Baaghi TV

Category: خواتین

  • خواتین کا کردار تحریر:غلام رسول

    خواتین کا کردار تحریر:غلام رسول

    انسانی زندگی میں ایک خاتون کا کردار محور کی طرح ہے۔تمام خاندان کی زندگی خاتون کے گرد ہی گھومتی ہے۔پیدائش پر رحمت بن کر آنے والی بیٹی، باپ کیلئے رحمت، بھائیوں کیلئے محبت کا گہوارہ، ماں کیلئے توجہ کا مرکز، بنے ہوئے زندگی کی ابتداء کرتی ہے۔یہاں والدین کی بہت بڑی ذمہ داری جو خالقِ کائنات نے رکھی ہے وہ تعلیم و تربیت ہے۔والدہ اپنی بیٹی کو تربیت کے مختلف مراحل سے گزارتی ہے تو والد اس کی مناسب تعلیم کا بندوبست کرتا ہے۔

    اسی اثناء میں بیٹی جوانی کی حدود میں قدم رکھتی ہے زندگی کا چکر اسے نئی نسل کا امین بنانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔جناب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا فرمان ہے، "بیٹا باپ کے گھر اور بیٹی شوہر کے گھر عروج پاتی ہے”۔ یعنی ذمہ داری پڑنے پر ہی اپنی جگہ مضبوط ہوتے ہیں۔ جیسے خاندان میں ایک خاتون محور ہوتی ہے، یعنی "خاتون اعلٰی” بیٹوں کی ماں، شہر کی عترت، بزرگوں کیلئے خدمت و خیال رکھنے والی شخصیت، بیماری میں تیماردار، غم میں مونس، خوشی میں خاندان کا ستون۔۔۔۔

    یہ ہے وہ محور خاندان کیلئے جسے عورت، خاتون یا خاندان کی حوّا کہتے ہیں۔ لبرل کیا کہتے ہیں،مجھے یہاں اس پر بحث نہیں کرنا لیکن ایک خاندان میں خاتون کیا مقام رکھتی ہے کیسے معاشرے میں اپنا مقام بناتی ہے، وہ سب سے اہم ہے۔

    کسی بھی شخص، عورت ہو یا مرد، اس کی پہلی تربیت گاہ کسی ماں یعنی عورت کی گود ہوتی ہے۔پہلی پرورش گاہ اس عورت کی کوکھ ہوتی ہے۔تربیت دونوں مقام پر یکساں ہوتی ہے۔کبھی آزما لیں اور آج سائنس بھی اس کو مان رہی ہے کہ ماں کے رحم میں ہی پرورش پاتا ہوا بچہ اپنی تربیت کے ابتدائی مراحل سے گزرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک حافظہ ماں اپنے ایامِ حمل میں قرآن کی تلاوت کرتی ہے تو اولاد بھی قرآن کو ناصرف جلد حفظ کر پاتا ہے بلکہ ایک بار تو ایک بچہ پیدائشی طور پر ہی قرآن کو درست تلفظ سے پڑھتا تھا، جب بولنے کے قابل ہوا تو ایک بار آیت سن کر فورا” پڑھنے لگتا تھا۔ اسی طرح گانے بجانے اور طرب و موسیقی کی محفلوں کی دلدادہ ماں کی اولاد اسی طرح موسیقی کی دلدادہ اولاد کی ماں بنتی ہے۔ خیر شکم مادر میں تربیت ایک امر مشکل ہے، ناممکن نہیں۔ البتہ یہاں ہم بات کریں گے کہ معاشرے میں خاتون کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ 

    ایک معاشرے کیلئے خاندان سب سے چھوٹی اکائی ہوتا ہے۔کئی خاندان مل کر ایک معاشرہ ترتیب دیتے ہیں۔ جیسے کسی محلہ میں آپ اکثر ایک جیسا ماحول دیکھتے ہیں۔ وہاں رہنے والے سب ہی ایکدوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں اور سب ہی ایکدوسرے کے غموں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب ہم دیکھتے تو روز ہیں لیکن کبھی اس کے بارے میں تدبر اختیار نہیں کرتے۔ 

    چند محلے مل کر ایک گاؤں، قصبہ یا شہر بنتے ہیں، اور عمومی طور پر اسے معاشرہ کی تشکیل کہا جاتا ہے۔ کسی معاشرے کی چند خوبیاں یا خامیاں عام ہو جاتی ہیں۔ انہیں اس معاشرے کی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ جیسے مہمان نوازی، مددگار لوگ، ہنس مکھ، غصیلے، بہادر، نڈر، بزدل، بدمعاش، بدقماش، مجرمانہ ذہنیت کے مالک، جرم سے نفرت کرنے والے، وغیرہ۔۔۔ یہی خصوصیات قومی سطح پر اس معاشرے کی پہچان بن جاتی ہیں۔

    کسی بھی معاشرے کی پہلی اور آخری اکائی چونکہ خاندان ہوتا ہے اس لئے خاندان کا محور جو ماں ہوتی ہے اور تربیت کا پہلا زینہ، وہی خاندان کی تربیت کو اچھا یا برا کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر وہ معاشرہ اس عورت کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اگر خاتون کی کی گئی تربیت میں عورت کی عزت کرنا، بزرگوں کا ادب، بچوں پر شفقت کرنا، اردگرد کے لوگوں کی عزت کرنا اور معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت، تحمل مزاجی، صبر، شجاعت و بہادری سکھاتی ہو تو عام معاشرہ بھی انہی خصوصیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو مرد کا معاشرہ کہا جاتا ہے۔ انتہائی معذرت کیساتھ، کوئی معاشرہ مرد کا نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ فقط عورت سے تشکیل پاتا ہے۔ 

    اب اگر کوئی مرد اچھا ہے تو اس کا سہرا اسی ماں کے سر ہے، لیکن اگر کوئی مرد بدقماش، نالائق، ہنجار، بیغیرت، بدکردار ہے تو اس کی ذمہ دار بھی وہی عورت ہے۔ کیونکہ یہ معاشرہ مرد کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتا بلکہ عورت اس کی بنیاد، عورت ہی اسکا ستون ہے۔ مرد اس عورت کا محافظ، غمگسار، ساتھی اور عام طور پر اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزار دیتا ہے۔ 

    کسی کے بہکاوے میں آکر اپنے معاشرہ کو خراب کرنے کی بجائے اصل بنیاد کو سمجھنا لازم ہے۔ ہر مرد طاقتور ہونے سے بہت پہلے اپنی کمزوریوں کو ایک عورت کی گود میں ہی پروان چڑھاتے ہوئے طاقت و قوت حاصل کرتا ہے۔

    فیصلہ آپ کیجئے کہ عورت کا کردار کتنا اہم اور کس قدر مضبوط ہے۔ ان حالات میں ایک ماں کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ آج کی بیٹی کل کی ماں ہے، اس لئے اپنی بیٹی کی تربیت اور تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کریں۔ اگر ایک بیٹی کی تعلیم و تربیت درست ہو جائے تو پوری نسل سنورتی ہے، کیونکہ بیٹیاں نسلوں کی امین ہوتی ہیں۔

    @pak4army

  • حسام اور شمایلہ میں علیحدگی کی وجہ ۔۔  تحریر: حنا سرور

    حسام اور شمایلہ میں علیحدگی کی وجہ ۔۔ تحریر: حنا سرور

    نکاح کو ختم کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے: ”أَبْغَضُ الْحَلَالِ الی اللّٰہِ الطَّلَاقُ“ (ابوداؤد بحوالہ مشکوٰة ص:۲۹۳): جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: لاَ خَلَقَ اللّٰہُ شَیْئاً عَلٰی وَجہِ الأرْضِ أبْغَضَ الیہ مِنَ الطَّلاَقِ (دارقطنی بحوالہ مشکوٰة ص:۸۴) کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ ناپسندچیز کو پیدا نہیں فرمایا۔ طلاق ایسا غیرمعمولی اقدام ہے کہ جب کوئی آدمی، اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش ہل جاتا ہے۔ (عمدة القاری۳۰/۴۵) ایک روایت میں ہے کہ جو عورت کسی سخت تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی بحوالہ مشکوٰة ص:۲۸۳)
    کثرتِ طلاق کی وجہ سے برائیوں کا فروغ ہوتا ہے، جن کو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
    حضرت سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس عورت نے بغیر کسی شرعی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘
    رحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:بے شک طلاق کا مطالبہ کرنے والیاں منافق ہیں اور کوئی عورت ایسی نہیں جو اپنے شوہر سے بغیر کسی شرعی عذر کے طلاق کا مطالبہ کرے پھر جنت کی ہوا پائے۔ یافرمایا: جنت کی خوشبو پائے۔
    کچھ دن پہلے ایک یوٹیوب جوڑے نے اپنی طلاق کا اعلان کیا ۔۔۔لیکن اس پر اکثریت نے مرد کو برا کہا اور اکثر نے عورت کو ۔۔مطلب مردوں نے مرد کی حمایت کی عورتوں نے عورت کی ۔۔لیکن بحیثت ایک لڑکی ہونے کے ناطے میری اس بارے یہ سوچ ہے ۔
    حسام اور شمایلہ نے پسند سے شادی کی تھی ۔
    شادی کے کچھ عرصے بعد حسام نے شمائلہ کو یوٹیوب چینل بنا کر دیا جس پر شمایلہ اپنے وی لاگ بناتی ۔۔
    پہلے نقاب میں پھر حجاب میں اور پھر وہ بھی اتار دیا ۔۔
    کیا ہے کہ شہرت چیز ہی ایسی ہے ۔۔
    آگے کی کہانی شہرت کی بلندیوں کو چھوتی ہووی شمایلہ کو حسام کی وہی داڑھی وہی اسلام پسندی ناقابل برداشت ہونے لگی وہ حسام کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔ اور عدالت چلی گئ طلاق ہو گئ بات ختم ۔۔
    لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک حسام نے شمایلہ کو چینل بنا کر دیا غلط کیا.
    میری سوچ میں شمایلہ ہی غلط نکلی ۔۔آج کل ہر بندہ چاہتا ہے کہ وہ اچھی آمدن کما سکے اپنا رہن سہن اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کر سکے اور حسام نے بھی یہی چاہا ہوگا کہ ملکر کمائیں گے ۔۔میاں بیوی ویسے بھی تو کماتے ہیں کام کرتے ہیں پھر یوٹیوب ہو تو بہترین ہے اور پھر ایک شوہر کا بیوی پر اس حد تک یقین کرنا یہی تو محبت ہوتی ہے لیکن بیوی محبت کا جواب سرکشی سے دے تو غلط شوہر کیسے ہوا؟ ۔ پاکستان میں یوٹیوب ایک خاص طریقہ ہے یہاں قسمت گر مہربان ہو تو آپ راتوں رات سٹار ہو اور لاکھوں کما سکتے ہیں ۔۔میں کچھ گرلز کے ایسے چینل بھی دیکھے ہیں جن کے لاکھوں سبسکرائب ہے لیکن صرف وائز ری ایکشن پر آج تک ان کی کسی نے شکل نہیں دیکھی ۔۔وہ بھی تو مشہور ہے وہ بھی تو کما رہی ہے ۔۔لیکن کچھ دوپٹہ میں بھی اچھا خاصہ چینل چلا رہی ہے ۔۔عزت سے اخلاق سے وہ ڈیلی ویلاگر ہے کڑوروں ان کے فین ہے۔اور کچھ دوپٹہ نہ بھی لین لیکن اپنے والدین کی سپورٹ سے فیملی وی لاگ کرتی ہے وہ بھی مشہور ہے ۔لیکن
    شمائلہ کو عزت راس نہی آئ شہرت راس نہیں آئ تو حسام کو گنہگار ٹھہرانا قطعی غلط ہے ۔۔۔اسے کہتے ہیں اپنے پاوں پر آپ کلہاڑی مارنا ۔
    آج کل ایک شعر پڑھ رہی ہوں ہر جگہ کہ شوہر کے پاس پیسہ آجاے تو گھر سنوارتا ہے بیوی پاس پیسہ آجاے تو گھر توڑتی ہے ۔۔یہ بھی بالکل غلط بات ہے ۔۔ہزاروں عورتیں بیوہ یتیم بچیاں اکیلی اپنے خاندانوں کی کفالت کرتی نظر آتی ہے عزت کے ساتھ اپنے بچوں اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہی ہے ۔آج کل آپکو عورتیں ٹیکسی چلاتی بھی نظر آئے گی ۔۔دس سال کی بچی باپ کے بازوو نہ ہونے کے کارن رکشہ پہ باپ کے ساتھ باپ کا سہارہ بنتے نظر آئے گی ۔۔پھر ہر پیسہ کمانے والی عورت کو آپ شمایلہ جیسیوں سے کیسے ملا سکتے ہیں ۔۔
    میں ایک لڑکی ہوں ۔میرے پاس ایک نہیں دو فون ہے ۔۔میرے پاس ٹیب ہے ۔میں چوبیس گھنٹے نیٹ پہ ہوں بارہ گھنٹے ہوں مجھے کوی روک ٹوک نہیں الحمدللہ میری فیملی میرے اکاونٹ میں ایڈ ہے ۔کبھی فیملی کو بلاک کر کہ اکاوٹ نہیں بناے ۔جب میں خود ٹھیک رستے پر ہوں تو مجھے کس چیز کا ڈر؟ ۔میرے فون پر کس کی کال آرہی میرا فون میرے بھائ میرے بابا پاس پڑا کوی نہی اٹھاتے ۔۔کیونکہ ان کو یقین ہے ۔۔
    اور میرا یہ ماننا ہے ایک عورت اتنی آزاد ہو اس کے باوجود وہ سرکشی پر اتر آئے تو لعنت ہے ایسی عورت پر تھو ایسی شہرت پر ۔۔۔

  • آزادی کا اسلامی تصور،تحریر: ارم شہزادی

    آزادی کا اسلامی تصور،تحریر: ارم شہزادی

    اس سے پہلے میں آزادی کا مغربی تصور بیان کرچکی ہوں آج اس بلاگ میں لفظ آزادی کا اسلامی تصور پیش کرونگی۔ آزادی کا جو تصور زد، عام ہے وہ آصل میں آزادی ہے ہی نہیں وہ تو "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والا معاملہ ہے اور اس سے معاشرے میں تباہی تو آسکتی ہے لیکن آمن اور سکون نہیں۔معاشرے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ پورے معاشرے کو رہن سہن کے آصول بتائے جائیں ان اصولوں پر عملدرآمد کروایا جائے اور ناماننے والوں کے لیے قوانین بنائے جائیں عدالتوں کو بنایا جائے پورا ایک سسٹم ہو ہے جس کی وجہ سے صرف آمیر یا پیسے والا نہیں بلکہ غریب کو بھی جینے کا اتنا ہی حق ہو اور اپنی بات کو دوسروں پہنچانے کے مواقع بھی اتنے ہی ملیں جتنے کہ آمیر کو۔اسلام میں آزادی کے عام طور پر چار پہلو ہیں
    1آزادی مطلق
    2آزادی اقوام
    3شہری آزادی
    4سیاسی آزادی
    انسان اگر ارادہ کرے کسی کام کا اور ارادے کے مطابق وہ جو چاہے کرے اسے کوئی روک ٹوک نا کرسکے، اس کی مرضی کے خلاف کچھ نا، ہو تو اسے آزادی مطلق کہتے ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ آزادی انسان کو حاصل ہی نہیں ہے آزادی کی یہ قسم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔اور اسکا حق بھی صرف اللہ کو حاصل ہے وہ کائنات کی ہر چیز، پر، حاوی ہے کیونکہ پوری کائنات اسکی تخلیق ہے۔اس کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کی تنقید بے قید، ہے۔
    قران مجید میں فرمایا گیا ہے
    ان الله یحکم مایرید
    ترجمہ: بیشک اللہ جو چاہتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسکا حکم نافذ کردیتا ہے۔
    سورہ آل عمران میں ہے
    کہو کہ اختیارات سارے اللہ کے ہاتھ میں ہیں

    مطلب یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہی اس پر حاکم ہے۔انسان اللہ کی اطاعت کرے انسان کو ایسی کوئی آزادی حاصل نہیں ہے جس، میں وہ جو چاہے کرتا پھرے آزادی محص( فطری آزادی)
    آزادی کو مروجہ وجوہ کی بنا پر فطری حق تسلیم کیا جاتا ہے
    یہ کہ آزادی کا جذبہ ہر ایک انسان کا فطری خاصہ ہے۔
    یہ کہ اگر آزادی حاصل نہ ہو تو کوئی انسان اپنے حالات کی درستگی واصلاح ہرگز نہیں کرسکتا’یعنی وہ کسی چیز کا جوابدہ نہیں ہوسکتا’جب تک کہ آزاد نہ ہو بلکہ آزادی کے بغیر وہ انسان ہی نہیں کہلایا جا سکتا
    قدیم زمانہ میں غلامی کا رواج تھا اور یونان کے بہت بڑے فلاسفر ارسطو کا کہنا ہے کہ” بعض آدمی فطری طور پر اپنے حالات میں حسب منشاتصرفات کرنے پر قادر نہیں ہے ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ غلام رہیں اور ان کے آقا ان کے مصالح کے کفیل ہوں”
    جبکہ اسلام طریقہ غلامی کو ناپسند کرتا ہے اور اور آقا اور غلام کے درمیان بھی مساوات کا درس دیتا ہے۔
    قومی آزادی
    اسکا مفہوم اپنی ریاست کو کسی دوسری ریاست کے ظلم سے بچانا ہے اپنی ریاست کے لیے جان اور مال کی قربانی دینا۔ اپنی ریاست کی حفاظت کے لیے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا۔
    شہری آزادی
    کسی ریاست میں رہتے ہوئے کون کونسی آزادیِ چاہیئے ہوتی ہے یا حاصل ہوتی ہے ان میں آزادی اظہار رائے، آزادی اجتماع وتقریر، معاشی آزادی، مزہبی آزادی، حق ملکیت کی آزادی، جان کے تحفظ کی آزادی، قانونی آزادی۔آزادی اظہار رائے میں ہر انسان آذاد ہے وہ کسی بات یا موضوع کے بارے میں صحیح یا غلط رائے رکھے اگرچہ اس کے پاس دلائل موجود ہوں، اسی طرح تحریر و تقریر میں آزاد ہے اگرچہ کسی کی توہین اور ہتک آمیز القابات شامل نا ہوں نفرت پر نا ابھارا جائے آزادی کی آڑ میں امن کو نقصان نا پہنچایا جائے۔ موجودہ دور چونکہ جدید دور ہے اس، میں اظہار رائے کے اور بھی طریقے ہیں جس میں خاص طور پر پرنٹ میڈیا الیکٹرونک میڈیا اور اب سوشل میڈیا ہے اپنے خیالات کے اظہار کا بہترین زریعہ ہیں لیکن پاکستان چونکہ اسلام کے نام پے معرض وجود میں آیا ہے اس لیے اسلام کے خلاف بات نہیں ہوسکتی ہے۔اور نا ہی اشاعت ہوسکتی ہے۔رزق کمانے کی آزادی سب کو بشرطیکہ کہ کسی اور رزق چھینا نا جائے کسی اور کے رزق کو غلط طریقے سے ہتھیایا نا جا سکے۔حلال کمایا جائے اور ملکی قوانین کے مطابق عشر زکوٰۃ اور ٹیکس ادا کیا جائے ۔مذہبی آزادی میں اپنے عقیدے کے مطابق رہنے کا مکمل اختیار دیا جائے جب تک کہ وہ اپنا عقیدہ مسلط نا کرے۔ تمام مذاہب کو اپنے مذہب کی ترویج کا بھی حق حاصل ہے البتہ قادیانی ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ مرتد ہیں اسلامی قوانین کے مطابق۔آزاد ملکیت میں زمین جائداد خریدنے اور فروخت کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن ناجائز طریقے سے کسی مظلوم کی جائداد پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی ایسا کرےگا تو قانون کے مطابق سزا کا حق دار ہوگاجان کی آزادی یعنی ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ آزادانہ طور پر زندگی بسر کرے اور اپنی زندگی بچانے کے لیے ہر قسم کا دفاع کرسکے۔ سیاسی آزادی میں ہر فرد کو اپنی ریاست کے سیاسی معاملات میں حصہ لینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ سیاست میں سیاسی جماعتوں کے منشور کے مطابق تحریر وتقریر ہوتی ہیں لیکن کہیں بھی ریاست کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو سپورٹ نہیں کیا جاتا ہے۔ آزادی کی ان تمام اقسام میں بھی مدر پدر آزادی کہیں نہیں ہے ہرآزادی کے ساتھ کچھ حدود جڑی ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست دان ہوں میڈیا ہاؤسز ہوں یا پھر بیوروکریسی سبھی اپنی آزادی کے تحفظ کے نام پے ملکی وقار کو داؤ پے لگا رہے ہیں جو کہ ایک مہذہب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • خود ساختہ دانش وری .تحریر: فروا نذیر

    خود ساختہ دانش وری .تحریر: فروا نذیر

    پاکستان میں آج کل ایک سوچ پروان چڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل افراتفری کا شکار ہو رہی ہے اور اس سوچ کی وجہ سے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت شدید مجروح ہو رہے ہیں۔
    یہ سوچ خود ساختہ دانش وری کی سوچ ہے۔ آج کل ایک ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ جو شخص جتنا باغیانہ سوچ رکھتا ہو گا وہ اتنا ہی بڑا عقل مند اور دانش ور ہو گا۔ نوجوان نسل شہرت اور ہیروپنتی کے چکر میں اینٹی سٹیٹ کارروائیوں میں بڑے شوق سے شامل ہو کر سوشل میڈیا پر ملک و قوم کی بے حرمتی کرتے نظر آتے ہیں۔
    اسی سوچ کی وجہ سے لسانیت اور صوبائیت کو ہوا دی جا رہی ہے اور معصوم عوام کے ذہنوں میں انتشار، اختلاف اور علیحدگی کی گھٹیا سوچ کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مخلوط صوبائی حسن میں ہے۔ جس طرح کسی گلدستے میں ایک ہی رنگ کے پھولوں کی نسبت مختلف رنگ کے پھول زیادہ خوبصورت لگتے ہیں ایسے ہی پاکستان میں بھی مختلف ثقافتوں کا امتزاج انتہائی دلکش اور حسین لگتا ہے۔ پاکستان اپنی خوبصورتی اور مہمان نوازی کی وجہ سے عالمی سیاحت کا پسندیدہ ترین ملک بن چکا ہے۔
    اس باغیانہ سوچ کی بیشتر وجوہات ہیں۔ بیسویں صدی میں دنیا میں لاتعداد سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جن میں انقلابِ روس اور چی گویرا کی جدوجہد سرِفہرست ہے۔ ہماری موجودہ نسل ان سے مختلف سیاسی اور سماجی صورتحال میں رہتے ہوئے انقلابی اور چے گویرا بننے کے چکروں میں اپنی اصلیت بھی کھوتی جا رہی ہے۔ نصف صدی قبل سوویت یونین نے پاکستانی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے افکار کی تشہیر کے لئے خاطر خواہ انویسٹمنٹ کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو نظام خود سوویت یونین میں ناکام ہوا یہاں کے دیسی انقلابی اسی نظام کو پاکستان میں لاگو کرنے کی جدوجہد میں پڑ گئے۔ اس دور کے طالب علم آج کل مختلف اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں اور اکثر ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کی لگائی پود آج بھی پل بڑھ رہی ہے۔ جو لوگ محکمہ تعلیم میں آئے انہوں نے اپنے طالب علموں کے درمیان اپنے خیالات خوب پھیلائے اور نتیجتاً انہیں بھی اپنا ہم خیال بنا لیا۔ اسی طرح ہر محکمے میں اس سوچ کے کچھ نہ کچھ لوگ موجود ہیں جو خود ساختہ سرخ انقلاب کا لولی پاپ لئے اپنی ہی جد و جہد میں مگن ہیں۔

    یہ لوگ ہر اس قدم کو سراہتے پیں جو ریاستِ پاکستان کی اساس، بنیاد، نظام اور نظریئے کے خلاف ہو۔ یہ لوگ کبھی بھی ملکی یا بین الاقوامی سطح پر ریاست کے کسی بھی بیانئے کو قبول یا پروموٹ نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے مخالفت کرتے ہیں۔
    آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر ملکی و اسلامی اقدار کی دھجیاں بکھیری جاتی پیں۔ کبھی یہ لوگ عورت مارچ کے نام پر سڑکوں پر آتے ہیں تو کبھی ان کو اساتذہ کے ڈریس کوڈ پر اعتراض ہوتا ہے۔ کبھی ان کو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے پر اعتراض ہوتا ہے تو کبھی ABSOLUTELY NOT پر۔ کبھی یہ لوگ ایک فرضی تصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر اغوا کے ڈراپ سین کا واویلا کرتے ہیں تو کبھی حقائق سامنے آنے پر چوہے کی طرح اپنی اپنی بلوں میں گھس جاتے ہیں۔
    یہ لوگ جیسے چاہتے ہیں ویسے رہتے ہیں وہی پہنتے ہیں اور بولتے ہیں لیکن پھر بھی ہر وقت یہ لوگ پاکستان پر طرح طرح کی تہمتیں اور الزامات لگانے کے درپے رہتے ہیں۔
    یورپ میں تیزاب گردی کے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں لیکن کسی کو کوئی خبر نہیں جبکہ پاکستان میں رونما ہونے والے اکا دکا واقعات پر بھی فلمیں بن جاتی ہیں اور آسکر مل جاتے ہیں۔
    ان لوگوں کا سب سے بڑا سپورٹر مغربی ایجنڈا ہے۔ مختلف این جی اوز اور آرگنائزیشنز کے ذریعے ان لوگوں کو فنڈنگ دی جاتی ہے۔ اور ان کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاتا ہے۔
    حکومتِ پاکستان نے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت کو فروغ دینے کے لئے یکساں نصابی نظام لاگو کیا تو سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی طبقے کو ہوئی۔ کیونکہ یکساں نصابی نظام سے پاکستان میں موجود من گھڑت سوچ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور نئی نسل کو پاکستانیت کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس باغیانہ سوچ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    حالانکہ پوری دنیا میں ہر کہیں نصاب حکومت خود ہی سیٹ کرتی ہے۔ حتیٰ کہ کوریا جیسے ملک میں تو ہیئر کٹ بھی حکومت کی طرف سے منظور شدہ سٹائل سے ہٹ کر نہیں ہو سکتی۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور حکومتِ پاکستان ملکی مفاد کا ہر قسم کا فیصلہ کرنے کی مجاذ ہے۔
    تمام نوجوان نسل سے میری گزارش ہے کہ کسی بھی باغیانہ سوچ کا شکار ہوئے بغیر ہم سب کو اپنے ملک اور قوم کے وقار کو مدِ نظر رکھ کر صرف اور صرف ملکی مفاد کا تحفظ کرنا ہو گا۔ تاکہ ہمارا وطن بھی ترقی کرے اور پھلے پھولے۔
    خدائے ذوالجلال  پاکستان کا حامی و مددگار ہو
    پاکستان زندہ باد

  • عورت کی عظمت اورمعاشرہ تحریر: حمیرا الیاس

    ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں معاشرتی رویوں اور اقدار میں بہت فرق ہے۔ ہماری اسلامی اقدار کے مطابق عورت کا جو مرتبہ بیان کیا گیا ہے وہ بیت ارفع و اعلی، جس میں عورت کو کسی بھی گھرانے کا مرکزی کردار گردانا گیا ہے۔ ایک بیٹی، جو گھر کی رحمت کے طور پر گھر میں اترتی اور پھر گھر بھر کی رونق اور آنکھوں کا تارا بن جاتی۔ بیٹی کے طور باپ کے لئے دل کا سکون اور طراوت۔ ماں کے لئے راحت، اور دکھ درد کی دوست۔ یہی بیٹی اگر بڑی بہن ہے تو تمام چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنے محبت بھرے آنچل میں سمو لیتی ہے، ماں بن کر انہیں پیار دینے والی بڑی بہن بسااوقات اپنی تمام زندگی کی خوشیاں تک اپنے بہن بھائیوں کی خاطر اپنے اوپر حرام کر لیتی۔
    اگر چھوٹی بہن ہو تو تمام بھائیوں کی آنکھوں کاتارا، شرارتوں سے ہر وقت کھکھلایثیں بکھیرتی جگمگ کرتی سارے گھر میں قندیلیں بھارتی پھرتی۔ یہ بہن یا بیٹی کے جیسے جیسے رخصتی کے دن قریب آنے لگتے تو والدین کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگتے، اک انجانے خوف سے کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا اگلے گھر میں ہماری بیٹی اتنی ہی خوش و خرم رہ پائے گی جتنا ہم نے رکھا؟ اس خوف پر بات سے قطع نظر، بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کا سکون ان کے لئے باعث اطمینان رہتا۔ رخصت کرتے بھائیوں کے دل بھی پیاری بہنا کے جانے کا سوچ کر دھک دھک کر رہے ہوتے۔ اور یوں وہ بیٹی جو رحمت بنکر باپ کے آنگن میں اتری ہوتی وہ کسی کے گھر کی ملکہ بن کر رخصت ہوتی، جہاں دیدہ و دل فراش راہ کئے اس کا ہم سفراس کے لئے زندگی کی خوشیاں کشیدنے کا عزم دل میں بھر کر اسے خوش آمدید کرنے کو تیار ہوتا۔ اور یوں بیٹی سے پھر ماں بننے تک کے سفر میں عورت مکمل اہمیت کے احساس سے گزر کر کندن بن جاتی۔
    اس تمام سفر میں عورت کا ہر روپ معاشرے میں عظمت کی بلندیوں پر دکھائی دیتا۔ لیکن اس مقام کا خود کو اہل ثابت کرنے کے لئے عورت کو بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں،ہر وہ عورت جو قربانیوں کی بھٹی میں جل کر نکل جاتی اس کے لئے یہ زندگی ہی مثل جنت بننے لگتی۔ عورت کی عظمت ہی تو ہے کہ اسے مرد کی سکینت کا باعث کہا گیا، بارہا قرآن حکیم میں مرد کے لئے احکامات کے ہمراہ مومن خواتین کو مخاطب کیا گیا، عورت کے لئے خاص طور حکمت والے قرآن میں ایک مکمل سورۃ اتاری گئی۔ تو اسلام نے تو عورت کی تعظیم میں کسر نہیں چھوڑی، یہ اسلام نے عورت کو عزت وتکریم ہی بخشی تو اسے معاشی فکر سے آزاد کردیا، اسکے لئے امت محمدیہ کی تربیت جیسا عظیم کام سونپا، تربیت کامطلب سمجھ رہے؟ اس کا مطلب آنے والی تمام نسل انسانی کے لئے راستے کی روشنی کے اسباب پیدا کرنا،یہ چھوٹا کام تو نہیں۔ معاشرتی اصولوں میں سب سے خوبصورت اصول، عورت کو تحفظ کی تہوں میں رکھ دیا گیا، اسکا نان نفقہ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ، یا بھائی کی ذمہ داری، بعد از شادی یہ سب شوہر کو بہم پہنچانا، اور پھر بیٹے کے ذمہ۔ اسی پر اکتفا نہیں، اسے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا سب کی جائیداد میں حصہ دیا گیا، کیا یہ اسکے تحفظ کے لئے نہیں؟؟
    تو نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ اسلام عورت کو اس مقام پرپہنچاتا کہ جس پر پہنچنے کی کوئی بھی انسان آرزو کرسکتا، تو ایسا کیا ہے کہ عورت تشنہ ہمیں اپنے معاشرہ میں مکمل اندازمیں وہ عظمت نساء نظر نہیں آتی؟؟
    اولین وجوہات میں سے ایک اپنے مقام سے آگاہی کا فقدان ہے جو عورت کو بے چین کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہوتا ہے جو عورت کو پستی کی گہرائیوں میں لے جاتا، تو اپنے خالق سے ربط کا فقدان سب سے پہلی غلطی ہے جہاں سے عورت اپنے مقام سے گرتی۔ اس کے بعد جب ایک ماں کے رتبہ پر فائز ہو کر معاشرے کی تعمیر کے کام سے انکار کرتی تو دراصل ان تمام محبتوں سے دست بردار ہوجاتی جو بہترین خاکق، اللہ رب العزت نے اس کے ساتھ وابستہ کردی تھیں۔ عورت مرد کے مقام کو پانے کی کوشش میں ایک بلند مرتبہ کو ٹھکرا کر پھر بے سکونی کی وادی میں گم ہوجاتی ہے۔
    جب تک عورت اپنے مقام پر مطمئن و شکرگزار نہیں ہوتی وہ معاشرے میں اس عظمت پر نہیں پہنچ پائے گی کو اسلام نے اس کے نصیب میں لکھ دی ہے۔
    آج کی عورت کی بے سکونی کی وجہ وہ خود ہے، وہ صرف attitude of gratitudeسیکھ لے،اور اس کی تعلیم اپنے زیر تربیت اولاد کو دے دے تو معافی میں بڑھتی بے راہروی اور پستی کردار پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ عورت کی عظمت اس کے کردار کی پختگی میں پوشیدہ ہے۔ اللہ کرے کہ لبرلزم کے لبادہ میں ملبوس عورت اپنا اصل مقام پہچان کر اسی عظمت کو پا لے جو امہات المومنین کا خاصہ رہی۔

  • زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    نفسیاتی مسائل جنھیں ہم عام الفاظ میں ٹینشن بھی کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں.
    دیکھا جائے تو انکی فہرست بہت بڑی ہے. ہم معاشی مسائل اور غلط قسم کے رسم و رواج میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے اور بے حسی لوگوں میں اس طرح رچ گئی ہے کہ اب انھیں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے معلوم نہیں… اگر معلوم ہوتا بھی ہے پر انکو اسکے صحیح اور غلط سے کوئی سروکار نہیں ہوتا.
    اور اسکی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کا شکار ہورہا ہے.
    پہلے غربت تھی پر رشتوں کی اہمیت بہت سمجھی جاتی تھی مگر اب یہاں رشتوں کی بجائے روپے پیسے کی اہمیت نے جگہ لینی شروع کردی ہے..

    وجہ ؟؟؟
    انسان نے اپنی ضروریات اس قدر بڑھا لی ہیں کہ اب ایک فرد کی کمائی میں گھر کا خرچ چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے اور ایک مشین کہ طرح کام میں لگا رہتا ہے پر پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں.. نہ اپنے خاندان کو وقت دے سکتا ہے نہ اپنے بچوں کو….
    بچوں کی ضروریات پوری کرتے کرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بچوں کو اسکے پیار اسکے وقت کی بھی ضرورت ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بچوں میں نفسیاتی مسائل کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اسکی بڑی وجہ والدین کے جھگڑے یا بچوں کے ساتھ سخت رویہ بھی ہوسکتا ہے
    اور جب بچے اپنے والدین کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار ہوجاتےہیں جس کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں.
    والدین کو چاہئیے کہ وہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی وقت بھی دیں. اپنے اور بچوں کے درمیان ایک دوستانہ ماحول بنائیں, بچے کے مسائل سمجھیں اس سے ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی.
    مگر افسوس ہماری خواہشات اور ترجیحات خود ہم نے بدل دی ہیں. بچوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنوں سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں (یا دور ہوگئے ہیں) اب ہمیں سہولیات میسر تو آئیں ہیں مگر وقت کی کمی کا رونا بھی روتے ہیں.
    پہلے خوشی غمی کے موقع پر سب رشتہ دار اکٹھے ہوجاتے تھے مگر اب یہ بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے.
    افسوس اب تو بزرگوں کے تجربے سے یا دور اندیشی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا بلکہ اب جس کا اسٹیٹس بڑا ہو اسی سے مشورہ اور اسی سے ملنا اور تعلقات رکھے جاتے ہیں صاف الفاظ میں اب تو زیادہ تر لوگ مفاد کا رشتہ رکھتے ہیں, پر مطلب اور مفاد کے رشتوں سے ہمیشہ تکلیف ہی ملتی ہے کیونکہ پیسے اور مفاد کے بنائے گئے رشتوں کی حقیقت اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ دونوں چیزیں نہیں رہتی.
    پھر ہم وقت کا رونا روتے ہیں کہ وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے مگر یہ ہم خود کی تسلی کے لئے وقت کو بدنام کررہے ہوتے ہیں.
    اصل میں جیسے ہی انسان کے پاس دولت یا عہدہ آ تا ہے تو وہ اپنے رشتے داروں سے خود کو دور کرلیتا ہے.
    اور اسی ترک تعلق نے انسان کو تنہا کردیا ہے اور جب ناکامی ہوتی ہے تو وہ خود کو اکیلا کھڑے دیکھتا ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار.
    دیکھیں حالات جیسے بھی ہوں پر اپنوں کا ساتھ کبھی مت چھوڑیں, انکا دکھ درد بانٹیں, یہ رتبہ, یہ عہدہ کسی کام کا نہیں آ نا
    زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان رشتوں کو نبھانے سے ملیں گی کیونکہ یہ بہت انمول ہوتے ہیں.

    @Rehna_7

  • ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں خواتین کو لیکر بہت سی نئی بحثیں شروع ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ خواتین کے حق میں اور کچھ کے خلاف بہت سے سوشل میڈیا ٹرینڈ چل رہے ہوتے ہیں۔ کہیں خود خواتین میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف خواتین ہی ان نعروں کو لیکر اس طرح کی مارچ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ ایک طرف عورت مارچ ہوتی ہے تو دوسری جانب حیا ڈے منایا جاتا ہے۔

    اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عورتوں سے متعلق مسائل صرف ہمارے ملک میں ہیں؟ جی نہیں۔۔۔پاکستان کوئی واحد ملک نہیں ہے جہاں اس طرح کے مسائل ہیں بلکہ ان ممالک کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ لیکن چند ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پر حالات کافی مختلف ہیں۔وہ کونسا ملک ہے جہاں عورتوں کو مختلف فیلڈز میں سب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے؟کیا ہر ایک فیلڈ میں برابر نمائندگی حاصل کرنے کے بعد عورتوں کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں؟Gender equalityکیا ہوتی ہے اور وہ کونسا ملک ہے جہاں Gender equalityسب سے زیادہ ہے؟عورتوں کو اگر Leadership rolesدئیے جائیں تو اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہو سکتے ہیں؟ عورتوں کے لئے ہم معاشرے کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟عورتوں کے حقوق کے حوالے سے یہ سب وہ سوالات ہیں جو اس وقت ہر ایک معاشرے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔عورتوں کو سیاسی نمائندگی دینے کی بات کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ آپ سوچیں کہ امریکہ، برطانیہ ، ناروے، سویڈن، نیوزی لینڈ یا فن لینڈ میں سے کوئی ایک ملک ہو گا جہاں کی پارلیمنٹس میں سب سے زیادہ خواتین ہوں گی۔ لیکن نہیں۔۔ ان میں سے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی بہترین مثال ایک افریقی ملک روانڈا ہے۔ جس کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ روانڈا کے Lower house of parlimentمیں61.3%عورتیں ہیں۔حالانکہ روانڈا ایک کم آمدنی والا غیر ترقی یافتہ ملک ہے۔
    اگر باقی دنیا کی بات کی جائے تو عورتوں کی پارلیمنٹ میں ہونے کی Global average 25.5%ہے یعنی زیادہ تر ممالک میں یہ Average 50%سے کافی کم ہے۔ صرف تین ملک ایسے ہیں جہاں عورتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ جن میں پہلے نمبر پر روانڈا 61%دوسرے نمبر پر ہے کیوبا53%اور تیسرے نمبر پر ہے یو اے ای50%کے ساتھ۔۔۔۔
    روانڈا میں خواتین کی شمولیت کا یہ تناسب صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں ہے بلکہ 32%خواتین سینیٹرز ہیں۔42% cabinet membersاور50%ججز بھی عورتیں ہی ہیں۔ لیکن یہاں میں آپ کو روانڈا کے بارے میں ایک خاص بات بتاتا چلوں کہ یہاں پر ہمیشہ سے خواتین اس طرح مضبوط اور اعلی پوزیشنز پرنہیں ہوتیں تھیں۔

    1990تک یہاں پارلیمنٹ میں خواتین صرف 17%ہوتیں تھیں۔17%سے عورتوں کی نمائندگی 61%پر کیسے پہنچی اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ 1994میں روانڈا میں ایک بہت ہی خوفناک
    Genoside ہوئی جس میں تقریبا آٹھ لاکھ لوگ مارے گئے تھے جن میں بڑی تعداد مردوں کی تھی۔ اس نسل کشی کے بعد روانڈا کی آبادی میں 70%خواتین باقی رہ گئیں تھیں اور مرد صرف
    30%ہی باقی رہ گئے تھے۔ جبکہ ان خواتین میں سے زیادہ تر عورتیں پڑھی لکھی نہیں تھیں انہوں نے گھر سے باہر نکل کر کبھی کام نہیں کیا تھا۔ اور دوسری طرف ملک میں تبدیلی لانا بھی وقت کی ضرورت بن گئی تھی۔ اس صورتحال میں روانڈا کے صدرPaul Kagame نے فیصلہ کیا اگر ہمیں اپنے ملک کو چلانا ہے اور ترقی کے راستے پر لیکر آنا ہے تو ضروری ہے کہ یہاں کو عورتوں کو Activeکیا جائے۔ جس کے لئے سن دو ہزار تین میں انہوں نے ایک نیا آئین بنایا۔ اور اس میں Gender quotaکوڈالا گیا۔ تاکہ عورتوں کو برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے اور وہ بھی اپنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ روانڈا کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ عورتوں کو Decision making organizationsمیں 30%نمائندگی دینا لازم ہے۔تو اس کے بعد جب دو ہزار تین میں رواندا میں الیکشن ہوا تو ایک تو Gender quotaپرتیس فیصد خواتین کو پارلیمنٹ میں لایا گیا اور دوسری طرف کیونکہ عورتوں کی تعداد ملکی آبادی میں زیادہ تھی تو اس لئے باقی سیٹوں پر بھی بہت سی خواتین الیکشن لڑنے کے بعد پارلیمنٹ میں آنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس طرح ان کے لیڈر کی سوچ، حالات کی مجبوری اور Gender quotaکی وجہ سے روانڈا وہ ملک بن گیا جہاں پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ہمارے اپنے ملک میں بھی آپ کو معلوم ہے کہ عورتوں کے لئے Reserved seatsکا کوٹہ موجود ہے چین میں بھی عورتوں کے لئے یہ کوٹہ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ یورپین ممالک میں تو پولیٹیکل پارٹیز نے خود سے ہی یہ Strategy بنائی ہوئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں خواتین کی ایک خاص تعداد میں شمولیت کو یقینی بناتے ہیں۔ اس طرح کوٹہ سسٹم کے بعد یہ تو ضرور ہوا ہے کہ Globallyاب خواتین کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹس میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔لیکن اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ
    Gender quota کے یا خواتین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آنے کے بعد خواتین ملک میں موجود خواتین کے مسائل پر بہتر انداز میں آواز اٹھا سکتی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے مختلف بلز پاس کروا سکتی ہیں۔ روانڈا میں یہ ہوا بھی کہ خواتین کے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد Inheritence and succession
    کے کئی قوانین پاس کروائے گئے جس سے عورتوں کے مسائل میں کافی کمی ہوئی۔2008میں روانڈا میں Anti-gender based violence lawبھی پاس کیا گیا جس کی مدد سے وہاں زیادتی اور تشدد کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔اور جب خواتین کی حمایت میں خواتین زیادہ بلز لیکر آتی ہیں قوانین پاس کرواتی ہیں تو اس سے ایک تو عورتیں قانونی طور پر مضبوط ہوتی ہیں اور دوسراMind set میں بھی Changeآتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد دنیا میں Highest rate of female labour participationبھی روانڈا کا یہ ہے جو کہ تقریبا83%ہے۔

    عورتوں کے پارلیمنٹ میں ہونے سے کسی بھی ملک کو ایک اور بڑا فائدہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عورتیں ہیلتھ کئیر اور ایجوکیشن کے حوالے سے بہتر کام کرتی ہیں۔جبکہ دوسری طرف اس طرح کو کوٹے کے نقصانات بھی ہیں جس میں ایک مثال برازیل کی ہے کہ وہاں Gender quotaمتعارف کروانے کے بعد بھی عورتوں کی پارلیمنٹ میں شمولیت کوئی زیادہ بڑھ نہیں سکی۔
    کچھ ممالک میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ Gender quotaکی وجہ سے وہ خواتین پارلیمنٹ میں پہنچ جاتی ہیں جو اتنی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ پاور نہیں نہیں ہوتی یا جن لوگوں کے پاس پاور ہوتی ہے وہ ان عورتوں کو Puppetکی طرح treatکرتے ہیں۔ اور ان عورتوں کو صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشروں میں ایک مائنڈ سیٹ یہ بھی ہے کہ عورتیں بہتر لیڈر نہیں بن سکتیں اس لئے اگر وہ لیڈر بن بھی جائیں تو وہ مائنڈ سیٹ ان کو پرفارم نہیں کرنے دیتا۔ساتھ ساتھ اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی ملک میں Political representationبہتر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں Gender equalityبھی ہے۔ یہاں پر بھی روانڈا ایک بہترین مثال ہے کہ ان کی خواتین سیاستدان خود یہ بات کہتی ہیں کہ صرف خاتون ہونے کی وجہ سے اکثر ان کی Capabilitiesپر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ روانڈا کی اپنیParlimentary leader کا کہنا ہے کہ ابھی بھی روانڈا میں لوگ
    Gender issuesکو سمجھتے نہیں ہیں۔ Gender equality ابھی بھی ان سے بہت دور ہے۔ خواتین کے پاور میں ہونے کے باوجود بھی Domestic voilence کا ریٹ روانڈا میں بہت ہائی ہے۔
    اس لئے صرف یہ کہہ دینا کہ اگر کسی ملک میں عورتوں کو تمام فیلڈز میں بہتر نمائندگی مل جائے گی تو عورتوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔Gender gap
    کو کم کرنے کے لئے ہیلتھ ایجوکیشن اور ورک میں بہت سےایسےMeasuresہیں جو کہ ہمیں بحیثیت معاشرہ لینے پڑتے ہیں۔ اور Gender gapکی اگر بات کی جائے تو آئس لینڈ وہ ملک ہے جہاں یہ Gapسب سے کم ہے حالانکہ وہاں عورتوں کی Political representationکافی کم ہے۔دراصل آپ کو یہ سب Detailsبتانے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی لڑائیاں کرنے سے یا خواتین کے صرف سیاست میں آجانے اور زیادہ نوکریاں حاصل کر لینے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض کی جو لڑائی چل رہی ہے وہ آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل ہونگے ہمیں اپنے اپنے RolesکوDefineکرنا ہوگا اور ان رولز کو بہتر طور پر ادا کرنا ہو گا جو کام عورت کا ہے اسے عورت کو بہتر طور پر کرنا ہو گا اور جو کام مردوں کے ہیں ان کو کرنے ہونگے۔ ہمیں بحیثیت انسان ایک دوسرے کا خیال کرنا ہو گا تاکہ ہمارا ملک عورتوں اور بچوں کے لئے محفوظ ہو سکے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی عورتیں ہی آنے والی نسل کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور جب تک آپ کی آنے والی نسلیں بہتر نہیں ہونگی آپ کے معاشرے کا مستقبل بہتر نہیں ہو سکتا۔

  • اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اگر لڑکیاں چاہتی ہیں سسرال میں بھی والدین کے گھر جیسی لاڈبھری اور شاہانہ ٹائپ ذندگی ملے انجوائے کرنے لے لیے تو وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کرنے میں بھی دلچسپی لینی شروع کردے جو لڑکیاں صرف پڑھائی میں ہی مگن رہتی ہیں اور کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے پھر اگلے گھر وہ بہت خوار ہوتی ہیں اگر تو خوش قسمتی سے سسرال اچھا مل جائے تو پھر اس کی اس خامی کو بھی خوبی میں بدل دیا جاتا ہے اور اگر سسرال اتنا اچھا نہ مل سکے تو اس کی تعلیم بھی اس کے لیے طعنہ بن جاتی ہے انپڑھ جھٹانیاں بات بات پر طعنے دیتی ہیں کہ ہاں جی یہ پڑھی لکھی ہے لیکن ہے بےچجعی (پھوہڑ)تو لڑکی کی ساری خوداعتمادی ہوا ہوجاتی ہے اور وہ دل میں سوچتی ہے کاش میں سکول کالج نہ گی ہوتی ۔بلکہ گھر کے کام سیکھے ہوتے اور چلاکیاں سیکھی ہوتیں ۔کہ سامنے والا جھگڑ رہا ہوتا ہے اور ایک پڑھتی پڑھتی شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی معصوم سی لڑکی کو پتہ ہی نہیں چلتا اسے آگے سے کیا جواب دینا ہے کیونکہ مائیں آپکی ہر قسم کی اچھی تربیت کرتی ہیں لڑنا جھگڑنا نہیں سکھاتی ۔۔اس لیے میری لڑکیوں سے ریکویسٹ ہے کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سیکھیں ۔ خاص طور پر کھانا بنانے کی پریکٹس شروع کردیں تو اگلے گھر جاکر آپ سسرال والوں کے دلوں پر راج کرو گی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ اتنا میچور تو ہوجاتا ہے جہاں وہ فیشن کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے وہی عقل اور چالاکیاں بھی انسان وقت کے ساتھ سیکھتا جاتا ہے کوشش کریں اپنی چالاکیاں مثبت کاموں میں صرف کریں۔
    آپ کتنے بھی چالاک ۔خوب صورت ۔خوب سیرت ہوں تعلیم یافتہ ہوں (میں لڑکیوں کی بات کررہی ہوں ) لیکن آپ کو اگر اچھا کھانا بنانا نہیں آتا تو آپکی ساری قابلیت کاغذ کےخوبصورت پھول سے ذیادہ نہیں ہوگی جو بظاہر تو خوبصورت لیکن اس میں وہ خوشبو تازگی نہیں ہوگی جو اصلی پھول میں ہوتی ہے
    ۔۔
    کھانے بنانے کے لیے آپکو کسی ورد کسی وظیفہ کی ضرورت نہیں بس کوشش کرنے کی ضرورت ہے جیسے ہمارے والدین ہماری شادی سے پہلے دیکھتے ہیں لڑکا کیا کام کرتا ہے کیسا اس کا رہیں سہن ہے کتنا کماتا ہے اسی طرح لڑکے والوں کا بھی حق بنتا ہے کہ لڑکی ایسی ملے جو اچھا کھانا بنا سکتی ہو گھر کو صاف ستھرا رکھ سکتی ہو اس کے ساتھ ساتھ گھر کا ماحول کیسے خوشگوار بنانا ہے اس بات کا اسے ادراک ہونا چاہئیے۔کہتے ہیں اپنے شوہر کے دل پر قبضہ کرنا ہوتو اس کا راستہ معدے سے ہوکر دل کی طرف جاتا ہے۔۔!!

    میں ہمیشہ اپنی ماں سے سنتی آئی ہوں کہ جس خاتون کے ہاتھ میں اللہ کا دیا خاص تحفہ ذائقہ ہوتا وہ اپنے شوہر کے دل پر راج تو کرتی ہی ہے اپنے سسرال والوں کے دلوں پر بھی راج کرتی ہے۔ہمیشہ اپنے ہاتھ صاف ستھرے اور بال لپیٹ کر کچن میں جائیں اور جب بھی کھانا بنانے لگیں” بسمہ اللہ "پڑھ کر شروع کریں اپنا دماغ حاضر رکھ کر اور ساتھ اللہ کا شکر ادا بھی کریں جس نے آپکو ان نعمتوں سے نوازا ۔جو خواتین کچن کا کام خود کرتی ہیں میں نے ان کی فیملی کو صحت مند اور ہشاش بشاش دیکھا کیونکہ جب آپ صاف ستھرے ہاتھوں سے کھانا بنائیں گی صاف ہاتھوں سےگوشت دھو کر بنائیں گی ۔صاف ہاتھوں سے گندھا آٹا اس سے پکی روٹی۔۔ آپ کے صاف ہاتھوں سے کاٹی گی سبزی پیاز۔آپ کی محنت سے پکا ہر قسم کا کھانا گوشت سبزی ۔جب ان کے معدوں میں جائے گا تو ان کے دل میں آپکی محبت عزت بڑھے گی آپکے خلوص عقیدت کی تپش ان کے دلوں میں اثر کرے گی کہ کتنی عقیدت محبت سے آپ اپنی فیملی کے لیےکھانا بناتی ہیں ۔گھر میں چاہے آپ نے ملازم ہی کیوں نہ رکھے ہوں (یورپ ممالک میں تو گھریلو ملازم کا تصور ہی نہیں پاکستان کی بات کررہی ہوں )تب بھی کچن کا کام کسی صورت ملازموں پر نہ چھوڑیں اپنی فیملی کے لیے خود وقت نکالیں چاہے آپ جاب ہی کیوں نہ کررہی ہوں ۔۔

    اگر آپ کچن میں چائے بنانے جاتی ہیں چائے کپ میں ڈال کر گیلی گیلی گرم گرم دیگچی اسی وقت واش کردیں بعد میں آپکو محنت سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئےگی اسی طرح کچن میں کھانا بناتے ہوئے ہر چیز ساتھ ساتھ سمیٹنے کی عادت ڈالیں آج کا کام کل پر نہ ڈالیں جیسے جیسے کھانا بنانے کے دوران برتن بنتے جاتے ہیں ساتھ ساتھ دھوتی جائیں ،(ہم نے تو کچن پیپر رکھا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سب لوگ افورڈ نہیں کرسکتے آپ گھر میں یوز ہوئی پرانی چادریں واش کرکے ان کے چھوٹے چھوٹے پیسیز کی شکل دے کر ایک بڑے شاپر میں ڈال کر کچن کے کسی دراز میں رکھ لیں )جب آپ کھانا بنارہی ہوتی ہیں تو ایک ڈسٹر یا سپونی۔یا پھر کوئی پرانے کپڑے کا پیس پاس ہی رکھیں جس سے کھانا بناتے وقت دیوار پر پڑنے والی چھینٹیں اسی وقت صاف کرتی جائیں ساتھ ساتھ چولہا بھی صاف کرتی رہیں کیونکہ اسی وقت گیلی اور گرم ہونے کی وجہ سے صاف کرنا آسان ہوتا ہے بعد میں آئل اور مصالحہ جات جم جانے کی وجہ سے اکثر داغ رہ جاتے ہیں،جو بعدمیں بہت محنت طلب اور وقت مانگتے ہیں ۔اسی لیے تو کہتے ہیں "وقت پر لگایا گیا ٹانکہ آپکو نو ٹانکوں سے بچاتا ہے ”
    کھانا بنانے کے بعد اچھی طرح سینک صاف کردیں شیلف وغیرہ بھی ساتھ ساتھ ہی صاف کرتی جائیں اور کچن کا فرش دھو کر ایگزاسٹ فین چلا دیں ۔کھانے کی مہک اور دھواں وغیرہ باہر نکل جائے گا پھر اپنی فیملی کو بہت محبت پیار سے اپنے ہاتھوں کا مزیدار کھانا پیش کریں اور ڈھیروں محبتیں پیار سمیٹیں ۔اپنی فیملی کا پیار محبت کسی بھی خاتون خانہ کے لیے بیش قیمت تحفہ ہوتا ہے
    اللہ تعالی آپ سب کے گھروں کو آباد رکھے شاد رکھے آپکو اپنی فیملی کے دل کی شہزادی اور آنکھوں کا تارا بنائے رکھے آمین

  • آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شئیر کروں گی کہ آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیوں ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے میں تو ناکام ہو چکی ہے جس کے لئے اس کے پاس ایک ہزاروجوہات ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بڑے آرام سے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں ابھی بہت کنٹرول میں ہیں ورنہ اصل قیمتیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لیکن میرا سوال ان حکمرانوں سے یہ ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیوں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عورتیں اور بچے نہ گھروں سے باہر محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں کے اندر۔۔۔

    اب میں آپ کے ساتھ کچھ تازہ ترین واقعات کی خبریں شئیر کروں گی جس سے آپ کو حالات کی سنگینی کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے گا۔ ضلع چنیوٹ کے بھوانہ سرکل میں بدفعلی کا انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دس سالہ یتیم بچے کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ اور زیادتی کرنے والے کوئی دو یا تین فرد نہیں تھے بلکہ سترہ افراد کا ایک پورا گروہ تھا جس نے اس معصوم بچے کے ساتھ یہ حیوانیت اور درندگی کی۔اس بچے کا والد دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے اور وہ اپنے ماموں کے زیر کفالت ہے اب ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریبا سات بجے تین فرد آئے اور اس بچے کو گھر سے بلا کر موٹر سائیکل پر باہر لے گئے۔ فصلوں میں لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا۔ جس کے بعد یہ باری باری اس دس سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور ساتھ میں موبائل فون پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ اور یہ سلسلہ پچھلے کئی دنوں جاری تھا کہ درندوں کا یہ گروپ اس یتیم بچے کو بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں اس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے۔جب اس متاثرہ بچے کے گھر والوں کو اس سب کا علم ہوا تو انہوں نے تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس پورے گروپ میں سے کوئی ایک ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ایک اور تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ زم زم کالونی کے رہائشی احسن نے بھی مقدمہ درج ہوا ہے جس کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکے کو 22 سالہ ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ان واقعات کے بارے میں آپ ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ چھوٹے علاقے ہیں اس لئے وہاں کے حالات خراب ہیں وہاں کی پولیس بھی اتنی Efficientنہیں ہے۔ تو اب میں آپ کو لاہور شہر کا ایک واقعہ بتاتا ہوں جہاں ہوٹل کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ 7 روز تک اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی۔ سوچیں یہ لاہور شہر ہے جس میں ابھی حالیہ چودہ اگست کے واقعات کے بعد پولیس کافی الرٹ ہے اور پھر بھی اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ملت پارک میں ایک ہوٹل کے اندر لڑکی کو ایک تقریب کا جھانسہ دیکر بلایا گیا اس کے بعد سات روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس سے چھ لاکھ روپے بھی چھین لئے گئے۔ لیکن ہوٹل میں اتنے دن تک کسی کا کان و کان خبر نہیں ہوئی کہ بر وقت پولیس کو اطلاع دی جاتی لیکن خیر بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس عورت کی شکایت کے بعد تین میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ لاہور شہر کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ملزم نے ایک عورت کو اس کی کم سن بیٹی کے سامنے ہی گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اور یہ سب کرنے والا ملزم دراصل ان کا ہمسایہ تھا جو پہلے تو ماں بیٹی پر جسم فروشی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا لیکن خاتون کے انکار پر ملزم نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ یہاں تک کہ ملزم نے اس عورت کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔لاہور کا ہی ایک اورحیرت انگیز واقعہ میں آپ کو بتاوں جس میں بے حیائی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئیں۔ گلشن راوی کے علاقے میں ایک ستائیس سالہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈال رہی تھی اس دوران اس کا ہمسایہ اپنے گھر کی چھت پر برہنہ ہوگیا اوراس لڑکی کو ہراساں کرتا رہا۔پولیس کے مطابق اس ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی گلشن راوی کے علاقے میں ایک لڑکی کو نوجوان نے اسی طرح برہنہ ہوکر ہراساں کیا تھا جس کا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔

    اس طرح کے واقعات آئے روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ایک طرف تو لوگ اپنے علاقے والوں اور ہمسایوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی آجکل سامنے آ رہے ہیں جس میں بچیاں اپنے سگے اور قریبی رشتے داروں سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔راولپنڈی کے ایک علاقے میں ماں نے عین موقع پر پہنچ کراپنی 5 سالہ بیٹی کو اس کے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے سے بچا لیامتاثرہ بچی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہمسائی سے ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی لیکن جب واپس پہنچی تو آ کر دیکھا کہ اس کا دیوراس کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں کے شور کرنے پر اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اب سے دو دن پہلے شیخوپوہ میں بھی انتہائی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جہاں ایک کمسن بچی ایک درندے کی درندگی کا نشانہ بن گئی۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں 6 سالہ ہادیہ محلے میں موجود دوکان پر چیز لینے گئی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ اور یہ سب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ دوکاندار ہی تھا اس نے بچی کو اغواء کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل بھی کرڈالا۔ اور درندے نے اپنا جرم مٹانے کے لئے بچی کی لاش کو نہر میں پھینک دیا۔اس کے علاوہ شیخوپورہ کے ہی ایک علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوں نے ماں باپ کے سامنے انکی حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔تین ڈاکوں ڈکیتی کی واردات کے لئے رات گئے گھر میں گھس گئے کاشتکار کے گھر سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے گئے اور ساتھ ہی والدین کو رسیوں سے باندھ کر انکے سامنے ان کی عالمہ اور حافظہ بیٹی کو اجتماعی نشانہ بنایا۔ ان تمام واقعات میں سے ایک یا دو ایسے ہیں جن کے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور تفتیش ہو رہی ہے لیکن میرا سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر کیوں ہماری حکوت اور پولیس اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کیوں یہ درندے دن بہ دن اتنے بےخوف ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی جانیں۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ہماری پولیس ان درندوں کو پکڑ بھی لے تو ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں ہے کہ ان کو فوری سزا سنائی جائے۔ جس کی وجہ سے سالوں سال کے لئے نہ صرف کیسسز لٹک جاتے ہیں بلکہ مظلوم کو بھی تھکا ڈالتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر تو یہ مجرمان اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ ہی عرصے بعد پولیس کی قید سے بھی رہائی حاصل کر لیتے ہیں اور باہر آ کر پھر اسی گھناونے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    اس لئے میرا تو ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی آپ کے کنٹرول سے باہر ہو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتیں آپ کو اپنے ملک میں چیزیں سستی کرنے سے روک رہی ہوں لیکن خدارہ انسانوں کی عزتیں اور ان کی جانیں اتنی سستی نہیں ہیں۔۔۔ آخر اس میں آپ کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ لوگوں کو نہ تو تحفظ مل رہا ہے اور نہ ہی انصاف۔۔ آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے اور اپنی عزتوں اور جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے آخر کب تک۔۔۔

  • شوہر کی خدمت”محبت یا غلامی”.تحریر: راحیلہ عقیل

    شوہر کی خدمت”محبت یا غلامی”.تحریر: راحیلہ عقیل

    نئے دور میں جہاں عورت کو آزادی چائیے وہی شوہر کے حقوق پر عورت چیخ اٹھتی ہے آج کی پڑھی لکھی عورت مرد سے برابری کا حق مانگتی ہے آزادی خودمختاری مانگتی ہے وہی وہ شوہر کے حقوق سنے ماننے سے صاف انکاری ہے شوہر کی خدمت فرض سمجھ کر کرنے والی خواتین کو کمزور جاہل سمجھا جاتا ہے جیسے عورت خدمت دباؤ یا زبردستی کررہی ہے حالانکہ
    رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ’’اگر میں خدا کے سوا کسی دوسرے کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں ۔‘‘

    (جامع الترمذی، کتاب الرضاع (۱۰)باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ ، رقم
    اس کے باوجود اس عمل کو آج کے دور میں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے جہاں ہماری مائیں ابا جی کے گھر میں قدم رکھتے ہی پانی کا گلاس بھرے انکے سامنے کھڑی ہوتی انکے لیے گرم روٹی توے سے اتاری رہی ہوتی وہی آج کی عورت شوہر کو حکم دے رہی ہوتی آتے وقت روٹیاں لے آنا دس کام مرد کو باہر ہی گنوا دیے جاتے سارا دن کام سے تھکا ہارا مرد گھر میں سکون کا سانس کیسے لے آتے ہی ساس بہو کی چک چک شروع ہوجاتی،پہلے کے دور میں کہیں شاد و ناد ہی سنے کو ملتا میاں بیوی کے جھگڑے ہورہے ہیں اب کے دور میں یہ فساد ہر دوسرے گھر میں پایا جاتا ہے فساد کی آگ میں گھر اجڑ رہے اولاد الگ نافرمان ہورہی اللہ پاک نے جس عمل کو سخت ناپسند کیا وہی عمل تیزی سے پھیل رہا ہے اب کی عورت خدمت کو غلامی کا نام دے کر اپنی جان چھڑانا مناسب سمجھتی ہے اگر کوئی خاتون اس معاملے پر عورت کے حق میں بات کرے تو اسکو نیچا دکھایا جاتا بیٹیوں کو شوہر کی خدمت وفاداری محبت سکھانے کے بجائے کیسے قابو رکھنا ہے یہ طور طریقے سکھائے جاتے نا کے اسے سمجھایا جاے کے شوہر کی ایک آواز پر کھڑی ہوجاو۔۔۔۔۔۔

    اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’جس عورت کی موت ایسی حالت میں آئے کہ مرتے وقت اس کا شوہر اس سے خوش ہو وہ عورت جنت میں جائے گی۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح ، ۴۴۔باب حق الزوج علی المرأۃ ، رقم ۱۸۵۴، ج۲، ص۴۱۲)

    اور یہ بھی فرمایا کہ ’’جب کوئی مرد اپنی بیوی کو کسی کام کے لئے بلائے تو وہ عورت اگر چہ چولھے کے پاس بیٹھی ہو اس کو لازم ہے کہ وہ اٹھ کر شوہر کے پاس چلی آئے۔‘‘

    (جامع الترمذی ، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ (ت : ۱۰) رقم ۱۶۶۳، ج۲، ص۳۸۶)
    اتنا سب جاننے کے باوجود ہمارے معاشرے میں طلاقیں بڑھ رہی ہیں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے اسکو خوش رکھے اسکا دل اپنی محبت سے بھر دے، اب الٹا عمل دیکھنے کو ملتا ہے ہر عورت پر لازم ہے وہ اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے اسکی وفادار رہے زندگی بھر اسکی خدمت گزاری کرے
    جو عورتیں اپنے شوہروں کی خدمت کرتی ہیں اللہ پاک انکو بہت پسند کرتے ہیں جس عورت سے اسکا شوہر خوش ہو ایسی حالت میں موت آجاے افضل ہے وہ عورت اور جس عورت سے اسکا شوہر ناراض ہو ایسی حالت میں عورت کو موت آجاے وہ جہنم کی آگ میں جلتی رہے گی شریعت کے مطابق زندگی گزارنے والی عورتیں دنیا و آخرت میں کامیابی رہیں گی۔۔۔۔۔۔اللہ پاک ہر بہن بیٹی کا نصیب اچھا کرے

    شوہر کی اطاعت و خدمت فرض ہے۔ آخرت کی زندگی میں کامیابی کا دارومدار شوہر کی خدمت میں مضمر ہے۔ جنتی عورت ہمیشہ شوہر کی تابعدار ہوتی ہے، اس کے آرام و سکون کا خیال رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

    ہوسکتا ہے میری اس تحریر سے بہت سی خواتین کو اختلاف ہو وہ مانے نا نہیں مگر ہمیں ہمارے مذہب میں جو سکھایا سمجھایا اور بتایا گیا ہے وہی حقیقت ہے جس پر چل کر ہم اللہ کو راضی کرسکتے ہیں بےشک نیک عورتیں،نیک مرد ہی جنت میں جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
    انشاء اللہ اگلی تحریر میں بیوی کے حقوق پر بھی لکھا جاےگا بشرط کے زندگی رہی