Baaghi TV

Category: خواتین

  • ایک برگزیدہ خاتون کی داستان تحریر:محمد سدیس خان

    حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ بلندی کے اس مقام تک کیسے پہنچے ، آپ کے والد کا آپ کے بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا، آپ کی والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنا اور اپنے یتیم بچے کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ جب یہ بڑے ہونے لگے تو ماں ڈرگئ کہ اب میرا بچہ بڑا ہورہا ہے، گلیوں میں کھیل رہا ہے کہیں یہ غلط لڑکوں کے ساتھ بگڑ نہ جائے۔
    لوگوں سے مشورہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا مدرسہ ہے وہاں ایک بڑے شیخ ہیں وہاں جو بچے پڑھتے ہیں، وہ اللّٰہ کے ولی بن جاتے ہیں، ہمارا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے بچے کو وہاں داخل کرادو، بیوہ ماں اپنے یتیم بچے کو لیکر اس مدرسہ میں پہنچی ، وہاں کے شیخ سے ملاقات کی ، تعارف کرایا کہ حضرت میں ایک غریب بیوہ عورت ہوں، محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرتی ہوں۔
    اس یتیم بچے کو ساتھ لائی ہوں، یہ گلیوں میں کھیلنے لگا، مجھے ڈر ہے کہ یہ کہیں بگڑ نہ جائے، میری تمنا یہ ہے اور میرے مرحوم شوہر کی بھی یہی تمنا تھی کہ میرا بچہ عالم ربانی بنے، دین کا خادم بنے اور اسلام کا جھنڈا دنیا میں پھیلائے، آپ اس بچے کو اپنے پاس رکھ لیجئے اور اس کو ایسا عالم بنا دیجیئے کہ یہ نائب رسول بن جائے اور اللّٰہ کو پسند آجاے۔
    وہ بزرگ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ تم اس بچے کو چھوڑ جاؤ، میں جو کچھ کرسکا وہ کروں گا۔ مگر یہی نہیں جاتے جاتے اس اللّٰہ کی بندی نے ایک درخواست اور کی کہ حضرت! یہ بچہ پہلی مرتبہ گھر سے نکل رہا ہے، اس کو میری یاد بھی بہت آئے گی ، مجھے یاد کرکے روئے گا ، گھر آنے کی اجازت مانگے گا مگر مگر یہ گھر آئے گا تو اس کا دھیان بٹ جائے گا اور یہ وہ نہیں بن پائے گا جو میں اسے بنانا چاہتی ہوں، اس لیے اس کو میرے پاس تب ہی بھیجئے گا جب یہ عالم بن جائے۔
    وہ بزرگ حیران رہ گئے کہ اس بیوہ عورت کی کیا ہمت اور کیا تمنائیں ہیں، بزرگ فرمانے لگے جاؤ دعاؤں سے میری مدد کرنا، مجھ سے جو کچھ ہوسکے گا وہ میں کروں گا۔
    وہ بیوہ ماں بچے کو چھوڑ کر چلی گئیں، بچے کی تعلیم وترتیب کا سلسلہ شروع ہوگیا ، بچے نے کچھ کچھ مہینوں تک صبر سے کام لیا۔
    بالآخر بچے نے آکر استاد سے کہا کہ مجھے اپنی امی کی بہت یاد آرہی ہے، مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیجئے ، میں گھر چلا جاؤں۔
    اب استاد بہت پریشان کہ چھٹی دیتے ہیں تو اس کی والدہ سے کیا ہوا وعدہ ٹوٹتا ہے اور اگر چھٹی نہیں دیتے تو اس معصوم بچے کا دل ٹوٹتا ہے، اللّٰہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ اللّٰہ اس مسئلہ کا حل فرما دیں۔
    اللّٰہ نے مدد فرمائی، دل میں ایک ترکیب آگئ اور فرمایا کہ میں تمہیں سبق دیتا ہوں، جب تم اسے یاد کرکے شام تک سنادوگے تو میں تمہیں چھٹی دیدوں گا۔ بچہ خوش ہوگیا، استاد نے سبق دیا اور جان بوجھ کر اتنا دیا کہ کہ وہ شام تک یاد ہی نہ ہوسکے۔
    جب بچے نے سبق کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ سبق تو شام تک یاد نہیں ہوسکے گا۔
    اب بچہ حیران کہ میں کیا کروں، دوبارہ استاد کے پاس جاکر سبق کم کرنے کی درخواست کروں تو یہ استاد کی بے ادبی ہو جائے گی۔ اب ماں کو ملنے کو بھی بہت جی چاہ رہا ہے، استاد صاحب تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں رات کو تکیہ پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں حالانکہ میں کافی دیر تک منہ چھپائے روتا رہتا ہوں۔
    ایک ترکیب ذہن میں آئی ، اس نے کتاب کو ادب کے ساتھ رحل پر رکھا اور اللّٰہ سے دعا کرنی شروع کی کہ یا اللّٰہ! میں نے یہی سنا ہے کہ آپ ہی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کی قدرت سب سے زیادہ ہے اے اللّٰہ ! آج مجھ یتیم بچے کی دعا قبول کرکے اپنی قدرت کو استعمال کردیجیۓ۔
    آج شام تک یہ سبق یاد کروا دیجئے ، اے اللّٰہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی امی کی یاد میں کتنا تڑپ رہا ہوں، اے اللّٰہ! میرے ٹوٹے دل کو سکون دیجئیے۔
    میرے ابو زندہ ہوتے تو وہ آجاتے، میں ان کو دیکھ کر تسلی حاصل کرلیتا، خوب یقین کے ساتھ دعا کی اور پھر سبق یاد کرنے بیٹھا، شام تک اسے سبق یاد ہوگیا۔
    استاد کو یقین تھا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اتنا سبق بچہ ایک دن میں یاد کرلے، بچے نے سبق سنانا شروع کیا اور پورا سبق سنادیا، استاد سمجھ گئے کہ اس بچے کا معاملہ کچھ اور ہے، اب استاد نے گھر جانے کی اجازت دی اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا، بچہ خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
    ہنستا کھیلتا جارہا ہے کہ میں یوں امی سے ملوں گا، آواز دوں گا، پھر چھپ جاؤ گا ، پھر امی سے لپٹ جاؤں گا، پھر امی مجھے کھانا کھلائیں گی، مجھے امی اپنے پاس سلائیں گی کہ کب سے امی کی خوشبو نہیں سونگھی، انہی خیالوں میں وہ معصوم بچہ گھر کی طرف رواں دواں ہے۔
    گھر پہنچا تو گھر کا دروازہ بند تھا ، آواز دی لیکن جواب نہیں ملا، پھر آواز دی تو اندر سے آواز آئی کہ کون ہے؟
    بچے نے باہر سے جواب دیا امی میں آپ کا بچہ بایزید ہوں، اندر سے جواب آیا کون بایزید، میرا بچہ بایزید تو گھر تب آئے گا جب وہ اللّٰہ کا ولی بن جائے گا، بس وہ بچہ وہیں کھڑے کھڑے روتا رہا۔
    وہ سمجھ گیا کے میری امی نہیں چاہتیں کہ میں ابھی ان سے ملوں۔ یوں روتے روتے وہ واپس چلا اور استاد کو سلام کیا، استاد نے پوچھا تم واپس کیسے آگئے خیریت تو ہے؟
    اب بچہ نے جواب دینے کے لیے جو اپنا چہرہ اوپر اٹھایا ، استاد نے دیکھا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ استاد نے بچہ کو گود میں لیا ، اپنے عمامہ کے پلو سے اس کے آنسو پونچھے ، گھر کا واقعہ سنایا۔
    استاد نے فرمایا یہ بات بتاؤ کہ تم اپنی امی سے ناراض ہوکر تو نہیں آئے؟
    بچے نے کہا میرا دل ٹوٹا بہت ہے ، میری آنکھیں بہت روئی ہیں لیکن اب میں کہتا ہوں کہ میں ہزار خوشامد کروں مجھے چھٹی نہ دیجئے گا اور میری درخواست ہے کہ مجھے ویسا بنا دیجیئے جیسا میری امی چاہتی ہیں اور یہ درخواست بھی ہے کہ دعا فرمادیجئے میری امی بیمار رہنے لگی ہیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، مجھے ڈر ہے کے کہیں ان کی زندگی کا چراغ گل نہ ہو جائے۔
    ان کی زندگی میں وہ برکت ہوکہ وہ مجھے وہ بنا ہوا دیکھ لیں جس کی وہ چاہت رکھتی ہیں اور اتنی قربانیاں دے رہی ہیں ، استاد نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں روزانہ ان کی صحت کے لیے دعا کرتا رہوں گا ۔
    پھر بچے کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوگیا، دل کے کانوں سے سنو کہ اگلے ١٦ سال تک یہ بچہ اپنی ماں کے پاس نہیں گیا، اس عرصہ میں بچہ نے چھٹی بھی نہیں مانگی ، پھر کیا ہوا۔
    تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ کی عمر جب تقریباً ٢٢ سال کی ہوگئی تو ایک مرتبہ خواب میں استاد کو بوقت تہجد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نوجوان بایزید تمہارے پاس زیر تربیت ہے اس کو ولایت کبریٰ کا جھنڈا دے دیا گیا، اللّٰہ کے ہاں فیصلہ ہوگیا کہ اس کے ذریعے دنیا میں دین کا کام ہوگا، جاؤ اسکو خوشخبری سنادو اور روانہ کردو۔
    استاد صاحب اٹھے ، تازہ وضو کیا، شاگرد کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا ہے، پیچھے بیٹھ گئے، جب بایزید نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ادھر آؤ، سینے سے لگایا اور فرمایا تمہاری ماں کی قربانی رنگ لائی ہے ، تمہارے باپ کی تمنا پوری ہوئی اور تمہارا مجاہدہ اللّٰہ کے ہاں قبول ہوگیا۔
    جاؤ اللّٰہ کے دین کی خدمت کرو، اپنا عمامہ اتار کر شاگرد کے سر پر باندھا، یوں استاد نے دعاؤں کے ساتھ روانہ کردیا۔
    وہی راستہ وہی گھر تھا، انہی گلیوں میں پھرتے ہوئے وہ گھر پہنچے، دیکھا کے دروازہ بند تھا ، آواز دی تو ماں دوڑتی ہوئی آئی اور بچے کو سینے سے لگایا ، وہ نوجوان مسنون لباس سے آراستہ تھا، ماں نے بلائیاں لیں۔
    بچہ ماں کے قدموں میں گرنے لگا تو ماں نے جلدی سے اٹھالیا اور اپنے کلیجے سے لگا لیا اور بستر پر بٹھایا کہ تھوڑی دیر میں تمہیں گرم گرم کھانا کھلاؤں گی۔
    پہلے اللّٰہ کا شکر تو ادا کرلوں، پرانا بوریا بچھایا اور ماں نے دو رکعت کی نیت باندھی۔ پھر دعا کی کہ اے اللّٰہ! مجھ بیوہ کا شکر قبول کرلیجئے، آپ نے میری دعا قبول کرلی، میرے مرحوم شوہر کی تمنا پوری کردی۔
    سلام ہو بایزید بسطامی پر اور سلام ہو ان کی جلیل القدر ماں پر، وہ عظیم بیوہ عورت کی عظمت و ہمت کو دیکھئے۔
    جب عورت کی تمنائیں درست ہوتی ہیں تو امت کو بایزید بسطامی ملا کرتے ہیں۔
    Twitter : @msudais0

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر : اسامہ خان

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو جلا دیا جاتا تھا اور زندہ دفن کر دیا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کا درجہ بتایا اور بتایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی اس کے گھر اللہ پاک کی طرف سے رحمت نازل ہوگی ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی وہ اپنے ساتھ رحمت اور رزق لے کر آئے گی اور جس کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو بیٹے کو کہا جائے گا کہ جاؤ اپنے والد کے ساتھ ہاتھ بھٹو۔ اسلام سے پہلے طلاق یافتہ عورتوں سے کوئی شادی کرنا پسند نہیں کرتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود مثال پیدا کرنے کے لیے طلاق یافتہ عورتوں سے بھی شادی کی اور دوسروں کو بھی ہدایت بھی کہ وہ بھی طلاق یافتہ عورتوں کے ساتھ ضرور شادی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا۔ جب اسلام آیا تو عورت اور مرد دونوں مسجدوں میں نماز پڑھا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب دیکھا گیا اب ہمیں اپنی عورتوں کو گھر تک محدود رکھنا چاہیے تو حکم دیا گیا اے عورتوں اپنی عبادات اپنے گھر میں بیٹھ کر کرو۔ تاکہ تمہیں کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ کہا گیا کہ اگر باہر نکلنا ہے تو اپنے جسم کو پوری طرح ڈھانپ کر نکلو تاکہ غیر محرم مرد کی نظر تمہارے جسم پر نہ پڑے۔ اور اس وقت کی عورتیں اس بات پر عمل بھی کرتی تھیں۔ لیکن افسوس صد افسوس ہم پتا نہیں کس دنیا میں جی رہے ہیں اور کس اسلام کی پیروی کر رہے ہیں اسلام تو عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اس کا ایک بال بھی غیر محرم کو نظر نہ آئے اور وہی اسلام مرد کو بھی حکم دیتا ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم کے پاس نہ جائے۔ بے شک مردوں نے اپنی آنکھوں کا حساب دینا ہے اور عورتوں نے اپنے کپڑوں کا حساب دینا ہے۔ آج عورتیں سب کام کر رہی ہے جو اسلام میں منع کیا گیا ہے اور جب اس کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں اسلام جیسا انصاف دیا جائے جب آپ اپنے لئے اسلام جیسا انصاف طلب کرتی ہیں تو کیوں نہ آپ اسلام پر عمل بھی کریں آج عورت ذات کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنا اور اپنی تصویریں وہاں لگانا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ میں اس بات کے خلاف نہیں ہو کہ عورت گھر سے باہر کیوں نکلتی ہے میں اس بات کے خلاف ہو کہ عورت وہ سب فحاش کپڑے کیوں پہنتی ہے جو اسلام میں منہ کیے گۓ ہیں۔ اسلام نے تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی لیکن ہائے افسوس صد افسوس ہماری آج کل کی لڑکیاں اس بات کو سمجھ ہی نہ پائی۔ آج اگر مرد ایسے فحاش کپڑے پہننا شروع کر دے تو یہی وہی عورتیں ہوں گی آزادی مارچ والی جنکی تنقید ہی ختم نہیں ہوگی اور اس وقت ان کو اسلام یاد آ جائے گا۔ آج یہ سب عورتیں کہتی ہیں کہ ہمیں پاکستان میں انصاف نہیں ملتا درحقیقت اصلیت یہ ہے کہ پاکستان میں عورت ذات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ہمارے کلچر میں بھی اور ہمارے قانون میں بھی اگر عورت ذات کسی چیز کی کمپلینٹ درج کرواتی ہے تو بے شک اس میں مرد کی غلطی ہو یا نہ ہو قانون عورت کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی خوش نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان کو تو فحاش کپڑے پہننے کی عادت ہو چکی ہے۔ جیسے ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے فرمایا کہ مرد کوئی رپورٹ نہیں ہے اگر آپ فحاش کپڑے پہنے گی تو اس کا ری ایکشن آئے گا۔ اور مجھے اس بات کا بھی بہت افسوس ہے کہ کچھ لڑکیاں اور کچھ لڑکے صرف پبلک سٹی کے لیے ایسی ایسی حرکات کر گزرتے ہیں جن کو دیکھ کر بھی شرم آتی ہے۔ اللہ پاک ہم مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی ہدایت دے کر سیدھے راستے پر چلائے اور نامحرم سے دور رہیں اس کو ہاتھ لگانے کی بات تو دور کی ہے۔ مسلمانوں آج بھی وقت ہے اسلام پر چلو اور اسلام کے بتائے گئے طریقوں پر تاکہ تم اسلام جیسا انصاف پاسکو
    Twitter : @usamajahnzaib

  • عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    18 اگست کو اچانک سے سوشل میڈیا پہ کچھ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں ٹک ٹاک سٹار عائشہ اکرم نے دعویٰ کیا کہ انھیں 400 مردوں کی جانب سے حراس کیا گیا۔ یہاں پاکستان کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی کیونکہ کچھ لوگوں یا یوں کہوں تو غلط نا ہوگا کہ نمک حراموں کی طرف سے اس واقعہ کا سارا ذمہ پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے یہ کہا گیا کہ یہ ملک عورتوں کے لیے محفوظ نہیں۔

    ایک معروف صحافی کی جانب سے جب یہ جملہ کہا گیا کہ خوش قسمت ہے وہ انسان کہ جسے اللّٰہ نے اس ملک میں بیٹی نہیں دی تو بہت افسوس ہوا۔ کیونکہ پاکستان نے تو ہمیشہ سب کو تحفظ دیا ہے۔ یہ ملک تو بنا ہی ہماری حفاظت کے لیے ہے۔

    پھر جنسی تشدد، حراسگی اور ایسے تمام واقعات کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ اس ملک میں پلنے والے وہ جانور اور وہ درندے ہیں جو عورت کو عورت سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ عورت کے لیے غیر محفوظ ملک بھارت ہے۔ جہاں ایسے واقعات عام سے عام تر ہیں۔ اب اسی سے اندازہ لگا لیں کہ ہم کتنے خودغرض اور ناشکرے ہیں جو اپنے ہی ملک کو بار بار کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔

    خیر مینار پاکستان والے واقع پر پہلے تو بہت سے لوگوں نے تشویش اور غصے کا اظہار کیا لیکن پھر جیسے جیسے حقیقت سے پردہ اٹھنے لگا تو ایسی چند تصویریں اور ویڈیوز منظرعام پر آئیں جس میں دیکھا گیا کہ کس طرح عائشہ اکرم خود انھیں غیر مردوں جن پر محترمہ نے حراسگی کا الزام لگایا چپک چپک کے سیلفیاں بنارہی تھی۔

    عوام کو یہ سمجھنے میں بالکل بھی وقت نہیں لگا کہ بی بی نے یہ سارا ڈرامہ رچایا تھا تو صرف اور صرف ایک سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے۔ کیونکہ اگر اس واقع کا حقیقت سے کوئی تعلق ہوتا تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب واقعہ 14 اگست کو ہوا تو محترمہ نے 4 دن کی خاموشی کیو سادھی؟ 4 دن بعد ہی کیوں یاد آیا کہ مجھے 400 لوگوں نے حراس کیا تھا؟ اسی وقت اپنے مجرموں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

    ایک طرف الزام تراشیاں جاری تھیں تو دوسری طرف راتوں رات عائشہ اکرم کے ٹک ٹاک پر تیس ہزار سے زائد فولوورز کا اضافہ بھی ہوا۔ یعنی وہ مقصد پورا ہوگیا جس کے لیے یہ سارے دو نمبر ڈرامے کا سہارا لیا گیا۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہارے معاشرے میں ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو صرف چند ہزار فولوورز بڑھانے کے لیے کچھ بھی کرجاتی ہیں۔

    پر ایک بات واضح کرتی چلوں کہ یہ قوم اپنی ہر اس ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ کھڑی ہے جو حقیقتاً ایسے واقعات کا شکار ہوتی ہیں۔ پھر عائشہ اکرم جیسی خواتین جو سستی شہرت کے لیے اپنے عورت ذات ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں ایسی عورتوں کو یہ قوم مسترد کرتی ہے۔

    کیونکہ یہی چند عورتیں عورت کے نام پر سیاہ داغ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • عورت کارڈ آخر کب تک تحریر: سیف الرحمان

    عورت کارڈ آخر کب تک تحریر: سیف الرحمان

    ’وجودِ زن سے تصویر کائنات میں رنگ‘
    کسی بھی معاشرے کے بنانے اور بگاڑنے میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہوا کرتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی خاتون معاشرے کی ترقی کا ستون ہوا کرتی ہے۔ اولاد کی تعلیم و تربیت مرد کی نسبت عورت کی ذمہ ذیادہ ہوتی ہے۔ ویسے تو عورت اور مرد دونوں کا پڑھا لکھا ہونا معاشرے کیلئے اہم ہے لیکن خواتین کی تعلیم کو فوقیت نا دینا آنے والی نسل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
    گزشتہ چند سالوں سے الٹی گنگا بہنا شروع ہو رہی ہے۔ ہمارے معاشرے کی کچھ خواتین جہاں باقی خواتین کیلئے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں وہاں وہ سوسائیٹی کے مردوں کیلئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق کی بات قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور طریقہ کار بھی دیا گیا ہے۔ لیکن چند لبرل خواتین عورت کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے نا صرف مردوں کو نہچا دیکھانے کی کوشش کر رہی ہیں وہیں وہ ملک کیلئے بھی بدنامی کا باعث بھی بن رہی ہیں۔
    خواتین کے ساتھ ذیادتی کو بحثیت قوم ہم سب کو مل کر ختم کرنا ہو گا لیکن چند مردوں کی جہالت کو ساری قوم کی سوچ بنا کر پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ انسانی حقوق کی ساری تنظیمیں صرف سلیکٹٹڈ عورتوں کیلئے ہی آواز کیوں اٹھاتی نظر آتی ہیں؟
    ہم سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق ایسے لوگوں کی آواز بن جاتے ہیں جن کو یا تو مشہوری چاہئے ہوتی ہے یا پھر انکا مقصد ملک کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ عورت کی ہلکی سی چیخ مرد کی ہنستی بستی زندگیاجار سکتی ہے۔ لیکن مرد کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ ہمیشہ مرد کو ہی قصوروار کیوں سمجھا جاتا ہے؟
    پاکستانی معاشرے میں خواتین کا ایک مقام ہے۔ یہی عزت و احترام کی روایات ہمیں باقی معاشروں سے جدا کرتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ہمارا قانون عین اسلامی ہے۔ اسی لئے ہمارا آئین اور قانون بھی عورت کو پروٹکشن دیتا نظر آتا ہے۔
    خدا راہ ایک مرد کو لے کر سارے ملک کے مردوں کو بدنام مت کیا کریں۔ ایک عورت کیساتھ ظلم کو لے کر سارے ملک کی خواتین کو مظلموم بنا کر مت پیش کیا کریں۔ ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ لبرل لوگوں کی باتوں میں آ کر کسی ایک کیس کو انساتی حقوق کا مسئلہ بنا کر نہیں پیش کرنا چاہئے۔
    اپنی بیٹیوں/بہنوں کو ٹک ٹاک سٹار کی بجائے دینی اور دنیاوی تعلیم کا دیں ۔ انکی بچپن سے ہی اخلاقی تربیت سیکھائی جائے۔ اپنی تہذیب و ثقافت سے آشنا کیا جائے۔ جب ایسی تربیت والی بیٹی/بہن معاشرے میں آئے گی تو اسے عورت کارڈ کا سہارہ نہیں لینا پڑے گا۔
    عورت کو سماج میں ہر طرح کی آزادی ملنی چاہیے مگر وہ آزادی ایسی نہ ہو کہ جس سے اپنی تہذیب اور اخلاق میں گراوٹ آجائے۔ مغربی تہذیب کے زیرِ اثر عورت معاشرے میں جو مقام تلاش کررہی ہے وہ مشرقی تہذیب کے منافی ہے۔ اور اس سے صرف بربادی وجود میں آتی ہے۔
    قرآن کا ارشاد ہے ’’وہ (عورت) تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘ قرآن کی یہ آیت سمندر کو کوزے میں بند کرتی ہے- اس کا تجزیہ کرنے سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ عورت کی عفت و پاکبازی اور مرد کی پاکیزگی اور پاک دامنی ایک دوسرے پر منحصر ہے- علاوہ ازیں مرد و زن معاشرتی اور تمدنی زندگی کے اغراض و مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے محتاج ہیں-
    لہذا عورت کارڈ کھیل کر مردوں کو بدنام کرنے کا طریقہ واردات بند کیا جانا چاہئے۔ اگر کسی عورت کیساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو وہ متعلقہ اداروں سے رجوع کرے اگر وہاں سے انصاف نا ملے تو پھر سوشل میڈیا پلیٹ فام استعمال کرے۔

    @saif__says

  • خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    جنسی جرائم انگریزی میں( sex crime) سے مراد وہ جرائم جو جنسی نوعیت کے حامل ہوں. ان میں خواتین پر کئے جانے والے جنسی معاملات ہیں لیکن یہ معاملات صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ ان میں بچوں کے ساتھ جنسی معاملات بھی شامل ہیں اور کچھ معاملات میں مرد بھی شامل ہو سکتے ہیں. اسلام نے عورت کو بہت عزت دی اور تحفظ بخشا دنیا کے بہت سے ممالک میں خواتین اس جنسی استحصال کا شکار ہیں. اگرچہ بہت ترقی یافتہ ممالک میں اس فعل کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے مگر بعض ممالک میں اس قابلِ سزا جرم کو تسلیم نہیں کیا گیا جیسا کہ ملکِ پاکستان میں جنسی زیادتی کو جرائم قرار دینے کے حوالے سے پاکستان کا حکمران اب تک خاموش ہے جنسی جرائم کا قانون موجود ہے.پر مجرموں کو گرفتاری کے بعد سزائیں نہیں دی جاتیں. مجرم بچ جاتے ہیں. اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی جنسی استحصال کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا تو پھر ایک خاتون کی ترجمانی کیسے ہو پائے گی .اسکی عزت کا تحفظ کیسے رکھا جائے گا. پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اس مسئلے کو جرم قرار دے پائے . اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے 2018 میں قصور کے شہر 12 سالہ بچی کو اغوا کر کے ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا. مگر مجرم 24 دنوں بعد پکڑا گیا.اس پر حکومت نے کچھ خاص ایکشن نہیں لیا.قانونی معاملات مہنگے اور سست ہیں اس وجہ سے بھی بچوں اور عورتوں کے ورثا پیچھے ہٹ جاتے ہیں.جنسی زیادتی میں عورتوں اور بچوں شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے . اندازہ اس بات سے بھی لگایا جائے 2021 میں ماہ جولائی میں بچی کے ساتھ ریپ کر کر اسکو قتل کر دیا گیا اب تک اسکا مجرم گرفتار نہیں ہو پایا. ہمارے نا اہل حکمران کچھ ہوش کے ناخن لے اور قانون پر عمل پیرا ہو کر اس جنسی استحصال کا خاتمہ کیا جائے جب تک ایک ریاست ہر فرد کی ذمہ داری نہیں لے لیتی تب تک عورت گھر میں ہو یا گھر سے باہر اسطرح بے حرمتی کا شکار ہوتی رہے گی ذرا سوچیے کہ جنسی جرائم عورتوں اور بچوں تک ہی محدود کیوں ہیں ؟ کیونکہ ہمارا معاشرہ عورتوں اور بچوں کو کمزور سمجھتا ہے اور وہ یونہی آسان ہدف بن جاتے ہی. اور اسی طرح جنسی جرائم کو فروغ ملتا رہے گا. ایک اچھے معاشرے کے خاندانی نظام کو تباہ کر رہی ہے
    ایک رپوٹ کے مطابق یومیہ 12 بچے ریپ کا شکار ہوتے ہیں .کیا ہمارا ملکِ پاکستان جسکو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے اس میں مسلمانوں کی توہین ہوتی رہی گی
    قانون ہوتے ہوئے بھی اسکا استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا. ؟کیا ہم ایک اسلامی ریاست میں رہ رہیں ہیں ؟کیا اِسکو اسلامی ریاست کا نام دیں گے ؟ جس میں عورت کی عزت کو پامال کر دیا جاتا ہے جسکو اسلام نے اتنی عزت سے نوازا اسکی چند لمحوں میں بے حرمتی کر دی جاتی ہے بلکہ اسکو اسلامی ریاست کہنا ایک شرمندگی کا باعث ہے
    اس ملک کو اسلامی ریاست میں ہی ڈھالا جائے جس کی بنیادیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہیں۔

    @Zeeshan_9263

  • "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں عورت راز نہیں رکھ سکتی بلکہ اس پر لطیفے بنے ہوئے ہیں کہ کوئی بات پورے محلے میں پھیلانی ہوتو کسی عورت کو وہ بات بتا دو آپ کو اعلان کروانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور بعض اوقات ہم خود بھی ان لطیفوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ عورت "سربستہ” راز ہوتی ہے اگر ماں ہے تو اپنے بچوں کے عیب لوگوں سے ایسے چھپا کر رکھتی ہے جیسے اس کے اپنے عیب ہوں کہ لوگ یہ عیب جاننے کے بعد آپکو عجیب نظروں سے دیکھیں گے اپنے بچوں کی کامیابیاں خوشیاں ہر بندے سے شئیر کرے گی لیکن کبھی اپنی اولاد کا

    "ویک پوائنٹ "کسی کو نہیں پتہ چلنے دے گی حتی کہ اگر بچہ کسی بات پر نافرمانی بھی کرے گا تو بھی اس کو اپنے اور بچے کے درمیان رکھے گی ۔۔اور اسی طرح ایک بہین اپنے بھائی کا کوئی راز کبھی مرکر بھی کسی اور کو نہیں بتایے گی چاہے کوئی اس کی کتنی قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو ۔۔بھائی اپنی بہنوں سے اپنے دل کی ہر بات شئیر کرکے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں انھیں اپنی بہین پر یقین ہوتا ہے یہ راز بہین اپنے تک محدود رکھے گی ۔۔۔!!!

    ایسی طرح بیوی اپنے شوہر کے ہر راز کی آمین ہوتی ہے اس کے دکھ تکلیف کی ساتھی اگر وہ مالی طور پر کمزور بھی ہے تو بیوی اپنے شوہر کا تماشا غیر لوگوں میں تو کیا بلکہ اپنے سگے رشتہ داروں میں بھی نہیں لگائے گی بلکہ بعض اوقات تو اس کی بےوفائی تک جیسے جرم کو بھی اکیلے اذیت کا گھونٹ پی جائے گی لیکن کسی کو اس راز کی ہوا بھی نہیں لگنے دے گی ۔۔۔!!!
    یہ تو بات تھی ایک وفاشعار مشرقی عورت کی۔۔!!

    نہ سب عورتیں مکمل ہوتی ہیں نہ سب مرد مکمل ۔۔بےعیب صرف اللہ سبحان تعالی کی پاک ذات ہے ہر انسان خطا کا پتلا ہے چاہے وہ مرد ہے یا عورت ۔۔میرا کبھی دل نہیں چاہتا کہ میں بنا وجہ کے مردوں پر یا صرف عورتوں پر تنقید کروں ۔دونوں اپنی جگہ ٹھیک ہوتے ہیں بس ماحول کا فرق ہوتا ہے جس وجہ سے ہر انسان کے رویے میں فرق ہوتا ہے کچھ حالات انسان کو اتنا مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اچھا کرنے کی کوشش میں بھی بعض اوقات وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے جو ان کا حق ہوتی ہے ان میں ذیادہ تر وہ طبقہ پیسا ہوتا ہے جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے مالی حالت ۔ ڈیپریشن میں مسلسل اضافے کا باعث بنتے ہیں جس وجہ سے وہ چاہ کر بھی خوش اخلاقی جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہےمسلسل خراب حالات اور ناکامیوں کی وجہ سے چڑچڑاپن اس کی طبعیت میں شامل ہوجاتا ہے ایسے لوگوں کی صاحب حثیت لوگوں کی طرف سے تھوڑی سی حوصلہ افزائی ان کی ویران مایوس ۔اندھیر ذندگی میں روشنی کی کرن ثابت ہوسکتی ہے مشکل وقت کسی پر ۔کسی وقت بھی آسکتا ہے حالات کا پہیہ چکر میں ۔کون جانے اگلا شکار کون ۔۔۔!!!

    میری ذندگی میں اتنے عظیم رشتے ہیں کہ ان کے تقدس کا سوچتی ہوں تو فخر محسوس ہوتا ہے شائد اس معاملے میں اللہ نے مجھے بےحد بے حساب نوازا ہے میرے عزیز الجان دو ماموں جی میرے آئیڈیل میرے چچا جی بہت معتبر انسان ان کا ایک معاشرے میں ایک مقام ۔میرے بھائی جان ایک آئیڈیل انسان بہت بہت عزت دار ۔کہ عام انسان بھی ان کو دیکھے تو احترام سے کھڑا ہوجائے اللہ سب کو ایسے پیارے رشتوں سے نوازے آمین ۔

    تو بات کررہی تھی کہ راز نہ رکھنے والی بات ہنسی مذاق کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے توعام طور پر یہ انسانی کمزوری ہے چاہے عورت ہو یا مرد کسی بات کا پتہ چلنے کی دیر ہے جب تک سب جاننے والوں کو وہ بات بتا نہ دی جائے تب تک سکون والی بات نہیں ۔۔بشری کمزوریاں ہر انسان میں ہوتی ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ ہر غلط کام کسی ایک جنس پر لاگو کردیا جائے اور خود برالذمہ ہوجائیں ہمیں سوچنا ہوگا ہماری وجہ سے کوئی بےسکون نہ ہو اگر کسی کو خوشی نہیں دے سکتے اس کے دکھ کی وجہ بھی نہ بنیں ۔اگر انجانے میں کسی کو ہرٹ کر بھی دیا ہوتو خلوص نیت سے ہلکی سی معذرت اگلے کے دل سے بوجھ اتار دے گی اور آپکو پرسکون کردے گی کیونکہ ایک مومن انسان کا دل کبھی اس بات پہ خوشی یا سکون محسوس کر ہی نہیں سکتا کہ اس کی وجہ سے کوئی دکھی ہوا یاہرٹ ہوا یا کسی کا سکون ختم ہوا ہو یا کسی کی نیندیں ڈسٹرب ہوئیں ہوں ۔۔۔!! کوشش کریں اپنی ذندگی کی غلطیاں دنیا میں ہی سدھار لیں آگے حساب بہت سخت ہے دنیا میں ہی اپنے معملات نمٹا کر جائیں کہ کل کو اپنی نیکیاں دے کر حساب نہ چکانا پڑے ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے حقوق معاف کرسکتا ہوں حقوق العباد معاف نہیں کروں گا تو اس کے بندوں سے پیار کریں اپنے سے وابستہ رشتوں کا احترام کریں اپنی طرف سے ہر ایک کے جذبات کا خیال رکھیں ۔جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہ کرے ان سے بھی حسن اتفاق سے بات کرنا آپ کی اعلی ظرفی اور اچھی ماں کی تربیت کی نشانی ہے
    کہتے ہیں
    ‏انسان کے پورے جسم
    میں صرف ایک دل ہی ہوتا ہے
    جو پیدائش سے لے کر موت تک
    بِنا ریسٹ کیے کام کیے جاتا رہتا ہے
    اسے ہمیشہ خوش رکھیں
    چاہے یہ آپ کا اپنا ہو
    یا پھر اپکے پیاروں کا ۔۔
    ۔ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں کہ ان کا بھی وہی اللہ ہے جو اپ کا ہے آپ میں ایسا کیا تھا جو اللہ نے آپکو اتنا بےحد بے حساب نوازا اور آپکو لوگ رشک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں آپ جیسی ذندگی آپ جیسا لائف سٹائل میں جینا چاہتے ہیں شائد آپ کے ساتھ کسی کی دعائیں ہیں جو اللہ آپکو نوازتا ہی جارہا ہے تو اس میں بھی اللہ کا بہت گہرا راز پوشیدہ ہے ہر سانس کے ساتھ اس کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپکے تمام عیب جاننے کے باوجود آپکو بےحد بے حساب عزت دولت سے نوازا ہوا ہے۔وہ اگر ہمیں ایک جھونپڑی میں پیدا کردیتا تو ہم خدانخواستہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے وہ واحد لا شریک ہے وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور نہ دے کر بھی پھر غرور کس بات کا۔۔شیطان تو چاہتا ہی یہی ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے جیسے اس نے کی ۔۔اور قیامت تک اپنے لیے لعنتیں خرید لیں رہتی دنیا تک اس پر لعنتوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔۔ہر اس انسان پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے جو اپنی دولت شہرت پر غرور سے اکڑ کر چلتا ہے خود کو افلاطون قسم کی کوئی چیز سمجھنے لگ جاتا ہے جس کے دل میں اللہ سبحان تعالی کا ذرا سا بھی خوف ہوگا وہ اپنی عزت دولت شہرت پر کبھی غرور نہیں کرے گا بلکہ اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہے گا اسے پتہ ہوگا کہ اللہ کو عاجزی پسند ہے اپنی طبعیت میں عاجزی پیدا کرنے کی کوشش کریں اللہ عاجز بندے کو بےحد بے حساب نوازتا ہے جلدی یا بدیر ۔۔ !!

  • مینار پاکستان سانحہ .تحریر راحیلہ عقیل

    مینار پاکستان سانحہ .تحریر راحیلہ عقیل

    ایک عورت کی کمیز چھوٹی ہے اس کے بال کھلے ہیں وہ بدکردار ہے وہ مردوں سے باتیں کرتی ہے وہ روز سے ہنستی ہے وہ بدکردار ہے ؟۔۔۔۔۔۔ اسلام نے عورت ، مرد دونوں کے لیے حدود قائم کی ہیں دونوں کو اپنے اپنے دائرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں پھر ایک عورت بےپردہ گھر سے نکلی اس کی مرضی تھی اس کے ماں باپ نے اسکی تربیت نہیں کی اسکو دین دنیا کے طریقے نہیں سکھائے یہ ان ماں باپ کا قصور ہے، بے شک کے قیامت کے روز وہ اسکے جوابدہ ہونگے سزا بھی پائیں گے ۔۔۔۔۔پھر چائیے وہ اس خاتون کا پروپیگنڈہ ہی کیوں نا ہو لیکن ایک منٹ ٹھہر جائیں
    خاتون نے کہا مرد حضرات کو آجائیں میرے ساتھ تصویریں بنوائیں تو کیسے مرد تھے جو اپنی ماں باپ کی ایک آواز پر کھڑے نہیں ہوتے وہ ایک بدکردار عورت کی دعوت پر مینار پاکستان پہنچ جاتے ہیں اور وہاں جاتے ہی سچے پکے مسلمان بن کر عورت کو مذہب یاد کرواتے ہیں کے تمہارے کپڑے خراب ہیں تم مردوں میں کیوں آئی کیا ایسا کرنا جائز تھا عورت کو ننگا کرنا اسکی تذلیل کرنا جائز تھا ؟

    کیا ہم سچے مسلمان ہیں ؟ کیا ہم پانچوں وقت کے نمازی ، والدین کے فرمانبردار ہیں کیا ہم جھوٹ نہیں بولتے ، برائی نہیں کرتے ، تنقید نہیں کرتے ، ملاوٹ نہیں کرتے ، دل میں بغض نہیں رکھتے ، سڑک چلتی عورت کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے ؟ شادیوں میں کھلے بال بازو پر ڈوپٹہ ڈالےخواتین کے ساتھ تصویریں نہیں بنواتے، ٹی وی پر فلمیں ڈرامے نہیں دیکھتے ، اداکاروں کی تصویریں نہیں دیکھتے انکے ناچ گانے کپڑوں سے جھلکتا جسم نہیں دیکھتے ؟

    ہم کہا سے سچے مسلمان ہیں کہا لکھا ہے کے عورت ہی ہر چیز کی زمہ دار ہے اگر عورت نے اپنی حدود پار کی تنگ کپڑے پہنے تو مرد نے بھی اس پر نگاہ ڈالی

    اور پھر وہ تو عورت ہے یہاں تو حال اتنا برا ہے چھوٹی بچیوں کو مدرسوں میں نہیں چھوڑے سڑک چلتی لڑکی کو پکڑ لیتے دکانوں پر چیز لینے آئی معصوم بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہیں لڑکو کے ساتھ زیادتی انکی ویڈیوز بناکر وائرل کرنا عورت کے جسم سے کھیلنا پھر انکو مار دینا۔۔۔۔۔ عورت کی اتنی بے حرمتی کے قبروں سے لاش نکال کر اسکا ریپ کردینا یہ مسلمان ہیں ؟ یہ مسلمانوں کے کام ہیں ؟ ایک عورت پر سب کی غیرت جاگی کے وہ ننگے سر نکلی تب غیرت کہا چھپ جاتی ہے جب عورت کو غیر آدمی ذیادتی کا نشانہ بناکر مار ڈالتے ہیں تب غیرت نہیں آتی جب ننھی معصوم بچی کے ساتھ باپ ذیادتی کرتا ہے تب غیرت نہیں آتی جب ٹی وی پر اداکاروں کے ناچ گانے دیکھتے ہو ؟
    آپ مرد ہیں تو مرد بنیں مذہب صرف عورت پر لاگو نہیں ہوتا سب پر ہوتا ہے جتنی قصوروار عورت اتنا ہی مرد
    بازار میں بکنے والی عورت خراب نظر آتی ہے مگر اسکو خریدنے والا مرد دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ مرد ہے ؟
    بچیوں کی تربیت پر انگلی اٹھاتے ہیں آپ بیٹوں کی تربیت بھی ایسی کریں کے وہ پرائی عورت کو آنکھ اٹھاکر نادیکھے اور دیکھے تو بہن بیٹی سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔
    معاشرے کو بدلنا ہے تو سوچ کو بدلیں مرد کو شیر کہہ کر بڑھاوا نا دیں اسکو انسان بنائیں اسکو سیکھائیں کے عورت کھلونا نہیں عزت ہے مان ہے غرور ہے

    عورت کو بھی اپنی چار دیواری میں اپنی حدود میں رہنا ہوگا تنگ لباس پہنو ناچو گاؤ اپنے گھر میں کرو، غیر مردوں کے سامنے ناچو گی ؟ ننگے سر پھیروں گی ؟ یہ تربیت ماں باپ دیں اپنی اولاد کو آزادی اتنی اچھی لگتی جس میں آپکی عزت پر کوئی انگلی نا اٹھا کے ناکہ یہ کے غیر مرد آپکے کپڑے پھاڑ کر آپکو ہوا میں اچھال رہے اپنی عزت کروانا عورت کا کام ہے غیر مرد کی تعریف پر مسکرانا ہنسی مذاق کرکے بڑھاوا دینا پھر رونا کے ہم کو حراسا کیا جارہا ایسا نہیں چلے گا ایسا کرنے والوں کی سزا بہت سخت ہے وہ شکر کریں کے ہمارے ملک میں اسلامی سزائیں نہیں ہوتی ورنا کھال اتار کر ہڈیاں دیتے گھر والوں کو سمجھ جائیں اس سے پہلے کے خدا کا غذاب پڑے پہلے ہی ہم کرونا سے لڑ رہے ہیں مزید اللہ کی ناراضگی برداشت نہیں کرسکیں گے

  • 14 اگست لاہور واقعہ کا مجرم کون؟؟؟  تحریر: نعیم عباس

    14 اگست لاہور واقعہ کا مجرم کون؟؟؟ تحریر: نعیم عباس

    جہاں دنیا میں بہت سے کاروبار آنلائن ہوچکے ہیں تاکہ انکی مصنوعات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے اور وہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں بالکل اسی طرز پر جسم فروشی اور بازار حسن نے بھی اپنا کاروبار ٹک ٹاک اور دوسری ایسی سوشل سائٹس پر اونلائن کردیا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مشہور ہوکر فینز کی صورت میں اپنے کسٹمرز بنائیں اور اس بنا پر زیادہ پیسہ کمائیں.
    ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں شہرت اور پیسے کی خاطر لوگوں نے اپنی تمام حدود و قیود کو پس پشت ڈال دیا. اسی طرز کا واقعہ لاہور میں مینار پاکستان پر دیکھنے کو ملا جب ایک ٹک ٹاکر نے اپنے کسٹمرز (فینز) کو 14 اگست یوم آزادی پاکستان کے دن میٹ اپ (کاروباری تشہیر) کے لئے مدعو کیا جہاں وہ خود جلوہ آفروز ہوکر اپنی اداؤں سے اپنے فینز کی آنکھون کو سیراب کریں گی.
    ایک بات یاد رکھیں کہ جیسی چیز ایک کاروباری کمپنی فروخت کرنے کیلئے بناتی ہے اسکے خریدار بھی ویسے ہی ہوتے ہیں مثلا جوتوں کی پالش وہی خریدا گا جس گاہک کے پاس جوتے ہوں گے. چپل پہننے والا کیوں پالش خریدے گا. یونہی شراب پینے والا شراب خریدتا ہے اور کمپنی اسی کیلئے شراب بناتی ہے. عام بندہ جو شراب پیتا ہی نہیں وہ کیوں شراب خریدا گا.
    بالکل اسی طرح لڑکی کے اعلان پر وہاں مساجد کے امام, یا صوم وصلات کے پابند لوگ تو نہیں آئیں گے نا. ظاہر ہے وہی آئیں گے جنکو لڑکی صرف استعمال کی چیز لگتی ہے. جن کا مقصد صرف اپنی ہواسیر کی بیماری کی تسکین ہے. اور پھر وہی ہوا کہ اس لڑکی کے تشہیری اعلان کے بعد اسی طرح کے اوباش,لفنٹر,ننگ خلقت, بازارو, متنفر ذہنیت کے حامل,تعلیم و تربیت سے نالاں افراد کا ہجوم اس لڑکی (پروڈکٹ) کے گاہک کے طور پر جمع ہوئے اور انہوں نے وہی کیا جس مقصد کیلئے وہ اس لڑکی کی فین لسٹ میں موجود تھے یعنی کسٹمر بنے تھے. اب اس صورتحال کو پیش نظر رکھا جائے تو قصور وار کون ہوگا یہ فیصلہ آپ سمجھدار لوگ خود کرسکتے ہیں.
    میں ہرگز اس چیز کے حق میں نہیں جو اس لڑکی کے ساتھ کیا گیا اور اس بات کی اپیل ہے کہ ان اوباش لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان چند ایک کو سزا دینے پر ہی اکتفا نا کیا جائے بلکہ اس ٹک ٹاک جیسے بیہودہ سوشل میڈیا سائٹس جہاں دن رات جسم فروشی کا کاروبار گرم رہتا ہے اس پر بھی روک تھام لگائی جائے وگرنہ تاریخ پھر خود کو دہرائی گی پھر کسی اور 14 اگست یوم آزادی پاکستان جیسے مبارک دن ایک ٹک ٹاکر اور اسکے چند آوارہ گندی ذہنیت کے گاہک(فینز) پوری قوم کو دنیا کے سامنے شرمندہ کر دیں گے.
    @ZaiNi_Khan_NAK

  • واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    اقبال پارک کا گراؤنڈ وہ عظیم یادگار ہے کہ جہاں اسلامیانِ برصغیر نے جمع ہو کر آزاد وطن کے حصول کی انمٹ داستان رقم کی تھی…یہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل پبلک مقام ہے… اس سے وابستہ وہ غیر متزلزل ارادے،نعرے،عزائم اور کردار تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا تھا اور الحمدللّٰــــہ آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی ہیں…
    اُسی گراؤنڈ سے متعلقہ ایک واقعہ سوشل میڈیا پر گردش میں ہے…واقعی ایسے واقعات چاہے کچھ بھی پسِ منظر رکھتے ہوں کسی بھی معاشرے کا منفی امیج ہی تصور کیے جاتے ہیں…
    ایک ٹک ٹاکر خاتون اور سینکڑوں مردوں کی طرف سے رد عمل نے ہر ذی شعور کا سر شرم سے ضرور جھکایا ہے…اور یہ سب تربیت کی کمی کا گھناؤنا کھیل ہے…افسوس کی بات یہ ہے کہ اجتماعی طور پر بھی ہم اخلاقیات کے بلند معیار کو کھوئے جا رہے ہیں…انفرادی طور پر تو ہر ایک کی صورت حال جسے ذبح کرو،وہی لال ہے والی سے مختلف نہیں ہے لیکن اجتماعی طور پر اخلاقی گراوٹ ایک گھٹیا سوچ کی عکاس بن جاتی ہے…
    سیدھی اور صاف سی بات کی جائے تو اس کا واحد حل صرف اسلامی نظام اور قوانین کا نفاذ ہے جو ہر ایسی گھٹیا فکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے لیکن چند لمحوں کے لیے یہ مان لیا جائے کہ معاشرہ مختلف النوع ذہنیتوں کے مجموعے کا نام ہے… اسلام تو مسلمان مرد و خواتین کو غصِ بصر اور عزتوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے…
    تو جو لوگ ان تعلیمات کے قائل نہیں،اپنا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں…اپنا طرزِ رہن سہن اپناتے ہیں…اپنی پسند کا اخلاق باختہ لباس زیب تن کرتے ہیں…تو پھر کیا کیا جائے؟
    یہ سوال واقعی اپنی جگہ اہم ہے لیکن معاشرے سے برائی کے خاتمہ کے لیے پہلی بات تو قوانین کا فوری اطلاق اور عمل ہونا چاہیے جس کی ہمارے معاشرے میں رفتار انتہائی مایوس کن رہی ہے…نمبر دو مرد و خواتین معاشرے کا حصہ ہیں،سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کے لیے گھروں سے باہر جاتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ ایسا قطعاً نہیں ہوتا…سارے کا سارا معاشرہ بے حس نہیں ہے…گردشِ حیاء ابھی رگوں میں باقی ہے…
    مسلمانوں کے لیے تو ایک زبردست نفسیاتی حل بتایا گیا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو…پھر کوئی پاس سے ناچنے گانے والی گزر رہی ہو یا مجرے کوٹھے والی یقینِ کامل ہے مرد کی فطری جبلت کو متاثر نہیں کرے گی…اور اگر مرد نگاہیں اُٹھا کر ہی چل رہا ہے تو ایک باپردہ اور باحیا انداز میں چلتی کوئی بھی خاتون بحفاظت بچ جائے گی…یہ تو ایک زبردست نسخہ ہمیں ساڑھے چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا ہے اور اِسی پر عمل آج بھی فلاح کا باعث ہے…!!!
    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اگر اس سے اُلٹ سوچ و کردار کا طبقہ کہیں نظر آئے…
    آپ کسی بازار کا ہی رُخ کر لیں…کسی بھی ادارے اور تعلیمی اداروں میں چلے جائیں ایسے انداز اور نمونے آپ بآسانی دیکھ سکتے ہیں تو کیا کسی کے انداز،لباس اور کردار کا پسِ منظر دیکھ کر انہیں چھیڑا جایا جانے لگے گا…یا انہیں ٹارگٹ کیا جائے گا…؟
    یقیناً ہر گز نہیں…!!!
    یہ واقعہ بھی ایسی ہی نیگیٹیویٹی کی مثال بن رہا ہے اس کے پیچھے محرکات جو بھی ہوں لیکن اُس ہجوم اور مجمع میں کوئی بھی رجل رشید نہیں تھا…جو اس واقعہ کو وقوع ہونے سے روک دیتا…؟
    عورت بہر حال عورت ہے…اِسے کھلونا اور سوفٹ ٹارگٹ سمجھ لینا بھی ایک معاشرتی بے حسی ہے… ایسے واقعات کے علاوہ بھی تعلیمی اداروں میں ہوس ناکیوں کا شکار کوئی بنتِ حوا ہو…یا معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات…یہ سبھی معاشرے کا المیہ اور سیاہی و وبال ہیں…
    اصل محرک تربیت،سوچ اور معاشرتی اقدار ہوتی ہیں…
    جب ذہنوں میں گند بھر جائے تو لباس اور پردہ پوشی کی حدود بھی درندہ صفت انسان کہیں نہ کہیں روند ڈالتے ہیں…ہمیں اصل ضرورت تربیت کی اور معاشرے میں زہر کی طرح پھیلتی اس منفیت کو روکنے کی ہے… وہ کوئی سا بھی فورم ہو کوئی سا بھی مقام ہو…آج کے نوجوان کل کے والدین ہیں…اور آنے والی نسلوں کا مستقبل انہی کے کردار پر منحصر ہے…
    نیز حدود اور قوانین کا اطلاق فرضِ اوّل ہونا چاہیے…!
    حکومت اور عدلیہ کی جانب سے خواتین کے پردہ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے احکامات صادر ہوں…
    پھر مجرم چھوٹا ہو یا بڑا اُسے اپنے کیے کا ڈر ہو…شکنجہ کسے جانے کا خوف ہو تو ہی اصلاح ممکن ہو سکتی ہے…
    سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیاں اور آزادی جو بے حیائی اور اخلاق باختگی کی ترویج کا باعث ہیں،ایک اسلامی مملکت میں انہیں مکمل بین کیا جانا چاہیے…یہ وقت کی ضرورت اور آنے والی نسلوں کے کردار و اخلاق کی بقاء کے لیے ازحد ضروری ہے…!
    پبلک اور مقدس مقامات پر جانے اور سرگرمیوں کے حوالے سے باقاعدہ اصول و ضوابط طے ہوں…بے حیائی کی عکس بندی کرتے مناظر اور سیلفیوں کی چنگاریاں جب آتش فشاں بن جاتی ہیں تو ہاتھ سروں پر رکھ کر بین شروع کر دیے جاتے ہیں اور ہر ایک ہی خود کو معصوم اور مظلوم جتاتا ہے…یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ایسے ناچ اور مجرے دیکھنے کے لیے آنے والے شرفاء نہیں بلکہ ہمیشہ شریر ذہن ہی ہوا کرتے ہیں…جن کی وجہ سے پورے معاشرے کے شرفاء پر انگلیاں نہیں اٹھائی جا سکتیں…
    ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں…اور ہر واقعہ میں کئی کردار ہوتے ہیں…ان سب چیزوں پر غور اور عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے…
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عورت تو وہ ہوتی ہے جسے میدانِ جنگ میں بھی قتل نہ کرنے کا استثناء ملا…عورت کی عزت اور رہ نمائی چاہے وہ کہیں بھی ہو کوئی بھی ہو…اس طرح کی جائے کہ وہ ایوان ریڈلے سے ہمیشہ کے لیے مریم بن جائے…ماضی قریب کی یہ شاندار مثال ہم سب کے لیے ایک سبق ہے…کوئی بھی محرک اس صنفِ نازک کے خلاف ایسا اقدام نہ اُٹھوائے جو وقتی ہی سہی ایک منفی امیج اور ایشو بن جائے…اور لبرل مافیا ہمیں عورت کی تعظیم اور حقوق کے درس دینے کے لیے کوؤں کی طرح چلچلانے لگے…
    عورت بھی اپنی حدود اور ذمہ داریوں کو گہرائی سے سمجھے اور جو یہ نہیں سمجھتیں تو میرے معاشرے کے مرد کی حیا اس قدر مضبوط ہو کہ کسی اور سوچ اور طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت کا لباس یا فیشن اُس سے حیا کی چادر نہ چھین سکے… اور آئے روز کے ایسے طوفانوں سے میرا یہ چمن محفوظ کہلائے…آمین…!
    ===============================

  • *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    تربیت امت کے گلدستہ سے ایک پھول کو چنا ہے جس کی خوشبو آپ تک بکھیرنے کی کوشش ہے اللہ کریم مجھے حق لکھنے آپ کو پڑھنے سمجھنے اور ہم سب کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے.
    بہن احساس کا نام ہے جب بھائی روتا ہے تو اس کو اس کے زخم اپنے زخم محسوس ہوتے ہیں. اس کی تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہوتی ہے. گھر میں کھلتی یہ کلیاں گھر کی رونق ہوتی ہیں بولتی ہیں تو جیسے آنگن چہچہاتا ہے. بھائی سے زد فرمائشیں ان بھر پورا ہونے پھ شکرانے کی وہ نظر کمال کا احساس ہوتا ہے.
    یہ محبت تو اللہ کریم کی دی ہوئی بے لوث نعمت ہے.
    سیرت کی کتاب سے مجھے ایک خوبصورت واقعہ ملا آپ کی سمانے گوش گزار کرتا چلوں تا کہ پتا چلے کہ ہمارے پیارے نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰ ﷺ کا اپنی بہن سے پیار کیسا تھا. اور بہن کا اپنے بھائی سے پیار کیسا تھا.
    عرب کے رواج کے مطابق نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پرورش فرما رہے تھے تو ساتھ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی اپنی بیٹی اور حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد مصطفیٰﷺ کی بہن بھی پرورش فرما رہی تھیں. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ سے بڑی تھیں جب باہر سہیلیوں میں بھای ﷺ کو لیکر نکلتیں تو کہتیں لاؤ کوئی میرے بھائی جیسا سہنا بھائی لاؤ. اللّٰہ اللّٰہ بہنوں کے کمال لاڈ. آپ ﷺ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتیں آپ ﷺ کے ساتھ کھیلتیں. بچپن کا زمانہ گزر گیا.
    وقت اور الفاظ کی قید کے پیش نظر اسی داستان کو مختصراً بیان کرتا ہوں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا اور دوسری جانب حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کی وہی رضائی بہن جو اس وقت تک ایمان نا لائی تھیں ان کی شادی ہو چکی تھی. جب اعلان نبوت کے بعد جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک جنگ کے مال غنیمت میں کچھ قیدی لاے گئے. جن کا تعلق حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبیلہ سے تھا. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبیلہ کے لوگوں نی بلایا اور کہا کل سنا کے محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں تمہارے بھائی ہیں اور ان کی قید میں ہمارے کچھ قیدی ہیں اگر تم انہیں چاہو تو چھڑا لاؤ. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی سہیلیوں کی ساتھ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں. صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کے باہر روکا اور پوچھا تو جواب ملا جاو اندر جا کر بولو محمدمصطفیٰﷺ کی بہن آئی ہے. وہی بڑی بہن والا انداز جواب آیا عزت سے لایا جاے آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر استقبال فرمایا چادر بچھائی اور بٹھایا. بچپن کی باتیں ہونے لگیں. سوال آیا بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اے محمدمصطفیٰﷺ تجھے کبھی بڑی بہن ہاد نا آئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین چڑھائی اور فرمایا بہن تجھے یاد ہے ایک بار تو نے یہاں میری بازو پر دانت کاٹا تھا. میں جب بھی تجھے یاد کرتا ہوں اپنی آستین پر تیرے دانت کا نشان دیکھ لیتا ہوں. تجھے کیسے لگا تیرا بھائی تجھے یاد نہیں کرتا. بہن بھائی کی محبت نے مسجد کے اندر مجمع اشک بار کر دیا. پوچھا کیسے آنا ہوا آج بھائی کیسے یاد آیا. کہنے لگیں ہمارے قبیلے کے کچھ قیدی مال غنیمت میں آے ہیں ان کے لیے آئی ہوں. جواب ملا بہن پیغام بھیج دیتی یا مجھے بلایا ہوتا اتنے سے کام کے لیے. جواب ملا تم ﷺ سے ملنے کا بھی دل تھا مدت ہوئی تھی دیکھے ہوے.
    کیا کمال ماحول ہو گا. آپ ﷺ نے کچھ مال بطور تحفہ عطا کیا اور قیدی بھی آزاد کیے. بہن نے بھی اسلام قبول کر لیا.
    سوال یہ ہے کبھی ہم نے بھی اہنی بہن سے اس طرح احساس والا معاملہ فرمایا ہے؟ بہن کے لیے اصول مال غنیمت ہی بدل ڈالا.
    بہنوں کی وراثت کھانے والوں سے سوال ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عطا کرنے کا حکم فرمایا ہے. ہم کس رخ جا رہے ہیں.
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.
    جب تم اپنی بہن کے گھر جاؤ تو کچھ نا کچھ لے کر جایا کرو.
    بہنوں کو بھائیوں کا انتظار ہوتا ہے.
    فی زمانہ دوسروں کی بہنوں پر ڈورے ڈالنے والوں سے گزارش ہے خدارا وہی خرچ اپنی بہن پر کرو تم کسی کی بہن کے 32 دانتوں سے بات نکلنے سے پہلے پورءمی کرنے کا جزبہ لے کر بیٹے ہو. تمہاری اپنی بہن کس کا انتظار کرے. وہی پیسہ وہی محبت اپنی بہنوں کو دو تاکہ اسے یہ کمی نمباہر سے پوری نا کرنی پڑے ان سے پیار کرو.
    ان کا خیال رکھو انکی ضرورت پوری کرو ان سے خوشگپیاں کرو. ان کا احترام کرو ان لر شفقت کرو. یہ تمہارے گھر کی رونق ہیں خدارا اس رونق کو آباد کرو. بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ بھائی کو رازدار بنائیں تاکہ عزت اپنی بھی محفوظ رہے بھائی کی غیرت بھی باپ کا مان بھی. گھر کا ماحول بھی سکون بھی خوشیاں بھی قرار بھی

    @EngrMuddsairH