Baaghi TV

Category: خواتین

  • زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    نفسیاتی مسائل جنھیں ہم عام الفاظ میں ٹینشن بھی کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں.
    دیکھا جائے تو انکی فہرست بہت بڑی ہے. ہم معاشی مسائل اور غلط قسم کے رسم و رواج میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے اور بے حسی لوگوں میں اس طرح رچ گئی ہے کہ اب انھیں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے معلوم نہیں… اگر معلوم ہوتا بھی ہے پر انکو اسکے صحیح اور غلط سے کوئی سروکار نہیں ہوتا.
    اور اسکی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کا شکار ہورہا ہے.
    پہلے غربت تھی پر رشتوں کی اہمیت بہت سمجھی جاتی تھی مگر اب یہاں رشتوں کی بجائے روپے پیسے کی اہمیت نے جگہ لینی شروع کردی ہے..

    وجہ ؟؟؟
    انسان نے اپنی ضروریات اس قدر بڑھا لی ہیں کہ اب ایک فرد کی کمائی میں گھر کا خرچ چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے اور ایک مشین کہ طرح کام میں لگا رہتا ہے پر پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں.. نہ اپنے خاندان کو وقت دے سکتا ہے نہ اپنے بچوں کو….
    بچوں کی ضروریات پوری کرتے کرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بچوں کو اسکے پیار اسکے وقت کی بھی ضرورت ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بچوں میں نفسیاتی مسائل کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اسکی بڑی وجہ والدین کے جھگڑے یا بچوں کے ساتھ سخت رویہ بھی ہوسکتا ہے
    اور جب بچے اپنے والدین کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار ہوجاتےہیں جس کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں.
    والدین کو چاہئیے کہ وہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی وقت بھی دیں. اپنے اور بچوں کے درمیان ایک دوستانہ ماحول بنائیں, بچے کے مسائل سمجھیں اس سے ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی.
    مگر افسوس ہماری خواہشات اور ترجیحات خود ہم نے بدل دی ہیں. بچوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنوں سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں (یا دور ہوگئے ہیں) اب ہمیں سہولیات میسر تو آئیں ہیں مگر وقت کی کمی کا رونا بھی روتے ہیں.
    پہلے خوشی غمی کے موقع پر سب رشتہ دار اکٹھے ہوجاتے تھے مگر اب یہ بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے.
    افسوس اب تو بزرگوں کے تجربے سے یا دور اندیشی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا بلکہ اب جس کا اسٹیٹس بڑا ہو اسی سے مشورہ اور اسی سے ملنا اور تعلقات رکھے جاتے ہیں صاف الفاظ میں اب تو زیادہ تر لوگ مفاد کا رشتہ رکھتے ہیں, پر مطلب اور مفاد کے رشتوں سے ہمیشہ تکلیف ہی ملتی ہے کیونکہ پیسے اور مفاد کے بنائے گئے رشتوں کی حقیقت اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ دونوں چیزیں نہیں رہتی.
    پھر ہم وقت کا رونا روتے ہیں کہ وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے مگر یہ ہم خود کی تسلی کے لئے وقت کو بدنام کررہے ہوتے ہیں.
    اصل میں جیسے ہی انسان کے پاس دولت یا عہدہ آ تا ہے تو وہ اپنے رشتے داروں سے خود کو دور کرلیتا ہے.
    اور اسی ترک تعلق نے انسان کو تنہا کردیا ہے اور جب ناکامی ہوتی ہے تو وہ خود کو اکیلا کھڑے دیکھتا ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار.
    دیکھیں حالات جیسے بھی ہوں پر اپنوں کا ساتھ کبھی مت چھوڑیں, انکا دکھ درد بانٹیں, یہ رتبہ, یہ عہدہ کسی کام کا نہیں آ نا
    زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان رشتوں کو نبھانے سے ملیں گی کیونکہ یہ بہت انمول ہوتے ہیں.

    @Rehna_7

  • ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں خواتین کو لیکر بہت سی نئی بحثیں شروع ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ خواتین کے حق میں اور کچھ کے خلاف بہت سے سوشل میڈیا ٹرینڈ چل رہے ہوتے ہیں۔ کہیں خود خواتین میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف خواتین ہی ان نعروں کو لیکر اس طرح کی مارچ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ ایک طرف عورت مارچ ہوتی ہے تو دوسری جانب حیا ڈے منایا جاتا ہے۔

    اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عورتوں سے متعلق مسائل صرف ہمارے ملک میں ہیں؟ جی نہیں۔۔۔پاکستان کوئی واحد ملک نہیں ہے جہاں اس طرح کے مسائل ہیں بلکہ ان ممالک کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ لیکن چند ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پر حالات کافی مختلف ہیں۔وہ کونسا ملک ہے جہاں عورتوں کو مختلف فیلڈز میں سب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے؟کیا ہر ایک فیلڈ میں برابر نمائندگی حاصل کرنے کے بعد عورتوں کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں؟Gender equalityکیا ہوتی ہے اور وہ کونسا ملک ہے جہاں Gender equalityسب سے زیادہ ہے؟عورتوں کو اگر Leadership rolesدئیے جائیں تو اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہو سکتے ہیں؟ عورتوں کے لئے ہم معاشرے کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟عورتوں کے حقوق کے حوالے سے یہ سب وہ سوالات ہیں جو اس وقت ہر ایک معاشرے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔عورتوں کو سیاسی نمائندگی دینے کی بات کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ آپ سوچیں کہ امریکہ، برطانیہ ، ناروے، سویڈن، نیوزی لینڈ یا فن لینڈ میں سے کوئی ایک ملک ہو گا جہاں کی پارلیمنٹس میں سب سے زیادہ خواتین ہوں گی۔ لیکن نہیں۔۔ ان میں سے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی بہترین مثال ایک افریقی ملک روانڈا ہے۔ جس کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ روانڈا کے Lower house of parlimentمیں61.3%عورتیں ہیں۔حالانکہ روانڈا ایک کم آمدنی والا غیر ترقی یافتہ ملک ہے۔
    اگر باقی دنیا کی بات کی جائے تو عورتوں کی پارلیمنٹ میں ہونے کی Global average 25.5%ہے یعنی زیادہ تر ممالک میں یہ Average 50%سے کافی کم ہے۔ صرف تین ملک ایسے ہیں جہاں عورتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ جن میں پہلے نمبر پر روانڈا 61%دوسرے نمبر پر ہے کیوبا53%اور تیسرے نمبر پر ہے یو اے ای50%کے ساتھ۔۔۔۔
    روانڈا میں خواتین کی شمولیت کا یہ تناسب صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں ہے بلکہ 32%خواتین سینیٹرز ہیں۔42% cabinet membersاور50%ججز بھی عورتیں ہی ہیں۔ لیکن یہاں میں آپ کو روانڈا کے بارے میں ایک خاص بات بتاتا چلوں کہ یہاں پر ہمیشہ سے خواتین اس طرح مضبوط اور اعلی پوزیشنز پرنہیں ہوتیں تھیں۔

    1990تک یہاں پارلیمنٹ میں خواتین صرف 17%ہوتیں تھیں۔17%سے عورتوں کی نمائندگی 61%پر کیسے پہنچی اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ 1994میں روانڈا میں ایک بہت ہی خوفناک
    Genoside ہوئی جس میں تقریبا آٹھ لاکھ لوگ مارے گئے تھے جن میں بڑی تعداد مردوں کی تھی۔ اس نسل کشی کے بعد روانڈا کی آبادی میں 70%خواتین باقی رہ گئیں تھیں اور مرد صرف
    30%ہی باقی رہ گئے تھے۔ جبکہ ان خواتین میں سے زیادہ تر عورتیں پڑھی لکھی نہیں تھیں انہوں نے گھر سے باہر نکل کر کبھی کام نہیں کیا تھا۔ اور دوسری طرف ملک میں تبدیلی لانا بھی وقت کی ضرورت بن گئی تھی۔ اس صورتحال میں روانڈا کے صدرPaul Kagame نے فیصلہ کیا اگر ہمیں اپنے ملک کو چلانا ہے اور ترقی کے راستے پر لیکر آنا ہے تو ضروری ہے کہ یہاں کو عورتوں کو Activeکیا جائے۔ جس کے لئے سن دو ہزار تین میں انہوں نے ایک نیا آئین بنایا۔ اور اس میں Gender quotaکوڈالا گیا۔ تاکہ عورتوں کو برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے اور وہ بھی اپنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ روانڈا کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ عورتوں کو Decision making organizationsمیں 30%نمائندگی دینا لازم ہے۔تو اس کے بعد جب دو ہزار تین میں رواندا میں الیکشن ہوا تو ایک تو Gender quotaپرتیس فیصد خواتین کو پارلیمنٹ میں لایا گیا اور دوسری طرف کیونکہ عورتوں کی تعداد ملکی آبادی میں زیادہ تھی تو اس لئے باقی سیٹوں پر بھی بہت سی خواتین الیکشن لڑنے کے بعد پارلیمنٹ میں آنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس طرح ان کے لیڈر کی سوچ، حالات کی مجبوری اور Gender quotaکی وجہ سے روانڈا وہ ملک بن گیا جہاں پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ہمارے اپنے ملک میں بھی آپ کو معلوم ہے کہ عورتوں کے لئے Reserved seatsکا کوٹہ موجود ہے چین میں بھی عورتوں کے لئے یہ کوٹہ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ یورپین ممالک میں تو پولیٹیکل پارٹیز نے خود سے ہی یہ Strategy بنائی ہوئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں خواتین کی ایک خاص تعداد میں شمولیت کو یقینی بناتے ہیں۔ اس طرح کوٹہ سسٹم کے بعد یہ تو ضرور ہوا ہے کہ Globallyاب خواتین کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹس میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔لیکن اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ
    Gender quota کے یا خواتین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آنے کے بعد خواتین ملک میں موجود خواتین کے مسائل پر بہتر انداز میں آواز اٹھا سکتی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے مختلف بلز پاس کروا سکتی ہیں۔ روانڈا میں یہ ہوا بھی کہ خواتین کے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد Inheritence and succession
    کے کئی قوانین پاس کروائے گئے جس سے عورتوں کے مسائل میں کافی کمی ہوئی۔2008میں روانڈا میں Anti-gender based violence lawبھی پاس کیا گیا جس کی مدد سے وہاں زیادتی اور تشدد کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔اور جب خواتین کی حمایت میں خواتین زیادہ بلز لیکر آتی ہیں قوانین پاس کرواتی ہیں تو اس سے ایک تو عورتیں قانونی طور پر مضبوط ہوتی ہیں اور دوسراMind set میں بھی Changeآتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد دنیا میں Highest rate of female labour participationبھی روانڈا کا یہ ہے جو کہ تقریبا83%ہے۔

    عورتوں کے پارلیمنٹ میں ہونے سے کسی بھی ملک کو ایک اور بڑا فائدہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عورتیں ہیلتھ کئیر اور ایجوکیشن کے حوالے سے بہتر کام کرتی ہیں۔جبکہ دوسری طرف اس طرح کو کوٹے کے نقصانات بھی ہیں جس میں ایک مثال برازیل کی ہے کہ وہاں Gender quotaمتعارف کروانے کے بعد بھی عورتوں کی پارلیمنٹ میں شمولیت کوئی زیادہ بڑھ نہیں سکی۔
    کچھ ممالک میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ Gender quotaکی وجہ سے وہ خواتین پارلیمنٹ میں پہنچ جاتی ہیں جو اتنی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ پاور نہیں نہیں ہوتی یا جن لوگوں کے پاس پاور ہوتی ہے وہ ان عورتوں کو Puppetکی طرح treatکرتے ہیں۔ اور ان عورتوں کو صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشروں میں ایک مائنڈ سیٹ یہ بھی ہے کہ عورتیں بہتر لیڈر نہیں بن سکتیں اس لئے اگر وہ لیڈر بن بھی جائیں تو وہ مائنڈ سیٹ ان کو پرفارم نہیں کرنے دیتا۔ساتھ ساتھ اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی ملک میں Political representationبہتر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں Gender equalityبھی ہے۔ یہاں پر بھی روانڈا ایک بہترین مثال ہے کہ ان کی خواتین سیاستدان خود یہ بات کہتی ہیں کہ صرف خاتون ہونے کی وجہ سے اکثر ان کی Capabilitiesپر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ روانڈا کی اپنیParlimentary leader کا کہنا ہے کہ ابھی بھی روانڈا میں لوگ
    Gender issuesکو سمجھتے نہیں ہیں۔ Gender equality ابھی بھی ان سے بہت دور ہے۔ خواتین کے پاور میں ہونے کے باوجود بھی Domestic voilence کا ریٹ روانڈا میں بہت ہائی ہے۔
    اس لئے صرف یہ کہہ دینا کہ اگر کسی ملک میں عورتوں کو تمام فیلڈز میں بہتر نمائندگی مل جائے گی تو عورتوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔Gender gap
    کو کم کرنے کے لئے ہیلتھ ایجوکیشن اور ورک میں بہت سےایسےMeasuresہیں جو کہ ہمیں بحیثیت معاشرہ لینے پڑتے ہیں۔ اور Gender gapکی اگر بات کی جائے تو آئس لینڈ وہ ملک ہے جہاں یہ Gapسب سے کم ہے حالانکہ وہاں عورتوں کی Political representationکافی کم ہے۔دراصل آپ کو یہ سب Detailsبتانے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی لڑائیاں کرنے سے یا خواتین کے صرف سیاست میں آجانے اور زیادہ نوکریاں حاصل کر لینے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض کی جو لڑائی چل رہی ہے وہ آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل ہونگے ہمیں اپنے اپنے RolesکوDefineکرنا ہوگا اور ان رولز کو بہتر طور پر ادا کرنا ہو گا جو کام عورت کا ہے اسے عورت کو بہتر طور پر کرنا ہو گا اور جو کام مردوں کے ہیں ان کو کرنے ہونگے۔ ہمیں بحیثیت انسان ایک دوسرے کا خیال کرنا ہو گا تاکہ ہمارا ملک عورتوں اور بچوں کے لئے محفوظ ہو سکے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی عورتیں ہی آنے والی نسل کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور جب تک آپ کی آنے والی نسلیں بہتر نہیں ہونگی آپ کے معاشرے کا مستقبل بہتر نہیں ہو سکتا۔

  • اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اگر لڑکیاں چاہتی ہیں سسرال میں بھی والدین کے گھر جیسی لاڈبھری اور شاہانہ ٹائپ ذندگی ملے انجوائے کرنے لے لیے تو وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کرنے میں بھی دلچسپی لینی شروع کردے جو لڑکیاں صرف پڑھائی میں ہی مگن رہتی ہیں اور کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے پھر اگلے گھر وہ بہت خوار ہوتی ہیں اگر تو خوش قسمتی سے سسرال اچھا مل جائے تو پھر اس کی اس خامی کو بھی خوبی میں بدل دیا جاتا ہے اور اگر سسرال اتنا اچھا نہ مل سکے تو اس کی تعلیم بھی اس کے لیے طعنہ بن جاتی ہے انپڑھ جھٹانیاں بات بات پر طعنے دیتی ہیں کہ ہاں جی یہ پڑھی لکھی ہے لیکن ہے بےچجعی (پھوہڑ)تو لڑکی کی ساری خوداعتمادی ہوا ہوجاتی ہے اور وہ دل میں سوچتی ہے کاش میں سکول کالج نہ گی ہوتی ۔بلکہ گھر کے کام سیکھے ہوتے اور چلاکیاں سیکھی ہوتیں ۔کہ سامنے والا جھگڑ رہا ہوتا ہے اور ایک پڑھتی پڑھتی شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی معصوم سی لڑکی کو پتہ ہی نہیں چلتا اسے آگے سے کیا جواب دینا ہے کیونکہ مائیں آپکی ہر قسم کی اچھی تربیت کرتی ہیں لڑنا جھگڑنا نہیں سکھاتی ۔۔اس لیے میری لڑکیوں سے ریکویسٹ ہے کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سیکھیں ۔ خاص طور پر کھانا بنانے کی پریکٹس شروع کردیں تو اگلے گھر جاکر آپ سسرال والوں کے دلوں پر راج کرو گی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ اتنا میچور تو ہوجاتا ہے جہاں وہ فیشن کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے وہی عقل اور چالاکیاں بھی انسان وقت کے ساتھ سیکھتا جاتا ہے کوشش کریں اپنی چالاکیاں مثبت کاموں میں صرف کریں۔
    آپ کتنے بھی چالاک ۔خوب صورت ۔خوب سیرت ہوں تعلیم یافتہ ہوں (میں لڑکیوں کی بات کررہی ہوں ) لیکن آپ کو اگر اچھا کھانا بنانا نہیں آتا تو آپکی ساری قابلیت کاغذ کےخوبصورت پھول سے ذیادہ نہیں ہوگی جو بظاہر تو خوبصورت لیکن اس میں وہ خوشبو تازگی نہیں ہوگی جو اصلی پھول میں ہوتی ہے
    ۔۔
    کھانے بنانے کے لیے آپکو کسی ورد کسی وظیفہ کی ضرورت نہیں بس کوشش کرنے کی ضرورت ہے جیسے ہمارے والدین ہماری شادی سے پہلے دیکھتے ہیں لڑکا کیا کام کرتا ہے کیسا اس کا رہیں سہن ہے کتنا کماتا ہے اسی طرح لڑکے والوں کا بھی حق بنتا ہے کہ لڑکی ایسی ملے جو اچھا کھانا بنا سکتی ہو گھر کو صاف ستھرا رکھ سکتی ہو اس کے ساتھ ساتھ گھر کا ماحول کیسے خوشگوار بنانا ہے اس بات کا اسے ادراک ہونا چاہئیے۔کہتے ہیں اپنے شوہر کے دل پر قبضہ کرنا ہوتو اس کا راستہ معدے سے ہوکر دل کی طرف جاتا ہے۔۔!!

    میں ہمیشہ اپنی ماں سے سنتی آئی ہوں کہ جس خاتون کے ہاتھ میں اللہ کا دیا خاص تحفہ ذائقہ ہوتا وہ اپنے شوہر کے دل پر راج تو کرتی ہی ہے اپنے سسرال والوں کے دلوں پر بھی راج کرتی ہے۔ہمیشہ اپنے ہاتھ صاف ستھرے اور بال لپیٹ کر کچن میں جائیں اور جب بھی کھانا بنانے لگیں” بسمہ اللہ "پڑھ کر شروع کریں اپنا دماغ حاضر رکھ کر اور ساتھ اللہ کا شکر ادا بھی کریں جس نے آپکو ان نعمتوں سے نوازا ۔جو خواتین کچن کا کام خود کرتی ہیں میں نے ان کی فیملی کو صحت مند اور ہشاش بشاش دیکھا کیونکہ جب آپ صاف ستھرے ہاتھوں سے کھانا بنائیں گی صاف ہاتھوں سےگوشت دھو کر بنائیں گی ۔صاف ہاتھوں سے گندھا آٹا اس سے پکی روٹی۔۔ آپ کے صاف ہاتھوں سے کاٹی گی سبزی پیاز۔آپ کی محنت سے پکا ہر قسم کا کھانا گوشت سبزی ۔جب ان کے معدوں میں جائے گا تو ان کے دل میں آپکی محبت عزت بڑھے گی آپکے خلوص عقیدت کی تپش ان کے دلوں میں اثر کرے گی کہ کتنی عقیدت محبت سے آپ اپنی فیملی کے لیےکھانا بناتی ہیں ۔گھر میں چاہے آپ نے ملازم ہی کیوں نہ رکھے ہوں (یورپ ممالک میں تو گھریلو ملازم کا تصور ہی نہیں پاکستان کی بات کررہی ہوں )تب بھی کچن کا کام کسی صورت ملازموں پر نہ چھوڑیں اپنی فیملی کے لیے خود وقت نکالیں چاہے آپ جاب ہی کیوں نہ کررہی ہوں ۔۔

    اگر آپ کچن میں چائے بنانے جاتی ہیں چائے کپ میں ڈال کر گیلی گیلی گرم گرم دیگچی اسی وقت واش کردیں بعد میں آپکو محنت سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئےگی اسی طرح کچن میں کھانا بناتے ہوئے ہر چیز ساتھ ساتھ سمیٹنے کی عادت ڈالیں آج کا کام کل پر نہ ڈالیں جیسے جیسے کھانا بنانے کے دوران برتن بنتے جاتے ہیں ساتھ ساتھ دھوتی جائیں ،(ہم نے تو کچن پیپر رکھا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سب لوگ افورڈ نہیں کرسکتے آپ گھر میں یوز ہوئی پرانی چادریں واش کرکے ان کے چھوٹے چھوٹے پیسیز کی شکل دے کر ایک بڑے شاپر میں ڈال کر کچن کے کسی دراز میں رکھ لیں )جب آپ کھانا بنارہی ہوتی ہیں تو ایک ڈسٹر یا سپونی۔یا پھر کوئی پرانے کپڑے کا پیس پاس ہی رکھیں جس سے کھانا بناتے وقت دیوار پر پڑنے والی چھینٹیں اسی وقت صاف کرتی جائیں ساتھ ساتھ چولہا بھی صاف کرتی رہیں کیونکہ اسی وقت گیلی اور گرم ہونے کی وجہ سے صاف کرنا آسان ہوتا ہے بعد میں آئل اور مصالحہ جات جم جانے کی وجہ سے اکثر داغ رہ جاتے ہیں،جو بعدمیں بہت محنت طلب اور وقت مانگتے ہیں ۔اسی لیے تو کہتے ہیں "وقت پر لگایا گیا ٹانکہ آپکو نو ٹانکوں سے بچاتا ہے ”
    کھانا بنانے کے بعد اچھی طرح سینک صاف کردیں شیلف وغیرہ بھی ساتھ ساتھ ہی صاف کرتی جائیں اور کچن کا فرش دھو کر ایگزاسٹ فین چلا دیں ۔کھانے کی مہک اور دھواں وغیرہ باہر نکل جائے گا پھر اپنی فیملی کو بہت محبت پیار سے اپنے ہاتھوں کا مزیدار کھانا پیش کریں اور ڈھیروں محبتیں پیار سمیٹیں ۔اپنی فیملی کا پیار محبت کسی بھی خاتون خانہ کے لیے بیش قیمت تحفہ ہوتا ہے
    اللہ تعالی آپ سب کے گھروں کو آباد رکھے شاد رکھے آپکو اپنی فیملی کے دل کی شہزادی اور آنکھوں کا تارا بنائے رکھے آمین

  • آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شئیر کروں گی کہ آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیوں ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے میں تو ناکام ہو چکی ہے جس کے لئے اس کے پاس ایک ہزاروجوہات ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بڑے آرام سے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں ابھی بہت کنٹرول میں ہیں ورنہ اصل قیمتیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لیکن میرا سوال ان حکمرانوں سے یہ ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیوں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عورتیں اور بچے نہ گھروں سے باہر محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں کے اندر۔۔۔

    اب میں آپ کے ساتھ کچھ تازہ ترین واقعات کی خبریں شئیر کروں گی جس سے آپ کو حالات کی سنگینی کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے گا۔ ضلع چنیوٹ کے بھوانہ سرکل میں بدفعلی کا انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دس سالہ یتیم بچے کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ اور زیادتی کرنے والے کوئی دو یا تین فرد نہیں تھے بلکہ سترہ افراد کا ایک پورا گروہ تھا جس نے اس معصوم بچے کے ساتھ یہ حیوانیت اور درندگی کی۔اس بچے کا والد دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے اور وہ اپنے ماموں کے زیر کفالت ہے اب ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریبا سات بجے تین فرد آئے اور اس بچے کو گھر سے بلا کر موٹر سائیکل پر باہر لے گئے۔ فصلوں میں لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا۔ جس کے بعد یہ باری باری اس دس سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور ساتھ میں موبائل فون پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ اور یہ سلسلہ پچھلے کئی دنوں جاری تھا کہ درندوں کا یہ گروپ اس یتیم بچے کو بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں اس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے۔جب اس متاثرہ بچے کے گھر والوں کو اس سب کا علم ہوا تو انہوں نے تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس پورے گروپ میں سے کوئی ایک ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ایک اور تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ زم زم کالونی کے رہائشی احسن نے بھی مقدمہ درج ہوا ہے جس کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکے کو 22 سالہ ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ان واقعات کے بارے میں آپ ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ چھوٹے علاقے ہیں اس لئے وہاں کے حالات خراب ہیں وہاں کی پولیس بھی اتنی Efficientنہیں ہے۔ تو اب میں آپ کو لاہور شہر کا ایک واقعہ بتاتا ہوں جہاں ہوٹل کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ 7 روز تک اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی۔ سوچیں یہ لاہور شہر ہے جس میں ابھی حالیہ چودہ اگست کے واقعات کے بعد پولیس کافی الرٹ ہے اور پھر بھی اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ملت پارک میں ایک ہوٹل کے اندر لڑکی کو ایک تقریب کا جھانسہ دیکر بلایا گیا اس کے بعد سات روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس سے چھ لاکھ روپے بھی چھین لئے گئے۔ لیکن ہوٹل میں اتنے دن تک کسی کا کان و کان خبر نہیں ہوئی کہ بر وقت پولیس کو اطلاع دی جاتی لیکن خیر بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس عورت کی شکایت کے بعد تین میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ لاہور شہر کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ملزم نے ایک عورت کو اس کی کم سن بیٹی کے سامنے ہی گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اور یہ سب کرنے والا ملزم دراصل ان کا ہمسایہ تھا جو پہلے تو ماں بیٹی پر جسم فروشی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا لیکن خاتون کے انکار پر ملزم نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ یہاں تک کہ ملزم نے اس عورت کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔لاہور کا ہی ایک اورحیرت انگیز واقعہ میں آپ کو بتاوں جس میں بے حیائی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئیں۔ گلشن راوی کے علاقے میں ایک ستائیس سالہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈال رہی تھی اس دوران اس کا ہمسایہ اپنے گھر کی چھت پر برہنہ ہوگیا اوراس لڑکی کو ہراساں کرتا رہا۔پولیس کے مطابق اس ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی گلشن راوی کے علاقے میں ایک لڑکی کو نوجوان نے اسی طرح برہنہ ہوکر ہراساں کیا تھا جس کا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔

    اس طرح کے واقعات آئے روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ایک طرف تو لوگ اپنے علاقے والوں اور ہمسایوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی آجکل سامنے آ رہے ہیں جس میں بچیاں اپنے سگے اور قریبی رشتے داروں سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔راولپنڈی کے ایک علاقے میں ماں نے عین موقع پر پہنچ کراپنی 5 سالہ بیٹی کو اس کے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے سے بچا لیامتاثرہ بچی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہمسائی سے ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی لیکن جب واپس پہنچی تو آ کر دیکھا کہ اس کا دیوراس کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں کے شور کرنے پر اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اب سے دو دن پہلے شیخوپوہ میں بھی انتہائی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جہاں ایک کمسن بچی ایک درندے کی درندگی کا نشانہ بن گئی۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں 6 سالہ ہادیہ محلے میں موجود دوکان پر چیز لینے گئی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ اور یہ سب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ دوکاندار ہی تھا اس نے بچی کو اغواء کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل بھی کرڈالا۔ اور درندے نے اپنا جرم مٹانے کے لئے بچی کی لاش کو نہر میں پھینک دیا۔اس کے علاوہ شیخوپورہ کے ہی ایک علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوں نے ماں باپ کے سامنے انکی حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔تین ڈاکوں ڈکیتی کی واردات کے لئے رات گئے گھر میں گھس گئے کاشتکار کے گھر سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے گئے اور ساتھ ہی والدین کو رسیوں سے باندھ کر انکے سامنے ان کی عالمہ اور حافظہ بیٹی کو اجتماعی نشانہ بنایا۔ ان تمام واقعات میں سے ایک یا دو ایسے ہیں جن کے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور تفتیش ہو رہی ہے لیکن میرا سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر کیوں ہماری حکوت اور پولیس اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کیوں یہ درندے دن بہ دن اتنے بےخوف ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی جانیں۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ہماری پولیس ان درندوں کو پکڑ بھی لے تو ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں ہے کہ ان کو فوری سزا سنائی جائے۔ جس کی وجہ سے سالوں سال کے لئے نہ صرف کیسسز لٹک جاتے ہیں بلکہ مظلوم کو بھی تھکا ڈالتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر تو یہ مجرمان اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ ہی عرصے بعد پولیس کی قید سے بھی رہائی حاصل کر لیتے ہیں اور باہر آ کر پھر اسی گھناونے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    اس لئے میرا تو ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی آپ کے کنٹرول سے باہر ہو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتیں آپ کو اپنے ملک میں چیزیں سستی کرنے سے روک رہی ہوں لیکن خدارہ انسانوں کی عزتیں اور ان کی جانیں اتنی سستی نہیں ہیں۔۔۔ آخر اس میں آپ کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ لوگوں کو نہ تو تحفظ مل رہا ہے اور نہ ہی انصاف۔۔ آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے اور اپنی عزتوں اور جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے آخر کب تک۔۔۔

  • شوہر کی خدمت”محبت یا غلامی”.تحریر: راحیلہ عقیل

    شوہر کی خدمت”محبت یا غلامی”.تحریر: راحیلہ عقیل

    نئے دور میں جہاں عورت کو آزادی چائیے وہی شوہر کے حقوق پر عورت چیخ اٹھتی ہے آج کی پڑھی لکھی عورت مرد سے برابری کا حق مانگتی ہے آزادی خودمختاری مانگتی ہے وہی وہ شوہر کے حقوق سنے ماننے سے صاف انکاری ہے شوہر کی خدمت فرض سمجھ کر کرنے والی خواتین کو کمزور جاہل سمجھا جاتا ہے جیسے عورت خدمت دباؤ یا زبردستی کررہی ہے حالانکہ
    رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ’’اگر میں خدا کے سوا کسی دوسرے کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں ۔‘‘

    (جامع الترمذی، کتاب الرضاع (۱۰)باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ ، رقم
    اس کے باوجود اس عمل کو آج کے دور میں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے جہاں ہماری مائیں ابا جی کے گھر میں قدم رکھتے ہی پانی کا گلاس بھرے انکے سامنے کھڑی ہوتی انکے لیے گرم روٹی توے سے اتاری رہی ہوتی وہی آج کی عورت شوہر کو حکم دے رہی ہوتی آتے وقت روٹیاں لے آنا دس کام مرد کو باہر ہی گنوا دیے جاتے سارا دن کام سے تھکا ہارا مرد گھر میں سکون کا سانس کیسے لے آتے ہی ساس بہو کی چک چک شروع ہوجاتی،پہلے کے دور میں کہیں شاد و ناد ہی سنے کو ملتا میاں بیوی کے جھگڑے ہورہے ہیں اب کے دور میں یہ فساد ہر دوسرے گھر میں پایا جاتا ہے فساد کی آگ میں گھر اجڑ رہے اولاد الگ نافرمان ہورہی اللہ پاک نے جس عمل کو سخت ناپسند کیا وہی عمل تیزی سے پھیل رہا ہے اب کی عورت خدمت کو غلامی کا نام دے کر اپنی جان چھڑانا مناسب سمجھتی ہے اگر کوئی خاتون اس معاملے پر عورت کے حق میں بات کرے تو اسکو نیچا دکھایا جاتا بیٹیوں کو شوہر کی خدمت وفاداری محبت سکھانے کے بجائے کیسے قابو رکھنا ہے یہ طور طریقے سکھائے جاتے نا کے اسے سمجھایا جاے کے شوہر کی ایک آواز پر کھڑی ہوجاو۔۔۔۔۔۔

    اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’جس عورت کی موت ایسی حالت میں آئے کہ مرتے وقت اس کا شوہر اس سے خوش ہو وہ عورت جنت میں جائے گی۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح ، ۴۴۔باب حق الزوج علی المرأۃ ، رقم ۱۸۵۴، ج۲، ص۴۱۲)

    اور یہ بھی فرمایا کہ ’’جب کوئی مرد اپنی بیوی کو کسی کام کے لئے بلائے تو وہ عورت اگر چہ چولھے کے پاس بیٹھی ہو اس کو لازم ہے کہ وہ اٹھ کر شوہر کے پاس چلی آئے۔‘‘

    (جامع الترمذی ، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ (ت : ۱۰) رقم ۱۶۶۳، ج۲، ص۳۸۶)
    اتنا سب جاننے کے باوجود ہمارے معاشرے میں طلاقیں بڑھ رہی ہیں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے اسکو خوش رکھے اسکا دل اپنی محبت سے بھر دے، اب الٹا عمل دیکھنے کو ملتا ہے ہر عورت پر لازم ہے وہ اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے اسکی وفادار رہے زندگی بھر اسکی خدمت گزاری کرے
    جو عورتیں اپنے شوہروں کی خدمت کرتی ہیں اللہ پاک انکو بہت پسند کرتے ہیں جس عورت سے اسکا شوہر خوش ہو ایسی حالت میں موت آجاے افضل ہے وہ عورت اور جس عورت سے اسکا شوہر ناراض ہو ایسی حالت میں عورت کو موت آجاے وہ جہنم کی آگ میں جلتی رہے گی شریعت کے مطابق زندگی گزارنے والی عورتیں دنیا و آخرت میں کامیابی رہیں گی۔۔۔۔۔۔اللہ پاک ہر بہن بیٹی کا نصیب اچھا کرے

    شوہر کی اطاعت و خدمت فرض ہے۔ آخرت کی زندگی میں کامیابی کا دارومدار شوہر کی خدمت میں مضمر ہے۔ جنتی عورت ہمیشہ شوہر کی تابعدار ہوتی ہے، اس کے آرام و سکون کا خیال رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

    ہوسکتا ہے میری اس تحریر سے بہت سی خواتین کو اختلاف ہو وہ مانے نا نہیں مگر ہمیں ہمارے مذہب میں جو سکھایا سمجھایا اور بتایا گیا ہے وہی حقیقت ہے جس پر چل کر ہم اللہ کو راضی کرسکتے ہیں بےشک نیک عورتیں،نیک مرد ہی جنت میں جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
    انشاء اللہ اگلی تحریر میں بیوی کے حقوق پر بھی لکھا جاےگا بشرط کے زندگی رہی

  • لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے امکانات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @Rohshan_Din

    جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے  ذہن میں سب سے پہلے کیا آتا ہے؟ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم  کسی خاص لڑکی کو یاد کریں جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلتی ہوگی  جو پرائمری سکول نہیں جا سکی۔ یا شاید ہم کسی خاص دباو اور مداخلت کی بدولت   پرائمری سکول میں پڑھنے والی مسکراتی اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی ان عظیم تصاویر میں سے ایک کو دیکھیں گے۔

     دونوں تصاویر درست ہیں ، لیکن وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے تک ، بہت سی لڑکیوں نے پرائمری سکول بھی مکمل نہیں کیا تھا۔  ترقیاتی پروگرام کے وجہ سے   بنیادی تعلیم میں اچانک مساوات کی طرف ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم ، مہارت اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے آج کے چیلنجز بدل گئے ہیں۔

     

    پرائمری سکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے اپنی ضرورت کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ، ہمیں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہر قدم پر ، ہمارے پاس ایک اچھا خیال ہے کہ کون سی مداخلت لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    سب سے پہلے ،  ابتدائی بچپن کی ترقی (ECD) کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد دیں۔ ابتدائی زندگی میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہے ، لیکن مؤثر ECD پروگرام اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اس طرح زیادہ ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سی ڈی پروگرام تکنیکی ، علمی ، اور طرز عمل کی مہارتیں بناتے ہیں جو بعد کی زندگی میں اعلی پیداوری کے لیے سازگار ہوتی ہے۔اصولی اور  کامیاب مداخلت دیگر شعبوں میں ، غذائیت ، محرک اور بنیادی علمی مہارت پر زور دیتی ہے۔

    ایک نئی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں تعلیم  پہ توجہ سے ایک خاطر خاہ تبدیلی آئی ہے۔   ، ایک ECD مداخلت کے 20 سال بعد ، فائدہ اٹھانے والوں کی اوسط کمائی  لڑکے اور لڑکیوں  کو پابند رکھنے والے علاقوں  کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے بڑے فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں اگر تمام بچے اس طرح کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں ، جو کہ حتمی مقصد ہے ، اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ابتدائی نفسیاتی محرک مستقبل کی کمائی کو کافی حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔

     اور اس کے بعد   بنیادی تعلیم پر مرکوز ہے۔جو  خلاء باقی ہے ، اس بات کا یقین کرنے کے لیے۔آئندہ کاغذ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد سےکم آمدنی والے ممالک میں ، 20 فیصد غریب ترین گھرانوں میں صرف 34 فیصد لڑکیاں پرائمری سکول مکمل کرتی ہیں ، جبکہ امیر ترین 20 فیصد گھرانوں میں 72 فیصد لڑکیاں . آمدنی سے متعلق یہ خلا لڑکیوں کے سکول جانے کے مواقع کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مداخلت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ، 

     

    یمن میں ، ایسا ہی ایک نیا پروگرام جو پسماندہ طبقات میں 4-9 گریڈ میں لڑکیوں کو فوکس کر کے بناتا ہے وہ کافی کامیاب پروگرام رہا۔  داخلہ اور حاضری بڑھانے کے علاوہ ، ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سکول جانے والی تمام لڑکیاں سیکھ سکیں – سیکھنے کے مضبوط معیارات ، اچھے اساتذہ ، مناسب وسائل ، اور ایک مناسب ریگولیٹری ماحول جو کہ احتساب پر زور دیتا ہے۔

     لیکن سیکھنا کس کے لیے؟ اپنی خاطر تعلیم یقینی طور پر ایک اندرونی قدر رکھتی ہے ، لیکن تعلیم اور تربیت جو کام کی جگہ پر مفید ثابت ہوتی ہے وہ بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو بڑھنے میں مدد دینے کا اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انہیں ملازمت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کی جائیں جن کا آجر درحقیقت مطالبہ کرتے ہیں ، یا وہ اپنا کاروبار شروع کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔اور وہ معاشرے کے کارامد رہے

     

    بہت سے ممالک نے بنیادی تعلیم میں خواتین برابری حاصل کی ہے (یا تیزی سے ترقی کر رہے ہیں)۔ اس کے برعکس ، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں لیبر فورس کی شرکت نوجوان خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے۔ پاکستان  ، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ میں ، 15-24 سال کی تمام لڑکیوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنخواہ دار کام میں مصروف نہیں ہیں اور کام کی تلاش میں نہیں ہیں۔ اور انٹرنیشنل انکم ڈسٹری بیوشن ڈیٹا بیس کے مطابق ، عالمی سطح پر تقریبا 40 40 فیصد نوجوان خواتین یا تو بے روزگار ہیں یا ‘بیکار’ ہیں (نہ تعلیم میں ، نہ کام میں)۔ اس کے علاوہ لاکھوں نوجوان خواتین ہیں جو بغیر تنخواہ یا غیر پیداواری کام میں مصروف ہیں۔

     اگلے مرحلہ ایک ایسے ماحول کی تخلیق سے متعلق ہے جو علم اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے لیے اختراعات سے متعلق مہارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو آئیڈیاز سے جوڑنے میں مدد ملے ، نیز رسک مینجمنٹ ٹولز جو جدت کو آسان بناتے ہیں۔ ایک بار پھر ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں  کو نقصان ہوتا ہے ، کم مواقع ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ، بہت سے ممالک میں انٹرپرینیورشپ کی شرح کم ہوتی ہے۔اور اکثر اجکل تو خواتین کو وہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی جس میں وہ معاشرے  کی تربیت کے لئے  ایک اچھا کردار ادا کر سکے۔ 

     آخر میں  یہ ضروری ہے کہ معاشرے لچکدار ، موثر اور محفوظ لیبر مارکیٹ کو فروغ دیں۔ آمدنی کے تحفظ کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے سخت نوکری کے تحفظ کے ضوابط سے بچنے کے علاوہ ، کارکنوں اور فرموں کے لیے ثالثی کی خدمات مہیا کرنا مہارت کو حقیقی روزگار اور پیداوری میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔خواتین ورکر کو پرامن اور اچھا ماحول  دیا جاے جہاں وہ سکون سے کام کر سکے ایک اچھی تنخوا اور ان کا مقرر کردہ وقت پہ سختی سے پابند کیا جاے کہ ان سے زیادہ کام تو نہی لے رہا کوئی۔ 

    لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے وقت ، پرائمری سکولوں کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لڑکیوں کی زندگی میں کامیابی کے لیے یہ کافی نہیں ہے: ہمیں پرائمری اسکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی کی نوکری کے بازار میں داخل ہونے والی لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو ایسی مہارتوں اور علم کی ضرورت ہوگی جو صرف ان کی زندگی بھر میں تیار کی جاسکیں۔ انہیں راستے میں ہر قدم پر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

     

    یہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ لڑکیاں اکثر زیادہ تنگ ہوتی ہیں اور انہیں مواقع تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے ، جس کے نتیجے میں توقعات کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ، کم از کم جزوی طور پر ، یہ بتاتے ہوئے کہ مارکیٹیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ 

    ہمارے ملک میں خواتین کے کام نہ کرنے کے وجہ میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ وہ  آفس میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی  ہیں ۔اکثر خواتین شادی کے بعد نوکری کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ہماری تحقیق سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت سارے  خاوند خواتین کو اس  لئے بھی کام کرنے سے روکتے ہیں کے کہیں  وہ کسی کے ساتھ افئر نہ چلاے۔ دوسرے طرف خواتین کو سستہ لیبر سمجھا جاتا ۔ان کی اجرت بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھی وہ کام کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ 

    ملک میں خواتین کو تعلیم کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کے گھر والے ان پہ یقین رکھے افسز میں ان کے زندگی مکمل طور پہ محفوظ ہو۔ان کے دفتر کے اوقات کار کو کم سے کم رکھا جاے ان کے لئے تنخواہوں میں خصوصی پیکجزدیئے جائے تاکہ وہ معاشرے کے ترقی میں اپنا کردار (رول) ادا کر سکے

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم


    دین اسلام کی آمد عورت کیلٸے غلامی و ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کی نوید تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے خلاف تھا اور عورت کو وہ حقوق اور فرائض  عطا کیے جس کی وہ مستحق تھیں دین اسلام نے عورت کو اس قدر عزت و اہمیت دی کہ قرآن کی ایک عظیم سورۃ کا نام سورۃ النساء ہے۔ پھر  ایک اور سورۃ کا نام سورۂ مریم ہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے دور سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی ہر دور میں عورتوں پر ظلم  و جبر کیا گیا ہے ۔ مرد انہیں اپنے عیش وعشرت کی غرض سے خرید اور فروخت کرتے انکے ساتھ جانوروں سے بھی  بدتر سلوک کیاجاتاتھا حتی کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو معیوب سمجھتے تھے اور بیٹیوں  کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ہندوستان میں خاوند کی چتا پر اس کی بیوہ اہلیہ کو جلایا جاتا تھا ۔ واہیانہ مذاہب بھی عورت کو گناہ کا سرچشمہ  سمجھتے تھے۔ عورت سے تعلق رکھناروحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ دنیا کے زیادہ تر تہذیبوں میں عورت کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ عورت کو حقیر وذلیل نگاہوں سے دیکھاجاتا تھا۔ عورت کے معاشی اور سیاسی حقوق نہیں تھے، عورت آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کرسکتی تھی۔ عورت اپنے باپ کی پھر اپنے خاوند   کی اور اس کے بعد اپنے بچوں کی تابع اور محکوم تھی۔ عورت کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا۔ یہاں تک کہ عورتوں کو فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔
    لیکن دین اسلام نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کوزندہ درگور کرنے سے منع فرمایا اور ذلت اور پستی کے گڑھوں سے نکالا۔ اسے باپ کے لیے رحمت بنایا، شوہر کے لیے راحت،بھاٸیوں کے لیے شفقت بنایا اور ماں کے روپ میں محبت اور الفت کا سرچشمہ بنایا ۔سب سے پہلے دین اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیئے جس سے وہ صدیوں سے محروم چلی آرہی تھی اور عورت کو یہ حقوق دین اسلام نے اس لئے نہیں عطا کئے تھے کہ عورت اس کا مطالبہ کر رہی تھی یا عورتوں نے کوئی مارچ کیا تھا، بلکہ دین اسلام نے یہ حقوق اور فرائض  عورت کو اس لئے تفویض کئے کہ یہ عورت کے فطری حقوق اور فرائض  تھے، جس کی وہ قدرت کی طرف سے حق دار تھی اور ہمیشہ رہے۔ گی  دین دین اسلام نے عورت کو انسانیت کے دائرے میں حقوق اور فرائض  دیئے اور لوگوں کو یاد دلایا کہ مرد ہونا کوئی برتری کی علامت نہیں ہے اور عورت ہونا کوئی باعث عار شے  نہیں ہے۔اسلام نے عورتوں کو آزادی رائے کا پورا حق ہے۔عورت نے دین اسلام کو بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت میں بے پناہ حقوق و فراٸض اور آزادیاں دی ہیں، مگر حد سے تجاوز کرنے سے ممانعت کیں ہے مگر  کچھ نا سمجھ لبرلز عورتوں آزادی چاہتی ہیں اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر عورتوں کو پھسلانا چاہتی ہیں، جبکہ ہمارا جسم تو اللہﷻ  کا عطا کردہ ہے اور اگر ہم اس جسم پر اللہ ﷻ کی مرضی کی بجائے کچھ اور نافذ کریں گے تو وہ یقینا فلاح نہیں ہو گی اس لئے عورتوں کو وراثت میں حق دینے کے لئے مارچ ہونے چاہئیں ، انہیں بہترین  تربیت اور تعلیم دی جانے چاہیے اور جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارے کے لئے مارچ ہونے چاہئے جو عورت کے حقیقی مسائل ہیں اور اسی کیلٸے ہمیں مل کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب  مسلم بہنوں  کو اسلام کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

    ‎@MahaViews_

  • بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    میں ان خواتین سے پوچھوں گا جو سڑکوں پر فحاشی اور بے شرمی کا مظاہرہ کررہی ہیں ، "کیا آپ نے اسلام سے پہلے خواتین کی تاریخ پڑھی ہے؟ کیا آپ جانتی ہیں؟

    اسلام سے قبل عورت کو کتنا ذلیل و رسوا کیا جاتا تھا۔اسلام سے پہلے عورتوں کی عزت کو کس قدر پامال  کیا جاتا تھا۔اسلام سے قبل ہندو عیساٸ اور یہودی عورت کو نہ صرف "منحوس” سمجھتے تھے بلکہ "بیٹی”پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔عورت کو جاٸیداد میں حق ملتا تھا اور نہ ہی معاشرے میں اس کا کوٸ کردار تھا۔مرد جب چاہتا کسی عورت سے شادی کرتا۔جب چاہتا اسے طلاق دے دیتا۔عورت پر ہر قسم کی پابندی تھی عورت پر جانوروں کی طرح ظلم و ستم کیا جاتا تھا۔

    اس کے برعکس اسلام نے عورت کو عزت دی۔اسلام نے عورت کو زندہ دفنانے سے منع کا۔اسلام نے عورت پر ظلم و ستم سے روکا۔

    بیٹی کو اللہ کی رحمت کہاگیا۔اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ کہا ہے۔اسلام نے عورت کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔اسلام نے عورت کو ہر روپ میں عزت بخشی۔اسلام نے عورت کو جاٸیداد میں حقوق دلواۓ۔

    عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔عورت اگر بیوی ہے تو سکون ہے۔عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔اسلام نے عورت کو چادر اور چاردیواری کا تحفظ فراہم کیا۔

    آپﷺ نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں. ۔جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟ بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.

    جبکہ

        یہودی او عیساٸ آج بھی عورت کو کھلونہ سمجھ کر اس سے کھیلتے  ہیں۔ عورت کو آج بھی وراثت میں حق نہیں دیتے۔عورت کو کلبز اور شراب خانوں میں ننگا نچواتے ہیں۔عورت کو فاحشہ بننے پر داد دیتے ہیں۔

    اس سب کے باوجود میرا جسم میری مرضی کرنے والیوں کو اعتراض ہے کے اسلام نے انکو حقوق نہیں دیۓ

    اگر اسلام نے آپکو حقوق نہیں دیۓ تو میں چیلنج کرتا ہوں بتاۓ دنیا کا وہ کونسا مذہب ہے جس نے آپ(عورت)کوحقوق دیۓ۔

    اے مسلمان بہن خدارا مغربی عورتوں  کی طرح خود کو جسم بیچنے والی دکان مت بنا۔آپ باعزت ہیں۔آپ ان مغربی بےحیاہ عورتوں کی طرح بلکل بھی نہیں ہیں۔جنہیں مرد جب چاہے اپنی حوس پوری کرنے کے بعد چھوڑ دیتا ہے۔

    اللہ ﷻ نے آپکو عزت دی ہے۔آپکو کوٸ غیر محرم چھونا تو دور دیکھ بھی نہیں سکتا۔عورت اللہﷻ کے نزدیک تبھی ہوتی ہے جب وہ چاردیواری میں رہتی ہے۔اسلام نے آپکو تحفظ دیا ہے پھر بھی آپ نعرے لگاتی ہیں کے اسلام نے حقوق نہیں دیے 

    دعا ہے۔اپنے آپ کو پہچانو خود کو بازاروں کی زینت مت بناو۔ افراط

     اللہ پاک آپ سب(بہنوں) کی عزت محفوظ رکھے آمین

    تحریر اچھی لگے تو لاٸک اور شیئر ضرور کریں

  • میرا حجاب میری مرضی  تحریر : تماضر خنساء

    اسلام ایک کامل دین ہے جس میں قیامت تک کے انسانوں کیلیے راہ ہدایت موجود ہے.. دین کامل میں زندگی کے ہر معاملے پرواضح احکامات عطا کیےگئے ہیں ..جہاں اسلام فرض عبادات کی اہمیت بتاتا ہے وہیں دوسرے معاملات پر بھی رہنمائ موجود ہے.. اسلام آنے سے قبل عرب میں جہالت کا دور دورہ تھا.. لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا، لڑکی بوجھ سمجھی جاتی تھی.. مگر اسلام نے آکر عورتوں کو انکے حقوق عطاکیے انکو عزت و اکرام عطا کیا…اسلام کی روشنی نے عورتوں کو تحفظ عطا کیا اور یہ تحفظ حجاب کی صورت میں ایک مسلم عورت کو پہچان کیلیے عطا کیا گیا…

    آج پھر سے جہالت اور بے حیائ کا دور دورہ ہے.. اسی بے حیائ اور جہالت کے پیدا کیے معاشرے کے داغ آج عورت کے تحفظ کی علامت پر سوال اٹھاتے ہیں ،ہر ناجائز کو جائز بنانے پر تلے ہیں… معاشرے کے ان داغوں سے مسلمان عورت کا بے داغ کردار آج ہضم نہیں ہورہا جبھی آج یہ مسلم عورت کو زبردستی جہالت کی کیچڑ میں لاکھڑا کرنا چاہتے ہیں.. 

    حجاب آج بھی مسلم معاشرے میں وقار اور تقدس

     کی علامت سمجھا جاتا ہے.. یہ چادر کا ایک ٹکڑا مسلمان عورت کی حفاظت کرتا ہےاور نا محرم مرد کی نگاہوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے… آج کے ترقی یافتہ دور میں حجاب لینا ایک عام بات ہے مگر بہت سے دین بیزاروں آج بھی وہی شدت پسند سوچ عام ہے.. حجاب مسلم عورت کیلیے فخر ہے کہ وہ اتنی قیمتی ہے کہ اسے ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے یہ تحفظ ہی توہے جو حجاب ایک مسلمان عورت کو دیتا ہے… 

    آج مسلم خواتین حجاب میں رہ کر بھی ترقی کے ہر میدان میں پیش پیش ہیں… آج مسلم عورتوں کی اکثریت حجاب میں پورے فخر سے ہر فیلڈ میں کام کرتی ہیں اور کامیاب بھی ہیں… 

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہر کچھ دن بعد کپڑے کا یہ ٹکڑا کسی نا کسی کو تکلیف کیوں دینے لگتا ہے؟  جب ایک عورت اس میں مکمل اطمینان محسوس کرتی ہے تو آخر ان دوٹکے کے لوگوں کو ہمارے حجاب سے اتنی تکلیف کیوں  ہے؟ 

    جب ایک چیز آپکی پہنچ میں نہ رہے تو انسان ایسے ہی باؤلا ہوتا ہے کہ جو منہ میں آتا ہے بکتا ہے یہی ان لبرلز کا حال ہے ..یہ چاہتے ہیں کہ ایک مسلم عورت سے اسکا وقار چھین لیں.. انہی لبرلز میں سے چند آنٹیاں اٹھ کر نعرہ لگاتی ہے کہ میرا جسم میری مرضی تو پھر آخر انہی میں سے کچھ لوگ دوسری خواتین پر انگلی اٹھانے کا حق کہاں سے لائے ہیں؟  اگر عورت کچھ نا پہنے تو بھی اسکی مرضی اگر وہ حجاب لے تو وہ بھی اسکی مرضی!  آپ ہوتے کون ہیں حجاب کرنے والی خواتین کے خلاف کچھ بھی کہنے والے… حجاب کرنے والی خواتین تو پاکیزگی کی علامت ہیں آپ اپنی غلیظ سوچ اور غلیظ زبان صرف اپنی کلاس(میرا جسم میری مرضی)  کی خواتین کیلیے استعمال کریں… 

    حجاب کرنے والی خواتین و لڑکیاں آج حجاب میں اسکول و کالج اور یونیورسٹیز بھی جاتی ہیں اور عام لڑکیوں سے زیادہ کامیاب بھی ہیں کیونکہ حجاب وہی خواتین لیتی ہیں جو "خاص” ہیں 

    اور جو خاص ہیں وہ تو پھر ہر چیز میں خاص ہوتی ہیں… پاکستان میں ہر شعبے میں حجاب کرنے والی خواتین موجود ہیں جنکی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ حجاب انکی زندگی میں رکاوٹ نہیں ہے… 

    حجاب تو خاتون جنت، جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا زیور ہے …حجاب تو اللہ کے رسول کی محبوب زوجہ عائشہ صدیقہ  رض کا زیور ہے… حجاب تو اسلام کی پہچان ہے… حجاب ہر خاص مسلم عورت کا زیور ہے… حجاب وہ زیور ہے جو ایک عورت کیلیے تحفظ ہے…یہ محض کپڑے کا ایک ٹکڑا اپنے پیچھے انگنت مصلحتیں لیے ہوئے ہے جبھی یہ ان دین بیزار لبرلز کے گلے کی ہڈی بن جاتا ہے.. 

    حجاب کرنا ایک مسلمان عورت پر فرض ہے …آج کی اکیسویں صدی میں خواتین پورے وقار اور فخر کے ساتھ حجاب کرتی ہیں اور بہت سی جگہوں پر حجاب فیشن بھی ہے …حجاب مسلم خواتین کو عام خواتین سے الگ اور منفرد بناتا ہے…یہی وہ انفرادیت ہے جو معاشرے کے ان داغوں سے برداشت نہیں ہوتی …

    قرآن پاک میں بھی اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

    "اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔ یہ ان کے لئے موجب شناخت ہو گا تو ان کو کوئی ایذا نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ عزوجل بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔”

    اس آیت میں پردے کے واضح احکامات موجود ہیں اور جب اللہ نے حکم دے دیا مسلم عورتوں کو کہ چادر سے خود کو چھپالیں تو اس کے حکم کے بعد کس کی بات اہمیت رکھتی ہے! 

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ جسکی بنیاد بے شمار جوانیوں، ان گنت آبروؤں اور عصمتوں پر رکھی گئ جہاں عصمت کیلیے جان دے کر عورتوں نے اپنے وطن کا قرض ادا کیا ،جس کے لیےشہیدوں کے خون کی ندیاں بہادی گئیں… جس ملک کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ ہے اس ملک میں کوئ بھی دین بیزار داغدار اور معاشرے پہ بوجھ اٹھ کر مسلمان عورت کے تحفظ کی چادر پر کیسے سوال اٹھا سکتا ہے؟ 

    جتنا یہ معاشرے کے داغ ایک عورت کے تحفظ پہ سوال اٹھائیں گے اتنا ہی یہ ہمیں مزید مضبوط کردیں گے!  

    ہم اگر استقامت سے حجاب لے سکتے ہیں تو اپنے حجاب کی حفاظت کرنا بھی بخوبی جانتے ہیں!

    حجاب ہمارا وقار ہے 

    حجاب ہمارا فرض ہے

    یاد رکھیے!  کہ ہر وہ عمل جس کی بدولت ہمارا معاشرہ اخلاقی بلندی کی طرف جاتا ہے انکو تکلیف دیتا ہے اسلیے انکے منہ سے نکلی گئ غلاظت انہی کے منہ پر دے ماریے اور جس پہ یہ انگلی اٹھائیں وہی کام پورے فخر کے ساتھ کیجیے کہ یہ ہمیشہ حق پر ہی انگلی اٹھاتے ہیں… 

    اور آگے بڑھیئے کہ ہمارے لیے تو ابھی کرنے کے بہت سے کام باقی ہیں جن پر انکو مزید جلنا ہے ✌️

  • عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی تحریر سیدہ ام حبیبہ

    عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی ہر جگہ ہر فورم پہ عورت کی آزادی پہ مباحثے اور تقاریر چلتی ہیں.آئے دن سوشل میڈیا پہ بھی یہی موضوع زیرِ بحث رہتا ہے.
    ایک جماعت عورت کی آزادی کے حق کے لیے قلم آزمائی کرتی نظر آتی ہے.تو دوسری اسکے تحفظ یا پردے کی بابت دلائل دیتی ہے.
    اب کیسے جانیں کہ کون عورت کا اصل حامی ہے اور کون نہیں.
    اس کے لیے ہمیں آزادئ نسواں کی جدوجہد پس منظر اور موجودہ صورتحال کو یک مشت دھیان میں رکھنا ہوگا.
    عورت کو صنفِ نازک بھی کہا جاتا ہے. اس کی نزاکت اسکی جسمانی ساخت کے اعتبار سے قدرت نے طے کی ہے.اس عورت کی محبت میں اس کے احترام میں کہیں تو سردارِ انبیاء صلوۃ اعزاز میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہیں عورت کو زدوکوب کیا جاتا ہے.
    عورت پہ ظلم و ستم کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے میں خواتین کے حقوق کے لیے کچھ انقلابی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے معاشرے سے اس ظلم کے خاتمے کی کوشش شروع کر دی شمع سے شمع جلتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح. پہ سینکڑوں تنظیمیں خواتین کے حقوق او تحفظ کی ضامن بننے لگیں.
    سب اچھا جا رہا تھا مگر ایک پل کو رکیے کہ غلط کیا تھا اور کہاں تھا..
    ان ہی تنظیموں کو عالمی ادارے فنڈنگ بھی کرتے تھے. کہ مالی لحاظ سے کوئی دشواری نہ ہو…
    مگر پھر رکیے .
    اب دیکھیے کیا یہ ساری تنظیموں کا مقصد خواتین کا تحفظ ہی تھا؟
    قارئین محترم ایسا جال بنا جا رہا تھا جس سے بچنا ناممکن ہو جاتا.ان تنظیموں کی آڑ میں ایسی تنظیمیں وجود میں أئیں جو مغربی ایجنڈے کے لیے پسماندہ ممالک میں کام کرتیں اور عورتوں کے حقوق کے نام پہ وہاں اپنے مذموم عزائم پورے کرتیں.
    وطنِ عزیز میں بد قسمتی سے لبرل ازم کی آزادی کی خوب پامالی کی گئی.
    لبرل ازم کے نام پہ ننگ پن کو پروموٹ کیا جانے لگا.اور لباس کو جسم کو عورت کی آزادی عورت کے حقوق کے نام پہ یورپ کے مطابق ڈھالا جانے لگا.
    جینز ٹاپ اور دیگر تمام مغربی لباس پہننا عورت کی آزادی سمجھا گیا.اور برقعہ حجاب عورت کی غلامی.
    ایک پل کو وہ عورت جس نے جینز ٹائٹ پہنی ہو اور اسکے ہر شخص آتا جاتا ایکسرے کر رہا ہے
    کیا اسکے جسم پہ واقعی اسکی مرضی چل رہی ہے؟
    یا سینکڑوں راہگیروں کی مرضی؟.
    خیر آمد برسرِ مطلب کہ ایک ہود نامی شخص ایک بے ہودہ سا بیان داغتا ہے کہ برقعے حجاب میں عورت نارمل نہیں ہوتی .اور اس قدر حقارت اور ننگ دھڑنگ لڑکیاں ایکٹو ہوتی ہیں.
    یہ وہ سوچ ہے جو عورت کی آزادی نہیں عورت تک رسائی چاہتی ہے.
    یہ رال ٹپکاتے بھیڑیے ہیں.جو برقعے والی عورت کے خال و خد نظر نہ آنے پہ اس برقعے کو پستی اور غلامی سے تعبیر کرتے ہیں.
    عورت کا تحفظ خود عورت کرتی ہے.عورتیں ان کو اپنا محافظ مانتی ہیں جو دراصل انکے جسم سے لباس سے خائف ہیں اور اس کم سے کم دیکھنے کو آزادی کہتے ہیں.

    تلخی تحریر کی کڑواہٹ نہ منہ میں بھر دے
    چائے میں چینی ذرا اور ملا کر پڑھیے

    @hsbuddy18