لفظ عورت کا مطلب "پوشیدہ” اور "چھپا کر رکھنے” کے ہیں زمانہ جاہلیت میں عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا یہاں تک کہ بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا مگر اشاعت اسلام کے بعد عورت کو جو حقوق اور عزت ملی انہی کو استعمال کرتے ہوئے آج عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے
اسلام ایک مکمل ضابطۂ اخلاق و حیات اور دین فطرت ہے جس کا ہر قانون کردار کی تشکیل کے ساتھ ساتھ افراد کی زندگی کو تحفظ اور روح و قلب کوسکون بھی فراہم کرتا ہے اسلامی قوانین مرد و زن دونوں پر مساوی نافذالعمل ہیں عورت کے لیے متعین کیے گئے احکام و قوانین میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ‘حجاب’ یعنی پردے کا حکم ہے اور قدرت کے ہر اصول میں حکمت پوشیدہ ہے جس کا فائدہ انسان کو ہی ہوتا ہے اسی طرح پردے کا حکم دراصل عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بنایاگیا
اسلام میں عورت کو گھر کی زینت قرار دیا گیا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنی قیمتی چیز کو چھپا کر اور سنبھال کر رکھتا ہے نہ کہ اسکی نمائش کرتا ہے اسلام عورت کو بننے سنورنے پر روکتا نہیں بلکہ پردے اور حدود میں رہ کر سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے عورت کا حقیقی زیور شرم و حیا ہی تو ہے جسے زیب تن رکھنے کی اشد ضرورت ہے
آج کے ماڈرن دور میں عورت بالخصوص مسلمان عورت کو مغربی فتنے سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے ‘فیمینزم’ کےنام پر مغربی لباس پہننا مغربی اقدار کو اپنانا میرے معاشرے میں ایک ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے جسکی روک تھام بہت ضروری ہے اس معاشرے میں جب بھی عورت کے کردار پر بات ہوئی تو تو سب سے پہلے اسکے حجاب اور لباس پر تنقید شروع ہوئی کیونکہ جب مسلمان عورت نیم عریاں لباس پہن کر چادر تو دور دوپٹہ تک اوڑھنا مناسب نا سمجھے اور باہر پبلک پلیسز پر نکلے گی تو وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے گی کیا آج کی مسلمان خواتین بھلا چکی ہیں خاتونِ جنت حضرت فاطمہ س اور خاندان مصطفی حضرت محمد ص کی باقی تمام پاک بیبیوں کی تعلیمات کو اور جن کے صدقے میں عورت کے قدموں تلے جنت کو قرار دیا گیا یا پھر اس عارضی دنیا کی رنگینیوں میں کہیں گم ہو کر رہ چکی ہیں
مجھے پیار آتا ہے ان بہنوں پر جو آج بھی ایمان کے درجے پر ڈٹی ہوئی ہیں چاہے پھر وہ نقاب ہے, حجاب ہے یا چادر اوڑھنا ہے اور چاہے پھر وہ پاکستان میں رہ رہی ہیں یا مغرب میں جو آج بھی اپنے باپ اور بھائی کے سامنے چادر لئے بغیر نہیں جاتیں ماڈرن بنیں مگر ان شعبوں میں جن سے ملک و قوم ترقی کرے معاشرے کے دیگر افراد کو گناہ اور گمراہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ عورت اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے بناؤ سنگھار کرے اور اپنی نسل کی بہترین تربیت کرے اور اسکے لئے پہلے اسے خود کو مثال بننا ہوگا کیونکہ ایک ماں ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے
Category: خواتین

بات کچھ یوں ہے .تحریر:آمنہ فاطمہ

عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس
واقعہ مینار پاکستان_خود کو مشہور کرنے کے لئے رچایا گیا ایک فلاپ ڈرامہ لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب۔
تواجہ لینی تھی لے لی۔۔۔ ہمدردیاں سمیٹنی تھیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور اس سے بھی بڑا ہدف۔۔۔ وطن عزیز کو ایک غیر محفوظ ملک مشہور کرنے کے لئے بھارتی میڈیا سے مدد پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا اور اس سب میں ساتھ دیا عورت کے نام نہاد خیر خواہ صحافیوں یاسر شامی اور اقرارالحسن نے۔
اس واقعہ سے پہلے عائشہ نامی خاتون کو ایک پرائیوٹ پارٹی سنگر کے طور پر بھی اکا دکا لوگ جانتے تھے اور میں سٹریم میڈیا پہ تو اس کا کوئی نام جانتا تھا نہ کام، لیکن اب ہر جگہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کی بات ہو رہی ہے جیسا وہ چاہتی تھی۔ جیسے ہی ٹک ٹاکر والی ویڈیو وائرل ہوئی سارے پاکستانیوں نے رنج وغم میں مبتلا ہو کر جسٹس فار عائشہ،تمام مرد جنسی کتے ہیں اور عورت کے تحفظ پر ٹینڈز کی بھرمار کر دی تقریبا” آدھے پاکستانيوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتيں ختم ہوگئیں حالانکہ کفن پہن کر مرنے کا ڈرامہ، شوہر کے جھوٹی موت کی خبر اور اپنی ہی پورن ویڈیوز لیک جیسے سٹنٹس تو ہم ماضی میں دیکھ ہی چکے ہیں لیکن بحثیت قوم ہماری یاداشت بہے کمزور ہے۔
عائشہ کے لئے انصاف مانگنے والے اور اس واقعہ پر بیٹی نہ ہونے پر خدا کا شکر ادا کرنے والے نام نہاد عزت دار اور غیرجانبدار صحافی نے یہ اس پلانٹڈ انٹرویو میں یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ کیا اس خاتون نے پبلک پلیس پر ایک اجتماع اکٹھا کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سے اسکی اجازت لی؟ اگر ہاں تو اس حادثے میں ذمہ داران (لوکل۔سیکورٹی) کی کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اور اگر نہیں تو پھر خاتون نے کس مقصد کے تحت اس اجتماع کو خفیہ رکھ کر لوگوں کو جمع کیا؟ اور بےغیر اجازت 400 بندہ اکٹھا ہونے، اور اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اگر مینار پاکستان کی سیکیورٹی حرکت میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ کیا یہ خاموشی بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی یا ڈیپارٹمنٹ کی ستو مارکہ کوتاہی ہے کہ اس کو علم ہی نہ ہو سکا اور قوم کی بیٹی بنی ایک خاتون وہاں جلسہ کرتی 400 لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ اس کے والدین نے اسکی اجازت کیسے دی ؟ اسکی ماں کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ بیٹی کہاں کہاں گھوم پھر کے آ رہی ہے ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں؟ کس کے ساتھ کام کر رہی ہے؟کام کی نوعیت کیا ہے؟ کام ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ تمام سوالات ایک طرف کیا خاتون سے صرف یہ پوچھا کہ گیا اس 400 مردوں کے ہمراہ ایک نامحرم مرد کی بانہوں کے حصار میں مارچ کرتی یہ تنہا قوم کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی؟ کیا عائشہ کے والدین نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ اسکی بیٹی مرد ہے یا عورت ۔۔۔ عورت ہے تو مردوں کے بیچ کیا کرنے گئی تھی، اگر مرد نما عورت ہے تو مردوں سے کیا گلہ؟ عرض یہ کہ اس کے والدین کے صلاح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ یہی ہے کہ ملک میں عورت کارڈ کو لے کر تحفظ کے لئے ننگ دین و ننگ ملت ہو جاو میں پوری وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کچھ عرصہ بعد یہ ڈرامہ کوین ٹی وی کے مختلف اشتہاروں میں اور ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مردوں کے خلاف بکواس کرتی نظر آئے گی 8 مارچ کے منصوبے پر کام کر رہی ہوگی، اس کا پری ٹریلر تو مغربی لباس میں ناچتے پبلک ویڈیوز کے بعد خاتون کا حجاب میں ایک نجی چینل کو دیا گیا بے پناہ جھوٹوں پہ مشتمل بوگس انٹرویو ہے۔
مختصر یہ کہ یہ ایک رچا رچایا ڈرامہ تھا جو بہت سے لوگوں معلوم ہوا کچھ جو باقی انجان بننے پھیر رہے ہیں وہ یا تو معلومات محدود رکھتے ہیں یا لبرلستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں جرم ہو وہاں مرد اور عورت کا تفریق نہیں ہے جرم دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے اس کی سزا کا تعین ہمارے رب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں 8 مارچ کی منصوبہ پر کام ہو رہا ہو صرف مرد کو جانور ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے سارا جھگڑا ہی اسی بات پر ہے ۔ جن جرائم کا ذکر اکثر تحریروں میں مرد ناقابل بھروسہ اور جانور ثابت کرنے پر ہے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ انکو عبرت ناک سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا دیکھ سکے اور عبرت پکڑے (لیکن پھر یہی ٹولہ ان سزاؤں کے قانون بننے پہ مخالفت کرتا نظر آتا ہے) لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کی مرد بھروسہ مند نہیں۔
یہی مرد باپ کی شکل میں تو فرشتہ ۔
بھائی کی شکل میں تو محافظ۔
خاوند کی شکل میں ہو تو بیوی کی چھوٹی سی دنیا کا شہنشاہ۔
بیٹے کی شکل میں تو مان۔
پوتے کی شکل میں ہو تو محبت ۔
اور کتنے مجبوب رشتے ہیں جو اس مرد ذات سے وابستہ ہیں۔
ہاں اگر مرد بوائے فرینڈ کی شکل میں یہ بھیڑیا ہے جس سے ہمارا مذہب ہمیں منع کرتا ہے۔۔۔نہیں تو لاہور جی سی یونیورسٹی جیسا پروپوزل دیکھنے کو ملے گا، یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی بچے کی پیدائش سے موت، نور مقدم جیسے دردناک قتل وغیرہ جیسے واقعات روز رونما ہونگے۔ اور ملکی غیرت و حمیت کو سوالیہ نشان بنایا جاتا رہےگا۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی "غیر محفوظ عورت” کا فتنہ اٹھا تھا جس کو وقتی طور پر دبا لیا گیا وطن عزیز کی دن دگنی ترقی اور جیوپولیٹک اینڈ اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث بڑھتی ہوئی مقبولیت عالمی سطح پر تنہا رہ جانے والے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی بےچینی کو صاف ظاہر کرتی ہے، سپر پاور شفٹ پر بنتے ایک نئے پاور بلاک پر امریکہ مہاراج کے پاس بھی اور کوئی ہتھیار نہیں بچا کہ پاکستان کو لگام ڈال سکے تو ایسے موقع پر اس قسم کے ایک آدھ واقعات کا رونما کو جانا انہونی نہیں ہے کہ عورت کارڈ ہی تو جس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنی مداخلت کر کے من مرضی کے حالات کے لئے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
ضرورت اس امر ہے کہ متعلقہ ادارے اس گھناونے کھیل کے مہروں (کھلاڑی اور لکھاری) کو حراست میں لے کر اس کی تحقیق کریں، محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چند افسروں کا تبادلہ یا معطلی کافی نہیں ہے، معاملے کی جڑ تک پہنچیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ اس کھیل کے مہروں کی ڈوریاں کہاں ملتی ہیں؟ بحثیت قوم ہمیں اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں سوچے سمجھے منصوبوں پر کامن ٹرینڈ پہ تاثرات کو چھوڑنا ہوگا کہ لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیئے اس ملک کو چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لئے یرغمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
اللہ ہم سب کی حفاظت کرے اور ملک پاکستان کا امن قائم رکھے۔ آمین
@BetaGirl__

مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم
ہمارے معاشرے کی لبرلز خواتین مرد کے سخت روپ کو ہی دکھاتی اور کہتی ہے کہ مرد میں خامیاں ہی خامیاں نمایاں کی جاتی ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، جہاں ہمارے معاشرے میں مرد برے ہیں وہاں کچھ خواتین بھی ہیں۔ جہاں خواتین دکھ ، درد سہتی ہیں ، وہاں ہمارے معاشرے میں مرد کو بھی بہت سے دکھ ، درد جھیلنے پڑتے ہیں جس کا وہ بعض اوقات اظہار بھی نہیں کرتا اور مجھے خواتین کی نسبت مرد کچھ اس لیے بھی زیادہ مظلوم و معصوم لگتا ہے کہ اس بیچارے کو ہم رونے کا حق بھی نہیں دیتے۔ وہ جتنا مرضی ٹوٹ جائے زمانے کی ہر غلط بات کو چپ چاپ سہتا ہے کیونکہ اسے مضبوط دکھنا ہوتا شاید یہی وجہ ہے کہ خاتون کی نسبت مردوں کو زیادہ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ وہ مرد حضرات ہی ہوتا ہے جو اپنے سے وابستہ لوگوں کیلٸے صبح سے رات تک زمانے کی خاک چھانتا ہے۔ میں نے ایک مرد کو اپنے خاندان کے لیے زمانے کی جھڑکیں کھاتے دیکھا اور اپنے گھر چلانے کیلٸے دن رات ہلکان ہوتے دیکھا ہے۔۔
مرد والد کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا محافظ اور سائبان ہے۔ والد جو زمانے کی ہر تلخی کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتا مگر اپنے بچوں کو ہمیشہ زمانے کی تلخیوں و دشواریوں کا احساس تک نہیں ہونے دیتا ۔ جانے کیوں نام نہاد حقوق نسواں کی تنظیموں اور لبرلز کو مرد کا یہ روپ نظر نہیں آتا۔ مرد بھائی کی صورت میں تحفظ کی ایسی دیوار جسے کوئی گرا نہیں سکتے۔ یہی مرد جب بیٹا ہو تو والدین کیلٸے سہارا بن جاتا ہے، اگر یہی مرد شوہر کے روپ میں ہو تو بیوی کی ڈھال بن جاتا ہے ۔۔
مرد کو اگر اس لئے برا بھلا کہا جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی بہن ، بیٹی پہ کوئی گندی نظر نہ پڑے وہ چاہتا ہے کہ اس کی بہن ، بیٹی زمانے کی ہر مکاریوں اور چالاکیوں سے بچے ، وہ چاہتا ہے کہ زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے اس کا پالا نہ پڑے ۔ یقین کریں یہ مرد دنیا کا سب سے بہترین مرد ہے۔ یقین نہیں آتا تو مغربی معاشرے کی کسی بھی خاتون سے پوچھ لیں۔
یہ لبرل ازم کے چکر میں خواتین خود ہی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ یہ لبرلز جان بوجھ کے مرد حضرات کی برابری کے چکر میں خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ جان بوجھ کے تحفظ کی چھت سے نکل کر جسے آزادی سمجھ کے گلے لگا رہی ہے وہ آزادی نہیں غلامی ہے۔
خواتین کو گھر کی ذمے داری دی گئی ہے مرد حضرات کو باہر کی کیونکہ مرد عورت کی نسبت زیادہ طاقت ور اور سمجھدار ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔کیونکہ اس صورت میں مجھے بھی مردوں کے ساتھ بسوں میں لٹک کر سفر کرنا پڑسکتا۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں کہ اینٹیں، سیمنٹ اٹھا کر 10 گھنٹے مزدوری کروں کبھی بجلی کے کھمبوں پہ سخت گرمی میں لٹک کہ ان کی مرمت کروں۔ میں اتنی مضبوط نہیں کہ باہر کی دنیا کا مقابلہ کرسکوں ، یا زمانے کی تلخیوں اور مصاٸب کو برداشت کر سکوں ۔۔ یہ سب کام ایک مرد ہی کرسکتا ہے عورت نہیں۔
میں اتنا کرسکتی ہوں کہ مشکل وقت میں اپنے خاندان کو پال سکتی ہوں لیکن جب میرے پاس کما کر کھلانے والا ہوگا تو پھر اپنے گھر سے نکلنا سراسر میری کم عقلی ہے ۔ جب اللہ رب العزت نے مجھے مرد کی صورت میں سائبان و محافظ دیا ہے تو میں کیوں زمانے کی خاک چھانوں۔
کبھی بیٹھ کر سوچیں لبرلز خواتین کیا مرد حضرات ، آپ کے والد محترم ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے کوئی حقوق نہیں ؟ کیا ان کے ساتھ کبھی کہیں کوئی انصافی نہیں ہوئی ؟ اپنے بھائی کو دیکھیں جب آپ کا بھاٸی جو گھر میں سب سے بڑا ہو اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی خوشی کیلئے انھیں پڑھانے لکھانے کیلئے اپنے خوابوں کو اپنے ہاتھوں سے روندتا ہے اور اپنی ساری زندگی بہن بھائیوں نام کر دیتا ہے .کبھی آپ نے ایسے اپنے بڑے بھائی کیلٸے کچھ لکھا ، کچھ پڑھا ؟ کیا کبھی ان کے حق میں کوئی ریلی نکلی ؟ کبھی کوئی فلم یا کوئی ڈرامہ ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر تخلیق کیا؟
وہ جو آپ کے والد محترم اور شوہر کے ساتھ چلتی ہیں تو آپ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتیں ہیں ۔ آپ اپنے ساتھ چھوٹے بھائی کو لے جاتی ہے مارکيٹ اور خود کو محفوظ سمجھتی ہے کہ میرا بھائی ساتھ ہے ، پھر انکی شدید مخالفت میں لکھا ہوٸے الفاظ کیسے پڑھ لیتی ہے ؟ انکے بارے میں ہوئی تلخ باتیں کیسے سن لیتی ہے۔۔
آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ مرد حضرات کے ہر روپ کا احترام کریں کیونکہ یہ میرے دین اسلام نے یہی سکھایا ہے

Mahrukh Azam
Mahrukh Azam is a Freelancer, journalist Columnist. ,She is associated with many leading digital media sites in Pakistan To find out more about him visit his twitter @AriesMaha_
https://twitter.com/AriesMaha_

اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام تحریر:ناصرہ فیصل
حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔
قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔
قرآن پاک میں ایک جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے””
خواتین کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔
خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے”‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181ہمیں مغربی ممالک سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو محض ایک نمائش کی چیز بنا کر رکھ دیا ہے جسے کسی بھی وقت استعمال کر کے پھینکا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی خاتون حجاب اوڑھنا نہیں چاہتی تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن لِللہ حجاب کا تمسخر مت اڑائیےحجاب بہت ضروری ہے کیونکہ جب خواتین حجاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہیں تو لوگ انہیں بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے ’زنا‘ جیسی برائی جنم لیتی ہے۔
دیکھئے! لفظ ’عورت‘ کے معنی بھی چھپانے والی چیز ہے۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بات اچھی نہ لگے تو یہ آپ کا ذہن ہے، اسلام تو بہرحال یہی کہتا ہے۔
قرآن میں اللہ نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور حکمِ خدا بجا لانا فرض ہوتا ہےاگر مغربی مالک کو حجاب اتنا ہی برا لگتا ہے تو گرجا گھروں کی ننز کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے اور یہ امتیاز صرف مسلمان خواتین کے ساتھ کیوں ہے؟اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا لیکن دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔
حجاب اُمہات المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔
اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے:"”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا "”
تحریر:ناصرہ فیصل
@NiniYmz
واقعہ مینار پاکستان
مینار پاکستان کا واقعہ ہمارے لیے بھی افسوس اورشرم کا باعث ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہے ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ہر مرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ تمہاری وجہ سے کسی کی ماں بہن کو راستہ تبدیل کرنا پڑے تو تم میں اورکتے میں کیا فرق ہے
اس واقعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کی بھی کافی بدنامی ہوئی ہے اور انڈیا کے میڈیا میں اس کو خوب اچھالا گیا ہے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ہماری مائیں بہنیں نہیں ہیں جو کسی کی ماں بہن پر نظر ڈالتے ہیں
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم کسی کی ماں بہن کی عزت نہیں کریں گے تو کل کوئی ہماری بھی ماں اور بہن کی کوئی نہیں کرے گا
اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے ایک نہ ایک دن جیسا
کروگے ویسا ہی بھرو گےمیرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہم نے کیا اور ہم کہاں جا رہے ہیں تعلیم ایک زیور ہے تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے حدوں کیا ہیں
اور اسلام سے دوری بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اسلام امن کا درس دیتا ہے اور عورت کی تکریم اسلام سے کم ہی کسی نے کی ہے
ہمارے معاشرے میں اسلام کے بنیادی اصول صرف ایک اپنانا لے تو میرا خیال نہیں اگلی دفعہ مینار پاکستان جیسا واقعہ نہیں ہوگا اور وہ اصول یہی ہے کہ
مرد نیچی نظریں کرکے گزرے اور عورت ضروری پردہ اور اختیار کریں
تصویر کی دوسری طرف دیکھیں تو مشہورٹک ٹوکر کے لچھلن اچھے نہیں دکھائی دے رہے ہیںجناب تاریخ 14 اگست کا واقع ہے اور پندرہ کو تو اس نے اپنے انسٹاگرام پر پر فوٹو اپ ڈیٹ کی ہے اور اس وقت تک کوئی افسوس نہیں اور کوئی صدمہ نہیں تھا
گھر کا غلط ایڈریس دےکر آنا اور پولیس والوں سے آگے کاروائی نہ کرنا اس معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے
تو اچانک ایسا کیا ہواکہ صدمہ بھی ہو کیا اور اقرار اور شامی وہاں پہنچ بھی گئے ہیں
دیکھنے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ جہاں وہ بیٹھے ہیں یہی اقرار کے مطابق یہ ان کے گھر گئے ہیں لیکن دوسری تصویروں کے مطابق میں یہ گھر شامی صاحب کا ہے
ابھی تک صحیح تحقیقات ہو رہی ہیں نہیں ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے اصل معاملات کیا تھے سو کو گرفتارکرلیاگیا ہے میرا خیال ہے اس میں ایک کریکٹر بہت اہم ہے اس کا نام ریمبو ہے اس بندے سے بھی مکمل تفتیش ہونی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ تمام معاملہ کا پتہ لگ جائے گا ۔بہت سے لوگوں اس کو پبلسٹی سٹنٹ بھی کہتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بات بھی ہو ہمارے ملک میں مشہور ہونے کے لیے اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہے اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلسل تین دنوں سے ٹیلی ویژن پر نشریات جارہی ہیں ٹیوٹر پر مسلسل ٹرینڈ میں جا رہا ہے
یہ ہمارے صحافیوں سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی کسی واقعہ کو بھی بیان کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیقات لینی چاہیے کہ پاکستان اور اسلام کا نام خراب نہ ہو
حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیات کرکے عوام کے سامنے رکھے اور اس میں جو بھی قصور وار ہے اس کو سزا دینی چاہیے@sikander037 #sikander037

بیٹیاں تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں۔ تحریر فیصل خالد
ملک کے ایک معروف اینکر نے مینار پاکستان حالیہ واقعہ کے تناظر میں یہ بات کہی ہے ٫٫شکر ہے اللہ نے مجھے بیٹی نہیں دی اور مجھے پاکستانی ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔؛
موصوف نے یہ بات جس بھی پیرائے میں کی ہے عقل و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ منہ کھولنے سے پہلے دماغ کی بتی کو روشن کرلینا چاہئے اور اول فول بکنے سے قبل ہزار بار نہ سہی کم ازکم ایک بار ضرور سوچ لینا چاہئے۔ مخصوص مقاصد کیلئے موقعہ محل کی نزاکت کو دیکھ کر ایسے بیانات داغنے والے اپنی شعلہ بیانی سے بلاشبہ من چاہے نتائج حاصل کر لیتے ہوں گے مگر ان کے ایسے پراپیگنڈے میڈیا کے اس دور میں کس قدر منفی نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں اس کا اندازہ نہیں۔ جس واقعہ کی پشت پر انہوں نے یہ بات کہی ہے اگر اسے بھی دیکھا جائے تو یہ ایسا معاملہ نہیں کہ آپ سارے معاشرے کو چند بے لگام مردوخواتین کے کرتوتوں کے حاصل کا ذمہ دار ٹھہرا دیں۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں جب بیٹیاں بوجھ ہوا کرتی تھیں۔ الحمد اللہ ہم صاحب اولاد ہیں اور ثم الحمد اللہ کہ ہماری اولاد میں بیٹیاں بھی ہیں۔ جہاں گھروں میں بیٹوں کے دم سے شرارتیں اور ہلہ گلا ہوتا ہے وہیں بیٹیوں کے دم سے جو رونق اور سکون ہوتا ہے انہیں کیا معلوم جن کو اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کی نعمتیں عطاء نہیں کیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ شفقت و محبت اور احترام کی خاندانی روایات ہیں کہ انہیں بیاہ کر پیا گھر سدھار جانا ہوجاتا ہے۔اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے عرب اور دیگر معاشروں میں بیٹی کی پیدائش کو منحوس اور شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ پیدا ہوتے ہی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا، مگر اسلام نے بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دے کر معاشرے کو متوازن اور خوبصورت بنا دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں کی بہترین پرورش کا معاملہ کرنے والے والدین/ سرپرستوں کیلئے جہنم سے دوری کی بشارت دے دی۔ آپ نے فرمایا ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح ہوں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔ بیٹی کا معاملہ ہی دیکھ لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاطمۃ الزہرۃؓ سے اتنی محبت تھی کہ انھیں اپنے جگر کا ٹکڑا کہا کرتے، جب حضرت فاطمہؓ آپؐ سے ملنے آتیں تو آپؐ ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے، کبھی ان کے لیے اپنی چادر بچھاتے۔بیٹیوں کو وراثت کا حق دیا۔ بدقسمتی سے آج پھر معاشرہ ان بیٹیوں کو بوجھ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ اسلام نے بیٹیوں کے معاملہ میں جو احترام ، محبت اور شفقت کے اصول وضع کردیئے تھے انہیں خرابی کی طرف لیجایا جارہا ہے۔ اللہ کی اس رحمت کو زحمت بنایا جارہا ہے۔ زمانہ جاہلیت کی طرح بیٹیوں والوں کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔ انہیں کمزور سمجھا جانے لگتا ہے۔ آج معاشرے کو بیٹی کے تصور سے خوفزدہ کیا جارہا ہے۔ کمرشلائزیشن کے دور میں بیٹیوں کو مارکیٹنگ جنس بنادیا گیا ہے۔ میڈیا کی مدد سے آج کی بیٹی کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ ڈراموں،فلموں کی کہانیوں میں معاشرے کی تصویر دکھانے کے نام معاشرے کو تباہی و بربادی کے ایجنڈے پر استوار کیا جارہا ہے۔ باپ اور بیٹی تک کے مقدس رشتوں کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ کہیں بیٹی کو مثبت معاشرتی اقدار سے باغی بننے کی تربیت کی جارہی ہے تو کہیں باپ کو بیٹی کا روپ بوجھ بتایا جارہا ہے۔ لوگوں کی بیٹیوں کو روپے پیسے اور مادیت کے لالچ میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔ رستہ سے بھٹک جانے والی بیٹیوں کی مدد سے دوسروں کی بیٹیاں خراب کی جارہی ہیں۔ بے لگام میڈیائی پراپیگنڈہ جس انداز سے ہماری بیٹیوں کو مشرقی روایات، ثقافت و مذہب سے دور کرنے میں مصروف ہے اس کی مثالیں سوشل میڈیا کے لچر پن ناچ گانے ٹک ٹاک کی بے حیائی میں نمایاں ہیں۔ والدین کا بیٹیوں بالخصوص بیٹوں کی تربیت سے ہاتھ کھینچ لینا بیٹیاں سب کی سانجھی جیسی خوبصورت سوچ والے معاشرے کو غلط سمت پر لیجارہا ہے۔ مینار پاکستان واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ معروف اینکر پرسن کو بتایا جائے کہ یہ ٹک ٹاک اور دیگر ایسے پلیٹ فارمز پر رحجان پانے والی سرگرمیاں یہ ہمارے معاشرے کی عکاس ہر گز نہیں ہیں۔ اگر آپ ایسی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ہونے والے واقعات کے بعد بھی ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتے، دوسروں کی بیٹیوں کو محض اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہو تو سبھی معاشرے کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے مزید یہ کہ بیٹیوں اور پاکستان سے ہی پناہ نہ مانگی جائے کہ بیٹیاں اللہ کی بہت بڑی رحمت ہیں یہ تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہیں بس ان کی قدر کرنے اور اپنی اپنی اصلاح کی ضرورت باقی ہے-Twitter handle
@_FaysalKhalid
پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان
کچھ دن سے سوشل میڈیا کی ہر ویبسائٹ پر ایک عورت مشہورِ ہوئی وی ہے ۔۔۔۔انسٹا فیسبک ٹوئیٹر یہاں تک کہ واٹساپ کے اسٹیٹس دیکھو تو وہاں بھی اس ہی کا ذکر نظر آرہا!!! پہلے ایک دن تو ٹوٹلی جسے دیکھو پاکستانی ہونے پر شرمسار نظر آرہا تھا!!!!
تو اول تو یہ کہ بھائی ذرا ٹھنڈے رہئے میں بھی پاکستان کی شہری ہوں اور میں ایک عورت ہوتے ہوئے اس قلعے کے تحفظ کو محسوس کرسکتی ہوں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے کہ کسی شمر نے میرے کاندھوں سے آنچل نہیں کھینچا ۔۔۔۔۔ آپ ایک چھوٹے سے طبقے یا گروہ کے ڈرامے سے اپنی سر زمین پر کیسے نادم ہیں آخر کیسے؟؟؟
ایسا نہیں ہے کہ مجھے واقعے پر شرمندگی نہیں ہے بلکل میں ہوں شرمندہ ۔۔۔۔۔۔اور اس بات پر شرمندہ ہوں کہ چند لوگوں نے وطن عزیز کو اسکی سالگرہ پر یہ گھٹیا تہمت تحفے میں دی اور ہم انکے ساتھ اپنے وطن پر گندگی اور کیچڑ اڑانے میں آگے آگے رہے ،میں شرمندہ ہوں اسلئے کہ میرا پاکستان بے انصاف لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔یہاں اگر پہلی بچی یا پہلی عورت کے مجرم کو سرعام سزا ہوتی تو آج یہ دو ٹکے کا بدمعاش طبقہ میرے وطن کے خلاف یہ گھناؤنا کھیل نہ کھیل پاتا۔۔۔۔وہ عورت اور اسکے ساتھی اپنی گندگی کو میرے وطن کے سر نہ کرپاتے ۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے بہن تم کس منہ سے خود کو پاکستان کی بیٹی کہتی ہو؟؟ پاکستان کی بنیاد کلمہ لاالہ الااللہ ہے اور یہ اسلام پر چلنے والوں کو ایک تجربہ گاہ چھین کر دی ہے قائد اعظم نے کہ جہاں مسلم عورتوں کے سروں سے کوئی چادر نہ کھینچ سکے جہاں ایک مسلمان بیٹی ،ایک پاکستان کی بیٹی آزادی سے باہر نکلے مگر نہیں میرے اس جملے میں موجود لفظ آزادی کا مطلب آپنے اس ہی حساب سے لینا ہے جو مغرب سے عورتوں کے ذہنوں میں بٹھایا جارہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو اسلام ہے نہ یہ ایک نظام کا نام ہے جو عورت کو سکھلاتا ہے محرم کے ساتھ نکلو، راستے میں بیچ میں نہ چلو، ایک طرف ہوکر چلو ، اپنی زینت چھپاؤ، اب یہ جاہلیت لگنے لگے گی ؟؟ بہن جاہلیت وہ تھی جو اسلام آنے سے پہلے تھی جو آج بھی یورپ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔میں اس پاکستان ( عورت کیلئے غیر محفوظ ملک) میں جب باہر نکلتی ہوں تو مجھے راستہ دیا جاتا ہے بابا یا بھائی کے ساتھ نکلوں تو انکے پیچھے پیچھے چل کر جو تحفظ کا احساس ہوتا ہے مجھے وہ آپ یورپ میں یا اس واک میں جو آپنے گریٹر پارک میں کی محسوس نہیں کرسکتیں ۔۔۔ یہاں کے وحشی جانور مرد( أپکے اور آپکے فینز کے گھٹیا ڈرامے کے بعد یہی پہچان بنی ہے ) کبھی باجی اور کبھی بہن کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور نقاب میں دیکھ کر اوروں سے زیادہ عزت دیتے ہیں کبھی چیز لینے بھی گئی ہوں برقعے میں تو دکان پر گاہک سائڈ پر ہوکر آگے جگہ دیتے ہیں کہ پہلے میں خرید لوں ۔۔۔۔ اب آپ خود ہی بتائیں یہ والی گمنامی بہتر ہے یا وہ گندی مشہوری جو آپ کو حاصل ہوئی ۔۔۔۔ اسلام نے جو مجھ پر لاگو کیا وہ میں کرتی ہوں اور میں نے اپنے گرد لوگ بھی ایسے ہی پائے ہیں جو مجھے عزت دیتے ہیں ایک بہن ایک بیٹی کی حثیت سے اور یہی آزادی ہے ۔۔۔۔۔
ہم بینک سے بڑی رقم اور جیولر سے جیولری نکلوا کر جب باہر آتے ہیں تب ہم اسکو اچھی طرح چھپا کر نکلتے ہیں اور اس طرح نکلتے ہیں کہ کسی ریکیی کرنے والے کو علم نہ ہوسکے کہ میرے پاس کچھ ہے یا میں نے کچھ نکلوایا یہاں سے ۔۔۔۔۔ پھر یہاں آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پائیں کہ آپ ایک عورت ہیں۔۔۔اور عورت ہے ہی ایک چھپانے کی چیز جسے مختلف لوگوں کی نظریں گندا کردیتی ہیں آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ پاکستان کلمہ کے نام پر بنا جب آپ اسکے اصول ہی لاگو نہیں کر رہیں پھر؟؟ پھر کیسے پاکستان کی بیٹی؟؟ یہ ایسا ہی ہے میں بلی کو گوشت دکھاؤں اور کہوں یہ جھپٹا نہیں مارے گی ۔۔۔۔۔۔ اب میری بات بھی مرد پر آگئی تو ایک بات یہ کہ مرد وہ بلی نہیں ہوتا جو گوشت پر جھپٹے وہ بھیڑئے تھے جو اس ویڈیو پیغام کے ذریعے بلائے گئے تھے وہ بھی مذہب اور اسلام کے اصولوں سے ناآشنا میراثی تھے میرے ملک کا چہرہ نہ تھے میرے ملک کا چہرہ وہ لوگ ہیں جو عورت سے بات کرتے ہیں تو نظریں جھکا کر چاہے عورت بے حجاب ہو یا باحجاب ۔۔۔۔۔ وہی مرد پاکستان کا فخر ہیں وہ جنھیں آپ لائیں وہ گندگی تھے وہ مرد نہیں تھے ۔۔۔۔ کچھ اور گندی مخلوق تھے جو آج کل ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو پر پیدا ہورہے اور صرف یہی نہیں میرے ملک میں اگر گندگی ہے تو وہ چینلز اور یہ ٹک ٹاک اور اسنیک ویڈیو۔۔۔۔ چینلز پر گند دکھا دکھا کر لوگوں کی ہوس جگائی جاتی ہے باقی کی کمی ٹک ٹاک پر مجرے پوری کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور بلکہ میری تو گزارش ہے کہ قارئین میں اگر کوئی صحافی ہے تو جیسا کے عورت کے کیس ختم کرنےکی نیوز آرہی ۔۔۔تو صحافی حضرات کو چاہیے کہ جہاں ایسے تمام کیسز پر جلدی کی تاریخیں لیکر مجرموں کو سزا سنائی جائے وہیں اس عورت، ریمبو اور دو صحافیوں پر ہتک عزت کا کیس کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں بھی اگر پہلے جنسی زیادتی کے کیس میں سزا ہوچکی ہوتی تو آج یہ لوگ یہ گندہ ڈرامہ رچانے سے پہلے سو بار سوچتے۔۔۔۔۔ بس اب جلدی کسی ایک ایسے مجرم کو سرعام سزا ہو تا کہ آگے حقیقی واقعات میں بھی کمی واقع ہو ۔۔۔۔ باقی یہ کہ پردہ تحفظ ہے ان واقعات کی روک تھام کیلئے اسے بھی رائج کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مغرب جانتا ہے کہ مسلمان عورت کیا ہے مگر مسلمان عورت اپنے آپ سے ،اپنی اہمیت سے ناآشنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مذہب پر عمل نہ دقیانوسیت ہے نا ہی جہالت ہے اور مذہب پر چلنے والے ہی میرے ملک کا اصل چہرہ ہیں ۔۔۔۔۔ہمیں آزادی ملی ہے تو ہم نے اسکا کچھ اور ہی مطلب لیا ہے ۔۔۔۔پوچھیں انڈیا یا مغرب کی مسلمان عورتوں سے انھیں چہرہ ڈھانپنے کی آزادی نہیں وہ یہ آزادی چاہتی ہیں کہ انھیں چہرہ ڈھانپنے سے کوئی نہ روکے تو وہ مروہ الشربینی کی طرح شہید کردی جاتی ہیں ان سے وہ چادر چھینی جاتی ہے جو انھیں تحفظ کا احساس دلائے ۔۔۔۔۔اور یہاں آپ اپنے برہنہ سر کو آزادی سمجھ بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔ میں ایک لڑکی ہوں اور لڑکی ہوتے ہوئے میں زیادہ بہتر وہی جانتی ہوں جو مجھ پر لاگو ہوتا ہے ۔۔۔۔ بس آخر میں اتنا کہونگی کہ ظاہر ہے قصور وار وہ 401 تھے تو ساتھ ہی ساتھ وہ صحافی بھی قصور وار ہیں جو بجائے اسکے کے گیم سامنے آنے کے بعد وہ ان سے متعلق سوالوں کے جواب دلوائیں ان لوگوں سے بلکہ وہ اب یہ کہ وہ ہمیشہ ٹھیک تھے اور انہوں نے اس عورت کے گیم کا حصہ بنکر بلکل ٹھیک کیا یہ ثابت کرنے کیلئے وہ اور گھٹیا گھٹیا واقعات ڈھونڈ ڈھونڈ کر میڈیا پر چلوارہے اور میرے وطن عزیز پر اور کیچڑ اچھال رہے اور جیسا کہ تجزیہ نگاروں کے نزدیک ساری سازش جس کھیل کا حصہ بتائی جارہی تب تو میرا یہ کہنا ہے کہ اور جتنے جنسی زیادتی کے واقعات ہیں ان میں سے 75٪ واقعات قوم کی معصوم بیٹیوں کے ساتھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت رونما کئے گئے ہیں عدلیہ سے گزارش ہے کہ ایسے واقعات کے مجرموں کو جلد سزا دے اور پاکستان کو گندہ کرنے میں شریک کار نہ بنے۔۔۔۔ میرا پاکستان میرے لئے تحفظ کا ایک قلعہ ،ایک احساس ہے
اور بہن بھائیوں سے گزارش ہے کے اپنا وقار برقرار رکھئے کردار کی پستیوں میں نہ گرئیے
پاکستان کا جو خاکہ آپ دنیا کو پیش کر رہے وہی آپکا حوالہ ہے ۔۔۔۔۔۔
Twitter handle: @Amk_20k
ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان
ورکنگ ویمن وہ خواتین ہیں جو گھر سے ملازمت کی غرض سے نکلتی ہیں اور ملازمت کے کسی بھی پیشے سے منسلک ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملازمت کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہے ورکنگ وومن کو دوران ملازمت اس سے زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کا حصول ایک مشکل کام ہے۔ لیکن خواتین اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے بل بوتے پر ہر میدان میں آگے ہیں۔ ہر جگہ ملازمت کر رہی ہیں لیکن ورکنگ وومن کو اس سب میں بہت سی مشکلات جھیلنے کے ساتھ کئی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ورکنگ وومن صرف وہی نہیں ہیں جو فیکٹریوں اور آفسز میں کام کرتی ہیں، بلکہ وہ خواتین بھی ورکنگ وومن ہیں جو دیہات اور گاؤں میں گھروں سے نکل کر کھیتوں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔
ورکنگ وومن عام گھریلو خواتین اور مرد حضرات سے زیادہ ذمہ داریاں اور کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ملازمت کے ساتھ گھر کے کام کاج سنبھالنا، بچوں کے کام، خاندان کی ذمہ داریاں، تقریبات، لین دین اور دیگر امور یہ سب عورت کے ذمہ ہوتا ہے وہ مردوں سے کئی گنا زیادہ کام کرتی ہیں۔ جو کہ ایک مشکل زندگی ہے۔ اگر توازن نہ ہو تو ایسی مشکل زندگی تھکاوٹ اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ ورکنگ وومن دو کشتیوں میں سوار رہتی ہیں۔ گھر کے کام کرتے ہوئے ملازمت کے کام یاد آتے ہیں اور ملازمت کے کام کے دوران گھر کے کاموں کی طرف توجہ بھٹک جاتی ہے۔ ایسے میں ان کا ارتکاز بٹ جاتا ہے۔ اور وہ اپنا کام توجہ سے سرانجام نہیں دے پاتیں۔ گھر اور ملازمت اور گھر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ تھک جاتی ہیں۔ ورکنگ وومن کے لیے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ چھٹی کے دن بہت سے نظر انداز یا موخر کئے گئے کام توجہ سمیٹ لیتے ہیں۔
۔معاشی بوجھ اٹھانا عورت کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ بہت سی مجبوریوں اور خواہشوں سے مجبور ہوکر معاشی بوجھ بھی ڈھوتی ہیں۔ مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے بڑھ کر کام کرتی ہیں۔ ورکنگ وومن گھر چلانے میں معاون ہیں، کیونکہ آج کے دور میں صرف مرد کی کمائی سے گھر چلانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ گھر، رشتوں سے جڑے رہنا اور اس کے ساتھ خود کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد ثابت کرتے ہوئے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنا۔ اور بہتر طریقے سے کردار نبھانا بلاشبہ عورت کے عظیم ہونے کا ثبوت ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر اور ملازمت کی زندگی لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
ورکنگ وومن کے لیے گھر سے نکل کر ملازمت کے لیے جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر کا آرام سکون چھوڑ کر باہر کی سختیاں جھیلنے کے لئے نکلنا پڑتا ہے، ان کو گھر بار بچے چھوڑ کے ملازمت کی جگہ پر جانا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اکثر اوقات غیر محفوظ طریقے سے سفر کرنا اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا یقینا زہنی جھنجھلاہٹ اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ ملازمت کی جگہ پر ہراسگی، برے رویے کا سامنا، نا زیبا کلمات و غیر شائستہ باتیں سننا، اخلاق سے عاری لوگوں کا سامنا، برے جملے سن کر برداشت کرنا ورکنگ وومن کی شخصیت کو روند ڈالتے ہیں۔ ملازمت کی جگہوں پر عورتوں کو تحفظ اور عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ لیکن ورکنگ وومن کو چاہیے کہ بہادری کا مظاہرہ کریں، خود مضبوط رہیں، ڈٹی رہیں تو وہ بہت سے محاذوں پر جنگ لڑ سکتی۔ ہیں برے لوگوں کے جملوں اور ہر اسگی کا بلا خوف و خطر سامنا کر سکتی ہیں۔ اپنی بالا دستی کی جنگ جیت سکتی ہیں۔
بہت سی خواتین ضرورتاً اور کئی شوقیہ ملازمت کرتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو غلط کردار کا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کردار پر باتیں کی جاتی۔جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب کا رویہ ان کے ساتھ عجیب سا ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں عورتوں کو ملازمت کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کو وہ سب کچھ نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اپنوں کی طرف سے بھی کوئی خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی۔ ورکنگ وومن کو بھی انسان سمجھیں۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ وہ مدد اور سہارے کی اتنی ہی مستحق ہیں جتنی کہ گھر میں رہنے والی عورتیں۔ورکنگ وومن کو ویسے ہی عزت و تحفظ دیں۔ جیسے باقی تمام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔
مردوں کے معاشرے میں اگر عورتیں کام کر رہی ہیں تو یہ بات نہیں ہے کہ مرد کا کردار اور صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، یا ان پر کوئی شک و شبہ ہے۔ نہیں مرد کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے۔ مرد و عورت کے تقابل کے بغیر عورتوں کی صلاحیتوں اور کردار کو سراہا جانا چاہیے اور ان کو عزت اور تحفظ دینا چاہیے۔ عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے سازگار ماحول اور بہتر مواقع ملنے چاہئیں۔ اور انہیں ملازمت کی جگہ پر مکمل تحفظ اور آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
@FarooqZPTI

تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں تحریر:-محسن ریاض
کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر چند دوستوں کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں یوم آزادی کے موقع پر رکشے پر سوار دو عورتیں جا رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سے ایک درندہ چلتے رکشے پر سوار ہوتا ہے اور بوسہ لے کر فرار ہو جاتا ہے اس منظر کو دیکھنے والے کئی لوگ تھے اور چند لوگ اس کو فلمانے میں مشغول تھے مگر کسی میں بھی اتنی اخلاقیات موجود نہ تھی یا اتنی ہمدردی نہ تھی جو ان کی اپنی ماں یا بہن کی لیے ہونی چاہیے اس لیے کی نے اس درندے کو پکڑنے کی کوشش تک نہ کی بلکہ اس منظر کو دیکھ کر چند اور منچلوں نے اس حرکت کو دوبارہ سرانجام دینے کی کوشش کی لہذا مجبوری اور بے بسی کی حالت میں ایک عورت نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوتا اتار لیا اور ان بزدلوں کو للکارا جس کی وجہ سے وہ یہ حرکت کرنے سے باز رہے اگر وہ اس طرح ہمت نہ کرتی تو شائد یہاں پر بھی مینار پاکستان پر عائشہ کے ساتھ مردوں کی طرف سے اجتماعی بے حرمتی کی گئی وہی مناظر دیکھنے کو ملتے -اس ویڈیو میں ایک اور بات جو ابھی تک میرے دماغ میں اٹکی ہوئی ہے وہ یہ کہ جو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار اس ساری واقعے کو فلمانے میں مصروف تھے اگر وہ چاہتے تو باآسانی اس حیوان کو پکڑ سکتے تھے مگر وہ بے حس اس بات پر پچھتا رہے تھے کہ وہ لڑکا جو بے ہودہ حرکت کر رہا تھا وہ بازی لے گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں اگر یہی عمومی رویہ ہے تو شائد ابھی ہمیں انسان بننے کی منزل تک پہنچنے کے لیے کئی صدیاں لگیں-اس ویڈیو میں ایک اور بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پچھلے چند دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں ان کو صرف جوتوں کی زبان ہی سمجھائی جا سکتی ہے اگر اس طرح کہ دو چار اور واقعات میں عورتیں بدتہذیبی کرنے والے دو چار آوارہ گردوں کو جوتے مار دیتی ہیں تو شائد اس طرح کے واقعات میں کمی آ جائے ایک اور بات جس کو کہنے کے لیے شدت سے دل کر رہا تھا مگر ڈر رہا تھا کہ کہنے سے شائد عائشہ اور اس طرح کی دیگر لڑکیوں کو انصاف دلوانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ متاثر نہ ہو جائے -وہ بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح تمام مرد بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مینار پاکستان میں ہونے والے واقعے میں جو کہ یقیناً ایک بہت ہی بھیانک منظر تھا اور لوگ اس معصوم کو اچھال رہے تھے اور اپنی وحشت کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر اس میں چند ایسے مرد بھی تھے جو اس کی مدد کر رہے تھے جس کا اس نے باقاعدہ ذکر کیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے جنگلا ہٹایا تاکہ وہ چند شرپسند عناصر جو نازیبا حرکات کر رہے تھے ان سے محفوظ ہونے کے لیے اندر آ جائے اور ان میں وہ مرد بھی شامل تھے جو اس کے فالورز تھے اور اس کے ساتھ ویڈیو بنانے کے لیے آئے ہوئے تھے اور کچھ اس کے ساتھ ویڈیو بنا چکے تھے مگر کچھ بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا بلکہ اچانک چند نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ سامنے آیا اور اس نے اس طرح کی حرکات شروع کر دی لہذا تمام مردوں کو اس میں مورد الزام ٹھہرانا ہر گز مناسب نہیں اس کے بعد وکٹم بلیمنگ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود منصوبے کے تحت یہ ساری کاروائی سرانجام دی ہے تاکہ شہرت حاصل کی جاسکے جبکہ یہ دلیل بھی جا رہی ہے کہ وہاں پر موجود تمام لوگ بےگناہ تھے تو یہ بات ماننے کو بھی دل تیار نہیں ہے اگر یہ باتیں مان بھی لی جائیں تو کیا رکشے میں سوار خواتین بھی مشہور ہونے کے لیے یہ سب کررہی ہیں خدارا انسان بن جائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور ہماری عورتیں اپنے آپ کو اس ملک میں محفوظ تصور کریں-
تحریر-محسن ریاض
ٹویٹر-mohsenwrites@
اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد
مینار پاکستان پر جو بھی واقعہ پیش آیا یقیناً افسوس ناک تھا اور اسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے
لیکن یہ میڈیا اور پاکستان کے خلاف بغض رکھنے والے لبرل ٹولے نے یہ کیا تماشا شروع کر رکھا ہے کہ
ایک بیچاری لڑکی کو چارسو بغیرت مردوں نے نوچ لیا کوئی بھی غیرت مند نہ نکلا؟
ان کے پاس لوگوں کی غیرت ناپنے کا کیا پیمانہ ہے؟
کیا ثبوت ہے کہ اس عورت کو ڈالا جانے والا ہر ہاتھ اسے رسوا کرنے کیلئے تھا؟
وہ ہاتھ اس کی حفاظت کے لیے اور بچاو کے لیے بھی توہو سکتا ہے نا؟
کیسے دی جاسکتی ہے یہ سٹیٹمنٹ کہ سب مرد بھیڑیے تھے؟اگر واقع ہی وہاں موجود سب مرد عورت کی بے حرمتی کے لیے اکھٹے ہوئے ہوتے تو آج محترمہ کی بوٹیاں بھی نہ ملتیں معذرت کے ساتھ!!!!!
اگر دس بارہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ اس کی لڑائی ہوگئی تھی تو یقیناً باقی ویلی عوام اس تماشے کو دیکھنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہوگی۔اور باقی کچھ عورت کے بچاو کے لیے۔
ویسے جب مرد اور عورت برابر ہیں تو وہ ہاتھا پائی بھی تو سکتی ہے نا واویلا کیسا؟لڑکے لڑکے بھی تو لڑتے ہی ہیں لڑکی لڑکا لڑ پڑے تو اب عورت کو عورت کارڈ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ ہمارے ملک کو تباہ ہی یہ لبرل اور ان کی گندی سوچ نے کیا ہے۔ یہ گندے لوگ آپس میں ہی لڑ مر کر معاشرے کی بربادی اور بدمامی کا سبب بن رہے ہیں ۔کبھی آزاد خیال نور مقدم اپنے ہی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے تو کبھی عائشہ آوارہ لونڈوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے
لیکن بدنام کون ہوتا ہے؟
ہم سب عورتیں
ہم سب مرد
سب پاکستانی
نور مقدم کو بھی بے دردی سے قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیاگیا پھر لبرل قاتل اس کے سر کے ساتھ کھیلتا رہا یقیناً ظلم ہوا۔نور کے ماں باپ کو زندگی بھر کا روگ لگ گیا لیکن کیا اس سب میں قصوروار صرف قاتل اور اسکی ذہنی گندگی تھی؟؟ کیا پورا لبرل ٹولا قصوروار نہیں تھا جس نے ماڈرن بننے کے لیے بے حیا بننے کو لازم قرار دے دیا ہے؟
تو اب ہم مقتولہ کے غم میں کیوں نڈھال ہوتے رہیں؟اللہ اسکی مغفرت فرمائے بس۔جب ان عورتوں کو گھر پہ ٹکنے اور باہر نکلتے ہوئے مناسب لباس پہننے اور پردہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو یہ خواتین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں قید سمجھتی ہیں آزادی چاہتی ہیں تو لے لیں آزادی کے مزے اب رونا پٹنا کیوں ڈال رہی ہیں؟
ابھی تو شروعات ہے اگر ہمارا میڈیا اور لبرل ٹولا مل کر ایسے ہی نوجوان نسل کے دماغوں میں گند بھرتے رہے تو ایسے اور بھی واقعات پیش آئیں گے
تواتر سے پیش آئیں گے
اور ہماری یہ مزمت ان واقعات کو بالکل کنٹرول نہیں کرسکے گی۔
اس لیے ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور لوٹ آئیں اپنے دین کی طرف۔چھوڑ دیں بے حیائیاں اور اور الله کی حدود کو پامال کرنا خدارہ چھوڑ دیں
چھوڑ دیں وہ تمام حرکتیں جن کا انجام اتنا بھیانک نکلتا ہے کہ انسانیت کیا حیوانیت بھی شرما جائے










