ہوتی ہے دوسری عورت کی تو اسے بالکل منع نہ کریں مرد پر فرض ہے کہ اگر وہ دوسری شادی کرتا ہے تو پہلی کے تمام حقوق حسن طریقے سے پورے کرے ایک لمحہ کی بھی ہیرا پھیری پہلی کے ساتھ نہ کرے دونوں کو برابر کے حقوق دے ویسے بھی ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعداد ذیادہ ہے اور مردوں کی کم ۔اکثر بہنوں کے بالوں میں سفیدی اتر آتی ہے لیکن ان کے لیے کوئی مناسب رشتہ نہیں آتا ایسی عورتوں سے شادی کرنا بہت ثواب کا کام ہے ۔اور خاص طور پر بیوا طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنا مرد کی اعلی ظرفی کی دلیل ہے ۔۔!!!
    پاکستان میں اپنی ایک جاننے والی کی بات بتاتی ہوں لڑکی کی عمر بمشکل 22 سال تھی اس کے دو بچے تھے اس کا شوہر بجلی کے محکمے میں تھا کرنٹ لگنے سے اچانک فوت ہوگیا پھر ہوا کیا لڑکی کے سسرال والوں نے کہا کہ ہم بچوں کی بہت اچھے طریقے سے پروش کریں گے اور بہو کو جتنے پیسوں کی ضرورت ہوا کرے گی ہم دیں گے لیکن ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ گھر چھوڑ کر جائے مطلب نیا گھر بسائے یوں اس لڑکی نے بنا شوہر کے اپنی پوری ذندگی قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا کیا صرف پیسے ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں ؟ابھی وہ اس بات پر مطمئن ہے کہ بچوں کی پروش اچھے طریقے سے ہوجائے گی کیا وہ پوری ذندگی ان بچوں کے سہارے گزار دے گی کیا اسے ذندگی میں لائف پارٹنر کی ضرورت نہیں ہوگی؟ضرور ہوگی اس کے سسرال والوں کو چاہئیے اس کا نکاح اپنی فیملی میں ہی کردیں جہاں بچوں کوبھی سہارا مل جائے اور ماں کوبھی ۔لیکن ہمارے معاشرے میں ایک ہی روگ۔کیا کہیں گے لوگ۔۔۔!!!

    @Farzana_Blogger

  • بریسٹ کیسنر کے متعلق آگاہی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں بریسٹ کے کینسر کے حوالے سے خصوصی مہم اور پروگرام ہوتے ہیں اور لوگوں کے اندر اس کے بارے میں  آگاہی پھیلاٸیں جاتی ہے تاکہ اس مہلک مرض سے اپنی ماں ، بہن ، بیٹیوں کو بچایا جاسکے  اس لیے ملک بھر کی تمام اہم عمارتیں اور مختلف جگہوں کو باری باری گلابی رنگ سے مزین کیا جاتا ہے  تاکہ عوام میں بریسٹ  کینسر کے حوالے سے حساسیت پیدا کی جا سکے۔

    دنیا بھر خواتین کو ہونے والے بیماریوں  میں اب بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔ یہ مہلک مرض عام طور پر چالیس سے ساٹھ سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ بریسٹ کینسر کی مریض خواتین نہ صرف پسماندہ و ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی اس مہلک مرض  کا شکار ہو رہی ہیں۔

    افسوس کے ساتھ پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ ساتھ ہی یہ پاکستانی خواتین میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں ممنوع موضوع ہونے کی وجہ سے  پاکستانی خواتین مرض کی جلد تشخیص نہیں کروا پاتی ہیں، جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا پچاس فیصد خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہے ملک بھر  میں خواتین میں کینسر کے چوالیس  فیصد  کیسز چھاتی کے کینسر کے ہیں، جلد تشخیص ہونے سے مرض سے نجات پانے کا امکان اٹھانوے فیصد ہے۔ ایک سروے کے مطابق  زندگی کے کسی مرحلے پر ، نو میں سے ایک پاکستانی خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہے

    ایک اور سروے کے مطابق  ملک بھر  میں ہر سال تراسی ہزار سے زاٸد  خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جس میں سےتقریباً چالیس ہزار خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ بریسٹ کیسنر ایک جان لیوا مرض ہے جس کے بارے میں آگاہی پھیلا کر اس سے نجات پاسکتے ہیں 

    بریسٹ کینسر کیا ہے؟

    بریسٹ کے ٹشوز دودھ کی پیداوار کے غدود سے بنے ہوتے ہیں ، جنہیں لوبولس اور نالیاں کہتے ہیں ، جو لوبولز کو نپل سے جوڑتے ہیں۔ چھاتی کا باقی حصہ لیمفاٹک ، کنیکٹیو اور فیٹی ٹشوز پر مشتمل ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر ایک ایسی رسولی ہے جوکہ چھاتی کے خلیات میں غیر ضروری ٹشوز کے گچھے کی شکل میں جمع ہونے سے بنتی ہے۔انٹر ڈکٹل کینسر، بریسٹ کینسر کی عام قسم ہے۔ جس کی شروعات زیادہ تر دودھ کی نالیوں کے اندر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض خواتین لوبولر کینسر کا بھی شکار ہو سکتی ہیں۔ جودودھ کی تھیلیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

    بریسٹ  کے کینسر کی علامات 

    بریسٹ میں گانٹھ یا ٹشوز کا گاڑھا پن جو دیگر ٹشوز سے مختلف محسوس ہو، بریسٹ میں درد بریسٹ کی جلد کا سرخ اور کھردرا ہونا، بریسٹ کے مختلف حصوں پر سوجن آنا، پستان سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی اور مادے کا اخراج
    ،نیپل کا اندر دھنس جانا ، بریسٹ کے سائز میں اچانک رونما ہونے والی تبدیلیاں یا ورٹڈ نپلچھاتی کی جلد پر رونما ہونے والی تبدیلیاں یا بازو کے نیچے سوجن یا گانٹھ کا بننا یا بعض اوقات چھاتی میں ایسے انفیکشن جو عام طریق علاج سے نہ ٹھیک ہو قابل ذکر ہیں

    بریسٹ  کیسنر  کے چار مختلف  مراحل

    بریسٹ کے کینسر کو چار مختلف اسٹیجز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،اگر کینسر صرف بریسٹ تک محدود ہو تو اس کو اسٹیج۔1 کہا جاتا ہے،اگر کینسر متعلقہ طرف کی بغل تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج- 2 کہا جاتا ہے ،اگر کیسنر مریضہ کی گردن تک پہنچ جائے تو اس کو  اسٹیج ۔3  کہا جاتا ہے،کینسر اگر مریضہ کے پھیپھڑوں، جگر،ہڈیوں اور جسم کے دوسرے دور دراز حصوں تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج-4 ہا جاتا ہے۔

    یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر مریضہ اسٹیج۔ 1  اور اسٹیج – 2
    میں ڈاکٹرکے پاس آٸی ہے تو اس کو  ابتدائی بریسٹ کینسر   کہا جاتا ہے،ان حالات میں بیماری قابل علاج ہوتی ہے اور اگر مریضہ ڈاکٹر کی ہدایات پر پورا طرح عمل کرے تو نہ صرف مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتی ہے بلکہ وہ ایسی زندگی گزار سکتا ہے کہ گویا اس کو کبھی یہ کینسر تھا ہی نہیں،دوسری طرف اگر مریضہ کو اسٹیچ ۔ 3 یا اسٹیچ ۔ 4 میں آئے تو اس کو   ایڈوانسڈ بریسٹ کیسنر کہتے ہیں،اگر مریضہ اس حالت میں آئے تو اس مریضہ کا مکمل علاج نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور جتنا مرضی اچھا علاج کیا جائے ،مریض کو مصائب  کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریضہ کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے اس کا انحصار کینسر کی سٹیج اور اس کی قسم پر ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات گلٹی  کا سائز تو چھوٹا ہوتا ہے لیکن وہ مہلک اور جان لیوا زیادہ ہوتی ہے، اگر خواتين  کو جب بھی چھاتی میں کوئی تکلیف ہو تو فوراً بریسٹ سرجن سے رجوع کرنا چاہیے، وہ معائنہ کرکے اس کے ضروری ٹیسٹ کروائے گا اور یہ فیصلہ  گا کہ اس کو بریسٹ کینسر ہے یا نہیں،اگر کینسر ہے تو وہ کینسر کی قسم اور اور اسیٹچز کے مطابق فیصلہ کرے گا کہ اس کی کا علاج کیسے کیا جائے۔

    بریسٹ کیسنر کی تشخيص اور علاج

    بریسٹ کے کینسر کی جلد تشخیص اتنی اہم ہے کہ یہ مریضوں کو پیچیدہ سرجری اور ادویات سے علاج سے بچا سکتی ہے۔
    آج کے دور  میں بریسٹ  کے کینسر کے بہت سے علاج دستیاب ہیں جن سرجری ، کیموتھراپیری ، ڈی تھراپیپی، ہرمون تھراپی ہدف شدہ  تھراپی  وغیرہ شامل  ہیں  ایک سروے کے مطابق  نوے فیصد خواتین ، جن میں جلد تشخیص ہو جاتی ہے، وہ تشخیص کے پانچ سال بعد تک زندہ اور صحت مند رہتی ہیں۔ تاہم اگر تشخیص دیر سے ہو تو یہ شرح گھٹ کر پندرہ فیصد رہ جاتی ہے۔

    پاکستان میں متعدد طبی مراکز میں اس مرض کی مفت تشخیص کی جاتی ہے۔خواتین کیلیے بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت سے بچنے کے لیے مؤثر ترین طریقہ باقاعدہ سکریننگ ہے۔ یہ مفت سکریننگ اور میموگرافی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں بائیوپسی کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔نوجوان خواتين  میں ابتدائی ٹیسٹ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔  اس کے علاوہ خواتین کو اپنا خیال خود رکھنا ہوگا۔ انہیں  مہینے میں کم سے کم ایک مرتبہ اپنے بریسٹ کا خود سے جائزہ لیں اگر انہیں اپنے بریسٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی رونما ہوتی نظر آئے جیسے سائز میں تبدیلی، سوجھن، کھال پر کوئی نشان یا بغل میں غدود کا بننا، کسی قسم کا ابھار، خون یا پیپ کا رساؤ تو اسے سنجیدگی سے لیں۔اور جھجھک کی بجائے اس کی تشخیص اور علاج پر توجہ دیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ کے ہر فرد اور شعبہ کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے،تاکہ بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے مربوط کوششیں کی جائیں، جتنی جلد تشخیص ہو گی اتنے ہی علاج اور صحت یابی کے امکانات زیادہ ہونگے۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز    تحریر  غلام مرتضیٰ

    عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز تحریر غلام مرتضیٰ

    ، وہ ہیرا 💎جس کی چمک سب کو میسر نہیں ہوتی ،جس کی چمک سب کو خیرہ نہیں کرتی،.                                               جس کا وجود سب کے لیے تسکین نہیں ہوتا ،ہاں اپنے محرم رشتوں کی ابیاری کرنے والا یہ نازک وجود السلام کی نظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے،                                                                          باحثیت بیٹی یہ عورت اپنے باپ کے انگن کی بلبل ہے جس کی چہک سے باپ کے ہونٹوں کی مسکراہٹ قائم ہے ،باعث رحمت ہے وجود اس کا،                                                                                اپنے والدین اور بھائیوں کا درد دل سے محسوس کرنے والی یہ ہی صنف نازک ہے ، اس کی  بےلوث دعائیں ہمیشہ اپنے باپ اور بھائیوں کے گرد حصار رکھتی ہیں،                                        اور تو اور دین اسلام نے عورت کو  وہ مقام دیا جو کسی  مزہب میں نہیں دیا گیا باحثیت ماں پاوں میں جنت ہی رکھ دی گئی سبحان اللہ،                                                                            یہ ہی عورت بیوی ہونے کی حثیت سے اپنے شوہر کے دل کا سکون بھی ہے اور اس کا ایمان قائم رکھنے کی علامت بھی اپنے گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا نے کی کاریگر بھی ،           اللہ اکبر کبیرا ،.                                                                 کتنا بلند مقام ہے عورت کا تو پھر کون سی ایسی چیز ہے جو عورت کو لبرل ازم کے طریقوں پر چلا رہی ،کیوں مرد حضرات اپنی خواتین کو جدت پسندی ،مغربی تہزیب سے بچا نہیں رہے؟؟   

    بیوی کی صورت میں تمام تر ذمہ داری مرد پے دے کر عورت کو شان سے بیٹھنے کا حکم دیا مرد ہی کمائے گا اور پوری کرے گا یہ ذمہ داری اسی چار دیواری میں ایک بیوی ایک ماں بنتی ہے جنت پاؤں میں آ جاتی ہے اسلام نے عورت کو جو عزت مقام دیا  روئے زمین پر آج تک کسی مذہب میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے  بلکہ عورت اگر غیر مسلم بھی ہے اس کو بھی حقوق دیے دوران جنگ جہاں مرد کو لڑنے کا حکم دیا وہی پر عورت کو ہاتھ تک لگانے کی اجازت بھی نہیں دی  بلکہ ایک لونڈی کی بھی حد رکھ دی حقوق دیے  اور بے شک یہی سچا دین ہے جو ہم سب کی کامیابی کا راستہ ہے

    لیکن اگر کچھ مرد جواتین کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہے اسے قطعاً مذہب کے ساتھ مت جوڑا جائے
    دین اسلام نے سارا سال بلکہ ساری زندگی کے حقوق طے کر دیے تو عورتوں کا ایک دن عورتوں کے حقوق پے قدغن لگانے کے مترادف ہے

    اور یہود و نصاریٌ  ، یورپ اور  ایلومینٹی

    عورت کو کال گرل فاحشہ وحشیہ طوائف بائی اور بھی عجیب گھٹیہ نام دے کر عورت جیسے عظیم نام کی  توہین کی جاتی ہے  ایک لڑکی کو جسم فروشی سے پیسا کمایا جاتا ہے اور بچے پیدا کراوئے جاتے ہے پھر شادی کی جاتی ہے اور وہی بچہ بڑا ہو کر ان کو اولڈ ہاؤس داخل کروا دیتا ہے
    ہالی وڈ سے لیکر بالی وڈ صرف جسم کی نمائش کی جاتی ہے کپڑے اتارے جاتے ہے پھر جا کے کچھ پیسے ملتے ہے اور تو اور پھر اسی عورت کو پورن گرافی بھی کروائی جاتی ہے اور اس پے ایوارڈ دیے جاتے ہے فگر سٹائل کو مدنظر رکھ کے کیا اسلامی معاشرے کی عورتیں اسی قسم کی آزادی چاہتی ہے
    اللہ کی قسم یہ آزادی ہے بلکہ شیطان کی غلامی ہے پتا نہیں کتنی ہی بہنیں اس دھوکے میں آ کے زلیل و رسوا ہوگئی خدارا میں اپنی بہنوں سے درخواست کروں گا کیا اتنے خوبصورت جسم اللہ نے آگ میں جلنے کے لیے پیدا کیے ہیں  آج تم فطری طور پر چھپکلی کاکروچ کو دیکھ کر ڈر جاتی ہو تو قبر میں سانپ بچو کاٹے گے تو سوچو کیا ہو گا جس حسن کو آج لوگوں کو دکھا دکھا کر فخر محسوس کرتی ہو  کل کو آگ کی نظر ہو جائے گا خدارا لوٹ آؤ سچے دین کی طرف اپنی جانوں پے ظلم مت کرو

    معزرت کے ساتھ اب وقت ہے کہ مرد حضرات کو  لا دینیت، اور دیوثیت کی زنجیریں توڑ کر اپنی بچیوں،اور خواتین کی تربیت السلام کے اصولوں پر کریں تاکہ کفار جو بے حیائی کا بیج ہمارے معاشرہ میں بو رہے ہیں وہ تناور درخت بنے اس سے پہلے ہم مسلمانوں کو اس کی جڑیں کاٹ دینی چاہیے،                                                                                                  تاکہ۔اللہ کے سامنے ہم منہ دکھا نے کے قابل رہیں ،عورت ہیرا ہے اس کی تراش محرم مرد کرتے ہیں ،اٹھیں ہمت کریں اج اور ابھی سے باریک بینی سے مشاہدہ کریں کہ گھر کے ماحول کو با پردہ کیسے بنانا ہے اللہ مدد کرے گا

    ‎@__GHulamMurtaza 

  • عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    وراثت ایک شرعی حق ہے اس میں کوتاہیاں عام ہیں۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم جن علاقوں اور معاشروں میں رہتے ہیں ۔وہاں نہ جانے کتنی ایسی غلط رسمیں ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جب ہم ان معاشروں میں پہنچتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لئے کوشش کرنے کی بجائے خود ان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔

    ہمیں دن رات یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں بھی عورتوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔مثلاً باپ نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بیٹی سے اجازت لئے بغیر اس کی شادی کردی ۔بیٹی کو یہ بات کہنے کی اجازت نہیں کہ فلاں رشتہ مجھے پسند نہیں، یہ بات باپ کی غیرت کے خلاف ہے وہ قتل کرنے کیلئے آمادہ ہوجاتا ہے کہ تجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ تو میرے فیصلے کے خلاف زبان کھولے، نتیجہ یہ کہ اس بیچاری کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔

    اسی طرح یہ بھی عام رواج ہے کہ بیٹی کو ترکے میں سے کوئی حق نہیں دیا جاتا ۔اسی طرح عورت اگر بیوہ ہوجائے تو اس کے لیے دوسرے نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے بلکل ایسا جیسے کفر، حالانکہ ہمارے بزرگوں نے نکاح بیوگان کے حق میں عملی جہاد کیا ۔لیکن ہم اپنے معاشرے میں ان رسموں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ان کے اندر بہہ جاتے ہیں ۔

    وراثت میں زبانی معافی کا اعتبار نہیں! کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے طورخم تک جہاں کسی کا انتقال ہوتا ہے اس کا سارا ترکہ اس کے بیٹے لے جاتے ہیں ۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا لیکن ہم نے کتنی مرتبہ اس کے خلاف آواز اٹھائی؟

    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بہنوں نے ہمارا حصہ بخش دیا اول تو بخشا نہیں ہوتا، بلکہ بہن کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے ذرا سی زبان کھولی تو میرا بھائی میری زندگی عذاب کردے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ ترکے کےبارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی وارث زبان سے بھی کہہ دے کہ میں نے بخش دیا تو وہ بخشنا معتبر نہیں معتبر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کا حصہ اس کے قبضہ میں دو ۔اس پر قبضہ کرنے کے بعد اگر وہ اپنی خوشدلی سے تمہیں کچھ دینا چاہے تو دیدے ۔اس لئے لوگوں کا یہ حیلہ سراسر غلط اور خلافِ شریعت ہے ۔

    یہی حال مہر کا ہے کہ نکاح کے وقت تو بھاری مہر مقرر کرلیتے ہیں اور دینے کی نیت ہوتی نہیں ۔جب بیچاری کے مرنے کا وقت اپہنچا تو اس وقت اسے کہتے ہیں کہ اللہ کے لئے مجھے مہر معاف کردو ۔اب بیچاری کیا کہے کہ میں معاف نہیں کرتی، ظاہر ہے کہ اس موقع پر وہ زبان سے معاف کردیتی ہے، لیکن یہ معافی شرعاً معتبر نہیں ۔

    مغرب نے عورتوں کو جو اذادی دی ہے ہم بعض اوقات اسکے خلاف تو بولتے ہیں اور بولنا بھی چاہئے لیکن اس اذادی کا ایک سبب وہ ظلم بھی ہے جو ہمارے یہاں عورتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے ۔اس لئے اس اذادی کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مظالم کے بارے میں گفتگو کرنا بھی ضروری ہے ۔جن کی چکی میں ہماری مشرقی عورت پس رہی ہے ۔

    آج ہمارا سارا معاشرہ اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ کوئی بات صاف ہی نہیں ۔اگر باپ بیٹوں کے درمیان کاروبار ہے تو وہ کاروبار ویسے ہی چل رہا ہے ۔اس کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ بیٹے باپ کے ساتھ جو کام کررہے ہیں وہ آیا شریک کی حیثیت میں کررہے ہیں، یا ملازم کی حیثیت میں کررہے ہیں یا ویسے ہی باپ کی مفت مدد کررہے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں مگر تجارت ہورہی ہے ۔ملیں قائم ہورہی ہیں دکانیں بڑھتی جارہی ہیں ۔مال اور جائیداد بڑھتا جارہا ہے لیکن یہ پتہ نہیں ہے کہ کس کا کتنا حصہ ہے ۔اگر ان سے کہا بھی جائے کہ اپنے معاملات کو صاف کرو، تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ تو غیرت کی بات ہے ۔بھائیوں بھائیوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    یا باپ بیٹوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب شادیاں ہوجاتی ہیں اور بچے ہوجاتے ہیں اور شادی میں کسی نے زیادہ خرچ کرلیا اور کسی نے کم خرچ کیا، یا ایک بھائی نے مکان بنا لیا اور دوسرے نے ابھی تک مکان نہیں بنایا ۔بس اب دل میں شکایتیں اور ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہونا شروع ہوگیا اور اب آپس میں جھگڑے شروع ہو گئے کہ فلاں زیادہ کھا گیا اور مجھے کم ملا اس دوران باپ کا انتقال ہوجائے تو اس کے بعد بھائیوں کے درمیان جو لڑائی اور جھگڑے ہوتے ہیں. وہ لا متناہی ہوتے ہیں ۔پھر ان کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai 

  • ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین   تحریر: سعادت حسین عباسی

    ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین  تحریر: سعادت حسین عباسی

    ٹویٹر: IamSaadatAbbasi@ 

    چند روز قبل کی بات ہے کہ ٹویٹر پر میری نظروں سے ایک ٹویٹ گزری جو ایک معروف پاکستانی سلیبرٹی کی طرف سے کی گئی تھی جس میں انہوں نے یہ لکھا کہ میں نے تین شادیاں کی اور تینوں میں سے کوئی شوہر بھی مجھے خوش نہ رکھ سکا۔ اب یہ اس سلیبرٹی کی طرف سے ایک نارمل ٹویٹ تھا جو انہوں نے اپنی لائف کے حوالے سے کیا جو کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی تہذیب وتمدن سے پاک تھا لیکن ہمارے سوشل میڈیا صارفین پر صد ہا افسوس کہ اس ٹویٹ کو ایسا رنگ دیا کہ اس معروف سیلبرٹی کو اپنا وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹویٹ کو لیکر ایسی نازیبہ گفتگو کی جو کہ لکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اب اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اگرایسے حالات کسی مرد کی زندگی میں آتے اور وہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر کرتا کہ میں نے تین شادیاں کی لیکن تینوں بیویاں مجھے خوش نہ رکھ سکی تو اس پر بھی تنقید مرد پر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں بھی تنقید کا نشانہ سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے خواتین کو بنایا جاتا۔ اور ان خواتین کے بارے میں ایسی ایسی گفتگو کی جاتی جو قابل ذکر بھی نہیں ہوتی۔ 

    جب کہ ہمارا تعلق ایک اسلامی ملک سے ہیں ہم ایک اسلامی ملک میں پیداہوئے ہیں اور ہمارا مذہب اسلام خواتین کی عزت واحترام کا درس دیتا ہے لیکن بطور ایک سوشل میڈیا صارف ہم کیوں نہیں اس بات کو سمجھ پاتے ہیں کہ ہمارے گھر میں بھی ماں،بہن، بیٹی موجود ہیں کل کو ان پر بھی ایسے وار ہوسکتے ہیں جس سے ان کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہم کیوں ہر چیز میں نشانہ خواتین کو ہی بناتے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم میں کمی رہ جاتی ہے یا ہماری تربیت اچھی نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے ہم اس ٹریک پر چل پڑتے ہیں جس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوتی ہو۔ دو ماہ قبل اسلام آباد میں قتل ہونے والی سابق سفیر کی بیٹی نورمقدم کو بھی سوشل میدیا صارفین تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے بہت سارے ان کے فیملی کے لوگ دوست احباب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا پرایک اور معروف پاکستانی سرجن نے ایک تصویر جس میں انہوں نے اپنی چند جونیئر سرجنز کے ساتھ اس عنوان کے ساتھ اپلوڈ کی کہ خواتین بھی سرجن بن سکتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں ہمارا بازو بن کر کام کر سکتی ہیں اس تصویر کے نیچے  جہاں بہت سارے صارفین اس بات کو سراہا رہے تھے وہی پر ہمارے تنگ نظر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ایسے کمنٹس بھی تھے جن میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ ان سب کو سرجن بنانے کی بجائے کھانا بنانا سکھا دیتے تاکہ وہ اپنے سسرال میں جا کر خوش رہ سکتی یہاں تک کہ کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وجہ سے طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے کیونکہ خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہر فیلڈ میں مردوں کے مد مقابل آرہی ہیں لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں، پہلی یہ کہ ایک پڑھی لکھی خاتون اپنا گھر اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے اور ہر قدم پر شوہر کے ساتھ ملکر آگے بڑھ سکتی ہے اور دوسری بات جب ان صارفین حضرات کو کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے گھر میں کوئی بیمار ہوجاتا ہے یا گھر میں کسی کا ڈلیوری کیس ہو تو یہی صارفین ہسپتالوں میں جا کر لیڈی ڈاکٹر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں یہ دوہرا معیار آخر کیوں رکھتے ہیں تب ہسپتالوں میں مرد ڈاکٹر حضرات کے پاس کیوں نہیں جاتے تب تو ہر حال میں ان کو لیڈی ڈاکٹر کو ہی دکھانا ہوتا ہے۔ سوشل  میڈیا پر ایسے صارفین ہر طرح کی خواتین کو ہراساں کرتے نظر آتے ہیں کبھی مثبت رویہ نہیں اختیار کرتے ہمیشہ ہر چیز کو منفی رنگ دیتے ہیں۔ ایسے ٹرولر صارفین کے لیے حکومت کو چاہیے کہ کوئی ضابطہ اخلاق کا قانون بنایا جائے اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے نا کہ صرف قانون کی حد تک محفوظ رکھا جائے ۔ یہی پر ذکر کرتا چلوں کہ ۲۰۱۸ میں گورنمنٹ کی طرف سے سائبر کرائم قانون پاس ہوا تھا جس پر ایسے صارفین کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن جس ادارے کو یہ کام سونپا گیا ہے ان کی قابلیت پر صدہا افسوس کیونکہ اس ادارے میں سائبر کرائم سیل میں ایسے افراد بیٹھے ہوئے ہیں جن کو انٹرنیٹ سرچنگ تک نہیں آتی اور کچھ تو ایسے ہیں جن کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا بھی نہیں آتا۔ کچھ دن قبل ایک ایسے ہی کیس کے سلسلے میں اس ادارے میں جانا پڑا وہاں پر جا کر جب اپنی درخواست دی تو اس کے بعد اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا لنک بھی دیا لیکن پہلے تو وہاں پر انٹرنیٹ ہی ٹھیک سے کام نہین کر رہا تھا تین چار بار اس ادارے کے ایک ملازم نے انٹرنیٹ ڈیوائس کو ری سٹارٹ کر کے آخر کار انٹرنیٹ تو چلا ہی لیا اب جب اس لنک کو یوارایل میں پیسٹ کر کے سرچنگ کرنے کا میں نے کہا تو ان صاحب سے نہ ہوسکا آخر کار میں نے خود ہی ان کو سارا کام کر کے دیا، میری حکومت سے یہ اپیل بھی ہے کہ سائبر کرائم سیل میں کم از کم ان لوگوں کو بٹھایا جائے جو سائبر کرائم کو سمجھتے ہوں جس کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا نا آتا ہو وہ کیا سائبر کرائم کو سمجھے گا۔  خیر یہ تو ایک الگ مسئلہ ہے جسکو حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنا چاہیے۔ 

    ایسے اور بھی  بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔خدارا سنبھل جائیں ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہین مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں ہمیں اپنی خواتین کو عزت واحترام دینا ہوگا اور یہی ہمارا فریضہ بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں حوس اس قدر بھر چکی ہے کہ ہر چیز میں اپنی حوس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ۔ہماری مائیں ہماری بیٹیاں ہماری بہنیں اس ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اس لیے ہر چیز سے بالاتر ہوکر ان کو عزت واحترام دیں اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کریں۔  

    ٹویٹرپروفائل لنک: 

    @IamSaadatAbbasi