Baaghi TV

Category: خواتین

  • "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے اکثر مرد دیکھے جن کی بیویاں اللہ کو پیاری ہوگئیں اور اولاد نے کوشش ہی نہیں کی ان کو دوسری شادی کی طرف راغب کرنے کی یوں ان کی ذندگی کے قیمتی سال ضائع کردیے صرف اپنی جھوٹی آنا کی تسکین کے لیے اور اگر کچھ نے شادی کرنے کی کوشش بھی کی تو اولاد راہ میں آگی کہ لوگ کیا کہیں گے اس اولاد کو یہ احساس نہیں کہ آپ اپنے بیوی بچوں ۔یا خاوند بچوں کے ساتھ خوشحال ذندگی گزار رہے ہو تو کیا آپکے والد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی عمر کا بقیہ حصہ اپنی لائف پارٹنر کےساتھ گزار سکے ۔ایسی اولادیں بھی دیکھی ہیں جھنوں نے اپنے والد کی تنہائی کو دیکھتے ہوئے ان سے میچ کرتی سوٹ ایبل عورت سے اپنے والد کا نکاح پڑھوادیا اور ایسی خود غرض اولاد بھی دیکھی جن کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے والد کو لائف پارٹنر کی ضرورت ہے وہ اکیلا کیسے پوری ذندگی گزار سکتا ہے اسے جذباتی سہارا صرف اپنی لائف پارٹنر سے مل سکتا ہے اگر آپ اپنے والد کی خوشی سے خود شادی کروگے تو اللہ کے بندو آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا کمی کسی صورت نہیں ہوگی ۔خود سوچیں اولاد کتنی دیر پاس بیٹھ سکتی ہے 5گھنٹے 6گھنٹے جبکہ آپکے والد صاحب کو 24گھنٹے کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جیسے آپکو اپنے لائف پارٹنر کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔!!

    اسی طرح اکثر عورتوں کو دیکھا مرد وفات پاجاتے ہیں تو عورت اپنی ساری جوانی اس مرد کے نام گزار دیتی ہے اور بڑھاپے میں بہین بھائیوں کی محتاج ہو کر رہ جاتی ہے میرا مشورہ ان کو یہ ہے کہ اگر آپ کو بچوں کی مجبوری نہ ہوتو کسی صورت یہ گھاٹے کا سودا نہ کرو کسی صاحب حثیت انسان سے شادی کرنے میں دیر نہ کرو جو آپکے بچوں کو بھی سپورٹ کرسکے اور آپکو بھی جذباتی سہارا مل جائے لوگ باتیں بناتے ہیں بنانے دیں لوگوں کی پرواہ کرنی چھوڑ دیں آپ ان کے سامنے سونے کے بھی بن کر آجاو وہ پھر بھی کہیں گے ضرور دال میں کچھ کالا ہے ذندگی اللہ کی دی ہوئی بہت پیاری نعمت ہے اسے دوسروں کے ڈر سے ضائع نہ کریں اپنی ذندگی خود جیئں دوسروں کو اپنی ذندگی جینے نہ دیں ۔۔!!!

    اسی طرح اگر مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میری بہنوں سے گزارش ہوگی کہ پہلے پوری کوشش کریں اپنے شوہر کی سب امیدوں پر پورا اترنے کی اس کی خاطرخدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اسے بھرپور اپنی محبت دیں اس کے ساتھ سچی وفادار بن کر رہیں پھر بھی اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے بجائے اس کے کہ وہ غلط راستہ چنے ۔جو گناہ کبیرہ کی طرف لیکر جایے ۔اسے خوشی سے دوسری شادی کی اجازت دے دیں۔ یہ اجازت اسے اللہ نے دی ہوئی ہے شائد اس کی فطرت دیکھ کر ہی کہ بعض اوقات مرد ایک بیوی سے مطمئن نہیں ہوتا اس کی تمنا ہوتی ہے دوسری عورت کی تو اسے بالکل منع نہ کریں مرد پر فرض ہے کہ اگر وہ دوسری شادی کرتا ہے تو پہلی کے تمام حقوق حسن طریقے سے پورے کرے ایک لمحہ کی بھی ہیرا پھیری پہلی کے ساتھ نہ کرے دونوں کو برابر کے حقوق دے ویسے بھی ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعداد ذیادہ ہے اور مردوں کی کم ۔اکثر بہنوں کے بالوں میں سفیدی اتر آتی ہے لیکن ان کے لیے کوئی مناسب رشتہ نہیں آتا ایسی عورتوں سے شادی کرنا بہت ثواب کا کام ہے ۔اور خاص طور پر بیوا طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنا مرد کی اعلی ظرفی کی دلیل ہے ۔۔!!!
    پاکستان میں اپنی ایک جاننے والی کی بات بتاتی ہوں لڑکی کی عمر بمشکل 22 سال تھی اس کے دو بچے تھے اس کا شوہر بجلی کے محکمے میں تھا کرنٹ لگنے سے اچانک فوت ہوگیا پھر ہوا کیا لڑکی کے سسرال والوں نے کہا کہ ہم بچوں کی بہت اچھے طریقے سے پروش کریں گے اور بہو کو جتنے پیسوں کی ضرورت ہوا کرے گی ہم دیں گے لیکن ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ گھر چھوڑ کر جائے مطلب نیا گھر بسائے یوں اس لڑکی نے بنا شوہر کے اپنی پوری ذندگی قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا کیا صرف پیسے ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں ؟ابھی وہ اس بات پر مطمئن ہے کہ بچوں کی پروش اچھے طریقے سے ہوجائے گی کیا وہ پوری ذندگی ان بچوں کے سہارے گزار دے گی کیا اسے ذندگی میں لائف پارٹنر کی ضرورت نہیں ہوگی؟ضرور ہوگی اس کے سسرال والوں کو چاہئیے اس کا نکاح اپنی فیملی میں ہی کردیں جہاں بچوں کوبھی سہارا مل جائے اور ماں کوبھی ۔لیکن ہمارے معاشرے میں ایک ہی روگ۔کیا کہیں گے لوگ۔۔۔!!!

    @Farzana_Blogger

  • بریسٹ کیسنر کے متعلق آگاہی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں بریسٹ کے کینسر کے حوالے سے خصوصی مہم اور پروگرام ہوتے ہیں اور لوگوں کے اندر اس کے بارے میں  آگاہی پھیلاٸیں جاتی ہے تاکہ اس مہلک مرض سے اپنی ماں ، بہن ، بیٹیوں کو بچایا جاسکے  اس لیے ملک بھر کی تمام اہم عمارتیں اور مختلف جگہوں کو باری باری گلابی رنگ سے مزین کیا جاتا ہے  تاکہ عوام میں بریسٹ  کینسر کے حوالے سے حساسیت پیدا کی جا سکے۔

    دنیا بھر خواتین کو ہونے والے بیماریوں  میں اب بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔ یہ مہلک مرض عام طور پر چالیس سے ساٹھ سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ بریسٹ کینسر کی مریض خواتین نہ صرف پسماندہ و ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی اس مہلک مرض  کا شکار ہو رہی ہیں۔

    افسوس کے ساتھ پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ ساتھ ہی یہ پاکستانی خواتین میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں ممنوع موضوع ہونے کی وجہ سے  پاکستانی خواتین مرض کی جلد تشخیص نہیں کروا پاتی ہیں، جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا پچاس فیصد خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہے ملک بھر  میں خواتین میں کینسر کے چوالیس  فیصد  کیسز چھاتی کے کینسر کے ہیں، جلد تشخیص ہونے سے مرض سے نجات پانے کا امکان اٹھانوے فیصد ہے۔ ایک سروے کے مطابق  زندگی کے کسی مرحلے پر ، نو میں سے ایک پاکستانی خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہے

    ایک اور سروے کے مطابق  ملک بھر  میں ہر سال تراسی ہزار سے زاٸد  خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جس میں سےتقریباً چالیس ہزار خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ بریسٹ کیسنر ایک جان لیوا مرض ہے جس کے بارے میں آگاہی پھیلا کر اس سے نجات پاسکتے ہیں 

    بریسٹ کینسر کیا ہے؟

    بریسٹ کے ٹشوز دودھ کی پیداوار کے غدود سے بنے ہوتے ہیں ، جنہیں لوبولس اور نالیاں کہتے ہیں ، جو لوبولز کو نپل سے جوڑتے ہیں۔ چھاتی کا باقی حصہ لیمفاٹک ، کنیکٹیو اور فیٹی ٹشوز پر مشتمل ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر ایک ایسی رسولی ہے جوکہ چھاتی کے خلیات میں غیر ضروری ٹشوز کے گچھے کی شکل میں جمع ہونے سے بنتی ہے۔انٹر ڈکٹل کینسر، بریسٹ کینسر کی عام قسم ہے۔ جس کی شروعات زیادہ تر دودھ کی نالیوں کے اندر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض خواتین لوبولر کینسر کا بھی شکار ہو سکتی ہیں۔ جودودھ کی تھیلیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

    بریسٹ  کے کینسر کی علامات 

    بریسٹ میں گانٹھ یا ٹشوز کا گاڑھا پن جو دیگر ٹشوز سے مختلف محسوس ہو، بریسٹ میں درد بریسٹ کی جلد کا سرخ اور کھردرا ہونا، بریسٹ کے مختلف حصوں پر سوجن آنا، پستان سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی اور مادے کا اخراج
    ،نیپل کا اندر دھنس جانا ، بریسٹ کے سائز میں اچانک رونما ہونے والی تبدیلیاں یا ورٹڈ نپلچھاتی کی جلد پر رونما ہونے والی تبدیلیاں یا بازو کے نیچے سوجن یا گانٹھ کا بننا یا بعض اوقات چھاتی میں ایسے انفیکشن جو عام طریق علاج سے نہ ٹھیک ہو قابل ذکر ہیں

    بریسٹ  کیسنر  کے چار مختلف  مراحل

    بریسٹ کے کینسر کو چار مختلف اسٹیجز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،اگر کینسر صرف بریسٹ تک محدود ہو تو اس کو اسٹیج۔1 کہا جاتا ہے،اگر کینسر متعلقہ طرف کی بغل تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج- 2 کہا جاتا ہے ،اگر کیسنر مریضہ کی گردن تک پہنچ جائے تو اس کو  اسٹیج ۔3  کہا جاتا ہے،کینسر اگر مریضہ کے پھیپھڑوں، جگر،ہڈیوں اور جسم کے دوسرے دور دراز حصوں تک پہنچ جائے تو اس کو اسٹیج-4 ہا جاتا ہے۔

    یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر مریضہ اسٹیج۔ 1  اور اسٹیج – 2
    میں ڈاکٹرکے پاس آٸی ہے تو اس کو  ابتدائی بریسٹ کینسر   کہا جاتا ہے،ان حالات میں بیماری قابل علاج ہوتی ہے اور اگر مریضہ ڈاکٹر کی ہدایات پر پورا طرح عمل کرے تو نہ صرف مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتی ہے بلکہ وہ ایسی زندگی گزار سکتا ہے کہ گویا اس کو کبھی یہ کینسر تھا ہی نہیں،دوسری طرف اگر مریضہ کو اسٹیچ ۔ 3 یا اسٹیچ ۔ 4 میں آئے تو اس کو   ایڈوانسڈ بریسٹ کیسنر کہتے ہیں،اگر مریضہ اس حالت میں آئے تو اس مریضہ کا مکمل علاج نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور جتنا مرضی اچھا علاج کیا جائے ،مریض کو مصائب  کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریضہ کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے اس کا انحصار کینسر کی سٹیج اور اس کی قسم پر ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات گلٹی  کا سائز تو چھوٹا ہوتا ہے لیکن وہ مہلک اور جان لیوا زیادہ ہوتی ہے، اگر خواتين  کو جب بھی چھاتی میں کوئی تکلیف ہو تو فوراً بریسٹ سرجن سے رجوع کرنا چاہیے، وہ معائنہ کرکے اس کے ضروری ٹیسٹ کروائے گا اور یہ فیصلہ  گا کہ اس کو بریسٹ کینسر ہے یا نہیں،اگر کینسر ہے تو وہ کینسر کی قسم اور اور اسیٹچز کے مطابق فیصلہ کرے گا کہ اس کی کا علاج کیسے کیا جائے۔

    بریسٹ کیسنر کی تشخيص اور علاج

    بریسٹ کے کینسر کی جلد تشخیص اتنی اہم ہے کہ یہ مریضوں کو پیچیدہ سرجری اور ادویات سے علاج سے بچا سکتی ہے۔
    آج کے دور  میں بریسٹ  کے کینسر کے بہت سے علاج دستیاب ہیں جن سرجری ، کیموتھراپیری ، ڈی تھراپیپی، ہرمون تھراپی ہدف شدہ  تھراپی  وغیرہ شامل  ہیں  ایک سروے کے مطابق  نوے فیصد خواتین ، جن میں جلد تشخیص ہو جاتی ہے، وہ تشخیص کے پانچ سال بعد تک زندہ اور صحت مند رہتی ہیں۔ تاہم اگر تشخیص دیر سے ہو تو یہ شرح گھٹ کر پندرہ فیصد رہ جاتی ہے۔

    پاکستان میں متعدد طبی مراکز میں اس مرض کی مفت تشخیص کی جاتی ہے۔خواتین کیلیے بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت سے بچنے کے لیے مؤثر ترین طریقہ باقاعدہ سکریننگ ہے۔ یہ مفت سکریننگ اور میموگرافی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں بائیوپسی کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔نوجوان خواتين  میں ابتدائی ٹیسٹ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔  اس کے علاوہ خواتین کو اپنا خیال خود رکھنا ہوگا۔ انہیں  مہینے میں کم سے کم ایک مرتبہ اپنے بریسٹ کا خود سے جائزہ لیں اگر انہیں اپنے بریسٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی رونما ہوتی نظر آئے جیسے سائز میں تبدیلی، سوجھن، کھال پر کوئی نشان یا بغل میں غدود کا بننا، کسی قسم کا ابھار، خون یا پیپ کا رساؤ تو اسے سنجیدگی سے لیں۔اور جھجھک کی بجائے اس کی تشخیص اور علاج پر توجہ دیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ کے ہر فرد اور شعبہ کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے،تاکہ بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے مربوط کوششیں کی جائیں، جتنی جلد تشخیص ہو گی اتنے ہی علاج اور صحت یابی کے امکانات زیادہ ہونگے۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز    تحریر  غلام مرتضیٰ

    عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز تحریر غلام مرتضیٰ

    ، وہ ہیرا 💎جس کی چمک سب کو میسر نہیں ہوتی ،جس کی چمک سب کو خیرہ نہیں کرتی،.                                               جس کا وجود سب کے لیے تسکین نہیں ہوتا ،ہاں اپنے محرم رشتوں کی ابیاری کرنے والا یہ نازک وجود السلام کی نظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے،                                                                          باحثیت بیٹی یہ عورت اپنے باپ کے انگن کی بلبل ہے جس کی چہک سے باپ کے ہونٹوں کی مسکراہٹ قائم ہے ،باعث رحمت ہے وجود اس کا،                                                                                اپنے والدین اور بھائیوں کا درد دل سے محسوس کرنے والی یہ ہی صنف نازک ہے ، اس کی  بےلوث دعائیں ہمیشہ اپنے باپ اور بھائیوں کے گرد حصار رکھتی ہیں،                                        اور تو اور دین اسلام نے عورت کو  وہ مقام دیا جو کسی  مزہب میں نہیں دیا گیا باحثیت ماں پاوں میں جنت ہی رکھ دی گئی سبحان اللہ،                                                                            یہ ہی عورت بیوی ہونے کی حثیت سے اپنے شوہر کے دل کا سکون بھی ہے اور اس کا ایمان قائم رکھنے کی علامت بھی اپنے گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا نے کی کاریگر بھی ،           اللہ اکبر کبیرا ،.                                                                 کتنا بلند مقام ہے عورت کا تو پھر کون سی ایسی چیز ہے جو عورت کو لبرل ازم کے طریقوں پر چلا رہی ،کیوں مرد حضرات اپنی خواتین کو جدت پسندی ،مغربی تہزیب سے بچا نہیں رہے؟؟   

    بیوی کی صورت میں تمام تر ذمہ داری مرد پے دے کر عورت کو شان سے بیٹھنے کا حکم دیا مرد ہی کمائے گا اور پوری کرے گا یہ ذمہ داری اسی چار دیواری میں ایک بیوی ایک ماں بنتی ہے جنت پاؤں میں آ جاتی ہے اسلام نے عورت کو جو عزت مقام دیا  روئے زمین پر آج تک کسی مذہب میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے  بلکہ عورت اگر غیر مسلم بھی ہے اس کو بھی حقوق دیے دوران جنگ جہاں مرد کو لڑنے کا حکم دیا وہی پر عورت کو ہاتھ تک لگانے کی اجازت بھی نہیں دی  بلکہ ایک لونڈی کی بھی حد رکھ دی حقوق دیے  اور بے شک یہی سچا دین ہے جو ہم سب کی کامیابی کا راستہ ہے

    لیکن اگر کچھ مرد جواتین کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہے اسے قطعاً مذہب کے ساتھ مت جوڑا جائے
    دین اسلام نے سارا سال بلکہ ساری زندگی کے حقوق طے کر دیے تو عورتوں کا ایک دن عورتوں کے حقوق پے قدغن لگانے کے مترادف ہے

    اور یہود و نصاریٌ  ، یورپ اور  ایلومینٹی

    عورت کو کال گرل فاحشہ وحشیہ طوائف بائی اور بھی عجیب گھٹیہ نام دے کر عورت جیسے عظیم نام کی  توہین کی جاتی ہے  ایک لڑکی کو جسم فروشی سے پیسا کمایا جاتا ہے اور بچے پیدا کراوئے جاتے ہے پھر شادی کی جاتی ہے اور وہی بچہ بڑا ہو کر ان کو اولڈ ہاؤس داخل کروا دیتا ہے
    ہالی وڈ سے لیکر بالی وڈ صرف جسم کی نمائش کی جاتی ہے کپڑے اتارے جاتے ہے پھر جا کے کچھ پیسے ملتے ہے اور تو اور پھر اسی عورت کو پورن گرافی بھی کروائی جاتی ہے اور اس پے ایوارڈ دیے جاتے ہے فگر سٹائل کو مدنظر رکھ کے کیا اسلامی معاشرے کی عورتیں اسی قسم کی آزادی چاہتی ہے
    اللہ کی قسم یہ آزادی ہے بلکہ شیطان کی غلامی ہے پتا نہیں کتنی ہی بہنیں اس دھوکے میں آ کے زلیل و رسوا ہوگئی خدارا میں اپنی بہنوں سے درخواست کروں گا کیا اتنے خوبصورت جسم اللہ نے آگ میں جلنے کے لیے پیدا کیے ہیں  آج تم فطری طور پر چھپکلی کاکروچ کو دیکھ کر ڈر جاتی ہو تو قبر میں سانپ بچو کاٹے گے تو سوچو کیا ہو گا جس حسن کو آج لوگوں کو دکھا دکھا کر فخر محسوس کرتی ہو  کل کو آگ کی نظر ہو جائے گا خدارا لوٹ آؤ سچے دین کی طرف اپنی جانوں پے ظلم مت کرو

    معزرت کے ساتھ اب وقت ہے کہ مرد حضرات کو  لا دینیت، اور دیوثیت کی زنجیریں توڑ کر اپنی بچیوں،اور خواتین کی تربیت السلام کے اصولوں پر کریں تاکہ کفار جو بے حیائی کا بیج ہمارے معاشرہ میں بو رہے ہیں وہ تناور درخت بنے اس سے پہلے ہم مسلمانوں کو اس کی جڑیں کاٹ دینی چاہیے،                                                                                                  تاکہ۔اللہ کے سامنے ہم منہ دکھا نے کے قابل رہیں ،عورت ہیرا ہے اس کی تراش محرم مرد کرتے ہیں ،اٹھیں ہمت کریں اج اور ابھی سے باریک بینی سے مشاہدہ کریں کہ گھر کے ماحول کو با پردہ کیسے بنانا ہے اللہ مدد کرے گا

    ‎@__GHulamMurtaza 

  • عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    وراثت ایک شرعی حق ہے اس میں کوتاہیاں عام ہیں۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم جن علاقوں اور معاشروں میں رہتے ہیں ۔وہاں نہ جانے کتنی ایسی غلط رسمیں ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جب ہم ان معاشروں میں پہنچتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لئے کوشش کرنے کی بجائے خود ان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔

    ہمیں دن رات یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں بھی عورتوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔مثلاً باپ نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بیٹی سے اجازت لئے بغیر اس کی شادی کردی ۔بیٹی کو یہ بات کہنے کی اجازت نہیں کہ فلاں رشتہ مجھے پسند نہیں، یہ بات باپ کی غیرت کے خلاف ہے وہ قتل کرنے کیلئے آمادہ ہوجاتا ہے کہ تجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ تو میرے فیصلے کے خلاف زبان کھولے، نتیجہ یہ کہ اس بیچاری کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔

    اسی طرح یہ بھی عام رواج ہے کہ بیٹی کو ترکے میں سے کوئی حق نہیں دیا جاتا ۔اسی طرح عورت اگر بیوہ ہوجائے تو اس کے لیے دوسرے نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے بلکل ایسا جیسے کفر، حالانکہ ہمارے بزرگوں نے نکاح بیوگان کے حق میں عملی جہاد کیا ۔لیکن ہم اپنے معاشرے میں ان رسموں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ان کے اندر بہہ جاتے ہیں ۔

    وراثت میں زبانی معافی کا اعتبار نہیں! کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے طورخم تک جہاں کسی کا انتقال ہوتا ہے اس کا سارا ترکہ اس کے بیٹے لے جاتے ہیں ۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا لیکن ہم نے کتنی مرتبہ اس کے خلاف آواز اٹھائی؟

    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بہنوں نے ہمارا حصہ بخش دیا اول تو بخشا نہیں ہوتا، بلکہ بہن کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے ذرا سی زبان کھولی تو میرا بھائی میری زندگی عذاب کردے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ ترکے کےبارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی وارث زبان سے بھی کہہ دے کہ میں نے بخش دیا تو وہ بخشنا معتبر نہیں معتبر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کا حصہ اس کے قبضہ میں دو ۔اس پر قبضہ کرنے کے بعد اگر وہ اپنی خوشدلی سے تمہیں کچھ دینا چاہے تو دیدے ۔اس لئے لوگوں کا یہ حیلہ سراسر غلط اور خلافِ شریعت ہے ۔

    یہی حال مہر کا ہے کہ نکاح کے وقت تو بھاری مہر مقرر کرلیتے ہیں اور دینے کی نیت ہوتی نہیں ۔جب بیچاری کے مرنے کا وقت اپہنچا تو اس وقت اسے کہتے ہیں کہ اللہ کے لئے مجھے مہر معاف کردو ۔اب بیچاری کیا کہے کہ میں معاف نہیں کرتی، ظاہر ہے کہ اس موقع پر وہ زبان سے معاف کردیتی ہے، لیکن یہ معافی شرعاً معتبر نہیں ۔

    مغرب نے عورتوں کو جو اذادی دی ہے ہم بعض اوقات اسکے خلاف تو بولتے ہیں اور بولنا بھی چاہئے لیکن اس اذادی کا ایک سبب وہ ظلم بھی ہے جو ہمارے یہاں عورتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے ۔اس لئے اس اذادی کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مظالم کے بارے میں گفتگو کرنا بھی ضروری ہے ۔جن کی چکی میں ہماری مشرقی عورت پس رہی ہے ۔

    آج ہمارا سارا معاشرہ اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ کوئی بات صاف ہی نہیں ۔اگر باپ بیٹوں کے درمیان کاروبار ہے تو وہ کاروبار ویسے ہی چل رہا ہے ۔اس کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ بیٹے باپ کے ساتھ جو کام کررہے ہیں وہ آیا شریک کی حیثیت میں کررہے ہیں، یا ملازم کی حیثیت میں کررہے ہیں یا ویسے ہی باپ کی مفت مدد کررہے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں مگر تجارت ہورہی ہے ۔ملیں قائم ہورہی ہیں دکانیں بڑھتی جارہی ہیں ۔مال اور جائیداد بڑھتا جارہا ہے لیکن یہ پتہ نہیں ہے کہ کس کا کتنا حصہ ہے ۔اگر ان سے کہا بھی جائے کہ اپنے معاملات کو صاف کرو، تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ تو غیرت کی بات ہے ۔بھائیوں بھائیوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    یا باپ بیٹوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب شادیاں ہوجاتی ہیں اور بچے ہوجاتے ہیں اور شادی میں کسی نے زیادہ خرچ کرلیا اور کسی نے کم خرچ کیا، یا ایک بھائی نے مکان بنا لیا اور دوسرے نے ابھی تک مکان نہیں بنایا ۔بس اب دل میں شکایتیں اور ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہونا شروع ہوگیا اور اب آپس میں جھگڑے شروع ہو گئے کہ فلاں زیادہ کھا گیا اور مجھے کم ملا اس دوران باپ کا انتقال ہوجائے تو اس کے بعد بھائیوں کے درمیان جو لڑائی اور جھگڑے ہوتے ہیں. وہ لا متناہی ہوتے ہیں ۔پھر ان کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai 

  • ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین   تحریر: سعادت حسین عباسی

    ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین  تحریر: سعادت حسین عباسی

    ٹویٹر: IamSaadatAbbasi@ 

    چند روز قبل کی بات ہے کہ ٹویٹر پر میری نظروں سے ایک ٹویٹ گزری جو ایک معروف پاکستانی سلیبرٹی کی طرف سے کی گئی تھی جس میں انہوں نے یہ لکھا کہ میں نے تین شادیاں کی اور تینوں میں سے کوئی شوہر بھی مجھے خوش نہ رکھ سکا۔ اب یہ اس سلیبرٹی کی طرف سے ایک نارمل ٹویٹ تھا جو انہوں نے اپنی لائف کے حوالے سے کیا جو کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی تہذیب وتمدن سے پاک تھا لیکن ہمارے سوشل میڈیا صارفین پر صد ہا افسوس کہ اس ٹویٹ کو ایسا رنگ دیا کہ اس معروف سیلبرٹی کو اپنا وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹویٹ کو لیکر ایسی نازیبہ گفتگو کی جو کہ لکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اب اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اگرایسے حالات کسی مرد کی زندگی میں آتے اور وہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر کرتا کہ میں نے تین شادیاں کی لیکن تینوں بیویاں مجھے خوش نہ رکھ سکی تو اس پر بھی تنقید مرد پر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں بھی تنقید کا نشانہ سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے خواتین کو بنایا جاتا۔ اور ان خواتین کے بارے میں ایسی ایسی گفتگو کی جاتی جو قابل ذکر بھی نہیں ہوتی۔ 

    جب کہ ہمارا تعلق ایک اسلامی ملک سے ہیں ہم ایک اسلامی ملک میں پیداہوئے ہیں اور ہمارا مذہب اسلام خواتین کی عزت واحترام کا درس دیتا ہے لیکن بطور ایک سوشل میڈیا صارف ہم کیوں نہیں اس بات کو سمجھ پاتے ہیں کہ ہمارے گھر میں بھی ماں،بہن، بیٹی موجود ہیں کل کو ان پر بھی ایسے وار ہوسکتے ہیں جس سے ان کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہم کیوں ہر چیز میں نشانہ خواتین کو ہی بناتے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم میں کمی رہ جاتی ہے یا ہماری تربیت اچھی نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے ہم اس ٹریک پر چل پڑتے ہیں جس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوتی ہو۔ دو ماہ قبل اسلام آباد میں قتل ہونے والی سابق سفیر کی بیٹی نورمقدم کو بھی سوشل میدیا صارفین تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے بہت سارے ان کے فیملی کے لوگ دوست احباب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا پرایک اور معروف پاکستانی سرجن نے ایک تصویر جس میں انہوں نے اپنی چند جونیئر سرجنز کے ساتھ اس عنوان کے ساتھ اپلوڈ کی کہ خواتین بھی سرجن بن سکتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں ہمارا بازو بن کر کام کر سکتی ہیں اس تصویر کے نیچے  جہاں بہت سارے صارفین اس بات کو سراہا رہے تھے وہی پر ہمارے تنگ نظر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ایسے کمنٹس بھی تھے جن میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ ان سب کو سرجن بنانے کی بجائے کھانا بنانا سکھا دیتے تاکہ وہ اپنے سسرال میں جا کر خوش رہ سکتی یہاں تک کہ کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وجہ سے طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے کیونکہ خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہر فیلڈ میں مردوں کے مد مقابل آرہی ہیں لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں، پہلی یہ کہ ایک پڑھی لکھی خاتون اپنا گھر اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے اور ہر قدم پر شوہر کے ساتھ ملکر آگے بڑھ سکتی ہے اور دوسری بات جب ان صارفین حضرات کو کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے گھر میں کوئی بیمار ہوجاتا ہے یا گھر میں کسی کا ڈلیوری کیس ہو تو یہی صارفین ہسپتالوں میں جا کر لیڈی ڈاکٹر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں یہ دوہرا معیار آخر کیوں رکھتے ہیں تب ہسپتالوں میں مرد ڈاکٹر حضرات کے پاس کیوں نہیں جاتے تب تو ہر حال میں ان کو لیڈی ڈاکٹر کو ہی دکھانا ہوتا ہے۔ سوشل  میڈیا پر ایسے صارفین ہر طرح کی خواتین کو ہراساں کرتے نظر آتے ہیں کبھی مثبت رویہ نہیں اختیار کرتے ہمیشہ ہر چیز کو منفی رنگ دیتے ہیں۔ ایسے ٹرولر صارفین کے لیے حکومت کو چاہیے کہ کوئی ضابطہ اخلاق کا قانون بنایا جائے اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے نا کہ صرف قانون کی حد تک محفوظ رکھا جائے ۔ یہی پر ذکر کرتا چلوں کہ ۲۰۱۸ میں گورنمنٹ کی طرف سے سائبر کرائم قانون پاس ہوا تھا جس پر ایسے صارفین کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن جس ادارے کو یہ کام سونپا گیا ہے ان کی قابلیت پر صدہا افسوس کیونکہ اس ادارے میں سائبر کرائم سیل میں ایسے افراد بیٹھے ہوئے ہیں جن کو انٹرنیٹ سرچنگ تک نہیں آتی اور کچھ تو ایسے ہیں جن کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا بھی نہیں آتا۔ کچھ دن قبل ایک ایسے ہی کیس کے سلسلے میں اس ادارے میں جانا پڑا وہاں پر جا کر جب اپنی درخواست دی تو اس کے بعد اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا لنک بھی دیا لیکن پہلے تو وہاں پر انٹرنیٹ ہی ٹھیک سے کام نہین کر رہا تھا تین چار بار اس ادارے کے ایک ملازم نے انٹرنیٹ ڈیوائس کو ری سٹارٹ کر کے آخر کار انٹرنیٹ تو چلا ہی لیا اب جب اس لنک کو یوارایل میں پیسٹ کر کے سرچنگ کرنے کا میں نے کہا تو ان صاحب سے نہ ہوسکا آخر کار میں نے خود ہی ان کو سارا کام کر کے دیا، میری حکومت سے یہ اپیل بھی ہے کہ سائبر کرائم سیل میں کم از کم ان لوگوں کو بٹھایا جائے جو سائبر کرائم کو سمجھتے ہوں جس کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا نا آتا ہو وہ کیا سائبر کرائم کو سمجھے گا۔  خیر یہ تو ایک الگ مسئلہ ہے جسکو حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنا چاہیے۔ 

    ایسے اور بھی  بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔خدارا سنبھل جائیں ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہین مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں ہمیں اپنی خواتین کو عزت واحترام دینا ہوگا اور یہی ہمارا فریضہ بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں حوس اس قدر بھر چکی ہے کہ ہر چیز میں اپنی حوس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ۔ہماری مائیں ہماری بیٹیاں ہماری بہنیں اس ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اس لیے ہر چیز سے بالاتر ہوکر ان کو عزت واحترام دیں اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کریں۔  

    ٹویٹرپروفائل لنک: 

    @IamSaadatAbbasi

  • پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    غذائی ماہرین کی جانب سے پنیر یعنی کہ ’چیز‘ کو بہترین غذا قرار دیا جاتا ہے تقریباً 8 ہزار سال سے دودھ کے ذریعے مختلف قسم کا پنیر تیار کیا جا رہا ہے پنیر ہر عمر کے فرد کی من پسند غذا ہے جبکہ اسے بچوں کے استعمال کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    دودھ سے پنیر تیار کرنے کے مرحلے کے دوران دودھ میں سے سارا پانی نکال لیا جاتا ہے، دودھ سے پنیر کی تیاری کا عمل پروٹین کی وافر مقدار فراہم کرنے کے ساتھ اس کو صحت کے لیے نہایت مفید بنانے کا باعث بھی بنتا ہے جس کے استعمال سے بے شمار طبی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق پنیر کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند اور اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانوں، بلڈ پریشر، امراضِ قلب، فالج اور میٹابولک امراض مثلاً ذیابطیس وغیرہ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے دودھ پینے کے بجائے پنیر کھانے کے نتیجے میں فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    پنیر کی زیادہ تر اقسام کو پروٹین حاصل کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، کم چکنائی پر مشتمل پنیر کو پروٹین کا بہترین ذریعہ جبکہ پنیر کی ایک اور قسم پرمیسن چیز(Parmesan cheese ) کو دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔

    پرمیسن چیز کے ایک اونس میں 10 گرام پروٹین پائے جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس پنیر کی دیگر اقسام جیسے کہ موزریلا، چیڈر، کوٹیج اور ریکوٹا میں پروٹین کی مقدار کم اور فیٹ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔

    انسانی پٹھوں میں ورزش یا بھاری بھرکم کاموں کے نتیجے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ، متاثرہ پٹھوں کی مرمت، اعضاء کی بناوٹ، نشوونما اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کرنے کے لیے پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    پروٹین کی کمی مسلز کی کمزوری، درد، جسمانی نشوونما میں کمی، جگر پر چربی، جِلد اور ناخنوں کے مسائل، بالوں کے ٹوٹ جانے یا گنج پن جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

    اسی لیے غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ انسان کی روز مرہ خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار کا شامل ہونا ضروری ہے۔

    پروٹین کی مقدار سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کو روزانہ 56 گرام، خواتین کو 40 گرام جبکہ بچوں کو 19 سے 34 گرام پروٹین کی مقدار کا استعمال کرنا چاہیئے۔

    وٹامن بی 12 دودھ یا پھر سپلیمنٹس سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پنیر کی کئی قسموں میں بھی وٹامن B12 قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے غذائی و طبی ماہرین کے مطابق پنیر کینسر یا سرطان سے محفوظ رکھتا ہے، جَلد والدین بننے کی خواہش مند افراد کے لیے پنیر کا استعمال لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    لو فیٹ یعنی کے کم چکنائی والا پنیر بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتا ہے اور جگر کو مضبوط بناتا ہے بچوں کا قد بڑھانے کے لیے پنیر کا استعمال کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

    مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے لو فیٹ پنیر ایک بہترین غذا ہے جبکہ کیلشیم، پروٹین، میگنیشیم کی وافر مقدار اعصاب اور اعضاء کو طاقت ور بناتی ہے پنیر پٹھوں کے درد، جوڑوں کی سوجن اور تکلیف میں مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    پنیر کا استعمال جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرتا ہے پنیر چاہے کم چکنائی والا ہی کیوں نہ ہو اس کے استعمال سے وزن بڑھتا ہے، اسے کمزور بچوں کی غذا میں پنیر شامل کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

  • کووڈ اور حالات حاضرہ۔ تحریر: طلعت کاشف سلام

    کووڈ اور حالات حاضرہ۔ تحریر: طلعت کاشف سلام

    کووڈ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ چھوٹے ملکوں کے ساتھ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملک تک مسائل سے دوچار ہیں۔

    اس وبا نے نہ امیر دیکھا نہ غریب ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ پوری دنیا اس وقت معالی بحران سے گزر رھی ہے۔ بڑے ممالک نے تو پھر بھی کسی حد تک سروائیو کر لیا لیکن اکثر چھوٹے ممالک کی اکانومی مکمل طور پر تباہ ھوگئی۔ کووڈ کی پہلی لہر کے بعد یہ سمجھا گیا کے اب سب ٹھیک ھو جائے گا۔ لیکن ایک کے بعد دوسری لہر، پھر تیسی لہر اور پھر چوتھی لہر بھی آگئی۔ اس وقت کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کے کووڈ رکے گا یا یہ سلسلہ اسی طرح ھمارے ساتھ ساری زندگی چلتا رھے گا۔اس وائرس نے کئی زندگیاں نگل لیں۔ مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی بہت ھوا۔

    کئی ڈاکٹرز اس ریسرچ میں مصروف ہیں کے کسی طرح کووڈ اور اسکے بعد دوسرے وائرس جیسے کے ڈیلٹا ویرینٹ کا کوئی مستقل حل نکالا جائے۔ لیکن ابھی تک وہ اس کو روکنے میں یا حل نکالنے میں ناکام ہی رھے ہیں۔ ویکسین سے اس کا پھیلاو کم ضرور ھوا ہے لیکن رکا نہیں ہے۔ سننے میں آرھا کے سردیوں میں کووڈ کی پانچویں لہر پھر زور پکڑے گی۔ اگر ھم یورپی ممالک کو دیکھیں تو وھاں پر گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ عوام بھی بھرپور کوشش کررھی ہے کے کسی طرح حالات ٹھیک ھوں۔ چھوٹے بزنس کے ساتھ ساتھ کئی بڑے بڑے بزنس مکمل طور پر تباہ ھو گئے۔ آئیرلاین انڈسٹری بہت خسارے میں رھی۔ سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ھو گیا۔گاڑیوں کی انڈسٹری بہت شدید نقصان کا شکار ھوئی۔

    یہاں میں آپکو ایک چھوٹی سی مثال دیتی ہوں۔۔۔

    دنیا کا سب سے لمبا لاک ڈاون کینیڈا میں ھوا۔ کووڈ میں کینیڈا جب بند ھوا تو ساری گاڑی مینوفیکچرنگ رک گئی۔ کینیڈا چائنہ سے اسپیڈومیٹر کی چپ منگواتا تھا۔ جب مینوفیکچرنگ رکی تو کینیڈا نے چائنہ سے چپ لینی بند کردیں۔ کیونکہ کام ہی بند تھا تو چپ لے کر کیا کرتے۔ دوسری طرف چائنہ کو بہت نقصان ھوا کیونکہ وہ چپ ایکسپورٹ نہیں کر پا رھے تھے۔ بہرحال چائنہ نے تو کوشش کر کے دوسرے ممالک سے کانٹریکٹ لے لیا۔ اور اپنا مال دوسرے ممالک کو دینے لگے۔ لیکن جب کینیڈا کھلا تو انہوں نے چائنہ سے رابطہ کیا تاکہ اسپیڈومیٹر کی چپ منگوائی جاسکے۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ھو چکی تھی۔ کیونکہ چائنہ نے کسی اور ملک کو مال سپلائی کرنا شروع کردیا تھا۔ اور اب کینیڈا کی صورتحال یہ ہے کے ساری کمپنیوں میں ھزاروں کی تعداد میں گاڑیاں تیار کھڑی ہیں۔ لیکن کسی کے پاس بھی اسپیڈومیٹر چپ نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے گاڑی مینوفیکچر کرنے والی انڈسٹری بہت زیادہ نقصان کا شکار ھو رھی۔

    پہلے ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ بےروزگار ھوئے اور اب مزید ھونگے۔لیکن یہاں کی گورنمنٹ اپنی پوری کوشش کررھی کے کسی طرح ان سب نقصانات کو پورا کیا جاسکے۔ نہ صرف گورنمنٹ ساتھ سارے ادارے اور عوام بھی پہلے سے بڑھ کے کام کررھی ہے۔ جہاں پہلے 8 گھنٹے کام کیا جاتا تھا وھاں اب دس سے بارہ گھنٹے کرتے ہیں۔ اس وقت اگر حالات اچھے دیکھنا چاہتے ہیں تو سارہ ملبہ صرف حکومت پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ بحیثیت قوم سب کو ساتھ دینا چاہئے تب ہی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔

    دنیا میں کونسا ایسا ملک ھوگا جو عوام کو پریشان دیکھ کے خوش ھوگی! کوئی نہیں نہ۔۔
    یہ بات ھم سب کو سمجھنی چاہئے کے اس وقت حکومت کو ھمارے ساتھ کی ضرورت ہے اور اگر اپنا ملک بچانا ہے تو سب نے مل کے کام کرنا ہے، کیونکہ اسی میں ھم سب کا فائدہ ہے ھم سب کی بھلائی ہے۔اگر ویکسین نہیں لگی ہے تو لازمی لگوائیں اور ماسک لازمی پہنیں۔ کیونکہ اس وقت یہی سب سے بڑی احتیاطی تدبیر ہے۔ کیونکہ اس وقت کوئی بھی ملک مزید لاک ڈاون برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ لاک ڈاون سے نہ صرف ھمارا بلکہ پورے ملک کا نقصان ھوتا ہے۔ اس لیے احتیاط کریں اور تندرست رہیں۔

    @alwaystalat

  • بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماہ اکتوبر بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 کے عشرے میں دنیا بھر میں پہلی مرتبہ بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے لئے پنک ربن مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان) دنیا بھر کی خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے، ساتھ ہی دنیا بھر کی خواتین کی شرح اموات کے بڑھنے کا سب سے بڑا سبب بھی بریسٹ کینسر کو ہی مانا جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ریسرچ کے مطابق بریسٹ کینسر دنیا بھر میں تمام قسم کے کینسرز کا 10 فیصد ہے جو کہ تشخیص سے ثابت ہوتا ہے۔

    مرض کی پیچیدگیوں اور اس حوالے خواتین کو پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر صدر مملکت پاکستان عارف علوی صاحب اور خاتون اول بیگم ثمینہ علوی بھی بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے اور مرض کے پھیلائو کو روکنے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اسی حوالے سے ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی صاحب نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص ہی ملک میں اس مہلک مرض کا شکار ہونے والی سالانہ 40 ہزار خواتین کی زندگیاں بچانے کا واحد راستہ ہے ، اس سلسلے میں بھرپور آگاہی مہمات کے ذریعے چھاتی کے کینسر کے بارے میں ممنوعات سے نجات حاصل کر کے خواتین کو فوری طبی مدد لینے سے متعلق ہچکچاہٹ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے بارے میں ان کی آگاہی مہم کے پیش نظر میڈیا اپنے ٹیلی ویڑن پروگراموں اور اخبارات میں اس موضوع کو موثر طریقے سے اجاگر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مہینے مختلف شہروں کے کالجوں کا دورہ کریں گی تاکہ لڑکیوں میں خود تشخیص کے حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔ انہوں نے خاندانوں کے مردوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس بیماری سے منسلک مشکلات کا ادراک کریں اور مناسب طبی دیکھ بھال کے لئے خواتین کی مدد کریں۔
    اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے، ہر سال 90 ہزار کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے 40 ہزار خواتین کی موت ہو جاتی ہے، مختلف ریسرچ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں ہر 9 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے اور یقینا یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔لیکن ساتھ ہی اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس مہلک مرض کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی شرح پاکستان میں ہی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ مزید براں یہ کہ اس مرض سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

    آگاہی کیوں ضروری ہے؟
    خواتین میں جِلد کے کینسر کے بعد بریسٹ کینسر سب سے عام مرض ہے۔ اوسط عمر میں ہر عورت میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 12فیصد پایا جاتا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 3لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے تقریبا 15فیصد 40ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے سبب موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر8میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہے جب کہ ہر 2منٹ میں ایک عورت میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دیکھا جائے توایشیائی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے زیادہ پاکستان میں پائی جاتی ہے جس کے باعث یہ مرض ملک میں خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس موذی مرض سے نمٹنے کے لئے لازمی ہے کہ اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ہو لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کو اس مرض کے حوالے سے آگاہی حاصل ہو۔اس مرض سے متعلق یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ بریسٹ کینسر کے لئے اسکریننگ ٹیسٹ40سال کی عمر میں شروع کیاجاتا ہے جبکہ سالانہ میموگرافی اور مرض کی بروقت تشخیص کے ذریعے بریسٹ کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ خواتین بریسٹ کینسر کے حوالے سے باشعور ہوں گی تو عین ممکن ہے کہ نہ صرف اس مرض سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جاسکے بلکہ اس مرض کی شرح بھی کم ہوجائے۔
    بریسٹ کینسر کیا ہے ؟

    https://twitter.com/MustansarPK/status/1446445962017267712

    جسم کے پٹھے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنے ہوتے ہیں لیکن اگریہی خلیے بے قابو انداز میں بڑھنا شروع ہو جائیں اور ایک ڈھیر بنا لیں تو یہ کینسر بن جاتا ہے۔ زیر غور بیماری میں چھاتی میں گلٹی یا رسولی بن جاتی ہے، یہ گلٹی یا رسولی سائز میں بڑھ سکتی ہے اور اس کی جڑیں چھاتی میں پھیل بھی سکتی ہیں،جس کے باعث چھاتی میں تکلیف اور ساخت میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے اندر، باہر یا نیچے زخم بڑھ کر بعض اوقات کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مریض اور مرض کی نوعیت کے مطابق یہ علامات مختلف بھی ہو سکتی ہیں لیکن واضح رہے کہ یہ کینسر متعدی (Infectious) نہیں ہوتا، نہ ہی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ بریسٹ کینسر بنیادی طور پر خواتین کو متاثر کرتا ہے، تاہم مردوں میں بھی اس کینسر کے خطرات پائے جاتے ہیں، مگر تشخیص نہ ہونے کے برابرہے بین الاقوامی ڈاکٹرز کی آرا کے مطابق ہارمونز کی بے اعتدالی بریسٹ کینسر کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔ بنیادی طور پر جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ دوسری جانب خواتین کا غیرصحت مند طرز زندگی اور غیر متوازن خوراک بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔بڑی عمر میں شادی یا زائد عمر میں پہلے بچے کی پیدائش بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہیں لیکن اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 4فیصدکم ہوجاتا ہے۔بریسٹ کینسر موروثی کینسر بھی ہے، تقریبا 10فیصد بریسٹ کینسر موروثی جینیاتی نقائص کی وجہ سے ہوتاہے جبکہ جینیاتی نقائص کی حامل خواتین کی اپنی زندگیوں میں اس مرض کے ہونے کے80فیصد امکانات ہوتے ہیں ۔عام طور پر بریسٹ کینسر کا سبب بریسٹ لمپس بھی ہوتے ہیں۔ یہ چھاتی میں بننے والی وہ گلٹیاں ہیں، جنہیں پول سیٹک یا فابٹر و سیٹک کہا جاتا ہے۔ بریسٹ لمپس کے سبب بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات خاصے بڑھ جاتے ہیں ۔بروقت تشخیص اس مرض پر قابو پانے کیلئے سب سے پہلا مرحلہ اس کی تشخیص ہے، جس کے لئے طبی ماہرین خواتین کوبریسٹ چیک اپ باقاعدگی سے کروانے کا مشورہ دیتے ہیں، خصوصا ان خواتین کوجن کی عمر 40سال سے زائد ہے۔تشخیص کا بہترین طریقہ میموگرافی ہے، خواتین کسی بھی شبہہ کی صورت میںمیموگرافی کرواسکتی ہیں۔ یہ ایک طرز کا ایکسرے ہوتا ہے جس کے ذریعے چند گھنٹوں میں کینسر کے مرض کا پتا چل جاتا ہے۔ میموگرافی کروانے کے وقت سے متعلق کافی عرصے سے ایک لمبی بحث جاری ہے، تاہم امریکی پریوینٹو سروسز ٹاسک فورس کی ایک حالیہ تجویز کے مطابق50سال میں قدم رکھنے والی تمام تر خواتین کو ہر دو سال میں کم ازکم ایک بار میموگرافی ضرور کروانی چاہیے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق خواتین کو 45سال کی عمر سے سالانہ اسکریننگ کروانی چاہیے جبکہ50سال کی عمر تک میموگرافی لازمی قرار دی جاتی ہے۔ تاہم اگر کسی کی فیملی ہسٹری میں بریسٹ کینسر کے کیسز موجود ہیں تو اسے اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے مخصوص عمر سے قبل ہی میموگرافی کروالینی چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں اس مرض کی آگاہی پیدا کی جائے، اس سلسلے میں اکتوبر کو اس مرض کی آگاہی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، بہت سی این جی اوز اس آگاہی مہم میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں اور پنک ربن نامی (Pink Ribbon ) تنظیم بریسٹ کینسر کی آگاہی اور اس کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی میں سر فہرست ہے۔

    شوکت خانم ہسپتال نے پانچ منٹس اپنے لئے (5 minutes for me) کے نام سے ایک مہم چلائی جس میں پاکستان کی خواتین کو آگاہی دی گئی کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص میں صرف پانچ منٹس ہی درکار ہوتے ہیں، اس مہم میں یہ بھی بتایا گیا کہ 40 سال سے کم عمر خواتین کو ہر مہینے اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے اور 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے ریگولر چیک اپ کے ساتھ ساتھ میمو گرافی بھی کروا لیں جو کہ بریسٹ کینسر کا مخصوص ٹیسٹ ہے، کیوں کہ اس مرض کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتا ہے، اس لئے بڑی عمر میں یہ ٹیسٹ ضروری ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ سماج کے باشعور اور متحرک لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے کہ بروقت تشخیص ہی اس مرض کا ممکن حل ہے اور یہ مرض قابل علاج ہے، بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا خاتون ناپاک یا اچھوت ہے جس کی بنا پر نہ تو مریض کا تیار کردہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں جو کہ انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے جس کی حوصلہ شکنی لازمی ہے۔بریسٹ کینسر کسی بھی دوسرے کینسر کی طرح ایک مرض ہے جو کہ وبائی مرض کی طرح نہیں پھیلتا بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے نعرے کے مصداق کہ "ہم کر سکتے ہیں، میں کر سکتی ہوں” اسی نعرے پر عمل کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مرض کو مات دے سکتی ہیں تاہم ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس حوالے سے خواتین کو درست آگاہی فراہم کریں تاکہ بروقت تشخیص کے ذریعے مرض کے بڑھائو پر قابو پاکر قیمتی زندگیاں اور وسائل بچائے جا سکیں۔

    @MustansarPK

  • عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امبر صباء

    عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ تحریر : امبر صباء

    Twitter 👇
    @MrsHamdani1
    جب ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام لے کر آئے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت چمک اٹھی اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی و روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہو گیا کہ عبادات اور معاملات بلکہ زندگی و موت کے ہر مرحلے اور موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں.
    مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے گئے اور قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر عورتوں کی مختلف حیثیتوں میں ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت ملتی ہے عورتوں کو کسبِ معاش کا حق دیا گیا انہیں وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ماں کی اطاعت کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری سنائی گئی ماں گھر میں ایک ایسی قوت ہے جو تربیت اور ایثار کے ہتھیار سے اپنی اولاد کو منشاء خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے
    دین اسلام نے واضح طورپر بتا دیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہی ہے.
    سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ: ” جو نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی دیں اور ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کرتے ہیں اجر دیں گے” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی حیثیت کے ضمن میں فرمایا ”اس (بیٹی) کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرو” اور بیٹی کی اچھی تربیت اور اس کے ساتھ شفقت کو آگ سے نجات کا ذریعہ قراردیا. اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”عورت جب بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرتی ہے.
    دور نو میں پھر سے عورت پر مختلف قسموں کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں آزادی نسواں کے پرفریب نعروں سے عورتوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور ان عورتوں کو سرعام ننگا کیا جا رہا ہے ہر کوئی عورت ذات کو ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے اور آزادی نسواں کے نام پر عورت کو بیٹی، بیوی، بہن اور ماں بننے سے روکا جا رہا ہے عورتوں کو کلیوں و محفلوں کی زینت بنایا جا رہا ہے ان کی عزت و ناموس کو ہر گلی کوچے میں لوٹا جا رہا ہے الغرض عورت کو ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے کیا یہی ہمارا دین ہے؟ عیاش پسند لوگ قرآنی احکامات میں تاویلیں کر رہے ہیں علماء حق کو قدامت پسند کے القابات دیئے جا رہے ہیں
    خدارا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دین اسلام کے احکامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے،آزادی نسواں کے پرفریب نعروں کی ذد میں آکر ہم کہیں دینی اسلام کے احکامات کو بھول تو نہیں بیٹھے تو آئیے اپنی اصلاح کریں عورتوں کو ان کے حقوق دیں وہ حقوق جو کہ عورتوں کو دین اسلام نے دیئے ہیں آئیے اپنی اصلاح کیجئے اور ایک عزت دار مسلمان ہونے کا ثبوت دیجیے.
    ” سنو عورت کو کھلونا سمجھنے والو
    جس کے نام سے ہےرونق
    وہ ہے عورت
    تو جس کا بیٹا ہے
    وہ ہے عورت
    خدا نے جس کے قدموں تلے رکھی ہے جنت
    وہ ہے عورت
    جو کل تیرا نصیب ہے
    وہ ہے عورت
    جس کا تو باپ بنے گا
    وہ ہے عورت
    جس کا بھائی ہے تو
    وہ ہے عورت
    سنو! عورت کی عزت کرنا ایک عزت دار مرد کی نشانی ہے.

  • اسلام میں عورت کا مقام  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏اسلام میں عورت کا مقام
    اسلام ایک ایسا عالمگیر مذہب ہے کہ جس نے عالم انسانیت سے ظلم کے اندھیروں اور جہالت کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف کا بول بالا کردیا اور عورت جو کہ اس دور جہالت کے وقت مظلوم طبقہ تھی اور سب سے نیچ طبقہ سمجھتے تھے اور ان کی کوئی عزت نہیں تھی. اسلام نے اسے اتنا اونچا مقام دے دیا کہ جنت ان کے قدموں کے نیچے ہوگئی.
    تاریخ گواہ ہے کہ تمام مذہبوں میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو اعلیٰ مقام دیا اور عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے اسکی کھوئی ہوئی عزت و احترام دوبارہ دلا دی.
    دوسرے مذاہب میں عورت کی ذرا برابر بھی حیثیت نہیں تھی.
    بیٹی پیدا ہونے پر اسے زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں پر وہ وہ مظالم ڈھائے جاتے تھے کہ جسے آج  کوئی سوچ بھی نہیں سکتے.
    اسلام میں عورت کی حیثیت کے حوالے سے بے شمار احادیث موجود ہے. جس میں ایک مندرجہ ذیل ہیں.
    خاتم النبیین حضور اکرم(ص) نے فرمایا کہ جس عورت نے پانچویں وقت کی نماز پڑھی، رمضان شریف کے روزے رکھے، اپنے نفس کو غلط کاموں سے روکا اور اپنے شوہر کی تابعداری کی وہ جنت الفردوس میں جس دروازے سے داخل ہونا چاہے اسے اجازت ہوگی.
    اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دیا اور عورت کو ماں کے روپ میں وہ مقام دیا کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی اور ان کے چہرے کو محبت کی نظر سے دیکھنے سے ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے.
    اسلام نے ماں کو باپ سے تین درجہ مقدم رکھا.
    اسلام نے عورت کو اتنی عزت دی کہ قرآن مجید میں دو سورتیں(سورۃ النساء اور سورۃ مریم) کے نام پر نازل کردی.
    حضرت محمد ص نے آخری خطبہ حجتہ الوداع میں بھی عورت کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی.
    ایک موقع پر حضور اکرمؐ نے فرمایا: ‘کی جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئی تو قیامت کے دن میں اور وہ شخص اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔
    اب عورتوں کو سوچنا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو اتنا اونچا مقام دیا مگر بدلہ میں اب عورتیں کیا دی رہی ہے.
    اسلام نے عورتوں پر باریک کپڑوں کو استعمال کرنے پر پابندی لگادی ہے مگر آج ہم اپنے بازاروں پر نظر دوڑائیں تو ہماری آنکھیں شرم سے جھک جائیگی.
    آج جو عورت ایک بار پھر سے ذلالت کی طرف جارہی ہے اور ان پر دنیا تنگ ہورہی ہے ان میں عورتوں کا بھی برابر کا قصور ہے کہ دین سے دور ہوتی جارہی ہے.
    عورت معاشرے کا ستون ہے اور ان کی تربیت سے ہی معاشرے بنتے ہیں اور تباہ بھی ہوتے ہیں.
    عورت کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی. آج جو کچھ عورتیں باہر سڑکوں پر نکل کر عورتوں کو آزادی دلانے کی بات آواز اٹھا رہے ہیں اور اسلام کے قوانین کو زنجیر کہہ رہے ہیں دراصل یہ چاہتے ہیں کہ آزادی کے نام پر فخاشی پھیلے اور پہلے جہالت کی زمانے کی طرح عورتوں کی خرید و فروخت جاری ہوجائے.

    ٹویٹر : ‎@ZeeAkhwand10