Baaghi TV

Category: خواتین

  • لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے امکانات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @Rohshan_Din

    جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے  ذہن میں سب سے پہلے کیا آتا ہے؟ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم  کسی خاص لڑکی کو یاد کریں جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلتی ہوگی  جو پرائمری سکول نہیں جا سکی۔ یا شاید ہم کسی خاص دباو اور مداخلت کی بدولت   پرائمری سکول میں پڑھنے والی مسکراتی اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی ان عظیم تصاویر میں سے ایک کو دیکھیں گے۔

     دونوں تصاویر درست ہیں ، لیکن وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے تک ، بہت سی لڑکیوں نے پرائمری سکول بھی مکمل نہیں کیا تھا۔  ترقیاتی پروگرام کے وجہ سے   بنیادی تعلیم میں اچانک مساوات کی طرف ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم ، مہارت اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے آج کے چیلنجز بدل گئے ہیں۔

     

    پرائمری سکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے اپنی ضرورت کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ، ہمیں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہر قدم پر ، ہمارے پاس ایک اچھا خیال ہے کہ کون سی مداخلت لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    سب سے پہلے ،  ابتدائی بچپن کی ترقی (ECD) کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد دیں۔ ابتدائی زندگی میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہے ، لیکن مؤثر ECD پروگرام اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اس طرح زیادہ ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سی ڈی پروگرام تکنیکی ، علمی ، اور طرز عمل کی مہارتیں بناتے ہیں جو بعد کی زندگی میں اعلی پیداوری کے لیے سازگار ہوتی ہے۔اصولی اور  کامیاب مداخلت دیگر شعبوں میں ، غذائیت ، محرک اور بنیادی علمی مہارت پر زور دیتی ہے۔

    ایک نئی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں تعلیم  پہ توجہ سے ایک خاطر خاہ تبدیلی آئی ہے۔   ، ایک ECD مداخلت کے 20 سال بعد ، فائدہ اٹھانے والوں کی اوسط کمائی  لڑکے اور لڑکیوں  کو پابند رکھنے والے علاقوں  کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے بڑے فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں اگر تمام بچے اس طرح کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں ، جو کہ حتمی مقصد ہے ، اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ابتدائی نفسیاتی محرک مستقبل کی کمائی کو کافی حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔

     اور اس کے بعد   بنیادی تعلیم پر مرکوز ہے۔جو  خلاء باقی ہے ، اس بات کا یقین کرنے کے لیے۔آئندہ کاغذ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد سےکم آمدنی والے ممالک میں ، 20 فیصد غریب ترین گھرانوں میں صرف 34 فیصد لڑکیاں پرائمری سکول مکمل کرتی ہیں ، جبکہ امیر ترین 20 فیصد گھرانوں میں 72 فیصد لڑکیاں . آمدنی سے متعلق یہ خلا لڑکیوں کے سکول جانے کے مواقع کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مداخلت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ، 

     

    یمن میں ، ایسا ہی ایک نیا پروگرام جو پسماندہ طبقات میں 4-9 گریڈ میں لڑکیوں کو فوکس کر کے بناتا ہے وہ کافی کامیاب پروگرام رہا۔  داخلہ اور حاضری بڑھانے کے علاوہ ، ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سکول جانے والی تمام لڑکیاں سیکھ سکیں – سیکھنے کے مضبوط معیارات ، اچھے اساتذہ ، مناسب وسائل ، اور ایک مناسب ریگولیٹری ماحول جو کہ احتساب پر زور دیتا ہے۔

     لیکن سیکھنا کس کے لیے؟ اپنی خاطر تعلیم یقینی طور پر ایک اندرونی قدر رکھتی ہے ، لیکن تعلیم اور تربیت جو کام کی جگہ پر مفید ثابت ہوتی ہے وہ بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو بڑھنے میں مدد دینے کا اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انہیں ملازمت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کی جائیں جن کا آجر درحقیقت مطالبہ کرتے ہیں ، یا وہ اپنا کاروبار شروع کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔اور وہ معاشرے کے کارامد رہے

     

    بہت سے ممالک نے بنیادی تعلیم میں خواتین برابری حاصل کی ہے (یا تیزی سے ترقی کر رہے ہیں)۔ اس کے برعکس ، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں لیبر فورس کی شرکت نوجوان خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے۔ پاکستان  ، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ میں ، 15-24 سال کی تمام لڑکیوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنخواہ دار کام میں مصروف نہیں ہیں اور کام کی تلاش میں نہیں ہیں۔ اور انٹرنیشنل انکم ڈسٹری بیوشن ڈیٹا بیس کے مطابق ، عالمی سطح پر تقریبا 40 40 فیصد نوجوان خواتین یا تو بے روزگار ہیں یا ‘بیکار’ ہیں (نہ تعلیم میں ، نہ کام میں)۔ اس کے علاوہ لاکھوں نوجوان خواتین ہیں جو بغیر تنخواہ یا غیر پیداواری کام میں مصروف ہیں۔

     اگلے مرحلہ ایک ایسے ماحول کی تخلیق سے متعلق ہے جو علم اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے لیے اختراعات سے متعلق مہارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو آئیڈیاز سے جوڑنے میں مدد ملے ، نیز رسک مینجمنٹ ٹولز جو جدت کو آسان بناتے ہیں۔ ایک بار پھر ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں  کو نقصان ہوتا ہے ، کم مواقع ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ، بہت سے ممالک میں انٹرپرینیورشپ کی شرح کم ہوتی ہے۔اور اکثر اجکل تو خواتین کو وہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی جس میں وہ معاشرے  کی تربیت کے لئے  ایک اچھا کردار ادا کر سکے۔ 

     آخر میں  یہ ضروری ہے کہ معاشرے لچکدار ، موثر اور محفوظ لیبر مارکیٹ کو فروغ دیں۔ آمدنی کے تحفظ کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے سخت نوکری کے تحفظ کے ضوابط سے بچنے کے علاوہ ، کارکنوں اور فرموں کے لیے ثالثی کی خدمات مہیا کرنا مہارت کو حقیقی روزگار اور پیداوری میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔خواتین ورکر کو پرامن اور اچھا ماحول  دیا جاے جہاں وہ سکون سے کام کر سکے ایک اچھی تنخوا اور ان کا مقرر کردہ وقت پہ سختی سے پابند کیا جاے کہ ان سے زیادہ کام تو نہی لے رہا کوئی۔ 

    لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے وقت ، پرائمری سکولوں کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لڑکیوں کی زندگی میں کامیابی کے لیے یہ کافی نہیں ہے: ہمیں پرائمری اسکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی کی نوکری کے بازار میں داخل ہونے والی لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو ایسی مہارتوں اور علم کی ضرورت ہوگی جو صرف ان کی زندگی بھر میں تیار کی جاسکیں۔ انہیں راستے میں ہر قدم پر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

     

    یہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ لڑکیاں اکثر زیادہ تنگ ہوتی ہیں اور انہیں مواقع تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے ، جس کے نتیجے میں توقعات کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ، کم از کم جزوی طور پر ، یہ بتاتے ہوئے کہ مارکیٹیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ 

    ہمارے ملک میں خواتین کے کام نہ کرنے کے وجہ میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ وہ  آفس میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی  ہیں ۔اکثر خواتین شادی کے بعد نوکری کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ہماری تحقیق سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت سارے  خاوند خواتین کو اس  لئے بھی کام کرنے سے روکتے ہیں کے کہیں  وہ کسی کے ساتھ افئر نہ چلاے۔ دوسرے طرف خواتین کو سستہ لیبر سمجھا جاتا ۔ان کی اجرت بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھی وہ کام کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ 

    ملک میں خواتین کو تعلیم کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کے گھر والے ان پہ یقین رکھے افسز میں ان کے زندگی مکمل طور پہ محفوظ ہو۔ان کے دفتر کے اوقات کار کو کم سے کم رکھا جاے ان کے لئے تنخواہوں میں خصوصی پیکجزدیئے جائے تاکہ وہ معاشرے کے ترقی میں اپنا کردار (رول) ادا کر سکے

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم


    دین اسلام کی آمد عورت کیلٸے غلامی و ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کی نوید تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے خلاف تھا اور عورت کو وہ حقوق اور فرائض  عطا کیے جس کی وہ مستحق تھیں دین اسلام نے عورت کو اس قدر عزت و اہمیت دی کہ قرآن کی ایک عظیم سورۃ کا نام سورۃ النساء ہے۔ پھر  ایک اور سورۃ کا نام سورۂ مریم ہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے دور سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی ہر دور میں عورتوں پر ظلم  و جبر کیا گیا ہے ۔ مرد انہیں اپنے عیش وعشرت کی غرض سے خرید اور فروخت کرتے انکے ساتھ جانوروں سے بھی  بدتر سلوک کیاجاتاتھا حتی کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو معیوب سمجھتے تھے اور بیٹیوں  کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ہندوستان میں خاوند کی چتا پر اس کی بیوہ اہلیہ کو جلایا جاتا تھا ۔ واہیانہ مذاہب بھی عورت کو گناہ کا سرچشمہ  سمجھتے تھے۔ عورت سے تعلق رکھناروحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ دنیا کے زیادہ تر تہذیبوں میں عورت کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ عورت کو حقیر وذلیل نگاہوں سے دیکھاجاتا تھا۔ عورت کے معاشی اور سیاسی حقوق نہیں تھے، عورت آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کرسکتی تھی۔ عورت اپنے باپ کی پھر اپنے خاوند   کی اور اس کے بعد اپنے بچوں کی تابع اور محکوم تھی۔ عورت کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا۔ یہاں تک کہ عورتوں کو فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔
    لیکن دین اسلام نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کوزندہ درگور کرنے سے منع فرمایا اور ذلت اور پستی کے گڑھوں سے نکالا۔ اسے باپ کے لیے رحمت بنایا، شوہر کے لیے راحت،بھاٸیوں کے لیے شفقت بنایا اور ماں کے روپ میں محبت اور الفت کا سرچشمہ بنایا ۔سب سے پہلے دین اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیئے جس سے وہ صدیوں سے محروم چلی آرہی تھی اور عورت کو یہ حقوق دین اسلام نے اس لئے نہیں عطا کئے تھے کہ عورت اس کا مطالبہ کر رہی تھی یا عورتوں نے کوئی مارچ کیا تھا، بلکہ دین اسلام نے یہ حقوق اور فرائض  عورت کو اس لئے تفویض کئے کہ یہ عورت کے فطری حقوق اور فرائض  تھے، جس کی وہ قدرت کی طرف سے حق دار تھی اور ہمیشہ رہے۔ گی  دین دین اسلام نے عورت کو انسانیت کے دائرے میں حقوق اور فرائض  دیئے اور لوگوں کو یاد دلایا کہ مرد ہونا کوئی برتری کی علامت نہیں ہے اور عورت ہونا کوئی باعث عار شے  نہیں ہے۔اسلام نے عورتوں کو آزادی رائے کا پورا حق ہے۔عورت نے دین اسلام کو بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت میں بے پناہ حقوق و فراٸض اور آزادیاں دی ہیں، مگر حد سے تجاوز کرنے سے ممانعت کیں ہے مگر  کچھ نا سمجھ لبرلز عورتوں آزادی چاہتی ہیں اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر عورتوں کو پھسلانا چاہتی ہیں، جبکہ ہمارا جسم تو اللہﷻ  کا عطا کردہ ہے اور اگر ہم اس جسم پر اللہ ﷻ کی مرضی کی بجائے کچھ اور نافذ کریں گے تو وہ یقینا فلاح نہیں ہو گی اس لئے عورتوں کو وراثت میں حق دینے کے لئے مارچ ہونے چاہئیں ، انہیں بہترین  تربیت اور تعلیم دی جانے چاہیے اور جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارے کے لئے مارچ ہونے چاہئے جو عورت کے حقیقی مسائل ہیں اور اسی کیلٸے ہمیں مل کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب  مسلم بہنوں  کو اسلام کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

    ‎@MahaViews_

  • بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    میں ان خواتین سے پوچھوں گا جو سڑکوں پر فحاشی اور بے شرمی کا مظاہرہ کررہی ہیں ، "کیا آپ نے اسلام سے پہلے خواتین کی تاریخ پڑھی ہے؟ کیا آپ جانتی ہیں؟

    اسلام سے قبل عورت کو کتنا ذلیل و رسوا کیا جاتا تھا۔اسلام سے پہلے عورتوں کی عزت کو کس قدر پامال  کیا جاتا تھا۔اسلام سے قبل ہندو عیساٸ اور یہودی عورت کو نہ صرف "منحوس” سمجھتے تھے بلکہ "بیٹی”پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔عورت کو جاٸیداد میں حق ملتا تھا اور نہ ہی معاشرے میں اس کا کوٸ کردار تھا۔مرد جب چاہتا کسی عورت سے شادی کرتا۔جب چاہتا اسے طلاق دے دیتا۔عورت پر ہر قسم کی پابندی تھی عورت پر جانوروں کی طرح ظلم و ستم کیا جاتا تھا۔

    اس کے برعکس اسلام نے عورت کو عزت دی۔اسلام نے عورت کو زندہ دفنانے سے منع کا۔اسلام نے عورت پر ظلم و ستم سے روکا۔

    بیٹی کو اللہ کی رحمت کہاگیا۔اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ کہا ہے۔اسلام نے عورت کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔اسلام نے عورت کو ہر روپ میں عزت بخشی۔اسلام نے عورت کو جاٸیداد میں حقوق دلواۓ۔

    عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔عورت اگر بیوی ہے تو سکون ہے۔عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔اسلام نے عورت کو چادر اور چاردیواری کا تحفظ فراہم کیا۔

    آپﷺ نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں. ۔جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟ بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.

    جبکہ

        یہودی او عیساٸ آج بھی عورت کو کھلونہ سمجھ کر اس سے کھیلتے  ہیں۔ عورت کو آج بھی وراثت میں حق نہیں دیتے۔عورت کو کلبز اور شراب خانوں میں ننگا نچواتے ہیں۔عورت کو فاحشہ بننے پر داد دیتے ہیں۔

    اس سب کے باوجود میرا جسم میری مرضی کرنے والیوں کو اعتراض ہے کے اسلام نے انکو حقوق نہیں دیۓ

    اگر اسلام نے آپکو حقوق نہیں دیۓ تو میں چیلنج کرتا ہوں بتاۓ دنیا کا وہ کونسا مذہب ہے جس نے آپ(عورت)کوحقوق دیۓ۔

    اے مسلمان بہن خدارا مغربی عورتوں  کی طرح خود کو جسم بیچنے والی دکان مت بنا۔آپ باعزت ہیں۔آپ ان مغربی بےحیاہ عورتوں کی طرح بلکل بھی نہیں ہیں۔جنہیں مرد جب چاہے اپنی حوس پوری کرنے کے بعد چھوڑ دیتا ہے۔

    اللہ ﷻ نے آپکو عزت دی ہے۔آپکو کوٸ غیر محرم چھونا تو دور دیکھ بھی نہیں سکتا۔عورت اللہﷻ کے نزدیک تبھی ہوتی ہے جب وہ چاردیواری میں رہتی ہے۔اسلام نے آپکو تحفظ دیا ہے پھر بھی آپ نعرے لگاتی ہیں کے اسلام نے حقوق نہیں دیے 

    دعا ہے۔اپنے آپ کو پہچانو خود کو بازاروں کی زینت مت بناو۔ افراط

     اللہ پاک آپ سب(بہنوں) کی عزت محفوظ رکھے آمین

    تحریر اچھی لگے تو لاٸک اور شیئر ضرور کریں

  • میرا حجاب میری مرضی  تحریر : تماضر خنساء

    اسلام ایک کامل دین ہے جس میں قیامت تک کے انسانوں کیلیے راہ ہدایت موجود ہے.. دین کامل میں زندگی کے ہر معاملے پرواضح احکامات عطا کیےگئے ہیں ..جہاں اسلام فرض عبادات کی اہمیت بتاتا ہے وہیں دوسرے معاملات پر بھی رہنمائ موجود ہے.. اسلام آنے سے قبل عرب میں جہالت کا دور دورہ تھا.. لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا، لڑکی بوجھ سمجھی جاتی تھی.. مگر اسلام نے آکر عورتوں کو انکے حقوق عطاکیے انکو عزت و اکرام عطا کیا…اسلام کی روشنی نے عورتوں کو تحفظ عطا کیا اور یہ تحفظ حجاب کی صورت میں ایک مسلم عورت کو پہچان کیلیے عطا کیا گیا…

    آج پھر سے جہالت اور بے حیائ کا دور دورہ ہے.. اسی بے حیائ اور جہالت کے پیدا کیے معاشرے کے داغ آج عورت کے تحفظ کی علامت پر سوال اٹھاتے ہیں ،ہر ناجائز کو جائز بنانے پر تلے ہیں… معاشرے کے ان داغوں سے مسلمان عورت کا بے داغ کردار آج ہضم نہیں ہورہا جبھی آج یہ مسلم عورت کو زبردستی جہالت کی کیچڑ میں لاکھڑا کرنا چاہتے ہیں.. 

    حجاب آج بھی مسلم معاشرے میں وقار اور تقدس

     کی علامت سمجھا جاتا ہے.. یہ چادر کا ایک ٹکڑا مسلمان عورت کی حفاظت کرتا ہےاور نا محرم مرد کی نگاہوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے… آج کے ترقی یافتہ دور میں حجاب لینا ایک عام بات ہے مگر بہت سے دین بیزاروں آج بھی وہی شدت پسند سوچ عام ہے.. حجاب مسلم عورت کیلیے فخر ہے کہ وہ اتنی قیمتی ہے کہ اسے ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے یہ تحفظ ہی توہے جو حجاب ایک مسلمان عورت کو دیتا ہے… 

    آج مسلم خواتین حجاب میں رہ کر بھی ترقی کے ہر میدان میں پیش پیش ہیں… آج مسلم عورتوں کی اکثریت حجاب میں پورے فخر سے ہر فیلڈ میں کام کرتی ہیں اور کامیاب بھی ہیں… 

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہر کچھ دن بعد کپڑے کا یہ ٹکڑا کسی نا کسی کو تکلیف کیوں دینے لگتا ہے؟  جب ایک عورت اس میں مکمل اطمینان محسوس کرتی ہے تو آخر ان دوٹکے کے لوگوں کو ہمارے حجاب سے اتنی تکلیف کیوں  ہے؟ 

    جب ایک چیز آپکی پہنچ میں نہ رہے تو انسان ایسے ہی باؤلا ہوتا ہے کہ جو منہ میں آتا ہے بکتا ہے یہی ان لبرلز کا حال ہے ..یہ چاہتے ہیں کہ ایک مسلم عورت سے اسکا وقار چھین لیں.. انہی لبرلز میں سے چند آنٹیاں اٹھ کر نعرہ لگاتی ہے کہ میرا جسم میری مرضی تو پھر آخر انہی میں سے کچھ لوگ دوسری خواتین پر انگلی اٹھانے کا حق کہاں سے لائے ہیں؟  اگر عورت کچھ نا پہنے تو بھی اسکی مرضی اگر وہ حجاب لے تو وہ بھی اسکی مرضی!  آپ ہوتے کون ہیں حجاب کرنے والی خواتین کے خلاف کچھ بھی کہنے والے… حجاب کرنے والی خواتین تو پاکیزگی کی علامت ہیں آپ اپنی غلیظ سوچ اور غلیظ زبان صرف اپنی کلاس(میرا جسم میری مرضی)  کی خواتین کیلیے استعمال کریں… 

    حجاب کرنے والی خواتین و لڑکیاں آج حجاب میں اسکول و کالج اور یونیورسٹیز بھی جاتی ہیں اور عام لڑکیوں سے زیادہ کامیاب بھی ہیں کیونکہ حجاب وہی خواتین لیتی ہیں جو "خاص” ہیں 

    اور جو خاص ہیں وہ تو پھر ہر چیز میں خاص ہوتی ہیں… پاکستان میں ہر شعبے میں حجاب کرنے والی خواتین موجود ہیں جنکی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ حجاب انکی زندگی میں رکاوٹ نہیں ہے… 

    حجاب تو خاتون جنت، جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا زیور ہے …حجاب تو اللہ کے رسول کی محبوب زوجہ عائشہ صدیقہ  رض کا زیور ہے… حجاب تو اسلام کی پہچان ہے… حجاب ہر خاص مسلم عورت کا زیور ہے… حجاب وہ زیور ہے جو ایک عورت کیلیے تحفظ ہے…یہ محض کپڑے کا ایک ٹکڑا اپنے پیچھے انگنت مصلحتیں لیے ہوئے ہے جبھی یہ ان دین بیزار لبرلز کے گلے کی ہڈی بن جاتا ہے.. 

    حجاب کرنا ایک مسلمان عورت پر فرض ہے …آج کی اکیسویں صدی میں خواتین پورے وقار اور فخر کے ساتھ حجاب کرتی ہیں اور بہت سی جگہوں پر حجاب فیشن بھی ہے …حجاب مسلم خواتین کو عام خواتین سے الگ اور منفرد بناتا ہے…یہی وہ انفرادیت ہے جو معاشرے کے ان داغوں سے برداشت نہیں ہوتی …

    قرآن پاک میں بھی اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

    "اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔ یہ ان کے لئے موجب شناخت ہو گا تو ان کو کوئی ایذا نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ عزوجل بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔”

    اس آیت میں پردے کے واضح احکامات موجود ہیں اور جب اللہ نے حکم دے دیا مسلم عورتوں کو کہ چادر سے خود کو چھپالیں تو اس کے حکم کے بعد کس کی بات اہمیت رکھتی ہے! 

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ جسکی بنیاد بے شمار جوانیوں، ان گنت آبروؤں اور عصمتوں پر رکھی گئ جہاں عصمت کیلیے جان دے کر عورتوں نے اپنے وطن کا قرض ادا کیا ،جس کے لیےشہیدوں کے خون کی ندیاں بہادی گئیں… جس ملک کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ ہے اس ملک میں کوئ بھی دین بیزار داغدار اور معاشرے پہ بوجھ اٹھ کر مسلمان عورت کے تحفظ کی چادر پر کیسے سوال اٹھا سکتا ہے؟ 

    جتنا یہ معاشرے کے داغ ایک عورت کے تحفظ پہ سوال اٹھائیں گے اتنا ہی یہ ہمیں مزید مضبوط کردیں گے!  

    ہم اگر استقامت سے حجاب لے سکتے ہیں تو اپنے حجاب کی حفاظت کرنا بھی بخوبی جانتے ہیں!

    حجاب ہمارا وقار ہے 

    حجاب ہمارا فرض ہے

    یاد رکھیے!  کہ ہر وہ عمل جس کی بدولت ہمارا معاشرہ اخلاقی بلندی کی طرف جاتا ہے انکو تکلیف دیتا ہے اسلیے انکے منہ سے نکلی گئ غلاظت انہی کے منہ پر دے ماریے اور جس پہ یہ انگلی اٹھائیں وہی کام پورے فخر کے ساتھ کیجیے کہ یہ ہمیشہ حق پر ہی انگلی اٹھاتے ہیں… 

    اور آگے بڑھیئے کہ ہمارے لیے تو ابھی کرنے کے بہت سے کام باقی ہیں جن پر انکو مزید جلنا ہے ✌️

  • عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی تحریر سیدہ ام حبیبہ

    عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی ہر جگہ ہر فورم پہ عورت کی آزادی پہ مباحثے اور تقاریر چلتی ہیں.آئے دن سوشل میڈیا پہ بھی یہی موضوع زیرِ بحث رہتا ہے.
    ایک جماعت عورت کی آزادی کے حق کے لیے قلم آزمائی کرتی نظر آتی ہے.تو دوسری اسکے تحفظ یا پردے کی بابت دلائل دیتی ہے.
    اب کیسے جانیں کہ کون عورت کا اصل حامی ہے اور کون نہیں.
    اس کے لیے ہمیں آزادئ نسواں کی جدوجہد پس منظر اور موجودہ صورتحال کو یک مشت دھیان میں رکھنا ہوگا.
    عورت کو صنفِ نازک بھی کہا جاتا ہے. اس کی نزاکت اسکی جسمانی ساخت کے اعتبار سے قدرت نے طے کی ہے.اس عورت کی محبت میں اس کے احترام میں کہیں تو سردارِ انبیاء صلوۃ اعزاز میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہیں عورت کو زدوکوب کیا جاتا ہے.
    عورت پہ ظلم و ستم کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے میں خواتین کے حقوق کے لیے کچھ انقلابی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے معاشرے سے اس ظلم کے خاتمے کی کوشش شروع کر دی شمع سے شمع جلتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح. پہ سینکڑوں تنظیمیں خواتین کے حقوق او تحفظ کی ضامن بننے لگیں.
    سب اچھا جا رہا تھا مگر ایک پل کو رکیے کہ غلط کیا تھا اور کہاں تھا..
    ان ہی تنظیموں کو عالمی ادارے فنڈنگ بھی کرتے تھے. کہ مالی لحاظ سے کوئی دشواری نہ ہو…
    مگر پھر رکیے .
    اب دیکھیے کیا یہ ساری تنظیموں کا مقصد خواتین کا تحفظ ہی تھا؟
    قارئین محترم ایسا جال بنا جا رہا تھا جس سے بچنا ناممکن ہو جاتا.ان تنظیموں کی آڑ میں ایسی تنظیمیں وجود میں أئیں جو مغربی ایجنڈے کے لیے پسماندہ ممالک میں کام کرتیں اور عورتوں کے حقوق کے نام پہ وہاں اپنے مذموم عزائم پورے کرتیں.
    وطنِ عزیز میں بد قسمتی سے لبرل ازم کی آزادی کی خوب پامالی کی گئی.
    لبرل ازم کے نام پہ ننگ پن کو پروموٹ کیا جانے لگا.اور لباس کو جسم کو عورت کی آزادی عورت کے حقوق کے نام پہ یورپ کے مطابق ڈھالا جانے لگا.
    جینز ٹاپ اور دیگر تمام مغربی لباس پہننا عورت کی آزادی سمجھا گیا.اور برقعہ حجاب عورت کی غلامی.
    ایک پل کو وہ عورت جس نے جینز ٹائٹ پہنی ہو اور اسکے ہر شخص آتا جاتا ایکسرے کر رہا ہے
    کیا اسکے جسم پہ واقعی اسکی مرضی چل رہی ہے؟
    یا سینکڑوں راہگیروں کی مرضی؟.
    خیر آمد برسرِ مطلب کہ ایک ہود نامی شخص ایک بے ہودہ سا بیان داغتا ہے کہ برقعے حجاب میں عورت نارمل نہیں ہوتی .اور اس قدر حقارت اور ننگ دھڑنگ لڑکیاں ایکٹو ہوتی ہیں.
    یہ وہ سوچ ہے جو عورت کی آزادی نہیں عورت تک رسائی چاہتی ہے.
    یہ رال ٹپکاتے بھیڑیے ہیں.جو برقعے والی عورت کے خال و خد نظر نہ آنے پہ اس برقعے کو پستی اور غلامی سے تعبیر کرتے ہیں.
    عورت کا تحفظ خود عورت کرتی ہے.عورتیں ان کو اپنا محافظ مانتی ہیں جو دراصل انکے جسم سے لباس سے خائف ہیں اور اس کم سے کم دیکھنے کو آزادی کہتے ہیں.

    تلخی تحریر کی کڑواہٹ نہ منہ میں بھر دے
    چائے میں چینی ذرا اور ملا کر پڑھیے

    @hsbuddy18

  • ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟  تحریر: احسان الحق

    ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟ تحریر: احسان الحق

    آج سے تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک رشتے دار عزیز کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس اس کو گرفتار کر کے لے گئی. مدعی نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ اس نے چھری دکھاتے ہوئے مجھے قتل کی دھمکی دی یا قتل کرنے کی کوشش کی. عدالت میں گواہ بھی پیش کر دئیے گئے. ملزم مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا. آخر کار متعدد پیشیوں اور ضروری عدالتی کاروائی کے بعد معزز عدالت نے ملزم کو مجرم بنا کر جیل میں بھیج دیا. پچھلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے. دس لاکھ روپے کے بدلے صلح کرنے اور مقدمہ واپس لینے پر اتفاق ہوا. مجرم کے غریب اہل خانہ نے گھر کا سارا مال اور سامان بیچ کر اور ادھار لے کر تقریباً دو ہفتوں میں دس لاکھ کا بندوبست کر لیا. تقریباً ڈیڑھ لاکھ اوپر خرچ ہوا. کل گیارہ لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنے کے بعد ملزم یا مجرم پچھلے ہفتے گھر واپس آیا. یہاں پر ایسا قانون حرکت میں آیا جو ہمیشہ عام غریب پاکستانی کے خلاف حرکت میں آتا ہے.

    مذکورہ بالا واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چھری دکھاتے ہوئے قتل کی دھمکی کے الزام پر عدالت نے غریب ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا اور دوسری طرف ایک درندے اور سفاک صفت قاتل کو اعتراف جرم کرنے کے باوجود عدالت سزا سنانے سے قاصر ہے. ایک ایسا سفاک قاتل جس کے خلاف جنسی تشدد، جسمانی تشدد، قتل، قتل کے بعد سر کو دھڑ سے الگ کرنے جیسے سنگین ترین الزامات ثابت ہو چکے ہیں. نور مقدم کا قاتل اثرورسوخ اور کافی طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ اعتراف جرم بلکہ اعتراف جرائم کے بعد بھی عدالت میں پیشیاں بھگتائی جا رہی ہیں. ملک عزیز میں قانون اور آئین کی پاسداری اور بالادستی ناپید ہو چکی ہے اور انصاف ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور بالخصوص غریب آدمی کے لئے انصاف لینا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے. ایسے لاتعداد واقعات اور مقدمات ہیں جن میں ملزمان اعتراف جرم کرتے ہیں، اعتراف جرم کے بعد بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی. دوسری طرف غریب آدمی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا اور جرمانے کا مستحق ٹھہرتا ہے. بعض اوقات سزا اور قید مکمل ہونے کے بعد بھی عام آدمی کو اضافی انتظار، محنت اور خرچہ کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جا کر اسکی جان چھوٹتی ہے.

    پچھلے سال لاہور موٹر وے پر ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. ایک کار سوار عورت لاہور سے سیالکوٹ کا سفر کر رہی تھی، گاڑی میں تیل ختم ہونے پر مدد کی انتظار میں سڑک کنارے کھڑی تھی. دو موٹر سوار لوگوں نے جنسی زیادتی کی، جسمانی تشدد کیا اور کچھ سامان بھی چھین کر لے گئے. وہ دونوں مجرم عام پاکستانی تھے. پیسے اور تعلقات کے حوالے سے وہ کمزور مجرم تھے. ان دونوں کو پکڑ لیا گیا اور عدالت نے مختلف دفعات لگاتے ہوئے سزائے موت، قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائیں. حالانکہ اس واقعہ میں عورت کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد سر کو جسم سے الگ بھی نہیں کیا گیا، لاش کی بے حرمتی بھی نہیں گئی. پولیس اور ادارے مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے اور عدالت نے انہیں سخت سزا دی جس کے وہ یقیناً مستحق تھے. مجرموں اور متاثرہ عورت کے درمیان تعلقات اور طاقت کے حوالے سے بہت فرق تھا. متاثرہ عورت ان جیسی عام پاکستانی ہوتی یا مجرم عورت کے مساوی طاقتور ہوتے تو شاید عدالت فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیتی یا ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہوتا.

    نور مقدم واقعہ لاہور موٹروے واقعے سے کہیں زیادہ المناک، دردناک اور دلخراش واقعہ ہے. جس میں قاتل نے انسانیت کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے انتہائی سفاکانہ طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا. قتل سے پہلے جنسی تشدد کیا، جسمانی تشدد کیا، پھر قتل کیا، قتل کے بعد پھر تشدد کیا، سر کو دھڑ سے جدا کر دیا. اس واقعہ پر بہت ساری بحث کی جا چکی ہے اور بحث ہو رہی ہے اور اب لوگوں کو اس قتل کے بابت معلوم کو چکا ہے. یہ ایسا درناک، افسوسناک اور المناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. مانا کہ قاتل اور مقتول دونوں اونچے درجے کے خاندان ہیں. دونوں کے پاس پیسوں اور تعلقات کی کوئی کمی نہیں. نور مقدم کے قاتل کا اعتراف جرم کے باوجود بھی اس کے خلاف سزا نہ سنائی جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل مقتول سے زیادہ طاقتور ہے. میری ذاتی معلومات کے مطابق مجرم نے دوران تفتیش اقبال جرم کر لیا تھا. دوسری طرف پولیس نے موقع واردات سے شواہد بھی اکٹھے کر لئے تھے اور کچھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے تھے. اس سب کے باوجود قاتل ابھی تک سزا سے دور ہے.

    بمطابق 13 ستمبر بروز سوموار کو قاتل ظاہر جعفر کی پیشی تھی. احاطہ عدالت کے باہر لوگوں نے قاتل کو سزا دینے اور نور مقدم کو انصاف دینے کے لئے خاموش احتجاج کیا. ہمارا عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لوگ کمرہ عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی ہماری عدالتیں ان مجرموں کو سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں. مثال کے طور پر ذیل میں کچھ مشہور واقعات اور ان کا اعتراف کرنے والے مجرمین کا ذکر کرتے ہیں.

    کراچی وار گینگ کا سرغنہ عزیر بلوچ دوران تفتیش پولیس کے سامنے اور کمرہ عدالت میں معزز جج کے سامنے 120 سے زیادہ قتل، اغواء برائے تاوان، کراچی میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت، پڑوسی ملک کو حساس مقامات کی معلومات کی فراہمی جیسے سنگین ترین جرائم کا اعتراف کر چکا ہے مگر ابھی تک عدالت نے اسکو سزا نہیں دی. عزیر بلوچ کافی اثرورسوخ رکھنے والا طاقتور آدمی ہے. کراچی میں ایک فیکٹری کے دروازے باہر سے بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 258 مزدور زندہ جل کر خاکستر ہو گئے تھے. آگ لگانے والا رحمان بھولا بیرون ملک سے گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوا اور اقبال جرم کرتے ہوئے سب کچھ کچھ بتا دیا. میرے خیال میں بھولا ابھی تک زندہ ہے. شاہ زیب قتل واقعہ کے مرکزی مجرموں نے کمرہ عدالت میں قتل کا اعتراف کیا تھا مگر ان کو سزا نہیں سنائی جا سکی، اب تو سنا ہے کہ قاتل ملک سے بھی باہر چلا گیا ہے. لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ عظمی کو گھر کی مالکن نے قتل کیا، قتل کرنے کے بعد لاش کو گٹر میں پھینک دیا. مقتولہ نے اقبال جرم کیا، کچھ عرصے بعد عدالت نے مقتولہ کو رہا کر دیا تھا. خیبر پختونخواہ پولیس تہرے قتل میں مطلوب قاتل کو یورپ سے گرفتار کرکے پاکستان لے آئی، قاتل نے عدالت میں اعتراف جرم کیا. کچھ ہفتوں بعد غالباً دو یا تین لاکھ کے بدلے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا. اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے.

    ناقابل تردید شواہد، مختلف تنظیموں اور پاکستانیوں کے پرزور مطالبے اور احتجاج کے باوجود ابھی تک قاتل کے خلاف سخت ترین کاروائی غیر یقینی نظر آ رہی ہے. عدالتی حوالے سے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتیں ظالم کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف دینے میں جلدی کریں. اب دیکھنا یہ ہے کہ قاتل ظاہر جعفر اور شریک جرم اس کے والدین کو عدالت کب اور کتنی سزا دیتی ہے یا پھر رہا کرتی ہے.

    ‎@mian_ihsaan

  • ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم ملک پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہی ہیں پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین ٹیچنگ، میڈیکل، بینکنگ، انجینئرنگ،اکاونٹنٹس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زرائع ابلاغ سے بھی منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز سے منسلک ہیں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہی ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو آزاد تصور کرتی ہے جو کہ انتہائی احمکانہ سوچ ہے، ایسے لوگ خواتین کو اپنی جہالت کی نظر کردیتے ہیں، خواتین کو نہ تعلیم دلوانے کے حق میں ہوتے ہیں بلکہ ساری عمر سسرال والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے جاہل زہنیت کے لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ ان گھرانوں کا بھی حال اچھا نہیں ھے جہاں ملازمت پیشہ خواتین  کو آزاد خیال اور گھر والوں کو دبا کر رکھنے والی تصور کیا جاتا ھے جبکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں زیادہ جدوجہد ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسبت تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔
    اگرچہ مرد کو معاشی ذمہ داریوں کا منبہ قرار دیاجاتا ھے لیکن ملازمت پیشہ خواتین بھی اپنے مردوں کا یہ بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی گو کہ ملازمت پیشہ خواتین کو باہر نکل کر بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے لیکن انہیں مرد کے مقابلے میں دگنی مشقت کرنی پڑتی ھے، ٹرانسپورٹ کے مسائل،طویل اوقات کا سامنا کرکے گھر واپسی پر چہرے پر ناگوار شکن لائے بغیر اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں جت جانا واقعی ہی کسی محاذ سے کم نہیں ھے لیکن یہ کام وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بھرپور طریقے سے سرانجام دیتی ہیں،کبھی بھی کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے ہوئے کرتی ہیں اور معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاتی ہیں، لہذا اب یہ معاشرے کی زمہ داری ھے کہ وہ ایسی خواتین کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھیں،ان پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے ان کے کردار کو سراہا جانا چاہیے،انہیں گھریلو ذمہ داریوں سے مبرا قرار دینا سراسر ان کے ساتھ زیادتی ھے ملازمت پیشہ خواتین معاشرے کا تاج ہیں ان کی عزت اور حفاظت یقیناً معاشرے کی ذمہ داری ھے۔
    پاکستان میں خواتین کے لئے گھر سے باہر نکل کر کام کرنا آسان نہیں ھے انہیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے مردوں میں شعور اجاگر کیا جانا چاہیے کہ بطور مسلمان ان پر خواتین کو ڈھانپنا کہنا ہی فرض نہیں بلکہ خود انہیں بھی نظریں نیچی کرنا ہوتی ہیں اور ملازمت پیشہ خواتین بھی ان کی پسندیدہ خواتین جیسی ہی ہوتی ہیں ان کا بھی اتنی ہی عزت و احترام کیا جانا چاہیے جتنا وہ اپنے گھر کی خواتین کا کرتے ہیں
    Written By : Khalid Imran Khan
    Twitter ID :@KhalidImranK

  • پردہ تحریر:نازش فرید

    پردہ تحریر:نازش فرید

     گھر عورت کی محفوظ ترین پناہ گاہ ہے کیونکہ یہاں وہ نا محرم کی نظروں سے محفوظ ہوتی ہے۔آج ہم اتنے پڑھے لکھے بن گۓ کہ احکام شریعہ کو ہی بدل رہے ہیں اور پھر کیا ہی کمال مہارت سے جسٹیفائی کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اب پردہ صرف نظر کا ہو کر رہ گیا ہے۔ جب کائنات کی پاک عورتوں نے پاک اور صالح مردوں سے پردہ کیا تو ہم کس بنیاد پر صرف نظر کی حفاظت تک پردے کو محدود کیے ہوۓ ہیں۔۔۔کیا  معاذاللہ امہات المومنین کی نظروں میں حیا نہیں تھی یا ان پاک مردوں کی نظروں میں فتور تھا معاذاللہ معاذاللہ۔۔۔بلاشبہ آنکھوں میں حیا ایمان کا تقاضا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ کریم نے عورت کو اپنے آپ کو چھپا کر رکھنے کا حکم دیا۔قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا۔

    قرار رکھو اپنے گھروں میں اور زمانہ جاہلیت کی طرح بے حجابانہ مت پھرو۔(الحزاب : 33)

    اسلام نے عورت کے تمام حقوق واضح کیے۔اگر تھوڑا سوچنے اور سمجھنے کی کوشسش کی جاۓ تو یہ بات اتنی مشکل نہیں کہ پردہ عورت پر فرض ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا حق بھی ہے ۔ یہ حرمت و ناموس کی حفاظت ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی اور اس عزت کی حفاظت عورت پر فرض ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے (یعنی اس پر پردہ فرض ہے) ۔

    اب اپنی زینت کو نمایاں کرتی عورتیں مرد کی نظروں میں حیا تلاش کریں تو اس سے بڑھ کر کوئی احمقانہ فعل نہیں ہو سکتا۔

    اگر مرد کی نظروں میں فتور ہے تو عورت کے دماغ میں بھی فتور ہے اگر ایسا نہیں تو وہ اپنے آپ کو کبھی نا محرم کے سامنے ظاہر نہ کرے۔

     جب لبرل عورتیں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگائیں گی تو لبرل مرد نہیں پیدا ہوں گے کیا؟ وہ بھی ہماری آنکھیں ہماری سوچ ہماری مرضی کے نظریے کے ساتھ آئیں گے۔ ایسے مرد اسی سوچ کی عورتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ

     خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔(النور آیت 26) اس کے بعد تو کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

    المیہ تو یہ ہے کہ یہی لبرل ازم کا راگ الاپتی عورتوں کو کوئی سانحہ ہونے پر اسلام کے دیے گۓ حقوق یاد آ جاتے ہیں ۔ سب سے اہم بات کہ اللہ تعالیٰ نے پردے کے ذریعے مسلمان عورت کو شناخت دی۔ باپردہ عورت مومنہ پہچانی جاتی ہے سورۃ الاحزاب میں فرمانِ الٰہی ہے

    اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دے (جب وہ راستے میں نکلیں تو) اپنی چادروں کے گھونگٹ اپنے اوپر ڈال لیا کریں، اس سے امید ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور ان کو کوئی تکلیف نہ دی جائے گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

        عورت اپنے جائز حقوق و فرائض سے خود محروم ہو گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا اور آج کی عورت بس مرد کی نگاہ کو نیچا رکھنا اپنا پردہ خیال کرتی ہے اور مطالبہ بھی یہی ہے۔ وہ آیات جو اللہ پاک نے عورت کے پردے کے بارے میں نازل کیں ان سے یکسر پہلو تہی کیے ہوۓ ہے ۔ یاد رکھیں فرائض کی ادائیگی کیے بغیر حقوق نہیں ملا کرتے۔

    ………………………………………………..!!!!!

    ‎@_NAZ08_

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: فیضان مشتاق

    جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو ہللا تعالی اس کے ہاں فرشتے بیچتے ہیں جو آ کر کہتے ہیں
    اے گھر والوں !تم پر سالمتی ہو "وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس”
    کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں یہ کمزور جان ہے جو کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو
    اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا کی مدد اس کے ساتھ شامل رہے گی
    کون کہتا ہے اسالم نے عورت کو قید کر رکھا ہے
    کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو وہ مقام نہیں دیا
    کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو آزادی نہیں دی
    جی اسالم نے عورت کو گھر کی زینت بنایا ہے
    گھر کی عزت بنایا ہے
    گھر کی رانی بنایا ہے
    جب اسالم آیا حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم تشریف الئے تو آپ نے عورت کو ذلت اور پستی کی
    گہرائیوں سے اٹھایا اور اسے عظمت و رفعت کے بلند مقام پر فائز کیا کر دیا اور فرمایا کہ ہللا نے
    تین چیزوں کی محبت میرے دل میں ڈال دی خوشبو عورت اور نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
    اسالم کے عالوہ اور کوئی مذہب نہیں
    جس نے اچھی بیوی کو آدھا ایمان قرار دیا ہو جس نے بیواؤں کو عزت کی مسند پر بٹھایا ہو جس
    نے عورت کے حسن و جمال کو نہیں اس کے عورت ہونے پر قابل فخر ٹھہرایا ہو
    عورت کی نمایاں شخصیتیں چار ہیں
    بیٹی ہونے کی حیثیت
    ماں ہونے کی حیثیت
    بیوی ہونے کی حیثیت
    بہن ہونے کی حیثیت
    ان 4 حیثیت کے اعتبار سے جو عزت و عظمت محبت اسالم نے عورت کو دی ہے دنیا کسی جدید و
    قدیم قانون اور مذہب نے نہیں دی
    اسالم نے عورت کو بہت اونچا مقام دیا ہے
    جب بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لیے جنت کے دروازے کھولتی ہے
    بہن :حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ان
    کے ساتھ اچھا سلوک .کرے تو وہ جنت میں جائے گا
    بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دن مکمل کرتی ہے
    اور جب ماں کا درجہ پر فائز ہوتی ہے تو تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے
    حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیٹیاں اور وہ ان کے ساتھ حسن
    سلوک کرے اور ان کی
    پرورش کرے تو وہ دو لڑکیاں اس کو جنت میں لے کر جائے گی
    پچھلی صدیوں میں مختلف معاشروں کے مطابق خواتین کا مطلب کچھ بھی نہیں وہ ان کا احترام
    بھی نہیں کرتے تھے اور یہاں تک کہ ان کو بطور انسان کچھ سمجھا نہیں جاتا تھا لیکن اسالم
    میں خواتین کا احترام اور مساوات دونوں ہیں
    یونین کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے
    سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کے نہیں
    یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جال دیا گیا تھا
    دور جہالت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا
    ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے
    لیکن محسن انسانیت رحمۃاللعالمین حضرت محمد صلی ہللا علیہ وسلم کے عورت کے بارے میں
    ارشادات مالخطہ فرمائے
    قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے
    پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس سے پوچھوں گا کہ تو کون ہے وہ کہے گی میں ایک بیوہ
    عورت ہوں میرے چند یتیم بچے ہیں .جس نے اپنے رب کی ہدایت اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر
    کی خوبیاں بیان کرتی ہے
    اور اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو اور جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک
    درجہ ہوگا
    جو اور ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنےیتیم بچوں کی تربیت کی خاطر نکاح نہ
    کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہیں
    عورت پر مرد کے فضیلت
    مرد عورت سے چند وجوہات کی بنیاد پر بہت افضل ہے
    مرد پر جہاد فرض ہے عورت پر سوائے سخت ضرورت کے فرض نہیں
    مرد کی ذمہ داری عورت کا سارا خرچہ ہے عورت کی ذمہ مرد کا خرچ نہیں
    مرد کی اجازت کے بغیر عورت گھر سے باہر نہیں جاسکتی مرد پر یہ پابندی نہیں
    اسالم سے پہلے عورت بحیثیت ماں یا بہن
    اسالم سے پہلے ایک فرقہ کافروں کا وہ تھا جو مجوسی کہالتا تھا تمام محرمات سے ان کے نزدیک
    نکاح جائز ہوتا تھا یہاں تک کہ وہ ماں اور بہن سے نکاح کرنے کو بھی جائز قرار دیتے تھے
    اسالم سے قبل سوتیلی ماں کی قدر و منزلت کچھ نہ تھے عرب میں یہ طریقہ سے صدیوں سے
    رائج تھا کہ خاوند مرنے کے بعد اس کا لڑکا اپنے باپ کی جائیداد کی طرح اس کی بیوی اپنی
    سوتیلی ماں کا بھی وارث ہوتا
    مدینہ منورہ میں اسواد ابن خلف نے اپنے باپ خلف کی بیوی اور صفوان ابن امیہ ابن خلف نے اپنے
    باپ امیہ کی بیوی فاختہ بنت اسواد ابن مطلب اور منظور ابن ریان نے اپنے باپ ریان کی بیوی ملکہ
    بنت خارجہ سے ان کی موت کے بعد نکاح کر لیے

    @FAIZAN_BHATTI42

  • مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی


    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

    عورت ہمیشہ سے مظلوم، تحقیر و تذلیل کا شکار، نہ کوئی عزت نہ کوئی مقام۔ یہود و نصاری ہوں یا رومی و شامی، مصری ہوں یا ہندی، عرب کے صحرا سے یورپ کے درباروں تک ہر جگہ عورت کی حیثیت ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھی۔ کبھی جانوروں کے مول اس سے زیادہ لگتے تو کبھی اچھوت سمجھی جاتی، کبھی شیطانی روح کہلاتی تو کبھی ستی کردی جاتی۔ غرض آمد اسلام سے پہلے عورت کے سرے سے جینے پر ہی قدغن تھی۔ کہیں پیدائش کیساتھ ہی زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا تو کہیں شمع محفل بنا کر مردوں کی نشاطِ طبع کا سامان کیا جاتا، کہیں مال وراثت کی صورت بٹتی تو کہیں سربازار لٹتی، کہیں گروی رکھوا کر پامال کی جاتی تو کہیں جوے میں ہار دی جاتی، غرض دنیا کی سب سے حقیر ترین شے عورت تھی۔

    مرد کا راج
    سر کا تاج
    سہما وجود
    رسموں کی قیود
    ظلم و ستم مقدر
    جیون فقط صبر
    کچلی ہوئی ذات
    ہر حال میں مات
    لیکن پھر رحمت للعالمین ﷺ کی آمد نے سسکتی، بلکتی عورت کی زندگی کو منور کر دیا۔ وہ کرلاتی مخلوق جو سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لے سکتی تھی اس کو وہ وقار و سربلندی بخشی جو اس کا جائز حق تھا۔ پیروں کی جوتی سمجھی جانے والی کے پاؤں تلے جنت رکھ دی۔ بیٹی کو نحوست کی جگہ رحمت بنا دیا، ذلت سمجھنے والوں کیلئے بہن باعث تکریم بنا دی گئی اور آدھا ایمان ہی بیوی سے مکمل کروادیا گیا۔شمع محفل کو گھر کی زینت بنا کرعورت کے ہر رشتے کو افتخار بخشا گیا۔ قرآن پاک کی پوری ایک سورت کا نام النساء رکھ کر تاقیامت خواتین کے مرتبے کا تعین کر دیا گیا۔ وراثت سے لیکر معاشرت تک کے تمام حقوق و فرائض متعین کردیے گئے۔ اور زمانہ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسوم و رواج کا مکمل خاتمہ کر کے اسے عظمت کا نمونہ بنادیا گیا۔
    اسلام نے فرعون کی بیوی کا درجہ جنت کی سردار کا کر دیا۔ حضرت مریم ؑ کی پاکدامنی پر پوری سورت اتاری گئی۔ قرآن مجید میں حضرت زینب ؓ کے خلع کے حق کو تسلیم کرکے نبی ﷺ سے نکاح کا شرف بخشا گیا، حضرت عائشہ ؓ کی برأت کیلئے آیات کا نزول ہوا اور تاقیامت عورت کی عصمت و عفت پربہتان طرازی کرنے والوں کیلئے قانون بنا دیا گیا۔ مرد کو عورت کا ولی مقرر کر کے عورت کو ہر طرح کی معاشی زمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
    یہ اسلام ہی تھا جس نے عورت کو ایک کمتر مخلوق کے درجے سے نکال کر بطور انسان مردکے برابر رتبہ دیا۔
    لیکن صد افسوس کہ آج کا ترقی پسند مرد خواہ مشرقی ہو یا مغرب کا پروردہ، جو خود کو تہذیب یافتہ و انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا، خواتین کو ان کا جائز حق دینے سے خائف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہیں عورت تیزاب گردی کا شکار ہے تو کہیں بدترین گھریلو تشدد کا، ماڈرن ازم کے باوجود آج بھی بیٹی کی پیدائش پر ناگواری ظاہر کی جاتی اور بیوی کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا۔ پوری دنیا میں خطرناک حد تک بڑھتے عصمت فروشی، آبرو ریزی، جنسی ہراسگی اور صنفی امتیازی سلوک کے واقعات اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ جدیدیت کے نام پر عورت کا استحصال کیا جارہا۔ ستم ظریفی یہ کہ اکثر خواتین کے حقوق کے چمپئن ہی ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوتے۔ چوراہوں پر عورت مارچ کے بینر اٹھائے یہ مرد حضرات گھر کی چار دیواری میں بیوی کو معمولی بات پر دھنک کر رکھ دیتے۔ بڑی بڑی این جی اوز عورت کے حقوق کی بحالی کیلئے فنڈز تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن اپنی خواتین ورکرز کو جائز تنخواہیں تک نہیں دیتی۔ تیزاب گردی پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ لینے والی خاتون نے خود سب سے زیادہ متاثرہ عورت کا استحصال کیا۔ لیکن اگر کوئی ان امور پر آواز اٹھائے تو اس پر بنیاد پرستی اور پدرسری کا الزام لگادیا جاتا۔
    آزادی نسواں اور فیمینزم کا راگ الاپتے یہ لوگ صرف مغربی تعصب کی تقلید میں اسلام کو عورت کی ترقی کا دشمن سمجھتے۔ ان کا ہر ہر نعرہ اسلام کیخلاف ہوتا۔ حالانکہ اگر یہ صحیح معنوں میں اسلام سے واقف ہوتے تو جان لیتے کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے والے نہیں جانتے کہ پردہ عورت کی عزت کا محافظ اور وقار کا باعث ہے۔ اسلامی تعلیمات کیخلاف دشنام طرازی کرتے یہ لوگ بھول جاتے کہ ترویج اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے۔
    حضرت خدیجہ ؓکی اخلاقی و مالی مدد نے اسلام کوابتدائی مشکل ترین دنوں میں سہارا دیا۔ ان کا درجہ اتنا بلند کہ خود باری تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے زریعے سلام کہلوایا۔ غزوات میں مسلم خواتین کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تلوار بازی سے مرہم پٹی تک ہر مرحلے میں مردوں کے قدم بقدم رہیں۔ حق گوئی و بیباکی، جرآت و شجاعت، ذہانت و فراست ازدواج مطہرات و صحابیات کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔ ایک بیٹی کو اللّٰہ نے وہ مرتبہ دیا کہ نبی پاک ﷺ کی تاقیامت مبارک ترین نسل حضرت فاطمتہ الزہرا ؓ کی بابرکت آغوش کی بدولت ہے۔ یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓ کی للکار جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کی بہترین مثال ہے۔ سائنس، طب، فقہ، ادب، تاریخ، اقتصادیات غرض کونسا ایسا شعبہ زندگی ہے جس میں ہمیں ماہر ترین مسلم خواتین نہیں ملتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی ستم ظریفی کہ ہم نے اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کی حامل مسلم خواتین کو چھوڑ کر دو ٹکے کی اخلاق باختہ ماڈلز کو آئیڈیل بنا لیا ہے۔ ہندوؤں سے متاثرہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کم عقل اور صرف گھریلو کام کاج تک محدود سمجھا جانے لگا۔ نتیجتاً ہمارے اسلاف کے شاندار کارنامے سیرت کی کتابوں تک محدود ہو گئے۔ مزید برآں جو پردہ عورت کی عصمت کا محافظ تھا اسے عورت کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ پروپیگنڈہ کی ایسی ہوا چلی کہ اچھے خاصے سمجھدار لوگ اس کے دام میں آ گئے۔ یہاں تک کہ اسلام کی اصل روح اور تعلیمات سے واقف اور اس پر عمل کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔
    ابھی بھی وقت ہے خدارا سنبھل جائیں۔ خدا سے بڑا نہ کوئی خیرخواہ ہوسکتا نہ معلم۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہونے کے ناطے ہمیشہ گمراہی کے گھنگور اندھیروں کیطرف ہی لے جائے گا جس کا انجام دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی۔ شیطان کے چیلے مسحور کن نعروں اور رنگین نظاروں کی مدد سے سبز باغ دکھا کر بے حیائی کی راہ پر گامزن کررہے اور ہماری خواتین بلا سوچ سمجھ کے اپنی جنت چھوڑ کر بازار کی زینت بن رہی ہیں۔ جائز مطالبات اور حرام کاری کے فروغ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدارا ان دونوں کو آپس میں نہ ملائیں ورنہ عورت کی مظلومیت کی داستانیں تو ختم نہ ہوں گی لیکن بے حیائی و فحاشی میں ضرور اضافہ ہوگا جس کا انجام بلآخر معاشرے کی بربادی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہم سب کیلئے مشعل راہ بھی ہے اور تنبیہ بھی؛
    ”تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ، اور تم میں سب سے بہتر ہے وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔”
    کیا اس کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ نہیں ہے؟
    ‎@once_says