Baaghi TV

Category: خواتین

  • بیٹیاں تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں۔   تحریر فیصل خالد

    بیٹیاں تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں۔ تحریر فیصل خالد

    ملک کے ایک معروف اینکر نے مینار پاکستان حالیہ واقعہ کے تناظر میں یہ بات کہی ہے ٫٫شکر ہے اللہ نے مجھے بیٹی نہیں دی اور مجھے پاکستانی ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔؛
    موصوف نے یہ بات جس بھی پیرائے میں کی ہے عقل و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ منہ کھولنے سے پہلے دماغ کی بتی کو روشن کرلینا چاہئے اور اول فول بکنے سے قبل ہزار بار نہ سہی کم ازکم ایک بار ضرور سوچ لینا چاہئے۔ مخصوص مقاصد کیلئے موقعہ محل کی نزاکت کو دیکھ کر ایسے بیانات داغنے والے اپنی شعلہ بیانی سے بلاشبہ من چاہے نتائج حاصل کر لیتے ہوں گے مگر ان کے ایسے پراپیگنڈے میڈیا کے اس دور میں کس قدر منفی نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں اس کا اندازہ نہیں۔ جس واقعہ کی پشت پر انہوں نے یہ بات کہی ہے اگر اسے بھی دیکھا جائے تو یہ ایسا معاملہ نہیں کہ آپ سارے معاشرے کو چند بے لگام مردوخواتین کے کرتوتوں کے حاصل کا ذمہ دار ٹھہرا دیں۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں جب بیٹیاں بوجھ ہوا کرتی تھیں۔ الحمد اللہ ہم صاحب اولاد ہیں اور ثم الحمد اللہ کہ ہماری اولاد میں بیٹیاں بھی ہیں۔ جہاں گھروں میں بیٹوں کے دم سے شرارتیں اور ہلہ گلا ہوتا ہے وہیں بیٹیوں کے دم سے جو رونق اور سکون ہوتا ہے انہیں کیا معلوم جن کو اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کی نعمتیں عطاء نہیں کیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ شفقت و محبت اور احترام کی خاندانی روایات ہیں کہ انہیں بیاہ کر پیا گھر سدھار جانا ہوجاتا ہے۔اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے عرب اور دیگر معاشروں میں بیٹی کی پیدائش کو منحوس اور شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ پیدا ہوتے ہی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا، مگر اسلام نے بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دے کر معاشرے کو متوازن اور خوبصورت بنا دیا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں کی بہترین پرورش کا معاملہ کرنے والے والدین/ سرپرستوں کیلئے جہنم سے دوری کی بشارت دے دی۔ آپ نے فرمایا ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح ہوں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔ بیٹی کا معاملہ ہی دیکھ لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاطمۃ الزہرۃؓ سے اتنی محبت تھی کہ انھیں اپنے جگر کا ٹکڑا کہا کرتے، جب حضرت فاطمہؓ آپؐ سے ملنے آتیں تو آپؐ ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے، کبھی ان کے لیے اپنی چادر بچھاتے۔بیٹیوں کو وراثت کا حق دیا۔ بدقسمتی سے آج پھر معاشرہ ان بیٹیوں کو بوجھ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ اسلام نے بیٹیوں کے معاملہ میں جو احترام ، محبت اور شفقت کے اصول وضع کردیئے تھے انہیں خرابی کی طرف لیجایا جارہا ہے۔ اللہ کی اس رحمت کو زحمت بنایا جارہا ہے۔ زمانہ جاہلیت کی طرح بیٹیوں والوں کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔ انہیں کمزور سمجھا جانے لگتا ہے۔ آج معاشرے کو بیٹی کے تصور سے خوفزدہ کیا جارہا ہے۔ کمرشلائزیشن کے دور میں بیٹیوں کو مارکیٹنگ جنس بنادیا گیا ہے۔ میڈیا کی مدد سے آج کی بیٹی کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ ڈراموں،فلموں کی کہانیوں میں معاشرے کی تصویر دکھانے کے نام معاشرے کو تباہی و بربادی کے ایجنڈے پر استوار کیا جارہا ہے۔ باپ اور بیٹی تک کے مقدس رشتوں کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ کہیں بیٹی کو مثبت معاشرتی اقدار سے باغی بننے کی تربیت کی جارہی ہے تو کہیں باپ کو بیٹی کا روپ بوجھ بتایا جارہا ہے۔ لوگوں کی بیٹیوں کو روپے پیسے اور مادیت کے لالچ میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔ رستہ سے بھٹک جانے والی بیٹیوں کی مدد سے دوسروں کی بیٹیاں خراب کی جارہی ہیں۔ بے لگام میڈیائی پراپیگنڈہ جس انداز سے ہماری بیٹیوں کو مشرقی روایات، ثقافت و مذہب سے دور کرنے میں مصروف ہے اس کی مثالیں سوشل میڈیا کے لچر پن ناچ گانے ٹک ٹاک کی بے حیائی میں نمایاں ہیں۔ والدین کا بیٹیوں بالخصوص بیٹوں کی تربیت سے ہاتھ کھینچ لینا بیٹیاں سب کی سانجھی جیسی خوبصورت سوچ والے معاشرے کو غلط سمت پر لیجارہا ہے۔ مینار پاکستان واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ معروف اینکر پرسن کو بتایا جائے کہ یہ ٹک ٹاک اور دیگر ایسے پلیٹ فارمز پر رحجان پانے والی سرگرمیاں یہ ہمارے معاشرے کی عکاس ہر گز نہیں ہیں۔ اگر آپ ایسی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ہونے والے واقعات کے بعد بھی ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتے، دوسروں کی بیٹیوں کو محض اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہو تو سبھی معاشرے کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے مزید یہ کہ بیٹیوں اور پاکستان سے ہی پناہ نہ مانگی جائے کہ بیٹیاں اللہ کی بہت بڑی رحمت ہیں یہ تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہیں بس ان کی قدر کرنے اور اپنی اپنی اصلاح کی ضرورت باقی ہے-

    Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان

    پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان

    کچھ دن سے سوشل میڈیا کی ہر ویبسائٹ پر ایک عورت مشہورِ ہوئی وی ہے ۔۔۔۔انسٹا فیسبک ٹوئیٹر یہاں تک کہ واٹساپ کے اسٹیٹس دیکھو تو وہاں بھی اس ہی کا ذکر نظر آرہا!!! پہلے ایک دن تو ٹوٹلی جسے دیکھو پاکستانی ہونے پر شرمسار نظر آرہا تھا!!!!
    تو اول تو یہ کہ بھائی ذرا ٹھنڈے رہئے میں بھی پاکستان کی شہری ہوں اور میں ایک عورت ہوتے ہوئے اس قلعے کے تحفظ کو محسوس کرسکتی ہوں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے کہ کسی شمر نے میرے کاندھوں سے آنچل نہیں کھینچا ۔۔۔۔۔ آپ ایک چھوٹے سے طبقے یا گروہ کے ڈرامے سے اپنی سر زمین پر کیسے نادم ہیں آخر کیسے؟؟؟
    ایسا نہیں ہے کہ مجھے واقعے پر شرمندگی نہیں ہے بلکل میں ہوں شرمندہ ۔۔۔۔۔۔اور اس بات پر شرمندہ ہوں کہ چند لوگوں نے وطن عزیز کو اسکی سالگرہ پر یہ گھٹیا تہمت تحفے میں دی اور ہم انکے ساتھ اپنے وطن پر گندگی اور کیچڑ اڑانے میں آگے آگے رہے ،میں شرمندہ ہوں اسلئے کہ میرا پاکستان بے انصاف لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔یہاں اگر پہلی بچی یا پہلی عورت کے مجرم کو سرعام سزا ہوتی تو آج یہ دو ٹکے کا بدمعاش طبقہ میرے وطن کے خلاف یہ گھناؤنا کھیل نہ کھیل پاتا۔۔۔۔وہ عورت اور اسکے ساتھی اپنی گندگی کو میرے وطن کے سر نہ کرپاتے ۔۔۔۔۔
    کیا مطلب ہے بہن تم کس منہ سے خود کو پاکستان کی بیٹی کہتی ہو؟؟ پاکستان کی بنیاد کلمہ لاالہ الااللہ ہے اور یہ اسلام پر چلنے والوں کو ایک تجربہ گاہ چھین کر دی ہے قائد اعظم نے کہ جہاں مسلم عورتوں کے سروں سے کوئی چادر نہ کھینچ سکے جہاں ایک مسلمان بیٹی ،ایک پاکستان کی بیٹی آزادی سے باہر نکلے مگر نہیں میرے اس جملے میں موجود لفظ آزادی کا مطلب آپنے اس ہی حساب سے لینا ہے جو مغرب سے عورتوں کے ذہنوں میں بٹھایا جارہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جو اسلام ہے نہ یہ ایک نظام کا نام ہے جو عورت کو سکھلاتا ہے محرم کے ساتھ نکلو، راستے میں بیچ میں نہ چلو، ایک طرف ہوکر چلو ، اپنی زینت چھپاؤ، اب یہ جاہلیت لگنے لگے گی ؟؟ بہن جاہلیت وہ تھی جو اسلام آنے سے پہلے تھی جو آج بھی یورپ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔میں اس پاکستان ( عورت کیلئے غیر محفوظ ملک) میں جب باہر نکلتی ہوں تو مجھے راستہ دیا جاتا ہے بابا یا بھائی کے ساتھ نکلوں تو انکے پیچھے پیچھے چل کر جو تحفظ کا احساس ہوتا ہے مجھے وہ آپ یورپ میں یا اس واک میں جو آپنے گریٹر پارک میں کی محسوس نہیں کرسکتیں ۔۔۔ یہاں کے وحشی جانور مرد( أپکے اور آپکے فینز کے گھٹیا ڈرامے کے بعد یہی پہچان بنی ہے ) کبھی باجی اور کبھی بہن کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور نقاب میں دیکھ کر اوروں سے زیادہ عزت دیتے ہیں کبھی چیز لینے بھی گئی ہوں برقعے میں تو دکان پر گاہک سائڈ پر ہوکر آگے جگہ دیتے ہیں کہ پہلے میں خرید لوں ۔۔۔۔ اب آپ خود ہی بتائیں یہ والی گمنامی بہتر ہے یا وہ گندی مشہوری جو آپ کو حاصل ہوئی ۔۔۔۔ اسلام نے جو مجھ پر لاگو کیا وہ میں کرتی ہوں اور میں نے اپنے گرد لوگ بھی ایسے ہی پائے ہیں جو مجھے عزت دیتے ہیں ایک بہن ایک بیٹی کی حثیت سے اور یہی آزادی ہے ۔۔۔۔۔
    ہم بینک سے بڑی رقم اور جیولر سے جیولری نکلوا کر جب باہر آتے ہیں تب ہم اسکو اچھی طرح چھپا کر نکلتے ہیں اور اس طرح نکلتے ہیں کہ کسی ریکیی کرنے والے کو علم نہ ہوسکے کہ میرے پاس کچھ ہے یا میں نے کچھ نکلوایا یہاں سے ۔۔۔۔۔ پھر یہاں آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پائیں کہ آپ ایک عورت ہیں۔۔۔اور عورت ہے ہی ایک چھپانے کی چیز جسے مختلف لوگوں کی نظریں گندا کردیتی ہیں آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ پاکستان کلمہ کے نام پر بنا جب آپ اسکے اصول ہی لاگو نہیں کر رہیں پھر؟؟ پھر کیسے پاکستان کی بیٹی؟؟ یہ ایسا ہی ہے میں بلی کو گوشت دکھاؤں اور کہوں یہ جھپٹا نہیں مارے گی ۔۔۔۔۔۔ اب میری بات بھی مرد پر آگئی تو ایک بات یہ کہ مرد وہ بلی نہیں ہوتا جو گوشت پر جھپٹے وہ بھیڑئے تھے جو اس ویڈیو پیغام کے ذریعے بلائے گئے تھے وہ بھی مذہب اور اسلام کے اصولوں سے ناآشنا میراثی تھے میرے ملک کا چہرہ نہ تھے میرے ملک کا چہرہ وہ لوگ ہیں جو عورت سے بات کرتے ہیں تو نظریں جھکا کر چاہے عورت بے حجاب ہو یا باحجاب ۔۔۔۔۔ وہی مرد پاکستان کا فخر ہیں وہ جنھیں آپ لائیں وہ گندگی تھے وہ مرد نہیں تھے ۔۔۔۔ کچھ اور گندی مخلوق تھے جو آج کل ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو پر پیدا ہورہے اور صرف یہی نہیں میرے ملک میں اگر گندگی ہے تو وہ چینلز اور یہ ٹک ٹاک اور اسنیک ویڈیو۔۔۔۔ چینلز پر گند دکھا دکھا کر لوگوں کی ہوس جگائی جاتی ہے باقی کی کمی ٹک ٹاک پر مجرے پوری کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اور بلکہ میری تو گزارش ہے کہ قارئین میں اگر کوئی صحافی ہے تو جیسا کے عورت کے کیس ختم کرنےکی نیوز آرہی ۔۔۔تو صحافی حضرات کو چاہیے کہ جہاں ایسے تمام کیسز پر جلدی کی تاریخیں لیکر مجرموں کو سزا سنائی جائے وہیں اس عورت، ریمبو اور دو صحافیوں پر ہتک عزت کا کیس کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں بھی اگر پہلے جنسی زیادتی کے کیس میں سزا ہوچکی ہوتی تو آج یہ لوگ یہ گندہ ڈرامہ رچانے سے پہلے سو بار سوچتے۔۔۔۔۔ بس اب جلدی کسی ایک ایسے مجرم کو سرعام سزا ہو تا کہ آگے حقیقی واقعات میں بھی کمی واقع ہو ۔۔۔۔ باقی یہ کہ پردہ تحفظ ہے ان واقعات کی روک تھام کیلئے اسے بھی رائج کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مغرب جانتا ہے کہ مسلمان عورت کیا ہے مگر مسلمان عورت اپنے آپ سے ،اپنی اہمیت سے ناآشنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مذہب پر عمل نہ دقیانوسیت ہے نا ہی جہالت ہے اور مذہب پر چلنے والے ہی میرے ملک کا اصل چہرہ ہیں ۔۔۔۔۔ہمیں آزادی ملی ہے تو ہم نے اسکا کچھ اور ہی مطلب لیا ہے ۔۔۔۔پوچھیں انڈیا یا مغرب کی مسلمان عورتوں سے انھیں چہرہ ڈھانپنے کی آزادی نہیں وہ یہ آزادی چاہتی ہیں کہ انھیں چہرہ ڈھانپنے سے کوئی نہ روکے تو وہ مروہ الشربینی کی طرح شہید کردی جاتی ہیں ان سے وہ چادر چھینی جاتی ہے جو انھیں تحفظ کا احساس دلائے ۔۔۔۔۔اور یہاں آپ اپنے برہنہ سر کو آزادی سمجھ بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔ میں ایک لڑکی ہوں اور لڑکی ہوتے ہوئے میں زیادہ بہتر وہی جانتی ہوں جو مجھ پر لاگو ہوتا ہے ۔۔۔۔ بس آخر میں اتنا کہونگی کہ ظاہر ہے قصور وار وہ 401 تھے تو ساتھ ہی ساتھ وہ صحافی بھی قصور وار ہیں جو بجائے اسکے کے گیم سامنے آنے کے بعد وہ ان سے متعلق سوالوں کے جواب دلوائیں ان لوگوں سے بلکہ وہ اب یہ کہ وہ ہمیشہ ٹھیک تھے اور انہوں نے اس عورت کے گیم کا حصہ بنکر بلکل ٹھیک کیا یہ ثابت کرنے کیلئے وہ اور گھٹیا گھٹیا واقعات ڈھونڈ ڈھونڈ کر میڈیا پر چلوارہے اور میرے وطن عزیز پر اور کیچڑ اچھال رہے اور جیسا کہ تجزیہ نگاروں کے نزدیک ساری سازش جس کھیل کا حصہ بتائی جارہی تب تو میرا یہ کہنا ہے کہ اور جتنے جنسی زیادتی کے واقعات ہیں ان میں سے 75٪ واقعات قوم کی معصوم بیٹیوں کے ساتھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت رونما کئے گئے ہیں عدلیہ سے گزارش ہے کہ ایسے واقعات کے مجرموں کو جلد سزا دے اور پاکستان کو گندہ کرنے میں شریک کار نہ بنے۔۔۔۔ میرا پاکستان میرے لئے تحفظ کا ایک قلعہ ،ایک احساس ہے
    اور بہن بھائیوں سے گزارش ہے کے اپنا وقار برقرار رکھئے کردار کی پستیوں میں نہ گرئیے
    پاکستان کا جو خاکہ آپ دنیا کو پیش کر رہے وہی آپکا حوالہ ہے ۔۔۔۔۔۔
    Twitter handle: @Amk_20k

  • ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان

    ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان

    ورکنگ ویمن وہ خواتین ہیں جو گھر سے ملازمت کی غرض سے نکلتی ہیں اور ملازمت کے کسی بھی پیشے سے منسلک ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملازمت کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہے ورکنگ وومن کو دوران ملازمت اس سے زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کا حصول ایک مشکل کام ہے۔ لیکن خواتین اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے بل بوتے پر ہر میدان میں آگے ہیں۔ ہر جگہ ملازمت کر رہی ہیں لیکن ورکنگ وومن کو اس سب میں بہت سی مشکلات جھیلنے کے ساتھ کئی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ورکنگ وومن صرف وہی نہیں ہیں جو فیکٹریوں اور آفسز میں کام کرتی ہیں، بلکہ وہ خواتین بھی ورکنگ وومن ہیں جو دیہات اور گاؤں میں گھروں سے نکل کر کھیتوں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔

    ورکنگ وومن عام گھریلو خواتین اور مرد حضرات سے زیادہ ذمہ داریاں اور کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ملازمت کے ساتھ گھر کے کام کاج سنبھالنا، بچوں کے کام، خاندان کی ذمہ داریاں، تقریبات، لین دین اور دیگر امور یہ سب عورت کے ذمہ ہوتا ہے وہ مردوں سے کئی گنا زیادہ کام کرتی ہیں۔ جو کہ ایک مشکل زندگی ہے۔ اگر توازن نہ ہو تو ایسی مشکل زندگی تھکاوٹ اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ ورکنگ وومن دو کشتیوں میں سوار رہتی ہیں۔ گھر کے کام کرتے ہوئے ملازمت کے کام یاد آتے ہیں اور ملازمت کے کام کے دوران گھر کے کاموں کی طرف توجہ بھٹک جاتی ہے۔ ایسے میں ان کا ارتکاز بٹ جاتا ہے۔ اور وہ اپنا کام توجہ سے سرانجام نہیں دے پاتیں۔ گھر اور ملازمت اور گھر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ تھک جاتی ہیں۔ ورکنگ وومن کے لیے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ چھٹی کے دن بہت سے نظر انداز یا موخر کئے گئے کام توجہ سمیٹ لیتے ہیں۔

    ۔معاشی بوجھ اٹھانا عورت کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ بہت سی مجبوریوں اور خواہشوں سے مجبور ہوکر معاشی بوجھ بھی ڈھوتی ہیں۔ مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے بڑھ کر کام کرتی ہیں۔ ورکنگ وومن گھر چلانے میں معاون ہیں، کیونکہ آج کے دور میں صرف مرد کی کمائی سے گھر چلانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ گھر، رشتوں سے جڑے رہنا اور اس کے ساتھ خود کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد ثابت کرتے ہوئے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنا۔ اور بہتر طریقے سے کردار نبھانا بلاشبہ عورت کے عظیم ہونے کا ثبوت ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر اور ملازمت کی زندگی لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

    ورکنگ وومن کے لیے گھر سے نکل کر ملازمت کے لیے جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر کا آرام سکون چھوڑ کر باہر کی سختیاں جھیلنے کے لئے نکلنا پڑتا ہے، ان کو گھر بار بچے چھوڑ کے ملازمت کی جگہ پر جانا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اکثر اوقات غیر محفوظ طریقے سے سفر کرنا اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا یقینا زہنی جھنجھلاہٹ اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ ملازمت کی جگہ پر ہراسگی، برے رویے کا سامنا، نا زیبا کلمات و غیر شائستہ باتیں سننا، اخلاق سے عاری لوگوں کا سامنا، برے جملے سن کر برداشت کرنا ورکنگ وومن کی شخصیت کو روند ڈالتے ہیں۔ ملازمت کی جگہوں پر عورتوں کو تحفظ اور عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ لیکن ورکنگ وومن کو چاہیے کہ بہادری کا مظاہرہ کریں، خود مضبوط رہیں، ڈٹی رہیں تو وہ بہت سے محاذوں پر جنگ لڑ سکتی۔ ہیں برے لوگوں کے جملوں اور ہر اسگی کا بلا خوف و خطر سامنا کر سکتی ہیں۔ اپنی بالا دستی کی جنگ جیت سکتی ہیں۔

    بہت سی خواتین ضرورتاً اور کئی شوقیہ ملازمت کرتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو غلط کردار کا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کردار پر باتیں کی جاتی۔جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب کا رویہ ان کے ساتھ عجیب سا ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں عورتوں کو ملازمت کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کو وہ سب کچھ نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اپنوں کی طرف سے بھی کوئی خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی۔ ورکنگ وومن کو بھی انسان سمجھیں۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ وہ مدد اور سہارے کی اتنی ہی مستحق ہیں جتنی کہ گھر میں رہنے والی عورتیں۔ورکنگ وومن کو ویسے ہی عزت و تحفظ دیں۔ جیسے باقی تمام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔

    مردوں کے معاشرے میں اگر عورتیں کام کر رہی ہیں تو یہ بات نہیں ہے کہ مرد کا کردار اور صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، یا ان پر کوئی شک و شبہ ہے۔ نہیں مرد کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے۔ مرد و عورت کے تقابل کے بغیر عورتوں کی صلاحیتوں اور کردار کو سراہا جانا چاہیے اور ان کو عزت اور تحفظ دینا چاہیے۔ عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے سازگار ماحول اور بہتر مواقع ملنے چاہئیں۔ اور انہیں ملازمت کی جگہ پر مکمل تحفظ اور آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

    @FarooqZPTI

  • تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں  تحریر:-محسن ریاض

    تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں تحریر:-محسن ریاض

    کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر چند دوستوں کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں یوم آزادی کے موقع پر رکشے پر سوار دو عورتیں جا رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سے ایک درندہ چلتے رکشے پر سوار ہوتا ہے اور بوسہ لے کر فرار ہو جاتا ہے اس منظر کو دیکھنے والے کئی لوگ تھے اور چند لوگ اس کو فلمانے میں مشغول تھے مگر کسی میں بھی اتنی اخلاقیات موجود نہ تھی یا اتنی ہمدردی نہ تھی جو ان کی اپنی ماں یا بہن کی لیے ہونی چاہیے اس لیے کی نے اس درندے کو پکڑنے کی کوشش تک نہ کی بلکہ اس منظر کو دیکھ کر چند اور منچلوں نے اس حرکت کو دوبارہ سرانجام دینے کی کوشش کی لہذا مجبوری اور بے بسی کی حالت میں ایک عورت نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوتا اتار لیا اور ان بزدلوں کو للکارا جس کی وجہ سے وہ یہ حرکت کرنے سے باز رہے اگر وہ اس طرح ہمت نہ کرتی تو شائد یہاں پر بھی مینار پاکستان پر عائشہ کے ساتھ مردوں کی طرف سے اجتماعی بے حرمتی کی گئی وہی مناظر دیکھنے کو ملتے -اس ویڈیو میں ایک اور بات جو ابھی تک میرے دماغ میں اٹکی ہوئی ہے وہ یہ کہ جو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار اس ساری واقعے کو فلمانے میں مصروف تھے اگر وہ چاہتے تو باآسانی اس حیوان کو پکڑ سکتے تھے مگر وہ بے حس اس بات پر پچھتا رہے تھے کہ وہ لڑکا جو بے ہودہ حرکت کر رہا تھا وہ بازی لے گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں اگر یہی عمومی رویہ ہے تو شائد ابھی ہمیں انسان بننے کی منزل تک پہنچنے کے لیے کئی صدیاں لگیں-اس ویڈیو میں ایک اور بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پچھلے چند دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں ان کو صرف جوتوں کی زبان ہی سمجھائی جا سکتی ہے اگر اس طرح کہ دو چار اور واقعات میں عورتیں بدتہذیبی کرنے والے دو چار آوارہ گردوں کو جوتے مار دیتی ہیں تو شائد اس طرح کے واقعات میں کمی آ جائے ایک اور بات جس کو کہنے کے لیے شدت سے دل کر رہا تھا مگر ڈر رہا تھا کہ کہنے سے شائد عائشہ اور اس طرح کی دیگر لڑکیوں کو انصاف دلوانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ متاثر نہ ہو جائے -وہ بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح تمام مرد بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مینار پاکستان میں ہونے والے واقعے میں جو کہ یقیناً ایک بہت ہی بھیانک منظر تھا اور لوگ اس معصوم کو اچھال رہے تھے اور اپنی وحشت کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر اس میں چند ایسے مرد بھی تھے جو اس کی مدد کر رہے تھے جس کا اس نے باقاعدہ ذکر کیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے جنگلا ہٹایا تاکہ وہ چند شرپسند عناصر جو نازیبا حرکات کر رہے تھے ان سے محفوظ ہونے کے لیے اندر آ جائے اور ان میں وہ مرد بھی شامل تھے جو اس کے فالورز تھے اور اس کے ساتھ ویڈیو بنانے کے لیے آئے ہوئے تھے اور کچھ اس کے ساتھ ویڈیو بنا چکے تھے مگر کچھ بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا بلکہ اچانک چند نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ سامنے آیا اور اس نے اس طرح کی حرکات شروع کر دی لہذا تمام مردوں کو اس میں مورد الزام ٹھہرانا ہر گز مناسب نہیں اس کے بعد وکٹم بلیمنگ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود منصوبے کے تحت یہ ساری کاروائی سرانجام دی ہے تاکہ شہرت حاصل کی جاسکے جبکہ یہ دلیل بھی جا رہی ہے کہ وہاں پر موجود تمام لوگ بےگناہ تھے تو یہ بات ماننے کو بھی دل تیار نہیں ہے اگر یہ باتیں مان بھی لی جائیں تو کیا رکشے میں سوار خواتین بھی مشہور ہونے کے لیے یہ سب کررہی ہیں خدارا انسان بن جائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور ہماری عورتیں اپنے آپ کو اس ملک میں محفوظ تصور کریں-
    تحریر-محسن ریاض
    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    مینار پاکستان پر جو بھی واقعہ پیش آیا یقیناً افسوس ناک تھا اور اسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے
    لیکن یہ میڈیا اور پاکستان کے خلاف بغض رکھنے والے لبرل ٹولے نے یہ کیا تماشا شروع کر رکھا ہے کہ
    ایک بیچاری لڑکی کو چارسو بغیرت مردوں نے نوچ لیا کوئی بھی غیرت مند نہ نکلا؟
    ان کے پاس لوگوں کی غیرت ناپنے کا کیا پیمانہ ہے؟
    کیا ثبوت ہے کہ اس عورت کو ڈالا جانے والا ہر ہاتھ اسے رسوا کرنے کیلئے تھا؟
    وہ ہاتھ اس کی حفاظت کے لیے اور بچاو کے لیے بھی توہو سکتا ہے نا؟
    کیسے دی جاسکتی ہے یہ سٹیٹمنٹ کہ سب مرد بھیڑیے تھے؟

    اگر واقع ہی وہاں موجود سب مرد عورت کی بے حرمتی کے لیے اکھٹے ہوئے ہوتے تو آج محترمہ کی بوٹیاں بھی نہ ملتیں معذرت کے ساتھ!!!!!
    اگر دس بارہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ اس کی لڑائی ہوگئی تھی تو یقیناً باقی ویلی عوام اس تماشے کو دیکھنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہوگی۔اور باقی کچھ عورت کے بچاو کے لیے۔
    ویسے جب مرد اور عورت برابر ہیں تو وہ ہاتھا پائی بھی تو سکتی ہے نا واویلا کیسا؟

    لڑکے لڑکے بھی تو لڑتے ہی ہیں لڑکی لڑکا لڑ پڑے تو اب عورت کو عورت کارڈ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ ہمارے ملک کو تباہ ہی یہ لبرل اور ان کی گندی سوچ نے کیا ہے۔ یہ گندے لوگ آپس میں ہی لڑ مر کر معاشرے کی بربادی اور بدمامی کا سبب بن رہے ہیں ۔کبھی آزاد خیال نور مقدم اپنے ہی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے تو کبھی عائشہ آوارہ لونڈوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے

    لیکن بدنام کون ہوتا ہے؟
    ہم سب عورتیں
    ہم سب مرد
    سب پاکستانی
    نور مقدم کو بھی بے دردی سے قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیاگیا پھر لبرل قاتل اس کے سر کے ساتھ کھیلتا رہا یقیناً ظلم ہوا۔نور کے ماں باپ کو زندگی بھر کا روگ لگ گیا لیکن کیا اس سب میں قصوروار صرف قاتل اور اسکی ذہنی گندگی تھی؟؟ کیا پورا لبرل ٹولا قصوروار نہیں تھا جس نے ماڈرن بننے کے لیے بے حیا بننے کو لازم قرار دے دیا ہے؟
    تو اب ہم مقتولہ کے غم میں کیوں نڈھال ہوتے رہیں؟اللہ اسکی مغفرت فرمائے بس۔

    جب ان عورتوں کو گھر پہ ٹکنے اور باہر نکلتے ہوئے مناسب لباس پہننے اور پردہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو یہ خواتین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں قید سمجھتی ہیں آزادی چاہتی ہیں تو لے لیں آزادی کے مزے اب رونا پٹنا کیوں ڈال رہی ہیں؟
    ابھی تو شروعات ہے اگر ہمارا میڈیا اور لبرل ٹولا مل کر ایسے ہی نوجوان نسل کے دماغوں میں گند بھرتے رہے تو ایسے اور بھی واقعات پیش آئیں گے
    تواتر سے پیش آئیں گے
    اور ہماری یہ مزمت ان واقعات کو بالکل کنٹرول نہیں کرسکے گی۔
    اس لیے ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور لوٹ آئیں اپنے دین کی طرف۔چھوڑ دیں بے حیائیاں اور اور الله کی حدود کو پامال کرنا خدارہ چھوڑ دیں
    چھوڑ دیں وہ تمام حرکتیں جن کا انجام اتنا بھیانک نکلتا ہے کہ انسانیت کیا حیوانیت بھی شرما جائے

  • ایک برگزیدہ خاتون کی داستان تحریر:محمد سدیس خان

    حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ بلندی کے اس مقام تک کیسے پہنچے ، آپ کے والد کا آپ کے بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا، آپ کی والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنا اور اپنے یتیم بچے کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ جب یہ بڑے ہونے لگے تو ماں ڈرگئ کہ اب میرا بچہ بڑا ہورہا ہے، گلیوں میں کھیل رہا ہے کہیں یہ غلط لڑکوں کے ساتھ بگڑ نہ جائے۔
    لوگوں سے مشورہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا مدرسہ ہے وہاں ایک بڑے شیخ ہیں وہاں جو بچے پڑھتے ہیں، وہ اللّٰہ کے ولی بن جاتے ہیں، ہمارا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے بچے کو وہاں داخل کرادو، بیوہ ماں اپنے یتیم بچے کو لیکر اس مدرسہ میں پہنچی ، وہاں کے شیخ سے ملاقات کی ، تعارف کرایا کہ حضرت میں ایک غریب بیوہ عورت ہوں، محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرتی ہوں۔
    اس یتیم بچے کو ساتھ لائی ہوں، یہ گلیوں میں کھیلنے لگا، مجھے ڈر ہے کہ یہ کہیں بگڑ نہ جائے، میری تمنا یہ ہے اور میرے مرحوم شوہر کی بھی یہی تمنا تھی کہ میرا بچہ عالم ربانی بنے، دین کا خادم بنے اور اسلام کا جھنڈا دنیا میں پھیلائے، آپ اس بچے کو اپنے پاس رکھ لیجئے اور اس کو ایسا عالم بنا دیجیئے کہ یہ نائب رسول بن جائے اور اللّٰہ کو پسند آجاے۔
    وہ بزرگ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ تم اس بچے کو چھوڑ جاؤ، میں جو کچھ کرسکا وہ کروں گا۔ مگر یہی نہیں جاتے جاتے اس اللّٰہ کی بندی نے ایک درخواست اور کی کہ حضرت! یہ بچہ پہلی مرتبہ گھر سے نکل رہا ہے، اس کو میری یاد بھی بہت آئے گی ، مجھے یاد کرکے روئے گا ، گھر آنے کی اجازت مانگے گا مگر مگر یہ گھر آئے گا تو اس کا دھیان بٹ جائے گا اور یہ وہ نہیں بن پائے گا جو میں اسے بنانا چاہتی ہوں، اس لیے اس کو میرے پاس تب ہی بھیجئے گا جب یہ عالم بن جائے۔
    وہ بزرگ حیران رہ گئے کہ اس بیوہ عورت کی کیا ہمت اور کیا تمنائیں ہیں، بزرگ فرمانے لگے جاؤ دعاؤں سے میری مدد کرنا، مجھ سے جو کچھ ہوسکے گا وہ میں کروں گا۔
    وہ بیوہ ماں بچے کو چھوڑ کر چلی گئیں، بچے کی تعلیم وترتیب کا سلسلہ شروع ہوگیا ، بچے نے کچھ کچھ مہینوں تک صبر سے کام لیا۔
    بالآخر بچے نے آکر استاد سے کہا کہ مجھے اپنی امی کی بہت یاد آرہی ہے، مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیجئے ، میں گھر چلا جاؤں۔
    اب استاد بہت پریشان کہ چھٹی دیتے ہیں تو اس کی والدہ سے کیا ہوا وعدہ ٹوٹتا ہے اور اگر چھٹی نہیں دیتے تو اس معصوم بچے کا دل ٹوٹتا ہے، اللّٰہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ اللّٰہ اس مسئلہ کا حل فرما دیں۔
    اللّٰہ نے مدد فرمائی، دل میں ایک ترکیب آگئ اور فرمایا کہ میں تمہیں سبق دیتا ہوں، جب تم اسے یاد کرکے شام تک سنادوگے تو میں تمہیں چھٹی دیدوں گا۔ بچہ خوش ہوگیا، استاد نے سبق دیا اور جان بوجھ کر اتنا دیا کہ کہ وہ شام تک یاد ہی نہ ہوسکے۔
    جب بچے نے سبق کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ سبق تو شام تک یاد نہیں ہوسکے گا۔
    اب بچہ حیران کہ میں کیا کروں، دوبارہ استاد کے پاس جاکر سبق کم کرنے کی درخواست کروں تو یہ استاد کی بے ادبی ہو جائے گی۔ اب ماں کو ملنے کو بھی بہت جی چاہ رہا ہے، استاد صاحب تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں رات کو تکیہ پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں حالانکہ میں کافی دیر تک منہ چھپائے روتا رہتا ہوں۔
    ایک ترکیب ذہن میں آئی ، اس نے کتاب کو ادب کے ساتھ رحل پر رکھا اور اللّٰہ سے دعا کرنی شروع کی کہ یا اللّٰہ! میں نے یہی سنا ہے کہ آپ ہی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کی قدرت سب سے زیادہ ہے اے اللّٰہ ! آج مجھ یتیم بچے کی دعا قبول کرکے اپنی قدرت کو استعمال کردیجیۓ۔
    آج شام تک یہ سبق یاد کروا دیجئے ، اے اللّٰہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی امی کی یاد میں کتنا تڑپ رہا ہوں، اے اللّٰہ! میرے ٹوٹے دل کو سکون دیجئیے۔
    میرے ابو زندہ ہوتے تو وہ آجاتے، میں ان کو دیکھ کر تسلی حاصل کرلیتا، خوب یقین کے ساتھ دعا کی اور پھر سبق یاد کرنے بیٹھا، شام تک اسے سبق یاد ہوگیا۔
    استاد کو یقین تھا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اتنا سبق بچہ ایک دن میں یاد کرلے، بچے نے سبق سنانا شروع کیا اور پورا سبق سنادیا، استاد سمجھ گئے کہ اس بچے کا معاملہ کچھ اور ہے، اب استاد نے گھر جانے کی اجازت دی اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا، بچہ خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
    ہنستا کھیلتا جارہا ہے کہ میں یوں امی سے ملوں گا، آواز دوں گا، پھر چھپ جاؤ گا ، پھر امی سے لپٹ جاؤں گا، پھر امی مجھے کھانا کھلائیں گی، مجھے امی اپنے پاس سلائیں گی کہ کب سے امی کی خوشبو نہیں سونگھی، انہی خیالوں میں وہ معصوم بچہ گھر کی طرف رواں دواں ہے۔
    گھر پہنچا تو گھر کا دروازہ بند تھا ، آواز دی لیکن جواب نہیں ملا، پھر آواز دی تو اندر سے آواز آئی کہ کون ہے؟
    بچے نے باہر سے جواب دیا امی میں آپ کا بچہ بایزید ہوں، اندر سے جواب آیا کون بایزید، میرا بچہ بایزید تو گھر تب آئے گا جب وہ اللّٰہ کا ولی بن جائے گا، بس وہ بچہ وہیں کھڑے کھڑے روتا رہا۔
    وہ سمجھ گیا کے میری امی نہیں چاہتیں کہ میں ابھی ان سے ملوں۔ یوں روتے روتے وہ واپس چلا اور استاد کو سلام کیا، استاد نے پوچھا تم واپس کیسے آگئے خیریت تو ہے؟
    اب بچہ نے جواب دینے کے لیے جو اپنا چہرہ اوپر اٹھایا ، استاد نے دیکھا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ استاد نے بچہ کو گود میں لیا ، اپنے عمامہ کے پلو سے اس کے آنسو پونچھے ، گھر کا واقعہ سنایا۔
    استاد نے فرمایا یہ بات بتاؤ کہ تم اپنی امی سے ناراض ہوکر تو نہیں آئے؟
    بچے نے کہا میرا دل ٹوٹا بہت ہے ، میری آنکھیں بہت روئی ہیں لیکن اب میں کہتا ہوں کہ میں ہزار خوشامد کروں مجھے چھٹی نہ دیجئے گا اور میری درخواست ہے کہ مجھے ویسا بنا دیجیئے جیسا میری امی چاہتی ہیں اور یہ درخواست بھی ہے کہ دعا فرمادیجئے میری امی بیمار رہنے لگی ہیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، مجھے ڈر ہے کے کہیں ان کی زندگی کا چراغ گل نہ ہو جائے۔
    ان کی زندگی میں وہ برکت ہوکہ وہ مجھے وہ بنا ہوا دیکھ لیں جس کی وہ چاہت رکھتی ہیں اور اتنی قربانیاں دے رہی ہیں ، استاد نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں روزانہ ان کی صحت کے لیے دعا کرتا رہوں گا ۔
    پھر بچے کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوگیا، دل کے کانوں سے سنو کہ اگلے ١٦ سال تک یہ بچہ اپنی ماں کے پاس نہیں گیا، اس عرصہ میں بچہ نے چھٹی بھی نہیں مانگی ، پھر کیا ہوا۔
    تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ کی عمر جب تقریباً ٢٢ سال کی ہوگئی تو ایک مرتبہ خواب میں استاد کو بوقت تہجد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نوجوان بایزید تمہارے پاس زیر تربیت ہے اس کو ولایت کبریٰ کا جھنڈا دے دیا گیا، اللّٰہ کے ہاں فیصلہ ہوگیا کہ اس کے ذریعے دنیا میں دین کا کام ہوگا، جاؤ اسکو خوشخبری سنادو اور روانہ کردو۔
    استاد صاحب اٹھے ، تازہ وضو کیا، شاگرد کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا ہے، پیچھے بیٹھ گئے، جب بایزید نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ادھر آؤ، سینے سے لگایا اور فرمایا تمہاری ماں کی قربانی رنگ لائی ہے ، تمہارے باپ کی تمنا پوری ہوئی اور تمہارا مجاہدہ اللّٰہ کے ہاں قبول ہوگیا۔
    جاؤ اللّٰہ کے دین کی خدمت کرو، اپنا عمامہ اتار کر شاگرد کے سر پر باندھا، یوں استاد نے دعاؤں کے ساتھ روانہ کردیا۔
    وہی راستہ وہی گھر تھا، انہی گلیوں میں پھرتے ہوئے وہ گھر پہنچے، دیکھا کے دروازہ بند تھا ، آواز دی تو ماں دوڑتی ہوئی آئی اور بچے کو سینے سے لگایا ، وہ نوجوان مسنون لباس سے آراستہ تھا، ماں نے بلائیاں لیں۔
    بچہ ماں کے قدموں میں گرنے لگا تو ماں نے جلدی سے اٹھالیا اور اپنے کلیجے سے لگا لیا اور بستر پر بٹھایا کہ تھوڑی دیر میں تمہیں گرم گرم کھانا کھلاؤں گی۔
    پہلے اللّٰہ کا شکر تو ادا کرلوں، پرانا بوریا بچھایا اور ماں نے دو رکعت کی نیت باندھی۔ پھر دعا کی کہ اے اللّٰہ! مجھ بیوہ کا شکر قبول کرلیجئے، آپ نے میری دعا قبول کرلی، میرے مرحوم شوہر کی تمنا پوری کردی۔
    سلام ہو بایزید بسطامی پر اور سلام ہو ان کی جلیل القدر ماں پر، وہ عظیم بیوہ عورت کی عظمت و ہمت کو دیکھئے۔
    جب عورت کی تمنائیں درست ہوتی ہیں تو امت کو بایزید بسطامی ملا کرتے ہیں۔
    Twitter : @msudais0

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر : اسامہ خان

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو جلا دیا جاتا تھا اور زندہ دفن کر دیا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کا درجہ بتایا اور بتایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی اس کے گھر اللہ پاک کی طرف سے رحمت نازل ہوگی ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی وہ اپنے ساتھ رحمت اور رزق لے کر آئے گی اور جس کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو بیٹے کو کہا جائے گا کہ جاؤ اپنے والد کے ساتھ ہاتھ بھٹو۔ اسلام سے پہلے طلاق یافتہ عورتوں سے کوئی شادی کرنا پسند نہیں کرتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود مثال پیدا کرنے کے لیے طلاق یافتہ عورتوں سے بھی شادی کی اور دوسروں کو بھی ہدایت بھی کہ وہ بھی طلاق یافتہ عورتوں کے ساتھ ضرور شادی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا۔ جب اسلام آیا تو عورت اور مرد دونوں مسجدوں میں نماز پڑھا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب دیکھا گیا اب ہمیں اپنی عورتوں کو گھر تک محدود رکھنا چاہیے تو حکم دیا گیا اے عورتوں اپنی عبادات اپنے گھر میں بیٹھ کر کرو۔ تاکہ تمہیں کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ کہا گیا کہ اگر باہر نکلنا ہے تو اپنے جسم کو پوری طرح ڈھانپ کر نکلو تاکہ غیر محرم مرد کی نظر تمہارے جسم پر نہ پڑے۔ اور اس وقت کی عورتیں اس بات پر عمل بھی کرتی تھیں۔ لیکن افسوس صد افسوس ہم پتا نہیں کس دنیا میں جی رہے ہیں اور کس اسلام کی پیروی کر رہے ہیں اسلام تو عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اس کا ایک بال بھی غیر محرم کو نظر نہ آئے اور وہی اسلام مرد کو بھی حکم دیتا ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم کے پاس نہ جائے۔ بے شک مردوں نے اپنی آنکھوں کا حساب دینا ہے اور عورتوں نے اپنے کپڑوں کا حساب دینا ہے۔ آج عورتیں سب کام کر رہی ہے جو اسلام میں منع کیا گیا ہے اور جب اس کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں اسلام جیسا انصاف دیا جائے جب آپ اپنے لئے اسلام جیسا انصاف طلب کرتی ہیں تو کیوں نہ آپ اسلام پر عمل بھی کریں آج عورت ذات کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنا اور اپنی تصویریں وہاں لگانا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ میں اس بات کے خلاف نہیں ہو کہ عورت گھر سے باہر کیوں نکلتی ہے میں اس بات کے خلاف ہو کہ عورت وہ سب فحاش کپڑے کیوں پہنتی ہے جو اسلام میں منہ کیے گۓ ہیں۔ اسلام نے تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی لیکن ہائے افسوس صد افسوس ہماری آج کل کی لڑکیاں اس بات کو سمجھ ہی نہ پائی۔ آج اگر مرد ایسے فحاش کپڑے پہننا شروع کر دے تو یہی وہی عورتیں ہوں گی آزادی مارچ والی جنکی تنقید ہی ختم نہیں ہوگی اور اس وقت ان کو اسلام یاد آ جائے گا۔ آج یہ سب عورتیں کہتی ہیں کہ ہمیں پاکستان میں انصاف نہیں ملتا درحقیقت اصلیت یہ ہے کہ پاکستان میں عورت ذات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ہمارے کلچر میں بھی اور ہمارے قانون میں بھی اگر عورت ذات کسی چیز کی کمپلینٹ درج کرواتی ہے تو بے شک اس میں مرد کی غلطی ہو یا نہ ہو قانون عورت کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی خوش نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان کو تو فحاش کپڑے پہننے کی عادت ہو چکی ہے۔ جیسے ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے فرمایا کہ مرد کوئی رپورٹ نہیں ہے اگر آپ فحاش کپڑے پہنے گی تو اس کا ری ایکشن آئے گا۔ اور مجھے اس بات کا بھی بہت افسوس ہے کہ کچھ لڑکیاں اور کچھ لڑکے صرف پبلک سٹی کے لیے ایسی ایسی حرکات کر گزرتے ہیں جن کو دیکھ کر بھی شرم آتی ہے۔ اللہ پاک ہم مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی ہدایت دے کر سیدھے راستے پر چلائے اور نامحرم سے دور رہیں اس کو ہاتھ لگانے کی بات تو دور کی ہے۔ مسلمانوں آج بھی وقت ہے اسلام پر چلو اور اسلام کے بتائے گئے طریقوں پر تاکہ تم اسلام جیسا انصاف پاسکو
    Twitter : @usamajahnzaib

  • عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    18 اگست کو اچانک سے سوشل میڈیا پہ کچھ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں ٹک ٹاک سٹار عائشہ اکرم نے دعویٰ کیا کہ انھیں 400 مردوں کی جانب سے حراس کیا گیا۔ یہاں پاکستان کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی کیونکہ کچھ لوگوں یا یوں کہوں تو غلط نا ہوگا کہ نمک حراموں کی طرف سے اس واقعہ کا سارا ذمہ پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے یہ کہا گیا کہ یہ ملک عورتوں کے لیے محفوظ نہیں۔

    ایک معروف صحافی کی جانب سے جب یہ جملہ کہا گیا کہ خوش قسمت ہے وہ انسان کہ جسے اللّٰہ نے اس ملک میں بیٹی نہیں دی تو بہت افسوس ہوا۔ کیونکہ پاکستان نے تو ہمیشہ سب کو تحفظ دیا ہے۔ یہ ملک تو بنا ہی ہماری حفاظت کے لیے ہے۔

    پھر جنسی تشدد، حراسگی اور ایسے تمام واقعات کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ اس ملک میں پلنے والے وہ جانور اور وہ درندے ہیں جو عورت کو عورت سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ عورت کے لیے غیر محفوظ ملک بھارت ہے۔ جہاں ایسے واقعات عام سے عام تر ہیں۔ اب اسی سے اندازہ لگا لیں کہ ہم کتنے خودغرض اور ناشکرے ہیں جو اپنے ہی ملک کو بار بار کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔

    خیر مینار پاکستان والے واقع پر پہلے تو بہت سے لوگوں نے تشویش اور غصے کا اظہار کیا لیکن پھر جیسے جیسے حقیقت سے پردہ اٹھنے لگا تو ایسی چند تصویریں اور ویڈیوز منظرعام پر آئیں جس میں دیکھا گیا کہ کس طرح عائشہ اکرم خود انھیں غیر مردوں جن پر محترمہ نے حراسگی کا الزام لگایا چپک چپک کے سیلفیاں بنارہی تھی۔

    عوام کو یہ سمجھنے میں بالکل بھی وقت نہیں لگا کہ بی بی نے یہ سارا ڈرامہ رچایا تھا تو صرف اور صرف ایک سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے۔ کیونکہ اگر اس واقع کا حقیقت سے کوئی تعلق ہوتا تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب واقعہ 14 اگست کو ہوا تو محترمہ نے 4 دن کی خاموشی کیو سادھی؟ 4 دن بعد ہی کیوں یاد آیا کہ مجھے 400 لوگوں نے حراس کیا تھا؟ اسی وقت اپنے مجرموں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

    ایک طرف الزام تراشیاں جاری تھیں تو دوسری طرف راتوں رات عائشہ اکرم کے ٹک ٹاک پر تیس ہزار سے زائد فولوورز کا اضافہ بھی ہوا۔ یعنی وہ مقصد پورا ہوگیا جس کے لیے یہ سارے دو نمبر ڈرامے کا سہارا لیا گیا۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہارے معاشرے میں ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو صرف چند ہزار فولوورز بڑھانے کے لیے کچھ بھی کرجاتی ہیں۔

    پر ایک بات واضح کرتی چلوں کہ یہ قوم اپنی ہر اس ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ کھڑی ہے جو حقیقتاً ایسے واقعات کا شکار ہوتی ہیں۔ پھر عائشہ اکرم جیسی خواتین جو سستی شہرت کے لیے اپنے عورت ذات ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں ایسی عورتوں کو یہ قوم مسترد کرتی ہے۔

    کیونکہ یہی چند عورتیں عورت کے نام پر سیاہ داغ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • عورت کارڈ آخر کب تک تحریر: سیف الرحمان

    عورت کارڈ آخر کب تک تحریر: سیف الرحمان

    ’وجودِ زن سے تصویر کائنات میں رنگ‘
    کسی بھی معاشرے کے بنانے اور بگاڑنے میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہوا کرتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی خاتون معاشرے کی ترقی کا ستون ہوا کرتی ہے۔ اولاد کی تعلیم و تربیت مرد کی نسبت عورت کی ذمہ ذیادہ ہوتی ہے۔ ویسے تو عورت اور مرد دونوں کا پڑھا لکھا ہونا معاشرے کیلئے اہم ہے لیکن خواتین کی تعلیم کو فوقیت نا دینا آنے والی نسل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
    گزشتہ چند سالوں سے الٹی گنگا بہنا شروع ہو رہی ہے۔ ہمارے معاشرے کی کچھ خواتین جہاں باقی خواتین کیلئے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں وہاں وہ سوسائیٹی کے مردوں کیلئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق کی بات قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور طریقہ کار بھی دیا گیا ہے۔ لیکن چند لبرل خواتین عورت کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے نا صرف مردوں کو نہچا دیکھانے کی کوشش کر رہی ہیں وہیں وہ ملک کیلئے بھی بدنامی کا باعث بھی بن رہی ہیں۔
    خواتین کے ساتھ ذیادتی کو بحثیت قوم ہم سب کو مل کر ختم کرنا ہو گا لیکن چند مردوں کی جہالت کو ساری قوم کی سوچ بنا کر پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ انسانی حقوق کی ساری تنظیمیں صرف سلیکٹٹڈ عورتوں کیلئے ہی آواز کیوں اٹھاتی نظر آتی ہیں؟
    ہم سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق ایسے لوگوں کی آواز بن جاتے ہیں جن کو یا تو مشہوری چاہئے ہوتی ہے یا پھر انکا مقصد ملک کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ عورت کی ہلکی سی چیخ مرد کی ہنستی بستی زندگیاجار سکتی ہے۔ لیکن مرد کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ ہمیشہ مرد کو ہی قصوروار کیوں سمجھا جاتا ہے؟
    پاکستانی معاشرے میں خواتین کا ایک مقام ہے۔ یہی عزت و احترام کی روایات ہمیں باقی معاشروں سے جدا کرتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ہمارا قانون عین اسلامی ہے۔ اسی لئے ہمارا آئین اور قانون بھی عورت کو پروٹکشن دیتا نظر آتا ہے۔
    خدا راہ ایک مرد کو لے کر سارے ملک کے مردوں کو بدنام مت کیا کریں۔ ایک عورت کیساتھ ظلم کو لے کر سارے ملک کی خواتین کو مظلموم بنا کر مت پیش کیا کریں۔ ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ لبرل لوگوں کی باتوں میں آ کر کسی ایک کیس کو انساتی حقوق کا مسئلہ بنا کر نہیں پیش کرنا چاہئے۔
    اپنی بیٹیوں/بہنوں کو ٹک ٹاک سٹار کی بجائے دینی اور دنیاوی تعلیم کا دیں ۔ انکی بچپن سے ہی اخلاقی تربیت سیکھائی جائے۔ اپنی تہذیب و ثقافت سے آشنا کیا جائے۔ جب ایسی تربیت والی بیٹی/بہن معاشرے میں آئے گی تو اسے عورت کارڈ کا سہارہ نہیں لینا پڑے گا۔
    عورت کو سماج میں ہر طرح کی آزادی ملنی چاہیے مگر وہ آزادی ایسی نہ ہو کہ جس سے اپنی تہذیب اور اخلاق میں گراوٹ آجائے۔ مغربی تہذیب کے زیرِ اثر عورت معاشرے میں جو مقام تلاش کررہی ہے وہ مشرقی تہذیب کے منافی ہے۔ اور اس سے صرف بربادی وجود میں آتی ہے۔
    قرآن کا ارشاد ہے ’’وہ (عورت) تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘ قرآن کی یہ آیت سمندر کو کوزے میں بند کرتی ہے- اس کا تجزیہ کرنے سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ عورت کی عفت و پاکبازی اور مرد کی پاکیزگی اور پاک دامنی ایک دوسرے پر منحصر ہے- علاوہ ازیں مرد و زن معاشرتی اور تمدنی زندگی کے اغراض و مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے محتاج ہیں-
    لہذا عورت کارڈ کھیل کر مردوں کو بدنام کرنے کا طریقہ واردات بند کیا جانا چاہئے۔ اگر کسی عورت کیساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو وہ متعلقہ اداروں سے رجوع کرے اگر وہاں سے انصاف نا ملے تو پھر سوشل میڈیا پلیٹ فام استعمال کرے۔

    @saif__says

  • خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    جنسی جرائم انگریزی میں( sex crime) سے مراد وہ جرائم جو جنسی نوعیت کے حامل ہوں. ان میں خواتین پر کئے جانے والے جنسی معاملات ہیں لیکن یہ معاملات صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ ان میں بچوں کے ساتھ جنسی معاملات بھی شامل ہیں اور کچھ معاملات میں مرد بھی شامل ہو سکتے ہیں. اسلام نے عورت کو بہت عزت دی اور تحفظ بخشا دنیا کے بہت سے ممالک میں خواتین اس جنسی استحصال کا شکار ہیں. اگرچہ بہت ترقی یافتہ ممالک میں اس فعل کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے مگر بعض ممالک میں اس قابلِ سزا جرم کو تسلیم نہیں کیا گیا جیسا کہ ملکِ پاکستان میں جنسی زیادتی کو جرائم قرار دینے کے حوالے سے پاکستان کا حکمران اب تک خاموش ہے جنسی جرائم کا قانون موجود ہے.پر مجرموں کو گرفتاری کے بعد سزائیں نہیں دی جاتیں. مجرم بچ جاتے ہیں. اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی جنسی استحصال کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا تو پھر ایک خاتون کی ترجمانی کیسے ہو پائے گی .اسکی عزت کا تحفظ کیسے رکھا جائے گا. پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اس مسئلے کو جرم قرار دے پائے . اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے 2018 میں قصور کے شہر 12 سالہ بچی کو اغوا کر کے ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا. مگر مجرم 24 دنوں بعد پکڑا گیا.اس پر حکومت نے کچھ خاص ایکشن نہیں لیا.قانونی معاملات مہنگے اور سست ہیں اس وجہ سے بھی بچوں اور عورتوں کے ورثا پیچھے ہٹ جاتے ہیں.جنسی زیادتی میں عورتوں اور بچوں شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے . اندازہ اس بات سے بھی لگایا جائے 2021 میں ماہ جولائی میں بچی کے ساتھ ریپ کر کر اسکو قتل کر دیا گیا اب تک اسکا مجرم گرفتار نہیں ہو پایا. ہمارے نا اہل حکمران کچھ ہوش کے ناخن لے اور قانون پر عمل پیرا ہو کر اس جنسی استحصال کا خاتمہ کیا جائے جب تک ایک ریاست ہر فرد کی ذمہ داری نہیں لے لیتی تب تک عورت گھر میں ہو یا گھر سے باہر اسطرح بے حرمتی کا شکار ہوتی رہے گی ذرا سوچیے کہ جنسی جرائم عورتوں اور بچوں تک ہی محدود کیوں ہیں ؟ کیونکہ ہمارا معاشرہ عورتوں اور بچوں کو کمزور سمجھتا ہے اور وہ یونہی آسان ہدف بن جاتے ہی. اور اسی طرح جنسی جرائم کو فروغ ملتا رہے گا. ایک اچھے معاشرے کے خاندانی نظام کو تباہ کر رہی ہے
    ایک رپوٹ کے مطابق یومیہ 12 بچے ریپ کا شکار ہوتے ہیں .کیا ہمارا ملکِ پاکستان جسکو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے اس میں مسلمانوں کی توہین ہوتی رہی گی
    قانون ہوتے ہوئے بھی اسکا استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا. ؟کیا ہم ایک اسلامی ریاست میں رہ رہیں ہیں ؟کیا اِسکو اسلامی ریاست کا نام دیں گے ؟ جس میں عورت کی عزت کو پامال کر دیا جاتا ہے جسکو اسلام نے اتنی عزت سے نوازا اسکی چند لمحوں میں بے حرمتی کر دی جاتی ہے بلکہ اسکو اسلامی ریاست کہنا ایک شرمندگی کا باعث ہے
    اس ملک کو اسلامی ریاست میں ہی ڈھالا جائے جس کی بنیادیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہیں۔

    @Zeeshan_9263