Baaghi TV

Category: خواتین

  • ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    پچھلے 1 ہفتے سے آپ نے دو نام ضرور سنیں ہوں گے، اگر آپ سوشل میڈیا کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے، تو وہ دو نام ہیں عائشہ اور ریمبو

    14 اگست کی شام سات بجے کے قریب مینار پاکستان پر عائشہ نامی ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والی حراسگی کے واقعے نے ملک میں ایک مرتبہ پھر خواتین کے حقوق پر بحث چھیڑ دی، اور عورت مارچ کے نام سے مشہور خواتین کے حقوق کے ایک تنظیم نے اس واقعے پر پورے ملک میں شورشرابہ شروع کر دیا، لیکن یاد رہے جب حکومت نے چند عرصہ پہلے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سرعام پھانسی کیلئے بل لانے کا اعلان کیا تو اس تنظیم کے منتظمین نے اس کی مخالفت کی، جس کے بعد اس تنظیم کے کردار پر شکوک وشبہات پیدا ہوگئے، اس سے پہلے بھی اس تنظیم نے میرا جسم میری مرضی جیسی غلیظ نعرہ لگاکر تنظیم کے کے کردار کو خوب بے نقاب کر دیا، اگر ہم غور سے دیکھیں تو مغربی ممالک میں یہ واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، حال ہی میں ڈی جی رینجرز سندھ  نے ایک بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ میں خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوتی، اور پاکستان میں تین چار واقعات پر شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی اور اسے ایوارڈ بھی مل گیا، ڈی جی رینجرز کا یہ  بیان سو فیصد درست ہے،   پاکستان میں میڈیا بھی ایسے واقعات کو پلانٹڈ طریقے سے رپورٹ کرتے ہیں، جن کو اکثر غلط رنگ دے کر ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہے، لیکن سارا میڈیا قصور وار نہیں ہے جیسا کہ جیو نیوز کے  اینکر انصار عباسی ہر پروگرام میں دین پر مبنی دلائل دینے کی وجہ پاکستان میں کافی مقبول اینکر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور عباسی ان تجزیوں کی وجہ سے اکثر پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرتا ہے ، یہاں ایک سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر خواتین کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے تو عورت مارچ کے منتظمین ان پامالیاں کرنیوالوں کو سرعام پھانسی جیسی سزا دینے کیخلاف کیوں ہے؟ خواتین کو جتنے عزت اور حقوق  اسلام نے دیے ہیں کسی اور مذہب نے نہیں دیے، پھر آخر اس ملک میں خواتین کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل کیوں نہیں ہورہی؟ عورت مارچ کے تنظیم کے لوگوں کی اکثریت امریکہ یا دوسرے مغربی ملکوں میں موجود ہے، جو پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی کوئی موقع ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتے، آئے روز یہ لوگ پاکستانی ریاست اور ان کے اداروں پر تنقید میں بھی سرفہرست ہوتے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر ایک خاتون اسلامی جمہوریہ ملک میں رہ رہی ہو، اور اس ملک کا آئین دنیا کے سب سے بہترین اورعادلانہ نظام اسلام کے اصولوں پر استوار ہو تو پھر مغربی ممالک میں بیھٹے ان لبرلز کے غیر شرعی بیانات کو آخر پاکستان میں کیوں اتنی اہمیت دی جاتی ہے؟  کیا ہمیں بطور ایک ذمہ دار شہری اپنے ملک میں ان واقعات پر  کھل کر اپنے مذہب کی روشنی میں دلائل سے بحث نہیں کرنی چاہیے؟  یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کررہے ہیں

    Twitter @Ipashtune

  • کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    جب یہ دنیا بنی تھی تو اس وقت زمانہِ جاہلیت تھی ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور بیٹیوں کیلۓ ان کے دلوں میں نفرت تھی۔ جب حضرت محمدﷺ اس دنیا میں تشریف لاۓ اور لوگوں کو اللہ کے دین کے بارے میں بتایا تو تب لوگوں کو احساس ہوا۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیۓ ہے وہ دنیا میں کسی اور مذہب کو نہیں دیۓ گۓ۔ اسلام میں اس بندے کو منحوس اور شیطان کا ایجنٹ بولا گیا ہے جو عورتوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کرتا ہو۔
    اللہ نے سب سے پہلے عورت کو برابری کا اعزاز دیا ہے اور اللہ فرماتے ہے کہ ” پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔
    اسلامی معاشرے میں رہتے ہوۓ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلاام ہمیں کیا کہتا کہ ہم نے کس طرح عورتوں کو ان کے حقوق دینے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ مغربی طرز پر چل رہا ہے اور عورتوں کو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ آج بھی ہمارا معاشرہ عورتوں کو اپنے حواس نکالنے کیلۓ استعمال کرتی ہے ۔
    عورتوں کو ہر جگہ نوکری دینے سے پہلے اپنی حواس نکالنے کا کہا جاتا ہے تب عورت کو نوکری دی جاتی ہے ۔ حالانکہ حضورﷺ کے دور میں بھی عورتیں باقاعدہ جہاد کرنے جاتی تھی۔ حضرت سمیہؓ وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے اسلام کیلۓ قربانی دی تھی۔ یہ وہ عظیم عورت تھی کہ سرداران قریش ان پر ظلم اور زیادتیاں کرتے تھے لیکن پھر بھی یہ عورت اللہ کے دین پر قائم رہی ۔
    عورت اس معاشرے کی زینت ہے اگر عورت نہ ہوتی تو یہ دنیا نہ ہوتی ۔ عورت ایک ماں کا نام ہے ۔ عورت ایک بیٹی کا نام ہے ۔ عورت ایک بہن کا نام ہے ۔ اگر دیکھا جاۓ تو اس دنیا میں اللہ نے عورت کو کتنا اہم مقام دیا ہے ۔ اس کے ساتھ آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی عورت کے حقوق کے بارے میں واضح کیا ہے کہ مردوں کا اپنی عورتوں پر اس طرح حق ہے جس طرح
    عورتوں کا اپنے مردوں پر ہے ۔
    اگر اس دنیا میں مرد ہے تو مطلب یہاں عورت بھی ہے کیونکہ عورت اور مرد ایک حقیقت ہے ۔ حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ نے ایک مرد کے ساتھ عورت کو شامل کرکے یہ دنیا بنائ۔ یہ دنیا عورت کے بغیر بڑھنا مشکل تھا.
    اب اگر بات میرے ملک پاکستان کے کی جاۓ تو یہاں آج لوگ مغرب کے طرز پر جارہے ہے اور لڑکیوں کو اپنی غلامی اور اپنے حوس نکالنے کیلۓ استعمال کرتے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہا ہے اور انہیں وہ عزت اور حق نہیں دے رہے جو ہمیں اسلام نے بتایا ہے.
    آج یہاں عورت مخفوظ نہیں ہے نہ گھر میں نہ گھر سے باہر۔ میں یہ مانتا ہو کہ آج کل ہماری عورتوں نے مغربی لباس پہننا شروع کیا ہے جس سے مرد یہ سمجھتے ہے کہ ہا‌ں یہ لڑکی واقعی خراب ہوگی ۔ لیکن دوسری طرف یہا‌ں تو وہ عورتیں بھی محفوظ نہیں ہے جو پردہ کرتی ہے ۔
    عورتوں پر یہ پابندی لگانا کہ وہ گھر سے باہر نہیں جائیگی یہ بلکل غلط ہے ۔ جب جنگ احد ہورہا تھا تو اس میں عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور زخمیوں کو پانی پلاتے تھے.
    میرے اس کالم کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج یہاں عورت درندوں کا شکار ہورہی ہے ۔ابھی کچھ ہی دن پہلے عورتوں کے ساتھ لاہور میں درندگی کے بےشمار واقعات سامنے آۓ ہے ۔ ہمیں اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کے بارے میں سوچنا ہوگا ورنہ تو اس کی سزا ہمیں اللہ بہت سخت دے گا۔

    Waseem Khan
    Twitter id: ‎@Waseemk370

  • معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    ایک زمانہ تھا جب عورت کو کسی قسم کی ملازمت کرنے کی یا ڈاکٹر بننے یا نرس کا پیشہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورتوں میں برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی ہے اور ڈاکٹر بننے کے دوران وہ مشکلات برداشت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ صحیح سے فرائض انجام دے سکتی ہیں
    دوسرے شعبوں کی طرح ڈاکٹر کا پیشہ بھی مردوں کی ذات تک محدود رہ کر رہ گیا تھا
    لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ ہو کر ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کیا۔
    مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی فلاح و بہبود معاشرتی نظم و ضبط،سیاست معاشی استحکم اور دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کیوں کہ روئے زمین پر نوح انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے لہذا خواتین کی اہمیت سے انکار کا جواز ہی نہیں عورت ہر روپ میں ہر رشتے میں عزت و وقار کی علامت اور وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے انسان کسی بھی منصب اور حیثیت کا حامل ہو زندگی کے سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خاتون کا مرہون احسان ضرور ہوتا ہے بارہا سننے میں آتا ہے ہر کامیاب انسان کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صنف نازک کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں ایک ناقابل تسخیر طاقت ضرور موجود ہے تو پھر اس کی ذات میں کم مانیگی کے احساس نے کب اور کیسے جنم لیا؟اس سلسلہ میں موجود الزام مردوں کو ٹھہرایا جائے یا پھر عورت ہی عورت کی حریف واقع ہوئی؟
    یہ وہ معمہ ہے جسے حل کرنے اہل علم ودانش برس با برس سے سرگردہ ہیں۔

    دیکھیے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ہماری تو بس ایک چھوٹی سی عرض ہے کہ خود کو پہچانیں بنت حوا کا وہ چہرہ جس کے نقوش وقتی تقاضوں،مفروضوں اور دیگر نام نہاد جدت طرازیوں سے گرد آلود ہو کر رہ گئے ہیں
    ان کی شناخت کریں ترقی کا سفر روایات اور جدت کے توازن کے بغیر ممکن نہیں مانا کہ جدت اور اپناپن خود میں ایک بے ساختہ تازگی کا احساس لئے ہوتا ہے جیسے بہاروں میں پھولوں کا کھلنا مسرت اور شادمانی کا باعث ہوا کرتا ہے۔
    خود خواتین کا احترام دراصل نوح انسانی کے احترام کے مترادف ہے کیوں کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بی بی حوا کے علاوہ دنیا میں کوئی نفس ایسا نہیں آیا جسے ماں نے جنم نہ دیا ہو اگر ہمارے لئے ماں محترم ہے تو دنیا کی ہر خاتون (محترم) ہونی چاہیے یوں بھی عورت کا احتصال اور اسے کمزور و حقیر سمجھنا عہد جاہلیت کے شرمناک رواجوں میں سے ایک ہے،
    اسلام نے جدید ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں حقوق کو غصب کرنا ظلم و جبر تکبر طاقت بےجا استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے بیٹیوں کی ولادت کو باعث شرم سمجھنا اور اس جیسے دیگر اطور کی حوصلہ شکنی بھی کی انسان تو انسان بلکہ ہر جاندار کے حقوق کا احترام سکھایا
    عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا کہ جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے نیز خواتین کو بھی انتہائی باوقار طرز حیات تعلیم کیا ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خواتین کو اپنا تشخص قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پہلا قدم خود ہی اٹھانا ہے معاشرہ مرد کا ہی سہی کیا کبھی یہ ثابت کیا جا سکا کہ اس مرد کے معاشرے کی تشکیل کی ذمہ داری میں کبھی عورت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا؟نہیں ایسا ممکن ہی نہیں درحقیقت ابتدائے آفرنیش سے آج تک یہ اپنی شخصیت کے بھرپور احساس کے ساتھ ایکسٹ کر رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ مراحل پر اسے اپنی اہمیت کا احساس نہ رہا۔۔
    صنف نازک کہلانے والی یہ مخلوق اپنے آہنی ارادوں اور انقلابی عزم و ہمت کا پیکر ہونے کے باوجود وسیع القلبی شفقت و مہربانی اور درگزر جیسی خصوصیات کا مجموعہ ہے اور یہ خواص کسی خاص خطہ اراضی کیا کسی خاص قوم کی خواتین کی ملکیت نہیں بلکہ ہر خاتون کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے لیکن اس سے بھرپور استفادہ اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب عورت کو اس کے بنیادی حقوق بہم پہنچائے جائیں
    جن میں پہلا حق تعظیم و اکرام ہے جن اقوام نے اپنی خواتین کو معزز جانا اور ان کا احترام کیا ان کے حقوق کی پاسداری کی ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے۔

    @SyedUmair95

  • عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    میں آج بات کر نا چاہتی ہوں’’ کمز ورعورت‘‘ کے بارے میں ۔’’کمز ورعورت‘‘ ہمارے معاشرے کا دیا گیا عورتوں کو ایک ایسا لقب ہے جسے ہمارے معاشرے کی خواتین نے دل کھول کر قبول بھی کیا ہے یہ چ ہے کہ عورت کمزور ہوتی ہے وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتی ہے مرد کے ایک تھپٹر سے گر جاتی ہے۔ وہ روحانی لحاظ سے بھی کمزور ہوتی ہے۔ اپنوں کی جھوٹی محبت کی خاطر اپنا آپ مٹا دیتی ہے والدین کی عزت کی خاطر اپنے حقوق بھلا دیتی ہے، بھائی کی غیرت کی خاطر اپنی خواہشوں کو مار دیتی ہے۔

    سرال کی نا انصافیاں، ظالم شوہر کی مار پیٹ صرف اس رشتے کو بچانے کی خاطر سہتی جاتی ہے اپنی زبان سی لیتی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی کیونکہ ماں باپ نے تو پہلے ہی کہہ دیا ہوتا ہے کہ یہی نصیب ہے تمہارا اس کے ساتھ گزارا کرو اس طرح وہ پوری زندگی ظلم سہتی سہتی بوڑھی ہوجاتی ہے۔اپنے بچوں کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے اپنا آپ مٹادیتی ہے ۔چ ہے وہ بیٹی بن جاۓ یا بہن بیوی بن جاۓ یا بہو یا پھر وہ ماں ہی کیوں نہ بن جاۓ ہر رشتے میں ہر صورت میں وہ کمزور ہی تو ہوتی ہے لیکن کیاوہ پیدائشی کمزور ہوتی؟ یا پھر اللہ نے ہی اسے کمزور پیدا کیا ہے؟ کیا وہ خدا کی اتنی ہی کمزور مخلوق ہے؟ میں نے اسکا جواب ڈھونڈ نے کی کوشش کی مگر کہیں بھی کسی بھی کتاب یا قرآن کی کسی بھی آیت میں مجھے ایسا کہیں کچھ نہیں ملا جس کی تفسیر کہتی ہو کہ عورت غیرت کے نام پر قتل ہونے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورے شوہر کی مار پیٹ اور سسرال کے طعنے سنے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورت اپنے بچوں کی نافرمانی برداشت کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ میں نے کہیں یہ لکھا ہوانہیں پڑھا کہ وہ تمام ظلم اور زیادتیاں خاموشی سے سہنے کی پابند ہے۔

    اسلام میں کہیں بھی ایسا کوئی ذکرنہیں تھا اسلام کہتا ہے کہ وہ پردہ کرنے کی پابند ہے ، وہ اپنی عزت کی حفاظت کرنے کی پابند ہے۔ وہ اپنی حدود میں رہتے ہوۓ زندگی گزارنے کی پابند ہے،

    کہا جاتا ہے کہ اگر لڑکی کالج جاۓ گی تو بگڑ جاۓ گی، ایسا کیوں ہوتا ہے یہ صرف تربیت پر منحصر ہوتا ہے، اگر عورت پسند کی شادی کرنے کا حق رکھتی ہے تو پھر کیسے کوئی اپنی جھوٹی غیرت کا مسئلہ بنا کر اس سے چھین لیتا ہے؟ وہ اپنے شوہر سے عزت کی حقدار ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ شو ہراسے مارنے پیٹنے کا حق رکھتا ہے؟ وہ اپنی اولاد کی جنت ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ اولاد اپنی جنت سے نافرمانی کرسکتی ہے؟ تو کیا عورت واقعی کمزور ہے یا اسے کمزور بنایا گیا؟ پیدائش کے پہلے دن سے اسکے پاؤں میں اصولوں کی زنجیر ڈال دی جاتی ہے، جھوٹی غیرتوں کی بیڑیاں ڈال کر اسے کمزور بنا دیا گیا۔ وہ بچوں کی پیدائش کے اگلے ہی دن پورے گھر کا کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ پھراسے کہا گیا کہ وہ کمزور جسم کی مالک ہے وہ اپنے ماں باپ اور بھائی کی عزت کی خاطر اپنی محبت کو قربان کر دیتی ہے۔ وہ جواپنے شوہر کی خوشی کے لئے اپنا آپ لٹا دیتی ہے، وہ جواپنی اولا دکا پیٹ بھرنے کے لئے خود بھوکی سوجاتی ہے، اس اولا د نے اپنے پیروں پر کھڑے ہو جانے کے بعداسکی جانب دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ تو کیا عورت کمزور تھی؟

    نہیں!! اسے کمزور بنایا گیاہے وہ کمزور نہیں تھی۔ وہ آج بھی کمزور نہیں ہے، عورت تو بہادر ہوتی ہے، عورت تو طاقتور ہوتی ہے، وہ جب اپنے لئے قدم اٹھاتی ہے تو راستے خود ہی بنتے چلے جاتے ہیں ۔وہ جب ان تمام مظالم کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو ظالم خود ہی کمزور ہونے لگتے ہیں۔ وہ جب اپنے حقوق حاصل کر نے پر آتی ہے تو اسے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔

    حقیقت یہی ہے کہ اس اللہ نے عورت کو کمزور نہیں بنایا۔ اس نے اسے خاص بنایا ہے۔

    تحریر: مریم وحید

    @meryamWaheed

  • خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جسے دنیا میں اپنی ایک مثال قائم کرنی تھی اور پوری دنیا ہمارے اس معاشرے کی تعریف کرتی اور ہمیں سراہتی دنیا بھر میں یہ بات واضح ہوتی اور ہر کوئی اس کو تسلیم کرتا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین محفوظ ہیں، اگر ہم عملی طور پر اس کا ثبوت پیش کرتے،
    لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنے رویوں سے اپنے اعمال سے ہم اس معاشرے کو دنیا میں تنقید کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں،
    مجھے نہیں پتا معاشرے کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ یہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے خوش خیالی اور بے انتہا آزادی کا نتیجہ ہے،

    تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ آزادی ہر عورت کا حق ہے وہ جس لباس میں چاہے جیسے چاہے اور جہاں چائے جا، آ، سکتی ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کوئی اسے بری نظر سے دیکھے یا اس سے کوئی نامناسب حرکات کرے،
    ہم بحثیت مشرقی اقدار سب سے بڑھ کر ایک مسلمان معاشرے کی سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں،
    یہاں ہمارے اعمال اور ہمارے طور طریقے اور ہماری تہذیب اور ہماری اقدار کو مناسب رویوں کے ساتھ ہے ہمیں اپنانا ہوگا۔
    ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور نامناسب رویوں کا بڑھتا ہوا اضافہ ہمارے لئے انتہائی شرم کا مقام ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،
    اور ہمیں پھر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ دنیا ہمارے اس عمل سے ہماری سوچ ہماری اقدار ہماری روایات کو برا سمجھتی ہے۔
    اور ہمارے لوگوں کا شمار دنیا کے بدترین لوگوں میں کیا جاتا ہے، ہمیں اپنی اس روایات کو بدلنا ہوگا جو ہم نے نہ جانے کہاں سے سیکھ لی، ہمیں اپنے معاشرے اور اپنے ملک کی عزت و آبرو کو تار تار ہونے سے بچانا ہوگا۔
    کسی بھی بچے، بچی یا عورت کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کی تباہی اور بربادی کو آواز دینے جیسی ہے،
    بطور ماں باپ بطور اساتذہ بچوں کی اچھی تربیت کرنی ہیں انہیں یہ سکھانا بہت ضروری ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب واحترام اور شرم و حیا کا خاص خیال رکھنا ہے دین کے ساتھ جڑے رہنے سے ہم شیطانی وسوسوں سے دور رہ سکتے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو ہم اپنے معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنا سکتے ہیں،
    ورنہ ہمارے معاشرے کی اس بگڑتی صورتحال کو جلد کنٹرول نا کیا گیا تو ایسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا جو معاشرے اور ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،
    اللّٰہ ہماری ماؤں بہنوں کو شرم والی چادریں نصیب کرے اور ہمارے بھائیوں کو بھی اللہ تعالی شرم و حیا دے کہ وہ معاشرے کی دوسری خواتین کو اپنی مائیں بہنیں سمجھے اور انہیں عزت و احترام دیں اور معاشرہ ایسے جرائم اور ایسے واقعات سے محفوظ ہو جائے،
    سزا و جزا کے عمل کو ریاست ہے بہتر بنائے اور درندہ صفت انسانوں کو جو کبھی بھی انسان نہیں بن سکتے انہیں ہمارے معاشرے ہماری اصلاح اور ہماری روایات کا قتل ہرگز نہیں کرنے دینا چاہیے انہیں ان کے ہر برے کام پر ان کو بدترین سزا سے گزارا جائے تاکہ اگر انسان بن سکتے تو بہت ہی اچھا ہو گا اگر نہیں تو وہ اسی طرح اور ہمیشہ کے لئے سزا کے مستحق ہیں،
    آئین پاکستان کی رو سے شہریوں کی عزت و ناموس ان کی جان اور ان کے مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنائیں ،
    اور ہمارے معاشرے کو چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ساتھ بچوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ ایسی حرکتوں سے ایسے عمل سے ہمیشہ کے لئے باز رہے ہیں،
    اللہ ب ہدایتوں کوہدایت دے، آمین

    @zsh_ali

  • بات کچھ یوں ہے .تحریر:آمنہ فاطمہ

    بات کچھ یوں ہے .تحریر:آمنہ فاطمہ

    لفظ عورت کا مطلب "پوشیدہ” اور "چھپا کر رکھنے” کے ہیں زمانہ جاہلیت میں عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا یہاں تک کہ بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا مگر اشاعت اسلام کے بعد عورت کو جو حقوق اور عزت ملی انہی کو استعمال کرتے ہوئے آج عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے
    اسلام ایک مکمل ضابطۂ اخلاق و حیات اور دین فطرت ہے جس کا ہر قانون کردار کی تشکیل کے ساتھ ساتھ افراد کی زندگی کو تحفظ اور روح و قلب کوسکون بھی فراہم کرتا ہے اسلامی قوانین مرد و زن دونوں پر مساوی نافذالعمل ہیں عورت کے لیے متعین کیے گئے احکام و قوانین میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ‘حجاب’ یعنی پردے کا حکم ہے اور قدرت کے ہر اصول میں حکمت پوشیدہ ہے جس کا فائدہ انسان کو ہی ہوتا ہے اسی طرح پردے کا حکم دراصل عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بنایاگیا
    اسلام میں عورت کو گھر کی زینت قرار دیا گیا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنی قیمتی چیز کو چھپا کر اور سنبھال کر رکھتا ہے نہ کہ اسکی نمائش کرتا ہے اسلام عورت کو بننے سنورنے پر روکتا نہیں بلکہ پردے اور حدود میں رہ کر سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے عورت کا حقیقی زیور شرم و حیا ہی تو ہے جسے زیب تن رکھنے کی اشد ضرورت ہے
    آج کے ماڈرن دور میں عورت بالخصوص مسلمان عورت کو مغربی فتنے سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے ‘فیمینزم’ کےنام پر مغربی لباس پہننا مغربی اقدار کو اپنانا میرے معاشرے میں ایک ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے جسکی روک تھام بہت ضروری ہے اس معاشرے میں جب بھی عورت کے کردار پر بات ہوئی تو تو سب سے پہلے اسکے حجاب اور لباس پر تنقید شروع ہوئی کیونکہ جب مسلمان عورت نیم عریاں لباس پہن کر چادر تو دور دوپٹہ تک اوڑھنا مناسب نا سمجھے اور باہر پبلک پلیسز پر نکلے گی تو وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے گی کیا آج کی مسلمان خواتین بھلا چکی ہیں خاتونِ جنت حضرت فاطمہ س اور خاندان مصطفی حضرت محمد ص کی باقی تمام پاک بیبیوں کی تعلیمات کو اور جن کے صدقے میں عورت کے قدموں تلے جنت کو قرار دیا گیا یا پھر اس عارضی دنیا کی رنگینیوں میں کہیں گم ہو کر رہ چکی ہیں
    مجھے پیار آتا ہے ان بہنوں پر جو آج بھی ایمان کے درجے پر ڈٹی ہوئی ہیں چاہے پھر وہ نقاب ہے, حجاب ہے یا چادر اوڑھنا ہے اور چاہے پھر وہ پاکستان میں رہ رہی ہیں یا مغرب میں جو آج بھی اپنے باپ اور بھائی کے سامنے چادر لئے بغیر نہیں جاتیں ماڈرن بنیں مگر ان شعبوں میں جن سے ملک و قوم ترقی کرے معاشرے کے دیگر افراد کو گناہ اور گمراہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ عورت اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے بناؤ سنگھار کرے اور اپنی نسل کی بہترین تربیت کرے اور اسکے لئے پہلے اسے خود کو مثال بننا ہوگا کیونکہ ایک ماں ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے

  • عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    واقعہ مینار پاکستان_خود کو مشہور کرنے کے لئے رچایا گیا ایک فلاپ ڈرامہ لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب۔

    تواجہ لینی تھی لے لی۔۔۔ ہمدردیاں سمیٹنی تھیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور اس سے بھی بڑا ہدف۔۔۔ وطن عزیز کو ایک غیر محفوظ ملک مشہور کرنے کے لئے بھارتی میڈیا سے مدد پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا اور اس سب میں ساتھ دیا عورت کے نام نہاد خیر خواہ صحافیوں یاسر شامی اور اقرارالحسن نے۔

    اس واقعہ سے پہلے عائشہ نامی خاتون کو ایک پرائیوٹ پارٹی سنگر کے طور پر بھی اکا دکا لوگ جانتے تھے اور میں سٹریم میڈیا پہ تو اس کا کوئی نام جانتا تھا نہ کام، لیکن اب ہر جگہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کی بات ہو رہی ہے جیسا وہ چاہتی تھی۔ جیسے ہی ٹک ٹاکر والی ویڈیو وائرل ہوئی سارے پاکستانیوں نے رنج وغم میں مبتلا ہو کر جسٹس فار عائشہ،تمام مرد جنسی کتے ہیں اور عورت کے تحفظ پر ٹینڈز کی بھرمار کر دی تقریبا” آدھے پاکستانيوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتيں ختم ہوگئیں حالانکہ کفن پہن کر مرنے کا ڈرامہ، شوہر کے جھوٹی موت کی خبر اور اپنی ہی پورن ویڈیوز لیک جیسے سٹنٹس تو ہم ماضی میں دیکھ ہی چکے ہیں لیکن بحثیت قوم ہماری یاداشت بہے کمزور ہے۔

    عائشہ کے لئے انصاف مانگنے والے اور اس واقعہ پر بیٹی نہ ہونے پر خدا کا شکر ادا کرنے والے نام نہاد عزت دار اور غیرجانبدار صحافی نے یہ اس پلانٹڈ انٹرویو میں یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ کیا اس خاتون نے پبلک پلیس پر ایک اجتماع اکٹھا کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سے اسکی اجازت لی؟ اگر ہاں تو اس حادثے میں ذمہ داران (لوکل۔سیکورٹی) کی کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اور اگر نہیں تو پھر خاتون نے کس مقصد کے تحت اس اجتماع کو خفیہ رکھ کر لوگوں کو جمع کیا؟ اور بےغیر اجازت 400 بندہ اکٹھا ہونے، اور اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اگر مینار پاکستان کی سیکیورٹی حرکت میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ کیا یہ خاموشی بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی یا ڈیپارٹمنٹ کی ستو مارکہ کوتاہی ہے کہ اس کو علم ہی نہ ہو سکا اور قوم کی بیٹی بنی ایک خاتون وہاں جلسہ کرتی 400 لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ اس کے والدین نے اسکی اجازت کیسے دی ؟ اسکی ماں کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ بیٹی کہاں کہاں گھوم پھر کے آ رہی ہے ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں؟ کس کے ساتھ کام کر رہی ہے؟کام کی نوعیت کیا ہے؟ کام ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ تمام سوالات ایک طرف کیا خاتون سے صرف یہ پوچھا کہ گیا اس 400 مردوں کے ہمراہ ایک نامحرم مرد کی بانہوں کے حصار میں مارچ کرتی یہ تنہا قوم کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی؟ کیا عائشہ کے والدین نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ اسکی بیٹی مرد ہے یا عورت ۔۔۔ عورت ہے تو مردوں کے بیچ کیا کرنے گئی تھی، اگر مرد نما عورت ہے تو مردوں سے کیا گلہ؟ عرض یہ کہ اس کے والدین کے صلاح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ یہی ہے کہ ملک میں عورت کارڈ کو لے کر تحفظ کے لئے ننگ دین و ننگ ملت ہو جاو میں پوری وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کچھ عرصہ بعد یہ ڈرامہ کوین ٹی وی کے مختلف اشتہاروں میں اور ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مردوں کے خلاف بکواس کرتی نظر آئے گی 8 مارچ کے منصوبے پر کام کر رہی ہوگی، اس کا پری ٹریلر تو مغربی لباس میں ناچتے پبلک ویڈیوز کے بعد خاتون کا حجاب میں ایک نجی چینل کو دیا گیا بے پناہ جھوٹوں پہ مشتمل بوگس انٹرویو ہے۔

    مختصر یہ کہ یہ ایک رچا رچایا ڈرامہ تھا جو بہت سے لوگوں معلوم ہوا کچھ جو باقی انجان بننے پھیر رہے ہیں وہ یا تو معلومات محدود رکھتے ہیں یا لبرلستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں جرم ہو وہاں مرد اور عورت کا تفریق نہیں ہے جرم دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے اس کی سزا کا تعین ہمارے رب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں 8 مارچ کی منصوبہ پر کام ہو رہا ہو صرف مرد کو جانور ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے سارا جھگڑا ہی اسی بات پر ہے ۔ جن جرائم کا ذکر اکثر تحریروں میں مرد ناقابل بھروسہ اور جانور ثابت کرنے پر ہے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ انکو عبرت ناک سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا دیکھ سکے اور عبرت پکڑے (لیکن پھر یہی ٹولہ ان سزاؤں کے قانون بننے پہ مخالفت کرتا نظر آتا ہے) لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کی مرد بھروسہ مند نہیں۔
    یہی مرد باپ کی شکل میں تو فرشتہ ۔
    بھائی کی شکل میں تو محافظ۔
    خاوند کی شکل میں ہو تو بیوی کی چھوٹی سی دنیا کا شہنشاہ۔
    بیٹے کی شکل میں تو مان۔
    پوتے کی شکل میں ہو تو محبت ۔
    اور کتنے مجبوب رشتے ہیں جو اس مرد ذات سے وابستہ ہیں۔
    ہاں اگر مرد بوائے فرینڈ کی شکل میں یہ بھیڑیا ہے جس سے ہمارا مذہب ہمیں منع کرتا ہے۔۔۔نہیں تو لاہور جی سی یونیورسٹی جیسا پروپوزل دیکھنے کو ملے گا، یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی بچے کی پیدائش سے موت، نور مقدم جیسے دردناک قتل وغیرہ جیسے واقعات روز رونما ہونگے۔ اور ملکی غیرت و حمیت کو سوالیہ نشان بنایا جاتا رہےگا۔

    جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی "غیر محفوظ عورت” کا فتنہ اٹھا تھا جس کو وقتی طور پر دبا لیا گیا وطن عزیز کی دن دگنی ترقی اور جیوپولیٹک اینڈ اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث بڑھتی ہوئی مقبولیت عالمی سطح پر تنہا رہ جانے والے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی بےچینی کو صاف ظاہر کرتی ہے، سپر پاور شفٹ پر بنتے ایک نئے پاور بلاک پر امریکہ مہاراج کے پاس بھی اور کوئی ہتھیار نہیں بچا کہ پاکستان کو لگام ڈال سکے تو ایسے موقع پر اس قسم کے ایک آدھ واقعات کا رونما کو جانا انہونی نہیں ہے کہ عورت کارڈ ہی تو جس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنی مداخلت کر کے من مرضی کے حالات کے لئے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

    ضرورت اس امر ہے کہ متعلقہ ادارے اس گھناونے کھیل کے مہروں (کھلاڑی اور لکھاری) کو حراست میں لے کر اس کی تحقیق کریں، محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چند افسروں کا تبادلہ یا معطلی کافی نہیں ہے، معاملے کی جڑ تک پہنچیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ اس کھیل کے مہروں کی ڈوریاں کہاں ملتی ہیں؟ بحثیت قوم ہمیں اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں سوچے سمجھے منصوبوں پر کامن ٹرینڈ پہ تاثرات کو چھوڑنا ہوگا کہ لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیئے اس ملک کو چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لئے یرغمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    اللہ ہم سب کی حفاظت کرے اور ملک پاکستان کا امن قائم رکھے۔ آمین

    @BetaGirl__

  • مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    ہمارے معاشرے کی لبرلز خواتین مرد کے سخت روپ کو ہی دکھاتی اور کہتی ہے کہ مرد میں خامیاں ہی خامیاں نمایاں کی جاتی ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، جہاں ہمارے معاشرے میں مرد برے ہیں وہاں کچھ خواتین بھی ہیں۔ جہاں خواتین دکھ ، درد سہتی ہیں ، وہاں ہمارے معاشرے میں مرد کو بھی بہت سے دکھ ، درد جھیلنے پڑتے ہیں جس کا وہ بعض اوقات اظہار بھی نہیں کرتا اور مجھے خواتین کی نسبت مرد کچھ اس لیے بھی زیادہ مظلوم و معصوم لگتا ہے کہ اس بیچارے کو ہم رونے کا حق بھی نہیں دیتے۔ وہ جتنا مرضی ٹوٹ جائے زمانے کی ہر غلط بات کو چپ چاپ سہتا ہے کیونکہ اسے مضبوط دکھنا ہوتا شاید یہی وجہ ہے کہ خاتون کی نسبت مردوں کو زیادہ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ وہ مرد حضرات ہی ہوتا ہے جو اپنے سے وابستہ لوگوں کیلٸے صبح سے رات تک زمانے کی خاک چھانتا ہے۔ میں نے ایک مرد کو اپنے خاندان کے لیے زمانے کی جھڑکیں کھاتے دیکھا اور اپنے گھر چلانے کیلٸے دن رات ہلکان ہوتے دیکھا ہے۔۔

    مرد والد کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا محافظ اور سائبان ہے۔ والد جو زمانے کی ہر تلخی کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتا مگر اپنے بچوں کو ہمیشہ زمانے کی تلخیوں و دشواریوں کا احساس تک نہیں ہونے دیتا ۔ جانے کیوں نام نہاد حقوق نسواں کی تنظیموں اور لبرلز کو مرد کا یہ روپ نظر نہیں آتا۔ مرد بھائی کی صورت میں تحفظ کی ایسی دیوار جسے کوئی گرا نہیں سکتے۔ یہی مرد جب بیٹا ہو تو والدین کیلٸے سہارا بن جاتا ہے، اگر یہی مرد شوہر کے روپ میں ہو تو بیوی کی ڈھال بن جاتا ہے ۔۔

    مرد کو اگر اس لئے برا بھلا کہا جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی بہن ، بیٹی پہ کوئی گندی نظر نہ پڑے وہ چاہتا ہے کہ اس کی بہن ، بیٹی زمانے کی ہر مکاریوں اور چالاکیوں سے بچے ، وہ چاہتا ہے کہ زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے اس کا پالا نہ پڑے ۔ یقین کریں یہ مرد دنیا کا سب سے بہترین مرد ہے۔ یقین نہیں آتا تو مغربی معاشرے کی کسی بھی خاتون سے پوچھ لیں۔

    یہ لبرل ازم کے چکر میں خواتین خود ہی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ یہ لبرلز جان بوجھ کے مرد حضرات کی برابری کے چکر میں خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ جان بوجھ کے تحفظ کی چھت سے نکل کر جسے آزادی سمجھ کے گلے لگا رہی ہے وہ آزادی نہیں غلامی ہے۔

    خواتین کو گھر کی ذمے داری دی گئی ہے مرد حضرات کو باہر کی کیونکہ مرد عورت کی نسبت زیادہ طاقت ور اور سمجھدار ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔کیونکہ اس صورت میں مجھے بھی مردوں کے ساتھ بسوں میں لٹک کر سفر کرنا پڑسکتا۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں کہ اینٹیں، سیمنٹ اٹھا کر 10 گھنٹے مزدوری کروں کبھی بجلی کے کھمبوں پہ سخت گرمی میں لٹک کہ ان کی مرمت کروں۔ میں اتنی مضبوط نہیں کہ باہر کی دنیا کا مقابلہ کرسکوں ، یا زمانے کی تلخیوں اور مصاٸب کو برداشت کر سکوں ۔۔ یہ سب کام ایک مرد ہی کرسکتا ہے عورت نہیں۔

    میں اتنا کرسکتی ہوں کہ مشکل وقت میں اپنے خاندان کو پال سکتی ہوں لیکن جب میرے پاس کما کر کھلانے والا ہوگا تو پھر اپنے گھر سے نکلنا سراسر میری کم عقلی ہے ۔ جب اللہ رب العزت نے مجھے مرد کی صورت میں سائبان و محافظ دیا ہے تو میں کیوں زمانے کی خاک چھانوں۔

    کبھی بیٹھ کر سوچیں لبرلز خواتین کیا مرد حضرات ، آپ کے والد محترم ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے کوئی حقوق نہیں ؟ کیا ان کے ساتھ کبھی کہیں کوئی انصافی نہیں ہوئی ؟ اپنے بھائی کو دیکھیں جب آپ کا بھاٸی جو گھر میں سب سے بڑا ہو اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی خوشی کیلئے انھیں پڑھانے لکھانے کیلئے اپنے خوابوں کو اپنے ہاتھوں سے روندتا ہے اور اپنی ساری زندگی بہن بھائیوں نام کر دیتا ہے .کبھی آپ نے ایسے اپنے بڑے بھائی کیلٸے کچھ لکھا ، کچھ پڑھا ؟ کیا کبھی ان کے حق میں کوئی ریلی نکلی ؟ کبھی کوئی فلم یا کوئی ڈرامہ ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر تخلیق کیا؟

    وہ جو آپ کے والد محترم اور شوہر کے ساتھ چلتی ہیں تو آپ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتیں ہیں ۔ آپ اپنے ساتھ چھوٹے بھائی کو لے جاتی ہے مارکيٹ اور خود کو محفوظ سمجھتی ہے کہ میرا بھائی ساتھ ہے ، پھر انکی شدید مخالفت میں لکھا ہوٸے الفاظ کیسے پڑھ لیتی ہے ؟ انکے بارے میں ہوئی تلخ باتیں کیسے سن لیتی ہے۔۔

    آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ مرد حضرات کے ہر روپ کا احترام کریں کیونکہ یہ میرے دین اسلام نے یہی سکھایا ہے

     

                            

    Mahrukh Azam

    Mahrukh Azam is a  Freelancer, journalist Columnist. ,She is associated with many leading digital media sites in   Pakistan To find out more about him visit his twitter @AriesMaha_

     

    https://twitter.com/AriesMaha_

     

  • اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام  تحریر:ناصرہ فیصل

    اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام تحریر:ناصرہ فیصل

    حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
    عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے

    ۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
    پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

    مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔

    قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

    قرآن پاک میں ایک جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے””
    خواتین کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔
    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے”‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181

    ہمیں مغربی ممالک سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو محض ایک نمائش کی چیز بنا کر رکھ دیا ہے جسے کسی بھی وقت استعمال کر کے پھینکا جا سکتا ہے۔
    اگر کوئی خاتون حجاب اوڑھنا نہیں چاہتی تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن لِللہ حجاب کا تمسخر مت اڑائیےحجاب بہت ضروری ہے کیونکہ جب خواتین حجاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہیں تو لوگ انہیں بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے ’زنا‘ جیسی برائی جنم لیتی ہے۔
    دیکھئے! لفظ ’عورت‘ کے معنی بھی چھپانے والی چیز ہے۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بات اچھی نہ لگے تو یہ آپ کا ذہن ہے، اسلام تو بہرحال یہی کہتا ہے۔
    قرآن میں اللہ نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور حکمِ خدا بجا لانا فرض ہوتا ہےاگر مغربی مالک کو حجاب اتنا ہی برا لگتا ہے تو گرجا گھروں کی ننز کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے اور یہ امتیاز صرف مسلمان خواتین کے ساتھ کیوں ہے؟

    اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا لیکن دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔
    حجاب اُمہات المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔
    اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے:

    "”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
    اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
    پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
    کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا "”
    تحریر:ناصرہ فیصل
    @NiniYmz

  • واقعہ مینار پاکستان

    واقعہ مینار پاکستان

    مینار پاکستان کا واقعہ ہمارے لیے بھی افسوس اورشرم کا باعث ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہے ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ہر مرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ تمہاری وجہ سے کسی کی ماں بہن کو راستہ تبدیل کرنا پڑے تو تم میں اورکتے میں کیا فرق ہے

    ‏‎اس واقعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کی بھی کافی بدنامی ہوئی ہے اور انڈیا کے میڈیا میں اس کو خوب اچھالا گیا ہے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ہماری مائیں بہنیں نہیں ہیں جو کسی کی ماں بہن پر نظر ڈالتے ہیں

    ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم کسی کی ماں بہن کی عزت نہیں کریں گے تو کل کوئی ہماری بھی ماں اور بہن کی کوئی نہیں کرے گا

    اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے ایک نہ ایک دن جیسا
    کروگے ویسا ہی بھرو گے

    میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہم نے کیا اور ہم کہاں جا رہے ہیں تعلیم ایک زیور ہے تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے حدوں کیا ہیں

    اور اسلام سے دوری بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اسلام امن کا درس دیتا ہے اور عورت کی تکریم اسلام سے کم ہی کسی نے کی ہے

    ہمارے معاشرے میں اسلام کے بنیادی اصول صرف ایک اپنانا لے تو میرا خیال نہیں اگلی دفعہ مینار پاکستان جیسا واقعہ نہیں ہوگا اور وہ اصول یہی ہے کہ
    مرد نیچی نظریں کرکے گزرے اور عورت ضروری پردہ اور اختیار کریں
    تصویر کی دوسری طرف دیکھیں تو مشہورٹک ٹوکر کے لچھلن اچھے نہیں دکھائی دے رہے ہیں

    جناب تاریخ 14 اگست کا واقع ہے اور پندرہ کو تو اس نے اپنے انسٹاگرام پر پر فوٹو اپ ڈیٹ کی ہے اور اس وقت تک کوئی افسوس نہیں اور کوئی صدمہ نہیں تھا

    گھر کا غلط ایڈریس دےکر آنا اور پولیس والوں سے آگے کاروائی نہ کرنا اس معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے

    تو اچانک ایسا کیا ہواکہ صدمہ بھی ہو کیا اور اقرار اور شامی وہاں پہنچ بھی گئے ہیں

    دیکھنے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ جہاں وہ بیٹھے ہیں یہی اقرار کے مطابق یہ ان کے گھر گئے ہیں لیکن دوسری تصویروں کے مطابق میں یہ گھر شامی صاحب کا ہے

    ابھی تک صحیح تحقیقات ہو رہی ہیں نہیں ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے اصل معاملات کیا تھے سو کو گرفتارکرلیاگیا ہے میرا خیال ہے اس میں ایک کریکٹر بہت اہم ہے اس کا نام ریمبو ہے اس بندے سے بھی مکمل تفتیش ہونی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ تمام معاملہ کا پتہ لگ جائے گا ۔بہت سے لوگوں اس کو پبلسٹی سٹنٹ بھی کہتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بات بھی ہو ہمارے ملک میں مشہور ہونے کے لیے اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہے اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے

    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلسل تین دنوں سے ٹیلی ویژن پر نشریات جارہی ہیں ٹیوٹر پر مسلسل ٹرینڈ میں جا رہا ہے

    یہ ہمارے صحافیوں سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی کسی واقعہ کو بھی بیان کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیقات لینی چاہیے کہ پاکستان اور اسلام کا نام خراب نہ ہو

    حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیات کرکے عوام کے سامنے رکھے اور اس میں جو بھی قصور وار ہے اس کو سزا دینی چاہیے@sikander037 #sikander037