Baaghi TV

Category: خواتین

  • جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم شہزادی

    جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم شہزادی

    جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم رائے
    مجھے عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں ایک ٹاپ پر بات کیا کروں تو ٹاپک اکٹھے نا کروں لیکن مسلہ یہ ہے کہ میرے اکثر ٹاپکس ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جیسے نزلہ زکام اکٹھا لکھا جاتا ہے صبح وشام دن ورات ایک ساتھ لکھے جاتے ہیں ویسے میرے ٹاپکس بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ایک ٹاپک دوسرے کو مکمل کرتا ہے اور دوسرا پہلے کو۔ جن دو موضوعات پر بات کررہی ہوں یہ معاشرے کی بہت بڑی اور تلخ حقیقت ہیں۔ اور اسکا شکار ہونے والے بھی نوجوان اور شکار کرنے والے بھی نوجوان۔ جہیز ایک لعنت ہے اس بات پر سارا پاکستان اور معاشرہ متفق ہے۔ جتنے مرضی اس سروے کروائیں لڑکیاں لڑکے اسے لعنت قرار دیتے نظر آئیں گے۔ پاکستان کی ادھےسے زیادہ ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ نوجوان مستقبل ہیں ہمارا۔ انکے قول فعل میں تضاد اتنا ہے کہ بعض دفعہ سمجھ نہیں اتی کہ یہ خاندان کو سمبھالنا تو دور کی بات اپنے آپ کو سنبھال پائیں گے؟ یہی حال سوشل میڈیا کا یہاں جہیز پر بحث کریں تو بھی اپکو 99فیصد جہیز کو لعنت سمجھیں گے اور اسے برا کہیں گے تو اگر جہیز ایک لعنت ہے اور اس لعنت کی وجہ سے کئی بچیوں کے سر میں چاندی اتر آئی ہے تو پھر وہ ہیں کون جو جہیز لے رہے ہیں یا مطالبہ کررہے ہیں؟ کون لمبی لمبی لسٹیں بنا کے دیتا ہے؟ کون ہیں جو اب فرنیچر اور الیکٹرونکس سے نکل گاڑی اور پلاٹ تک مطالبہ کررہے ہیں؟ کون ہے جو لڑکے کی ماں کے لیے کنگن کا مطالبہ کررہا ہے؟ یقیناً یہی نوجوان جو یو ہر جگہ اسے لعنت قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عملا اسکا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں اگر اس پر ان نوجوانوں سے پوچھا جائے تو تاویلیں گھڑتے ہیں کہ امی نے کہا ہے باجی نے کہا ہے میں تو جہیز کے خلاف ہو لیکن ماں بہنوں کے آگے سر نہیں اٹھا سکتا ورنہ وہ کہیں گی کہ دیکھا زن مرید بن گیا ہے۔

    لیکن یہ تمام چیزیں میں اس کو بنوا دونگا یا جو وہ جہیز کے نام پے دیں گے میں کسی طرح لوٹا دونگا کس نے پھر واپس لینا اور کس نے لوٹانا۔ اسی طرح لڑکیاں بھی کہیں گی کہ اس لڑکے سے شادی کریں گی جو جہیز نہیں لےگا یا جہیز نہیں مانگےگا۔ میرے والدین نے مجھ پر اور میری تعلیم پر پہلے ہی لاکھوں خرچ کیے ہیں مزیدانکا بوجھ نہیں بننا۔ لیکن عملا وہ بھی جہیز کے لیے حریص پائی گئیں۔ یوں چیزیں اکٹھی کررہی ہونگی جیسے پہلی بار لے رہی ہیں یا آخری بار۔ الله کی بندیوں والدین ہیں ساری زندگی دیں گے آخری بار تھوڑی ہے کہ اس قدر لالچ کرو پلاسٹک کی بالٹی تک لیں گی۔ باپ کو بھائیوں کو مقروض کریں گی جہیز اور شادی کے فنکشنز کے نام پر۔ اسی طرح لڑکے کے والدین بھی یہی کہتے نظر آئیں گے کہ ہم اپنے لیے تھوڑی کہہ رہے ہیں جو بھی چیزیں ہونگی بچوں کے ہی کام آئیں گی۔۔ اب آتے ہیں حق مہر کی طرف، حق مہر وہ رقم ہوتی ہے جو نکاح کے وقت لڑکے کی طرف سے لڑکی کے لیے لکھی جاتی ہے اور ادا کی جاتی ہے۔ شریعت میں بھی اس کی اجازت ہے لیکن نقصان تب ہوتا ہے جب حق مہر شرعی ہونے کے بجائے یا، لڑکے کی مالی حثیت کو مدنظر رکھے بغیر طے کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ لاکھوں اور بعض دفعہ کروڑوں میں لکھا جاتا ہے۔ لڑکی والے سکیورٹی کے نام پے یہ پیسہ لکھواتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس لڑکے کی احثیت ہی نہیں کہ وہ اتنی ادائیگی کرسکے تو لکھوایا کیوں جاتا ہے؟ کیا یہ بوجھ نہیں ہے؟ ایک لڑکا جسکی عمر ہی کم و بیش 25 سے 30 سال ہے وہ تمام تر آسائشات فوراً کیسے دے سکتا ہے جن آسائشات کو دیتے ہوئے اپکے والد کا سر سفید اور کندھے جھک گئے۔ اور کیا واقعی وہ لاکھوں کا حق مہر خوشیوں کی ضمانت ہے؟ کیا واقعی وہ سکیورٹی دے سکتا ہے؟ حادثات زندگی کا حصہ ہیں ان سے محفوظ الله کی زات رکھ سکتی ہے روپیہ پیسہ نہیں۔ اس لیے خدارا شادی کو سنت نبوی صلی الله عليه والہ وسلم سمجھ کر ادا کرو نا کہ کاروبار۔ جب شادی کو کاروبار اور محض لین دین کا زریعہ بناؤگے تو کہاں سکون پاؤگے؟ کیسے برکت ہوگی اس رشتے میں؟ نکاح میں برکت ہے اس برکت کو آسان کیجے تاکہ زنا کا راستہ روکا جا سکے۔ نکاح سستا کیجے تاکہ بہن بیٹی عزت سستی نا ہو۔ بیٹیوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو انہیں قرانی تعلیمات دیں انہیں دنیوی تعلیم دیں پاؤں پے کھڑا کریں لیکن حد سے تجاوز نا کرنے دیں
    جزاک الله

  • عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    خود اعتمادی خود پر پختہ یقین کا نام ہے یہ سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔ خود اعتمادی اس حالت کو کہتے ہیں جہاں فرد بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتاہے ۔ خود اعتمادی کے لیے اہم عناصر میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت،عمل کرنے کی صلاحیت اور قوت ہوتی ہے خود اعتمادی ایک ایساجوہر ہے جو خود اعتماد شخص کے ذہن میں ایسی صفات پیدا کردیتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کام بھی آسان سمجھنے لگتا ہے اور اس کو مکمل کرنے لئے آخری حد تک اپنی کوشش کرتا ہےاور وہ ہر ذمہ داری کو قبول کرنے اور اس کے نبھانے میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا۔ایسے شخص کا چہرہ پر کشش، جازب نظر، گفتار بامعنی اور شخصیت پروقار ہوتی ہے
    یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار کی جاتی ہے جس کو خود پر اعتماد ہو وہ انسان اپنی منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے اور اس کے آگے حائل ہونے والی رکاوٹوں سے نہیں ڈرتا ۔خود پر اعتماد کرنے والے لوگ نا صرف زندگی کے ہر میداں کامیاب ہوتے ہیں یہی خود اعتمادی ان کو مضبوط کرتی ہے۔
    خود اعتماد انسان کو اپنے کام اپنی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے مخالف حالات سے ان کے اداروں پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے ہم جیت جائے گے۔ ایسا انسان اپنی خود اعتمادی سے اپنی تقدیرخود بناتا ہے ہار کر بھی جیت کی تلاش میں رہتا ہے خود اعتماد شخص شیشے کی طرح شفافءت پسند ہوتا ہے وہ ناکامی کے بعد بھی اپنی کامیابی کی طرف امید سے دیکھتا ہے ۔

    خود اعتماد شخص ہمیشہ عزت نفس کا قائل ہوتا ہے بہت سے بے بس انسانوں کی خود اعتمادی نے ان کو زندگی میں بلندی تک پہنچا دیا ہے بطور ایک باشعور خود اعتماد اور عزت نفس رکھنے والا شخص ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنی موجودگی کی کوئی اچھی وجہ بنے رہے۔ ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں ہماری عزت برقرار رہے اور انہی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی عزت کو ہم اپنی قدر جانتے ہیں جو شخص خود اعتماد ہوتا ہے وہ عزت نفس کا بھی قائل ہوتا ہے۔
    اپنے اندر خود اعتمادی کیسے بھال کی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا احساس کریں۔ بعض اوقات ایسی چیزوں پر توجہ دیناآسان ہوتی ہے جنہیں آپ حاصل نہ کر سکے ہوں بہ نسبت ان چیزوں کے جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی چیزوں پر دھیان دے کر جو آپ حاصل نہیں کر سکے آپ آسانی سے اپنا اعتماد کھو سکتے ہیں۔ اپنی زندگی میں مثبت رہیں۔ مثبت سوچے اچھا سوچے ہر کسی کی کچھ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خوبیوں پر توجہ رکھیں۔ اپنی خوبیوں کا ادراک ہانا چائیے اور اپنی صلاحیتوں کو اپنی خوبیوں کے مطابق ڈھالا جا ئے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافے کا ہوتا ہے اور عزت نفس پیدا ہو گی۔خود اعتمادی ایک ایساوصف ہے جس کے بغیرکوئی بھی خواہ وہ کتنی بھی خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو، کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خوداعتمادی ایک صحت مند شخصیت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہےخود اعتمادی ہو توزندگی خوشگوار بن جاتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے کامیابی کی بلند ترین منزلوں کو حاص کرنا آسان ہوتا ہے۔
    آخر میں، اپنی خود اعتمادی کی تعمیر کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرتی رہنی چاہیے اور چھوٹا موٹا خطرہ مول لیتے ہوئے ایسے کام کرنے چاہیئں ہار نہیں منانی چائیے ہار کر بھی جیت کی کوشش جاری رکھنی چاہیئے ایسے کام جو ہم نے پہلے کبھی نہیں کیے ہوتے۔ ہر نئے کام کے اندر ایک چیلنج پوشیدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے چیلنجوں کی وجہ چاہے ہم اس کام کو کرنے میں ناکام رہیں، لیکن ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    سوال یہ ہے کہ آج مسلم ممالک میں معاشرے میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ زندگی کے کن شعبوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا خواتین کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہے۔ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ کیونکہ ہم خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں ہمیں خود اپنے دفاع کے لئے کھڑا ہونا ہوگااور اس معاشرے میں اپنے آپ کو منوانا ہوگا کہ ہم ہی ہیں جو اس معاشرے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

    کسی بھی ملک یا ریاست کی تعمیر و معاشی ترقی میں خواتین کا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح خواتین کو بااختیار بنا دیا جائے تو پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ہمارے ملک میں خواتین اپنی جہدِ مسلسل پر گامزن ہیں اور آج بھی انہیں لاتعداد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے آگے بڑھنے میں صرف نقل وحرکت کی پابندیاں ہی حائل نہیں بلکہ انہیں اجرتوں کے شدید فرق کا مسئلہ بھی درپیش ہے خواتین کے حقوق کو ہمارے ہاں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت پر حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہے کہ موثر پروگرام اور پالیساں وضع کی جائیں اور ان کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو قوانین پہلے سے نافذ ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال میں بہتری لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔ خواتین کے حقوق کے لئے جنگ جاری رکھنی ہو گی خواتین کے حقوق کے لیے ہمیں نہ صرف قوانین کے ذریعے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرتے ہوئے جدوجہد کرنی ہوگی یہ ہمارا چیلنج ہے اور خواتین کو امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے خلاف جنگ ہم سب کو آگے بڑھ کر لینی ہو گی ہم خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کو خود پہچانا ہوگا

    آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کے بہترین اداروں میں اپنا کردار ادا کر رہی آج کی عورت بدل چکی ہے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہین پاکستان کے آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت
    بھی دی گئی ہے لیکن ان قوانین کے عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں عورتوں کے کون کون سے حقوق شامل ہیں اور خواتین ان قواتین سے
    کیسے اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں اور ان حقوق کی پامالی کرنے پر مجرم کن سزاؤں کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کافی جہگوں پر دیکھا گیا ہے کہ خاص کر پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اکثر جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کو ان کا شرعی اور قانونی حق سے محروم رکھا جاتا۔ ہے لیکن پاکستان کا آئین اس بارے میں بالکل واضح طور پر عورتوں کو ان کا جائیداد میں حق دیا جائے۔
    ہراساں کرنے پینل کوڈ کہ مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں ایسےجملے بولے جائے، جو خاتون کو تکلیف پہچائے یا اس کو ہراساں کرے، ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے ایسے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔وہ تمام خواتین جو ان حالات سے گزرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اس موضوع پر ایک عرصہ سے قلم اٹھانا چاہ رہا تھا لیکن موقعہ و وقت نہ مل سکا۔اس موضوع کو احاطہ کرنا ایک مشکل امر ہے لیکن کوشش ہوگی کہ انصاف سے کام لیا جائے۔

    ایک زمانے سے بحث رہی ہے کہ جناب عورت کے حقوق نہیں ادا ہوتے۔عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا۔مرد استحصال کا مرتکب ہوتا ہے۔یہ کہانی آج کی نہیں ہے بلکہ صدیوں سے یہ آوازیں بلند ہیں اور آئندہ ان میں شدت آتی رہے گی۔
    اللہ سب کا خالق ہے۔انسان کو خلقت کے اعتبار سے مرد و عورت میں تقسیم نہیں کیا گیا۔یہ عجب معاملہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو الگ تصور کرے یا مرد خود کو الگ مان لے۔جبکہ خلقت و تولید کا سلیقہ و قرینہ ایک ہے۔
    اسلام نے عورت کی حفاظت کیلئے بہت سے قوانین بنائے ہیں جو عام شریعت سے ہٹ کر ہیں۔مثال کے طور پر،قتل کے گواہوں کی تعداد دو (2) شریعت نے مقرر کی لیکن جب زنا کی بات آئی تو یہاں چار عادل گواہ طلب کئے۔حالانکہ قتل سرعام ہو سکتا ہے،جبکہ زنا کا سرعام ہونے احتمال نہ ہونے کے برابر ہے۔مقصد عورت کی عزت و حرمت کو محفوظ کرنا ہے۔اسی طرح جب کوئی حاملہ خاتون کسی بھی جرم کی مرتکب پائی جائے تو اس کی سزا مؤخر کرنے کا حکم آتا ہے۔طلاق حاملہ عورت کی نہیں ہو سکتی۔حتاکہ بدکردار عورت کو جس کی گواہیاں پوری نہ ہو سکیں، بھی چھوڑنے کا حکم ہے مارنے کا نہیں۔یہ سب کچھ عام عورت کیلئے حفاظتی اقدامات کئے گئے جن میں سے چند بیان کئے ہیں اشاراتی طور پر۔تفصیل اس کی خود ایک ضغیم باب بن سکتا ہے۔
    معاشرے میں استحصال اور ظلم ہی تب ہوتا ہے جب کسی کا حق روک لیا جائے۔مثلا” خواتین کی اجرت کم کر دی جائے مرد کے مقابلے میں، بسوں اور ویگنوں میں سیٹیں کم ہوں حالانکہ آبادی کے لحاظ سے خواتین مردوں سے زیادہ تعداد میں ہیں، جائیداد میں حصہ نہ دینا، بغیر عورت کی اجازت کے اسکی شادی طے کرنا، بچیوں کو انکی عمر سے بہت زیادہ یا بہت کم عمر سے شادی کروانا فقط جائیداد بچانے کیلئے، ظلم تو یہ ہے کہ جب کسی گاؤں میں بچی کی شادی قرآن سے کی جاتی ہے (استغفراللہ) تاکہ جائیداد گھر میں رہے تو میرے خیال میں اس طرح کے ظلم سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اگر مرد طلاق دے تو دوسری شادی کر لے لیکن معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کو اتنا ذلیل سمجھا جانا کہ جیسے وہ اچھوت ہو گئی، ظلم ہے۔ اللہ نے عورت کو معاشرے میں بہت بلند اور عزت کا مقام دیا ہے۔ ماں (عورت) کے پاؤں تلے جنت رکھی، بہن (عورت) کو رحمت کہا، بیٹی (عورت) کو والد کیلئے رحمت قرار دیا، بیوی (عورت) چار رشتوں (شوہر، بیٹا، بھائی اور والد) کو جنت لیجانے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر وہ ایمان والی ہے۔
    میرا جسم میری مرضی نہیں ہوتی، بلکہ مرضی اللہ کی ہے کہ زندگی کیسے گزاریں۔ وحشی جانور بن کر ہم بستری اور ننگے پن سے منع فرمایا، ستر ڈھانپنے کا حکم ہے ناکہ شلوار قمیض یا کسی مخصوص لباس میں قید کیا گیا۔ لیکن اگر ویسے عام طور پر دیکھیں تو مرد کو حاکمیت اللہ نے دی ہے جو 4 شرطوں کی وجہ سے ہے۔
    1۔ نان نفقہ
    2۔ محبت و خلوص کیساتھ نگہداشت
    3۔ حقوق کی بجاآوری
    4۔ شریعت کی پابندی

    اسی طرح عورت کو بھی پابند کیا
    1۔ شوہر و اولاد کی نگہداشت
    2۔ گھر کی نگہداشت
    3۔ ایمان پر قائم ہونا
    4۔ محبت و خلوص

    دونوں کیلئے مشترکہ شرائط بہت ہیں جیسے۔
    ۔ بدکاری سے اجتناب
    ۔ بدکلامی سے اجتناب
    ۔ ایکدوسرے کی عزت و تکریم
    ۔ بچونکی تعلیم و تربیت
    ۔ معاشرے میں مثبت کردار
    ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

    اگر خواتین جو میرا جسم میری مرضی پر یقین رکھنے والی یا مرد جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور وہ مرد و خواتین جو اس نعرہ سے سخت اختلاف رکھتے ہیں، سب ہی ایک بار اسلامی قوانین اور احکامات الہی کا مطالعہ کر لیں تو یقین جانیں کہ مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ آئے روز جو زنا بالجبر وغیرہ کے معاملات ہیں، ان پر بہت سخت قوانین موجود ہیں، قرآن میں بھی اور پاکستان پینل کوڈ میں بھی۔ مسئلہ ہمارے یہاں قوانین کا ہونا یا نہ ہونا نہیں بلکہ ان قوانین کا درست اور سختی سے نفاذ ہے۔مجرموں کا بچ نکلنا فقط عدلیہ اور تحقیقی اداروں کی غفلت یا انکے ذاتی مفاد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کوئی قانون بنا لیں لیکن جب تک قانون کے نفاذ کیلئے صاحبان کردار نہ ہونگے، وہ قوانین ردی کا ٹکڑا ہی رہیں گے اور معاشرہ انحطاط کا شکار۔

    میری گزارش ہے کہ اس فضول بحث کو سمیٹ دیں۔ اسکا حاصل کچھ نہیں۔ اپنے فرائض کی طرف سب توجہ دیں، حقوق خود ملنا شروع ہونگے۔ ادارے اپنا کام کریں اور چیک اینڈ بیلنس کو قائم کریں۔
    والسلام۔

    لاہور

  • جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش  تحریر : اقصٰی صدیق

    جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش تحریر : اقصٰی صدیق

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بیٹی جب باپ کے کندھے تک پہنچنے لگتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
    آج مہنگائی کے اس دور میں جب اخراجات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی متوسط طبقہ والدین شادی بیاہ میں بیٹیوں کو بھاری بھر کم جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی فکر میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
    موجودہ دور میں چند تولے زیورات کی قیمت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    اس لیے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سونے کے زیورات دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔
    مہنگائی کے اس دور میں اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کا جینا مرنا محال کر دیا ہے۔
    اور مہنگائی کے اس دور میں شادی کے اخراجات بیس، پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔
    ایسے میں والدین بیچارے بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے بارے میں سوچ سوچ کر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہیز اور غیر ضروری رسموں کے سبب بابل کی دہلیز پر بیٹھے لڑکیوں کے بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے۔
    کم جہیز یا جہیز نہ دینے پر بنت حوا تشدد و جبر کا نشانہ بنتی آ رہی ہے، سسرال میں ساری زندگی طعنہ زنی کا شکار ہوتی رہتی ہے، اور کبھی تو جہیز کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے، اور کبھی تیزاب پھینک کر جلا دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جہیز کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
    انہیں صرف یہی فکر رہتی ہے، کہ کسی طرح بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔
    والدین بیٹی کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اس کیلئے جہیز جمع کرتے ہیں، تاکہ آنے والے وقت میں ان کی اور ان کی اولاد کی عزت میں آنچ نہ آئے۔
    ایک زمانہ تھا جب شادی کرنا بہت آسان تھا، بیٹی کو جہیز میں دیا جانے والا سامان محض چند سکوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں روپوں میں ہوتا تھا، اگرچہ مہنگائی کا اس وقت بھی رویا جاتا تھا۔لیکن اس دور میں اتنے فضول رسم و رواج نہیں تھے، جو آج کل کے دور میں والدین کے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔
    رنگ برنگے پکوان تیار نہیں کیے جاتے تھے، صرف ایک ہی کھانا بنتا تھا۔
    اور بیٹی والے جہیز میں اتنا قیمتی سامان بھی نہیں دیتے تھے، جتنا آج کل لڑکی کے سسرال والے فرمائشیں کر کے مانگتے ہیں۔سادہ لوح لوگ تھے، ہر طرح کی بناوٹ سے عاری۔
    والدین حسب استطاعت بیٹی کو جہیز اور زیورات دے کر خوشی خوشی رخصت کر دیتے تھے۔پرانے وقتوں میں ایک کنبہ میں درجنوں افراد کی کفالت صرف گھر کا ایک فرد جو گھر کا کفیل ہوا کرتا تھا، اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔اس وقت تقریباً لڑکی لڑکے کا تناسب برابر تھا جبکہ روپے پیسے کی اتنی ریل پیل نہ تھی۔
    اور نہ ہی موجودہ دور کی طرح آسائشیں میسر تھی، کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی انسان کو ذہنی سکون میسر تھا۔
    دور جدید میں ہر کام میں تیزی آ گئی ہے، آج جدید دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ہم نمود و نمائش میں پڑ گئے ہیں۔ہم نے بہت سی غیر اسلامی اور غیر ضروری رسومات اپنا لی ہیں۔
    جوں جوں بیٹیاں جوان ہوتی ہیں، انہیں دیکھ کر والدین کی کمر جکھتی جاتی ہے۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حکومتی سطح پر بے تحاشا مہنگائی ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ بات بھی قابل قبول ہے کہ ہم نے معاشرے میں اعلٰی مقام کی خاطر کئی فضول رسمیں اپنا رکھی ہیں۔
    نفسا نفسی کے اس دور میں ہم سادگی کو بھول کر آگے نکلنے کی کوشش میں دلی سکون کھو بیٹھے ہیں۔
    ہم نے یہ بات ذہن میں بٹھا لی ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو شادی پر اتنا جہیز دیا ہے تو ہم کیونکر پیچھے رہیں،
    دھاگہ ڈالنے والی سوئی سے لے کر گاڑی تک جہیز میں دے کر اپنی حیثیت کا لوہا منواتے ہیں۔

    لڑکے والے بھی اپنا حق سمجھ کر سب کچھ رکھ لیتے ہیں، چاہے گھر میں رکھنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔
    ہمارا مذہب ہب اسلام بھی ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے،اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔
    عورت کا بہترین زیور اس کی تعلیم و تربیت ہے،
    فضول رسم و رواج کو ترک کر کے ہم شادی بیاہ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔
    لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہل کون کرے گا؟

    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ امراء لوگ جنہوں نے شادی کے دنوں کو ہفتوں میں تبدیل کر دیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ غیر ضروری اور غیر اسلامی رسومات کی نفی کریں، انسان کی اصل حیثیت اس کا روپے پیسہ نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔جہیز سے ہٹ کر آج کل پارلر آنے جانے کے چکروں میں بھی ایک کثیر رقم ضائع کر دی جاتی ہے۔
    یہ بات بھی حقیقت ہے کہ روپے پیسے کی فراوانی اور جہیز کی زیادتی سے آپ اپنی بیٹی کی قسمت تو نہیں بدل سکتے۔لڑکی نے اپنا گھر خود بسانا ہے، اس لیے اچھی تربیت اور عادات و اطوار ہی اس کے لیے اس کا قیمتی زیور اور اثاثہ ہیں۔جسے اپنا کر وہ اپنا گھر بسا سکتی ہے، اور اسی سے ہی آگے چل کر ایک اچھا گھرانہ، اور اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    بے شک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سادگی کو پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میانہ روی کی تلقین کی۔بحثیت مسلمان ہمیں روز محشر ہر چیز کا حساب دینا ہے، یہ ظاہری نمود و نمائش کہیں ہمارے لیے باعث فخر کی بجائے باعث عذاب ہی نہ بن جائے، لہٰذا اس بارے میں ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی بیحد ضرورت ہے۔ کیوں کہ بات محض جہیز کی ممانعت پر تبصرے کرنے کی نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کی ہے۔

    @_aqsasiddique

  • ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    پچھلے 1 ہفتے سے آپ نے دو نام ضرور سنیں ہوں گے، اگر آپ سوشل میڈیا کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے، تو وہ دو نام ہیں عائشہ اور ریمبو

    14 اگست کی شام سات بجے کے قریب مینار پاکستان پر عائشہ نامی ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والی حراسگی کے واقعے نے ملک میں ایک مرتبہ پھر خواتین کے حقوق پر بحث چھیڑ دی، اور عورت مارچ کے نام سے مشہور خواتین کے حقوق کے ایک تنظیم نے اس واقعے پر پورے ملک میں شورشرابہ شروع کر دیا، لیکن یاد رہے جب حکومت نے چند عرصہ پہلے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سرعام پھانسی کیلئے بل لانے کا اعلان کیا تو اس تنظیم کے منتظمین نے اس کی مخالفت کی، جس کے بعد اس تنظیم کے کردار پر شکوک وشبہات پیدا ہوگئے، اس سے پہلے بھی اس تنظیم نے میرا جسم میری مرضی جیسی غلیظ نعرہ لگاکر تنظیم کے کے کردار کو خوب بے نقاب کر دیا، اگر ہم غور سے دیکھیں تو مغربی ممالک میں یہ واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، حال ہی میں ڈی جی رینجرز سندھ  نے ایک بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ میں خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوتی، اور پاکستان میں تین چار واقعات پر شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی اور اسے ایوارڈ بھی مل گیا، ڈی جی رینجرز کا یہ  بیان سو فیصد درست ہے،   پاکستان میں میڈیا بھی ایسے واقعات کو پلانٹڈ طریقے سے رپورٹ کرتے ہیں، جن کو اکثر غلط رنگ دے کر ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہے، لیکن سارا میڈیا قصور وار نہیں ہے جیسا کہ جیو نیوز کے  اینکر انصار عباسی ہر پروگرام میں دین پر مبنی دلائل دینے کی وجہ پاکستان میں کافی مقبول اینکر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور عباسی ان تجزیوں کی وجہ سے اکثر پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرتا ہے ، یہاں ایک سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر خواتین کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے تو عورت مارچ کے منتظمین ان پامالیاں کرنیوالوں کو سرعام پھانسی جیسی سزا دینے کیخلاف کیوں ہے؟ خواتین کو جتنے عزت اور حقوق  اسلام نے دیے ہیں کسی اور مذہب نے نہیں دیے، پھر آخر اس ملک میں خواتین کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل کیوں نہیں ہورہی؟ عورت مارچ کے تنظیم کے لوگوں کی اکثریت امریکہ یا دوسرے مغربی ملکوں میں موجود ہے، جو پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی کوئی موقع ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتے، آئے روز یہ لوگ پاکستانی ریاست اور ان کے اداروں پر تنقید میں بھی سرفہرست ہوتے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر ایک خاتون اسلامی جمہوریہ ملک میں رہ رہی ہو، اور اس ملک کا آئین دنیا کے سب سے بہترین اورعادلانہ نظام اسلام کے اصولوں پر استوار ہو تو پھر مغربی ممالک میں بیھٹے ان لبرلز کے غیر شرعی بیانات کو آخر پاکستان میں کیوں اتنی اہمیت دی جاتی ہے؟  کیا ہمیں بطور ایک ذمہ دار شہری اپنے ملک میں ان واقعات پر  کھل کر اپنے مذہب کی روشنی میں دلائل سے بحث نہیں کرنی چاہیے؟  یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کررہے ہیں

    Twitter @Ipashtune

  • کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    جب یہ دنیا بنی تھی تو اس وقت زمانہِ جاہلیت تھی ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور بیٹیوں کیلۓ ان کے دلوں میں نفرت تھی۔ جب حضرت محمدﷺ اس دنیا میں تشریف لاۓ اور لوگوں کو اللہ کے دین کے بارے میں بتایا تو تب لوگوں کو احساس ہوا۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیۓ ہے وہ دنیا میں کسی اور مذہب کو نہیں دیۓ گۓ۔ اسلام میں اس بندے کو منحوس اور شیطان کا ایجنٹ بولا گیا ہے جو عورتوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کرتا ہو۔
    اللہ نے سب سے پہلے عورت کو برابری کا اعزاز دیا ہے اور اللہ فرماتے ہے کہ ” پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔
    اسلامی معاشرے میں رہتے ہوۓ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلاام ہمیں کیا کہتا کہ ہم نے کس طرح عورتوں کو ان کے حقوق دینے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ مغربی طرز پر چل رہا ہے اور عورتوں کو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ آج بھی ہمارا معاشرہ عورتوں کو اپنے حواس نکالنے کیلۓ استعمال کرتی ہے ۔
    عورتوں کو ہر جگہ نوکری دینے سے پہلے اپنی حواس نکالنے کا کہا جاتا ہے تب عورت کو نوکری دی جاتی ہے ۔ حالانکہ حضورﷺ کے دور میں بھی عورتیں باقاعدہ جہاد کرنے جاتی تھی۔ حضرت سمیہؓ وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے اسلام کیلۓ قربانی دی تھی۔ یہ وہ عظیم عورت تھی کہ سرداران قریش ان پر ظلم اور زیادتیاں کرتے تھے لیکن پھر بھی یہ عورت اللہ کے دین پر قائم رہی ۔
    عورت اس معاشرے کی زینت ہے اگر عورت نہ ہوتی تو یہ دنیا نہ ہوتی ۔ عورت ایک ماں کا نام ہے ۔ عورت ایک بیٹی کا نام ہے ۔ عورت ایک بہن کا نام ہے ۔ اگر دیکھا جاۓ تو اس دنیا میں اللہ نے عورت کو کتنا اہم مقام دیا ہے ۔ اس کے ساتھ آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی عورت کے حقوق کے بارے میں واضح کیا ہے کہ مردوں کا اپنی عورتوں پر اس طرح حق ہے جس طرح
    عورتوں کا اپنے مردوں پر ہے ۔
    اگر اس دنیا میں مرد ہے تو مطلب یہاں عورت بھی ہے کیونکہ عورت اور مرد ایک حقیقت ہے ۔ حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ نے ایک مرد کے ساتھ عورت کو شامل کرکے یہ دنیا بنائ۔ یہ دنیا عورت کے بغیر بڑھنا مشکل تھا.
    اب اگر بات میرے ملک پاکستان کے کی جاۓ تو یہاں آج لوگ مغرب کے طرز پر جارہے ہے اور لڑکیوں کو اپنی غلامی اور اپنے حوس نکالنے کیلۓ استعمال کرتے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہا ہے اور انہیں وہ عزت اور حق نہیں دے رہے جو ہمیں اسلام نے بتایا ہے.
    آج یہاں عورت مخفوظ نہیں ہے نہ گھر میں نہ گھر سے باہر۔ میں یہ مانتا ہو کہ آج کل ہماری عورتوں نے مغربی لباس پہننا شروع کیا ہے جس سے مرد یہ سمجھتے ہے کہ ہا‌ں یہ لڑکی واقعی خراب ہوگی ۔ لیکن دوسری طرف یہا‌ں تو وہ عورتیں بھی محفوظ نہیں ہے جو پردہ کرتی ہے ۔
    عورتوں پر یہ پابندی لگانا کہ وہ گھر سے باہر نہیں جائیگی یہ بلکل غلط ہے ۔ جب جنگ احد ہورہا تھا تو اس میں عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور زخمیوں کو پانی پلاتے تھے.
    میرے اس کالم کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج یہاں عورت درندوں کا شکار ہورہی ہے ۔ابھی کچھ ہی دن پہلے عورتوں کے ساتھ لاہور میں درندگی کے بےشمار واقعات سامنے آۓ ہے ۔ ہمیں اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کے بارے میں سوچنا ہوگا ورنہ تو اس کی سزا ہمیں اللہ بہت سخت دے گا۔

    Waseem Khan
    Twitter id: ‎@Waseemk370

  • معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    ایک زمانہ تھا جب عورت کو کسی قسم کی ملازمت کرنے کی یا ڈاکٹر بننے یا نرس کا پیشہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورتوں میں برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی ہے اور ڈاکٹر بننے کے دوران وہ مشکلات برداشت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ صحیح سے فرائض انجام دے سکتی ہیں
    دوسرے شعبوں کی طرح ڈاکٹر کا پیشہ بھی مردوں کی ذات تک محدود رہ کر رہ گیا تھا
    لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ ہو کر ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کیا۔
    مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی فلاح و بہبود معاشرتی نظم و ضبط،سیاست معاشی استحکم اور دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کیوں کہ روئے زمین پر نوح انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے لہذا خواتین کی اہمیت سے انکار کا جواز ہی نہیں عورت ہر روپ میں ہر رشتے میں عزت و وقار کی علامت اور وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے انسان کسی بھی منصب اور حیثیت کا حامل ہو زندگی کے سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خاتون کا مرہون احسان ضرور ہوتا ہے بارہا سننے میں آتا ہے ہر کامیاب انسان کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صنف نازک کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں ایک ناقابل تسخیر طاقت ضرور موجود ہے تو پھر اس کی ذات میں کم مانیگی کے احساس نے کب اور کیسے جنم لیا؟اس سلسلہ میں موجود الزام مردوں کو ٹھہرایا جائے یا پھر عورت ہی عورت کی حریف واقع ہوئی؟
    یہ وہ معمہ ہے جسے حل کرنے اہل علم ودانش برس با برس سے سرگردہ ہیں۔

    دیکھیے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ہماری تو بس ایک چھوٹی سی عرض ہے کہ خود کو پہچانیں بنت حوا کا وہ چہرہ جس کے نقوش وقتی تقاضوں،مفروضوں اور دیگر نام نہاد جدت طرازیوں سے گرد آلود ہو کر رہ گئے ہیں
    ان کی شناخت کریں ترقی کا سفر روایات اور جدت کے توازن کے بغیر ممکن نہیں مانا کہ جدت اور اپناپن خود میں ایک بے ساختہ تازگی کا احساس لئے ہوتا ہے جیسے بہاروں میں پھولوں کا کھلنا مسرت اور شادمانی کا باعث ہوا کرتا ہے۔
    خود خواتین کا احترام دراصل نوح انسانی کے احترام کے مترادف ہے کیوں کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بی بی حوا کے علاوہ دنیا میں کوئی نفس ایسا نہیں آیا جسے ماں نے جنم نہ دیا ہو اگر ہمارے لئے ماں محترم ہے تو دنیا کی ہر خاتون (محترم) ہونی چاہیے یوں بھی عورت کا احتصال اور اسے کمزور و حقیر سمجھنا عہد جاہلیت کے شرمناک رواجوں میں سے ایک ہے،
    اسلام نے جدید ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں حقوق کو غصب کرنا ظلم و جبر تکبر طاقت بےجا استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے بیٹیوں کی ولادت کو باعث شرم سمجھنا اور اس جیسے دیگر اطور کی حوصلہ شکنی بھی کی انسان تو انسان بلکہ ہر جاندار کے حقوق کا احترام سکھایا
    عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا کہ جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے نیز خواتین کو بھی انتہائی باوقار طرز حیات تعلیم کیا ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خواتین کو اپنا تشخص قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پہلا قدم خود ہی اٹھانا ہے معاشرہ مرد کا ہی سہی کیا کبھی یہ ثابت کیا جا سکا کہ اس مرد کے معاشرے کی تشکیل کی ذمہ داری میں کبھی عورت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا؟نہیں ایسا ممکن ہی نہیں درحقیقت ابتدائے آفرنیش سے آج تک یہ اپنی شخصیت کے بھرپور احساس کے ساتھ ایکسٹ کر رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ مراحل پر اسے اپنی اہمیت کا احساس نہ رہا۔۔
    صنف نازک کہلانے والی یہ مخلوق اپنے آہنی ارادوں اور انقلابی عزم و ہمت کا پیکر ہونے کے باوجود وسیع القلبی شفقت و مہربانی اور درگزر جیسی خصوصیات کا مجموعہ ہے اور یہ خواص کسی خاص خطہ اراضی کیا کسی خاص قوم کی خواتین کی ملکیت نہیں بلکہ ہر خاتون کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے لیکن اس سے بھرپور استفادہ اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب عورت کو اس کے بنیادی حقوق بہم پہنچائے جائیں
    جن میں پہلا حق تعظیم و اکرام ہے جن اقوام نے اپنی خواتین کو معزز جانا اور ان کا احترام کیا ان کے حقوق کی پاسداری کی ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے۔

    @SyedUmair95

  • عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    میں آج بات کر نا چاہتی ہوں’’ کمز ورعورت‘‘ کے بارے میں ۔’’کمز ورعورت‘‘ ہمارے معاشرے کا دیا گیا عورتوں کو ایک ایسا لقب ہے جسے ہمارے معاشرے کی خواتین نے دل کھول کر قبول بھی کیا ہے یہ چ ہے کہ عورت کمزور ہوتی ہے وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتی ہے مرد کے ایک تھپٹر سے گر جاتی ہے۔ وہ روحانی لحاظ سے بھی کمزور ہوتی ہے۔ اپنوں کی جھوٹی محبت کی خاطر اپنا آپ مٹا دیتی ہے والدین کی عزت کی خاطر اپنے حقوق بھلا دیتی ہے، بھائی کی غیرت کی خاطر اپنی خواہشوں کو مار دیتی ہے۔

    سرال کی نا انصافیاں، ظالم شوہر کی مار پیٹ صرف اس رشتے کو بچانے کی خاطر سہتی جاتی ہے اپنی زبان سی لیتی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی کیونکہ ماں باپ نے تو پہلے ہی کہہ دیا ہوتا ہے کہ یہی نصیب ہے تمہارا اس کے ساتھ گزارا کرو اس طرح وہ پوری زندگی ظلم سہتی سہتی بوڑھی ہوجاتی ہے۔اپنے بچوں کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے اپنا آپ مٹادیتی ہے ۔چ ہے وہ بیٹی بن جاۓ یا بہن بیوی بن جاۓ یا بہو یا پھر وہ ماں ہی کیوں نہ بن جاۓ ہر رشتے میں ہر صورت میں وہ کمزور ہی تو ہوتی ہے لیکن کیاوہ پیدائشی کمزور ہوتی؟ یا پھر اللہ نے ہی اسے کمزور پیدا کیا ہے؟ کیا وہ خدا کی اتنی ہی کمزور مخلوق ہے؟ میں نے اسکا جواب ڈھونڈ نے کی کوشش کی مگر کہیں بھی کسی بھی کتاب یا قرآن کی کسی بھی آیت میں مجھے ایسا کہیں کچھ نہیں ملا جس کی تفسیر کہتی ہو کہ عورت غیرت کے نام پر قتل ہونے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورے شوہر کی مار پیٹ اور سسرال کے طعنے سنے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورت اپنے بچوں کی نافرمانی برداشت کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ میں نے کہیں یہ لکھا ہوانہیں پڑھا کہ وہ تمام ظلم اور زیادتیاں خاموشی سے سہنے کی پابند ہے۔

    اسلام میں کہیں بھی ایسا کوئی ذکرنہیں تھا اسلام کہتا ہے کہ وہ پردہ کرنے کی پابند ہے ، وہ اپنی عزت کی حفاظت کرنے کی پابند ہے۔ وہ اپنی حدود میں رہتے ہوۓ زندگی گزارنے کی پابند ہے،

    کہا جاتا ہے کہ اگر لڑکی کالج جاۓ گی تو بگڑ جاۓ گی، ایسا کیوں ہوتا ہے یہ صرف تربیت پر منحصر ہوتا ہے، اگر عورت پسند کی شادی کرنے کا حق رکھتی ہے تو پھر کیسے کوئی اپنی جھوٹی غیرت کا مسئلہ بنا کر اس سے چھین لیتا ہے؟ وہ اپنے شوہر سے عزت کی حقدار ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ شو ہراسے مارنے پیٹنے کا حق رکھتا ہے؟ وہ اپنی اولاد کی جنت ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ اولاد اپنی جنت سے نافرمانی کرسکتی ہے؟ تو کیا عورت واقعی کمزور ہے یا اسے کمزور بنایا گیا؟ پیدائش کے پہلے دن سے اسکے پاؤں میں اصولوں کی زنجیر ڈال دی جاتی ہے، جھوٹی غیرتوں کی بیڑیاں ڈال کر اسے کمزور بنا دیا گیا۔ وہ بچوں کی پیدائش کے اگلے ہی دن پورے گھر کا کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ پھراسے کہا گیا کہ وہ کمزور جسم کی مالک ہے وہ اپنے ماں باپ اور بھائی کی عزت کی خاطر اپنی محبت کو قربان کر دیتی ہے۔ وہ جواپنے شوہر کی خوشی کے لئے اپنا آپ لٹا دیتی ہے، وہ جواپنی اولا دکا پیٹ بھرنے کے لئے خود بھوکی سوجاتی ہے، اس اولا د نے اپنے پیروں پر کھڑے ہو جانے کے بعداسکی جانب دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ تو کیا عورت کمزور تھی؟

    نہیں!! اسے کمزور بنایا گیاہے وہ کمزور نہیں تھی۔ وہ آج بھی کمزور نہیں ہے، عورت تو بہادر ہوتی ہے، عورت تو طاقتور ہوتی ہے، وہ جب اپنے لئے قدم اٹھاتی ہے تو راستے خود ہی بنتے چلے جاتے ہیں ۔وہ جب ان تمام مظالم کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو ظالم خود ہی کمزور ہونے لگتے ہیں۔ وہ جب اپنے حقوق حاصل کر نے پر آتی ہے تو اسے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔

    حقیقت یہی ہے کہ اس اللہ نے عورت کو کمزور نہیں بنایا۔ اس نے اسے خاص بنایا ہے۔

    تحریر: مریم وحید

    @meryamWaheed

  • خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جسے دنیا میں اپنی ایک مثال قائم کرنی تھی اور پوری دنیا ہمارے اس معاشرے کی تعریف کرتی اور ہمیں سراہتی دنیا بھر میں یہ بات واضح ہوتی اور ہر کوئی اس کو تسلیم کرتا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین محفوظ ہیں، اگر ہم عملی طور پر اس کا ثبوت پیش کرتے،
    لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنے رویوں سے اپنے اعمال سے ہم اس معاشرے کو دنیا میں تنقید کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں،
    مجھے نہیں پتا معاشرے کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ یہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے خوش خیالی اور بے انتہا آزادی کا نتیجہ ہے،

    تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ آزادی ہر عورت کا حق ہے وہ جس لباس میں چاہے جیسے چاہے اور جہاں چائے جا، آ، سکتی ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کوئی اسے بری نظر سے دیکھے یا اس سے کوئی نامناسب حرکات کرے،
    ہم بحثیت مشرقی اقدار سب سے بڑھ کر ایک مسلمان معاشرے کی سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں،
    یہاں ہمارے اعمال اور ہمارے طور طریقے اور ہماری تہذیب اور ہماری اقدار کو مناسب رویوں کے ساتھ ہے ہمیں اپنانا ہوگا۔
    ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور نامناسب رویوں کا بڑھتا ہوا اضافہ ہمارے لئے انتہائی شرم کا مقام ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،
    اور ہمیں پھر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ دنیا ہمارے اس عمل سے ہماری سوچ ہماری اقدار ہماری روایات کو برا سمجھتی ہے۔
    اور ہمارے لوگوں کا شمار دنیا کے بدترین لوگوں میں کیا جاتا ہے، ہمیں اپنی اس روایات کو بدلنا ہوگا جو ہم نے نہ جانے کہاں سے سیکھ لی، ہمیں اپنے معاشرے اور اپنے ملک کی عزت و آبرو کو تار تار ہونے سے بچانا ہوگا۔
    کسی بھی بچے، بچی یا عورت کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کی تباہی اور بربادی کو آواز دینے جیسی ہے،
    بطور ماں باپ بطور اساتذہ بچوں کی اچھی تربیت کرنی ہیں انہیں یہ سکھانا بہت ضروری ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب واحترام اور شرم و حیا کا خاص خیال رکھنا ہے دین کے ساتھ جڑے رہنے سے ہم شیطانی وسوسوں سے دور رہ سکتے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو ہم اپنے معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنا سکتے ہیں،
    ورنہ ہمارے معاشرے کی اس بگڑتی صورتحال کو جلد کنٹرول نا کیا گیا تو ایسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا جو معاشرے اور ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،
    اللّٰہ ہماری ماؤں بہنوں کو شرم والی چادریں نصیب کرے اور ہمارے بھائیوں کو بھی اللہ تعالی شرم و حیا دے کہ وہ معاشرے کی دوسری خواتین کو اپنی مائیں بہنیں سمجھے اور انہیں عزت و احترام دیں اور معاشرہ ایسے جرائم اور ایسے واقعات سے محفوظ ہو جائے،
    سزا و جزا کے عمل کو ریاست ہے بہتر بنائے اور درندہ صفت انسانوں کو جو کبھی بھی انسان نہیں بن سکتے انہیں ہمارے معاشرے ہماری اصلاح اور ہماری روایات کا قتل ہرگز نہیں کرنے دینا چاہیے انہیں ان کے ہر برے کام پر ان کو بدترین سزا سے گزارا جائے تاکہ اگر انسان بن سکتے تو بہت ہی اچھا ہو گا اگر نہیں تو وہ اسی طرح اور ہمیشہ کے لئے سزا کے مستحق ہیں،
    آئین پاکستان کی رو سے شہریوں کی عزت و ناموس ان کی جان اور ان کے مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنائیں ،
    اور ہمارے معاشرے کو چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ساتھ بچوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ ایسی حرکتوں سے ایسے عمل سے ہمیشہ کے لئے باز رہے ہیں،
    اللہ ب ہدایتوں کوہدایت دے، آمین

    @zsh_ali