Baaghi TV

Category: خواتین

  • پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    غذائی ماہرین کی جانب سے پنیر یعنی کہ ’چیز‘ کو بہترین غذا قرار دیا جاتا ہے تقریباً 8 ہزار سال سے دودھ کے ذریعے مختلف قسم کا پنیر تیار کیا جا رہا ہے پنیر ہر عمر کے فرد کی من پسند غذا ہے جبکہ اسے بچوں کے استعمال کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    دودھ سے پنیر تیار کرنے کے مرحلے کے دوران دودھ میں سے سارا پانی نکال لیا جاتا ہے، دودھ سے پنیر کی تیاری کا عمل پروٹین کی وافر مقدار فراہم کرنے کے ساتھ اس کو صحت کے لیے نہایت مفید بنانے کا باعث بھی بنتا ہے جس کے استعمال سے بے شمار طبی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق پنیر کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند اور اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانوں، بلڈ پریشر، امراضِ قلب، فالج اور میٹابولک امراض مثلاً ذیابطیس وغیرہ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے دودھ پینے کے بجائے پنیر کھانے کے نتیجے میں فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    پنیر کی زیادہ تر اقسام کو پروٹین حاصل کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، کم چکنائی پر مشتمل پنیر کو پروٹین کا بہترین ذریعہ جبکہ پنیر کی ایک اور قسم پرمیسن چیز(Parmesan cheese ) کو دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔

    پرمیسن چیز کے ایک اونس میں 10 گرام پروٹین پائے جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس پنیر کی دیگر اقسام جیسے کہ موزریلا، چیڈر، کوٹیج اور ریکوٹا میں پروٹین کی مقدار کم اور فیٹ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔

    انسانی پٹھوں میں ورزش یا بھاری بھرکم کاموں کے نتیجے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ، متاثرہ پٹھوں کی مرمت، اعضاء کی بناوٹ، نشوونما اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کرنے کے لیے پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    پروٹین کی کمی مسلز کی کمزوری، درد، جسمانی نشوونما میں کمی، جگر پر چربی، جِلد اور ناخنوں کے مسائل، بالوں کے ٹوٹ جانے یا گنج پن جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

    اسی لیے غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ انسان کی روز مرہ خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار کا شامل ہونا ضروری ہے۔

    پروٹین کی مقدار سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کو روزانہ 56 گرام، خواتین کو 40 گرام جبکہ بچوں کو 19 سے 34 گرام پروٹین کی مقدار کا استعمال کرنا چاہیئے۔

    وٹامن بی 12 دودھ یا پھر سپلیمنٹس سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پنیر کی کئی قسموں میں بھی وٹامن B12 قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے غذائی و طبی ماہرین کے مطابق پنیر کینسر یا سرطان سے محفوظ رکھتا ہے، جَلد والدین بننے کی خواہش مند افراد کے لیے پنیر کا استعمال لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    لو فیٹ یعنی کے کم چکنائی والا پنیر بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتا ہے اور جگر کو مضبوط بناتا ہے بچوں کا قد بڑھانے کے لیے پنیر کا استعمال کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

    مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے لو فیٹ پنیر ایک بہترین غذا ہے جبکہ کیلشیم، پروٹین، میگنیشیم کی وافر مقدار اعصاب اور اعضاء کو طاقت ور بناتی ہے پنیر پٹھوں کے درد، جوڑوں کی سوجن اور تکلیف میں مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    پنیر کا استعمال جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرتا ہے پنیر چاہے کم چکنائی والا ہی کیوں نہ ہو اس کے استعمال سے وزن بڑھتا ہے، اسے کمزور بچوں کی غذا میں پنیر شامل کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

  • کووڈ اور حالات حاضرہ۔ تحریر: طلعت کاشف سلام

    کووڈ اور حالات حاضرہ۔ تحریر: طلعت کاشف سلام

    کووڈ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ چھوٹے ملکوں کے ساتھ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملک تک مسائل سے دوچار ہیں۔

    اس وبا نے نہ امیر دیکھا نہ غریب ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ پوری دنیا اس وقت معالی بحران سے گزر رھی ہے۔ بڑے ممالک نے تو پھر بھی کسی حد تک سروائیو کر لیا لیکن اکثر چھوٹے ممالک کی اکانومی مکمل طور پر تباہ ھوگئی۔ کووڈ کی پہلی لہر کے بعد یہ سمجھا گیا کے اب سب ٹھیک ھو جائے گا۔ لیکن ایک کے بعد دوسری لہر، پھر تیسی لہر اور پھر چوتھی لہر بھی آگئی۔ اس وقت کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کے کووڈ رکے گا یا یہ سلسلہ اسی طرح ھمارے ساتھ ساری زندگی چلتا رھے گا۔اس وائرس نے کئی زندگیاں نگل لیں۔ مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی بہت ھوا۔

    کئی ڈاکٹرز اس ریسرچ میں مصروف ہیں کے کسی طرح کووڈ اور اسکے بعد دوسرے وائرس جیسے کے ڈیلٹا ویرینٹ کا کوئی مستقل حل نکالا جائے۔ لیکن ابھی تک وہ اس کو روکنے میں یا حل نکالنے میں ناکام ہی رھے ہیں۔ ویکسین سے اس کا پھیلاو کم ضرور ھوا ہے لیکن رکا نہیں ہے۔ سننے میں آرھا کے سردیوں میں کووڈ کی پانچویں لہر پھر زور پکڑے گی۔ اگر ھم یورپی ممالک کو دیکھیں تو وھاں پر گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ عوام بھی بھرپور کوشش کررھی ہے کے کسی طرح حالات ٹھیک ھوں۔ چھوٹے بزنس کے ساتھ ساتھ کئی بڑے بڑے بزنس مکمل طور پر تباہ ھو گئے۔ آئیرلاین انڈسٹری بہت خسارے میں رھی۔ سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ھو گیا۔گاڑیوں کی انڈسٹری بہت شدید نقصان کا شکار ھوئی۔

    یہاں میں آپکو ایک چھوٹی سی مثال دیتی ہوں۔۔۔

    دنیا کا سب سے لمبا لاک ڈاون کینیڈا میں ھوا۔ کووڈ میں کینیڈا جب بند ھوا تو ساری گاڑی مینوفیکچرنگ رک گئی۔ کینیڈا چائنہ سے اسپیڈومیٹر کی چپ منگواتا تھا۔ جب مینوفیکچرنگ رکی تو کینیڈا نے چائنہ سے چپ لینی بند کردیں۔ کیونکہ کام ہی بند تھا تو چپ لے کر کیا کرتے۔ دوسری طرف چائنہ کو بہت نقصان ھوا کیونکہ وہ چپ ایکسپورٹ نہیں کر پا رھے تھے۔ بہرحال چائنہ نے تو کوشش کر کے دوسرے ممالک سے کانٹریکٹ لے لیا۔ اور اپنا مال دوسرے ممالک کو دینے لگے۔ لیکن جب کینیڈا کھلا تو انہوں نے چائنہ سے رابطہ کیا تاکہ اسپیڈومیٹر کی چپ منگوائی جاسکے۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ھو چکی تھی۔ کیونکہ چائنہ نے کسی اور ملک کو مال سپلائی کرنا شروع کردیا تھا۔ اور اب کینیڈا کی صورتحال یہ ہے کے ساری کمپنیوں میں ھزاروں کی تعداد میں گاڑیاں تیار کھڑی ہیں۔ لیکن کسی کے پاس بھی اسپیڈومیٹر چپ نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے گاڑی مینوفیکچر کرنے والی انڈسٹری بہت زیادہ نقصان کا شکار ھو رھی۔

    پہلے ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ بےروزگار ھوئے اور اب مزید ھونگے۔لیکن یہاں کی گورنمنٹ اپنی پوری کوشش کررھی کے کسی طرح ان سب نقصانات کو پورا کیا جاسکے۔ نہ صرف گورنمنٹ ساتھ سارے ادارے اور عوام بھی پہلے سے بڑھ کے کام کررھی ہے۔ جہاں پہلے 8 گھنٹے کام کیا جاتا تھا وھاں اب دس سے بارہ گھنٹے کرتے ہیں۔ اس وقت اگر حالات اچھے دیکھنا چاہتے ہیں تو سارہ ملبہ صرف حکومت پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ بحیثیت قوم سب کو ساتھ دینا چاہئے تب ہی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔

    دنیا میں کونسا ایسا ملک ھوگا جو عوام کو پریشان دیکھ کے خوش ھوگی! کوئی نہیں نہ۔۔
    یہ بات ھم سب کو سمجھنی چاہئے کے اس وقت حکومت کو ھمارے ساتھ کی ضرورت ہے اور اگر اپنا ملک بچانا ہے تو سب نے مل کے کام کرنا ہے، کیونکہ اسی میں ھم سب کا فائدہ ہے ھم سب کی بھلائی ہے۔اگر ویکسین نہیں لگی ہے تو لازمی لگوائیں اور ماسک لازمی پہنیں۔ کیونکہ اس وقت یہی سب سے بڑی احتیاطی تدبیر ہے۔ کیونکہ اس وقت کوئی بھی ملک مزید لاک ڈاون برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ لاک ڈاون سے نہ صرف ھمارا بلکہ پورے ملک کا نقصان ھوتا ہے۔ اس لیے احتیاط کریں اور تندرست رہیں۔

    @alwaystalat

  • بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماہ اکتوبر بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 کے عشرے میں دنیا بھر میں پہلی مرتبہ بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے لئے پنک ربن مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان) دنیا بھر کی خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے، ساتھ ہی دنیا بھر کی خواتین کی شرح اموات کے بڑھنے کا سب سے بڑا سبب بھی بریسٹ کینسر کو ہی مانا جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ریسرچ کے مطابق بریسٹ کینسر دنیا بھر میں تمام قسم کے کینسرز کا 10 فیصد ہے جو کہ تشخیص سے ثابت ہوتا ہے۔

    مرض کی پیچیدگیوں اور اس حوالے خواتین کو پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر صدر مملکت پاکستان عارف علوی صاحب اور خاتون اول بیگم ثمینہ علوی بھی بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے اور مرض کے پھیلائو کو روکنے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اسی حوالے سے ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی صاحب نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص ہی ملک میں اس مہلک مرض کا شکار ہونے والی سالانہ 40 ہزار خواتین کی زندگیاں بچانے کا واحد راستہ ہے ، اس سلسلے میں بھرپور آگاہی مہمات کے ذریعے چھاتی کے کینسر کے بارے میں ممنوعات سے نجات حاصل کر کے خواتین کو فوری طبی مدد لینے سے متعلق ہچکچاہٹ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے بارے میں ان کی آگاہی مہم کے پیش نظر میڈیا اپنے ٹیلی ویڑن پروگراموں اور اخبارات میں اس موضوع کو موثر طریقے سے اجاگر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مہینے مختلف شہروں کے کالجوں کا دورہ کریں گی تاکہ لڑکیوں میں خود تشخیص کے حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔ انہوں نے خاندانوں کے مردوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس بیماری سے منسلک مشکلات کا ادراک کریں اور مناسب طبی دیکھ بھال کے لئے خواتین کی مدد کریں۔
    اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے، ہر سال 90 ہزار کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے 40 ہزار خواتین کی موت ہو جاتی ہے، مختلف ریسرچ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں ہر 9 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے اور یقینا یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔لیکن ساتھ ہی اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس مہلک مرض کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی شرح پاکستان میں ہی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ مزید براں یہ کہ اس مرض سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

    آگاہی کیوں ضروری ہے؟
    خواتین میں جِلد کے کینسر کے بعد بریسٹ کینسر سب سے عام مرض ہے۔ اوسط عمر میں ہر عورت میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 12فیصد پایا جاتا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 3لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے تقریبا 15فیصد 40ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے سبب موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر8میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہے جب کہ ہر 2منٹ میں ایک عورت میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دیکھا جائے توایشیائی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے زیادہ پاکستان میں پائی جاتی ہے جس کے باعث یہ مرض ملک میں خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس موذی مرض سے نمٹنے کے لئے لازمی ہے کہ اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ہو لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کو اس مرض کے حوالے سے آگاہی حاصل ہو۔اس مرض سے متعلق یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ بریسٹ کینسر کے لئے اسکریننگ ٹیسٹ40سال کی عمر میں شروع کیاجاتا ہے جبکہ سالانہ میموگرافی اور مرض کی بروقت تشخیص کے ذریعے بریسٹ کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ خواتین بریسٹ کینسر کے حوالے سے باشعور ہوں گی تو عین ممکن ہے کہ نہ صرف اس مرض سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جاسکے بلکہ اس مرض کی شرح بھی کم ہوجائے۔
    بریسٹ کینسر کیا ہے ؟

    https://twitter.com/MustansarPK/status/1446445962017267712

    جسم کے پٹھے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنے ہوتے ہیں لیکن اگریہی خلیے بے قابو انداز میں بڑھنا شروع ہو جائیں اور ایک ڈھیر بنا لیں تو یہ کینسر بن جاتا ہے۔ زیر غور بیماری میں چھاتی میں گلٹی یا رسولی بن جاتی ہے، یہ گلٹی یا رسولی سائز میں بڑھ سکتی ہے اور اس کی جڑیں چھاتی میں پھیل بھی سکتی ہیں،جس کے باعث چھاتی میں تکلیف اور ساخت میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے اندر، باہر یا نیچے زخم بڑھ کر بعض اوقات کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مریض اور مرض کی نوعیت کے مطابق یہ علامات مختلف بھی ہو سکتی ہیں لیکن واضح رہے کہ یہ کینسر متعدی (Infectious) نہیں ہوتا، نہ ہی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ بریسٹ کینسر بنیادی طور پر خواتین کو متاثر کرتا ہے، تاہم مردوں میں بھی اس کینسر کے خطرات پائے جاتے ہیں، مگر تشخیص نہ ہونے کے برابرہے بین الاقوامی ڈاکٹرز کی آرا کے مطابق ہارمونز کی بے اعتدالی بریسٹ کینسر کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔ بنیادی طور پر جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ دوسری جانب خواتین کا غیرصحت مند طرز زندگی اور غیر متوازن خوراک بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔بڑی عمر میں شادی یا زائد عمر میں پہلے بچے کی پیدائش بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہیں لیکن اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 4فیصدکم ہوجاتا ہے۔بریسٹ کینسر موروثی کینسر بھی ہے، تقریبا 10فیصد بریسٹ کینسر موروثی جینیاتی نقائص کی وجہ سے ہوتاہے جبکہ جینیاتی نقائص کی حامل خواتین کی اپنی زندگیوں میں اس مرض کے ہونے کے80فیصد امکانات ہوتے ہیں ۔عام طور پر بریسٹ کینسر کا سبب بریسٹ لمپس بھی ہوتے ہیں۔ یہ چھاتی میں بننے والی وہ گلٹیاں ہیں، جنہیں پول سیٹک یا فابٹر و سیٹک کہا جاتا ہے۔ بریسٹ لمپس کے سبب بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات خاصے بڑھ جاتے ہیں ۔بروقت تشخیص اس مرض پر قابو پانے کیلئے سب سے پہلا مرحلہ اس کی تشخیص ہے، جس کے لئے طبی ماہرین خواتین کوبریسٹ چیک اپ باقاعدگی سے کروانے کا مشورہ دیتے ہیں، خصوصا ان خواتین کوجن کی عمر 40سال سے زائد ہے۔تشخیص کا بہترین طریقہ میموگرافی ہے، خواتین کسی بھی شبہہ کی صورت میںمیموگرافی کرواسکتی ہیں۔ یہ ایک طرز کا ایکسرے ہوتا ہے جس کے ذریعے چند گھنٹوں میں کینسر کے مرض کا پتا چل جاتا ہے۔ میموگرافی کروانے کے وقت سے متعلق کافی عرصے سے ایک لمبی بحث جاری ہے، تاہم امریکی پریوینٹو سروسز ٹاسک فورس کی ایک حالیہ تجویز کے مطابق50سال میں قدم رکھنے والی تمام تر خواتین کو ہر دو سال میں کم ازکم ایک بار میموگرافی ضرور کروانی چاہیے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق خواتین کو 45سال کی عمر سے سالانہ اسکریننگ کروانی چاہیے جبکہ50سال کی عمر تک میموگرافی لازمی قرار دی جاتی ہے۔ تاہم اگر کسی کی فیملی ہسٹری میں بریسٹ کینسر کے کیسز موجود ہیں تو اسے اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے مخصوص عمر سے قبل ہی میموگرافی کروالینی چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں اس مرض کی آگاہی پیدا کی جائے، اس سلسلے میں اکتوبر کو اس مرض کی آگاہی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، بہت سی این جی اوز اس آگاہی مہم میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں اور پنک ربن نامی (Pink Ribbon ) تنظیم بریسٹ کینسر کی آگاہی اور اس کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی میں سر فہرست ہے۔

    شوکت خانم ہسپتال نے پانچ منٹس اپنے لئے (5 minutes for me) کے نام سے ایک مہم چلائی جس میں پاکستان کی خواتین کو آگاہی دی گئی کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص میں صرف پانچ منٹس ہی درکار ہوتے ہیں، اس مہم میں یہ بھی بتایا گیا کہ 40 سال سے کم عمر خواتین کو ہر مہینے اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے اور 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے ریگولر چیک اپ کے ساتھ ساتھ میمو گرافی بھی کروا لیں جو کہ بریسٹ کینسر کا مخصوص ٹیسٹ ہے، کیوں کہ اس مرض کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتا ہے، اس لئے بڑی عمر میں یہ ٹیسٹ ضروری ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ سماج کے باشعور اور متحرک لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے کہ بروقت تشخیص ہی اس مرض کا ممکن حل ہے اور یہ مرض قابل علاج ہے، بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا خاتون ناپاک یا اچھوت ہے جس کی بنا پر نہ تو مریض کا تیار کردہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں جو کہ انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے جس کی حوصلہ شکنی لازمی ہے۔بریسٹ کینسر کسی بھی دوسرے کینسر کی طرح ایک مرض ہے جو کہ وبائی مرض کی طرح نہیں پھیلتا بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے نعرے کے مصداق کہ "ہم کر سکتے ہیں، میں کر سکتی ہوں” اسی نعرے پر عمل کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مرض کو مات دے سکتی ہیں تاہم ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس حوالے سے خواتین کو درست آگاہی فراہم کریں تاکہ بروقت تشخیص کے ذریعے مرض کے بڑھائو پر قابو پاکر قیمتی زندگیاں اور وسائل بچائے جا سکیں۔

    @MustansarPK

  • عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امبر صباء

    عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ تحریر : امبر صباء

    Twitter 👇
    @MrsHamdani1
    جب ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام لے کر آئے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت چمک اٹھی اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی و روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہو گیا کہ عبادات اور معاملات بلکہ زندگی و موت کے ہر مرحلے اور موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں.
    مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے گئے اور قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر عورتوں کی مختلف حیثیتوں میں ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت ملتی ہے عورتوں کو کسبِ معاش کا حق دیا گیا انہیں وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ماں کی اطاعت کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری سنائی گئی ماں گھر میں ایک ایسی قوت ہے جو تربیت اور ایثار کے ہتھیار سے اپنی اولاد کو منشاء خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے
    دین اسلام نے واضح طورپر بتا دیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہی ہے.
    سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ: ” جو نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی دیں اور ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کرتے ہیں اجر دیں گے” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی حیثیت کے ضمن میں فرمایا ”اس (بیٹی) کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرو” اور بیٹی کی اچھی تربیت اور اس کے ساتھ شفقت کو آگ سے نجات کا ذریعہ قراردیا. اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”عورت جب بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرتی ہے.
    دور نو میں پھر سے عورت پر مختلف قسموں کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں آزادی نسواں کے پرفریب نعروں سے عورتوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور ان عورتوں کو سرعام ننگا کیا جا رہا ہے ہر کوئی عورت ذات کو ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے اور آزادی نسواں کے نام پر عورت کو بیٹی، بیوی، بہن اور ماں بننے سے روکا جا رہا ہے عورتوں کو کلیوں و محفلوں کی زینت بنایا جا رہا ہے ان کی عزت و ناموس کو ہر گلی کوچے میں لوٹا جا رہا ہے الغرض عورت کو ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے کیا یہی ہمارا دین ہے؟ عیاش پسند لوگ قرآنی احکامات میں تاویلیں کر رہے ہیں علماء حق کو قدامت پسند کے القابات دیئے جا رہے ہیں
    خدارا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دین اسلام کے احکامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے،آزادی نسواں کے پرفریب نعروں کی ذد میں آکر ہم کہیں دینی اسلام کے احکامات کو بھول تو نہیں بیٹھے تو آئیے اپنی اصلاح کریں عورتوں کو ان کے حقوق دیں وہ حقوق جو کہ عورتوں کو دین اسلام نے دیئے ہیں آئیے اپنی اصلاح کیجئے اور ایک عزت دار مسلمان ہونے کا ثبوت دیجیے.
    ” سنو عورت کو کھلونا سمجھنے والو
    جس کے نام سے ہےرونق
    وہ ہے عورت
    تو جس کا بیٹا ہے
    وہ ہے عورت
    خدا نے جس کے قدموں تلے رکھی ہے جنت
    وہ ہے عورت
    جو کل تیرا نصیب ہے
    وہ ہے عورت
    جس کا تو باپ بنے گا
    وہ ہے عورت
    جس کا بھائی ہے تو
    وہ ہے عورت
    سنو! عورت کی عزت کرنا ایک عزت دار مرد کی نشانی ہے.

  • اسلام میں عورت کا مقام  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏اسلام میں عورت کا مقام
    اسلام ایک ایسا عالمگیر مذہب ہے کہ جس نے عالم انسانیت سے ظلم کے اندھیروں اور جہالت کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف کا بول بالا کردیا اور عورت جو کہ اس دور جہالت کے وقت مظلوم طبقہ تھی اور سب سے نیچ طبقہ سمجھتے تھے اور ان کی کوئی عزت نہیں تھی. اسلام نے اسے اتنا اونچا مقام دے دیا کہ جنت ان کے قدموں کے نیچے ہوگئی.
    تاریخ گواہ ہے کہ تمام مذہبوں میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو اعلیٰ مقام دیا اور عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے اسکی کھوئی ہوئی عزت و احترام دوبارہ دلا دی.
    دوسرے مذاہب میں عورت کی ذرا برابر بھی حیثیت نہیں تھی.
    بیٹی پیدا ہونے پر اسے زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں پر وہ وہ مظالم ڈھائے جاتے تھے کہ جسے آج  کوئی سوچ بھی نہیں سکتے.
    اسلام میں عورت کی حیثیت کے حوالے سے بے شمار احادیث موجود ہے. جس میں ایک مندرجہ ذیل ہیں.
    خاتم النبیین حضور اکرم(ص) نے فرمایا کہ جس عورت نے پانچویں وقت کی نماز پڑھی، رمضان شریف کے روزے رکھے، اپنے نفس کو غلط کاموں سے روکا اور اپنے شوہر کی تابعداری کی وہ جنت الفردوس میں جس دروازے سے داخل ہونا چاہے اسے اجازت ہوگی.
    اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دیا اور عورت کو ماں کے روپ میں وہ مقام دیا کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی اور ان کے چہرے کو محبت کی نظر سے دیکھنے سے ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے.
    اسلام نے ماں کو باپ سے تین درجہ مقدم رکھا.
    اسلام نے عورت کو اتنی عزت دی کہ قرآن مجید میں دو سورتیں(سورۃ النساء اور سورۃ مریم) کے نام پر نازل کردی.
    حضرت محمد ص نے آخری خطبہ حجتہ الوداع میں بھی عورت کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی.
    ایک موقع پر حضور اکرمؐ نے فرمایا: ‘کی جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئی تو قیامت کے دن میں اور وہ شخص اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔
    اب عورتوں کو سوچنا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو اتنا اونچا مقام دیا مگر بدلہ میں اب عورتیں کیا دی رہی ہے.
    اسلام نے عورتوں پر باریک کپڑوں کو استعمال کرنے پر پابندی لگادی ہے مگر آج ہم اپنے بازاروں پر نظر دوڑائیں تو ہماری آنکھیں شرم سے جھک جائیگی.
    آج جو عورت ایک بار پھر سے ذلالت کی طرف جارہی ہے اور ان پر دنیا تنگ ہورہی ہے ان میں عورتوں کا بھی برابر کا قصور ہے کہ دین سے دور ہوتی جارہی ہے.
    عورت معاشرے کا ستون ہے اور ان کی تربیت سے ہی معاشرے بنتے ہیں اور تباہ بھی ہوتے ہیں.
    عورت کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی. آج جو کچھ عورتیں باہر سڑکوں پر نکل کر عورتوں کو آزادی دلانے کی بات آواز اٹھا رہے ہیں اور اسلام کے قوانین کو زنجیر کہہ رہے ہیں دراصل یہ چاہتے ہیں کہ آزادی کے نام پر فخاشی پھیلے اور پہلے جہالت کی زمانے کی طرح عورتوں کی خرید و فروخت جاری ہوجائے.

    ٹویٹر : ‎@ZeeAkhwand10

  • خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے۔
    معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ لباس کی وجہ سے ہوتا ہے تو برقعہ پہننے والی خواتین اور چھوٹی بچیوں کا کیا قصور ہے۔
    یہاں تک کہ جانوروں تک کو نہیں بخشتے
    اگر آپ کہتے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہوا تو کتنے کیسز ہیں جن میں گھر میں گھس کر ریپ کردیا گیا۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ اس لیے کیونکہ یہاں اپنی جنسی فرسٹریشن نکالنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، یہاں قحبہ خانے نہیں ہیں تو عرض ہے کہ جن ملکوں میں قحبہ خانوں کی کثرت ہے اور اویلیبلٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہاں ریپ کیسز کی شرح اس قدر زیادہ کیوں ہے۔
    امریکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ریپ کیسز ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ ریپ کیسز ہیں، زنا باالرضا پر وہاں کوئی پکڑ یا قدغن نہیں ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کا لڑکا یا لڑکی جیسے چاہے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ اس پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
    مزید اگر یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ میں ایک عورت کتنی محفوظ ہے تو یوٹیوب پر ویڈیوز موجود ہیں کہ نیویارک شہر میں کسی خاتون کو کس طرح چھیڑ ا جاتا ہے۔ a woman is cat called more than hundred times in a day, while she was walking through NYC.
    لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ دنیا کے ساتھ موازنہ کرکے کہنا کہ ہمارے ہاں تو یہ مسئلہ اس قدر نہیں ہے۔ یہ سراسر چشم پوشی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رپورٹ کم ہوتا ہے۔ اکثریت ایسا کوئی بھی واقع رپورٹ ہی نہیں کرواتی۔ اس لیے دنیا کے حقائق دینے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ نا م نہاد تقدیس مشرق کے حدی خوان بنے پھریں جو اب بہت خال ہی کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔
    لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اگر یہ سب کچھ کے باوجود بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں تو کیسے محفوظ ہوں گی۔
    لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ جان لیں کہ پوری دنیا میں مرد خواتین کو اس بری نظر سے ہی کیوں دیکھتے ہیں تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ صرف چست یا تنگ کپڑے پہننا ایک فیکٹر ہوسکتا ہے مگر یہ وجہ نہیں ہے۔
    وجوہات بہت ساری ہیں جو مل کر اس قدر دماغ کو خراب کردیتی ہیں کہ محرم رشتوں تک کا احترام بھی انسان بھول جاتا ہے۔
    سب سے پہلے اور سب سے بڑی وجہ میڈیا انڈسٹری ہے۔ میڈیا سے مراد فلم اور فیشن اور میڈیا کے تمام شعبے ہیں ۔ آپ اپنی میڈیا انڈسٹری کو دیکھیں ، کیا یہاں عورت کو بیچا نہیں گیا، اور پھر یکمشت نہیں بیچا گیا ، بلکہ اب تو ناز الگ بکے اور انداز الگ، جسم بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے بیچا گیا۔
    میں دنیا کی بات نہیں کرتا ، ہمارے اپنے ملک کو دیکھ لیں، چہرہ ایسا کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جائے،
    نظر اٹھے اور مڑ نا پائے،
    آپ جہاں نظریں وہاں۔۔۔۔
    تو یہ ساری ٹیگ لائن جو دن رات ہمیں ٹی وی اشتہارات کی صورت دکھائی گئی تھیں کیا ان کا مقصد عورت کی عزت کرنا سھنا تھا یا حوا کی اس بیٹی کو ایک پراڈکٹ بنا کر بیچنا تھا۔
    پھر فلم انڈسٹری دیکھ لیں، دنیا بھر میں آڈلٹ سینز کے بغیر فلم نہیں بنتی، نیٹ فلکس کی شرائط میں شامل ہے کہ فلم میں ایسے سینز ہونا ضروری ہیں۔ سنسر بورڈ جیسے ڈھکوسلے تو صرف ہمارے ہوں ہیں۔ ڈھکوسلے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان سے جو کچھ پاس ہوجاتا وہ سب بھی جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
    اب ہر طرف میڈیا میں ، بل بورڈز پر عورت کی بھرمار، یہاں تک کہ مردانہ ریزر بھی عورت ہی بیچے، یہ سب دیکھ کر جنسی فرسٹریشن اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔
    پھر یہاں ایک دوسری وجہ کا آغاز کرتا ہوں ۔
    کتنے لوگ ہیں جو شادیاں دیر سے کرتے ہیں۔ ضرورت انہیں بہت پہلے ہوتی ہے۔ بجا کہ شادی صرف اسی ایک ضرورت کا نام نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک ضرورت ہے۔ جب جائز طریقے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی تو پھر ایک انسان کب تک صبر کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو پارسائی کا یہ بوجھ سہتے ذہنی مریض ہوجاتے ہیں۔ اور رہ گیا ہمارا مذہبی طبقہ تو معذرت کے ساتھ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔مجے پتہ ہے کہ یہ جملہ بول کر میں بہت سی توپوں کا رخ اپنی طرف کررہا ہوں مگر حقیقت ایسی ہی ہے۔ ماسوائے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر یہی بھیڑ چال ہے۔
    اس سب کے بعد دماغ تو سن ہوجاتا ہے کہ پھر حل کیا ہے۔
    سن لیں جس طرح وجہ ایک نہیں ہے اسی طرح حل بھی ایک نہیں ہے۔ بلکہ ایک جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ میرے جیسا بندہ چند گزارشات تو کر سکتا ہے مگر اس معاملے کو ہنگامی بنیاوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار و ارباب حل و عقد کو ایک مربوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ جلد شادیوں کو رواج دیں۔ اور آگہی ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے قوانین جو ابھی تک برطانیہ نے بنائے تھے ، وہی چل رہے ہیں ۔ یہ قوانین رعایا کے لیے تھے۔ ان قوانین کو ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قصہ مختصر حل بھی بہت ہوسکتے ہیں، بس اس کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں محفوظ رہ سکیں۔ ورنہ خوف کی فضا میں دم گھٹ جاتے ہیں۔ اور معاشرے مردہ ہوجاتے ہیں۔
    حنظلہ عماد
    @hanzla_ammad

  • پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    گھر کے اندر والے نا محرم مردوں سے پردے کا طریقہ بیان فرمایا ہے 

    ہاں اتنی گنجائش ہے کہ جو نا محرم گھر کے اندر رہتے ہیں جن سے ہر وقت پردہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہر وقت ان کی آمدورفت رہتی ہے اور وہ اکثر گھر میں کام کاج بھی کرتے رہتے ہیں ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ بھابھی کو چاہیئے کہ وہ کوئی بڑا اور موٹا دوپٹہ اس طرح اوڑھے کہ اس میں پیشانی سے اوپر کے اور سر کے سارے بال چھپ جائیں اور دوپٹہ اس طرح باندھے جس طرح نماز میں باندھا جاتا ہے اور اس میں دونوں بازوں بھی چھپ جائیں اور وہ اپنی پنڈلیوں کو بھی شلوار وغیرہ میں چھپائے پنڈلیوں کا ذکر اس لیئے کیا کہ آج کل انہیں کھلا رکھنے کا رواج چل رہا ہے جو سراسر نا جائز ہے صرف چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں اور دونوں پیر کھلے رہیں اس حالت میں ان کے سامنے آنا جانا رکھے اور گھر کے کاموں کو انجام دے تو اس حالت میں گنجائش ہے اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ چہرے پر گھونگھٹ میں اس سے بات چیت کر سکتی ہے اور اسے کسی بات کا جواب بھی دے سکتی ہے شریف اور حیادار عورت کیلئے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر کام کاج کرنا کوئی مشکل نہیں ہے بشرطیکہ آخرت کی فکر ضرور ہو خوفِ خدا ہو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر لگتا ہو لیکن سر کھلا رکھنا یا سر کے اوپر اتنا باریک دوپٹہ اوڑھنا کہ اس میں سے سر کے بال نظر آ رہے ہیں یا برائے نام دوپٹہ استعمال کرنا یا دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا ہے سر پر نہیں رکھا ، بازو بھی کھلے ہوئے ہیں کہنیاں بھی کھلی ہوئی ہیں ، کلائیاں بھی کھلی ہوئی ہیں اور ان کلائیوں میں زیورات بھی پہنے ہوئے ہیں اور آج کل تو پنڈلیاں کھولنے کا منحوس رواج بھی چل پڑا ہے لہذا گھر کے جو نا محرم مرد ہیں ان کے سامنے اعضاء کو کھولنا جائز نہیں اور گھر کے باہر کھولنا تو کسی صورت جائز نہیں ہے لیکن آج مسلمان خواتین کا جو حال گھر کے اندر ہے اس سے زیادہ برا حال گھر کے باہر ہے باہر نکلتے وقت برقعے اور پردے کا کوئی نام ہی نہیں ہے اور جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ بھی اتنے باریک ہیں یا اتنے چُست ہیں کہ جسم کا ہر حصہ نمایاں ہو رہا ہے 

    لہذا خواتین یہ بات سن لیں کہ نامحرم مردوں کے سامنے ننگے سر آنے والوں کا عذاب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بیان فرما رہے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کو جہنم کے اندر سر کے بل لٹکتے ہوئے دیکھا ہے اور ان کا دماغ ہانڈی کی طرح پک رہا تھا ۔ اللہ کی پناہ

     عورت گھر سے سخت مجبوری میں نکلے اور جب گھر سے باہر نکلے تو سادہ اور باپردہ لباس میں نکلے ، جب گھر سے باہر نکلے تو خاوند کی اجازت سے نکلے ، آج کے زمانے میں بازار میں آپ کو صرف دس پندرہ فیصد مرد نظر آئیں گے باقی نوے فیصد عورتیں نظر آئیں گی ۔ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان زور سے آواز دیتا ہے وہ دیکھو عورت جا رہی ہے سب مرد حضرات اس کی متوجہ ہوتے ہوئے عورت کی طرف دیکھتے ہیں دوستو عورت کہتے ہی با پردہ چیز کو ہیں لہذا گھروں میں اسلامی نظام لائیں اور اپنا اہل و عیال محفوظ رکھیں ۔

    مرد حضرات کو بھی چاہیے کہ اپنے نگاہیں نیچی رکھیں اور کبھی بھی شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں توبہ استغفار کا کثرت سے ورد زباں پر جاری رکھیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    Sabir Hussain

    @SabirHussain43

  • خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    انسان کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی میں چھاپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان دوسروں کے دل جیت سکتا ہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے خوش اخلاقی ایک سرمایہ ہے خوش اخلاقی اچھے برتاو کا نام ہے بد اخلاقی انسان کے دلوں میں صرف نفرت پیداکرتی ہے ہم میں سے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اسن کے ساتھ عزت اور اخلاق سے بات کی جائیں یقین جانیئے اچھے اخلاق سے آپ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔
    جس طرح بغیر خوشبو اور رنگ کے کوئی پھول پھول کہلانےکا مستحق نہیں اس ہی طرح انسانیت اور خوش اخلاقی کے بغیر کوئی انسان انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ ایک خوش اخلاق شخص میں عاجزی اورانکساری کی صفت موجود ہوتی ہے خوش اخلاقی بہت بڑی خوبی ہے۔ خوش اخلاقی عظمت اور اشرفت کی دلیل ہےانسانیت کی بیناد اخلاق پر قائم ہےاخلاق انسانی سیرت وکردار پر مبنی رویے کا نام ہے اچھے اخلاق کا خلاصہ ہے کہ انسانیت کو تکلیف نہ دینا ہے خوش اخلاقی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے خقش اخلاقی ایمان کامل کی علامت بھی ہےایک حدیث نبوی ؐ کے مطابق مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو اچھے اخلاق کا مالک ہو اور سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔
    اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواء کیے اخلاق دیکھے بغیر اپنا رویہ اور اخلاق متعین کرےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :جس کے اخلا ق اچھے ہوں وہ کامل ترین ایمان والا ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہو۔)

    اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایمان و عقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال و افعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے ہمکنار نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی ۔
    اخلاقی اصول ایسے رویہ کی جانب راہنمائی کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے دل سکون میں ہوتا ہے اخلاق ضبط نفس پیدا کرتا ہے برائی کا جواب اچھائی میں دینا افضل اخلاق ہے اچھے اخلاق والے کامل مومن ہیں۔اچھے اخلاق دل جیتنے کا زبردست نسخہ ہےمسلمان کے اچھے اخلاق کی برکت سے غیر مسلموں کو دولتِ ایمان نصیب ہوتی ہےاچھے اخلاق کی بدولت دین کا کام خوب ترقی کرتا ہےاچھے اخلاق کی سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں اچھے اخلاق کی برکت سے انفرادی کوشش میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔
    اللہ پاک ہمیں بھی اچھے اعلی اخلاق کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے اور بد اخلاقی سے ہمیں دور کرے

    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس تو کھل چکا۔ لیکن اس وقت پنڈورا پیپرز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا ایک بار پھر سے بہت چرچا ہو رہا ہے۔ وہی فیک نیوز جس کی ابھی تک کوئی ایک تعریف تو سامنے نہیں آسکی جسے سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سمیت پوری قوم تسلیم کر سکے لیکن ہمارے سیاستدان خود فیک نیوز پھیلانے میں اب شامل ہو گئے ہیں تاکہ اتنے اہم معاملے کو غیر سنجیدہ کیا جا سکے۔پانامہ میں چار سو سے زائد لوگ تھے لیکن اب کی بار پنڈورا پیپرز میں سات سو سے زائد افراد ہیں۔ پانامہ کیس میں ہم نے دیکھا تھا کہ چار سو میں سے صرف ایک ہی خاندان تھا شریف خاندان جس کے خلاف کوئی خاطرخواہ کاروائی ہوئی تھی باقی شاید کسی کا نام بھی اب لوگوں کو یاد نہیں ہو گا کہ ان لیکس میں اور کون کون تھا۔اس پینڈورا پیپرز میں جس بات پر سب سے زیادہ خوشی منائی جا رہی ہے وہ یہ کہ اس میں عمران خان کا نام شامل نہیں ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جو کہ عمران خان کی حکومت میں ہیں اور ان کے بہت قریبی ہیں۔اس لئے ایک طرف تو یہ اس حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ عمران خان اب کس کس کے خلاف کاروائی کروائیں گے۔لیکن دوسری طرف بغیر کسی تحقیق کے ہمارے وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ ٹائیں ٹائیں فش ہے اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ مثال بھی دی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔

    لیکن ایک بات جو پانامہ پیپرز میں اور پینڈورا پیپرز میں مختلف ہے وہ یہ کہ پانامہ کے ٹائم پر جن لوگوں کا اس میں نام آیا تھا وہ اس پر اپناResponseدیتے ہوئے بہت ہچکچاتے تھے۔ لیکن اب کی بار پینڈورا پیپرز میں جن کا بھی نام آیا ہے ان میں سے بہت سے لوگوں کاResponseبھی سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے اب کی بار انLeaksکی وہ دہشت محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے ہوئی تھی۔اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی یہ پینڈورا پیپرز سامنے آئے ہمارے اپنے وفاقی وزیر اور ایک مشیر نے فیک نیوز پھیلانا شروع کر دیں۔اور یہ وہی وزیر ہیں جو میڈیا کے حوالے سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک بل پیش کرنا چاہ رہے تھے تاکہ فیک نیوز کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔ اور اب وہ خود ٹوئیٹر کے زریعے فیک نیوز پھیلا رہے ہیں جس پر بہت سے صحافی اور سوشل میڈیا فالوورز اب یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ فیک نیوز دینے والے صحافیوں کے خلاف جو جرمانے اور سزائیں ان وزیر صاحب کی طرف سے تجویز کی گئیں تھیں کیا اب فواد چوہدری اور شہباز گل کو وہی سزا نہیں ملنی چاہیے؟ کیا ان کے خلاف ویسی کاروائی اور جرمانے نہیں ہونے چاہیں جو کہ صحافیوں پر یہ لاگو کروانا چاہتے تھے؟
    دراصل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گل نے دعوے کیے کہ پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانیوں کے نام ہیں ان میں ایک نام مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا بھی ہے۔فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہاں تک بھی کہا کہ۔۔ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں ان کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئی اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟شہباز گل نے جنید صفدر کے حوالے سے پی ٹی وی پر چلنے والی خبر کا سکرین شاٹ لگا کراپنی ٹوئیٹ میں مریم صفدر کو نشانہ بنایا اور یہ ٹوئیٹ کی کہ۔۔۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کسی چوری وغیرہ کی تحقیق ہو اور مریم باجی پیچھے رہ جائیں ؟ کبھی بھی نہیں۔اور یہ نہیں کہ ان دونوں حضرات نے صرف یہ خبر ٹوئیٹ کی تھی بلکہ شہباز گل نے اے آر وائی کے ایک پروگرام میں بھی پی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنید صفدر کا نام ان دستاویزات میں شامل ہے اور فواد چوہدری نے ڈان ٹی وی کے پروگرام میں یہی بات دوہرائی۔جبکہ دو پاکستانی صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی جو اس تحقیق میں شامل رہے ہیں ان سے جب ایک چینل پر یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کے علاوہ پنڈورا لیکس کے نام کے ایک اکاونٹ سے بھی جنید صفدر کے بارے ٹوئیٹ سامنے آئیں کہ۔۔ ہماری تحقیق کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر کی تین شیل کمپنیاں اور دو آف شور کمپنیاں سی شیلز اور ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔لیکن جب عمر چیمہ نے اس کی تردید کی اور اس اکاونٹ کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ جعلی ہے تو کچھ وقت کے بعد وہ اکاونٹ ڈیلیٹ ہو گیا لیکن فواد چوہدری اور شہباز گل کی ٹویٹس ابھی بھی موجود ہیں بلکہ ان کے اکاونٹس سے ایسی ٹوئیٹس کو بھی ری ٹوئیٹ کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے بیانیے کے قریب ہیں۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ جنید صفدر کے حوالے سے یہ خبر صرف پی ٹی وی نے نہیں چلائی بلکہ پرائیوٹ نیوز چینل اے آر وائے نے بھی نشر کی تھی۔ جس پر مریم نواز نے کافی سخت رد عمل دیا اور اے آر وائے کو ٹیگ کرکے یہ ٹوئیٹ کی کہ اگر اے آر وائی نے فوری اس جعلی خبر پر معافی نہیں مانگی تو میں انہیں کورٹ لے کر جاؤں گی۔جس کے بعد اے آر وائے نے یہ خبر چلانا شروع کی کہ جنید صفدر والی خبر درست نہیں۔جس کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ یہ کافی نہیں ہے۔ اے آر وائی کو بغیر کسی شک و شبہ کے معافی مانگنی ہوگی ۔۔۔ ورنہ وہ یہاں اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا بہت ہو گیا۔اے آر وائے نے تو پھر بھی تردید چلا دی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پی ٹی وی، فواد چوہدری اور شہباز گل کے خلاف بھی کوئی کاروائی کریں گی یا نہیں۔لیکنPandora papers VS fake news کی اس لڑائی سے حکومت کو ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس لڑائی کے چکر میں اتنی بڑی Investigation report کو Non serious issue بنا دیا گیا۔ یہ رپورٹ آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن جن حکومتی عہدیداران کا اس میں نام آیا ہے وہ سب اپنے عہدوں سے استعفے دیتے عدالت کی طرف سے اس پر تحقیقات کروائی جائیں۔ جو بے قصور ثابت ہو اس کو دوبارہ عہدہ دے دیا جاتا اور جس کا قصور ثابت ہو جائے اس کو سزا دی جاتی کیونکہ عمران خان اسی احتساب کے نعرے کو لیکر حکومت میں آئے تھے۔ یہی ان کی جماعت کا سلوگن ہے کہ صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی۔۔۔خیر استعفے تو نہیں آئے لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ اب ان کی طرف سےPrime minister inspection commissionکے تحت ایک اعلی سطحی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ اور اس کی سربراہی خود وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

    ہماری بھی یہی دعا ہے کہ قوم کے سامنے حقائق آئیں کیونکہ اس کام کی اس وقت ضرورت بھی ہے یہ رپورٹ اب صرف آف شور کمپنیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ صرف نواز شریف یا مریم نواز نہیں ہیں جن کے فیلٹس کی منی ٹریل ابھی تک سامنے نہیں آ سکی بلکہ اور بہت سے پاکستانی ہیں جو یہاں سے پیسہ برطانیہ لے کر جاتے رہے ہیں اور وہاں جاکر جائیدادیں خریدتے رہے ہیں۔اور ان لوگوں میں صرف سیاستدان نہیں ہیں بلکہ بہت سے اور لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر اب تحقیقات ہونی چاہیں۔ ان میں سے جو لوگ ریٹائرڈ ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن جو اس وقت حکومتی عہدوں پر ہیں ان سے استعفے لینا بھی ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔اور اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم ان کو مان لے گی کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاسی مقصد کے لئے نہیں ہوتے اور عوام کا اپنے انصاف کے نظام پر بھی اعتماد بحال ہو گا پھر کسی کو ہمت بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کے پیسے پر ڈاکہ ڈالے۔اور اس کے ساتھ ساتھ فیک نیوز کے معاملےپر بھی غور کرلیں کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ پھرجو کوئی بھی غلط خبر کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے آگے پھیلاتا ہے تو سب کے لئے ایک ہی سزا ہونی چاہیے۔ کیونکہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ جب انہیں کی ٹوئیٹس اور بیانات کو میڈیا اٹھا کر خبر بناتا ہے تو قصوروار صرف میڈیا تو نہیں ہو سکتا۔ صحافی ہوں یا سیاستدان سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
    @afeefarao

  • فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    تنگ جینز، چھوٹی قمیض، بکھرے بال، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں سمارٹ فون ، منہ میں گٹکا یا پان، اور ہونٹوں پر گندی گالی، یہ ہے آج کا عام پاکستانی نوجوان۔ جس کے پاس تعلیم بھی ہے اور شاید کسی حد تک ہنر بھی مگر کردار و اخلاق کا بری طرح سے فقدان ہے۔
    وہ نوجوان جو بیش قیمت اثاثہ ہوتے، جن پر ملک کے مستقبل کی اساس ہوتی، وہ بری طرح سے بگڑتے جارہے ہیں۔ فیشن پرستی کا وبال ہماری اقدار کو گھن کی طرح کھا رہا لیکن والدین، اساتذہ اور ارباب اختیار خاموشی سے تماشائی بنے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند مگر عمدہ اخلاق و کردار کے حامل نوجوان ہی کسی بھی ملک کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پرملک کی ترقی و تنزلی منحصر ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستانی نوجوان نسل بری طرح سے بے راہ روی کا شکار ہورہی۔ مشرقی اقدار جن پرکبھی ہم نازاں تھے یورپ کی اندھی تقلید میں کھو چکی ہیں۔ اور رہی بات اسلام کی تو وہ بس سوشل میڈیا کی پوسٹس یا اسلامیات کے پیپر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے عملی زندگی میں کہیں نام و نشان نہیں رہا۔ المیہ یہ ہے کہ نہ خوف خدا رہا ہے نہ شریعت کا کوئی لحاظ۔ بس ایک بھیڑ چال کی کیفیت ہے جس میں ہر کوئی بگٹٹ بھاگے چلا جا رہا۔
    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نور
    لے اُڑی اس نکہتِ گل کا یہ تہذیب فرنگ

    آجکل کے زیادہ تر نوجوان لڑکے یا تو سارا دن پب جی کھیل رہے یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہے۔ چرس، ہیروئن اور پورن فلموں کے نشے میں ڈوبے اور اگر امتحان پاس کرنا ہو تو آئس کا نشہ کر کے وقتی طور پر دماغ روشن کر لیتے چاہے بعد میں پوری زندگی تاریکی میں ڈوب جائے۔
    اور رہی لڑکیاں تو ان کا حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ہر بدلتا فیشن اپنانا ان کا فرض عظیم ہے چاہے وہ اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ فیشن کی دوڑ اور نمایاں و برتر نظر آنے کے چکر میں نت نئے برانڈز کی چاندی ہے۔ بات زیب و زینت سے بڑھ کر نمود و نمائش سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ رہی سہی کسر ماڈلز و اداکاراؤں کے طرز زندگی کی نقالی نے پوری کر دی ہے۔

    “اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیاہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کرسکیں۔ “
    قرآن مجید کے اس واضح حکم کے باوجود ہم بغیر کسی پچھتاوے کے نفس کے اسیر بنے ہیں۔ فیشن پرستی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ فیشن اور فحاشی کا فرق مٹ گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو والدین اور بزرگوں کی صحبت اب آؤٹ ڈیٹڈ لگتی ہے۔ مخلوط محافل، فاسٹ فوڈ اور بیہودہ لباس کو جدت پسندی اور فیشن کے نام پر اپنایا جارہا۔فیشن پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید ہمارے معاشرے کی جڑوں کو روزبروز کھوکھلا کر رہی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ عریانی کو فروغ دیتے فیشن کی نہ تو مذہب اجازت دیتا نہ ہماری مشرقی اقدار۔
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    فیشن کچھ حدود و قیود میں کرنا قطعاً معیوب نہیں ہے۔ مگر فیشن پرستی کی آڑ میں اسلامی تعلیمات و تہذیب کو پس پشت ڈال کر اندھا دھند تقلید ہمارے نوجوانوں میں بری طرح بگاڑ کا سبب بن رہی اور ہمارے معاشرے کا اب یہ حال ہوچکا ہے کہ
    “کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا”

    @once_says