خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے۔
معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
اگر آپ کہتے ہیں کہ لباس کی وجہ سے ہوتا ہے تو برقعہ پہننے والی خواتین اور چھوٹی بچیوں کا کیا قصور ہے۔
یہاں تک کہ جانوروں تک کو نہیں بخشتے
اگر آپ کہتے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہوا تو کتنے کیسز ہیں جن میں گھر میں گھس کر ریپ کردیا گیا۔
اگر آپ کہتے ہیں کہ اس لیے کیونکہ یہاں اپنی جنسی فرسٹریشن نکالنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، یہاں قحبہ خانے نہیں ہیں تو عرض ہے کہ جن ملکوں میں قحبہ خانوں کی کثرت ہے اور اویلیبلٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہاں ریپ کیسز کی شرح اس قدر زیادہ کیوں ہے۔
امریکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ریپ کیسز ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ ریپ کیسز ہیں، زنا باالرضا پر وہاں کوئی پکڑ یا قدغن نہیں ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کا لڑکا یا لڑکی جیسے چاہے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ اس پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
مزید اگر یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ میں ایک عورت کتنی محفوظ ہے تو یوٹیوب پر ویڈیوز موجود ہیں کہ نیویارک شہر میں کسی خاتون کو کس طرح چھیڑ ا جاتا ہے۔ a woman is cat called more than hundred times in a day, while she was walking through NYC.
لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ دنیا کے ساتھ موازنہ کرکے کہنا کہ ہمارے ہاں تو یہ مسئلہ اس قدر نہیں ہے۔ یہ سراسر چشم پوشی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رپورٹ کم ہوتا ہے۔ اکثریت ایسا کوئی بھی واقع رپورٹ ہی نہیں کرواتی۔ اس لیے دنیا کے حقائق دینے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ نا م نہاد تقدیس مشرق کے حدی خوان بنے پھریں جو اب بہت خال ہی کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔
لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اگر یہ سب کچھ کے باوجود بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں تو کیسے محفوظ ہوں گی۔
لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ جان لیں کہ پوری دنیا میں مرد خواتین کو اس بری نظر سے ہی کیوں دیکھتے ہیں تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ صرف چست یا تنگ کپڑے پہننا ایک فیکٹر ہوسکتا ہے مگر یہ وجہ نہیں ہے۔
وجوہات بہت ساری ہیں جو مل کر اس قدر دماغ کو خراب کردیتی ہیں کہ محرم رشتوں تک کا احترام بھی انسان بھول جاتا ہے۔
سب سے پہلے اور سب سے بڑی وجہ میڈیا انڈسٹری ہے۔ میڈیا سے مراد فلم اور فیشن اور میڈیا کے تمام شعبے ہیں ۔ آپ اپنی میڈیا انڈسٹری کو دیکھیں ، کیا یہاں عورت کو بیچا نہیں گیا، اور پھر یکمشت نہیں بیچا گیا ، بلکہ اب تو ناز الگ بکے اور انداز الگ، جسم بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے بیچا گیا۔
میں دنیا کی بات نہیں کرتا ، ہمارے اپنے ملک کو دیکھ لیں، چہرہ ایسا کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جائے،
نظر اٹھے اور مڑ نا پائے،
آپ جہاں نظریں وہاں۔۔۔۔
تو یہ ساری ٹیگ لائن جو دن رات ہمیں ٹی وی اشتہارات کی صورت دکھائی گئی تھیں کیا ان کا مقصد عورت کی عزت کرنا سھنا تھا یا حوا کی اس بیٹی کو ایک پراڈکٹ بنا کر بیچنا تھا۔
پھر فلم انڈسٹری دیکھ لیں، دنیا بھر میں آڈلٹ سینز کے بغیر فلم نہیں بنتی، نیٹ فلکس کی شرائط میں شامل ہے کہ فلم میں ایسے سینز ہونا ضروری ہیں۔ سنسر بورڈ جیسے ڈھکوسلے تو صرف ہمارے ہوں ہیں۔ ڈھکوسلے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان سے جو کچھ پاس ہوجاتا وہ سب بھی جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
اب ہر طرف میڈیا میں ، بل بورڈز پر عورت کی بھرمار، یہاں تک کہ مردانہ ریزر بھی عورت ہی بیچے، یہ سب دیکھ کر جنسی فرسٹریشن اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔
پھر یہاں ایک دوسری وجہ کا آغاز کرتا ہوں ۔
کتنے لوگ ہیں جو شادیاں دیر سے کرتے ہیں۔ ضرورت انہیں بہت پہلے ہوتی ہے۔ بجا کہ شادی صرف اسی ایک ضرورت کا نام نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک ضرورت ہے۔ جب جائز طریقے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی تو پھر ایک انسان کب تک صبر کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو پارسائی کا یہ بوجھ سہتے ذہنی مریض ہوجاتے ہیں۔ اور رہ گیا ہمارا مذہبی طبقہ تو معذرت کے ساتھ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔مجے پتہ ہے کہ یہ جملہ بول کر میں بہت سی توپوں کا رخ اپنی طرف کررہا ہوں مگر حقیقت ایسی ہی ہے۔ ماسوائے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر یہی بھیڑ چال ہے۔
اس سب کے بعد دماغ تو سن ہوجاتا ہے کہ پھر حل کیا ہے۔
سن لیں جس طرح وجہ ایک نہیں ہے اسی طرح حل بھی ایک نہیں ہے۔ بلکہ ایک جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ میرے جیسا بندہ چند گزارشات تو کر سکتا ہے مگر اس معاملے کو ہنگامی بنیاوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار و ارباب حل و عقد کو ایک مربوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ جلد شادیوں کو رواج دیں۔ اور آگہی ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے قوانین جو ابھی تک برطانیہ نے بنائے تھے ، وہی چل رہے ہیں ۔ یہ قوانین رعایا کے لیے تھے۔ ان قوانین کو ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قصہ مختصر حل بھی بہت ہوسکتے ہیں، بس اس کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں محفوظ رہ سکیں۔ ورنہ خوف کی فضا میں دم گھٹ جاتے ہیں۔ اور معاشرے مردہ ہوجاتے ہیں۔
حنظلہ عماد
@hanzla_ammad
Category: خواتین
-

خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟
-

پردے کا طریقہ تحریر:صابر حسین۔
گھر کے اندر والے نا محرم مردوں سے پردے کا طریقہ بیان فرمایا ہے
ہاں اتنی گنجائش ہے کہ جو نا محرم گھر کے اندر رہتے ہیں جن سے ہر وقت پردہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہر وقت ان کی آمدورفت رہتی ہے اور وہ اکثر گھر میں کام کاج بھی کرتے رہتے ہیں ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ بھابھی کو چاہیئے کہ وہ کوئی بڑا اور موٹا دوپٹہ اس طرح اوڑھے کہ اس میں پیشانی سے اوپر کے اور سر کے سارے بال چھپ جائیں اور دوپٹہ اس طرح باندھے جس طرح نماز میں باندھا جاتا ہے اور اس میں دونوں بازوں بھی چھپ جائیں اور وہ اپنی پنڈلیوں کو بھی شلوار وغیرہ میں چھپائے پنڈلیوں کا ذکر اس لیئے کیا کہ آج کل انہیں کھلا رکھنے کا رواج چل رہا ہے جو سراسر نا جائز ہے صرف چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں اور دونوں پیر کھلے رہیں اس حالت میں ان کے سامنے آنا جانا رکھے اور گھر کے کاموں کو انجام دے تو اس حالت میں گنجائش ہے اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ چہرے پر گھونگھٹ میں اس سے بات چیت کر سکتی ہے اور اسے کسی بات کا جواب بھی دے سکتی ہے شریف اور حیادار عورت کیلئے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر کام کاج کرنا کوئی مشکل نہیں ہے بشرطیکہ آخرت کی فکر ضرور ہو خوفِ خدا ہو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر لگتا ہو لیکن سر کھلا رکھنا یا سر کے اوپر اتنا باریک دوپٹہ اوڑھنا کہ اس میں سے سر کے بال نظر آ رہے ہیں یا برائے نام دوپٹہ استعمال کرنا یا دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا ہے سر پر نہیں رکھا ، بازو بھی کھلے ہوئے ہیں کہنیاں بھی کھلی ہوئی ہیں ، کلائیاں بھی کھلی ہوئی ہیں اور ان کلائیوں میں زیورات بھی پہنے ہوئے ہیں اور آج کل تو پنڈلیاں کھولنے کا منحوس رواج بھی چل پڑا ہے لہذا گھر کے جو نا محرم مرد ہیں ان کے سامنے اعضاء کو کھولنا جائز نہیں اور گھر کے باہر کھولنا تو کسی صورت جائز نہیں ہے لیکن آج مسلمان خواتین کا جو حال گھر کے اندر ہے اس سے زیادہ برا حال گھر کے باہر ہے باہر نکلتے وقت برقعے اور پردے کا کوئی نام ہی نہیں ہے اور جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ بھی اتنے باریک ہیں یا اتنے چُست ہیں کہ جسم کا ہر حصہ نمایاں ہو رہا ہے
لہذا خواتین یہ بات سن لیں کہ نامحرم مردوں کے سامنے ننگے سر آنے والوں کا عذاب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بیان فرما رہے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کو جہنم کے اندر سر کے بل لٹکتے ہوئے دیکھا ہے اور ان کا دماغ ہانڈی کی طرح پک رہا تھا ۔ اللہ کی پناہ
عورت گھر سے سخت مجبوری میں نکلے اور جب گھر سے باہر نکلے تو سادہ اور باپردہ لباس میں نکلے ، جب گھر سے باہر نکلے تو خاوند کی اجازت سے نکلے ، آج کے زمانے میں بازار میں آپ کو صرف دس پندرہ فیصد مرد نظر آئیں گے باقی نوے فیصد عورتیں نظر آئیں گی ۔ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان زور سے آواز دیتا ہے وہ دیکھو عورت جا رہی ہے سب مرد حضرات اس کی متوجہ ہوتے ہوئے عورت کی طرف دیکھتے ہیں دوستو عورت کہتے ہی با پردہ چیز کو ہیں لہذا گھروں میں اسلامی نظام لائیں اور اپنا اہل و عیال محفوظ رکھیں ۔
مرد حضرات کو بھی چاہیے کہ اپنے نگاہیں نیچی رکھیں اور کبھی بھی شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں توبہ استغفار کا کثرت سے ورد زباں پر جاری رکھیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے آمین
Sabir Hussain
@SabirHussain43
-

خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان
خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان
انسان کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی میں چھاپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان دوسروں کے دل جیت سکتا ہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے خوش اخلاقی ایک سرمایہ ہے خوش اخلاقی اچھے برتاو کا نام ہے بد اخلاقی انسان کے دلوں میں صرف نفرت پیداکرتی ہے ہم میں سے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اسن کے ساتھ عزت اور اخلاق سے بات کی جائیں یقین جانیئے اچھے اخلاق سے آپ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔
جس طرح بغیر خوشبو اور رنگ کے کوئی پھول پھول کہلانےکا مستحق نہیں اس ہی طرح انسانیت اور خوش اخلاقی کے بغیر کوئی انسان انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ ایک خوش اخلاق شخص میں عاجزی اورانکساری کی صفت موجود ہوتی ہے خوش اخلاقی بہت بڑی خوبی ہے۔ خوش اخلاقی عظمت اور اشرفت کی دلیل ہےانسانیت کی بیناد اخلاق پر قائم ہےاخلاق انسانی سیرت وکردار پر مبنی رویے کا نام ہے اچھے اخلاق کا خلاصہ ہے کہ انسانیت کو تکلیف نہ دینا ہے خوش اخلاقی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے خقش اخلاقی ایمان کامل کی علامت بھی ہےایک حدیث نبوی ؐ کے مطابق مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو اچھے اخلاق کا مالک ہو اور سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔
اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواء کیے اخلاق دیکھے بغیر اپنا رویہ اور اخلاق متعین کرےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :جس کے اخلا ق اچھے ہوں وہ کامل ترین ایمان والا ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہو۔)اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایمان و عقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال و افعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے ہمکنار نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی ۔
اخلاقی اصول ایسے رویہ کی جانب راہنمائی کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے دل سکون میں ہوتا ہے اخلاق ضبط نفس پیدا کرتا ہے برائی کا جواب اچھائی میں دینا افضل اخلاق ہے اچھے اخلاق والے کامل مومن ہیں۔اچھے اخلاق دل جیتنے کا زبردست نسخہ ہےمسلمان کے اچھے اخلاق کی برکت سے غیر مسلموں کو دولتِ ایمان نصیب ہوتی ہےاچھے اخلاق کی بدولت دین کا کام خوب ترقی کرتا ہےاچھے اخلاق کی سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں اچھے اخلاق کی برکت سے انفرادی کوشش میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔
اللہ پاک ہمیں بھی اچھے اعلی اخلاق کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے اور بد اخلاقی سے ہمیں دور کرےTwitter Account: https://twitter.com/saimarahman6
-

پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ
پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس تو کھل چکا۔ لیکن اس وقت پنڈورا پیپرز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا ایک بار پھر سے بہت چرچا ہو رہا ہے۔ وہی فیک نیوز جس کی ابھی تک کوئی ایک تعریف تو سامنے نہیں آسکی جسے سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سمیت پوری قوم تسلیم کر سکے لیکن ہمارے سیاستدان خود فیک نیوز پھیلانے میں اب شامل ہو گئے ہیں تاکہ اتنے اہم معاملے کو غیر سنجیدہ کیا جا سکے۔پانامہ میں چار سو سے زائد لوگ تھے لیکن اب کی بار پنڈورا پیپرز میں سات سو سے زائد افراد ہیں۔ پانامہ کیس میں ہم نے دیکھا تھا کہ چار سو میں سے صرف ایک ہی خاندان تھا شریف خاندان جس کے خلاف کوئی خاطرخواہ کاروائی ہوئی تھی باقی شاید کسی کا نام بھی اب لوگوں کو یاد نہیں ہو گا کہ ان لیکس میں اور کون کون تھا۔اس پینڈورا پیپرز میں جس بات پر سب سے زیادہ خوشی منائی جا رہی ہے وہ یہ کہ اس میں عمران خان کا نام شامل نہیں ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جو کہ عمران خان کی حکومت میں ہیں اور ان کے بہت قریبی ہیں۔اس لئے ایک طرف تو یہ اس حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ عمران خان اب کس کس کے خلاف کاروائی کروائیں گے۔لیکن دوسری طرف بغیر کسی تحقیق کے ہمارے وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ ٹائیں ٹائیں فش ہے اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ مثال بھی دی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔
لیکن ایک بات جو پانامہ پیپرز میں اور پینڈورا پیپرز میں مختلف ہے وہ یہ کہ پانامہ کے ٹائم پر جن لوگوں کا اس میں نام آیا تھا وہ اس پر اپناResponseدیتے ہوئے بہت ہچکچاتے تھے۔ لیکن اب کی بار پینڈورا پیپرز میں جن کا بھی نام آیا ہے ان میں سے بہت سے لوگوں کاResponseبھی سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے اب کی بار انLeaksکی وہ دہشت محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے ہوئی تھی۔اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی یہ پینڈورا پیپرز سامنے آئے ہمارے اپنے وفاقی وزیر اور ایک مشیر نے فیک نیوز پھیلانا شروع کر دیں۔اور یہ وہی وزیر ہیں جو میڈیا کے حوالے سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک بل پیش کرنا چاہ رہے تھے تاکہ فیک نیوز کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔ اور اب وہ خود ٹوئیٹر کے زریعے فیک نیوز پھیلا رہے ہیں جس پر بہت سے صحافی اور سوشل میڈیا فالوورز اب یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ فیک نیوز دینے والے صحافیوں کے خلاف جو جرمانے اور سزائیں ان وزیر صاحب کی طرف سے تجویز کی گئیں تھیں کیا اب فواد چوہدری اور شہباز گل کو وہی سزا نہیں ملنی چاہیے؟ کیا ان کے خلاف ویسی کاروائی اور جرمانے نہیں ہونے چاہیں جو کہ صحافیوں پر یہ لاگو کروانا چاہتے تھے؟
دراصل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گل نے دعوے کیے کہ پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانیوں کے نام ہیں ان میں ایک نام مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا بھی ہے۔فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہاں تک بھی کہا کہ۔۔ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں ان کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئی اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟شہباز گل نے جنید صفدر کے حوالے سے پی ٹی وی پر چلنے والی خبر کا سکرین شاٹ لگا کراپنی ٹوئیٹ میں مریم صفدر کو نشانہ بنایا اور یہ ٹوئیٹ کی کہ۔۔۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کسی چوری وغیرہ کی تحقیق ہو اور مریم باجی پیچھے رہ جائیں ؟ کبھی بھی نہیں۔اور یہ نہیں کہ ان دونوں حضرات نے صرف یہ خبر ٹوئیٹ کی تھی بلکہ شہباز گل نے اے آر وائی کے ایک پروگرام میں بھی پی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنید صفدر کا نام ان دستاویزات میں شامل ہے اور فواد چوہدری نے ڈان ٹی وی کے پروگرام میں یہی بات دوہرائی۔جبکہ دو پاکستانی صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی جو اس تحقیق میں شامل رہے ہیں ان سے جب ایک چینل پر یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کے علاوہ پنڈورا لیکس کے نام کے ایک اکاونٹ سے بھی جنید صفدر کے بارے ٹوئیٹ سامنے آئیں کہ۔۔ ہماری تحقیق کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر کی تین شیل کمپنیاں اور دو آف شور کمپنیاں سی شیلز اور ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔لیکن جب عمر چیمہ نے اس کی تردید کی اور اس اکاونٹ کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ جعلی ہے تو کچھ وقت کے بعد وہ اکاونٹ ڈیلیٹ ہو گیا لیکن فواد چوہدری اور شہباز گل کی ٹویٹس ابھی بھی موجود ہیں بلکہ ان کے اکاونٹس سے ایسی ٹوئیٹس کو بھی ری ٹوئیٹ کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے بیانیے کے قریب ہیں۔لیکن میں آپ کو بتاوں کہ جنید صفدر کے حوالے سے یہ خبر صرف پی ٹی وی نے نہیں چلائی بلکہ پرائیوٹ نیوز چینل اے آر وائے نے بھی نشر کی تھی۔ جس پر مریم نواز نے کافی سخت رد عمل دیا اور اے آر وائے کو ٹیگ کرکے یہ ٹوئیٹ کی کہ اگر اے آر وائی نے فوری اس جعلی خبر پر معافی نہیں مانگی تو میں انہیں کورٹ لے کر جاؤں گی۔جس کے بعد اے آر وائے نے یہ خبر چلانا شروع کی کہ جنید صفدر والی خبر درست نہیں۔جس کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ یہ کافی نہیں ہے۔ اے آر وائی کو بغیر کسی شک و شبہ کے معافی مانگنی ہوگی ۔۔۔ ورنہ وہ یہاں اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا بہت ہو گیا۔اے آر وائے نے تو پھر بھی تردید چلا دی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پی ٹی وی، فواد چوہدری اور شہباز گل کے خلاف بھی کوئی کاروائی کریں گی یا نہیں۔لیکنPandora papers VS fake news کی اس لڑائی سے حکومت کو ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس لڑائی کے چکر میں اتنی بڑی Investigation report کو Non serious issue بنا دیا گیا۔ یہ رپورٹ آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن جن حکومتی عہدیداران کا اس میں نام آیا ہے وہ سب اپنے عہدوں سے استعفے دیتے عدالت کی طرف سے اس پر تحقیقات کروائی جائیں۔ جو بے قصور ثابت ہو اس کو دوبارہ عہدہ دے دیا جاتا اور جس کا قصور ثابت ہو جائے اس کو سزا دی جاتی کیونکہ عمران خان اسی احتساب کے نعرے کو لیکر حکومت میں آئے تھے۔ یہی ان کی جماعت کا سلوگن ہے کہ صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی۔۔۔خیر استعفے تو نہیں آئے لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ اب ان کی طرف سےPrime minister inspection commissionکے تحت ایک اعلی سطحی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ اور اس کی سربراہی خود وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔
ہماری بھی یہی دعا ہے کہ قوم کے سامنے حقائق آئیں کیونکہ اس کام کی اس وقت ضرورت بھی ہے یہ رپورٹ اب صرف آف شور کمپنیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ صرف نواز شریف یا مریم نواز نہیں ہیں جن کے فیلٹس کی منی ٹریل ابھی تک سامنے نہیں آ سکی بلکہ اور بہت سے پاکستانی ہیں جو یہاں سے پیسہ برطانیہ لے کر جاتے رہے ہیں اور وہاں جاکر جائیدادیں خریدتے رہے ہیں۔اور ان لوگوں میں صرف سیاستدان نہیں ہیں بلکہ بہت سے اور لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر اب تحقیقات ہونی چاہیں۔ ان میں سے جو لوگ ریٹائرڈ ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن جو اس وقت حکومتی عہدوں پر ہیں ان سے استعفے لینا بھی ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔اور اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم ان کو مان لے گی کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاسی مقصد کے لئے نہیں ہوتے اور عوام کا اپنے انصاف کے نظام پر بھی اعتماد بحال ہو گا پھر کسی کو ہمت بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کے پیسے پر ڈاکہ ڈالے۔اور اس کے ساتھ ساتھ فیک نیوز کے معاملےپر بھی غور کرلیں کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ پھرجو کوئی بھی غلط خبر کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے آگے پھیلاتا ہے تو سب کے لئے ایک ہی سزا ہونی چاہیے۔ کیونکہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ جب انہیں کی ٹوئیٹس اور بیانات کو میڈیا اٹھا کر خبر بناتا ہے تو قصوروار صرف میڈیا تو نہیں ہو سکتا۔ صحافی ہوں یا سیاستدان سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
@afeefarao -

فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی
تنگ جینز، چھوٹی قمیض، بکھرے بال، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں سمارٹ فون ، منہ میں گٹکا یا پان، اور ہونٹوں پر گندی گالی، یہ ہے آج کا عام پاکستانی نوجوان۔ جس کے پاس تعلیم بھی ہے اور شاید کسی حد تک ہنر بھی مگر کردار و اخلاق کا بری طرح سے فقدان ہے۔
وہ نوجوان جو بیش قیمت اثاثہ ہوتے، جن پر ملک کے مستقبل کی اساس ہوتی، وہ بری طرح سے بگڑتے جارہے ہیں۔ فیشن پرستی کا وبال ہماری اقدار کو گھن کی طرح کھا رہا لیکن والدین، اساتذہ اور ارباب اختیار خاموشی سے تماشائی بنے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند مگر عمدہ اخلاق و کردار کے حامل نوجوان ہی کسی بھی ملک کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پرملک کی ترقی و تنزلی منحصر ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستانی نوجوان نسل بری طرح سے بے راہ روی کا شکار ہورہی۔ مشرقی اقدار جن پرکبھی ہم نازاں تھے یورپ کی اندھی تقلید میں کھو چکی ہیں۔ اور رہی بات اسلام کی تو وہ بس سوشل میڈیا کی پوسٹس یا اسلامیات کے پیپر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے عملی زندگی میں کہیں نام و نشان نہیں رہا۔ المیہ یہ ہے کہ نہ خوف خدا رہا ہے نہ شریعت کا کوئی لحاظ۔ بس ایک بھیڑ چال کی کیفیت ہے جس میں ہر کوئی بگٹٹ بھاگے چلا جا رہا۔
وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نور
لے اُڑی اس نکہتِ گل کا یہ تہذیب فرنگآجکل کے زیادہ تر نوجوان لڑکے یا تو سارا دن پب جی کھیل رہے یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہے۔ چرس، ہیروئن اور پورن فلموں کے نشے میں ڈوبے اور اگر امتحان پاس کرنا ہو تو آئس کا نشہ کر کے وقتی طور پر دماغ روشن کر لیتے چاہے بعد میں پوری زندگی تاریکی میں ڈوب جائے۔
اور رہی لڑکیاں تو ان کا حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ہر بدلتا فیشن اپنانا ان کا فرض عظیم ہے چاہے وہ اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ فیشن کی دوڑ اور نمایاں و برتر نظر آنے کے چکر میں نت نئے برانڈز کی چاندی ہے۔ بات زیب و زینت سے بڑھ کر نمود و نمائش سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ رہی سہی کسر ماڈلز و اداکاراؤں کے طرز زندگی کی نقالی نے پوری کر دی ہے۔“اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیاہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کرسکیں۔ “
قرآن مجید کے اس واضح حکم کے باوجود ہم بغیر کسی پچھتاوے کے نفس کے اسیر بنے ہیں۔ فیشن پرستی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ فیشن اور فحاشی کا فرق مٹ گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو والدین اور بزرگوں کی صحبت اب آؤٹ ڈیٹڈ لگتی ہے۔ مخلوط محافل، فاسٹ فوڈ اور بیہودہ لباس کو جدت پسندی اور فیشن کے نام پر اپنایا جارہا۔فیشن پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید ہمارے معاشرے کی جڑوں کو روزبروز کھوکھلا کر رہی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ عریانی کو فروغ دیتے فیشن کی نہ تو مذہب اجازت دیتا نہ ہماری مشرقی اقدار۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےفیشن کچھ حدود و قیود میں کرنا قطعاً معیوب نہیں ہے۔ مگر فیشن پرستی کی آڑ میں اسلامی تعلیمات و تہذیب کو پس پشت ڈال کر اندھا دھند تقلید ہمارے نوجوانوں میں بری طرح بگاڑ کا سبب بن رہی اور ہمارے معاشرے کا اب یہ حال ہوچکا ہے کہ
“کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا”@once_says
-

خواتین کا کردار تحریر:غلام رسول
انسانی زندگی میں ایک خاتون کا کردار محور کی طرح ہے۔تمام خاندان کی زندگی خاتون کے گرد ہی گھومتی ہے۔پیدائش پر رحمت بن کر آنے والی بیٹی، باپ کیلئے رحمت، بھائیوں کیلئے محبت کا گہوارہ، ماں کیلئے توجہ کا مرکز، بنے ہوئے زندگی کی ابتداء کرتی ہے۔یہاں والدین کی بہت بڑی ذمہ داری جو خالقِ کائنات نے رکھی ہے وہ تعلیم و تربیت ہے۔والدہ اپنی بیٹی کو تربیت کے مختلف مراحل سے گزارتی ہے تو والد اس کی مناسب تعلیم کا بندوبست کرتا ہے۔
اسی اثناء میں بیٹی جوانی کی حدود میں قدم رکھتی ہے زندگی کا چکر اسے نئی نسل کا امین بنانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔جناب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا فرمان ہے، "بیٹا باپ کے گھر اور بیٹی شوہر کے گھر عروج پاتی ہے”۔ یعنی ذمہ داری پڑنے پر ہی اپنی جگہ مضبوط ہوتے ہیں۔ جیسے خاندان میں ایک خاتون محور ہوتی ہے، یعنی "خاتون اعلٰی” بیٹوں کی ماں، شہر کی عترت، بزرگوں کیلئے خدمت و خیال رکھنے والی شخصیت، بیماری میں تیماردار، غم میں مونس، خوشی میں خاندان کا ستون۔۔۔۔
یہ ہے وہ محور خاندان کیلئے جسے عورت، خاتون یا خاندان کی حوّا کہتے ہیں۔ لبرل کیا کہتے ہیں،مجھے یہاں اس پر بحث نہیں کرنا لیکن ایک خاندان میں خاتون کیا مقام رکھتی ہے کیسے معاشرے میں اپنا مقام بناتی ہے، وہ سب سے اہم ہے۔
کسی بھی شخص، عورت ہو یا مرد، اس کی پہلی تربیت گاہ کسی ماں یعنی عورت کی گود ہوتی ہے۔پہلی پرورش گاہ اس عورت کی کوکھ ہوتی ہے۔تربیت دونوں مقام پر یکساں ہوتی ہے۔کبھی آزما لیں اور آج سائنس بھی اس کو مان رہی ہے کہ ماں کے رحم میں ہی پرورش پاتا ہوا بچہ اپنی تربیت کے ابتدائی مراحل سے گزرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک حافظہ ماں اپنے ایامِ حمل میں قرآن کی تلاوت کرتی ہے تو اولاد بھی قرآن کو ناصرف جلد حفظ کر پاتا ہے بلکہ ایک بار تو ایک بچہ پیدائشی طور پر ہی قرآن کو درست تلفظ سے پڑھتا تھا، جب بولنے کے قابل ہوا تو ایک بار آیت سن کر فورا” پڑھنے لگتا تھا۔ اسی طرح گانے بجانے اور طرب و موسیقی کی محفلوں کی دلدادہ ماں کی اولاد اسی طرح موسیقی کی دلدادہ اولاد کی ماں بنتی ہے۔ خیر شکم مادر میں تربیت ایک امر مشکل ہے، ناممکن نہیں۔ البتہ یہاں ہم بات کریں گے کہ معاشرے میں خاتون کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔
ایک معاشرے کیلئے خاندان سب سے چھوٹی اکائی ہوتا ہے۔کئی خاندان مل کر ایک معاشرہ ترتیب دیتے ہیں۔ جیسے کسی محلہ میں آپ اکثر ایک جیسا ماحول دیکھتے ہیں۔ وہاں رہنے والے سب ہی ایکدوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں اور سب ہی ایکدوسرے کے غموں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب ہم دیکھتے تو روز ہیں لیکن کبھی اس کے بارے میں تدبر اختیار نہیں کرتے۔
چند محلے مل کر ایک گاؤں، قصبہ یا شہر بنتے ہیں، اور عمومی طور پر اسے معاشرہ کی تشکیل کہا جاتا ہے۔ کسی معاشرے کی چند خوبیاں یا خامیاں عام ہو جاتی ہیں۔ انہیں اس معاشرے کی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ جیسے مہمان نوازی، مددگار لوگ، ہنس مکھ، غصیلے، بہادر، نڈر، بزدل، بدمعاش، بدقماش، مجرمانہ ذہنیت کے مالک، جرم سے نفرت کرنے والے، وغیرہ۔۔۔ یہی خصوصیات قومی سطح پر اس معاشرے کی پہچان بن جاتی ہیں۔
کسی بھی معاشرے کی پہلی اور آخری اکائی چونکہ خاندان ہوتا ہے اس لئے خاندان کا محور جو ماں ہوتی ہے اور تربیت کا پہلا زینہ، وہی خاندان کی تربیت کو اچھا یا برا کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر وہ معاشرہ اس عورت کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اگر خاتون کی کی گئی تربیت میں عورت کی عزت کرنا، بزرگوں کا ادب، بچوں پر شفقت کرنا، اردگرد کے لوگوں کی عزت کرنا اور معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت، تحمل مزاجی، صبر، شجاعت و بہادری سکھاتی ہو تو عام معاشرہ بھی انہی خصوصیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو مرد کا معاشرہ کہا جاتا ہے۔ انتہائی معذرت کیساتھ، کوئی معاشرہ مرد کا نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ فقط عورت سے تشکیل پاتا ہے۔
اب اگر کوئی مرد اچھا ہے تو اس کا سہرا اسی ماں کے سر ہے، لیکن اگر کوئی مرد بدقماش، نالائق، ہنجار، بیغیرت، بدکردار ہے تو اس کی ذمہ دار بھی وہی عورت ہے۔ کیونکہ یہ معاشرہ مرد کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتا بلکہ عورت اس کی بنیاد، عورت ہی اسکا ستون ہے۔ مرد اس عورت کا محافظ، غمگسار، ساتھی اور عام طور پر اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزار دیتا ہے۔
کسی کے بہکاوے میں آکر اپنے معاشرہ کو خراب کرنے کی بجائے اصل بنیاد کو سمجھنا لازم ہے۔ ہر مرد طاقتور ہونے سے بہت پہلے اپنی کمزوریوں کو ایک عورت کی گود میں ہی پروان چڑھاتے ہوئے طاقت و قوت حاصل کرتا ہے۔
فیصلہ آپ کیجئے کہ عورت کا کردار کتنا اہم اور کس قدر مضبوط ہے۔ ان حالات میں ایک ماں کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ آج کی بیٹی کل کی ماں ہے، اس لئے اپنی بیٹی کی تربیت اور تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کریں۔ اگر ایک بیٹی کی تعلیم و تربیت درست ہو جائے تو پوری نسل سنورتی ہے، کیونکہ بیٹیاں نسلوں کی امین ہوتی ہیں۔
@pak4army
-

حسام اور شمایلہ میں علیحدگی کی وجہ ۔۔ تحریر: حنا سرور
نکاح کو ختم کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے: ”أَبْغَضُ الْحَلَالِ الی اللّٰہِ الطَّلَاقُ“ (ابوداؤد بحوالہ مشکوٰة ص:۲۹۳): جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: لاَ خَلَقَ اللّٰہُ شَیْئاً عَلٰی وَجہِ الأرْضِ أبْغَضَ الیہ مِنَ الطَّلاَقِ (دارقطنی بحوالہ مشکوٰة ص:۸۴) کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ ناپسندچیز کو پیدا نہیں فرمایا۔ طلاق ایسا غیرمعمولی اقدام ہے کہ جب کوئی آدمی، اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش ہل جاتا ہے۔ (عمدة القاری۳۰/۴۵) ایک روایت میں ہے کہ جو عورت کسی سخت تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی بحوالہ مشکوٰة ص:۲۸۳)
کثرتِ طلاق کی وجہ سے برائیوں کا فروغ ہوتا ہے، جن کو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
حضرت سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس عورت نے بغیر کسی شرعی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘
رحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:بے شک طلاق کا مطالبہ کرنے والیاں منافق ہیں اور کوئی عورت ایسی نہیں جو اپنے شوہر سے بغیر کسی شرعی عذر کے طلاق کا مطالبہ کرے پھر جنت کی ہوا پائے۔ یافرمایا: جنت کی خوشبو پائے۔
کچھ دن پہلے ایک یوٹیوب جوڑے نے اپنی طلاق کا اعلان کیا ۔۔۔لیکن اس پر اکثریت نے مرد کو برا کہا اور اکثر نے عورت کو ۔۔مطلب مردوں نے مرد کی حمایت کی عورتوں نے عورت کی ۔۔لیکن بحیثت ایک لڑکی ہونے کے ناطے میری اس بارے یہ سوچ ہے ۔
حسام اور شمایلہ نے پسند سے شادی کی تھی ۔
شادی کے کچھ عرصے بعد حسام نے شمائلہ کو یوٹیوب چینل بنا کر دیا جس پر شمایلہ اپنے وی لاگ بناتی ۔۔
پہلے نقاب میں پھر حجاب میں اور پھر وہ بھی اتار دیا ۔۔
کیا ہے کہ شہرت چیز ہی ایسی ہے ۔۔
آگے کی کہانی شہرت کی بلندیوں کو چھوتی ہووی شمایلہ کو حسام کی وہی داڑھی وہی اسلام پسندی ناقابل برداشت ہونے لگی وہ حسام کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔ اور عدالت چلی گئ طلاق ہو گئ بات ختم ۔۔
لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک حسام نے شمایلہ کو چینل بنا کر دیا غلط کیا.
میری سوچ میں شمایلہ ہی غلط نکلی ۔۔آج کل ہر بندہ چاہتا ہے کہ وہ اچھی آمدن کما سکے اپنا رہن سہن اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کر سکے اور حسام نے بھی یہی چاہا ہوگا کہ ملکر کمائیں گے ۔۔میاں بیوی ویسے بھی تو کماتے ہیں کام کرتے ہیں پھر یوٹیوب ہو تو بہترین ہے اور پھر ایک شوہر کا بیوی پر اس حد تک یقین کرنا یہی تو محبت ہوتی ہے لیکن بیوی محبت کا جواب سرکشی سے دے تو غلط شوہر کیسے ہوا؟ ۔ پاکستان میں یوٹیوب ایک خاص طریقہ ہے یہاں قسمت گر مہربان ہو تو آپ راتوں رات سٹار ہو اور لاکھوں کما سکتے ہیں ۔۔میں کچھ گرلز کے ایسے چینل بھی دیکھے ہیں جن کے لاکھوں سبسکرائب ہے لیکن صرف وائز ری ایکشن پر آج تک ان کی کسی نے شکل نہیں دیکھی ۔۔وہ بھی تو مشہور ہے وہ بھی تو کما رہی ہے ۔۔لیکن کچھ دوپٹہ میں بھی اچھا خاصہ چینل چلا رہی ہے ۔۔عزت سے اخلاق سے وہ ڈیلی ویلاگر ہے کڑوروں ان کے فین ہے۔اور کچھ دوپٹہ نہ بھی لین لیکن اپنے والدین کی سپورٹ سے فیملی وی لاگ کرتی ہے وہ بھی مشہور ہے ۔لیکن
شمائلہ کو عزت راس نہی آئ شہرت راس نہیں آئ تو حسام کو گنہگار ٹھہرانا قطعی غلط ہے ۔۔۔اسے کہتے ہیں اپنے پاوں پر آپ کلہاڑی مارنا ۔
آج کل ایک شعر پڑھ رہی ہوں ہر جگہ کہ شوہر کے پاس پیسہ آجاے تو گھر سنوارتا ہے بیوی پاس پیسہ آجاے تو گھر توڑتی ہے ۔۔یہ بھی بالکل غلط بات ہے ۔۔ہزاروں عورتیں بیوہ یتیم بچیاں اکیلی اپنے خاندانوں کی کفالت کرتی نظر آتی ہے عزت کے ساتھ اپنے بچوں اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہی ہے ۔آج کل آپکو عورتیں ٹیکسی چلاتی بھی نظر آئے گی ۔۔دس سال کی بچی باپ کے بازوو نہ ہونے کے کارن رکشہ پہ باپ کے ساتھ باپ کا سہارہ بنتے نظر آئے گی ۔۔پھر ہر پیسہ کمانے والی عورت کو آپ شمایلہ جیسیوں سے کیسے ملا سکتے ہیں ۔۔
میں ایک لڑکی ہوں ۔میرے پاس ایک نہیں دو فون ہے ۔۔میرے پاس ٹیب ہے ۔میں چوبیس گھنٹے نیٹ پہ ہوں بارہ گھنٹے ہوں مجھے کوی روک ٹوک نہیں الحمدللہ میری فیملی میرے اکاونٹ میں ایڈ ہے ۔کبھی فیملی کو بلاک کر کہ اکاوٹ نہیں بناے ۔جب میں خود ٹھیک رستے پر ہوں تو مجھے کس چیز کا ڈر؟ ۔میرے فون پر کس کی کال آرہی میرا فون میرے بھائ میرے بابا پاس پڑا کوی نہی اٹھاتے ۔۔کیونکہ ان کو یقین ہے ۔۔
اور میرا یہ ماننا ہے ایک عورت اتنی آزاد ہو اس کے باوجود وہ سرکشی پر اتر آئے تو لعنت ہے ایسی عورت پر تھو ایسی شہرت پر ۔۔۔ -

آزادی کا اسلامی تصور،تحریر: ارم شہزادی
اس سے پہلے میں آزادی کا مغربی تصور بیان کرچکی ہوں آج اس بلاگ میں لفظ آزادی کا اسلامی تصور پیش کرونگی۔ آزادی کا جو تصور زد، عام ہے وہ آصل میں آزادی ہے ہی نہیں وہ تو "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والا معاملہ ہے اور اس سے معاشرے میں تباہی تو آسکتی ہے لیکن آمن اور سکون نہیں۔معاشرے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ پورے معاشرے کو رہن سہن کے آصول بتائے جائیں ان اصولوں پر عملدرآمد کروایا جائے اور ناماننے والوں کے لیے قوانین بنائے جائیں عدالتوں کو بنایا جائے پورا ایک سسٹم ہو ہے جس کی وجہ سے صرف آمیر یا پیسے والا نہیں بلکہ غریب کو بھی جینے کا اتنا ہی حق ہو اور اپنی بات کو دوسروں پہنچانے کے مواقع بھی اتنے ہی ملیں جتنے کہ آمیر کو۔اسلام میں آزادی کے عام طور پر چار پہلو ہیں
1آزادی مطلق
2آزادی اقوام
3شہری آزادی
4سیاسی آزادی
انسان اگر ارادہ کرے کسی کام کا اور ارادے کے مطابق وہ جو چاہے کرے اسے کوئی روک ٹوک نا کرسکے، اس کی مرضی کے خلاف کچھ نا، ہو تو اسے آزادی مطلق کہتے ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ آزادی انسان کو حاصل ہی نہیں ہے آزادی کی یہ قسم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔اور اسکا حق بھی صرف اللہ کو حاصل ہے وہ کائنات کی ہر چیز، پر، حاوی ہے کیونکہ پوری کائنات اسکی تخلیق ہے۔اس کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کی تنقید بے قید، ہے۔
قران مجید میں فرمایا گیا ہے
ان الله یحکم مایرید
ترجمہ: بیشک اللہ جو چاہتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسکا حکم نافذ کردیتا ہے۔
سورہ آل عمران میں ہے
کہو کہ اختیارات سارے اللہ کے ہاتھ میں ہیںمطلب یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہی اس پر حاکم ہے۔انسان اللہ کی اطاعت کرے انسان کو ایسی کوئی آزادی حاصل نہیں ہے جس، میں وہ جو چاہے کرتا پھرے آزادی محص( فطری آزادی)
آزادی کو مروجہ وجوہ کی بنا پر فطری حق تسلیم کیا جاتا ہے
یہ کہ آزادی کا جذبہ ہر ایک انسان کا فطری خاصہ ہے۔
یہ کہ اگر آزادی حاصل نہ ہو تو کوئی انسان اپنے حالات کی درستگی واصلاح ہرگز نہیں کرسکتا’یعنی وہ کسی چیز کا جوابدہ نہیں ہوسکتا’جب تک کہ آزاد نہ ہو بلکہ آزادی کے بغیر وہ انسان ہی نہیں کہلایا جا سکتا
قدیم زمانہ میں غلامی کا رواج تھا اور یونان کے بہت بڑے فلاسفر ارسطو کا کہنا ہے کہ” بعض آدمی فطری طور پر اپنے حالات میں حسب منشاتصرفات کرنے پر قادر نہیں ہے ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ غلام رہیں اور ان کے آقا ان کے مصالح کے کفیل ہوں”
جبکہ اسلام طریقہ غلامی کو ناپسند کرتا ہے اور اور آقا اور غلام کے درمیان بھی مساوات کا درس دیتا ہے۔
قومی آزادی
اسکا مفہوم اپنی ریاست کو کسی دوسری ریاست کے ظلم سے بچانا ہے اپنی ریاست کے لیے جان اور مال کی قربانی دینا۔ اپنی ریاست کی حفاظت کے لیے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا۔
شہری آزادی
کسی ریاست میں رہتے ہوئے کون کونسی آزادیِ چاہیئے ہوتی ہے یا حاصل ہوتی ہے ان میں آزادی اظہار رائے، آزادی اجتماع وتقریر، معاشی آزادی، مزہبی آزادی، حق ملکیت کی آزادی، جان کے تحفظ کی آزادی، قانونی آزادی۔آزادی اظہار رائے میں ہر انسان آذاد ہے وہ کسی بات یا موضوع کے بارے میں صحیح یا غلط رائے رکھے اگرچہ اس کے پاس دلائل موجود ہوں، اسی طرح تحریر و تقریر میں آزاد ہے اگرچہ کسی کی توہین اور ہتک آمیز القابات شامل نا ہوں نفرت پر نا ابھارا جائے آزادی کی آڑ میں امن کو نقصان نا پہنچایا جائے۔ موجودہ دور چونکہ جدید دور ہے اس، میں اظہار رائے کے اور بھی طریقے ہیں جس میں خاص طور پر پرنٹ میڈیا الیکٹرونک میڈیا اور اب سوشل میڈیا ہے اپنے خیالات کے اظہار کا بہترین زریعہ ہیں لیکن پاکستان چونکہ اسلام کے نام پے معرض وجود میں آیا ہے اس لیے اسلام کے خلاف بات نہیں ہوسکتی ہے۔اور نا ہی اشاعت ہوسکتی ہے۔رزق کمانے کی آزادی سب کو بشرطیکہ کہ کسی اور رزق چھینا نا جائے کسی اور کے رزق کو غلط طریقے سے ہتھیایا نا جا سکے۔حلال کمایا جائے اور ملکی قوانین کے مطابق عشر زکوٰۃ اور ٹیکس ادا کیا جائے ۔مذہبی آزادی میں اپنے عقیدے کے مطابق رہنے کا مکمل اختیار دیا جائے جب تک کہ وہ اپنا عقیدہ مسلط نا کرے۔ تمام مذاہب کو اپنے مذہب کی ترویج کا بھی حق حاصل ہے البتہ قادیانی ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ مرتد ہیں اسلامی قوانین کے مطابق۔آزاد ملکیت میں زمین جائداد خریدنے اور فروخت کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن ناجائز طریقے سے کسی مظلوم کی جائداد پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی ایسا کرےگا تو قانون کے مطابق سزا کا حق دار ہوگاجان کی آزادی یعنی ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ آزادانہ طور پر زندگی بسر کرے اور اپنی زندگی بچانے کے لیے ہر قسم کا دفاع کرسکے۔ سیاسی آزادی میں ہر فرد کو اپنی ریاست کے سیاسی معاملات میں حصہ لینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ سیاست میں سیاسی جماعتوں کے منشور کے مطابق تحریر وتقریر ہوتی ہیں لیکن کہیں بھی ریاست کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو سپورٹ نہیں کیا جاتا ہے۔ آزادی کی ان تمام اقسام میں بھی مدر پدر آزادی کہیں نہیں ہے ہرآزادی کے ساتھ کچھ حدود جڑی ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست دان ہوں میڈیا ہاؤسز ہوں یا پھر بیوروکریسی سبھی اپنی آزادی کے تحفظ کے نام پے ملکی وقار کو داؤ پے لگا رہے ہیں جو کہ ایک مہذہب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔۔
جزاک اللہ
@irumrae -

خود ساختہ دانش وری .تحریر: فروا نذیر
پاکستان میں آج کل ایک سوچ پروان چڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل افراتفری کا شکار ہو رہی ہے اور اس سوچ کی وجہ سے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت شدید مجروح ہو رہے ہیں۔
یہ سوچ خود ساختہ دانش وری کی سوچ ہے۔ آج کل ایک ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ جو شخص جتنا باغیانہ سوچ رکھتا ہو گا وہ اتنا ہی بڑا عقل مند اور دانش ور ہو گا۔ نوجوان نسل شہرت اور ہیروپنتی کے چکر میں اینٹی سٹیٹ کارروائیوں میں بڑے شوق سے شامل ہو کر سوشل میڈیا پر ملک و قوم کی بے حرمتی کرتے نظر آتے ہیں۔
اسی سوچ کی وجہ سے لسانیت اور صوبائیت کو ہوا دی جا رہی ہے اور معصوم عوام کے ذہنوں میں انتشار، اختلاف اور علیحدگی کی گھٹیا سوچ کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مخلوط صوبائی حسن میں ہے۔ جس طرح کسی گلدستے میں ایک ہی رنگ کے پھولوں کی نسبت مختلف رنگ کے پھول زیادہ خوبصورت لگتے ہیں ایسے ہی پاکستان میں بھی مختلف ثقافتوں کا امتزاج انتہائی دلکش اور حسین لگتا ہے۔ پاکستان اپنی خوبصورتی اور مہمان نوازی کی وجہ سے عالمی سیاحت کا پسندیدہ ترین ملک بن چکا ہے۔
اس باغیانہ سوچ کی بیشتر وجوہات ہیں۔ بیسویں صدی میں دنیا میں لاتعداد سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جن میں انقلابِ روس اور چی گویرا کی جدوجہد سرِفہرست ہے۔ ہماری موجودہ نسل ان سے مختلف سیاسی اور سماجی صورتحال میں رہتے ہوئے انقلابی اور چے گویرا بننے کے چکروں میں اپنی اصلیت بھی کھوتی جا رہی ہے۔ نصف صدی قبل سوویت یونین نے پاکستانی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے افکار کی تشہیر کے لئے خاطر خواہ انویسٹمنٹ کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو نظام خود سوویت یونین میں ناکام ہوا یہاں کے دیسی انقلابی اسی نظام کو پاکستان میں لاگو کرنے کی جدوجہد میں پڑ گئے۔ اس دور کے طالب علم آج کل مختلف اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں اور اکثر ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کی لگائی پود آج بھی پل بڑھ رہی ہے۔ جو لوگ محکمہ تعلیم میں آئے انہوں نے اپنے طالب علموں کے درمیان اپنے خیالات خوب پھیلائے اور نتیجتاً انہیں بھی اپنا ہم خیال بنا لیا۔ اسی طرح ہر محکمے میں اس سوچ کے کچھ نہ کچھ لوگ موجود ہیں جو خود ساختہ سرخ انقلاب کا لولی پاپ لئے اپنی ہی جد و جہد میں مگن ہیں۔یہ لوگ ہر اس قدم کو سراہتے پیں جو ریاستِ پاکستان کی اساس، بنیاد، نظام اور نظریئے کے خلاف ہو۔ یہ لوگ کبھی بھی ملکی یا بین الاقوامی سطح پر ریاست کے کسی بھی بیانئے کو قبول یا پروموٹ نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے مخالفت کرتے ہیں۔
آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر ملکی و اسلامی اقدار کی دھجیاں بکھیری جاتی پیں۔ کبھی یہ لوگ عورت مارچ کے نام پر سڑکوں پر آتے ہیں تو کبھی ان کو اساتذہ کے ڈریس کوڈ پر اعتراض ہوتا ہے۔ کبھی ان کو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے پر اعتراض ہوتا ہے تو کبھی ABSOLUTELY NOT پر۔ کبھی یہ لوگ ایک فرضی تصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر اغوا کے ڈراپ سین کا واویلا کرتے ہیں تو کبھی حقائق سامنے آنے پر چوہے کی طرح اپنی اپنی بلوں میں گھس جاتے ہیں۔
یہ لوگ جیسے چاہتے ہیں ویسے رہتے ہیں وہی پہنتے ہیں اور بولتے ہیں لیکن پھر بھی ہر وقت یہ لوگ پاکستان پر طرح طرح کی تہمتیں اور الزامات لگانے کے درپے رہتے ہیں۔
یورپ میں تیزاب گردی کے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں لیکن کسی کو کوئی خبر نہیں جبکہ پاکستان میں رونما ہونے والے اکا دکا واقعات پر بھی فلمیں بن جاتی ہیں اور آسکر مل جاتے ہیں۔
ان لوگوں کا سب سے بڑا سپورٹر مغربی ایجنڈا ہے۔ مختلف این جی اوز اور آرگنائزیشنز کے ذریعے ان لوگوں کو فنڈنگ دی جاتی ہے۔ اور ان کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاتا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت کو فروغ دینے کے لئے یکساں نصابی نظام لاگو کیا تو سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی طبقے کو ہوئی۔ کیونکہ یکساں نصابی نظام سے پاکستان میں موجود من گھڑت سوچ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور نئی نسل کو پاکستانیت کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس باغیانہ سوچ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
حالانکہ پوری دنیا میں ہر کہیں نصاب حکومت خود ہی سیٹ کرتی ہے۔ حتیٰ کہ کوریا جیسے ملک میں تو ہیئر کٹ بھی حکومت کی طرف سے منظور شدہ سٹائل سے ہٹ کر نہیں ہو سکتی۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور حکومتِ پاکستان ملکی مفاد کا ہر قسم کا فیصلہ کرنے کی مجاذ ہے۔
تمام نوجوان نسل سے میری گزارش ہے کہ کسی بھی باغیانہ سوچ کا شکار ہوئے بغیر ہم سب کو اپنے ملک اور قوم کے وقار کو مدِ نظر رکھ کر صرف اور صرف ملکی مفاد کا تحفظ کرنا ہو گا۔ تاکہ ہمارا وطن بھی ترقی کرے اور پھلے پھولے۔
خدائے ذوالجلال پاکستان کا حامی و مددگار ہو
پاکستان زندہ باد -
عورت کی عظمت اورمعاشرہ تحریر: حمیرا الیاس
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں معاشرتی رویوں اور اقدار میں بہت فرق ہے۔ ہماری اسلامی اقدار کے مطابق عورت کا جو مرتبہ بیان کیا گیا ہے وہ بیت ارفع و اعلی، جس میں عورت کو کسی بھی گھرانے کا مرکزی کردار گردانا گیا ہے۔ ایک بیٹی، جو گھر کی رحمت کے طور پر گھر میں اترتی اور پھر گھر بھر کی رونق اور آنکھوں کا تارا بن جاتی۔ بیٹی کے طور باپ کے لئے دل کا سکون اور طراوت۔ ماں کے لئے راحت، اور دکھ درد کی دوست۔ یہی بیٹی اگر بڑی بہن ہے تو تمام چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنے محبت بھرے آنچل میں سمو لیتی ہے، ماں بن کر انہیں پیار دینے والی بڑی بہن بسااوقات اپنی تمام زندگی کی خوشیاں تک اپنے بہن بھائیوں کی خاطر اپنے اوپر حرام کر لیتی۔
اگر چھوٹی بہن ہو تو تمام بھائیوں کی آنکھوں کاتارا، شرارتوں سے ہر وقت کھکھلایثیں بکھیرتی جگمگ کرتی سارے گھر میں قندیلیں بھارتی پھرتی۔ یہ بہن یا بیٹی کے جیسے جیسے رخصتی کے دن قریب آنے لگتے تو والدین کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگتے، اک انجانے خوف سے کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا اگلے گھر میں ہماری بیٹی اتنی ہی خوش و خرم رہ پائے گی جتنا ہم نے رکھا؟ اس خوف پر بات سے قطع نظر، بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کا سکون ان کے لئے باعث اطمینان رہتا۔ رخصت کرتے بھائیوں کے دل بھی پیاری بہنا کے جانے کا سوچ کر دھک دھک کر رہے ہوتے۔ اور یوں وہ بیٹی جو رحمت بنکر باپ کے آنگن میں اتری ہوتی وہ کسی کے گھر کی ملکہ بن کر رخصت ہوتی، جہاں دیدہ و دل فراش راہ کئے اس کا ہم سفراس کے لئے زندگی کی خوشیاں کشیدنے کا عزم دل میں بھر کر اسے خوش آمدید کرنے کو تیار ہوتا۔ اور یوں بیٹی سے پھر ماں بننے تک کے سفر میں عورت مکمل اہمیت کے احساس سے گزر کر کندن بن جاتی۔
اس تمام سفر میں عورت کا ہر روپ معاشرے میں عظمت کی بلندیوں پر دکھائی دیتا۔ لیکن اس مقام کا خود کو اہل ثابت کرنے کے لئے عورت کو بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں،ہر وہ عورت جو قربانیوں کی بھٹی میں جل کر نکل جاتی اس کے لئے یہ زندگی ہی مثل جنت بننے لگتی۔ عورت کی عظمت ہی تو ہے کہ اسے مرد کی سکینت کا باعث کہا گیا، بارہا قرآن حکیم میں مرد کے لئے احکامات کے ہمراہ مومن خواتین کو مخاطب کیا گیا، عورت کے لئے خاص طور حکمت والے قرآن میں ایک مکمل سورۃ اتاری گئی۔ تو اسلام نے تو عورت کی تعظیم میں کسر نہیں چھوڑی، یہ اسلام نے عورت کو عزت وتکریم ہی بخشی تو اسے معاشی فکر سے آزاد کردیا، اسکے لئے امت محمدیہ کی تربیت جیسا عظیم کام سونپا، تربیت کامطلب سمجھ رہے؟ اس کا مطلب آنے والی تمام نسل انسانی کے لئے راستے کی روشنی کے اسباب پیدا کرنا،یہ چھوٹا کام تو نہیں۔ معاشرتی اصولوں میں سب سے خوبصورت اصول، عورت کو تحفظ کی تہوں میں رکھ دیا گیا، اسکا نان نفقہ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ، یا بھائی کی ذمہ داری، بعد از شادی یہ سب شوہر کو بہم پہنچانا، اور پھر بیٹے کے ذمہ۔ اسی پر اکتفا نہیں، اسے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا سب کی جائیداد میں حصہ دیا گیا، کیا یہ اسکے تحفظ کے لئے نہیں؟؟
تو نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ اسلام عورت کو اس مقام پرپہنچاتا کہ جس پر پہنچنے کی کوئی بھی انسان آرزو کرسکتا، تو ایسا کیا ہے کہ عورت تشنہ ہمیں اپنے معاشرہ میں مکمل اندازمیں وہ عظمت نساء نظر نہیں آتی؟؟
اولین وجوہات میں سے ایک اپنے مقام سے آگاہی کا فقدان ہے جو عورت کو بے چین کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہوتا ہے جو عورت کو پستی کی گہرائیوں میں لے جاتا، تو اپنے خالق سے ربط کا فقدان سب سے پہلی غلطی ہے جہاں سے عورت اپنے مقام سے گرتی۔ اس کے بعد جب ایک ماں کے رتبہ پر فائز ہو کر معاشرے کی تعمیر کے کام سے انکار کرتی تو دراصل ان تمام محبتوں سے دست بردار ہوجاتی جو بہترین خاکق، اللہ رب العزت نے اس کے ساتھ وابستہ کردی تھیں۔ عورت مرد کے مقام کو پانے کی کوشش میں ایک بلند مرتبہ کو ٹھکرا کر پھر بے سکونی کی وادی میں گم ہوجاتی ہے۔
جب تک عورت اپنے مقام پر مطمئن و شکرگزار نہیں ہوتی وہ معاشرے میں اس عظمت پر نہیں پہنچ پائے گی کو اسلام نے اس کے نصیب میں لکھ دی ہے۔
آج کی عورت کی بے سکونی کی وجہ وہ خود ہے، وہ صرف attitude of gratitudeسیکھ لے،اور اس کی تعلیم اپنے زیر تربیت اولاد کو دے دے تو معافی میں بڑھتی بے راہروی اور پستی کردار پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ عورت کی عظمت اس کے کردار کی پختگی میں پوشیدہ ہے۔ اللہ کرے کہ لبرلزم کے لبادہ میں ملبوس عورت اپنا اصل مقام پہچان کر اسی عظمت کو پا لے جو امہات المومنین کا خاصہ رہی۔