Baaghi TV

Category: خواتین

  • "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں عورت راز نہیں رکھ سکتی بلکہ اس پر لطیفے بنے ہوئے ہیں کہ کوئی بات پورے محلے میں پھیلانی ہوتو کسی عورت کو وہ بات بتا دو آپ کو اعلان کروانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور بعض اوقات ہم خود بھی ان لطیفوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ عورت "سربستہ” راز ہوتی ہے اگر ماں ہے تو اپنے بچوں کے عیب لوگوں سے ایسے چھپا کر رکھتی ہے جیسے اس کے اپنے عیب ہوں کہ لوگ یہ عیب جاننے کے بعد آپکو عجیب نظروں سے دیکھیں گے اپنے بچوں کی کامیابیاں خوشیاں ہر بندے سے شئیر کرے گی لیکن کبھی اپنی اولاد کا

    "ویک پوائنٹ "کسی کو نہیں پتہ چلنے دے گی حتی کہ اگر بچہ کسی بات پر نافرمانی بھی کرے گا تو بھی اس کو اپنے اور بچے کے درمیان رکھے گی ۔۔اور اسی طرح ایک بہین اپنے بھائی کا کوئی راز کبھی مرکر بھی کسی اور کو نہیں بتایے گی چاہے کوئی اس کی کتنی قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو ۔۔بھائی اپنی بہنوں سے اپنے دل کی ہر بات شئیر کرکے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں انھیں اپنی بہین پر یقین ہوتا ہے یہ راز بہین اپنے تک محدود رکھے گی ۔۔۔!!!

    ایسی طرح بیوی اپنے شوہر کے ہر راز کی آمین ہوتی ہے اس کے دکھ تکلیف کی ساتھی اگر وہ مالی طور پر کمزور بھی ہے تو بیوی اپنے شوہر کا تماشا غیر لوگوں میں تو کیا بلکہ اپنے سگے رشتہ داروں میں بھی نہیں لگائے گی بلکہ بعض اوقات تو اس کی بےوفائی تک جیسے جرم کو بھی اکیلے اذیت کا گھونٹ پی جائے گی لیکن کسی کو اس راز کی ہوا بھی نہیں لگنے دے گی ۔۔۔!!!
    یہ تو بات تھی ایک وفاشعار مشرقی عورت کی۔۔!!

    نہ سب عورتیں مکمل ہوتی ہیں نہ سب مرد مکمل ۔۔بےعیب صرف اللہ سبحان تعالی کی پاک ذات ہے ہر انسان خطا کا پتلا ہے چاہے وہ مرد ہے یا عورت ۔۔میرا کبھی دل نہیں چاہتا کہ میں بنا وجہ کے مردوں پر یا صرف عورتوں پر تنقید کروں ۔دونوں اپنی جگہ ٹھیک ہوتے ہیں بس ماحول کا فرق ہوتا ہے جس وجہ سے ہر انسان کے رویے میں فرق ہوتا ہے کچھ حالات انسان کو اتنا مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اچھا کرنے کی کوشش میں بھی بعض اوقات وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے جو ان کا حق ہوتی ہے ان میں ذیادہ تر وہ طبقہ پیسا ہوتا ہے جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے مالی حالت ۔ ڈیپریشن میں مسلسل اضافے کا باعث بنتے ہیں جس وجہ سے وہ چاہ کر بھی خوش اخلاقی جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہےمسلسل خراب حالات اور ناکامیوں کی وجہ سے چڑچڑاپن اس کی طبعیت میں شامل ہوجاتا ہے ایسے لوگوں کی صاحب حثیت لوگوں کی طرف سے تھوڑی سی حوصلہ افزائی ان کی ویران مایوس ۔اندھیر ذندگی میں روشنی کی کرن ثابت ہوسکتی ہے مشکل وقت کسی پر ۔کسی وقت بھی آسکتا ہے حالات کا پہیہ چکر میں ۔کون جانے اگلا شکار کون ۔۔۔!!!

    میری ذندگی میں اتنے عظیم رشتے ہیں کہ ان کے تقدس کا سوچتی ہوں تو فخر محسوس ہوتا ہے شائد اس معاملے میں اللہ نے مجھے بےحد بے حساب نوازا ہے میرے عزیز الجان دو ماموں جی میرے آئیڈیل میرے چچا جی بہت معتبر انسان ان کا ایک معاشرے میں ایک مقام ۔میرے بھائی جان ایک آئیڈیل انسان بہت بہت عزت دار ۔کہ عام انسان بھی ان کو دیکھے تو احترام سے کھڑا ہوجائے اللہ سب کو ایسے پیارے رشتوں سے نوازے آمین ۔

    تو بات کررہی تھی کہ راز نہ رکھنے والی بات ہنسی مذاق کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے توعام طور پر یہ انسانی کمزوری ہے چاہے عورت ہو یا مرد کسی بات کا پتہ چلنے کی دیر ہے جب تک سب جاننے والوں کو وہ بات بتا نہ دی جائے تب تک سکون والی بات نہیں ۔۔بشری کمزوریاں ہر انسان میں ہوتی ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ ہر غلط کام کسی ایک جنس پر لاگو کردیا جائے اور خود برالذمہ ہوجائیں ہمیں سوچنا ہوگا ہماری وجہ سے کوئی بےسکون نہ ہو اگر کسی کو خوشی نہیں دے سکتے اس کے دکھ کی وجہ بھی نہ بنیں ۔اگر انجانے میں کسی کو ہرٹ کر بھی دیا ہوتو خلوص نیت سے ہلکی سی معذرت اگلے کے دل سے بوجھ اتار دے گی اور آپکو پرسکون کردے گی کیونکہ ایک مومن انسان کا دل کبھی اس بات پہ خوشی یا سکون محسوس کر ہی نہیں سکتا کہ اس کی وجہ سے کوئی دکھی ہوا یاہرٹ ہوا یا کسی کا سکون ختم ہوا ہو یا کسی کی نیندیں ڈسٹرب ہوئیں ہوں ۔۔۔!! کوشش کریں اپنی ذندگی کی غلطیاں دنیا میں ہی سدھار لیں آگے حساب بہت سخت ہے دنیا میں ہی اپنے معملات نمٹا کر جائیں کہ کل کو اپنی نیکیاں دے کر حساب نہ چکانا پڑے ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے حقوق معاف کرسکتا ہوں حقوق العباد معاف نہیں کروں گا تو اس کے بندوں سے پیار کریں اپنے سے وابستہ رشتوں کا احترام کریں اپنی طرف سے ہر ایک کے جذبات کا خیال رکھیں ۔جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہ کرے ان سے بھی حسن اتفاق سے بات کرنا آپ کی اعلی ظرفی اور اچھی ماں کی تربیت کی نشانی ہے
    کہتے ہیں
    ‏انسان کے پورے جسم
    میں صرف ایک دل ہی ہوتا ہے
    جو پیدائش سے لے کر موت تک
    بِنا ریسٹ کیے کام کیے جاتا رہتا ہے
    اسے ہمیشہ خوش رکھیں
    چاہے یہ آپ کا اپنا ہو
    یا پھر اپکے پیاروں کا ۔۔
    ۔ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں کہ ان کا بھی وہی اللہ ہے جو اپ کا ہے آپ میں ایسا کیا تھا جو اللہ نے آپکو اتنا بےحد بے حساب نوازا اور آپکو لوگ رشک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں آپ جیسی ذندگی آپ جیسا لائف سٹائل میں جینا چاہتے ہیں شائد آپ کے ساتھ کسی کی دعائیں ہیں جو اللہ آپکو نوازتا ہی جارہا ہے تو اس میں بھی اللہ کا بہت گہرا راز پوشیدہ ہے ہر سانس کے ساتھ اس کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپکے تمام عیب جاننے کے باوجود آپکو بےحد بے حساب عزت دولت سے نوازا ہوا ہے۔وہ اگر ہمیں ایک جھونپڑی میں پیدا کردیتا تو ہم خدانخواستہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے وہ واحد لا شریک ہے وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور نہ دے کر بھی پھر غرور کس بات کا۔۔شیطان تو چاہتا ہی یہی ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے جیسے اس نے کی ۔۔اور قیامت تک اپنے لیے لعنتیں خرید لیں رہتی دنیا تک اس پر لعنتوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔۔ہر اس انسان پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے جو اپنی دولت شہرت پر غرور سے اکڑ کر چلتا ہے خود کو افلاطون قسم کی کوئی چیز سمجھنے لگ جاتا ہے جس کے دل میں اللہ سبحان تعالی کا ذرا سا بھی خوف ہوگا وہ اپنی عزت دولت شہرت پر کبھی غرور نہیں کرے گا بلکہ اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہے گا اسے پتہ ہوگا کہ اللہ کو عاجزی پسند ہے اپنی طبعیت میں عاجزی پیدا کرنے کی کوشش کریں اللہ عاجز بندے کو بےحد بے حساب نوازتا ہے جلدی یا بدیر ۔۔ !!

  • مینار پاکستان سانحہ .تحریر راحیلہ عقیل

    مینار پاکستان سانحہ .تحریر راحیلہ عقیل

    ایک عورت کی کمیز چھوٹی ہے اس کے بال کھلے ہیں وہ بدکردار ہے وہ مردوں سے باتیں کرتی ہے وہ روز سے ہنستی ہے وہ بدکردار ہے ؟۔۔۔۔۔۔ اسلام نے عورت ، مرد دونوں کے لیے حدود قائم کی ہیں دونوں کو اپنے اپنے دائرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں پھر ایک عورت بےپردہ گھر سے نکلی اس کی مرضی تھی اس کے ماں باپ نے اسکی تربیت نہیں کی اسکو دین دنیا کے طریقے نہیں سکھائے یہ ان ماں باپ کا قصور ہے، بے شک کے قیامت کے روز وہ اسکے جوابدہ ہونگے سزا بھی پائیں گے ۔۔۔۔۔پھر چائیے وہ اس خاتون کا پروپیگنڈہ ہی کیوں نا ہو لیکن ایک منٹ ٹھہر جائیں
    خاتون نے کہا مرد حضرات کو آجائیں میرے ساتھ تصویریں بنوائیں تو کیسے مرد تھے جو اپنی ماں باپ کی ایک آواز پر کھڑے نہیں ہوتے وہ ایک بدکردار عورت کی دعوت پر مینار پاکستان پہنچ جاتے ہیں اور وہاں جاتے ہی سچے پکے مسلمان بن کر عورت کو مذہب یاد کرواتے ہیں کے تمہارے کپڑے خراب ہیں تم مردوں میں کیوں آئی کیا ایسا کرنا جائز تھا عورت کو ننگا کرنا اسکی تذلیل کرنا جائز تھا ؟

    کیا ہم سچے مسلمان ہیں ؟ کیا ہم پانچوں وقت کے نمازی ، والدین کے فرمانبردار ہیں کیا ہم جھوٹ نہیں بولتے ، برائی نہیں کرتے ، تنقید نہیں کرتے ، ملاوٹ نہیں کرتے ، دل میں بغض نہیں رکھتے ، سڑک چلتی عورت کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے ؟ شادیوں میں کھلے بال بازو پر ڈوپٹہ ڈالےخواتین کے ساتھ تصویریں نہیں بنواتے، ٹی وی پر فلمیں ڈرامے نہیں دیکھتے ، اداکاروں کی تصویریں نہیں دیکھتے انکے ناچ گانے کپڑوں سے جھلکتا جسم نہیں دیکھتے ؟

    ہم کہا سے سچے مسلمان ہیں کہا لکھا ہے کے عورت ہی ہر چیز کی زمہ دار ہے اگر عورت نے اپنی حدود پار کی تنگ کپڑے پہنے تو مرد نے بھی اس پر نگاہ ڈالی

    اور پھر وہ تو عورت ہے یہاں تو حال اتنا برا ہے چھوٹی بچیوں کو مدرسوں میں نہیں چھوڑے سڑک چلتی لڑکی کو پکڑ لیتے دکانوں پر چیز لینے آئی معصوم بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہیں لڑکو کے ساتھ زیادتی انکی ویڈیوز بناکر وائرل کرنا عورت کے جسم سے کھیلنا پھر انکو مار دینا۔۔۔۔۔ عورت کی اتنی بے حرمتی کے قبروں سے لاش نکال کر اسکا ریپ کردینا یہ مسلمان ہیں ؟ یہ مسلمانوں کے کام ہیں ؟ ایک عورت پر سب کی غیرت جاگی کے وہ ننگے سر نکلی تب غیرت کہا چھپ جاتی ہے جب عورت کو غیر آدمی ذیادتی کا نشانہ بناکر مار ڈالتے ہیں تب غیرت نہیں آتی جب ننھی معصوم بچی کے ساتھ باپ ذیادتی کرتا ہے تب غیرت نہیں آتی جب ٹی وی پر اداکاروں کے ناچ گانے دیکھتے ہو ؟
    آپ مرد ہیں تو مرد بنیں مذہب صرف عورت پر لاگو نہیں ہوتا سب پر ہوتا ہے جتنی قصوروار عورت اتنا ہی مرد
    بازار میں بکنے والی عورت خراب نظر آتی ہے مگر اسکو خریدنے والا مرد دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ مرد ہے ؟
    بچیوں کی تربیت پر انگلی اٹھاتے ہیں آپ بیٹوں کی تربیت بھی ایسی کریں کے وہ پرائی عورت کو آنکھ اٹھاکر نادیکھے اور دیکھے تو بہن بیٹی سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔
    معاشرے کو بدلنا ہے تو سوچ کو بدلیں مرد کو شیر کہہ کر بڑھاوا نا دیں اسکو انسان بنائیں اسکو سیکھائیں کے عورت کھلونا نہیں عزت ہے مان ہے غرور ہے

    عورت کو بھی اپنی چار دیواری میں اپنی حدود میں رہنا ہوگا تنگ لباس پہنو ناچو گاؤ اپنے گھر میں کرو، غیر مردوں کے سامنے ناچو گی ؟ ننگے سر پھیروں گی ؟ یہ تربیت ماں باپ دیں اپنی اولاد کو آزادی اتنی اچھی لگتی جس میں آپکی عزت پر کوئی انگلی نا اٹھا کے ناکہ یہ کے غیر مرد آپکے کپڑے پھاڑ کر آپکو ہوا میں اچھال رہے اپنی عزت کروانا عورت کا کام ہے غیر مرد کی تعریف پر مسکرانا ہنسی مذاق کرکے بڑھاوا دینا پھر رونا کے ہم کو حراسا کیا جارہا ایسا نہیں چلے گا ایسا کرنے والوں کی سزا بہت سخت ہے وہ شکر کریں کے ہمارے ملک میں اسلامی سزائیں نہیں ہوتی ورنا کھال اتار کر ہڈیاں دیتے گھر والوں کو سمجھ جائیں اس سے پہلے کے خدا کا غذاب پڑے پہلے ہی ہم کرونا سے لڑ رہے ہیں مزید اللہ کی ناراضگی برداشت نہیں کرسکیں گے

  • 14 اگست لاہور واقعہ کا مجرم کون؟؟؟  تحریر: نعیم عباس

    14 اگست لاہور واقعہ کا مجرم کون؟؟؟ تحریر: نعیم عباس

    جہاں دنیا میں بہت سے کاروبار آنلائن ہوچکے ہیں تاکہ انکی مصنوعات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے اور وہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں بالکل اسی طرز پر جسم فروشی اور بازار حسن نے بھی اپنا کاروبار ٹک ٹاک اور دوسری ایسی سوشل سائٹس پر اونلائن کردیا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مشہور ہوکر فینز کی صورت میں اپنے کسٹمرز بنائیں اور اس بنا پر زیادہ پیسہ کمائیں.
    ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں شہرت اور پیسے کی خاطر لوگوں نے اپنی تمام حدود و قیود کو پس پشت ڈال دیا. اسی طرز کا واقعہ لاہور میں مینار پاکستان پر دیکھنے کو ملا جب ایک ٹک ٹاکر نے اپنے کسٹمرز (فینز) کو 14 اگست یوم آزادی پاکستان کے دن میٹ اپ (کاروباری تشہیر) کے لئے مدعو کیا جہاں وہ خود جلوہ آفروز ہوکر اپنی اداؤں سے اپنے فینز کی آنکھون کو سیراب کریں گی.
    ایک بات یاد رکھیں کہ جیسی چیز ایک کاروباری کمپنی فروخت کرنے کیلئے بناتی ہے اسکے خریدار بھی ویسے ہی ہوتے ہیں مثلا جوتوں کی پالش وہی خریدا گا جس گاہک کے پاس جوتے ہوں گے. چپل پہننے والا کیوں پالش خریدے گا. یونہی شراب پینے والا شراب خریدتا ہے اور کمپنی اسی کیلئے شراب بناتی ہے. عام بندہ جو شراب پیتا ہی نہیں وہ کیوں شراب خریدا گا.
    بالکل اسی طرح لڑکی کے اعلان پر وہاں مساجد کے امام, یا صوم وصلات کے پابند لوگ تو نہیں آئیں گے نا. ظاہر ہے وہی آئیں گے جنکو لڑکی صرف استعمال کی چیز لگتی ہے. جن کا مقصد صرف اپنی ہواسیر کی بیماری کی تسکین ہے. اور پھر وہی ہوا کہ اس لڑکی کے تشہیری اعلان کے بعد اسی طرح کے اوباش,لفنٹر,ننگ خلقت, بازارو, متنفر ذہنیت کے حامل,تعلیم و تربیت سے نالاں افراد کا ہجوم اس لڑکی (پروڈکٹ) کے گاہک کے طور پر جمع ہوئے اور انہوں نے وہی کیا جس مقصد کیلئے وہ اس لڑکی کی فین لسٹ میں موجود تھے یعنی کسٹمر بنے تھے. اب اس صورتحال کو پیش نظر رکھا جائے تو قصور وار کون ہوگا یہ فیصلہ آپ سمجھدار لوگ خود کرسکتے ہیں.
    میں ہرگز اس چیز کے حق میں نہیں جو اس لڑکی کے ساتھ کیا گیا اور اس بات کی اپیل ہے کہ ان اوباش لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان چند ایک کو سزا دینے پر ہی اکتفا نا کیا جائے بلکہ اس ٹک ٹاک جیسے بیہودہ سوشل میڈیا سائٹس جہاں دن رات جسم فروشی کا کاروبار گرم رہتا ہے اس پر بھی روک تھام لگائی جائے وگرنہ تاریخ پھر خود کو دہرائی گی پھر کسی اور 14 اگست یوم آزادی پاکستان جیسے مبارک دن ایک ٹک ٹاکر اور اسکے چند آوارہ گندی ذہنیت کے گاہک(فینز) پوری قوم کو دنیا کے سامنے شرمندہ کر دیں گے.
    @ZaiNi_Khan_NAK

  • واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    اقبال پارک کا گراؤنڈ وہ عظیم یادگار ہے کہ جہاں اسلامیانِ برصغیر نے جمع ہو کر آزاد وطن کے حصول کی انمٹ داستان رقم کی تھی…یہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل پبلک مقام ہے… اس سے وابستہ وہ غیر متزلزل ارادے،نعرے،عزائم اور کردار تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا تھا اور الحمدللّٰــــہ آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی ہیں…
    اُسی گراؤنڈ سے متعلقہ ایک واقعہ سوشل میڈیا پر گردش میں ہے…واقعی ایسے واقعات چاہے کچھ بھی پسِ منظر رکھتے ہوں کسی بھی معاشرے کا منفی امیج ہی تصور کیے جاتے ہیں…
    ایک ٹک ٹاکر خاتون اور سینکڑوں مردوں کی طرف سے رد عمل نے ہر ذی شعور کا سر شرم سے ضرور جھکایا ہے…اور یہ سب تربیت کی کمی کا گھناؤنا کھیل ہے…افسوس کی بات یہ ہے کہ اجتماعی طور پر بھی ہم اخلاقیات کے بلند معیار کو کھوئے جا رہے ہیں…انفرادی طور پر تو ہر ایک کی صورت حال جسے ذبح کرو،وہی لال ہے والی سے مختلف نہیں ہے لیکن اجتماعی طور پر اخلاقی گراوٹ ایک گھٹیا سوچ کی عکاس بن جاتی ہے…
    سیدھی اور صاف سی بات کی جائے تو اس کا واحد حل صرف اسلامی نظام اور قوانین کا نفاذ ہے جو ہر ایسی گھٹیا فکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے لیکن چند لمحوں کے لیے یہ مان لیا جائے کہ معاشرہ مختلف النوع ذہنیتوں کے مجموعے کا نام ہے… اسلام تو مسلمان مرد و خواتین کو غصِ بصر اور عزتوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے…
    تو جو لوگ ان تعلیمات کے قائل نہیں،اپنا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں…اپنا طرزِ رہن سہن اپناتے ہیں…اپنی پسند کا اخلاق باختہ لباس زیب تن کرتے ہیں…تو پھر کیا کیا جائے؟
    یہ سوال واقعی اپنی جگہ اہم ہے لیکن معاشرے سے برائی کے خاتمہ کے لیے پہلی بات تو قوانین کا فوری اطلاق اور عمل ہونا چاہیے جس کی ہمارے معاشرے میں رفتار انتہائی مایوس کن رہی ہے…نمبر دو مرد و خواتین معاشرے کا حصہ ہیں،سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کے لیے گھروں سے باہر جاتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ ایسا قطعاً نہیں ہوتا…سارے کا سارا معاشرہ بے حس نہیں ہے…گردشِ حیاء ابھی رگوں میں باقی ہے…
    مسلمانوں کے لیے تو ایک زبردست نفسیاتی حل بتایا گیا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو…پھر کوئی پاس سے ناچنے گانے والی گزر رہی ہو یا مجرے کوٹھے والی یقینِ کامل ہے مرد کی فطری جبلت کو متاثر نہیں کرے گی…اور اگر مرد نگاہیں اُٹھا کر ہی چل رہا ہے تو ایک باپردہ اور باحیا انداز میں چلتی کوئی بھی خاتون بحفاظت بچ جائے گی…یہ تو ایک زبردست نسخہ ہمیں ساڑھے چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا ہے اور اِسی پر عمل آج بھی فلاح کا باعث ہے…!!!
    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اگر اس سے اُلٹ سوچ و کردار کا طبقہ کہیں نظر آئے…
    آپ کسی بازار کا ہی رُخ کر لیں…کسی بھی ادارے اور تعلیمی اداروں میں چلے جائیں ایسے انداز اور نمونے آپ بآسانی دیکھ سکتے ہیں تو کیا کسی کے انداز،لباس اور کردار کا پسِ منظر دیکھ کر انہیں چھیڑا جایا جانے لگے گا…یا انہیں ٹارگٹ کیا جائے گا…؟
    یقیناً ہر گز نہیں…!!!
    یہ واقعہ بھی ایسی ہی نیگیٹیویٹی کی مثال بن رہا ہے اس کے پیچھے محرکات جو بھی ہوں لیکن اُس ہجوم اور مجمع میں کوئی بھی رجل رشید نہیں تھا…جو اس واقعہ کو وقوع ہونے سے روک دیتا…؟
    عورت بہر حال عورت ہے…اِسے کھلونا اور سوفٹ ٹارگٹ سمجھ لینا بھی ایک معاشرتی بے حسی ہے… ایسے واقعات کے علاوہ بھی تعلیمی اداروں میں ہوس ناکیوں کا شکار کوئی بنتِ حوا ہو…یا معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات…یہ سبھی معاشرے کا المیہ اور سیاہی و وبال ہیں…
    اصل محرک تربیت،سوچ اور معاشرتی اقدار ہوتی ہیں…
    جب ذہنوں میں گند بھر جائے تو لباس اور پردہ پوشی کی حدود بھی درندہ صفت انسان کہیں نہ کہیں روند ڈالتے ہیں…ہمیں اصل ضرورت تربیت کی اور معاشرے میں زہر کی طرح پھیلتی اس منفیت کو روکنے کی ہے… وہ کوئی سا بھی فورم ہو کوئی سا بھی مقام ہو…آج کے نوجوان کل کے والدین ہیں…اور آنے والی نسلوں کا مستقبل انہی کے کردار پر منحصر ہے…
    نیز حدود اور قوانین کا اطلاق فرضِ اوّل ہونا چاہیے…!
    حکومت اور عدلیہ کی جانب سے خواتین کے پردہ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے احکامات صادر ہوں…
    پھر مجرم چھوٹا ہو یا بڑا اُسے اپنے کیے کا ڈر ہو…شکنجہ کسے جانے کا خوف ہو تو ہی اصلاح ممکن ہو سکتی ہے…
    سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیاں اور آزادی جو بے حیائی اور اخلاق باختگی کی ترویج کا باعث ہیں،ایک اسلامی مملکت میں انہیں مکمل بین کیا جانا چاہیے…یہ وقت کی ضرورت اور آنے والی نسلوں کے کردار و اخلاق کی بقاء کے لیے ازحد ضروری ہے…!
    پبلک اور مقدس مقامات پر جانے اور سرگرمیوں کے حوالے سے باقاعدہ اصول و ضوابط طے ہوں…بے حیائی کی عکس بندی کرتے مناظر اور سیلفیوں کی چنگاریاں جب آتش فشاں بن جاتی ہیں تو ہاتھ سروں پر رکھ کر بین شروع کر دیے جاتے ہیں اور ہر ایک ہی خود کو معصوم اور مظلوم جتاتا ہے…یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ایسے ناچ اور مجرے دیکھنے کے لیے آنے والے شرفاء نہیں بلکہ ہمیشہ شریر ذہن ہی ہوا کرتے ہیں…جن کی وجہ سے پورے معاشرے کے شرفاء پر انگلیاں نہیں اٹھائی جا سکتیں…
    ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں…اور ہر واقعہ میں کئی کردار ہوتے ہیں…ان سب چیزوں پر غور اور عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے…
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عورت تو وہ ہوتی ہے جسے میدانِ جنگ میں بھی قتل نہ کرنے کا استثناء ملا…عورت کی عزت اور رہ نمائی چاہے وہ کہیں بھی ہو کوئی بھی ہو…اس طرح کی جائے کہ وہ ایوان ریڈلے سے ہمیشہ کے لیے مریم بن جائے…ماضی قریب کی یہ شاندار مثال ہم سب کے لیے ایک سبق ہے…کوئی بھی محرک اس صنفِ نازک کے خلاف ایسا اقدام نہ اُٹھوائے جو وقتی ہی سہی ایک منفی امیج اور ایشو بن جائے…اور لبرل مافیا ہمیں عورت کی تعظیم اور حقوق کے درس دینے کے لیے کوؤں کی طرح چلچلانے لگے…
    عورت بھی اپنی حدود اور ذمہ داریوں کو گہرائی سے سمجھے اور جو یہ نہیں سمجھتیں تو میرے معاشرے کے مرد کی حیا اس قدر مضبوط ہو کہ کسی اور سوچ اور طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت کا لباس یا فیشن اُس سے حیا کی چادر نہ چھین سکے… اور آئے روز کے ایسے طوفانوں سے میرا یہ چمن محفوظ کہلائے…آمین…!
    ===============================

  • *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    تربیت امت کے گلدستہ سے ایک پھول کو چنا ہے جس کی خوشبو آپ تک بکھیرنے کی کوشش ہے اللہ کریم مجھے حق لکھنے آپ کو پڑھنے سمجھنے اور ہم سب کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے.
    بہن احساس کا نام ہے جب بھائی روتا ہے تو اس کو اس کے زخم اپنے زخم محسوس ہوتے ہیں. اس کی تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہوتی ہے. گھر میں کھلتی یہ کلیاں گھر کی رونق ہوتی ہیں بولتی ہیں تو جیسے آنگن چہچہاتا ہے. بھائی سے زد فرمائشیں ان بھر پورا ہونے پھ شکرانے کی وہ نظر کمال کا احساس ہوتا ہے.
    یہ محبت تو اللہ کریم کی دی ہوئی بے لوث نعمت ہے.
    سیرت کی کتاب سے مجھے ایک خوبصورت واقعہ ملا آپ کی سمانے گوش گزار کرتا چلوں تا کہ پتا چلے کہ ہمارے پیارے نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰ ﷺ کا اپنی بہن سے پیار کیسا تھا. اور بہن کا اپنے بھائی سے پیار کیسا تھا.
    عرب کے رواج کے مطابق نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پرورش فرما رہے تھے تو ساتھ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی اپنی بیٹی اور حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد مصطفیٰﷺ کی بہن بھی پرورش فرما رہی تھیں. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ سے بڑی تھیں جب باہر سہیلیوں میں بھای ﷺ کو لیکر نکلتیں تو کہتیں لاؤ کوئی میرے بھائی جیسا سہنا بھائی لاؤ. اللّٰہ اللّٰہ بہنوں کے کمال لاڈ. آپ ﷺ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتیں آپ ﷺ کے ساتھ کھیلتیں. بچپن کا زمانہ گزر گیا.
    وقت اور الفاظ کی قید کے پیش نظر اسی داستان کو مختصراً بیان کرتا ہوں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا اور دوسری جانب حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کی وہی رضائی بہن جو اس وقت تک ایمان نا لائی تھیں ان کی شادی ہو چکی تھی. جب اعلان نبوت کے بعد جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک جنگ کے مال غنیمت میں کچھ قیدی لاے گئے. جن کا تعلق حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبیلہ سے تھا. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبیلہ کے لوگوں نی بلایا اور کہا کل سنا کے محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں تمہارے بھائی ہیں اور ان کی قید میں ہمارے کچھ قیدی ہیں اگر تم انہیں چاہو تو چھڑا لاؤ. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی سہیلیوں کی ساتھ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں. صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کے باہر روکا اور پوچھا تو جواب ملا جاو اندر جا کر بولو محمدمصطفیٰﷺ کی بہن آئی ہے. وہی بڑی بہن والا انداز جواب آیا عزت سے لایا جاے آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر استقبال فرمایا چادر بچھائی اور بٹھایا. بچپن کی باتیں ہونے لگیں. سوال آیا بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اے محمدمصطفیٰﷺ تجھے کبھی بڑی بہن ہاد نا آئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین چڑھائی اور فرمایا بہن تجھے یاد ہے ایک بار تو نے یہاں میری بازو پر دانت کاٹا تھا. میں جب بھی تجھے یاد کرتا ہوں اپنی آستین پر تیرے دانت کا نشان دیکھ لیتا ہوں. تجھے کیسے لگا تیرا بھائی تجھے یاد نہیں کرتا. بہن بھائی کی محبت نے مسجد کے اندر مجمع اشک بار کر دیا. پوچھا کیسے آنا ہوا آج بھائی کیسے یاد آیا. کہنے لگیں ہمارے قبیلے کے کچھ قیدی مال غنیمت میں آے ہیں ان کے لیے آئی ہوں. جواب ملا بہن پیغام بھیج دیتی یا مجھے بلایا ہوتا اتنے سے کام کے لیے. جواب ملا تم ﷺ سے ملنے کا بھی دل تھا مدت ہوئی تھی دیکھے ہوے.
    کیا کمال ماحول ہو گا. آپ ﷺ نے کچھ مال بطور تحفہ عطا کیا اور قیدی بھی آزاد کیے. بہن نے بھی اسلام قبول کر لیا.
    سوال یہ ہے کبھی ہم نے بھی اہنی بہن سے اس طرح احساس والا معاملہ فرمایا ہے؟ بہن کے لیے اصول مال غنیمت ہی بدل ڈالا.
    بہنوں کی وراثت کھانے والوں سے سوال ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عطا کرنے کا حکم فرمایا ہے. ہم کس رخ جا رہے ہیں.
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.
    جب تم اپنی بہن کے گھر جاؤ تو کچھ نا کچھ لے کر جایا کرو.
    بہنوں کو بھائیوں کا انتظار ہوتا ہے.
    فی زمانہ دوسروں کی بہنوں پر ڈورے ڈالنے والوں سے گزارش ہے خدارا وہی خرچ اپنی بہن پر کرو تم کسی کی بہن کے 32 دانتوں سے بات نکلنے سے پہلے پورءمی کرنے کا جزبہ لے کر بیٹے ہو. تمہاری اپنی بہن کس کا انتظار کرے. وہی پیسہ وہی محبت اپنی بہنوں کو دو تاکہ اسے یہ کمی نمباہر سے پوری نا کرنی پڑے ان سے پیار کرو.
    ان کا خیال رکھو انکی ضرورت پوری کرو ان سے خوشگپیاں کرو. ان کا احترام کرو ان لر شفقت کرو. یہ تمہارے گھر کی رونق ہیں خدارا اس رونق کو آباد کرو. بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ بھائی کو رازدار بنائیں تاکہ عزت اپنی بھی محفوظ رہے بھائی کی غیرت بھی باپ کا مان بھی. گھر کا ماحول بھی سکون بھی خوشیاں بھی قرار بھی

    @EngrMuddsairH

  • فلاپ سکرپٹ  تحریر : فضیلت اجالہ

    فلاپ سکرپٹ تحریر : فضیلت اجالہ

    آزاد ملک کے 400آزاد باشندوں نے 14 اگست 2021 کو مینار پاکستان تلے جہاں آزادی کی بنیاد رکھی گئی تھی آزادی مناتے ہوئے عائشہ نامی لڑکی کو اسکی مرضی سے حراس کیا اسکا لباس تار تار کرتے ہوئے اسکی عزت و انا کو مٹی میں ملاتے ہؤئے اپنے آزاد ہونے کا ثبوت دیا یہ اور بات کہ وہ سب عائشہ ہی کی دعوت پہ وہاں جمع ہوئے تھے ، اور ایک بار پھر ملک پاکستان کا سر شرم سے جھکایا گیا ۔

    جی ہاں آزاد ، قانون کے ڈر سے آزاد ،ضمیر کی آواز سے آزاد ،احساسات سے آزاد، غیرت سے آزاد، اللہ کے خوف سے آزاد اور سب سے بڑھ کر مکافات عمل کے ڈر سے آزاد ان لوگوں نے یہ شرمناک کھیلا ، اور جلتی پہ تیل سستے چینلز کی ریٹنگ کی حوس نے ڈالہ ۔
    یہ سب لکھتے ہوئے میرا قلم شرمسار ہےلیکن میں مجبور ہوں لکھنے پہ کہ اگر آج نہیں بولیں گے تو کل یہ چار سو سے چار ہزار ہونگے اور وطن عزیز میں ان گدھوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور اس پاک دھرتی کو اپنی نحوست سے آلودہ کرتے رہیں گے ۔
    سوال یہ نہیں کہ وہ اکیلی کیوں تھی، سوال یہ بھی نہیں کہ اسکا محرم ساتھ نہیں تھا،مجھے اس کے نازیبا لباس پہ بھی کوئ اعتراض نہیں ہے سوال تو یہ ہے کہ 14 اگست کو یہ واقعہ پیش آتا ہے لیکن کہیں اسکا زکر نہیں ہوتا کوئ ویڈیوں سامنے نہیں آتی عائشہ اکرم نامی خاتون 15 اگست کو انسٹا گرام پر اپنی تصاویر شئیر کرتی ہیں لیکن اس واقعہ کا کوئ زکر نہیں ملتا کیوں؟؟؟
    17 اگست کو اچانک سے تمام مواد سوشل میڈیا پہ شائع ہوتا ہے اور عائشہ مظلومیت کی تصویر بنی آنسو ں بہاتی سستے چینلز کی ریٹنگ بڑھاتی نظر آتی ہیں کیوں؟ 14 اگست کو ہی یہ خبر کیوں نہیں پھیلی؟؟ کیوں ایف آی آر نہیں کٹوائ گئ ؟ چلے مان لیتی ہوں کہ لڑکی تھی عزت کے ڈر سے لوگوں کے ڈر سے خاموش تھی لیکن وہاں موجود تمام لوگ کیسے خاموش تھے ؟ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں موجود کافی لوگوں نے اپنے کیمروں میں اس گھناؤنے منظر کو قید کیا تھا 14 اگست سے لیکر سترہ اگست تک کیوں کوئ ویڈیوں منظر عام پہ نہیں آئ اور 17 اگست کو ایک دم سے ساری ویڈیوز اپ لوڈ کردی گئ اور معصوم عوام کو الو بنایا ،سستی شہرت کے نشے میں پاگل کچھ لبرلز اور صحافیوں نے تو عرض پاک کے باشندے ہونے کو ہی شرمنگی کا باعث قرار دے دیا ،سب سے پہلے تو ان دیسی لبرلز کو ملک بدر کرنا چاہیے جو جس مٹی کی بدولت آج دو لفظ بولنے کے قابل ہیں اسی کے خلاف ہرزہ سرائ کرتے ہیں

    ان تمام باتوں سے دو ہی پہلوں نکلتے ہیں کہ یا تو یہ سارا تماشہ سستی شہرت کیلیے رچایا گیا جس میں محترمہ خاصی کامیاب بھی رہی یا پھر اس تمام ڈرامے کے پیچھے ایسے ملک دشمن عناصر کا ہاتھ ہے جو اسی ملک کا کھاتے ہیں اور اسی ملک کا نام خراب کرتے ہیں
    جو خود تو باہر کے ملکوں میں عیاشیاں کرتے ہیں اور یہاں عورت کارڈ کھیلتے ہوئے مکل و قوم کا نام داغدار کرتے ہیں ۔ان دونوں مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے بھی صرف عورت قصور وار نہیں ہے اس میں ملوث تمام بے غیرت مرد بھی برابر کے قصور وار ہیں ،جو پیسے کے لالچ میں یا زاتی حوس میں اس بے ہودہ ڈرامے کا حصہ بنے ،دوسروں کی عورتوں پہ بری نظر رکھ کہ انہیں گدھ کی طرح نوچ کہ اپنی عورتوں کے متعلق یہ گمان کیوں رکھتے ہو کو ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا؟ دنیا مکافات عمل ہے آج کسی کی بیٹی کو ننگا کرتے ہو مقصد کوئ بھی ہو چاہے اس عورت کی رضامندی بھی شامل ہو پھر بھی کل اپنی بیٹی کواپنےہی جسے کسی اور نامرد کے ہاتھوں بے لباس ہوتے دیکھنے کیلیے تیار رہو۔
    بے شک یہ سارا ڈرامہ تھا وہ تمام مرد حضرات اس عورت کے کہنے پہ وہاں موجود تھے لیکن تمھاری غیرت تمھاری تربیت تمھارے ایمان کا کیا؟ کیا تمھاری اخلاقی اقدار اس قدر پست اور مادری تربیت اس قدر کمزور ہے کہ عورر کو دیکھتے ہی تمھارے اندر کا جانور تم پر غالب آجاتا ہے زرا سے پیسے کا لالچ تمہیں اچھے برے کی تمیز بھول جاتا ہے اور تم اس مملکت خداد جس کی بنیاد ہی لاالہ اللہ ہے کا نام خراب کرنے کیلیے تیار ہوجاتے ہو ۔

    اوع جو لوگ اس تمام معاملے میں عمران خان کے اسلام اور پردے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو گھسیٹ رہے ہیں انکو بتاتی چلوں کہ بے شک اسلام ہی راہ نجات ہے ،مکمل لباس اور حیا عورت کا زیور ہے ۔عمران خان نے مکمل لباس پہننے اور بے حیائ سے رکنے کی بات ضرور ہی جو صحیح بھی ثابت ہو رہی ہے
    لیکن عمران خان نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اسلام بے ہودہ کپڑے پہننے والی عورت کے کپڑے پھاڑنے کی اجازت دیتاہے ،
    درحقیقت اسلام تنہا عورت کو دیکھ کے بھوکے کتوں کی طرح لپکنے کا نہیں بلکہ نگاہ جھکا کہ راستہ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے ۔اگر اس تمام واقعہ کو سچ مان بھی لوں تو میرا دل نہیں مانتا کہ اتنے ہنجوم میں کسی کی ماں بہن بیٹی کو ان حالات میں پہنچاتے کسی ایک شخص کو بھی اپنے گھر میں موجود عورتوں کا خیال نہیں آیا ہوگا ،ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ان گِدھوں کی بھیڑ میں کسی ایک کو بھی اپنے ایمان کا خیال نہیں آیا ،اسکی چینخیں سنتے ہوئے ،ویڈیوں بناتے ہوئے مکافات عمل کے ڈر نے کسی ایک کے قدموں کو زنجیر نا کیا ہو ؟
    عام کہاوت ہے کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح وہاں موجود تمام مرد کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں ،اگر اس ملک میں جگہ جگہ بھیڑیے گھات لگائے بیٹھے ہیں تو وہیں کچھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جن کی بدولت یہ ملک قائم و دائم ہے
    آج یہ ایک واقعہ ہے لیکن اگر ٹک ٹاک جیسی فضولیات پہ پابندی نہیں لگائ جاتی ،والدین اپنی اولاد کو اس گھٹیا فعل سے نہی روکیں گے اور سارا الزام ریاست کے سر ڈالتے رہیں گے تو کل کئ عائشہ اور حریم شاہ ہونہی سر بازار اپنی اور مملکت خدادا اس سوھنی دھرتی کی عزت تار تار کرتی رہیں گی اور ان میں سے کوئ آپ کی بیٹی ہوگی تو کوئ بہن تو کسی کہ آپ شوہر ہونگے تب آنسو نا بہائیے گا ، بس پاکستان اور عمران خان کو قصور وار ٹھرائیے گا اور تمام عمل کا اسی طرح دفاع کیجیے گا ۔
    اس طرح کے فیک پراپگینڈے کی وجہ سے وہ تمام عورتیں جو واقع مظلوم ہوتی ہیں جن کے ساتھ واقع زیادتی ہوتی ہے وہ اپنا کیس لڑنے سے پہلے ہار جاتی ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنا وقار مجروح نا کریں نا کسی دوسرے کو اس کی اجازت دیں
    حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیق کریں اور اس میں ملوث تمام لوگوں کو لڑکی سمیت کڑی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کی جرات نا ہو کہ وہ زاتی مفادات کی خاطر ملک پاکستان کا نام خراب کرنے کا ناپاک خیال بھی اپنے دل میں لائیں ۔
    @_Ujala_R

  • انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ ایک ایسا جھال ہے جس میں سب بچے، بوڑھے اور نوجوان سب پھنستے جارہے ہیں ۔کوئی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے کو تیار ہی نہیں کے انکا قیمتی وقت رشتے تعلیم اور دنیاوی کامیونیکیشن سے ہی کٹا ہوا ہے۔لوگ اکثر گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استمال کرتے ہیں۔گھر بیٹھے بزرگوں کی باتیں نظرانداز کرکے گھر کے کونے میں پورا دن بیٹھ کر گلوبل دنیا سے رابطہ کرلیتے ہیں پر بزرگوں بڑھوں اور بچوں کو ٹائم دینے سے گریز کرتے ہیں۔پہلے کے دؤر میں بچے بزرگوں کیساتھ بیٹھ کر اخلاقی روایات کی کہانیاں اور اقدار کے درس سنتے تھے جوکہ دؤر حاضر کے بچوں کو ہاتھ میں موبائیل تھما دیتے ہیں اور بچے دنیا میں قدم رکھتے ہی اس ٹیکنالاجی سے واسطہ پڑھ جاتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے آپکا ڈیٹا چوری ہو رہا ہے۔آپ کس بات سے خوش ہوتے ہیں اور آپکو کیا اچھا لگتا ہے سب شیئر ہورہا ہے۔
    آپ سیاست میں کیا پسند کرتے ہیں مذہب، کھیل میں آپ کو کیا پسند ہے تمام چیزیں آپ کے سامنے انٹرنیٹ کی دنیا میں شیئر ہورہی ہیں ۔انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال سے انسان معاشرے سے کٹ ہو کر لاشعوری خیالی دنیا میں رہنے پر مجبور ہورہاہے۔ اور رشتے داروں سے بھی دور تنہائی میں بیٹھنے کو ترجیع دیتے ہیں جس کی وجہ سے خود کشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ڈپٹریشن کا شکار ہورہے ہیں جس سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
    والدین کو معلوم ہی نہی کہ انکے بچے کس ٹائم سوتے ہیں۔ان کی دوستی کس کے ساتھ ہے۔ بچوں کی اخلاقی معیار اور رواداری کا عمل کمزور ہوتا جارہا ہے جس سے معاشرے کا بگاڑ ثابت ہورہا ہے۔ والدین اپنے بچوں پر زیادہ تر اخلاقی،نفسیاتی رواداری کے تسلسل پر توجہ نہیں دیتے بلکہ ہیں کہ ان کا اسکول میں اچھے نمبرز لانا اور پوزیشن لانا ہی اولین مقصد سمجھتے ہیں۔ناکہ بچہ غلطی کرے تو ان کی حوصلہ افزائی کرنا غلطیوں سے سیکھنےکی عادت ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔بس وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کسی نہ کسی طرح پوزیشن لے کر گھر آئے۔
    اگرچہ پاکستان میں اخلاقی معیار کو دیکھنا ہو تو آپ آج کل کے واقعات دیکھ لیں جیسے زینب کا واقعہ، اسلام آباد میں مین ہائی وے پر ایک عورت کا اپنے بچوں کے سامنے کینگ ریپ، اور تازہ دل دھلانے والہ واقعہ مینار پاکستان میں ٹک ٹاکر کے ساتھ 400 لوگوں کی زیادتی ،،، یہ سب ٹک ٹاک اور سنیک چیٹ جیسی معاشرتی بگاڑ ایپ پر بین لگا کر نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچائیں اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر انکی سرگرمیوں کے متعلق باخبر رہیں اور اپنی بیٹیوں کو برقعہ پہننے پر زور دیں اور اسکول کالیج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور اقدار کا مطالعہ کرنے پر زور دیں۔
    تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)
    #Ummeaeman

  • اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    مینار پاکستان 14 اگست ایک عورت پر 200 سے زائد مرد بشمول ایک دس سالہ بچے نے مال غنیمت سمجھ کر حملہ کردیا اسکے کپڑے پھاڑ دیئے اسکو برھنہ کرکے ھوا میں اچھالا تین دن اس لڑکی نے کیس نھیں کیا اور پھر اچانک وہ ویڈیو وائرل ھوئ ایف آئ آر درج ھوگئ وزیراعظم نے نوٹس جو لیا تو پولیس بھی ھوش میں آگئ سوشل میڈیا پر عوام ماوں بہنوں بیٹیوں اور درد رکھنے والے لوگوں نے شدید غصہ دکھ کا اظہار کیا عورت نے آج ایک ویڈیو بنائ یوٹیوب پر اپلوڈ کی اور ویڈیو کے آخر میں سب سے کہا مجھے فالو کریں

    میں سوشل میڈیا فیس بک ٹیوٹر پر نا صرف کافی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے رابطہ میں رھتا ھوں بلکہ بھارت افغانستان سعودی عرب جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے ایکٹوسٹ بھی میرے قریبی دوستوں کی لسٹ میں رھتے ایسا کوی واقعہ سانحہ پیش آئے تو لازما ایک دوسرے سے رابطے ھوتے میں آج ان سب سے نظریں نھیں ملا سکا آج میں گھر میں آیا تو ایک عجب خوف ایک عجب ڈر کیساتھ داخل ھوا مجھے رہ رہ کر ایک خیال آتا جھر جھری ھوتی جھٹلا دیتا میرے جیسے کئی لوگ اپنی فیملیز ساتھ مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات کی سیر کو جاتے ھر لمحہ اس واقعہ کو میں ان یادگار لمحات ساتھ جوڑتا ڈر سا جاتا سہم سا جاتا کوی وجہ کوی توجیح کوی کہانی اس بدکاری بے غیرتی زیادتی گھٹیا پن کا جواز نھیں ھوسکتی بطور مسلمان بطور پاکستانی بطور انسان میں شرمندہ ھوں

    اب آتے اس بات پر کہ پولیس اسوقت کہاں تھی؟14 اگست کو جب دنیا گھروں سے نکلتی مینار پاکستان آتی ایسے وقت میں کوی 200 لوگ ایک عورت پر حملہ آور کیسے ھوگئے اگر وہ عورت مر جاتی تو؟اسکا مطلب کوئی فیملی کوئی شخص بھی اس اھم دن پر محفوظ نھیں تھا ابھی تک تو یہ معمہ بھی حل طلب ھے کہ وزیراعلی عثمان بزدار کی موجودگی میں ایک شادی کے فنکشن پر ذاتی دشمنی ھی سہی پر ایک قتل ھوگیا کیا یہ سکیورٹی لیپس نھیں تھا کیا اس ناکامی پر آئی جی پنجاب سے لیکر ایس ایچ او تک کی بازپرسی نھیں ھونی چاھیئے؟جانور ھر جگہ پائے جاتے یہ بے قابو تب ھوتے جب انکو یہ احساس ھوجاتا وہ جنگل میں ھیں سعودی عرب میں کوی ایسا کرکے دکھائے اگلے دن الٹا لٹکا دیں پولیس کو جوابدہ ھونا پڑیگا

    اب آخر میں آتے ھیں اس محترمہ پر جس پر ایسا حملہ ھوا کہ پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی ھوی وہ یوٹیوب پر اپنا چینل چلاتی ھیں اور آج بھی ایک ویڈیو بھی اپلوڈ کرکے سب سے سوالات پوچھ کر کہتی کہ مجھے فالو کریں یہ کیا دور ھے کیا زمانہ ھے ابھی سوشل میڈیا پر یہ بات بھی چل نکلی ھے کہ محترمہ نے خود ان لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا میں اس بات کو مانوں یا نا مانوں میں اس بات پر ضرور بولونگا کا کہ جو ھوا وہ درندگی تھی چلو ایف آئ آر نھیں کاٹی ماں لیتے معاشرہ ایسا مگر ایف آئ آر نھیں کٹوانی کے عزت پر حرج نا آجائے تو ویڈیو بناکر فالوور کی آواز لگانا یہ سمجھ سے بالاتر ھے حکومت سے درخواست اس معاملے کو غور سے دیکھیں کہیں ملک دشمن عناصر نے منصوبے کے تحت یہ سانحہ رونما تو نھیں کروایا بہرحال وجہ جو بھی ھو ظلم تو ھوا ھے زیادتی تو ھوی ھے ملک کی بدنامی تو ھی ھے سبکی الگ سے ھوی اب اسکا مداوا بھی کرنا ھوگا اور آئندہ ایسا نا جو اسکے لئے سدباب بھی کرنا پڑیگا

  • کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    جو عبرت سے نہ سمجھے ، دلائل بھی نہ مانے تو
    قیامت خود بتائے گی، قیامت کیوں ضروری تھی!
    بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے پر آج میں یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کیسا محافظ ہے یہ مرد جس سے عورت خود کو محفوظ تصور نہیں کر پاتی۔ کیا محافظ ایسے ہوتے ہیں؟
    14 اگست ۔۔ آزادی کا دن۔۔ جشن کا سماں۔۔ جگہ بھی مینار پاکستان!!کیا دیکھنے کو ملتا ہے کہ حوا کی بیٹی کو دن کے وقت میں ایک نہیں ، دو نہیں ، سو نہیں بلکہ پورے 400 درندے یک دم گھیر لیتے ہیں ۔ معافی چاہتی مگر مرد تو دور کی بات میں انہیں جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین سمجھتی ہوں۔ پھر ! پھر کیا حوس کے یہ پجاری دل بھر کے اس کی عزت کا تماشہ بناتے ہیں، ہوا میں اچھالتے ہیں ا ور اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔ اور حد یہاں ختم ہوتی کہ اس کو ان درندوں سے بچانے کی بجائے وہاں کچھ حیوان اس سب کی ویڈیوبنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔وہ بھی آزادی کے دن، اقبال پارک میں۔۔ کیا ہم سب پاکستانی واقعی آزاد ہیں!! یا اس ملک میں صرف یہ درندے آزاد ہیں جو جب چاہیں ، جہاں چاہیں، جسے چاہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنا لیتے ہیں، جنہیں اب تک کی تمام حکومتیں اور تنظیمیں لگام ڈالنے میں ناکام رہیں۔
    چلیں اس بات کو بھی مان لیتے ہیں کہ لڑکی خراب تھی وہ ، ٹک ٹاکر تھی، ناچ رہی تھی ، بے حیا تھی اس لیے اس کے ساتھ یہ سب ہوا مان لیتے سوشل میڈیا پہ ان درندوں کو ڈیفنڈ کرنے والوں کی یہ بات بھی مان لیتے ہیں۔ مگر ابھی پچھلے ہی عرصے کی بات ہے جب راولپنڈی میں ایک لڑکی جو ٹیچرتھی مکمل عبائے میں یہاں تک کہ منہ بھی ڈھکا ہواہاتھ میں کچھ کتابیں لیے نظریں جھکائے صبح کے وقت سکول میں بچوں کو تعلیم دینے جارہی تھی کہ راستے میں ایک درندہ بائیک پہ آتے ہوئے اس کو عبائے سمیت زور سے کھینچتا ہوا گرا کہ چلا جاتا ہے۔ کیا یہ لڑکی بھی خراب تھی؟اس کا کیا قصور تھا۔ چلیں اسے بھی چھوڑیں پر یہ سوچیں کہ زینب جیسی ان ننھی بچیوں کا کیا قصو ر ہوتا جنہیں یہ درندے اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ساری زندگی وہ اس صدمے سے نکل نہیں پاتیں۔آج جو بھی سوشل میڈیا پہ کہہ رہا ہے کہ باحیا لڑکی کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا میں انہیں بتانا چاہتی جب انسان میں انسانیت کی جگہ درندگی لے لیتی ہے نہ تو اس کے لیے یہ حیا اور بے حیا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔یہ الفاظ اس کے لیے بےکار ہو جاتے ہیں۔۔ ایسے لوگ اپنی حوس کی تسکین کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔
    بس ایک چیز جو مجھے بے چین کر رہی ہے اور ذہن کو سکون نہیں لینے دے رہی کہ وہاں موجود تمام لوگوں میں سےکوئی ایک بھی مرد نہ تھا یا سارے مرد ہی ایسے ہوتےہیں ! کیا کسی ایک کا بھی نہیں دہلا! کسی ایک کو بھی خیال نہ آیا کہ وہ اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے! اپنے نبی ﷺکا سامنا کیسے کریں گے! میں پوچھتی ہوں کہ کس منہ سےنبی کی بیٹیوں کی بے حرمتی پہ روتے ہو، کیا تم کسی یزید سے کم ہو؟
    عورت کو نچواتے ہیں بازار کی جنس بنواتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کے غم میں تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    ان ظالم اور بدکاروں سے بازار کے ان معماروں سے
    میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پہ ظلم کرو

    @MS_14_1

  • عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض


    ‎ابھی نور مقدم کے قتل کو تین ہفتے ہی گزرے ہیں کہ ہمیں اس سے ملتے جلتے ایک اور سانحے نے آن گھیرا ہے اس جشن آزادی پر گریٹر اقبال پارک میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا ہے جس نے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار سو کے قریب لوگوں نے ایک ٹک ٹاکر عورت کو گھر رکھا ہے اور اس سے ناشائستہ حرکات کر رہے ہیں کچھ لوگ اس کو ہوا میں اچھال رہے ہیں جیسے کسی کھلونے سے کھیلتے وقت اس اچھالا جاتا ہے اس کے بعد تو تمام حدوں کو عبور کر دیا گیا اور اس خاتون کے کپڑے پھاڑ دیے گئے یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد میری ہمت جواب دے گئی اور دوبارہ اسے نا دیکھ سکا شائد کتنے ہی ایسے ماں باپ ہوں گے جنھوں نے اپنی بچیوں کو مستقبل میں اعلی تعلیم دلوانے کے خواب دیکھ رکھے ہونگے مگر یہ واقعہ دیکھنے کے بعد شائد وہ بھی یہ بات ماننے پر قائل ہو جائیں کہ پاکستان اب عورتوں کے لیے محفوظ نہیں رہا کیونکہ عثمان مرزا کیس کے بعد نور مقدم والا واقعہ رونما ہوا اس سے پہلے سیا لکوٹ موٹروے سانحہ ابھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھا جو چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ عورتوں کو اس ملک میں صرف مال غنیمت کی نظر سیے ہی دیکھا جاتا ہے ۔ منگل کے روز پاکستان کے سوشل میڈیا پر لاہور میں کئی مردوں کی جانب سے ایک لڑکی کو سرعام ہراساں کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے کہ کیا پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ملک ہے
    ‎منگل کے روز متعلقہ خاتون نے لاہور کے تھانہ لاری اڈہ میں درخواست دی کہ وہ 14 اگست کو شام ساڑھے چھ بجے اپنے ساتھی عامر سہیل، کیمرہ مین صدام حسین اور دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم وہاں پر موجود تین چار سو سے زیادہ افراد کے ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا۔
    ‎درخواست کے مطابق خاتون اور ان کے ساتھیوں نے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران وہ گارڈ کی جانب سے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ لوگ جنگلے کو پھاڑ کر ان کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی
    شوشل میڈیا پر اس واقعے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور 400#اس وقت ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ان چار سو درندوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنھوں نے اس عورت پر حملہ کیا-اور حکومت وقت اور دوسرے اداروں سے اس بات کی اپیل کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد ان درندوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ لوگوں کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے اس کے علاوہ اس طرح کہ قوانین بنائے جائیں جس سے عورتوں کو گھر سے نکلتے وقت اس بات کی پریشانی نہ ہو کہ اس کس چوک میں بھڑیوں کی طرف سے گھیر لیا جائے گا-بحثیت معاشرہ ہمیں اس وقت اندازہ ہی نہیں کہ ہم جہالت کی کن پستیوں میں رہ رہے ہیں ہمیں اپنے آنے والی نسلوں کی اس انداز میں تربیت کرنی ہے کہ وہ ایک انسانی معاشرہ تشکیل دے سکیں شائد اس کے لیے ابھی کئی صدیاں درکار ہوں گی-اس تحریر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تمام مرد ایک ہی طرز کہ یقیناً جہاں اچھائی ہوتی ہے وہاں برائی بھی ہوتی ہے اسی طرح وطن عزیز میں کئی اعلی اخلاق کے حامل افراد بھی موجود ہیں اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@