Baaghi TV

Category: خواتین

  • ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟  تحریر: احسان الحق

    ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟ تحریر: احسان الحق

    آج سے تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک رشتے دار عزیز کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس اس کو گرفتار کر کے لے گئی. مدعی نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ اس نے چھری دکھاتے ہوئے مجھے قتل کی دھمکی دی یا قتل کرنے کی کوشش کی. عدالت میں گواہ بھی پیش کر دئیے گئے. ملزم مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا. آخر کار متعدد پیشیوں اور ضروری عدالتی کاروائی کے بعد معزز عدالت نے ملزم کو مجرم بنا کر جیل میں بھیج دیا. پچھلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے. دس لاکھ روپے کے بدلے صلح کرنے اور مقدمہ واپس لینے پر اتفاق ہوا. مجرم کے غریب اہل خانہ نے گھر کا سارا مال اور سامان بیچ کر اور ادھار لے کر تقریباً دو ہفتوں میں دس لاکھ کا بندوبست کر لیا. تقریباً ڈیڑھ لاکھ اوپر خرچ ہوا. کل گیارہ لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنے کے بعد ملزم یا مجرم پچھلے ہفتے گھر واپس آیا. یہاں پر ایسا قانون حرکت میں آیا جو ہمیشہ عام غریب پاکستانی کے خلاف حرکت میں آتا ہے.

    مذکورہ بالا واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چھری دکھاتے ہوئے قتل کی دھمکی کے الزام پر عدالت نے غریب ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا اور دوسری طرف ایک درندے اور سفاک صفت قاتل کو اعتراف جرم کرنے کے باوجود عدالت سزا سنانے سے قاصر ہے. ایک ایسا سفاک قاتل جس کے خلاف جنسی تشدد، جسمانی تشدد، قتل، قتل کے بعد سر کو دھڑ سے الگ کرنے جیسے سنگین ترین الزامات ثابت ہو چکے ہیں. نور مقدم کا قاتل اثرورسوخ اور کافی طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ اعتراف جرم بلکہ اعتراف جرائم کے بعد بھی عدالت میں پیشیاں بھگتائی جا رہی ہیں. ملک عزیز میں قانون اور آئین کی پاسداری اور بالادستی ناپید ہو چکی ہے اور انصاف ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور بالخصوص غریب آدمی کے لئے انصاف لینا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے. ایسے لاتعداد واقعات اور مقدمات ہیں جن میں ملزمان اعتراف جرم کرتے ہیں، اعتراف جرم کے بعد بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی. دوسری طرف غریب آدمی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا اور جرمانے کا مستحق ٹھہرتا ہے. بعض اوقات سزا اور قید مکمل ہونے کے بعد بھی عام آدمی کو اضافی انتظار، محنت اور خرچہ کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جا کر اسکی جان چھوٹتی ہے.

    پچھلے سال لاہور موٹر وے پر ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. ایک کار سوار عورت لاہور سے سیالکوٹ کا سفر کر رہی تھی، گاڑی میں تیل ختم ہونے پر مدد کی انتظار میں سڑک کنارے کھڑی تھی. دو موٹر سوار لوگوں نے جنسی زیادتی کی، جسمانی تشدد کیا اور کچھ سامان بھی چھین کر لے گئے. وہ دونوں مجرم عام پاکستانی تھے. پیسے اور تعلقات کے حوالے سے وہ کمزور مجرم تھے. ان دونوں کو پکڑ لیا گیا اور عدالت نے مختلف دفعات لگاتے ہوئے سزائے موت، قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائیں. حالانکہ اس واقعہ میں عورت کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد سر کو جسم سے الگ بھی نہیں کیا گیا، لاش کی بے حرمتی بھی نہیں گئی. پولیس اور ادارے مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے اور عدالت نے انہیں سخت سزا دی جس کے وہ یقیناً مستحق تھے. مجرموں اور متاثرہ عورت کے درمیان تعلقات اور طاقت کے حوالے سے بہت فرق تھا. متاثرہ عورت ان جیسی عام پاکستانی ہوتی یا مجرم عورت کے مساوی طاقتور ہوتے تو شاید عدالت فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیتی یا ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہوتا.

    نور مقدم واقعہ لاہور موٹروے واقعے سے کہیں زیادہ المناک، دردناک اور دلخراش واقعہ ہے. جس میں قاتل نے انسانیت کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے انتہائی سفاکانہ طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا. قتل سے پہلے جنسی تشدد کیا، جسمانی تشدد کیا، پھر قتل کیا، قتل کے بعد پھر تشدد کیا، سر کو دھڑ سے جدا کر دیا. اس واقعہ پر بہت ساری بحث کی جا چکی ہے اور بحث ہو رہی ہے اور اب لوگوں کو اس قتل کے بابت معلوم کو چکا ہے. یہ ایسا درناک، افسوسناک اور المناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. مانا کہ قاتل اور مقتول دونوں اونچے درجے کے خاندان ہیں. دونوں کے پاس پیسوں اور تعلقات کی کوئی کمی نہیں. نور مقدم کے قاتل کا اعتراف جرم کے باوجود بھی اس کے خلاف سزا نہ سنائی جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل مقتول سے زیادہ طاقتور ہے. میری ذاتی معلومات کے مطابق مجرم نے دوران تفتیش اقبال جرم کر لیا تھا. دوسری طرف پولیس نے موقع واردات سے شواہد بھی اکٹھے کر لئے تھے اور کچھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے تھے. اس سب کے باوجود قاتل ابھی تک سزا سے دور ہے.

    بمطابق 13 ستمبر بروز سوموار کو قاتل ظاہر جعفر کی پیشی تھی. احاطہ عدالت کے باہر لوگوں نے قاتل کو سزا دینے اور نور مقدم کو انصاف دینے کے لئے خاموش احتجاج کیا. ہمارا عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لوگ کمرہ عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی ہماری عدالتیں ان مجرموں کو سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں. مثال کے طور پر ذیل میں کچھ مشہور واقعات اور ان کا اعتراف کرنے والے مجرمین کا ذکر کرتے ہیں.

    کراچی وار گینگ کا سرغنہ عزیر بلوچ دوران تفتیش پولیس کے سامنے اور کمرہ عدالت میں معزز جج کے سامنے 120 سے زیادہ قتل، اغواء برائے تاوان، کراچی میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت، پڑوسی ملک کو حساس مقامات کی معلومات کی فراہمی جیسے سنگین ترین جرائم کا اعتراف کر چکا ہے مگر ابھی تک عدالت نے اسکو سزا نہیں دی. عزیر بلوچ کافی اثرورسوخ رکھنے والا طاقتور آدمی ہے. کراچی میں ایک فیکٹری کے دروازے باہر سے بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 258 مزدور زندہ جل کر خاکستر ہو گئے تھے. آگ لگانے والا رحمان بھولا بیرون ملک سے گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوا اور اقبال جرم کرتے ہوئے سب کچھ کچھ بتا دیا. میرے خیال میں بھولا ابھی تک زندہ ہے. شاہ زیب قتل واقعہ کے مرکزی مجرموں نے کمرہ عدالت میں قتل کا اعتراف کیا تھا مگر ان کو سزا نہیں سنائی جا سکی، اب تو سنا ہے کہ قاتل ملک سے بھی باہر چلا گیا ہے. لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ عظمی کو گھر کی مالکن نے قتل کیا، قتل کرنے کے بعد لاش کو گٹر میں پھینک دیا. مقتولہ نے اقبال جرم کیا، کچھ عرصے بعد عدالت نے مقتولہ کو رہا کر دیا تھا. خیبر پختونخواہ پولیس تہرے قتل میں مطلوب قاتل کو یورپ سے گرفتار کرکے پاکستان لے آئی، قاتل نے عدالت میں اعتراف جرم کیا. کچھ ہفتوں بعد غالباً دو یا تین لاکھ کے بدلے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا. اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے.

    ناقابل تردید شواہد، مختلف تنظیموں اور پاکستانیوں کے پرزور مطالبے اور احتجاج کے باوجود ابھی تک قاتل کے خلاف سخت ترین کاروائی غیر یقینی نظر آ رہی ہے. عدالتی حوالے سے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتیں ظالم کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف دینے میں جلدی کریں. اب دیکھنا یہ ہے کہ قاتل ظاہر جعفر اور شریک جرم اس کے والدین کو عدالت کب اور کتنی سزا دیتی ہے یا پھر رہا کرتی ہے.

    ‎@mian_ihsaan

  • ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم ملک پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہی ہیں پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین ٹیچنگ، میڈیکل، بینکنگ، انجینئرنگ،اکاونٹنٹس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زرائع ابلاغ سے بھی منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز سے منسلک ہیں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہی ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو آزاد تصور کرتی ہے جو کہ انتہائی احمکانہ سوچ ہے، ایسے لوگ خواتین کو اپنی جہالت کی نظر کردیتے ہیں، خواتین کو نہ تعلیم دلوانے کے حق میں ہوتے ہیں بلکہ ساری عمر سسرال والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے جاہل زہنیت کے لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ ان گھرانوں کا بھی حال اچھا نہیں ھے جہاں ملازمت پیشہ خواتین  کو آزاد خیال اور گھر والوں کو دبا کر رکھنے والی تصور کیا جاتا ھے جبکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں زیادہ جدوجہد ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسبت تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔
    اگرچہ مرد کو معاشی ذمہ داریوں کا منبہ قرار دیاجاتا ھے لیکن ملازمت پیشہ خواتین بھی اپنے مردوں کا یہ بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی گو کہ ملازمت پیشہ خواتین کو باہر نکل کر بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے لیکن انہیں مرد کے مقابلے میں دگنی مشقت کرنی پڑتی ھے، ٹرانسپورٹ کے مسائل،طویل اوقات کا سامنا کرکے گھر واپسی پر چہرے پر ناگوار شکن لائے بغیر اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں جت جانا واقعی ہی کسی محاذ سے کم نہیں ھے لیکن یہ کام وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بھرپور طریقے سے سرانجام دیتی ہیں،کبھی بھی کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے ہوئے کرتی ہیں اور معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاتی ہیں، لہذا اب یہ معاشرے کی زمہ داری ھے کہ وہ ایسی خواتین کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھیں،ان پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے ان کے کردار کو سراہا جانا چاہیے،انہیں گھریلو ذمہ داریوں سے مبرا قرار دینا سراسر ان کے ساتھ زیادتی ھے ملازمت پیشہ خواتین معاشرے کا تاج ہیں ان کی عزت اور حفاظت یقیناً معاشرے کی ذمہ داری ھے۔
    پاکستان میں خواتین کے لئے گھر سے باہر نکل کر کام کرنا آسان نہیں ھے انہیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے مردوں میں شعور اجاگر کیا جانا چاہیے کہ بطور مسلمان ان پر خواتین کو ڈھانپنا کہنا ہی فرض نہیں بلکہ خود انہیں بھی نظریں نیچی کرنا ہوتی ہیں اور ملازمت پیشہ خواتین بھی ان کی پسندیدہ خواتین جیسی ہی ہوتی ہیں ان کا بھی اتنی ہی عزت و احترام کیا جانا چاہیے جتنا وہ اپنے گھر کی خواتین کا کرتے ہیں
    Written By : Khalid Imran Khan
    Twitter ID :@KhalidImranK

  • پردہ تحریر:نازش فرید

    پردہ تحریر:نازش فرید

     گھر عورت کی محفوظ ترین پناہ گاہ ہے کیونکہ یہاں وہ نا محرم کی نظروں سے محفوظ ہوتی ہے۔آج ہم اتنے پڑھے لکھے بن گۓ کہ احکام شریعہ کو ہی بدل رہے ہیں اور پھر کیا ہی کمال مہارت سے جسٹیفائی کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اب پردہ صرف نظر کا ہو کر رہ گیا ہے۔ جب کائنات کی پاک عورتوں نے پاک اور صالح مردوں سے پردہ کیا تو ہم کس بنیاد پر صرف نظر کی حفاظت تک پردے کو محدود کیے ہوۓ ہیں۔۔۔کیا  معاذاللہ امہات المومنین کی نظروں میں حیا نہیں تھی یا ان پاک مردوں کی نظروں میں فتور تھا معاذاللہ معاذاللہ۔۔۔بلاشبہ آنکھوں میں حیا ایمان کا تقاضا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ کریم نے عورت کو اپنے آپ کو چھپا کر رکھنے کا حکم دیا۔قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا۔

    قرار رکھو اپنے گھروں میں اور زمانہ جاہلیت کی طرح بے حجابانہ مت پھرو۔(الحزاب : 33)

    اسلام نے عورت کے تمام حقوق واضح کیے۔اگر تھوڑا سوچنے اور سمجھنے کی کوشسش کی جاۓ تو یہ بات اتنی مشکل نہیں کہ پردہ عورت پر فرض ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا حق بھی ہے ۔ یہ حرمت و ناموس کی حفاظت ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی اور اس عزت کی حفاظت عورت پر فرض ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے (یعنی اس پر پردہ فرض ہے) ۔

    اب اپنی زینت کو نمایاں کرتی عورتیں مرد کی نظروں میں حیا تلاش کریں تو اس سے بڑھ کر کوئی احمقانہ فعل نہیں ہو سکتا۔

    اگر مرد کی نظروں میں فتور ہے تو عورت کے دماغ میں بھی فتور ہے اگر ایسا نہیں تو وہ اپنے آپ کو کبھی نا محرم کے سامنے ظاہر نہ کرے۔

     جب لبرل عورتیں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگائیں گی تو لبرل مرد نہیں پیدا ہوں گے کیا؟ وہ بھی ہماری آنکھیں ہماری سوچ ہماری مرضی کے نظریے کے ساتھ آئیں گے۔ ایسے مرد اسی سوچ کی عورتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ

     خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔(النور آیت 26) اس کے بعد تو کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

    المیہ تو یہ ہے کہ یہی لبرل ازم کا راگ الاپتی عورتوں کو کوئی سانحہ ہونے پر اسلام کے دیے گۓ حقوق یاد آ جاتے ہیں ۔ سب سے اہم بات کہ اللہ تعالیٰ نے پردے کے ذریعے مسلمان عورت کو شناخت دی۔ باپردہ عورت مومنہ پہچانی جاتی ہے سورۃ الاحزاب میں فرمانِ الٰہی ہے

    اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دے (جب وہ راستے میں نکلیں تو) اپنی چادروں کے گھونگٹ اپنے اوپر ڈال لیا کریں، اس سے امید ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور ان کو کوئی تکلیف نہ دی جائے گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

        عورت اپنے جائز حقوق و فرائض سے خود محروم ہو گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا اور آج کی عورت بس مرد کی نگاہ کو نیچا رکھنا اپنا پردہ خیال کرتی ہے اور مطالبہ بھی یہی ہے۔ وہ آیات جو اللہ پاک نے عورت کے پردے کے بارے میں نازل کیں ان سے یکسر پہلو تہی کیے ہوۓ ہے ۔ یاد رکھیں فرائض کی ادائیگی کیے بغیر حقوق نہیں ملا کرتے۔

    ………………………………………………..!!!!!

    ‎@_NAZ08_

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: فیضان مشتاق

    جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو ہللا تعالی اس کے ہاں فرشتے بیچتے ہیں جو آ کر کہتے ہیں
    اے گھر والوں !تم پر سالمتی ہو "وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس”
    کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں یہ کمزور جان ہے جو کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو
    اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا کی مدد اس کے ساتھ شامل رہے گی
    کون کہتا ہے اسالم نے عورت کو قید کر رکھا ہے
    کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو وہ مقام نہیں دیا
    کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو آزادی نہیں دی
    جی اسالم نے عورت کو گھر کی زینت بنایا ہے
    گھر کی عزت بنایا ہے
    گھر کی رانی بنایا ہے
    جب اسالم آیا حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم تشریف الئے تو آپ نے عورت کو ذلت اور پستی کی
    گہرائیوں سے اٹھایا اور اسے عظمت و رفعت کے بلند مقام پر فائز کیا کر دیا اور فرمایا کہ ہللا نے
    تین چیزوں کی محبت میرے دل میں ڈال دی خوشبو عورت اور نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
    اسالم کے عالوہ اور کوئی مذہب نہیں
    جس نے اچھی بیوی کو آدھا ایمان قرار دیا ہو جس نے بیواؤں کو عزت کی مسند پر بٹھایا ہو جس
    نے عورت کے حسن و جمال کو نہیں اس کے عورت ہونے پر قابل فخر ٹھہرایا ہو
    عورت کی نمایاں شخصیتیں چار ہیں
    بیٹی ہونے کی حیثیت
    ماں ہونے کی حیثیت
    بیوی ہونے کی حیثیت
    بہن ہونے کی حیثیت
    ان 4 حیثیت کے اعتبار سے جو عزت و عظمت محبت اسالم نے عورت کو دی ہے دنیا کسی جدید و
    قدیم قانون اور مذہب نے نہیں دی
    اسالم نے عورت کو بہت اونچا مقام دیا ہے
    جب بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لیے جنت کے دروازے کھولتی ہے
    بہن :حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ان
    کے ساتھ اچھا سلوک .کرے تو وہ جنت میں جائے گا
    بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دن مکمل کرتی ہے
    اور جب ماں کا درجہ پر فائز ہوتی ہے تو تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے
    حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیٹیاں اور وہ ان کے ساتھ حسن
    سلوک کرے اور ان کی
    پرورش کرے تو وہ دو لڑکیاں اس کو جنت میں لے کر جائے گی
    پچھلی صدیوں میں مختلف معاشروں کے مطابق خواتین کا مطلب کچھ بھی نہیں وہ ان کا احترام
    بھی نہیں کرتے تھے اور یہاں تک کہ ان کو بطور انسان کچھ سمجھا نہیں جاتا تھا لیکن اسالم
    میں خواتین کا احترام اور مساوات دونوں ہیں
    یونین کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے
    سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کے نہیں
    یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جال دیا گیا تھا
    دور جہالت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا
    ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے
    لیکن محسن انسانیت رحمۃاللعالمین حضرت محمد صلی ہللا علیہ وسلم کے عورت کے بارے میں
    ارشادات مالخطہ فرمائے
    قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے
    پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس سے پوچھوں گا کہ تو کون ہے وہ کہے گی میں ایک بیوہ
    عورت ہوں میرے چند یتیم بچے ہیں .جس نے اپنے رب کی ہدایت اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر
    کی خوبیاں بیان کرتی ہے
    اور اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو اور جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک
    درجہ ہوگا
    جو اور ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنےیتیم بچوں کی تربیت کی خاطر نکاح نہ
    کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہیں
    عورت پر مرد کے فضیلت
    مرد عورت سے چند وجوہات کی بنیاد پر بہت افضل ہے
    مرد پر جہاد فرض ہے عورت پر سوائے سخت ضرورت کے فرض نہیں
    مرد کی ذمہ داری عورت کا سارا خرچہ ہے عورت کی ذمہ مرد کا خرچ نہیں
    مرد کی اجازت کے بغیر عورت گھر سے باہر نہیں جاسکتی مرد پر یہ پابندی نہیں
    اسالم سے پہلے عورت بحیثیت ماں یا بہن
    اسالم سے پہلے ایک فرقہ کافروں کا وہ تھا جو مجوسی کہالتا تھا تمام محرمات سے ان کے نزدیک
    نکاح جائز ہوتا تھا یہاں تک کہ وہ ماں اور بہن سے نکاح کرنے کو بھی جائز قرار دیتے تھے
    اسالم سے قبل سوتیلی ماں کی قدر و منزلت کچھ نہ تھے عرب میں یہ طریقہ سے صدیوں سے
    رائج تھا کہ خاوند مرنے کے بعد اس کا لڑکا اپنے باپ کی جائیداد کی طرح اس کی بیوی اپنی
    سوتیلی ماں کا بھی وارث ہوتا
    مدینہ منورہ میں اسواد ابن خلف نے اپنے باپ خلف کی بیوی اور صفوان ابن امیہ ابن خلف نے اپنے
    باپ امیہ کی بیوی فاختہ بنت اسواد ابن مطلب اور منظور ابن ریان نے اپنے باپ ریان کی بیوی ملکہ
    بنت خارجہ سے ان کی موت کے بعد نکاح کر لیے

    @FAIZAN_BHATTI42

  • مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی


    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

    عورت ہمیشہ سے مظلوم، تحقیر و تذلیل کا شکار، نہ کوئی عزت نہ کوئی مقام۔ یہود و نصاری ہوں یا رومی و شامی، مصری ہوں یا ہندی، عرب کے صحرا سے یورپ کے درباروں تک ہر جگہ عورت کی حیثیت ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھی۔ کبھی جانوروں کے مول اس سے زیادہ لگتے تو کبھی اچھوت سمجھی جاتی، کبھی شیطانی روح کہلاتی تو کبھی ستی کردی جاتی۔ غرض آمد اسلام سے پہلے عورت کے سرے سے جینے پر ہی قدغن تھی۔ کہیں پیدائش کیساتھ ہی زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا تو کہیں شمع محفل بنا کر مردوں کی نشاطِ طبع کا سامان کیا جاتا، کہیں مال وراثت کی صورت بٹتی تو کہیں سربازار لٹتی، کہیں گروی رکھوا کر پامال کی جاتی تو کہیں جوے میں ہار دی جاتی، غرض دنیا کی سب سے حقیر ترین شے عورت تھی۔

    مرد کا راج
    سر کا تاج
    سہما وجود
    رسموں کی قیود
    ظلم و ستم مقدر
    جیون فقط صبر
    کچلی ہوئی ذات
    ہر حال میں مات
    لیکن پھر رحمت للعالمین ﷺ کی آمد نے سسکتی، بلکتی عورت کی زندگی کو منور کر دیا۔ وہ کرلاتی مخلوق جو سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لے سکتی تھی اس کو وہ وقار و سربلندی بخشی جو اس کا جائز حق تھا۔ پیروں کی جوتی سمجھی جانے والی کے پاؤں تلے جنت رکھ دی۔ بیٹی کو نحوست کی جگہ رحمت بنا دیا، ذلت سمجھنے والوں کیلئے بہن باعث تکریم بنا دی گئی اور آدھا ایمان ہی بیوی سے مکمل کروادیا گیا۔شمع محفل کو گھر کی زینت بنا کرعورت کے ہر رشتے کو افتخار بخشا گیا۔ قرآن پاک کی پوری ایک سورت کا نام النساء رکھ کر تاقیامت خواتین کے مرتبے کا تعین کر دیا گیا۔ وراثت سے لیکر معاشرت تک کے تمام حقوق و فرائض متعین کردیے گئے۔ اور زمانہ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسوم و رواج کا مکمل خاتمہ کر کے اسے عظمت کا نمونہ بنادیا گیا۔
    اسلام نے فرعون کی بیوی کا درجہ جنت کی سردار کا کر دیا۔ حضرت مریم ؑ کی پاکدامنی پر پوری سورت اتاری گئی۔ قرآن مجید میں حضرت زینب ؓ کے خلع کے حق کو تسلیم کرکے نبی ﷺ سے نکاح کا شرف بخشا گیا، حضرت عائشہ ؓ کی برأت کیلئے آیات کا نزول ہوا اور تاقیامت عورت کی عصمت و عفت پربہتان طرازی کرنے والوں کیلئے قانون بنا دیا گیا۔ مرد کو عورت کا ولی مقرر کر کے عورت کو ہر طرح کی معاشی زمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
    یہ اسلام ہی تھا جس نے عورت کو ایک کمتر مخلوق کے درجے سے نکال کر بطور انسان مردکے برابر رتبہ دیا۔
    لیکن صد افسوس کہ آج کا ترقی پسند مرد خواہ مشرقی ہو یا مغرب کا پروردہ، جو خود کو تہذیب یافتہ و انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا، خواتین کو ان کا جائز حق دینے سے خائف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہیں عورت تیزاب گردی کا شکار ہے تو کہیں بدترین گھریلو تشدد کا، ماڈرن ازم کے باوجود آج بھی بیٹی کی پیدائش پر ناگواری ظاہر کی جاتی اور بیوی کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا۔ پوری دنیا میں خطرناک حد تک بڑھتے عصمت فروشی، آبرو ریزی، جنسی ہراسگی اور صنفی امتیازی سلوک کے واقعات اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ جدیدیت کے نام پر عورت کا استحصال کیا جارہا۔ ستم ظریفی یہ کہ اکثر خواتین کے حقوق کے چمپئن ہی ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوتے۔ چوراہوں پر عورت مارچ کے بینر اٹھائے یہ مرد حضرات گھر کی چار دیواری میں بیوی کو معمولی بات پر دھنک کر رکھ دیتے۔ بڑی بڑی این جی اوز عورت کے حقوق کی بحالی کیلئے فنڈز تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن اپنی خواتین ورکرز کو جائز تنخواہیں تک نہیں دیتی۔ تیزاب گردی پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ لینے والی خاتون نے خود سب سے زیادہ متاثرہ عورت کا استحصال کیا۔ لیکن اگر کوئی ان امور پر آواز اٹھائے تو اس پر بنیاد پرستی اور پدرسری کا الزام لگادیا جاتا۔
    آزادی نسواں اور فیمینزم کا راگ الاپتے یہ لوگ صرف مغربی تعصب کی تقلید میں اسلام کو عورت کی ترقی کا دشمن سمجھتے۔ ان کا ہر ہر نعرہ اسلام کیخلاف ہوتا۔ حالانکہ اگر یہ صحیح معنوں میں اسلام سے واقف ہوتے تو جان لیتے کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے والے نہیں جانتے کہ پردہ عورت کی عزت کا محافظ اور وقار کا باعث ہے۔ اسلامی تعلیمات کیخلاف دشنام طرازی کرتے یہ لوگ بھول جاتے کہ ترویج اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے۔
    حضرت خدیجہ ؓکی اخلاقی و مالی مدد نے اسلام کوابتدائی مشکل ترین دنوں میں سہارا دیا۔ ان کا درجہ اتنا بلند کہ خود باری تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے زریعے سلام کہلوایا۔ غزوات میں مسلم خواتین کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تلوار بازی سے مرہم پٹی تک ہر مرحلے میں مردوں کے قدم بقدم رہیں۔ حق گوئی و بیباکی، جرآت و شجاعت، ذہانت و فراست ازدواج مطہرات و صحابیات کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔ ایک بیٹی کو اللّٰہ نے وہ مرتبہ دیا کہ نبی پاک ﷺ کی تاقیامت مبارک ترین نسل حضرت فاطمتہ الزہرا ؓ کی بابرکت آغوش کی بدولت ہے۔ یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓ کی للکار جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کی بہترین مثال ہے۔ سائنس، طب، فقہ، ادب، تاریخ، اقتصادیات غرض کونسا ایسا شعبہ زندگی ہے جس میں ہمیں ماہر ترین مسلم خواتین نہیں ملتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی ستم ظریفی کہ ہم نے اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کی حامل مسلم خواتین کو چھوڑ کر دو ٹکے کی اخلاق باختہ ماڈلز کو آئیڈیل بنا لیا ہے۔ ہندوؤں سے متاثرہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کم عقل اور صرف گھریلو کام کاج تک محدود سمجھا جانے لگا۔ نتیجتاً ہمارے اسلاف کے شاندار کارنامے سیرت کی کتابوں تک محدود ہو گئے۔ مزید برآں جو پردہ عورت کی عصمت کا محافظ تھا اسے عورت کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ پروپیگنڈہ کی ایسی ہوا چلی کہ اچھے خاصے سمجھدار لوگ اس کے دام میں آ گئے۔ یہاں تک کہ اسلام کی اصل روح اور تعلیمات سے واقف اور اس پر عمل کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔
    ابھی بھی وقت ہے خدارا سنبھل جائیں۔ خدا سے بڑا نہ کوئی خیرخواہ ہوسکتا نہ معلم۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہونے کے ناطے ہمیشہ گمراہی کے گھنگور اندھیروں کیطرف ہی لے جائے گا جس کا انجام دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی۔ شیطان کے چیلے مسحور کن نعروں اور رنگین نظاروں کی مدد سے سبز باغ دکھا کر بے حیائی کی راہ پر گامزن کررہے اور ہماری خواتین بلا سوچ سمجھ کے اپنی جنت چھوڑ کر بازار کی زینت بن رہی ہیں۔ جائز مطالبات اور حرام کاری کے فروغ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدارا ان دونوں کو آپس میں نہ ملائیں ورنہ عورت کی مظلومیت کی داستانیں تو ختم نہ ہوں گی لیکن بے حیائی و فحاشی میں ضرور اضافہ ہوگا جس کا انجام بلآخر معاشرے کی بربادی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہم سب کیلئے مشعل راہ بھی ہے اور تنبیہ بھی؛
    ”تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ، اور تم میں سب سے بہتر ہے وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔”
    کیا اس کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ نہیں ہے؟
    ‎@once_says

  • جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم شہزادی

    جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم شہزادی

    جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم رائے
    مجھے عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں ایک ٹاپ پر بات کیا کروں تو ٹاپک اکٹھے نا کروں لیکن مسلہ یہ ہے کہ میرے اکثر ٹاپکس ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جیسے نزلہ زکام اکٹھا لکھا جاتا ہے صبح وشام دن ورات ایک ساتھ لکھے جاتے ہیں ویسے میرے ٹاپکس بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ایک ٹاپک دوسرے کو مکمل کرتا ہے اور دوسرا پہلے کو۔ جن دو موضوعات پر بات کررہی ہوں یہ معاشرے کی بہت بڑی اور تلخ حقیقت ہیں۔ اور اسکا شکار ہونے والے بھی نوجوان اور شکار کرنے والے بھی نوجوان۔ جہیز ایک لعنت ہے اس بات پر سارا پاکستان اور معاشرہ متفق ہے۔ جتنے مرضی اس سروے کروائیں لڑکیاں لڑکے اسے لعنت قرار دیتے نظر آئیں گے۔ پاکستان کی ادھےسے زیادہ ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ نوجوان مستقبل ہیں ہمارا۔ انکے قول فعل میں تضاد اتنا ہے کہ بعض دفعہ سمجھ نہیں اتی کہ یہ خاندان کو سمبھالنا تو دور کی بات اپنے آپ کو سنبھال پائیں گے؟ یہی حال سوشل میڈیا کا یہاں جہیز پر بحث کریں تو بھی اپکو 99فیصد جہیز کو لعنت سمجھیں گے اور اسے برا کہیں گے تو اگر جہیز ایک لعنت ہے اور اس لعنت کی وجہ سے کئی بچیوں کے سر میں چاندی اتر آئی ہے تو پھر وہ ہیں کون جو جہیز لے رہے ہیں یا مطالبہ کررہے ہیں؟ کون لمبی لمبی لسٹیں بنا کے دیتا ہے؟ کون ہیں جو اب فرنیچر اور الیکٹرونکس سے نکل گاڑی اور پلاٹ تک مطالبہ کررہے ہیں؟ کون ہے جو لڑکے کی ماں کے لیے کنگن کا مطالبہ کررہا ہے؟ یقیناً یہی نوجوان جو یو ہر جگہ اسے لعنت قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عملا اسکا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں اگر اس پر ان نوجوانوں سے پوچھا جائے تو تاویلیں گھڑتے ہیں کہ امی نے کہا ہے باجی نے کہا ہے میں تو جہیز کے خلاف ہو لیکن ماں بہنوں کے آگے سر نہیں اٹھا سکتا ورنہ وہ کہیں گی کہ دیکھا زن مرید بن گیا ہے۔

    لیکن یہ تمام چیزیں میں اس کو بنوا دونگا یا جو وہ جہیز کے نام پے دیں گے میں کسی طرح لوٹا دونگا کس نے پھر واپس لینا اور کس نے لوٹانا۔ اسی طرح لڑکیاں بھی کہیں گی کہ اس لڑکے سے شادی کریں گی جو جہیز نہیں لےگا یا جہیز نہیں مانگےگا۔ میرے والدین نے مجھ پر اور میری تعلیم پر پہلے ہی لاکھوں خرچ کیے ہیں مزیدانکا بوجھ نہیں بننا۔ لیکن عملا وہ بھی جہیز کے لیے حریص پائی گئیں۔ یوں چیزیں اکٹھی کررہی ہونگی جیسے پہلی بار لے رہی ہیں یا آخری بار۔ الله کی بندیوں والدین ہیں ساری زندگی دیں گے آخری بار تھوڑی ہے کہ اس قدر لالچ کرو پلاسٹک کی بالٹی تک لیں گی۔ باپ کو بھائیوں کو مقروض کریں گی جہیز اور شادی کے فنکشنز کے نام پر۔ اسی طرح لڑکے کے والدین بھی یہی کہتے نظر آئیں گے کہ ہم اپنے لیے تھوڑی کہہ رہے ہیں جو بھی چیزیں ہونگی بچوں کے ہی کام آئیں گی۔۔ اب آتے ہیں حق مہر کی طرف، حق مہر وہ رقم ہوتی ہے جو نکاح کے وقت لڑکے کی طرف سے لڑکی کے لیے لکھی جاتی ہے اور ادا کی جاتی ہے۔ شریعت میں بھی اس کی اجازت ہے لیکن نقصان تب ہوتا ہے جب حق مہر شرعی ہونے کے بجائے یا، لڑکے کی مالی حثیت کو مدنظر رکھے بغیر طے کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ لاکھوں اور بعض دفعہ کروڑوں میں لکھا جاتا ہے۔ لڑکی والے سکیورٹی کے نام پے یہ پیسہ لکھواتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس لڑکے کی احثیت ہی نہیں کہ وہ اتنی ادائیگی کرسکے تو لکھوایا کیوں جاتا ہے؟ کیا یہ بوجھ نہیں ہے؟ ایک لڑکا جسکی عمر ہی کم و بیش 25 سے 30 سال ہے وہ تمام تر آسائشات فوراً کیسے دے سکتا ہے جن آسائشات کو دیتے ہوئے اپکے والد کا سر سفید اور کندھے جھک گئے۔ اور کیا واقعی وہ لاکھوں کا حق مہر خوشیوں کی ضمانت ہے؟ کیا واقعی وہ سکیورٹی دے سکتا ہے؟ حادثات زندگی کا حصہ ہیں ان سے محفوظ الله کی زات رکھ سکتی ہے روپیہ پیسہ نہیں۔ اس لیے خدارا شادی کو سنت نبوی صلی الله عليه والہ وسلم سمجھ کر ادا کرو نا کہ کاروبار۔ جب شادی کو کاروبار اور محض لین دین کا زریعہ بناؤگے تو کہاں سکون پاؤگے؟ کیسے برکت ہوگی اس رشتے میں؟ نکاح میں برکت ہے اس برکت کو آسان کیجے تاکہ زنا کا راستہ روکا جا سکے۔ نکاح سستا کیجے تاکہ بہن بیٹی عزت سستی نا ہو۔ بیٹیوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو انہیں قرانی تعلیمات دیں انہیں دنیوی تعلیم دیں پاؤں پے کھڑا کریں لیکن حد سے تجاوز نا کرنے دیں
    جزاک الله

  • عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    خود اعتمادی خود پر پختہ یقین کا نام ہے یہ سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔ خود اعتمادی اس حالت کو کہتے ہیں جہاں فرد بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتاہے ۔ خود اعتمادی کے لیے اہم عناصر میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت،عمل کرنے کی صلاحیت اور قوت ہوتی ہے خود اعتمادی ایک ایساجوہر ہے جو خود اعتماد شخص کے ذہن میں ایسی صفات پیدا کردیتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کام بھی آسان سمجھنے لگتا ہے اور اس کو مکمل کرنے لئے آخری حد تک اپنی کوشش کرتا ہےاور وہ ہر ذمہ داری کو قبول کرنے اور اس کے نبھانے میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا۔ایسے شخص کا چہرہ پر کشش، جازب نظر، گفتار بامعنی اور شخصیت پروقار ہوتی ہے
    یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار کی جاتی ہے جس کو خود پر اعتماد ہو وہ انسان اپنی منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے اور اس کے آگے حائل ہونے والی رکاوٹوں سے نہیں ڈرتا ۔خود پر اعتماد کرنے والے لوگ نا صرف زندگی کے ہر میداں کامیاب ہوتے ہیں یہی خود اعتمادی ان کو مضبوط کرتی ہے۔
    خود اعتماد انسان کو اپنے کام اپنی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے مخالف حالات سے ان کے اداروں پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے ہم جیت جائے گے۔ ایسا انسان اپنی خود اعتمادی سے اپنی تقدیرخود بناتا ہے ہار کر بھی جیت کی تلاش میں رہتا ہے خود اعتماد شخص شیشے کی طرح شفافءت پسند ہوتا ہے وہ ناکامی کے بعد بھی اپنی کامیابی کی طرف امید سے دیکھتا ہے ۔

    خود اعتماد شخص ہمیشہ عزت نفس کا قائل ہوتا ہے بہت سے بے بس انسانوں کی خود اعتمادی نے ان کو زندگی میں بلندی تک پہنچا دیا ہے بطور ایک باشعور خود اعتماد اور عزت نفس رکھنے والا شخص ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنی موجودگی کی کوئی اچھی وجہ بنے رہے۔ ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں ہماری عزت برقرار رہے اور انہی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی عزت کو ہم اپنی قدر جانتے ہیں جو شخص خود اعتماد ہوتا ہے وہ عزت نفس کا بھی قائل ہوتا ہے۔
    اپنے اندر خود اعتمادی کیسے بھال کی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا احساس کریں۔ بعض اوقات ایسی چیزوں پر توجہ دیناآسان ہوتی ہے جنہیں آپ حاصل نہ کر سکے ہوں بہ نسبت ان چیزوں کے جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی چیزوں پر دھیان دے کر جو آپ حاصل نہیں کر سکے آپ آسانی سے اپنا اعتماد کھو سکتے ہیں۔ اپنی زندگی میں مثبت رہیں۔ مثبت سوچے اچھا سوچے ہر کسی کی کچھ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خوبیوں پر توجہ رکھیں۔ اپنی خوبیوں کا ادراک ہانا چائیے اور اپنی صلاحیتوں کو اپنی خوبیوں کے مطابق ڈھالا جا ئے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافے کا ہوتا ہے اور عزت نفس پیدا ہو گی۔خود اعتمادی ایک ایساوصف ہے جس کے بغیرکوئی بھی خواہ وہ کتنی بھی خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو، کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خوداعتمادی ایک صحت مند شخصیت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہےخود اعتمادی ہو توزندگی خوشگوار بن جاتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے کامیابی کی بلند ترین منزلوں کو حاص کرنا آسان ہوتا ہے۔
    آخر میں، اپنی خود اعتمادی کی تعمیر کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرتی رہنی چاہیے اور چھوٹا موٹا خطرہ مول لیتے ہوئے ایسے کام کرنے چاہیئں ہار نہیں منانی چائیے ہار کر بھی جیت کی کوشش جاری رکھنی چاہیئے ایسے کام جو ہم نے پہلے کبھی نہیں کیے ہوتے۔ ہر نئے کام کے اندر ایک چیلنج پوشیدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے چیلنجوں کی وجہ چاہے ہم اس کام کو کرنے میں ناکام رہیں، لیکن ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    سوال یہ ہے کہ آج مسلم ممالک میں معاشرے میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ زندگی کے کن شعبوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا خواتین کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہے۔ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ کیونکہ ہم خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں ہمیں خود اپنے دفاع کے لئے کھڑا ہونا ہوگااور اس معاشرے میں اپنے آپ کو منوانا ہوگا کہ ہم ہی ہیں جو اس معاشرے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

    کسی بھی ملک یا ریاست کی تعمیر و معاشی ترقی میں خواتین کا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح خواتین کو بااختیار بنا دیا جائے تو پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ہمارے ملک میں خواتین اپنی جہدِ مسلسل پر گامزن ہیں اور آج بھی انہیں لاتعداد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے آگے بڑھنے میں صرف نقل وحرکت کی پابندیاں ہی حائل نہیں بلکہ انہیں اجرتوں کے شدید فرق کا مسئلہ بھی درپیش ہے خواتین کے حقوق کو ہمارے ہاں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت پر حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہے کہ موثر پروگرام اور پالیساں وضع کی جائیں اور ان کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو قوانین پہلے سے نافذ ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال میں بہتری لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔ خواتین کے حقوق کے لئے جنگ جاری رکھنی ہو گی خواتین کے حقوق کے لیے ہمیں نہ صرف قوانین کے ذریعے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرتے ہوئے جدوجہد کرنی ہوگی یہ ہمارا چیلنج ہے اور خواتین کو امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے خلاف جنگ ہم سب کو آگے بڑھ کر لینی ہو گی ہم خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کو خود پہچانا ہوگا

    آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کے بہترین اداروں میں اپنا کردار ادا کر رہی آج کی عورت بدل چکی ہے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہین پاکستان کے آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت
    بھی دی گئی ہے لیکن ان قوانین کے عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں عورتوں کے کون کون سے حقوق شامل ہیں اور خواتین ان قواتین سے
    کیسے اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں اور ان حقوق کی پامالی کرنے پر مجرم کن سزاؤں کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کافی جہگوں پر دیکھا گیا ہے کہ خاص کر پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اکثر جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کو ان کا شرعی اور قانونی حق سے محروم رکھا جاتا۔ ہے لیکن پاکستان کا آئین اس بارے میں بالکل واضح طور پر عورتوں کو ان کا جائیداد میں حق دیا جائے۔
    ہراساں کرنے پینل کوڈ کہ مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں ایسےجملے بولے جائے، جو خاتون کو تکلیف پہچائے یا اس کو ہراساں کرے، ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے ایسے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔وہ تمام خواتین جو ان حالات سے گزرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اس موضوع پر ایک عرصہ سے قلم اٹھانا چاہ رہا تھا لیکن موقعہ و وقت نہ مل سکا۔اس موضوع کو احاطہ کرنا ایک مشکل امر ہے لیکن کوشش ہوگی کہ انصاف سے کام لیا جائے۔

    ایک زمانے سے بحث رہی ہے کہ جناب عورت کے حقوق نہیں ادا ہوتے۔عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا۔مرد استحصال کا مرتکب ہوتا ہے۔یہ کہانی آج کی نہیں ہے بلکہ صدیوں سے یہ آوازیں بلند ہیں اور آئندہ ان میں شدت آتی رہے گی۔
    اللہ سب کا خالق ہے۔انسان کو خلقت کے اعتبار سے مرد و عورت میں تقسیم نہیں کیا گیا۔یہ عجب معاملہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو الگ تصور کرے یا مرد خود کو الگ مان لے۔جبکہ خلقت و تولید کا سلیقہ و قرینہ ایک ہے۔
    اسلام نے عورت کی حفاظت کیلئے بہت سے قوانین بنائے ہیں جو عام شریعت سے ہٹ کر ہیں۔مثال کے طور پر،قتل کے گواہوں کی تعداد دو (2) شریعت نے مقرر کی لیکن جب زنا کی بات آئی تو یہاں چار عادل گواہ طلب کئے۔حالانکہ قتل سرعام ہو سکتا ہے،جبکہ زنا کا سرعام ہونے احتمال نہ ہونے کے برابر ہے۔مقصد عورت کی عزت و حرمت کو محفوظ کرنا ہے۔اسی طرح جب کوئی حاملہ خاتون کسی بھی جرم کی مرتکب پائی جائے تو اس کی سزا مؤخر کرنے کا حکم آتا ہے۔طلاق حاملہ عورت کی نہیں ہو سکتی۔حتاکہ بدکردار عورت کو جس کی گواہیاں پوری نہ ہو سکیں، بھی چھوڑنے کا حکم ہے مارنے کا نہیں۔یہ سب کچھ عام عورت کیلئے حفاظتی اقدامات کئے گئے جن میں سے چند بیان کئے ہیں اشاراتی طور پر۔تفصیل اس کی خود ایک ضغیم باب بن سکتا ہے۔
    معاشرے میں استحصال اور ظلم ہی تب ہوتا ہے جب کسی کا حق روک لیا جائے۔مثلا” خواتین کی اجرت کم کر دی جائے مرد کے مقابلے میں، بسوں اور ویگنوں میں سیٹیں کم ہوں حالانکہ آبادی کے لحاظ سے خواتین مردوں سے زیادہ تعداد میں ہیں، جائیداد میں حصہ نہ دینا، بغیر عورت کی اجازت کے اسکی شادی طے کرنا، بچیوں کو انکی عمر سے بہت زیادہ یا بہت کم عمر سے شادی کروانا فقط جائیداد بچانے کیلئے، ظلم تو یہ ہے کہ جب کسی گاؤں میں بچی کی شادی قرآن سے کی جاتی ہے (استغفراللہ) تاکہ جائیداد گھر میں رہے تو میرے خیال میں اس طرح کے ظلم سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اگر مرد طلاق دے تو دوسری شادی کر لے لیکن معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کو اتنا ذلیل سمجھا جانا کہ جیسے وہ اچھوت ہو گئی، ظلم ہے۔ اللہ نے عورت کو معاشرے میں بہت بلند اور عزت کا مقام دیا ہے۔ ماں (عورت) کے پاؤں تلے جنت رکھی، بہن (عورت) کو رحمت کہا، بیٹی (عورت) کو والد کیلئے رحمت قرار دیا، بیوی (عورت) چار رشتوں (شوہر، بیٹا، بھائی اور والد) کو جنت لیجانے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر وہ ایمان والی ہے۔
    میرا جسم میری مرضی نہیں ہوتی، بلکہ مرضی اللہ کی ہے کہ زندگی کیسے گزاریں۔ وحشی جانور بن کر ہم بستری اور ننگے پن سے منع فرمایا، ستر ڈھانپنے کا حکم ہے ناکہ شلوار قمیض یا کسی مخصوص لباس میں قید کیا گیا۔ لیکن اگر ویسے عام طور پر دیکھیں تو مرد کو حاکمیت اللہ نے دی ہے جو 4 شرطوں کی وجہ سے ہے۔
    1۔ نان نفقہ
    2۔ محبت و خلوص کیساتھ نگہداشت
    3۔ حقوق کی بجاآوری
    4۔ شریعت کی پابندی

    اسی طرح عورت کو بھی پابند کیا
    1۔ شوہر و اولاد کی نگہداشت
    2۔ گھر کی نگہداشت
    3۔ ایمان پر قائم ہونا
    4۔ محبت و خلوص

    دونوں کیلئے مشترکہ شرائط بہت ہیں جیسے۔
    ۔ بدکاری سے اجتناب
    ۔ بدکلامی سے اجتناب
    ۔ ایکدوسرے کی عزت و تکریم
    ۔ بچونکی تعلیم و تربیت
    ۔ معاشرے میں مثبت کردار
    ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

    اگر خواتین جو میرا جسم میری مرضی پر یقین رکھنے والی یا مرد جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور وہ مرد و خواتین جو اس نعرہ سے سخت اختلاف رکھتے ہیں، سب ہی ایک بار اسلامی قوانین اور احکامات الہی کا مطالعہ کر لیں تو یقین جانیں کہ مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ آئے روز جو زنا بالجبر وغیرہ کے معاملات ہیں، ان پر بہت سخت قوانین موجود ہیں، قرآن میں بھی اور پاکستان پینل کوڈ میں بھی۔ مسئلہ ہمارے یہاں قوانین کا ہونا یا نہ ہونا نہیں بلکہ ان قوانین کا درست اور سختی سے نفاذ ہے۔مجرموں کا بچ نکلنا فقط عدلیہ اور تحقیقی اداروں کی غفلت یا انکے ذاتی مفاد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کوئی قانون بنا لیں لیکن جب تک قانون کے نفاذ کیلئے صاحبان کردار نہ ہونگے، وہ قوانین ردی کا ٹکڑا ہی رہیں گے اور معاشرہ انحطاط کا شکار۔

    میری گزارش ہے کہ اس فضول بحث کو سمیٹ دیں۔ اسکا حاصل کچھ نہیں۔ اپنے فرائض کی طرف سب توجہ دیں، حقوق خود ملنا شروع ہونگے۔ ادارے اپنا کام کریں اور چیک اینڈ بیلنس کو قائم کریں۔
    والسلام۔

    لاہور

  • جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش  تحریر : اقصٰی صدیق

    جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش تحریر : اقصٰی صدیق

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بیٹی جب باپ کے کندھے تک پہنچنے لگتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
    آج مہنگائی کے اس دور میں جب اخراجات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی متوسط طبقہ والدین شادی بیاہ میں بیٹیوں کو بھاری بھر کم جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی فکر میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
    موجودہ دور میں چند تولے زیورات کی قیمت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    اس لیے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سونے کے زیورات دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔
    مہنگائی کے اس دور میں اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کا جینا مرنا محال کر دیا ہے۔
    اور مہنگائی کے اس دور میں شادی کے اخراجات بیس، پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔
    ایسے میں والدین بیچارے بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے بارے میں سوچ سوچ کر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہیز اور غیر ضروری رسموں کے سبب بابل کی دہلیز پر بیٹھے لڑکیوں کے بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے۔
    کم جہیز یا جہیز نہ دینے پر بنت حوا تشدد و جبر کا نشانہ بنتی آ رہی ہے، سسرال میں ساری زندگی طعنہ زنی کا شکار ہوتی رہتی ہے، اور کبھی تو جہیز کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے، اور کبھی تیزاب پھینک کر جلا دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جہیز کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
    انہیں صرف یہی فکر رہتی ہے، کہ کسی طرح بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔
    والدین بیٹی کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اس کیلئے جہیز جمع کرتے ہیں، تاکہ آنے والے وقت میں ان کی اور ان کی اولاد کی عزت میں آنچ نہ آئے۔
    ایک زمانہ تھا جب شادی کرنا بہت آسان تھا، بیٹی کو جہیز میں دیا جانے والا سامان محض چند سکوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں روپوں میں ہوتا تھا، اگرچہ مہنگائی کا اس وقت بھی رویا جاتا تھا۔لیکن اس دور میں اتنے فضول رسم و رواج نہیں تھے، جو آج کل کے دور میں والدین کے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔
    رنگ برنگے پکوان تیار نہیں کیے جاتے تھے، صرف ایک ہی کھانا بنتا تھا۔
    اور بیٹی والے جہیز میں اتنا قیمتی سامان بھی نہیں دیتے تھے، جتنا آج کل لڑکی کے سسرال والے فرمائشیں کر کے مانگتے ہیں۔سادہ لوح لوگ تھے، ہر طرح کی بناوٹ سے عاری۔
    والدین حسب استطاعت بیٹی کو جہیز اور زیورات دے کر خوشی خوشی رخصت کر دیتے تھے۔پرانے وقتوں میں ایک کنبہ میں درجنوں افراد کی کفالت صرف گھر کا ایک فرد جو گھر کا کفیل ہوا کرتا تھا، اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔اس وقت تقریباً لڑکی لڑکے کا تناسب برابر تھا جبکہ روپے پیسے کی اتنی ریل پیل نہ تھی۔
    اور نہ ہی موجودہ دور کی طرح آسائشیں میسر تھی، کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی انسان کو ذہنی سکون میسر تھا۔
    دور جدید میں ہر کام میں تیزی آ گئی ہے، آج جدید دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ہم نمود و نمائش میں پڑ گئے ہیں۔ہم نے بہت سی غیر اسلامی اور غیر ضروری رسومات اپنا لی ہیں۔
    جوں جوں بیٹیاں جوان ہوتی ہیں، انہیں دیکھ کر والدین کی کمر جکھتی جاتی ہے۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حکومتی سطح پر بے تحاشا مہنگائی ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ بات بھی قابل قبول ہے کہ ہم نے معاشرے میں اعلٰی مقام کی خاطر کئی فضول رسمیں اپنا رکھی ہیں۔
    نفسا نفسی کے اس دور میں ہم سادگی کو بھول کر آگے نکلنے کی کوشش میں دلی سکون کھو بیٹھے ہیں۔
    ہم نے یہ بات ذہن میں بٹھا لی ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو شادی پر اتنا جہیز دیا ہے تو ہم کیونکر پیچھے رہیں،
    دھاگہ ڈالنے والی سوئی سے لے کر گاڑی تک جہیز میں دے کر اپنی حیثیت کا لوہا منواتے ہیں۔

    لڑکے والے بھی اپنا حق سمجھ کر سب کچھ رکھ لیتے ہیں، چاہے گھر میں رکھنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔
    ہمارا مذہب ہب اسلام بھی ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے،اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔
    عورت کا بہترین زیور اس کی تعلیم و تربیت ہے،
    فضول رسم و رواج کو ترک کر کے ہم شادی بیاہ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔
    لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہل کون کرے گا؟

    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ امراء لوگ جنہوں نے شادی کے دنوں کو ہفتوں میں تبدیل کر دیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ غیر ضروری اور غیر اسلامی رسومات کی نفی کریں، انسان کی اصل حیثیت اس کا روپے پیسہ نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔جہیز سے ہٹ کر آج کل پارلر آنے جانے کے چکروں میں بھی ایک کثیر رقم ضائع کر دی جاتی ہے۔
    یہ بات بھی حقیقت ہے کہ روپے پیسے کی فراوانی اور جہیز کی زیادتی سے آپ اپنی بیٹی کی قسمت تو نہیں بدل سکتے۔لڑکی نے اپنا گھر خود بسانا ہے، اس لیے اچھی تربیت اور عادات و اطوار ہی اس کے لیے اس کا قیمتی زیور اور اثاثہ ہیں۔جسے اپنا کر وہ اپنا گھر بسا سکتی ہے، اور اسی سے ہی آگے چل کر ایک اچھا گھرانہ، اور اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    بے شک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سادگی کو پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میانہ روی کی تلقین کی۔بحثیت مسلمان ہمیں روز محشر ہر چیز کا حساب دینا ہے، یہ ظاہری نمود و نمائش کہیں ہمارے لیے باعث فخر کی بجائے باعث عذاب ہی نہ بن جائے، لہٰذا اس بارے میں ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی بیحد ضرورت ہے۔ کیوں کہ بات محض جہیز کی ممانعت پر تبصرے کرنے کی نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کی ہے۔

    @_aqsasiddique