Baaghi TV

Category: خواتین

  • مینار پاکستان پر بربریت تحریر: سیدہ بنت زینب

    مینار پاکستان پر بربریت تحریر: سیدہ بنت زینب

    عورت…؟
    کون ہے عورت…؟
    مرد کے لیے عورت تو بس اپنی ہوس بجھانے کا ایک ذریعہ ہے. 14 اگست کے موقع پر مینار پاکستان لاہور میں اسلامی حکومت ہونے کے باوجود عائشہ کو 400 مرد، مرد نہیں جانور، (ان جیسوں کو جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین ہو گی) درندے مل کر ایک عورت کا استحصال کرتے ہیں. بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی وہ 400 مرد اس سارے منظر، اس سارے ظلم، اس ساری بربریت کو اپنے موبائل کی ویڈیو ریکارڈنگ میں محفوظ بھی کرتے جاتے ہیں. چار سو مرد، آٹھ سو آنکھیں، آٹھ سو ہاتھ، مگر ان میں سے کسی ایک کو شرم نہیں آئی، کسی ایک نے بھی آگے بڑھ کر عائشہ کی عزت بچانے کی کوشش نہیں کی، کسی ایک نہیں بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی، کسی ایک مرد کی غیرت نہیں جاگی.
    وہ عورت در بدر اپنی عزت بچانے کے لیے بھاگتی رہی مگر ان چار سو مردوں میں سے کسی ایک نہیں بھی اس کی مدد نہیں کی، وہ سب تو اپنی ہوس بجھانے میں مصروف تھے. سادت حسن منٹو نے آج سے اتنے سال قبل ہی شاید ان جیسے مردوں کے لیے ہی کہا تھا کہ "ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو، باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں ہوتی، بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم مرد اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جسکی ہوش زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ہی ٹکی رہتی ہے اور ہمارے منہ سے اس گوشت کو دیکھ کر رال ٹپکتی رہتی ہے.”
    میرا سوال ہے اس معاشرے کے مردوں سے کہ آپ کے گھر کی بیٹی کی عزت، عزت ہوتی ہے مگر کسی اور کی بیٹی کی عزت کی آپکو کیسے پرواہ نہیں ہو سکتی؟ کیا آپ سب مسلمان ہونے کے باوجود آخرت کی جزا اور سزا پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا آپ مردوں کو پتا نہیں کہ مکافات عمل ایک حقیقت ہے اور اگر آج آپ کسی کی بیٹی کی عزت نہیں کرو گے تو کل کو آپ کی اپنی بہن بیٹی کے ساتھ کوئی دوسرا بلکل ایسا ہی کرے گا.
    ‏تاریخ گواہ ہے پیسے اور شان و شوکت کی ہوس نے،تاریخ کو بھلا دینے کی روش نے، اسلاف کے طریقوں کو چھوڑنے کے چکر میں اس قوم میں بس غلام پیدا ہوئے ہیں وہ بھی جاہل غلام جو اپنے نفس کی ڈوری کو تھامے ہوئے اندھا دھند مغرب کے سورج کی طرح ڈوب رہیں ہیں!!
    ہمیں اپنی روایات کو بھلانا نہیں چاہیے،،،، ہمارے پیارے نبی محمدﷺ تو اپنی بیٹی کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے، عورت کو حد سے زیادہ عزت دیا کرتے تھے تو آج ان کے ماننے والے نام نہاد مسلمان ہو کر آپ کیسے کسی کی بیٹی کی عزت کو سرعام رسوا کر سکتے ہو، کیسے کسی کے ساتھ ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہ سکتے ہو؟ یاد رکھیں ظالم تو ظلم کرتا ہی ہے مگر جو ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہے وہ بھی ظالم کے ساتھ اس ظلم میں مکمل شریک ہوتا ہے.
    میں نے جب سے عائشہ کو درندوں کے درمیان رسوا ہوتا دیکھا ہے تب سے سکون سے سو نہیں پائی، سوچتی ہوں کہ کیا میں ایک عورت ہوتے ہوئے پاکستان میں محفوظ ہوں؟ کیا میں اس معاشرے کے مردوں میں محفوظ ہوں؟ یہ درندہ نما انسان ہمیں کسی بھی جگہ چین سے جینے نہیں دیں گے. نہ ہم گھر میں محفوظ ہیں، نا گلی میں، نا ہی سکول میں، نا روڈ میں. ارے ! ہم خواتین تو درندوں کی درندگی سے قبر کی گہرائیوں میں بھی محفوظ نہیں.
    کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟ جب بھی کوئی عورت گھر سے باہر نکلنے لگتی ہے تو کہا جاتا ہے ساتھ محرم کو لے جاؤ.
    بتائیں میں کس محرم کو ساتھ لے کر جاؤں؟ اپنے چھوٹے 15 سال کے بھائی کو ساتھ لے کر چلوں یاں اپنے بوڑھے بابا کو؟
    محرم ساتھ بھی ہو تو ہمیں کون سا بخشا جاتا ہے؟
    سانحہ موٹروے کے مرکزی مجرم نے 2013 میں شوہر کے سامنے اسکی بیوی اور بیٹی کی عزت پامال کی تھی…. کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟
    اگر ہم عورت ہیں تو سانس لینا بھی چھوڑ دیں؟
    اللّٰہ پاک سے صرف دعا ہی ہے کہ وہ اس ملک پاکستان میں بسنے والی یر بیٹی کی عزت محفوظ رکھیں آمین….!

    @BinteZainab33

  • مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی تحریر سعد طارق

    مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی تحریر سعد طارق

    یہ شرم ناک سانحہ اس چودہ اگست کو مینار پاکستان کی چھاؤں میں ایک پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ پیش آیا جو ٹک ٹاک بنا رہی تھی
    جس نے پاکستانی پرچم کی نسبت سے سفید شلوار قمیض پہن رکھا تھا اور سبز رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا کہ منٹو پارک میں موجود ہزاروں پاکستانی نوجوان اُس لڑکی پر یوں جھپٹے گویا کُتا کھلے گوشت پر جھپٹنا ہے
    پھر کیا تھا حوّا کی ہم جنس کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کر ڈالا
    وہ ننگی آزاد پاکستانی لڑکی چیختی چلاتی رہ گئی مگر آدم کے بیٹوں نے مینار پاکستان کے سائے میں اس کا وہ حشر کیا کہ سنتالیس میں عزتیں لوٹنے والے ہندوؤں کی آتما شرمندہ ہوگئی
    تب ہندو نے مسلمان بچیوں کو بے آبرو کیا تھا آج پاکستانی مسلمان اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں
    جی ہاں یہ واقعہ چودہ اگست دو ہزار اکیس کو لاہور کے اقبال پارک میں پیش آیا
    آج منٹو کا پہلا افسانہ “کھول دو “ یاد آگیا جو تقسیم کے وقت کی ایک کہانی تھی جس میں ایک محاجر باپ سراج دیں اپنی بیٹی سکینہ کو محاجر کیمپ میں تلاش کرتا پھر رہا تھا
    سراج دین اپنی بیٹی سکینہ اور بیوی کے ساتھ پاکستان کی طرف سفر کر رہا تھا راستے میں اسٹیشن پر بلوائیوں نے حملہ کردیا
    سراج دین کی بیوی تو موقع پر ماری گئی مگر سکینہ بچھڑ گئی
    بس اُس کا دوپٹہ سراج کے پاس رہ گیا تھا
    روتے دوھوتے سراج دین کو کسی نے بتایا کہ کچھ نوجوان ہیں جو لاری لیکر بندوقیں تھام کر امرتسر جاتے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو باحفاظت پاکستان لاتے ہیں یعنی وہ اُس وقت رسکیو کا کام کر رہے تھے
    سراج دین اُن عظیم جوانوں کے پاس گیا اور بڑی امید سے بتایا کہ سکینہ کے گال پر بڑا سا تل ہے اور نین نقش ایسے ہیں امرتسر کے پاس مجھ سے جُدا ہوئی تھی
    نوجوانوں نے سراج دین کو یقین دلایا کہ وہ اُس کی بیٹی کو جلد ڈھونڈ لائیں گے
    اور لاری لیکر نکل گئے

    امرتسر کے راستے میں رضاکاروں کی نظر ایک لڑکی پر پڑی لڑکی گھبرا کر بھاگ گئی رضاکاروں نے بھاگ کر اُس لڑکی کو روکا
    دیکھا تو گال پر بڑا سا تل تھا
    یہ سراج دین کی سکینہ ہی تھی
    آٹھ لڑکوں نے اس کی دل جوئی کی اپنا کوٹ اتار کر دیا کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث سکینہ اُلجھن محسوس کر رہی تھی
    کئی دن گزر گئے جب سکینہ کا
    سراغ نہ ملا تو سراج دین اُن رضاکار جوانوں کے پاس گیا اور پوچھا “ سکینہ کا کچھ پتہ چلا “
    چل جائے گا ۔ چل جائے گا کہہ کر جوان چلے گئے
    سراج دین نے ایک بات پھر اُن نوجوانوں کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگی

    ایک شام چند لوگ کچھ اٹھا کر عارضی کیمپ ہسپتال میں لائے تھے
    سراج دین نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑی تھی جسے لوگ اٹھا لائے ہیں
    سراج دین ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا اسٹریچر پر ایک لاش پڑی تھی
    سراج دین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا
    کمرے میں روشنی ہوگئی سراج دین
    نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا
    سکینہ !
    ڈاکٹر جس نے لائٹ جلائی تھی سراج دین سے پوچھا
    کیا ہے ؟
    سراج دین کے منہ سے صرف اتنا نکل سکا ۔ جی میں
    جی میں ۔۔۔اسکا باپ ہوں

    ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا اس کی نبض ٹٹولی اور سراج دین سے کہا
    “کھڑکی کھول دو “

    سکینہ کے مُردہ جسم میں جُنبش پیدا ہوئی ۔ بے جان ہاتھوں سے اُس نے ازاربند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی

    بوڑھا سراج دین خوشی سے چلایا
    زندہ ہے ، میری بیٹی زندہ ہے
    ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوگیا

    (مطلب یہ کہ سکینہ کی عزت کے لٹیرے وہی آٹھ رکھوالے رضاکار تھے)

    دوستو اس افسانے کے چھپنے کے بعد منٹو پر کیس کر دیا گیا وہ تاریخیں بھگتا رہا
    جس رسالے نے یہ افسانہ چھاپہ تھا وہ سیل کر دیا گیا
    اور منٹو کو فحش لکھاری قرار دیکر ادیبوں کی فہرست سے نکال دیا گیا
    کیونکہ وہ آیئنہ دکھا رہا تھا
    مگر آج منٹو کے کردار ہمیں تسلسل سے نظر آ رہے ہیں کبھی زینب لُٹ جاتی ہے
    کبھی موٹر وے پر حوّا کی ہم جنس بے آبرو کر دی جاتی ہے
    کبھی مدرسے کا مفتی لوطی قوم کا پیروکار نکل آتا ہے تو کبھی حوّا کی بیٹی کے کپڑے پھاڑ کر کتوں کی طرح بھمبھوڑا جاتا ہے
    کیوں ؟ کیوں ہوتا ہے یہ سب ؟
    سب سزا کی بات کرتے ہیں کہ چوک میں لٹکا دو
    گولی مار دو
    سر قلم کر دو
    سب جرم کے بعد کی بات کرتے ہیں

    مگر میں کہتا ہوں کہ ان سانحات کو ہونے سے روکا جائے اور اُس کے لئے ریاست مدینہ دوئم میں اخلاقی ایمرجنسی نافذ کر دی جائے
    تاکہ یہ انتہا پسندی ختم ہو
    ورنہ یہ شہوانی خود کُش حملہ آور یا تو عورتوں کو بے آبرو کریں گے
    یا
    دھرم کے نام پر رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑیں گے
    کسی غریب کی چنگ چی جلائیں گے
    یا
    سڑک بلاک کر کے ٹائروں کو آگ لگا کر اپنے آلودہ ذہن کی طرح پاکستان کی پاک فضاء کو آلودہ کریں گے
    ہن اینا دا کج کر لو رب دا واسطہ جے 🙏
    پا جی معیشت نئیں معاشرت سنوارو

  • ایک  لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    ایک لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    ملکِ پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں میں خاتون کے ساتھ ظلم و جبر، بدسلوگی ، ہراساں کرنے ،قتل کرنے کی کوشش، اجتماعی زیادتی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    نور مقدم، ماہم ، کنول ، قرة العین اور صاٸمہ کے واقعات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی کہ کم سن بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات نے سانسیں روک لیں، کبھی بُرقعے میں ملبوس سر تا پا ڈھکی عورتیں پامال ہوئیں، تو کبھی قبروں سے نکال کر خواتین کے ساتھ زیادتی کی گٸی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تین ماہ کی بچیوں سے لے کر بڑی عُمر تک کی خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔

    حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر دل دہلا دینے والے عاٸشہ اکرام کے واقعہ نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دل سوز واقعہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آیا۔ چودہ اگست کو شام ساڑھے چھ بجے عاٸشہ اکرام اور اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم چار سو اوباش اور درندے صفت ٹولے نے عاٸشہ اور انکے ساتھیوں پر حملہ کردیا۔ لڑکی کو ہراساں کیا اور اسکے کے ساتھ کھینچا تانی کی گٸی ۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام اس بیٹی کے کپڑے تک پھاڑےگٸے اور اسے ہوا میں اچھالتے رہے ۔

    عاٸشہ اور اس کے ساتھیوں نے درندے صفت مردوں کے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران انتظاميہ کی جانب سے مینار پاکستان کے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن جانوروں نے جنگلے کو پھلانگ کر اس لڑکی کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی ہر پاکستانی دل گرفتہ ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ یہ کیسے جانور ہیں ، درندگی پر اتر آئے ہیں

    معذرت کے ساتھ چار سو مردوں میں ایک بھی مرد ایسا نہ تھا جو عاٸشہ کی مدد کرسکتا ۔ اپنی بہن سمجھ کر اسکی عزت و آبرو کی حفاظت کرتاہے ، اس کا محافظ بنتا اور اس کو بچاتا مگر افسوس کے ساتھ ان چار سو نا مردوں کی، آٹھ سو آنکھیں میں حیا نہیں تھی کہ کیسی بہن، بیٹی کے ساتھ یہ ہوتے دیکھ رہے تھے خدا نہ کریں اس کی جگہ ان کی بہن، بیٹی ہوتی تو کیا یہ سب اسی طرح تماشا دیکھتے

    آٹھ سو ہاتھوں میں سے کوئی بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔ کسی کی مرد کی روح نہیں کانپی، کسی کی زبان نے اپنے ساتھی کو کچھ نہیں کہا کہ یہ بھی ہماری بیٹی ہے ، ہماری بہن ہے اسکے ساتھ ایسا وحیشانہ سلوک نہ کروں سب درندوں کو ایک موقع ملا اور سب نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔

     سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر پر معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ عورت خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی ہو، یا معاشرے کی کوئی بھی عورت، ہمارے اسلام میں اسے ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا اور مردوں کو ان کے ادب و احترام کا حکم دیا گیا ہے

    خود نبیِ کریم  ﷺ  نے بھی عورتوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی ،بہترین برتاوٴ ، اچھی معاشرت کی تاکید فرمائی ہے ، حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو ۔ترمذی

    درندگی کا یہ واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ انسانیت سوز درندگی کے واقعہ میں ملوث چار سو ملزم کو ایسی عبرتناک سزادی جائے جو رہتی دنیا تک یاد رہے۔ تاکہ کیسی کی بہن بیٹی کی عزت یوں سرعام تار تار نہ ہو ۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • عورت اور معاشرہ  تحریر:  خدیجہ نقوی

    عورت اور معاشرہ تحریر: خدیجہ نقوی

    ‏ایک سوال قانون نافذ کرنے والے _اداروں سے
    ایک سوال حکومت وقت سے
    ایک سوال مردوں سے
    بس ایک سوال۔۔۔۔_
    کیا پاکستان میں عورت اتنی سستی ھے؟
    آج صبح واک سے واپسی ہوئ تو حسب معمول گھر آتے ہی پہلا کام موبائل پہ مختلف ایپز کو چیک کرنا واٹس ایپ، فیس بک کے بعد باری آئ ٹیوٹر کی جہاں #minarepakistan ٹرینڈنگ تھا مجھے لگا کہ یقیناً کوئی مثبت چیز ھی ہو گی بس جزبہ حب الوطنی ٹھاٹھے مارنے لگا اور میں نے سوچا کیوں نہ اسے چیک کیا جاۓ اور دو چار ٹویٹس کر کہ شہیدوں میں اپنا نام بھی لکھوا دیاجاۓ
    مگر جیسے ہی ٹرینڈ اوپن کیا میں تو جیسے چکرا کہ رہ گئ کہ مسمات عائشہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی نے مانو میرے پیروں تلے سے زمین نکال دی ہو۔ ایک اکاؤنٹ نے تو باقاعدہ ویڈیو ہی پوسٹ کی تھی۔
    اس واقعے پہ لوگوں کے ملے جلے خیالات کومنٹس میں موجود تھے کوئ اظہار ہمدردی کر رہا تھا تو کوئی سراپا احتجاج اس کے ساتھ کچھ لوگ لڑکی کو قصور وار مان رہے تھے۔ ایک دو اکاؤنٹس نے لڑکی کا بیک گراؤنڈ ھی غلط ثابت کر دیا کہ لڑکی تو ٹک ٹاک بناتی تھی۔ تنگ لباس پہنا ہوا تھا۔ چار سو بندوں میں یہ کرنے کیا گئ تھی وغیرہ وغیرہ
    ایک حد تک تو آپ کی سب باتیں ٹھیک ھیں مگر میرا سوال اس معاشرے سے یہ ہے کہ کیا اگر ایک لڑکی tiktok بنتی ہے تنگ لباس پہنتی ہے اپنی مرضی سے گھر سے باہر آتی جاتی ہے تو کیا وہ مال غنیمت ہے اسکی کوئی عزت نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ٹھیک تھا صرف اس وجہ سے کے وہ یہ سب کام کر رّہی تھی۔
    میرا دین تو سراپا رحمت ہے اگر کوئی بھٹک جائے تو دین میں تو اس کے لیے بھی واپسی کا راستہ ہے دین میں تو آسانی ہے، رحم ہے عفو درگذر ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان کن اقدار کے پیروں کار بن گئے ہیں جس دین میں سب سے زیادہ تلقین نفس پر قابو کرنے پر دی گئی ہے وہاں روز بروز زینب، نور،عائشہ جیسے کیس کہاں سے نمودار ہو رہے ہیں؟ کیا کوئ جواب ہے ہمارے پاس؟ کیا اس واقعے کو دیکھنے اور سننے کے بعد وہ لڑکیاں جو تعلیم، روزگار کی غرض سے گھروں سے باہر نکلتی ہیں ان کے ماں باپ انکی واپسی تک سولی پے لٹکے نہیں رہیں گے۔
    اسلام نے انبیاء نے ہماری زندگی ہمارا دین بہت آسان بنایا ہے پھر ہم یہ کس کی پیروی کر رہی ہیں؟کیا ہم ایک قوم ہیں؟ کیا ہم ایک سلجھا ہوا معاشرہ ہیں؟ کیا ہم اشراف المخلوقات ہیں؟ ذرا سوچیے۔۔۔۔
    @KhadijaNaqvi01
    Twitter handle

  • ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، 14 اگست 1947 کا دن پاکستانیوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے.آزادی کا دن ۔کہ اس دن پاکستان آزاد ہوا تھا ۔۔ہمیشہ 14 اگست نہایت پرامن طریقے سے منائ جاتی ہے ۔۔اس بار کیا ہوا۔ایک عورت 14 اگست کو شام چار اور پانچ بجے کے درمیان اقبال پارک جاتی لے وہاں وڈیو بناتی ہے کہ وہاں پر موجود لوگ اس ٹک ٹاکر کہ گرد جمع ہو گے اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو ہراس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس لڑکی کو جہاں ہاتھ لگتا ہے لگاتے ہے وڈیو وائرل ہوتی رہی ۔اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ایف آئ آر کاٹی جاتی ہے اب ہو گی قانونی کاروائ۔
    جب معاشرہ بے لگام ہو ۔تربیت کا فقدان ہو جہاں مفتی عزیز اور قوی جیسے کردار ۔اور وہ سکول ماسٹر حو سو بچوں سے زنا کر کہ بھی جیل میں سکون سے روٹی پانی کھا اور ٹی وی دیکھ رہا ہو ۔وہاں کی جنریشن قانون سے ڈریں گی یا مجرموں کے جرم سے شے پاے گی؟
    جہاں قانون کے رکھوالے منصف حاکم وقت سب کے سب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں ۔۔وہاں جنریشن قانون سے ڈرے گی؟ جہاں قانون پر عمل تو ہو لیکن سوشل میڈیا پر وڈیو اور تصاویر وائرل کروانے کے بعد ۔۔جہاں انصاف لینا ہو تو خود کے ساتھ ہووی بغیرتیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا پڑے ۔۔جہاں اپنے حق کے لیے لڑنا ہو تو چار پانچ ٹھڑکی مردوں کا ساتھ چاہیے جو تمھارے حق کے لیے بھرے بازار میں تمھیں پاک دامن کہ سکے ۔۔کیا وہاں کی نسل قانون سے ڈرے گی؟ جہاں عدالتوں میں بیٹھے جج اور تھانوں میں بیٹھے ایس ایچ او تھانیدار کو جسم بیچ کر انصاف لینا پڑے ۔کیا وہاں کی عوام قانون سے ڈرے گی ؟
    اس لڑکی کی غلطی پتہ کیا تھی ۔کہ وہ ٹک ٹاکر ہے ۔کیا ٹک ٹاکر ہونا اتنا غلط ہے کہ چار سو بھیڑیہ تاک لگاے بیٹھا تھا ۔۔جب کہ یہ چار سو بھیڑیا خود بھی ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر موجود ہے. ٹک ٹاکر کو اچھے سے پسند کرتا ہے۔اس ہجوم کا دوغلا پن تو دیکھو کہ یہ ہجوم میں شاید ہی کبھی پانچ وقت نماز بھی پڑھی ہو ۔شاید زندگی میں کبھی سچ بولا ہو ۔شاید کہ اپنی بہنوں کو کبھی پردہ کروایا ہو.اس ہجوم کی غیرت ایک اکیلی تنہا عورت کو دیکھ کر جاگی ۔۔کہ بس اسے چھوڑنا نہیں وہ ٹک ٹاکر ہے ۔۔یورپ جانے کے یہ سارے خواہش مند پاکستانیوں کو ایک پتے کی بات بتاتی ہوں کہ یورپ میں عورت ننگی الف ننگی بھی سڑک پر جارہی ہو ۔اس ننگی عورت کو تاک لگاے کوی دیکھتا ہے وہ بھی وہاں کے قانون کے مطابق ہراسمنٹ کہلاتی ہے.چاہے وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں بھی کسی بھی مرد ساتھ جاے ۔۔۔لیکن کسی اجنبی کا اسے چھیڑنا تکنا ہراسمنٹ کہلاتا ہے ۔دوسری طرف میرے اسلامی جہموریہ پاکستان میں دین کے ٹھیکدار رات رات بھر لڑکیوں سے موبائل فون پر زنا کرتے تب ان کو غیرت نہیں آتی ۔ان کو دھمکیاں دے کر ان سے انھی کے گھر کا سامان چوری کرواتے ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اپنے دوستوں سے ملنے کا کہتے. ورنہ وڈیو تصاویر لیک کر دوں گا ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اس بھیڑیے نما ہجوم کی غیرت ایک اکیلی عورت پر جاگی ۔اس عورت پر جس کا ان سے کوی سروکار نہیں ۔۔ابے شیطان کے چیلوں تجھ پر فرض ہے پردہ کروانا اپنی ماں بیوی بیٹی بہن کو ۔۔صرف ان چار عورتوں کی زمہ داری ہے تیرے پر ۔پر توں گھر کے فرائض چھوڑ کر گلی کا آوارہ کتا بن کر اجنبی عورتوں نامحرم عورتوں پر لال ٹپکاے بیٹھا ہے. وہ ننگی بھی ہوتی تجھ پر تب بھی نامحرم تھی حرام تھی ۔۔ہر مرد کی اب روح کانپ رہی ہے ہر مرد اب آگ بگولہ ہے مینار پاکستان والے اس واقعے پر۔۔مرد اگر ایسے ہوتے ہیں تو وہ چار سو مرد کون تھے ۔۔پھر ان کی بات شروع ہوتی ہے گھر کہ مرد سے کہ مرد اگر برا ہے تو تمھارے گھر کا مرد بھی برا ہوگا تمھارے گھر مرد نہیں پھر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہے ۔دل کرتا ان جنگلی بھیڑیوں کے منہ سے زبان نوچ لوں کہ تمھارے جیسے گلی کے آوارہ کتوں کے منہ سے ہمارے باپ بھائ کا زکر اچھا نہیں لگتا ۔مرد ایک عظیم چیز ہے اس کی سب سے بڑی مثال میرا باپ ہے. بھائ ہے تو تحفظ کا احساس ہے ۔۔۔تم اگر بھیڑیے نامرد ہو تو اس میں ہمارے باپ بھائ کا کیا قصور ۔۔جنھوں نے کبھی کسی عورت کی طرف آنکھ کر نہیں دیکھا ۔۔تمھیں بھیڑیا اور نامرد کہنا چاہیے تاکہ تم جیسے غلیظ کیڑوں کی وجہ سے ہمارے گھر کہ مرد بدنام نہ ہوں ۔۔
    آخر میں بات کروں گی عورت کی.مزار قائد پر ان دنوں صرف مرد حضرات جاتے ہیں مطلب ان چھٹیوں میں وہاں صرف مرد حضرات کا رش ہوتا ہے وہ بھی مزدور طبقے کا عام تعطیلات میں مزار قائد مینار پاکستان بلکہ چڑیا گھر تک میں خواتین کے جانے والا نہیں ہوتا۔پھر کیوں شامت بلوانے پہنچ گئ وہ بھی لاہور۔وہاں تو یہ حال ہے کہ برقعے والی عورت تک کو بھی چھیڑتے ہیں عام لڑکی گزر رہی ہو کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نوچنے کی حوس سے دیکھنے لگ جاتے ۔ تو وہاں کی مقامی عورتیں کیسے اس بات سے انجان ہوں گی ۔یہ عورت ٹک ٹاک مووی بناتے خودی اس ہجوم میں گھس گئ ۔جہاں پورا لاہور اور آس پاس کے علاقے کے مکین جانتے کہ وہاں ان دنوں عورتوں کو نہیں جانا چاہیے ۔۔چاہے کوی ٹک ٹاکر ہو چاہے کوی مدارس میں پڑھاتی برقعہ پوش عالمہ ۔باقی یہاں اکثریت مرد حضرات موقع نہیں چھوڑتے ۔

  • واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی


    سانحہ کربلا صبرو تحمل، دلیری و شجاعت، پرہیزگاری، عقیدہ، اخلاق اور طرز زندگی کا درس دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے ۔واقعہ کربلا کو زندہ و جاوید بنانے میں زینبؓ، کلثومؓ، سکینہ ؓ اور دیگر شہداء کی خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ واقعہ کربلا کے پیغام کو رعایا تک خواتین نے پہنچایا ہے۔

    اس واقعہ کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی حسین ؓ اور دیگر شہدا ادھورا ہی رہ جاتا۔

    زینبؓ ، کلثومؓ،سکینہؓ اوردیگر شہدا ٕ کی خواتين کی بے مثال کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا روشن نظر آتی ہے۔ سانحہ کربلا میں صرف عاشورہ میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت حسینؓ بن علیؓ کے بعد مختلف مقامات پر اپنا اہم کردارادا کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت حسینؓ کا خواتین و بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔

    واقعہ کربلا کی ان عظیم خواتین نے یریذی قوتوں کے مقابل اپنے جگر گوشوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا اور اپنے سہاگوں کو بھی راہ اللہ میں قربان ہوتے دیکھا، لیکن خاتم النبیینﷺ کے دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی ۔

    اس بات میں کوئی شک و شہبہ نہیں کہ اگر خواتین حضرت حسین ؓ کا ساتھ نہ دیتیں، تو اُمت مسلمہ کی بیداری کی یہ تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی بلکہ یہ کربلا کے میدان میں ہی ختم ہو جاتی۔ ان خواتین نے ہی اس واقعہ کی یاد کو زندہ جاوید بنا دیا۔

    آج کی مسلمان خواتین کے لئے واضح درس ہے کہ زمانہ کتنا بھی خوشحال اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائیں اور موجودہ حالات کتنے بھی سخت کیوں نہ ہو جائیں ، معاشرہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو جائے، مگر یہ سختیاں اور دشواریاں و مصائب واقعہ کربلا کی سختیوں اور آزمائشوں کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے ۔ اس لئے ہمیشہ اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں، سچ کا ساتھ دیں، اور یریذیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوں تو راستے خود بخود سہل ہو جائیں گے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    زندگی صفحہ قرطاس پہ بکھرے سات رنگوں کا مجموعہ, جو کسی کیلیے دھنگ رنگ پیرہن تو کسی کیلیے اماؤس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے ۔ انسانی زندگی مسلسل بدلتی کیفیات کا نام ہے جس میں مستقل کیفیت دکھ اور غم کی ہے۔ اگرچہ خوشیاں بہت عارضی وقت کے لئیے ہوتیں ہیں لیکن خوشیوں سے جڑی یادیں ساری زندگی آپکو خشگوار احساس سے جوڑتی ہیں ۔ غم خود بخود مل جاتے ہیں لیکن خوشیاں ڈھونڈنے پڑتی ہیں ۔
    بہت خوبصورت ہوتا ہے وہ وقت جب ہم خوش ہوتے ہیں. ہم خوش ہونے کی بڑی وجوہات کو اگر اپنی ذات سے کچھ وقت کے لئیے الگ کر کے دیکھیں تو سارا وقت ہنسی خوشی گزرتا ہے۔ کیوں کہ جن بڑی باتوں کے پورا ہونے میں وقت درکار ہو اسکا انتظار کرنے کے لئیے اپنے حال میں موجود چھوٹی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انکے انتظار کا مزہ اپنی جگہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوئ خوشیوں کا مقام اپنی جگہ، اب سوال یہ ہے کہ وہ کیسے؟ خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں میںں چھپی ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھئیے کن چیزوں سے آپکو خوشی ملتی ہے۔ کسی کی مدد کر کے دل کو سکون اور خوشی دونوں میّسر آتے ہیں۔ جیسے کسی کو خوش دیکھ کر آ پکو خوشی ملتی ہے۔

    جیسے، اپنی، والدہ، والد، کوئ بچہ، بچی، بہن بھانجی، بھانجے یا بھتیجی، بھتیجے، یا محلے کا کوئ بچہ، خاندان کے تمام بچے یا پھر اپنی بیوی کی مسکراہٹ یا اسکا غصہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزمرہ ہمارے ارد گرد ہمارے ساتھ رہتی ہیں ان میں چھپی ہزاروں خشیاں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسکے بجائے ہم بڑی خواہشات کے پورا ہونے میں خود کو اسطرح مصروف کر لیتے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں رہتا کہ ہم خوش بھی ہوسکتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے بیوی بچوں میں روزانہ آکر بیٹھنا انکی کھٹی میٹھی باتوں کا حصہ بننا اور ان سے خود کو محضوظ کرنا بھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا ہی ایک حصہ ہے اور بڑی نعمت بھی ہے۔ ہم اپنی اپنی ذندگیوں میں اپنے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کی دوڑ میں خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور سوال پھر وہی کے ہمیں کبھی خوشی نہیں ملتی ہم آخر خوشیاں کہاں سے لائیں۔ بعض اوقات ہم اپنے کسی چاہنے والے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئیے اس سے دور رہتے ہیں۔ لیکن اس میں بہت سی خوشیاں کھو جاتی ہیں۔ جیسے کوئ باپ اپنے بچے کو خوش کرنے کے لئیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بچوں کو لا کر دیتا ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے معصوم بچے ہمیشہ صرف والد کی لائ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ اور اس عمل کو وہ تا حیات یاد رکھتے ہیں کہ ہمارے والد یوں ہمارا خیال رکھتے تھے ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے خشیاں دیتے تھے۔ کوئ کھلونا کوئ چوڑی کوئ پائیل، کوئ شرٹ، یا پھر ٹائ اگر کسی کی خوشی کا حصہ ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ خوشیاں بانٹیں یہ سب بہت مہنگے شوق نہیں جو آسانی سے پورے نہ کئیے جاسکیں۔ یہ تو ضروریات تحفے اور خریداری سے جڑی کچھ خواہشات تھیں خیر۔۔

    خوشی صرف مادی چیزوں یا کسی زی روح کی موجودگی سے ہی کشید نہیں ہوتی بلکہ خوشیاں کسی کے موجود ہونے کے احساس سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ آپکی موجودگی کی خوشی اور غیر موجدگی کے اثرات اگر کسی کی ذندگی پہ اچھائ میں رونما ہوتے دکھائ دیتے ہیں تو اس سے بڑی نعمت اور خوشی کیا ہوگی کہ کوئ آپکے لئیے منتظر رہتا ہے۔ اپنی موجودگی کو یقینی بنائیے آپکو اپنی خوشی سمجھنے والے کہیں خود خاموش نہ ہوجائیں کسی کی خوشی کی وجہ اگر آپکی ذات سے جڑی ہے تو اپ کو کوئ حق نہیں کسی کی خوشی چھینیں۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ لوگوں کی ضروریات ہی سب کچھ نہیں ہوتیں کچھ خوشیاں اور چیزیں صرف تعلق پہ منحصر ہوتی ہیں۔کسی کیلیے آپ کی ایک مسکراہٹ خوشی کا باعث ہوتی ہے تو کبھی آپکا صرف احساس ہی کافی ہوتا ہے ۔ ایسے رشتے ایسی خوشیاں بہت انمول ہوتی ہیں انھیں کسی قسم کی لاپرواہی کی وجہ سے نہ کھوئیں اپنے پیاروں کی اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قدر کیجئیے۔ یہ آپکا ماضی، حال اور مستقبل یادگار اور خوبصورت بناتی ہیں۔ سب کے لئیے خوشی کی وجہ بنئیے لوگوں کے چہرے کی رونق اور انکی انکھوں کے جگمگاتے تارے بنیں اور اس خوشی کو محسوس کیجیے تاکہ آپ خوش رہ سکیں ۔

    @_Ujala_R

  • عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی  (جدون )

    عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    دیکھا جائے تو عورت عرصہ دراز سے مظلوم چلی آرہی ہے. دنیا کا ایسا کوئی حصہ نہیں جہاں عورت پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں.
    اسلام سے پہلے اہل عرب میں عورت کے وجود کو باعث شرمندگی سمجھا جاتا تھا اور زندہ دفن کردیا جاتا تھا.
    کہیں پہ شوہر کی چِتا پر اسکی بیوہ کو جلایا جاتا تھا اور دنیا میں بیشتر تہذیبوں میں عورت کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی نہ ہی اسکو معاشی حقوق حاصل تھے.
    اسلام ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو اس ذلت سے نکالا اور اسکا اسکا اصل مقام دیا.
    زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اسکے کیا حقوق ہیں اور اسکی فطرت کے مطابق نبی کریم نے عورت کو ذمہ داریاں دی.
    حضرت محمد مصطفی کا لایا ہوا دین اسلام عورت کو عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے اسلام نے عورت کو اسکے تمام فطری حقوق دیئے.
    مگر آج آ پ سے بحیثیت ایک عورت ہونے کے کچھ باتیں شئیر کرونگی.
    سب سے پہلے ایک سوال کہ آج کی عورت کہاں کھڑی ہے ؟ ؟؟

    کئ عورتیں حقوق کے نام پر عورت ذات کے تقدس کی پامالی کررہی ہیں. جیسے کہ میرا جسم میری مرضی…
    اور یہ اس لئے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے. مگر میں نے کئی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو اپنا گھربار اور مستقبل اپنے مفاد کے لئے ختم کر دیا ہے.
    میرے نزدیک ایک شادی شدہ عورت کے لئے اسکی پہلی ترجیح اسکا اپنا گھر اور اسکے بچے ہیں اسکے بعد اسکا مستقبل.
    عورتوں کو حد سے زیادہ آزادی ہمارے معاشرے نے دے دی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں جب لڑکی جوان ہوتی ہے عموماً وہ کسی کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے. کئی تو انٹرنیٹ پر دوستی پھر محبت تک پہنچ جاتے ہیں.
    اور پھر جب یہ کہا جاتا ہے کہ عورت مظلوم ہے تو مجھے وہ منظر یاد آ جاتا کہ عورت ہی بعض دفعہ عورت پر ظلم کرتی آرہی ہے..
    ہمارے جاننے والی ایک فیملی ہے لڑکے کی شادی ایک غریب گھرانے میں ہوئی, جس سے اسکے تین بچے بھی ہیں.
    کافی ٹائم بعد انکے گھر جانا ہوا تو میری ملاقات وہاں ایک نئے چہرے سے ہوئی.

    میں نے اس خاتون سے پوچھا تو پتا چلا اسکی بھی شادی اس گھر میں ہوئی ہے مطلب اس لڑکے نے اس سے شادی کرلی تھی.
    وہیں پہلی بیوی بھی آ گئی. کافی دیر بات ہوئی اس دوران میں نے محسوس کیا کہ دوسری بیوی پہلی والی کو کسی خاطر میں نہ لا رہی. باتوں میں پتا چلا کہ نئی دلہن پہلے سے طلاق یافتہ ہے اور چار بیٹیاں اور ایک بیٹے کی ماں ہے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائی ہے جس میں سے دو کی شادی اس گھر میں آ کے ہوئی.
    تین سال سےوہ عورت اس پہلی عورت کے شوہر کے ساتھ تعلقات میں تھی اُسی کے پاس وہ رہتا تھا. جب پہلی بیوی کے علم میں بات آ ئی تو اسنے اُسے کہا کہ بہتر ہے شادی کرلو, جس طرح تم کررہے ہو یہ غلط ہے.
    یوں وہ 5 بچوں کی ماں اپنے بچوں سمیت دلہن بن کے اُس گھر میں آ گئی. اور اسکے آ تے ہی اسکا مطالبہ تھا پہلی والی کو طلاق دو. پہلی والی نے شوہر کے پیر پکڑ کے کہا میرے بچے ہیں میں کہاں جاؤنگی ماں باپ مر گئے ہیں اور کوئی ٹھکانہ نہیں. مجھے اس گھر میں رہنے دو بیشک میرے سے تعلق نہ رکھو.
    مجھے یہاں پہلے والی تو انتہائی مظلوم لگی جبکہ دوسری والی نہایت ظالم.
    جس عورت نے اسے عزت دی ایک مقام دیا اب وہ اُسی عورت کا گھر اجاڑنے پر تُلی ہوئی.
    کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک شادی شدہ مرد کو عورت اپنے مفاد اپنے پیار کے چنگل میں پھنسا کر اسکو اپنے گھر میں رکھے ؟؟؟
    اُسکی جوان بیٹیاں اُن پر کیا اثر پڑا ہوگا کہ انکی والدہ کے پاس یہ مرد کون آ تا ہے.

    چلو شادی ہوگئی یہ اچھا ہوا مگر ایک بات صاف کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور کئی گھرانے توڑنے میں بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے.
    ایک عورت ہونے کے ناطے اس میں یہ جذبہ بھی ہوتا کہ وہ کسی دوسری عورت کو ظلم سے بچائے بجائے اسکے وہ خود آ گے بڑھ کر ظلم کی ترغیب دیتی ہے..
    جب ہم عورت پرہونے والے ظلم کی داستان کو اسکے پس منظر کے ساتھ دیکھیں تو ثابت ہوجاتا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے.
    زرا سوچیں وہ کون جو دوسری عورت کے راز سے پردہ اٹھاتی ہے الزام تراشی کرتی ہے. بدکردار, مکار کہتی ہے اور عورت کو ہی سرعام رسوا کرتی ہے.
    عورت نے مرد کو ظالم ثابت کرنے کے لئے رو پیٹ کر عالمی یوم خواتین منانے کا حق منوا تو لیا مگر خود جو عورت ہی عورت پر ظلم کرتی آ رہی ہے وہ دن کب منایا جائے گا.
    مرد ظالم ہوتا نہیں یہ صرف ان عورتوں نے ظالم دیکھایا ہے اور معاشرے میں مردوں کو ظالم ہی پیش کیا جاتا ہے. یہ نہیں دکھایا جاتا کہ مرد بھی عورت کی طرح کئی ذمہ داریوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اور بہت سے رشتوں میں بندھا ہوتا ہے. اسے وہ سارے رشتے بھی نبھانے ہوتے ہیں, اگر ان سے وہ منہ پھیر لے تو بےحس ثابت کردیا جاتا ہے.
    اپنی تسلی کے لئے کسی ایسی عورت سے پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں جسکی شادی کو پندرہ بیس سال ہوئے ہو کہ اسکا اپنے خاوند کے بارے میں کیا خیال ہے تو 80% خواتین کا جواب ہوگا یہ میں ہی ہوں جو اسکے ساتھ گزارا کررہی ہوں. ورنہ یہ اس لائق نہیں..

    ایک مرد ایک عورت سے میرے خیال میں وفاداری چاہتا ہے جو بدقسمتی سے ناپید ہوتی جارہی ہے..
    کچھ دن پہلے ایک عورت گھر میں اسپتال کا بتا کے نکلی 4 بچوں کی ماں
    مگر اسپتال کی بجائے عدالت پہنچ گئی کہ میرا شوہر نشئی ہے مارتا ہے مجھے اسکے ساتھ نہیں رہنا. دارالامان بھیجا جائے اور دوسرے دن دارلامان کی بجائے اسی سے نکاح کرلی جس کے ساتھ تعلقات تھے. اور شوہر دو دن تلاش کرتا رہا اسپتالوں میں. بعد میں پتا چلا کہ وہ تو نئی شادی کرلی. برحال کیا ہوتا آ گے وہ عدالت کا کام.
    عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی جنگ کو ختم کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا.
    مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ جب عورت, عورت کی ڈھال بن جاتی ہے تو اسکا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا.
    @Rehna_7

  • اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اگر ہم اسلام سے قبل عورت کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عورت کو کس قدر حقیر اور کمتر جانا جاتا تھا ۔ عورت کو آزادٸ راۓ کا کوٸ حق حاصل نہ تھا نہ ہی اس کی کوٸی عزت اور مقام تھا۔ بیٹی کی پیداٸش کو شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا اور اسے زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ مگر پھر عرب میں ایک چاند نمودار ہوا جسے دنیا محمد صلى الله عليه واله وسلم کے نام سے جانتی ہے اس ہستی کی آمد تھی کہ جہالت کے ساۓ جھٹنے لگے اور انسانیت کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔ ممحمد صلى الله عليه واله وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ بیٹی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہے۔ انہوں نے اسلامی قوانین کے نفاز کو یقینی بنایا اور اسلام میں خواتین کو جو حقوق حاصل تھے دنیا کو اس سے روشناس کروایا۔
    اسلام نے تعلیم، وراثت اور پسند نا پسند اور نکاح میں بھی حق دیا کہ اگر وہ چاہے تو ہاں کرے اور اگر اس کی مرضی شامل نہ ہو تو زبرددستی نکاح نہیں کرو غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تمام حقوق دیے ہیں ۔ کسی بھی مرد کو عورت کی تزلیل کا حق حاصل نہیں ۔ اسلام نے اسے عملی طور پر ثابت کیا اور بتایا کہ عورت جس بھی روپ میں ہو وہ معاشرے کے لیے قابل احترام ہے اسے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو ۔ عورت ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی اور اگر بیٹی ہے تو فرمایا کہ یہ باعث رحمت ہے اور اگر بہن ہے تو وفا کا پیکر ہے اور اگر بیوی ہے تو تمہارا ایمان
    مکمل کرتی ہے. اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب جیسی جیسے پروان چڑھی۔
    عورتوں نے زندگی کے ہر شعبے میں کارہاۓ نمایاں سرانجام دیے۔
    حضرت خدیجہؓ اپنے وقت کی مشہور کاروباری خاتون تھیں اور عاٸشہؓ وہ روشن مثال ہیں جن کے زریعے امت تک احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ پہنچا اور اسی طرح میڈیکل ساٸنسز اور علم جراحی اور سرجری میں حضرت رفیدہؓ کا نام معتبر ہے اور دستکاری اور صنعت و حرفت کے شعبے میں حضرت زینبؓ بنت حجش کا نام شامل ہے غرض یہ کہ خواتین نے ہر شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان فنون کے ساتھ ساتھ بہت سی خواتین ایڈمنسٹریشن کے مناصب پر بھی فاٸز رہیں۔ خواتین انتظامی عہدوں پر بھی فاٸز ہو سکتی ہیں اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سلطان صلاح الدین کی بھتیجی سیدہ حنیفہ حلب کی والیہ رہیں اور شریفہ فاطمہ یمن صنعا اور نجران کی والیہ رہیں اور اس کے علاوہ جنگی محاز پر بھی خواتین نے فراٸض سرانجام دیے ۔ عزرہ بنت حارث نے اہل بیسان سے لڑاٸی میں لشکر کی قیادت کی اور ام عطیہؓ نے محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ام حرام بنت ملحان پہلی بحری مجاہدہ تھیں ۔ ان تمام کارناموں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کے کردار ان
    کے علم و ہنر کی قدر کی اور اسے سراہا۔ حضرت عمرؓ کی مجلس شوریٰ میں خواتین کو بھی نماٸندگی حاصل تھی۔ اور انہیں آزادی راۓ کا حق دیا گیا تھا کہ وہ بلا خوف خطر اپنی راۓ دے سکتی اور اپنا حق لے سکتی ہیں اس کی بہت عمدہ مثال ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے عورتوں کے حق مہر کی تعداد متعین کرنے پر راۓ لی تو مجلس شوریٰ میں ایک عورت اُٹھ کھڑی ہوٸی اورکہا کہ آپ کو یہ اختیار نہیں کہ آپ مہر کی مقدار متعین کریں جبکہ قرآن میں ہمیں یہ حق دیا گیا ہے تو عمرؓ نے فرمایا کہ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے ۔
    برطانیہ نے 1918 میں عورت کو ووٹ کا حق دیا ۔ امریکہ نے 1920 کے بعد انیسویں آٸینی ترمیم میں عورت کو ووٹ کا حق دیا اور نیوزی لینڈ میں 1893 میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ اسلام نے ان سب سے پہلے عورت کو راۓدہی کا حق دیا۔
    نوع انسانی میں اسلام نے سب سے پہلے خواتین کے حقوق متعارف کرواۓ اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی طاقت کے زور سے کسی کی حق تلفی کرے۔ہمیں ایک دوسرے کے حقوق سلب کرنے کی بجاۓ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔ اسلام نے جو حقوق اور حدود مقرر کی ہیں ہمیں عملی زندگی میں ان کا نفاذ کرنا ہو گا تا کہ حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا قیام عمل میں آسکے 😇

    ‎@b786_s

  • عورتوں کے حقوق !  تحریر: سیدعلی ارسلان

    عورتوں کے حقوق ! تحریر: سیدعلی ارسلان

    آفتاب اسلام کے طلوع ہونے سے قبل عورتوں کو کوئی مقام نہیں دیا جاتا تھا-عورت اس وقت سراپا مظلومیت تھی۔یہاں تک بیٹی پیدا ہونے پر اسے زندہ دفنا دیا جاتا تھا ۔نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے عورت کے صحیح مقام سے زمانے کو روشناس کرایا ہمیں چاہیے کہ عورت کے حقوق کا تحفظ کریں۔اسلام کے ضابطہ حیات میں عورت کے حقوق اچھی طرح سے بیان کیے گئے ہیں۔عورتوں کے کردار کے بارے میں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان عورتوں ہی کے گود کے پالوں نے بڑے بڑے معرکے سر انجام دیے ہیں اور اسلام کے پرچم کو بلند کیا۔
    "عورت کبھی حوا، کبھی مریم، کبھی زہرا ”
    "عورت نے ہر دور میں قوموں کو سنوارا”
    خواتین کا احترام کرنا انہیں برابری کے حقوق دینا دراصل نوح انسانی کے مترادف ہے۔دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام سب سے پہلا مذہب ہے جس نے عورتوں کے حقوق کا تعین کیا ہے اور انہیں مردوں کے شانہ بشانہ لاکر کھڑا کردیا ہے۔
    افسوس! صد افسوس عورت کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری و ساری ہے حالانکہ عورت کے بغیر یہ دنیا کچھ بھی نہیں ہے۔ہمیں اس چیز کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ عورت کے حقوق پر توجہ دیں ۔چاہے وہ ماں ہے بہن ہے بیٹی ہے اس کی عزت کریں۔دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہوں۔ہمیں اس چیز کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ خواتین کو ان کے حقوق دیں بالخصوص عورتوں کی بنیادی تعلیم کا حق کیوں کہ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کو سنوار دیتی ہے۔عورت کی گود کے پالے معاشرے کی فلاح و بہبود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اس سلسلے میں حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مختلف این جی اوز بھی اپنا موثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
    "بیٹیاں بھی ہے محبت کی امیں ”
    "صرف بیٹوں کی نہ چاہت کیجیے”
    عورت کا پہلا ہے اس کی عزت و احترام کرنا ہے۔جن اقوام نے اپنی خواتین کو عزت و احترام دیا اور عورتوں کو بنیادی حقوق دیے ہیں ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ عورت انسانی نسل کی اچھی پرورش رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے ہمہ تن گوش ہے بلکہ کبھی عورت وقت پڑنے پر ایک مضبوط چٹان ثابت ہوتی ہے۔اور ہر سمت میں ہر محاذ پر اپنی فتح کا علم بلند کرنے کا ہنر جانتی ہے۔بے شک اللّه پاک کی ذات نے عورت کو بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔ہمارے پاس بے شمار ایسی مثالیں ہیں جن سے عورتوں کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔اسلامی تاریخ ایسی ماؤں/عورتوں سے بڑی پڑی ہے۔سب سے قابل ذکر جناب بی بی زینب علیہ السلام کا واقعہ کربلا میں کردار ہے۔واقعہ کربلا میں جو کردار بی بی زینب علیہ السلام نے نبھایا ھے۔ اس کی مثال زمانے میں نہیں ملتی۔ آپ نے بے مثال بہادری سے کوفہ و شام کی منازل طے کیں۔ اس سے عورتوں کو یہ پیغام ملتا ھے کہ اگر عورت ھمت و بہادری سے کام لے تو وقت کے یزید کا غرور بھی خاک میں ملا سکتی ھے ۔عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق دینا ،ان کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کو مضبوط بنانا ہم سب کا فرض ہے۔عملی طور پر ایک باعزت مقام عورت کی پہچان ہے جیسا کہ سننے میں آتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ عورت کی شخصیت میں ضرور کوئی نہ کوئی ایسی خوبی ہے جو اسے ناقابل تسخیر بناتی ہے۔
    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ۔۔
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا