Baaghi TV

Category: خواتین

  • فلاپ سکرپٹ  تحریر : فضیلت اجالہ

    فلاپ سکرپٹ تحریر : فضیلت اجالہ

    آزاد ملک کے 400آزاد باشندوں نے 14 اگست 2021 کو مینار پاکستان تلے جہاں آزادی کی بنیاد رکھی گئی تھی آزادی مناتے ہوئے عائشہ نامی لڑکی کو اسکی مرضی سے حراس کیا اسکا لباس تار تار کرتے ہوئے اسکی عزت و انا کو مٹی میں ملاتے ہؤئے اپنے آزاد ہونے کا ثبوت دیا یہ اور بات کہ وہ سب عائشہ ہی کی دعوت پہ وہاں جمع ہوئے تھے ، اور ایک بار پھر ملک پاکستان کا سر شرم سے جھکایا گیا ۔

    جی ہاں آزاد ، قانون کے ڈر سے آزاد ،ضمیر کی آواز سے آزاد ،احساسات سے آزاد، غیرت سے آزاد، اللہ کے خوف سے آزاد اور سب سے بڑھ کر مکافات عمل کے ڈر سے آزاد ان لوگوں نے یہ شرمناک کھیلا ، اور جلتی پہ تیل سستے چینلز کی ریٹنگ کی حوس نے ڈالہ ۔
    یہ سب لکھتے ہوئے میرا قلم شرمسار ہےلیکن میں مجبور ہوں لکھنے پہ کہ اگر آج نہیں بولیں گے تو کل یہ چار سو سے چار ہزار ہونگے اور وطن عزیز میں ان گدھوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور اس پاک دھرتی کو اپنی نحوست سے آلودہ کرتے رہیں گے ۔
    سوال یہ نہیں کہ وہ اکیلی کیوں تھی، سوال یہ بھی نہیں کہ اسکا محرم ساتھ نہیں تھا،مجھے اس کے نازیبا لباس پہ بھی کوئ اعتراض نہیں ہے سوال تو یہ ہے کہ 14 اگست کو یہ واقعہ پیش آتا ہے لیکن کہیں اسکا زکر نہیں ہوتا کوئ ویڈیوں سامنے نہیں آتی عائشہ اکرم نامی خاتون 15 اگست کو انسٹا گرام پر اپنی تصاویر شئیر کرتی ہیں لیکن اس واقعہ کا کوئ زکر نہیں ملتا کیوں؟؟؟
    17 اگست کو اچانک سے تمام مواد سوشل میڈیا پہ شائع ہوتا ہے اور عائشہ مظلومیت کی تصویر بنی آنسو ں بہاتی سستے چینلز کی ریٹنگ بڑھاتی نظر آتی ہیں کیوں؟ 14 اگست کو ہی یہ خبر کیوں نہیں پھیلی؟؟ کیوں ایف آی آر نہیں کٹوائ گئ ؟ چلے مان لیتی ہوں کہ لڑکی تھی عزت کے ڈر سے لوگوں کے ڈر سے خاموش تھی لیکن وہاں موجود تمام لوگ کیسے خاموش تھے ؟ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں موجود کافی لوگوں نے اپنے کیمروں میں اس گھناؤنے منظر کو قید کیا تھا 14 اگست سے لیکر سترہ اگست تک کیوں کوئ ویڈیوں منظر عام پہ نہیں آئ اور 17 اگست کو ایک دم سے ساری ویڈیوز اپ لوڈ کردی گئ اور معصوم عوام کو الو بنایا ،سستی شہرت کے نشے میں پاگل کچھ لبرلز اور صحافیوں نے تو عرض پاک کے باشندے ہونے کو ہی شرمنگی کا باعث قرار دے دیا ،سب سے پہلے تو ان دیسی لبرلز کو ملک بدر کرنا چاہیے جو جس مٹی کی بدولت آج دو لفظ بولنے کے قابل ہیں اسی کے خلاف ہرزہ سرائ کرتے ہیں

    ان تمام باتوں سے دو ہی پہلوں نکلتے ہیں کہ یا تو یہ سارا تماشہ سستی شہرت کیلیے رچایا گیا جس میں محترمہ خاصی کامیاب بھی رہی یا پھر اس تمام ڈرامے کے پیچھے ایسے ملک دشمن عناصر کا ہاتھ ہے جو اسی ملک کا کھاتے ہیں اور اسی ملک کا نام خراب کرتے ہیں
    جو خود تو باہر کے ملکوں میں عیاشیاں کرتے ہیں اور یہاں عورت کارڈ کھیلتے ہوئے مکل و قوم کا نام داغدار کرتے ہیں ۔ان دونوں مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے بھی صرف عورت قصور وار نہیں ہے اس میں ملوث تمام بے غیرت مرد بھی برابر کے قصور وار ہیں ،جو پیسے کے لالچ میں یا زاتی حوس میں اس بے ہودہ ڈرامے کا حصہ بنے ،دوسروں کی عورتوں پہ بری نظر رکھ کہ انہیں گدھ کی طرح نوچ کہ اپنی عورتوں کے متعلق یہ گمان کیوں رکھتے ہو کو ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا؟ دنیا مکافات عمل ہے آج کسی کی بیٹی کو ننگا کرتے ہو مقصد کوئ بھی ہو چاہے اس عورت کی رضامندی بھی شامل ہو پھر بھی کل اپنی بیٹی کواپنےہی جسے کسی اور نامرد کے ہاتھوں بے لباس ہوتے دیکھنے کیلیے تیار رہو۔
    بے شک یہ سارا ڈرامہ تھا وہ تمام مرد حضرات اس عورت کے کہنے پہ وہاں موجود تھے لیکن تمھاری غیرت تمھاری تربیت تمھارے ایمان کا کیا؟ کیا تمھاری اخلاقی اقدار اس قدر پست اور مادری تربیت اس قدر کمزور ہے کہ عورر کو دیکھتے ہی تمھارے اندر کا جانور تم پر غالب آجاتا ہے زرا سے پیسے کا لالچ تمہیں اچھے برے کی تمیز بھول جاتا ہے اور تم اس مملکت خداد جس کی بنیاد ہی لاالہ اللہ ہے کا نام خراب کرنے کیلیے تیار ہوجاتے ہو ۔

    اوع جو لوگ اس تمام معاملے میں عمران خان کے اسلام اور پردے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو گھسیٹ رہے ہیں انکو بتاتی چلوں کہ بے شک اسلام ہی راہ نجات ہے ،مکمل لباس اور حیا عورت کا زیور ہے ۔عمران خان نے مکمل لباس پہننے اور بے حیائ سے رکنے کی بات ضرور ہی جو صحیح بھی ثابت ہو رہی ہے
    لیکن عمران خان نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اسلام بے ہودہ کپڑے پہننے والی عورت کے کپڑے پھاڑنے کی اجازت دیتاہے ،
    درحقیقت اسلام تنہا عورت کو دیکھ کے بھوکے کتوں کی طرح لپکنے کا نہیں بلکہ نگاہ جھکا کہ راستہ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے ۔اگر اس تمام واقعہ کو سچ مان بھی لوں تو میرا دل نہیں مانتا کہ اتنے ہنجوم میں کسی کی ماں بہن بیٹی کو ان حالات میں پہنچاتے کسی ایک شخص کو بھی اپنے گھر میں موجود عورتوں کا خیال نہیں آیا ہوگا ،ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ان گِدھوں کی بھیڑ میں کسی ایک کو بھی اپنے ایمان کا خیال نہیں آیا ،اسکی چینخیں سنتے ہوئے ،ویڈیوں بناتے ہوئے مکافات عمل کے ڈر نے کسی ایک کے قدموں کو زنجیر نا کیا ہو ؟
    عام کہاوت ہے کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح وہاں موجود تمام مرد کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں ،اگر اس ملک میں جگہ جگہ بھیڑیے گھات لگائے بیٹھے ہیں تو وہیں کچھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جن کی بدولت یہ ملک قائم و دائم ہے
    آج یہ ایک واقعہ ہے لیکن اگر ٹک ٹاک جیسی فضولیات پہ پابندی نہیں لگائ جاتی ،والدین اپنی اولاد کو اس گھٹیا فعل سے نہی روکیں گے اور سارا الزام ریاست کے سر ڈالتے رہیں گے تو کل کئ عائشہ اور حریم شاہ ہونہی سر بازار اپنی اور مملکت خدادا اس سوھنی دھرتی کی عزت تار تار کرتی رہیں گی اور ان میں سے کوئ آپ کی بیٹی ہوگی تو کوئ بہن تو کسی کہ آپ شوہر ہونگے تب آنسو نا بہائیے گا ، بس پاکستان اور عمران خان کو قصور وار ٹھرائیے گا اور تمام عمل کا اسی طرح دفاع کیجیے گا ۔
    اس طرح کے فیک پراپگینڈے کی وجہ سے وہ تمام عورتیں جو واقع مظلوم ہوتی ہیں جن کے ساتھ واقع زیادتی ہوتی ہے وہ اپنا کیس لڑنے سے پہلے ہار جاتی ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنا وقار مجروح نا کریں نا کسی دوسرے کو اس کی اجازت دیں
    حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیق کریں اور اس میں ملوث تمام لوگوں کو لڑکی سمیت کڑی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کی جرات نا ہو کہ وہ زاتی مفادات کی خاطر ملک پاکستان کا نام خراب کرنے کا ناپاک خیال بھی اپنے دل میں لائیں ۔
    @_Ujala_R

  • انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ ایک ایسا جھال ہے جس میں سب بچے، بوڑھے اور نوجوان سب پھنستے جارہے ہیں ۔کوئی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے کو تیار ہی نہیں کے انکا قیمتی وقت رشتے تعلیم اور دنیاوی کامیونیکیشن سے ہی کٹا ہوا ہے۔لوگ اکثر گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استمال کرتے ہیں۔گھر بیٹھے بزرگوں کی باتیں نظرانداز کرکے گھر کے کونے میں پورا دن بیٹھ کر گلوبل دنیا سے رابطہ کرلیتے ہیں پر بزرگوں بڑھوں اور بچوں کو ٹائم دینے سے گریز کرتے ہیں۔پہلے کے دؤر میں بچے بزرگوں کیساتھ بیٹھ کر اخلاقی روایات کی کہانیاں اور اقدار کے درس سنتے تھے جوکہ دؤر حاضر کے بچوں کو ہاتھ میں موبائیل تھما دیتے ہیں اور بچے دنیا میں قدم رکھتے ہی اس ٹیکنالاجی سے واسطہ پڑھ جاتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے آپکا ڈیٹا چوری ہو رہا ہے۔آپ کس بات سے خوش ہوتے ہیں اور آپکو کیا اچھا لگتا ہے سب شیئر ہورہا ہے۔
    آپ سیاست میں کیا پسند کرتے ہیں مذہب، کھیل میں آپ کو کیا پسند ہے تمام چیزیں آپ کے سامنے انٹرنیٹ کی دنیا میں شیئر ہورہی ہیں ۔انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال سے انسان معاشرے سے کٹ ہو کر لاشعوری خیالی دنیا میں رہنے پر مجبور ہورہاہے۔ اور رشتے داروں سے بھی دور تنہائی میں بیٹھنے کو ترجیع دیتے ہیں جس کی وجہ سے خود کشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ڈپٹریشن کا شکار ہورہے ہیں جس سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
    والدین کو معلوم ہی نہی کہ انکے بچے کس ٹائم سوتے ہیں۔ان کی دوستی کس کے ساتھ ہے۔ بچوں کی اخلاقی معیار اور رواداری کا عمل کمزور ہوتا جارہا ہے جس سے معاشرے کا بگاڑ ثابت ہورہا ہے۔ والدین اپنے بچوں پر زیادہ تر اخلاقی،نفسیاتی رواداری کے تسلسل پر توجہ نہیں دیتے بلکہ ہیں کہ ان کا اسکول میں اچھے نمبرز لانا اور پوزیشن لانا ہی اولین مقصد سمجھتے ہیں۔ناکہ بچہ غلطی کرے تو ان کی حوصلہ افزائی کرنا غلطیوں سے سیکھنےکی عادت ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔بس وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کسی نہ کسی طرح پوزیشن لے کر گھر آئے۔
    اگرچہ پاکستان میں اخلاقی معیار کو دیکھنا ہو تو آپ آج کل کے واقعات دیکھ لیں جیسے زینب کا واقعہ، اسلام آباد میں مین ہائی وے پر ایک عورت کا اپنے بچوں کے سامنے کینگ ریپ، اور تازہ دل دھلانے والہ واقعہ مینار پاکستان میں ٹک ٹاکر کے ساتھ 400 لوگوں کی زیادتی ،،، یہ سب ٹک ٹاک اور سنیک چیٹ جیسی معاشرتی بگاڑ ایپ پر بین لگا کر نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچائیں اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر انکی سرگرمیوں کے متعلق باخبر رہیں اور اپنی بیٹیوں کو برقعہ پہننے پر زور دیں اور اسکول کالیج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور اقدار کا مطالعہ کرنے پر زور دیں۔
    تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)
    #Ummeaeman

  • اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    مینار پاکستان 14 اگست ایک عورت پر 200 سے زائد مرد بشمول ایک دس سالہ بچے نے مال غنیمت سمجھ کر حملہ کردیا اسکے کپڑے پھاڑ دیئے اسکو برھنہ کرکے ھوا میں اچھالا تین دن اس لڑکی نے کیس نھیں کیا اور پھر اچانک وہ ویڈیو وائرل ھوئ ایف آئ آر درج ھوگئ وزیراعظم نے نوٹس جو لیا تو پولیس بھی ھوش میں آگئ سوشل میڈیا پر عوام ماوں بہنوں بیٹیوں اور درد رکھنے والے لوگوں نے شدید غصہ دکھ کا اظہار کیا عورت نے آج ایک ویڈیو بنائ یوٹیوب پر اپلوڈ کی اور ویڈیو کے آخر میں سب سے کہا مجھے فالو کریں

    میں سوشل میڈیا فیس بک ٹیوٹر پر نا صرف کافی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے رابطہ میں رھتا ھوں بلکہ بھارت افغانستان سعودی عرب جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے ایکٹوسٹ بھی میرے قریبی دوستوں کی لسٹ میں رھتے ایسا کوی واقعہ سانحہ پیش آئے تو لازما ایک دوسرے سے رابطے ھوتے میں آج ان سب سے نظریں نھیں ملا سکا آج میں گھر میں آیا تو ایک عجب خوف ایک عجب ڈر کیساتھ داخل ھوا مجھے رہ رہ کر ایک خیال آتا جھر جھری ھوتی جھٹلا دیتا میرے جیسے کئی لوگ اپنی فیملیز ساتھ مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات کی سیر کو جاتے ھر لمحہ اس واقعہ کو میں ان یادگار لمحات ساتھ جوڑتا ڈر سا جاتا سہم سا جاتا کوی وجہ کوی توجیح کوی کہانی اس بدکاری بے غیرتی زیادتی گھٹیا پن کا جواز نھیں ھوسکتی بطور مسلمان بطور پاکستانی بطور انسان میں شرمندہ ھوں

    اب آتے اس بات پر کہ پولیس اسوقت کہاں تھی؟14 اگست کو جب دنیا گھروں سے نکلتی مینار پاکستان آتی ایسے وقت میں کوی 200 لوگ ایک عورت پر حملہ آور کیسے ھوگئے اگر وہ عورت مر جاتی تو؟اسکا مطلب کوئی فیملی کوئی شخص بھی اس اھم دن پر محفوظ نھیں تھا ابھی تک تو یہ معمہ بھی حل طلب ھے کہ وزیراعلی عثمان بزدار کی موجودگی میں ایک شادی کے فنکشن پر ذاتی دشمنی ھی سہی پر ایک قتل ھوگیا کیا یہ سکیورٹی لیپس نھیں تھا کیا اس ناکامی پر آئی جی پنجاب سے لیکر ایس ایچ او تک کی بازپرسی نھیں ھونی چاھیئے؟جانور ھر جگہ پائے جاتے یہ بے قابو تب ھوتے جب انکو یہ احساس ھوجاتا وہ جنگل میں ھیں سعودی عرب میں کوی ایسا کرکے دکھائے اگلے دن الٹا لٹکا دیں پولیس کو جوابدہ ھونا پڑیگا

    اب آخر میں آتے ھیں اس محترمہ پر جس پر ایسا حملہ ھوا کہ پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی ھوی وہ یوٹیوب پر اپنا چینل چلاتی ھیں اور آج بھی ایک ویڈیو بھی اپلوڈ کرکے سب سے سوالات پوچھ کر کہتی کہ مجھے فالو کریں یہ کیا دور ھے کیا زمانہ ھے ابھی سوشل میڈیا پر یہ بات بھی چل نکلی ھے کہ محترمہ نے خود ان لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا میں اس بات کو مانوں یا نا مانوں میں اس بات پر ضرور بولونگا کا کہ جو ھوا وہ درندگی تھی چلو ایف آئ آر نھیں کاٹی ماں لیتے معاشرہ ایسا مگر ایف آئ آر نھیں کٹوانی کے عزت پر حرج نا آجائے تو ویڈیو بناکر فالوور کی آواز لگانا یہ سمجھ سے بالاتر ھے حکومت سے درخواست اس معاملے کو غور سے دیکھیں کہیں ملک دشمن عناصر نے منصوبے کے تحت یہ سانحہ رونما تو نھیں کروایا بہرحال وجہ جو بھی ھو ظلم تو ھوا ھے زیادتی تو ھوی ھے ملک کی بدنامی تو ھی ھے سبکی الگ سے ھوی اب اسکا مداوا بھی کرنا ھوگا اور آئندہ ایسا نا جو اسکے لئے سدباب بھی کرنا پڑیگا

  • کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    جو عبرت سے نہ سمجھے ، دلائل بھی نہ مانے تو
    قیامت خود بتائے گی، قیامت کیوں ضروری تھی!
    بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے پر آج میں یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کیسا محافظ ہے یہ مرد جس سے عورت خود کو محفوظ تصور نہیں کر پاتی۔ کیا محافظ ایسے ہوتے ہیں؟
    14 اگست ۔۔ آزادی کا دن۔۔ جشن کا سماں۔۔ جگہ بھی مینار پاکستان!!کیا دیکھنے کو ملتا ہے کہ حوا کی بیٹی کو دن کے وقت میں ایک نہیں ، دو نہیں ، سو نہیں بلکہ پورے 400 درندے یک دم گھیر لیتے ہیں ۔ معافی چاہتی مگر مرد تو دور کی بات میں انہیں جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین سمجھتی ہوں۔ پھر ! پھر کیا حوس کے یہ پجاری دل بھر کے اس کی عزت کا تماشہ بناتے ہیں، ہوا میں اچھالتے ہیں ا ور اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔ اور حد یہاں ختم ہوتی کہ اس کو ان درندوں سے بچانے کی بجائے وہاں کچھ حیوان اس سب کی ویڈیوبنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔وہ بھی آزادی کے دن، اقبال پارک میں۔۔ کیا ہم سب پاکستانی واقعی آزاد ہیں!! یا اس ملک میں صرف یہ درندے آزاد ہیں جو جب چاہیں ، جہاں چاہیں، جسے چاہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنا لیتے ہیں، جنہیں اب تک کی تمام حکومتیں اور تنظیمیں لگام ڈالنے میں ناکام رہیں۔
    چلیں اس بات کو بھی مان لیتے ہیں کہ لڑکی خراب تھی وہ ، ٹک ٹاکر تھی، ناچ رہی تھی ، بے حیا تھی اس لیے اس کے ساتھ یہ سب ہوا مان لیتے سوشل میڈیا پہ ان درندوں کو ڈیفنڈ کرنے والوں کی یہ بات بھی مان لیتے ہیں۔ مگر ابھی پچھلے ہی عرصے کی بات ہے جب راولپنڈی میں ایک لڑکی جو ٹیچرتھی مکمل عبائے میں یہاں تک کہ منہ بھی ڈھکا ہواہاتھ میں کچھ کتابیں لیے نظریں جھکائے صبح کے وقت سکول میں بچوں کو تعلیم دینے جارہی تھی کہ راستے میں ایک درندہ بائیک پہ آتے ہوئے اس کو عبائے سمیت زور سے کھینچتا ہوا گرا کہ چلا جاتا ہے۔ کیا یہ لڑکی بھی خراب تھی؟اس کا کیا قصور تھا۔ چلیں اسے بھی چھوڑیں پر یہ سوچیں کہ زینب جیسی ان ننھی بچیوں کا کیا قصو ر ہوتا جنہیں یہ درندے اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ساری زندگی وہ اس صدمے سے نکل نہیں پاتیں۔آج جو بھی سوشل میڈیا پہ کہہ رہا ہے کہ باحیا لڑکی کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا میں انہیں بتانا چاہتی جب انسان میں انسانیت کی جگہ درندگی لے لیتی ہے نہ تو اس کے لیے یہ حیا اور بے حیا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔یہ الفاظ اس کے لیے بےکار ہو جاتے ہیں۔۔ ایسے لوگ اپنی حوس کی تسکین کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔
    بس ایک چیز جو مجھے بے چین کر رہی ہے اور ذہن کو سکون نہیں لینے دے رہی کہ وہاں موجود تمام لوگوں میں سےکوئی ایک بھی مرد نہ تھا یا سارے مرد ہی ایسے ہوتےہیں ! کیا کسی ایک کا بھی نہیں دہلا! کسی ایک کو بھی خیال نہ آیا کہ وہ اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے! اپنے نبی ﷺکا سامنا کیسے کریں گے! میں پوچھتی ہوں کہ کس منہ سےنبی کی بیٹیوں کی بے حرمتی پہ روتے ہو، کیا تم کسی یزید سے کم ہو؟
    عورت کو نچواتے ہیں بازار کی جنس بنواتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کے غم میں تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    ان ظالم اور بدکاروں سے بازار کے ان معماروں سے
    میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پہ ظلم کرو

    @MS_14_1

  • عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض


    ‎ابھی نور مقدم کے قتل کو تین ہفتے ہی گزرے ہیں کہ ہمیں اس سے ملتے جلتے ایک اور سانحے نے آن گھیرا ہے اس جشن آزادی پر گریٹر اقبال پارک میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا ہے جس نے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار سو کے قریب لوگوں نے ایک ٹک ٹاکر عورت کو گھر رکھا ہے اور اس سے ناشائستہ حرکات کر رہے ہیں کچھ لوگ اس کو ہوا میں اچھال رہے ہیں جیسے کسی کھلونے سے کھیلتے وقت اس اچھالا جاتا ہے اس کے بعد تو تمام حدوں کو عبور کر دیا گیا اور اس خاتون کے کپڑے پھاڑ دیے گئے یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد میری ہمت جواب دے گئی اور دوبارہ اسے نا دیکھ سکا شائد کتنے ہی ایسے ماں باپ ہوں گے جنھوں نے اپنی بچیوں کو مستقبل میں اعلی تعلیم دلوانے کے خواب دیکھ رکھے ہونگے مگر یہ واقعہ دیکھنے کے بعد شائد وہ بھی یہ بات ماننے پر قائل ہو جائیں کہ پاکستان اب عورتوں کے لیے محفوظ نہیں رہا کیونکہ عثمان مرزا کیس کے بعد نور مقدم والا واقعہ رونما ہوا اس سے پہلے سیا لکوٹ موٹروے سانحہ ابھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھا جو چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ عورتوں کو اس ملک میں صرف مال غنیمت کی نظر سیے ہی دیکھا جاتا ہے ۔ منگل کے روز پاکستان کے سوشل میڈیا پر لاہور میں کئی مردوں کی جانب سے ایک لڑکی کو سرعام ہراساں کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے کہ کیا پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ملک ہے
    ‎منگل کے روز متعلقہ خاتون نے لاہور کے تھانہ لاری اڈہ میں درخواست دی کہ وہ 14 اگست کو شام ساڑھے چھ بجے اپنے ساتھی عامر سہیل، کیمرہ مین صدام حسین اور دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم وہاں پر موجود تین چار سو سے زیادہ افراد کے ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا۔
    ‎درخواست کے مطابق خاتون اور ان کے ساتھیوں نے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران وہ گارڈ کی جانب سے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ لوگ جنگلے کو پھاڑ کر ان کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی
    شوشل میڈیا پر اس واقعے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور 400#اس وقت ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ان چار سو درندوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنھوں نے اس عورت پر حملہ کیا-اور حکومت وقت اور دوسرے اداروں سے اس بات کی اپیل کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد ان درندوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ لوگوں کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے اس کے علاوہ اس طرح کہ قوانین بنائے جائیں جس سے عورتوں کو گھر سے نکلتے وقت اس بات کی پریشانی نہ ہو کہ اس کس چوک میں بھڑیوں کی طرف سے گھیر لیا جائے گا-بحثیت معاشرہ ہمیں اس وقت اندازہ ہی نہیں کہ ہم جہالت کی کن پستیوں میں رہ رہے ہیں ہمیں اپنے آنے والی نسلوں کی اس انداز میں تربیت کرنی ہے کہ وہ ایک انسانی معاشرہ تشکیل دے سکیں شائد اس کے لیے ابھی کئی صدیاں درکار ہوں گی-اس تحریر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تمام مرد ایک ہی طرز کہ یقیناً جہاں اچھائی ہوتی ہے وہاں برائی بھی ہوتی ہے اسی طرح وطن عزیز میں کئی اعلی اخلاق کے حامل افراد بھی موجود ہیں اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • مینار پاکستان پر بربریت تحریر: سیدہ بنت زینب

    مینار پاکستان پر بربریت تحریر: سیدہ بنت زینب

    عورت…؟
    کون ہے عورت…؟
    مرد کے لیے عورت تو بس اپنی ہوس بجھانے کا ایک ذریعہ ہے. 14 اگست کے موقع پر مینار پاکستان لاہور میں اسلامی حکومت ہونے کے باوجود عائشہ کو 400 مرد، مرد نہیں جانور، (ان جیسوں کو جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین ہو گی) درندے مل کر ایک عورت کا استحصال کرتے ہیں. بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی وہ 400 مرد اس سارے منظر، اس سارے ظلم، اس ساری بربریت کو اپنے موبائل کی ویڈیو ریکارڈنگ میں محفوظ بھی کرتے جاتے ہیں. چار سو مرد، آٹھ سو آنکھیں، آٹھ سو ہاتھ، مگر ان میں سے کسی ایک کو شرم نہیں آئی، کسی ایک نے بھی آگے بڑھ کر عائشہ کی عزت بچانے کی کوشش نہیں کی، کسی ایک نہیں بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی، کسی ایک مرد کی غیرت نہیں جاگی.
    وہ عورت در بدر اپنی عزت بچانے کے لیے بھاگتی رہی مگر ان چار سو مردوں میں سے کسی ایک نہیں بھی اس کی مدد نہیں کی، وہ سب تو اپنی ہوس بجھانے میں مصروف تھے. سادت حسن منٹو نے آج سے اتنے سال قبل ہی شاید ان جیسے مردوں کے لیے ہی کہا تھا کہ "ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو، باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں ہوتی، بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم مرد اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جسکی ہوش زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ہی ٹکی رہتی ہے اور ہمارے منہ سے اس گوشت کو دیکھ کر رال ٹپکتی رہتی ہے.”
    میرا سوال ہے اس معاشرے کے مردوں سے کہ آپ کے گھر کی بیٹی کی عزت، عزت ہوتی ہے مگر کسی اور کی بیٹی کی عزت کی آپکو کیسے پرواہ نہیں ہو سکتی؟ کیا آپ سب مسلمان ہونے کے باوجود آخرت کی جزا اور سزا پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا آپ مردوں کو پتا نہیں کہ مکافات عمل ایک حقیقت ہے اور اگر آج آپ کسی کی بیٹی کی عزت نہیں کرو گے تو کل کو آپ کی اپنی بہن بیٹی کے ساتھ کوئی دوسرا بلکل ایسا ہی کرے گا.
    ‏تاریخ گواہ ہے پیسے اور شان و شوکت کی ہوس نے،تاریخ کو بھلا دینے کی روش نے، اسلاف کے طریقوں کو چھوڑنے کے چکر میں اس قوم میں بس غلام پیدا ہوئے ہیں وہ بھی جاہل غلام جو اپنے نفس کی ڈوری کو تھامے ہوئے اندھا دھند مغرب کے سورج کی طرح ڈوب رہیں ہیں!!
    ہمیں اپنی روایات کو بھلانا نہیں چاہیے،،،، ہمارے پیارے نبی محمدﷺ تو اپنی بیٹی کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے، عورت کو حد سے زیادہ عزت دیا کرتے تھے تو آج ان کے ماننے والے نام نہاد مسلمان ہو کر آپ کیسے کسی کی بیٹی کی عزت کو سرعام رسوا کر سکتے ہو، کیسے کسی کے ساتھ ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہ سکتے ہو؟ یاد رکھیں ظالم تو ظلم کرتا ہی ہے مگر جو ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہے وہ بھی ظالم کے ساتھ اس ظلم میں مکمل شریک ہوتا ہے.
    میں نے جب سے عائشہ کو درندوں کے درمیان رسوا ہوتا دیکھا ہے تب سے سکون سے سو نہیں پائی، سوچتی ہوں کہ کیا میں ایک عورت ہوتے ہوئے پاکستان میں محفوظ ہوں؟ کیا میں اس معاشرے کے مردوں میں محفوظ ہوں؟ یہ درندہ نما انسان ہمیں کسی بھی جگہ چین سے جینے نہیں دیں گے. نہ ہم گھر میں محفوظ ہیں، نا گلی میں، نا ہی سکول میں، نا روڈ میں. ارے ! ہم خواتین تو درندوں کی درندگی سے قبر کی گہرائیوں میں بھی محفوظ نہیں.
    کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟ جب بھی کوئی عورت گھر سے باہر نکلنے لگتی ہے تو کہا جاتا ہے ساتھ محرم کو لے جاؤ.
    بتائیں میں کس محرم کو ساتھ لے کر جاؤں؟ اپنے چھوٹے 15 سال کے بھائی کو ساتھ لے کر چلوں یاں اپنے بوڑھے بابا کو؟
    محرم ساتھ بھی ہو تو ہمیں کون سا بخشا جاتا ہے؟
    سانحہ موٹروے کے مرکزی مجرم نے 2013 میں شوہر کے سامنے اسکی بیوی اور بیٹی کی عزت پامال کی تھی…. کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟
    اگر ہم عورت ہیں تو سانس لینا بھی چھوڑ دیں؟
    اللّٰہ پاک سے صرف دعا ہی ہے کہ وہ اس ملک پاکستان میں بسنے والی یر بیٹی کی عزت محفوظ رکھیں آمین….!

    @BinteZainab33

  • مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی تحریر سعد طارق

    مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی تحریر سعد طارق

    یہ شرم ناک سانحہ اس چودہ اگست کو مینار پاکستان کی چھاؤں میں ایک پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ پیش آیا جو ٹک ٹاک بنا رہی تھی
    جس نے پاکستانی پرچم کی نسبت سے سفید شلوار قمیض پہن رکھا تھا اور سبز رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا کہ منٹو پارک میں موجود ہزاروں پاکستانی نوجوان اُس لڑکی پر یوں جھپٹے گویا کُتا کھلے گوشت پر جھپٹنا ہے
    پھر کیا تھا حوّا کی ہم جنس کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کر ڈالا
    وہ ننگی آزاد پاکستانی لڑکی چیختی چلاتی رہ گئی مگر آدم کے بیٹوں نے مینار پاکستان کے سائے میں اس کا وہ حشر کیا کہ سنتالیس میں عزتیں لوٹنے والے ہندوؤں کی آتما شرمندہ ہوگئی
    تب ہندو نے مسلمان بچیوں کو بے آبرو کیا تھا آج پاکستانی مسلمان اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں
    جی ہاں یہ واقعہ چودہ اگست دو ہزار اکیس کو لاہور کے اقبال پارک میں پیش آیا
    آج منٹو کا پہلا افسانہ “کھول دو “ یاد آگیا جو تقسیم کے وقت کی ایک کہانی تھی جس میں ایک محاجر باپ سراج دیں اپنی بیٹی سکینہ کو محاجر کیمپ میں تلاش کرتا پھر رہا تھا
    سراج دین اپنی بیٹی سکینہ اور بیوی کے ساتھ پاکستان کی طرف سفر کر رہا تھا راستے میں اسٹیشن پر بلوائیوں نے حملہ کردیا
    سراج دین کی بیوی تو موقع پر ماری گئی مگر سکینہ بچھڑ گئی
    بس اُس کا دوپٹہ سراج کے پاس رہ گیا تھا
    روتے دوھوتے سراج دین کو کسی نے بتایا کہ کچھ نوجوان ہیں جو لاری لیکر بندوقیں تھام کر امرتسر جاتے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو باحفاظت پاکستان لاتے ہیں یعنی وہ اُس وقت رسکیو کا کام کر رہے تھے
    سراج دین اُن عظیم جوانوں کے پاس گیا اور بڑی امید سے بتایا کہ سکینہ کے گال پر بڑا سا تل ہے اور نین نقش ایسے ہیں امرتسر کے پاس مجھ سے جُدا ہوئی تھی
    نوجوانوں نے سراج دین کو یقین دلایا کہ وہ اُس کی بیٹی کو جلد ڈھونڈ لائیں گے
    اور لاری لیکر نکل گئے

    امرتسر کے راستے میں رضاکاروں کی نظر ایک لڑکی پر پڑی لڑکی گھبرا کر بھاگ گئی رضاکاروں نے بھاگ کر اُس لڑکی کو روکا
    دیکھا تو گال پر بڑا سا تل تھا
    یہ سراج دین کی سکینہ ہی تھی
    آٹھ لڑکوں نے اس کی دل جوئی کی اپنا کوٹ اتار کر دیا کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث سکینہ اُلجھن محسوس کر رہی تھی
    کئی دن گزر گئے جب سکینہ کا
    سراغ نہ ملا تو سراج دین اُن رضاکار جوانوں کے پاس گیا اور پوچھا “ سکینہ کا کچھ پتہ چلا “
    چل جائے گا ۔ چل جائے گا کہہ کر جوان چلے گئے
    سراج دین نے ایک بات پھر اُن نوجوانوں کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگی

    ایک شام چند لوگ کچھ اٹھا کر عارضی کیمپ ہسپتال میں لائے تھے
    سراج دین نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑی تھی جسے لوگ اٹھا لائے ہیں
    سراج دین ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا اسٹریچر پر ایک لاش پڑی تھی
    سراج دین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا
    کمرے میں روشنی ہوگئی سراج دین
    نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا
    سکینہ !
    ڈاکٹر جس نے لائٹ جلائی تھی سراج دین سے پوچھا
    کیا ہے ؟
    سراج دین کے منہ سے صرف اتنا نکل سکا ۔ جی میں
    جی میں ۔۔۔اسکا باپ ہوں

    ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا اس کی نبض ٹٹولی اور سراج دین سے کہا
    “کھڑکی کھول دو “

    سکینہ کے مُردہ جسم میں جُنبش پیدا ہوئی ۔ بے جان ہاتھوں سے اُس نے ازاربند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی

    بوڑھا سراج دین خوشی سے چلایا
    زندہ ہے ، میری بیٹی زندہ ہے
    ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوگیا

    (مطلب یہ کہ سکینہ کی عزت کے لٹیرے وہی آٹھ رکھوالے رضاکار تھے)

    دوستو اس افسانے کے چھپنے کے بعد منٹو پر کیس کر دیا گیا وہ تاریخیں بھگتا رہا
    جس رسالے نے یہ افسانہ چھاپہ تھا وہ سیل کر دیا گیا
    اور منٹو کو فحش لکھاری قرار دیکر ادیبوں کی فہرست سے نکال دیا گیا
    کیونکہ وہ آیئنہ دکھا رہا تھا
    مگر آج منٹو کے کردار ہمیں تسلسل سے نظر آ رہے ہیں کبھی زینب لُٹ جاتی ہے
    کبھی موٹر وے پر حوّا کی ہم جنس بے آبرو کر دی جاتی ہے
    کبھی مدرسے کا مفتی لوطی قوم کا پیروکار نکل آتا ہے تو کبھی حوّا کی بیٹی کے کپڑے پھاڑ کر کتوں کی طرح بھمبھوڑا جاتا ہے
    کیوں ؟ کیوں ہوتا ہے یہ سب ؟
    سب سزا کی بات کرتے ہیں کہ چوک میں لٹکا دو
    گولی مار دو
    سر قلم کر دو
    سب جرم کے بعد کی بات کرتے ہیں

    مگر میں کہتا ہوں کہ ان سانحات کو ہونے سے روکا جائے اور اُس کے لئے ریاست مدینہ دوئم میں اخلاقی ایمرجنسی نافذ کر دی جائے
    تاکہ یہ انتہا پسندی ختم ہو
    ورنہ یہ شہوانی خود کُش حملہ آور یا تو عورتوں کو بے آبرو کریں گے
    یا
    دھرم کے نام پر رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑیں گے
    کسی غریب کی چنگ چی جلائیں گے
    یا
    سڑک بلاک کر کے ٹائروں کو آگ لگا کر اپنے آلودہ ذہن کی طرح پاکستان کی پاک فضاء کو آلودہ کریں گے
    ہن اینا دا کج کر لو رب دا واسطہ جے 🙏
    پا جی معیشت نئیں معاشرت سنوارو

  • ایک  لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    ایک لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    ملکِ پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں میں خاتون کے ساتھ ظلم و جبر، بدسلوگی ، ہراساں کرنے ،قتل کرنے کی کوشش، اجتماعی زیادتی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    نور مقدم، ماہم ، کنول ، قرة العین اور صاٸمہ کے واقعات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی کہ کم سن بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات نے سانسیں روک لیں، کبھی بُرقعے میں ملبوس سر تا پا ڈھکی عورتیں پامال ہوئیں، تو کبھی قبروں سے نکال کر خواتین کے ساتھ زیادتی کی گٸی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تین ماہ کی بچیوں سے لے کر بڑی عُمر تک کی خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔

    حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر دل دہلا دینے والے عاٸشہ اکرام کے واقعہ نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دل سوز واقعہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آیا۔ چودہ اگست کو شام ساڑھے چھ بجے عاٸشہ اکرام اور اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم چار سو اوباش اور درندے صفت ٹولے نے عاٸشہ اور انکے ساتھیوں پر حملہ کردیا۔ لڑکی کو ہراساں کیا اور اسکے کے ساتھ کھینچا تانی کی گٸی ۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام اس بیٹی کے کپڑے تک پھاڑےگٸے اور اسے ہوا میں اچھالتے رہے ۔

    عاٸشہ اور اس کے ساتھیوں نے درندے صفت مردوں کے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران انتظاميہ کی جانب سے مینار پاکستان کے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن جانوروں نے جنگلے کو پھلانگ کر اس لڑکی کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی ہر پاکستانی دل گرفتہ ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ یہ کیسے جانور ہیں ، درندگی پر اتر آئے ہیں

    معذرت کے ساتھ چار سو مردوں میں ایک بھی مرد ایسا نہ تھا جو عاٸشہ کی مدد کرسکتا ۔ اپنی بہن سمجھ کر اسکی عزت و آبرو کی حفاظت کرتاہے ، اس کا محافظ بنتا اور اس کو بچاتا مگر افسوس کے ساتھ ان چار سو نا مردوں کی، آٹھ سو آنکھیں میں حیا نہیں تھی کہ کیسی بہن، بیٹی کے ساتھ یہ ہوتے دیکھ رہے تھے خدا نہ کریں اس کی جگہ ان کی بہن، بیٹی ہوتی تو کیا یہ سب اسی طرح تماشا دیکھتے

    آٹھ سو ہاتھوں میں سے کوئی بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔ کسی کی مرد کی روح نہیں کانپی، کسی کی زبان نے اپنے ساتھی کو کچھ نہیں کہا کہ یہ بھی ہماری بیٹی ہے ، ہماری بہن ہے اسکے ساتھ ایسا وحیشانہ سلوک نہ کروں سب درندوں کو ایک موقع ملا اور سب نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔

     سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر پر معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ عورت خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی ہو، یا معاشرے کی کوئی بھی عورت، ہمارے اسلام میں اسے ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا اور مردوں کو ان کے ادب و احترام کا حکم دیا گیا ہے

    خود نبیِ کریم  ﷺ  نے بھی عورتوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی ،بہترین برتاوٴ ، اچھی معاشرت کی تاکید فرمائی ہے ، حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو ۔ترمذی

    درندگی کا یہ واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ انسانیت سوز درندگی کے واقعہ میں ملوث چار سو ملزم کو ایسی عبرتناک سزادی جائے جو رہتی دنیا تک یاد رہے۔ تاکہ کیسی کی بہن بیٹی کی عزت یوں سرعام تار تار نہ ہو ۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • عورت اور معاشرہ  تحریر:  خدیجہ نقوی

    عورت اور معاشرہ تحریر: خدیجہ نقوی

    ‏ایک سوال قانون نافذ کرنے والے _اداروں سے
    ایک سوال حکومت وقت سے
    ایک سوال مردوں سے
    بس ایک سوال۔۔۔۔_
    کیا پاکستان میں عورت اتنی سستی ھے؟
    آج صبح واک سے واپسی ہوئ تو حسب معمول گھر آتے ہی پہلا کام موبائل پہ مختلف ایپز کو چیک کرنا واٹس ایپ، فیس بک کے بعد باری آئ ٹیوٹر کی جہاں #minarepakistan ٹرینڈنگ تھا مجھے لگا کہ یقیناً کوئی مثبت چیز ھی ہو گی بس جزبہ حب الوطنی ٹھاٹھے مارنے لگا اور میں نے سوچا کیوں نہ اسے چیک کیا جاۓ اور دو چار ٹویٹس کر کہ شہیدوں میں اپنا نام بھی لکھوا دیاجاۓ
    مگر جیسے ہی ٹرینڈ اوپن کیا میں تو جیسے چکرا کہ رہ گئ کہ مسمات عائشہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی نے مانو میرے پیروں تلے سے زمین نکال دی ہو۔ ایک اکاؤنٹ نے تو باقاعدہ ویڈیو ہی پوسٹ کی تھی۔
    اس واقعے پہ لوگوں کے ملے جلے خیالات کومنٹس میں موجود تھے کوئ اظہار ہمدردی کر رہا تھا تو کوئی سراپا احتجاج اس کے ساتھ کچھ لوگ لڑکی کو قصور وار مان رہے تھے۔ ایک دو اکاؤنٹس نے لڑکی کا بیک گراؤنڈ ھی غلط ثابت کر دیا کہ لڑکی تو ٹک ٹاک بناتی تھی۔ تنگ لباس پہنا ہوا تھا۔ چار سو بندوں میں یہ کرنے کیا گئ تھی وغیرہ وغیرہ
    ایک حد تک تو آپ کی سب باتیں ٹھیک ھیں مگر میرا سوال اس معاشرے سے یہ ہے کہ کیا اگر ایک لڑکی tiktok بنتی ہے تنگ لباس پہنتی ہے اپنی مرضی سے گھر سے باہر آتی جاتی ہے تو کیا وہ مال غنیمت ہے اسکی کوئی عزت نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ٹھیک تھا صرف اس وجہ سے کے وہ یہ سب کام کر رّہی تھی۔
    میرا دین تو سراپا رحمت ہے اگر کوئی بھٹک جائے تو دین میں تو اس کے لیے بھی واپسی کا راستہ ہے دین میں تو آسانی ہے، رحم ہے عفو درگذر ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان کن اقدار کے پیروں کار بن گئے ہیں جس دین میں سب سے زیادہ تلقین نفس پر قابو کرنے پر دی گئی ہے وہاں روز بروز زینب، نور،عائشہ جیسے کیس کہاں سے نمودار ہو رہے ہیں؟ کیا کوئ جواب ہے ہمارے پاس؟ کیا اس واقعے کو دیکھنے اور سننے کے بعد وہ لڑکیاں جو تعلیم، روزگار کی غرض سے گھروں سے باہر نکلتی ہیں ان کے ماں باپ انکی واپسی تک سولی پے لٹکے نہیں رہیں گے۔
    اسلام نے انبیاء نے ہماری زندگی ہمارا دین بہت آسان بنایا ہے پھر ہم یہ کس کی پیروی کر رہی ہیں؟کیا ہم ایک قوم ہیں؟ کیا ہم ایک سلجھا ہوا معاشرہ ہیں؟ کیا ہم اشراف المخلوقات ہیں؟ ذرا سوچیے۔۔۔۔
    @KhadijaNaqvi01
    Twitter handle

  • ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، 14 اگست 1947 کا دن پاکستانیوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے.آزادی کا دن ۔کہ اس دن پاکستان آزاد ہوا تھا ۔۔ہمیشہ 14 اگست نہایت پرامن طریقے سے منائ جاتی ہے ۔۔اس بار کیا ہوا۔ایک عورت 14 اگست کو شام چار اور پانچ بجے کے درمیان اقبال پارک جاتی لے وہاں وڈیو بناتی ہے کہ وہاں پر موجود لوگ اس ٹک ٹاکر کہ گرد جمع ہو گے اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو ہراس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس لڑکی کو جہاں ہاتھ لگتا ہے لگاتے ہے وڈیو وائرل ہوتی رہی ۔اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ایف آئ آر کاٹی جاتی ہے اب ہو گی قانونی کاروائ۔
    جب معاشرہ بے لگام ہو ۔تربیت کا فقدان ہو جہاں مفتی عزیز اور قوی جیسے کردار ۔اور وہ سکول ماسٹر حو سو بچوں سے زنا کر کہ بھی جیل میں سکون سے روٹی پانی کھا اور ٹی وی دیکھ رہا ہو ۔وہاں کی جنریشن قانون سے ڈریں گی یا مجرموں کے جرم سے شے پاے گی؟
    جہاں قانون کے رکھوالے منصف حاکم وقت سب کے سب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں ۔۔وہاں جنریشن قانون سے ڈرے گی؟ جہاں قانون پر عمل تو ہو لیکن سوشل میڈیا پر وڈیو اور تصاویر وائرل کروانے کے بعد ۔۔جہاں انصاف لینا ہو تو خود کے ساتھ ہووی بغیرتیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا پڑے ۔۔جہاں اپنے حق کے لیے لڑنا ہو تو چار پانچ ٹھڑکی مردوں کا ساتھ چاہیے جو تمھارے حق کے لیے بھرے بازار میں تمھیں پاک دامن کہ سکے ۔۔کیا وہاں کی نسل قانون سے ڈرے گی؟ جہاں عدالتوں میں بیٹھے جج اور تھانوں میں بیٹھے ایس ایچ او تھانیدار کو جسم بیچ کر انصاف لینا پڑے ۔کیا وہاں کی عوام قانون سے ڈرے گی ؟
    اس لڑکی کی غلطی پتہ کیا تھی ۔کہ وہ ٹک ٹاکر ہے ۔کیا ٹک ٹاکر ہونا اتنا غلط ہے کہ چار سو بھیڑیہ تاک لگاے بیٹھا تھا ۔۔جب کہ یہ چار سو بھیڑیا خود بھی ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر موجود ہے. ٹک ٹاکر کو اچھے سے پسند کرتا ہے۔اس ہجوم کا دوغلا پن تو دیکھو کہ یہ ہجوم میں شاید ہی کبھی پانچ وقت نماز بھی پڑھی ہو ۔شاید زندگی میں کبھی سچ بولا ہو ۔شاید کہ اپنی بہنوں کو کبھی پردہ کروایا ہو.اس ہجوم کی غیرت ایک اکیلی تنہا عورت کو دیکھ کر جاگی ۔۔کہ بس اسے چھوڑنا نہیں وہ ٹک ٹاکر ہے ۔۔یورپ جانے کے یہ سارے خواہش مند پاکستانیوں کو ایک پتے کی بات بتاتی ہوں کہ یورپ میں عورت ننگی الف ننگی بھی سڑک پر جارہی ہو ۔اس ننگی عورت کو تاک لگاے کوی دیکھتا ہے وہ بھی وہاں کے قانون کے مطابق ہراسمنٹ کہلاتی ہے.چاہے وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں بھی کسی بھی مرد ساتھ جاے ۔۔۔لیکن کسی اجنبی کا اسے چھیڑنا تکنا ہراسمنٹ کہلاتا ہے ۔دوسری طرف میرے اسلامی جہموریہ پاکستان میں دین کے ٹھیکدار رات رات بھر لڑکیوں سے موبائل فون پر زنا کرتے تب ان کو غیرت نہیں آتی ۔ان کو دھمکیاں دے کر ان سے انھی کے گھر کا سامان چوری کرواتے ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اپنے دوستوں سے ملنے کا کہتے. ورنہ وڈیو تصاویر لیک کر دوں گا ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اس بھیڑیے نما ہجوم کی غیرت ایک اکیلی عورت پر جاگی ۔اس عورت پر جس کا ان سے کوی سروکار نہیں ۔۔ابے شیطان کے چیلوں تجھ پر فرض ہے پردہ کروانا اپنی ماں بیوی بیٹی بہن کو ۔۔صرف ان چار عورتوں کی زمہ داری ہے تیرے پر ۔پر توں گھر کے فرائض چھوڑ کر گلی کا آوارہ کتا بن کر اجنبی عورتوں نامحرم عورتوں پر لال ٹپکاے بیٹھا ہے. وہ ننگی بھی ہوتی تجھ پر تب بھی نامحرم تھی حرام تھی ۔۔ہر مرد کی اب روح کانپ رہی ہے ہر مرد اب آگ بگولہ ہے مینار پاکستان والے اس واقعے پر۔۔مرد اگر ایسے ہوتے ہیں تو وہ چار سو مرد کون تھے ۔۔پھر ان کی بات شروع ہوتی ہے گھر کہ مرد سے کہ مرد اگر برا ہے تو تمھارے گھر کا مرد بھی برا ہوگا تمھارے گھر مرد نہیں پھر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہے ۔دل کرتا ان جنگلی بھیڑیوں کے منہ سے زبان نوچ لوں کہ تمھارے جیسے گلی کے آوارہ کتوں کے منہ سے ہمارے باپ بھائ کا زکر اچھا نہیں لگتا ۔مرد ایک عظیم چیز ہے اس کی سب سے بڑی مثال میرا باپ ہے. بھائ ہے تو تحفظ کا احساس ہے ۔۔۔تم اگر بھیڑیے نامرد ہو تو اس میں ہمارے باپ بھائ کا کیا قصور ۔۔جنھوں نے کبھی کسی عورت کی طرف آنکھ کر نہیں دیکھا ۔۔تمھیں بھیڑیا اور نامرد کہنا چاہیے تاکہ تم جیسے غلیظ کیڑوں کی وجہ سے ہمارے گھر کہ مرد بدنام نہ ہوں ۔۔
    آخر میں بات کروں گی عورت کی.مزار قائد پر ان دنوں صرف مرد حضرات جاتے ہیں مطلب ان چھٹیوں میں وہاں صرف مرد حضرات کا رش ہوتا ہے وہ بھی مزدور طبقے کا عام تعطیلات میں مزار قائد مینار پاکستان بلکہ چڑیا گھر تک میں خواتین کے جانے والا نہیں ہوتا۔پھر کیوں شامت بلوانے پہنچ گئ وہ بھی لاہور۔وہاں تو یہ حال ہے کہ برقعے والی عورت تک کو بھی چھیڑتے ہیں عام لڑکی گزر رہی ہو کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نوچنے کی حوس سے دیکھنے لگ جاتے ۔ تو وہاں کی مقامی عورتیں کیسے اس بات سے انجان ہوں گی ۔یہ عورت ٹک ٹاک مووی بناتے خودی اس ہجوم میں گھس گئ ۔جہاں پورا لاہور اور آس پاس کے علاقے کے مکین جانتے کہ وہاں ان دنوں عورتوں کو نہیں جانا چاہیے ۔۔چاہے کوی ٹک ٹاکر ہو چاہے کوی مدارس میں پڑھاتی برقعہ پوش عالمہ ۔باقی یہاں اکثریت مرد حضرات موقع نہیں چھوڑتے ۔