Baaghi TV

Category: خواتین

  • واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی


    سانحہ کربلا صبرو تحمل، دلیری و شجاعت، پرہیزگاری، عقیدہ، اخلاق اور طرز زندگی کا درس دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے ۔واقعہ کربلا کو زندہ و جاوید بنانے میں زینبؓ، کلثومؓ، سکینہ ؓ اور دیگر شہداء کی خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ واقعہ کربلا کے پیغام کو رعایا تک خواتین نے پہنچایا ہے۔

    اس واقعہ کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی حسین ؓ اور دیگر شہدا ادھورا ہی رہ جاتا۔

    زینبؓ ، کلثومؓ،سکینہؓ اوردیگر شہدا ٕ کی خواتين کی بے مثال کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا روشن نظر آتی ہے۔ سانحہ کربلا میں صرف عاشورہ میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت حسینؓ بن علیؓ کے بعد مختلف مقامات پر اپنا اہم کردارادا کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت حسینؓ کا خواتین و بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔

    واقعہ کربلا کی ان عظیم خواتین نے یریذی قوتوں کے مقابل اپنے جگر گوشوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا اور اپنے سہاگوں کو بھی راہ اللہ میں قربان ہوتے دیکھا، لیکن خاتم النبیینﷺ کے دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی ۔

    اس بات میں کوئی شک و شہبہ نہیں کہ اگر خواتین حضرت حسین ؓ کا ساتھ نہ دیتیں، تو اُمت مسلمہ کی بیداری کی یہ تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی بلکہ یہ کربلا کے میدان میں ہی ختم ہو جاتی۔ ان خواتین نے ہی اس واقعہ کی یاد کو زندہ جاوید بنا دیا۔

    آج کی مسلمان خواتین کے لئے واضح درس ہے کہ زمانہ کتنا بھی خوشحال اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائیں اور موجودہ حالات کتنے بھی سخت کیوں نہ ہو جائیں ، معاشرہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو جائے، مگر یہ سختیاں اور دشواریاں و مصائب واقعہ کربلا کی سختیوں اور آزمائشوں کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے ۔ اس لئے ہمیشہ اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں، سچ کا ساتھ دیں، اور یریذیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوں تو راستے خود بخود سہل ہو جائیں گے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    زندگی صفحہ قرطاس پہ بکھرے سات رنگوں کا مجموعہ, جو کسی کیلیے دھنگ رنگ پیرہن تو کسی کیلیے اماؤس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے ۔ انسانی زندگی مسلسل بدلتی کیفیات کا نام ہے جس میں مستقل کیفیت دکھ اور غم کی ہے۔ اگرچہ خوشیاں بہت عارضی وقت کے لئیے ہوتیں ہیں لیکن خوشیوں سے جڑی یادیں ساری زندگی آپکو خشگوار احساس سے جوڑتی ہیں ۔ غم خود بخود مل جاتے ہیں لیکن خوشیاں ڈھونڈنے پڑتی ہیں ۔
    بہت خوبصورت ہوتا ہے وہ وقت جب ہم خوش ہوتے ہیں. ہم خوش ہونے کی بڑی وجوہات کو اگر اپنی ذات سے کچھ وقت کے لئیے الگ کر کے دیکھیں تو سارا وقت ہنسی خوشی گزرتا ہے۔ کیوں کہ جن بڑی باتوں کے پورا ہونے میں وقت درکار ہو اسکا انتظار کرنے کے لئیے اپنے حال میں موجود چھوٹی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انکے انتظار کا مزہ اپنی جگہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوئ خوشیوں کا مقام اپنی جگہ، اب سوال یہ ہے کہ وہ کیسے؟ خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں میںں چھپی ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھئیے کن چیزوں سے آپکو خوشی ملتی ہے۔ کسی کی مدد کر کے دل کو سکون اور خوشی دونوں میّسر آتے ہیں۔ جیسے کسی کو خوش دیکھ کر آ پکو خوشی ملتی ہے۔

    جیسے، اپنی، والدہ، والد، کوئ بچہ، بچی، بہن بھانجی، بھانجے یا بھتیجی، بھتیجے، یا محلے کا کوئ بچہ، خاندان کے تمام بچے یا پھر اپنی بیوی کی مسکراہٹ یا اسکا غصہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزمرہ ہمارے ارد گرد ہمارے ساتھ رہتی ہیں ان میں چھپی ہزاروں خشیاں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسکے بجائے ہم بڑی خواہشات کے پورا ہونے میں خود کو اسطرح مصروف کر لیتے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں رہتا کہ ہم خوش بھی ہوسکتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے بیوی بچوں میں روزانہ آکر بیٹھنا انکی کھٹی میٹھی باتوں کا حصہ بننا اور ان سے خود کو محضوظ کرنا بھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا ہی ایک حصہ ہے اور بڑی نعمت بھی ہے۔ ہم اپنی اپنی ذندگیوں میں اپنے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کی دوڑ میں خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور سوال پھر وہی کے ہمیں کبھی خوشی نہیں ملتی ہم آخر خوشیاں کہاں سے لائیں۔ بعض اوقات ہم اپنے کسی چاہنے والے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئیے اس سے دور رہتے ہیں۔ لیکن اس میں بہت سی خوشیاں کھو جاتی ہیں۔ جیسے کوئ باپ اپنے بچے کو خوش کرنے کے لئیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بچوں کو لا کر دیتا ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے معصوم بچے ہمیشہ صرف والد کی لائ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ اور اس عمل کو وہ تا حیات یاد رکھتے ہیں کہ ہمارے والد یوں ہمارا خیال رکھتے تھے ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے خشیاں دیتے تھے۔ کوئ کھلونا کوئ چوڑی کوئ پائیل، کوئ شرٹ، یا پھر ٹائ اگر کسی کی خوشی کا حصہ ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ خوشیاں بانٹیں یہ سب بہت مہنگے شوق نہیں جو آسانی سے پورے نہ کئیے جاسکیں۔ یہ تو ضروریات تحفے اور خریداری سے جڑی کچھ خواہشات تھیں خیر۔۔

    خوشی صرف مادی چیزوں یا کسی زی روح کی موجودگی سے ہی کشید نہیں ہوتی بلکہ خوشیاں کسی کے موجود ہونے کے احساس سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ آپکی موجودگی کی خوشی اور غیر موجدگی کے اثرات اگر کسی کی ذندگی پہ اچھائ میں رونما ہوتے دکھائ دیتے ہیں تو اس سے بڑی نعمت اور خوشی کیا ہوگی کہ کوئ آپکے لئیے منتظر رہتا ہے۔ اپنی موجودگی کو یقینی بنائیے آپکو اپنی خوشی سمجھنے والے کہیں خود خاموش نہ ہوجائیں کسی کی خوشی کی وجہ اگر آپکی ذات سے جڑی ہے تو اپ کو کوئ حق نہیں کسی کی خوشی چھینیں۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ لوگوں کی ضروریات ہی سب کچھ نہیں ہوتیں کچھ خوشیاں اور چیزیں صرف تعلق پہ منحصر ہوتی ہیں۔کسی کیلیے آپ کی ایک مسکراہٹ خوشی کا باعث ہوتی ہے تو کبھی آپکا صرف احساس ہی کافی ہوتا ہے ۔ ایسے رشتے ایسی خوشیاں بہت انمول ہوتی ہیں انھیں کسی قسم کی لاپرواہی کی وجہ سے نہ کھوئیں اپنے پیاروں کی اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قدر کیجئیے۔ یہ آپکا ماضی، حال اور مستقبل یادگار اور خوبصورت بناتی ہیں۔ سب کے لئیے خوشی کی وجہ بنئیے لوگوں کے چہرے کی رونق اور انکی انکھوں کے جگمگاتے تارے بنیں اور اس خوشی کو محسوس کیجیے تاکہ آپ خوش رہ سکیں ۔

    @_Ujala_R

  • عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی  (جدون )

    عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    دیکھا جائے تو عورت عرصہ دراز سے مظلوم چلی آرہی ہے. دنیا کا ایسا کوئی حصہ نہیں جہاں عورت پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں.
    اسلام سے پہلے اہل عرب میں عورت کے وجود کو باعث شرمندگی سمجھا جاتا تھا اور زندہ دفن کردیا جاتا تھا.
    کہیں پہ شوہر کی چِتا پر اسکی بیوہ کو جلایا جاتا تھا اور دنیا میں بیشتر تہذیبوں میں عورت کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی نہ ہی اسکو معاشی حقوق حاصل تھے.
    اسلام ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو اس ذلت سے نکالا اور اسکا اسکا اصل مقام دیا.
    زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اسکے کیا حقوق ہیں اور اسکی فطرت کے مطابق نبی کریم نے عورت کو ذمہ داریاں دی.
    حضرت محمد مصطفی کا لایا ہوا دین اسلام عورت کو عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے اسلام نے عورت کو اسکے تمام فطری حقوق دیئے.
    مگر آج آ پ سے بحیثیت ایک عورت ہونے کے کچھ باتیں شئیر کرونگی.
    سب سے پہلے ایک سوال کہ آج کی عورت کہاں کھڑی ہے ؟ ؟؟

    کئ عورتیں حقوق کے نام پر عورت ذات کے تقدس کی پامالی کررہی ہیں. جیسے کہ میرا جسم میری مرضی…
    اور یہ اس لئے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے. مگر میں نے کئی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو اپنا گھربار اور مستقبل اپنے مفاد کے لئے ختم کر دیا ہے.
    میرے نزدیک ایک شادی شدہ عورت کے لئے اسکی پہلی ترجیح اسکا اپنا گھر اور اسکے بچے ہیں اسکے بعد اسکا مستقبل.
    عورتوں کو حد سے زیادہ آزادی ہمارے معاشرے نے دے دی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں جب لڑکی جوان ہوتی ہے عموماً وہ کسی کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے. کئی تو انٹرنیٹ پر دوستی پھر محبت تک پہنچ جاتے ہیں.
    اور پھر جب یہ کہا جاتا ہے کہ عورت مظلوم ہے تو مجھے وہ منظر یاد آ جاتا کہ عورت ہی بعض دفعہ عورت پر ظلم کرتی آرہی ہے..
    ہمارے جاننے والی ایک فیملی ہے لڑکے کی شادی ایک غریب گھرانے میں ہوئی, جس سے اسکے تین بچے بھی ہیں.
    کافی ٹائم بعد انکے گھر جانا ہوا تو میری ملاقات وہاں ایک نئے چہرے سے ہوئی.

    میں نے اس خاتون سے پوچھا تو پتا چلا اسکی بھی شادی اس گھر میں ہوئی ہے مطلب اس لڑکے نے اس سے شادی کرلی تھی.
    وہیں پہلی بیوی بھی آ گئی. کافی دیر بات ہوئی اس دوران میں نے محسوس کیا کہ دوسری بیوی پہلی والی کو کسی خاطر میں نہ لا رہی. باتوں میں پتا چلا کہ نئی دلہن پہلے سے طلاق یافتہ ہے اور چار بیٹیاں اور ایک بیٹے کی ماں ہے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائی ہے جس میں سے دو کی شادی اس گھر میں آ کے ہوئی.
    تین سال سےوہ عورت اس پہلی عورت کے شوہر کے ساتھ تعلقات میں تھی اُسی کے پاس وہ رہتا تھا. جب پہلی بیوی کے علم میں بات آ ئی تو اسنے اُسے کہا کہ بہتر ہے شادی کرلو, جس طرح تم کررہے ہو یہ غلط ہے.
    یوں وہ 5 بچوں کی ماں اپنے بچوں سمیت دلہن بن کے اُس گھر میں آ گئی. اور اسکے آ تے ہی اسکا مطالبہ تھا پہلی والی کو طلاق دو. پہلی والی نے شوہر کے پیر پکڑ کے کہا میرے بچے ہیں میں کہاں جاؤنگی ماں باپ مر گئے ہیں اور کوئی ٹھکانہ نہیں. مجھے اس گھر میں رہنے دو بیشک میرے سے تعلق نہ رکھو.
    مجھے یہاں پہلے والی تو انتہائی مظلوم لگی جبکہ دوسری والی نہایت ظالم.
    جس عورت نے اسے عزت دی ایک مقام دیا اب وہ اُسی عورت کا گھر اجاڑنے پر تُلی ہوئی.
    کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک شادی شدہ مرد کو عورت اپنے مفاد اپنے پیار کے چنگل میں پھنسا کر اسکو اپنے گھر میں رکھے ؟؟؟
    اُسکی جوان بیٹیاں اُن پر کیا اثر پڑا ہوگا کہ انکی والدہ کے پاس یہ مرد کون آ تا ہے.

    چلو شادی ہوگئی یہ اچھا ہوا مگر ایک بات صاف کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور کئی گھرانے توڑنے میں بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے.
    ایک عورت ہونے کے ناطے اس میں یہ جذبہ بھی ہوتا کہ وہ کسی دوسری عورت کو ظلم سے بچائے بجائے اسکے وہ خود آ گے بڑھ کر ظلم کی ترغیب دیتی ہے..
    جب ہم عورت پرہونے والے ظلم کی داستان کو اسکے پس منظر کے ساتھ دیکھیں تو ثابت ہوجاتا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے.
    زرا سوچیں وہ کون جو دوسری عورت کے راز سے پردہ اٹھاتی ہے الزام تراشی کرتی ہے. بدکردار, مکار کہتی ہے اور عورت کو ہی سرعام رسوا کرتی ہے.
    عورت نے مرد کو ظالم ثابت کرنے کے لئے رو پیٹ کر عالمی یوم خواتین منانے کا حق منوا تو لیا مگر خود جو عورت ہی عورت پر ظلم کرتی آ رہی ہے وہ دن کب منایا جائے گا.
    مرد ظالم ہوتا نہیں یہ صرف ان عورتوں نے ظالم دیکھایا ہے اور معاشرے میں مردوں کو ظالم ہی پیش کیا جاتا ہے. یہ نہیں دکھایا جاتا کہ مرد بھی عورت کی طرح کئی ذمہ داریوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اور بہت سے رشتوں میں بندھا ہوتا ہے. اسے وہ سارے رشتے بھی نبھانے ہوتے ہیں, اگر ان سے وہ منہ پھیر لے تو بےحس ثابت کردیا جاتا ہے.
    اپنی تسلی کے لئے کسی ایسی عورت سے پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں جسکی شادی کو پندرہ بیس سال ہوئے ہو کہ اسکا اپنے خاوند کے بارے میں کیا خیال ہے تو 80% خواتین کا جواب ہوگا یہ میں ہی ہوں جو اسکے ساتھ گزارا کررہی ہوں. ورنہ یہ اس لائق نہیں..

    ایک مرد ایک عورت سے میرے خیال میں وفاداری چاہتا ہے جو بدقسمتی سے ناپید ہوتی جارہی ہے..
    کچھ دن پہلے ایک عورت گھر میں اسپتال کا بتا کے نکلی 4 بچوں کی ماں
    مگر اسپتال کی بجائے عدالت پہنچ گئی کہ میرا شوہر نشئی ہے مارتا ہے مجھے اسکے ساتھ نہیں رہنا. دارالامان بھیجا جائے اور دوسرے دن دارلامان کی بجائے اسی سے نکاح کرلی جس کے ساتھ تعلقات تھے. اور شوہر دو دن تلاش کرتا رہا اسپتالوں میں. بعد میں پتا چلا کہ وہ تو نئی شادی کرلی. برحال کیا ہوتا آ گے وہ عدالت کا کام.
    عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی جنگ کو ختم کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا.
    مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ جب عورت, عورت کی ڈھال بن جاتی ہے تو اسکا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا.
    @Rehna_7

  • اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اگر ہم اسلام سے قبل عورت کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عورت کو کس قدر حقیر اور کمتر جانا جاتا تھا ۔ عورت کو آزادٸ راۓ کا کوٸ حق حاصل نہ تھا نہ ہی اس کی کوٸی عزت اور مقام تھا۔ بیٹی کی پیداٸش کو شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا اور اسے زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ مگر پھر عرب میں ایک چاند نمودار ہوا جسے دنیا محمد صلى الله عليه واله وسلم کے نام سے جانتی ہے اس ہستی کی آمد تھی کہ جہالت کے ساۓ جھٹنے لگے اور انسانیت کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔ ممحمد صلى الله عليه واله وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ بیٹی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہے۔ انہوں نے اسلامی قوانین کے نفاز کو یقینی بنایا اور اسلام میں خواتین کو جو حقوق حاصل تھے دنیا کو اس سے روشناس کروایا۔
    اسلام نے تعلیم، وراثت اور پسند نا پسند اور نکاح میں بھی حق دیا کہ اگر وہ چاہے تو ہاں کرے اور اگر اس کی مرضی شامل نہ ہو تو زبرددستی نکاح نہیں کرو غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تمام حقوق دیے ہیں ۔ کسی بھی مرد کو عورت کی تزلیل کا حق حاصل نہیں ۔ اسلام نے اسے عملی طور پر ثابت کیا اور بتایا کہ عورت جس بھی روپ میں ہو وہ معاشرے کے لیے قابل احترام ہے اسے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو ۔ عورت ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی اور اگر بیٹی ہے تو فرمایا کہ یہ باعث رحمت ہے اور اگر بہن ہے تو وفا کا پیکر ہے اور اگر بیوی ہے تو تمہارا ایمان
    مکمل کرتی ہے. اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب جیسی جیسے پروان چڑھی۔
    عورتوں نے زندگی کے ہر شعبے میں کارہاۓ نمایاں سرانجام دیے۔
    حضرت خدیجہؓ اپنے وقت کی مشہور کاروباری خاتون تھیں اور عاٸشہؓ وہ روشن مثال ہیں جن کے زریعے امت تک احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ پہنچا اور اسی طرح میڈیکل ساٸنسز اور علم جراحی اور سرجری میں حضرت رفیدہؓ کا نام معتبر ہے اور دستکاری اور صنعت و حرفت کے شعبے میں حضرت زینبؓ بنت حجش کا نام شامل ہے غرض یہ کہ خواتین نے ہر شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان فنون کے ساتھ ساتھ بہت سی خواتین ایڈمنسٹریشن کے مناصب پر بھی فاٸز رہیں۔ خواتین انتظامی عہدوں پر بھی فاٸز ہو سکتی ہیں اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سلطان صلاح الدین کی بھتیجی سیدہ حنیفہ حلب کی والیہ رہیں اور شریفہ فاطمہ یمن صنعا اور نجران کی والیہ رہیں اور اس کے علاوہ جنگی محاز پر بھی خواتین نے فراٸض سرانجام دیے ۔ عزرہ بنت حارث نے اہل بیسان سے لڑاٸی میں لشکر کی قیادت کی اور ام عطیہؓ نے محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ام حرام بنت ملحان پہلی بحری مجاہدہ تھیں ۔ ان تمام کارناموں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کے کردار ان
    کے علم و ہنر کی قدر کی اور اسے سراہا۔ حضرت عمرؓ کی مجلس شوریٰ میں خواتین کو بھی نماٸندگی حاصل تھی۔ اور انہیں آزادی راۓ کا حق دیا گیا تھا کہ وہ بلا خوف خطر اپنی راۓ دے سکتی اور اپنا حق لے سکتی ہیں اس کی بہت عمدہ مثال ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے عورتوں کے حق مہر کی تعداد متعین کرنے پر راۓ لی تو مجلس شوریٰ میں ایک عورت اُٹھ کھڑی ہوٸی اورکہا کہ آپ کو یہ اختیار نہیں کہ آپ مہر کی مقدار متعین کریں جبکہ قرآن میں ہمیں یہ حق دیا گیا ہے تو عمرؓ نے فرمایا کہ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے ۔
    برطانیہ نے 1918 میں عورت کو ووٹ کا حق دیا ۔ امریکہ نے 1920 کے بعد انیسویں آٸینی ترمیم میں عورت کو ووٹ کا حق دیا اور نیوزی لینڈ میں 1893 میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ اسلام نے ان سب سے پہلے عورت کو راۓدہی کا حق دیا۔
    نوع انسانی میں اسلام نے سب سے پہلے خواتین کے حقوق متعارف کرواۓ اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی طاقت کے زور سے کسی کی حق تلفی کرے۔ہمیں ایک دوسرے کے حقوق سلب کرنے کی بجاۓ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔ اسلام نے جو حقوق اور حدود مقرر کی ہیں ہمیں عملی زندگی میں ان کا نفاذ کرنا ہو گا تا کہ حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا قیام عمل میں آسکے 😇

    ‎@b786_s

  • عورتوں کے حقوق !  تحریر: سیدعلی ارسلان

    عورتوں کے حقوق ! تحریر: سیدعلی ارسلان

    آفتاب اسلام کے طلوع ہونے سے قبل عورتوں کو کوئی مقام نہیں دیا جاتا تھا-عورت اس وقت سراپا مظلومیت تھی۔یہاں تک بیٹی پیدا ہونے پر اسے زندہ دفنا دیا جاتا تھا ۔نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے عورت کے صحیح مقام سے زمانے کو روشناس کرایا ہمیں چاہیے کہ عورت کے حقوق کا تحفظ کریں۔اسلام کے ضابطہ حیات میں عورت کے حقوق اچھی طرح سے بیان کیے گئے ہیں۔عورتوں کے کردار کے بارے میں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان عورتوں ہی کے گود کے پالوں نے بڑے بڑے معرکے سر انجام دیے ہیں اور اسلام کے پرچم کو بلند کیا۔
    "عورت کبھی حوا، کبھی مریم، کبھی زہرا ”
    "عورت نے ہر دور میں قوموں کو سنوارا”
    خواتین کا احترام کرنا انہیں برابری کے حقوق دینا دراصل نوح انسانی کے مترادف ہے۔دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام سب سے پہلا مذہب ہے جس نے عورتوں کے حقوق کا تعین کیا ہے اور انہیں مردوں کے شانہ بشانہ لاکر کھڑا کردیا ہے۔
    افسوس! صد افسوس عورت کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری و ساری ہے حالانکہ عورت کے بغیر یہ دنیا کچھ بھی نہیں ہے۔ہمیں اس چیز کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ عورت کے حقوق پر توجہ دیں ۔چاہے وہ ماں ہے بہن ہے بیٹی ہے اس کی عزت کریں۔دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہوں۔ہمیں اس چیز کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ خواتین کو ان کے حقوق دیں بالخصوص عورتوں کی بنیادی تعلیم کا حق کیوں کہ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کو سنوار دیتی ہے۔عورت کی گود کے پالے معاشرے کی فلاح و بہبود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اس سلسلے میں حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مختلف این جی اوز بھی اپنا موثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
    "بیٹیاں بھی ہے محبت کی امیں ”
    "صرف بیٹوں کی نہ چاہت کیجیے”
    عورت کا پہلا ہے اس کی عزت و احترام کرنا ہے۔جن اقوام نے اپنی خواتین کو عزت و احترام دیا اور عورتوں کو بنیادی حقوق دیے ہیں ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ عورت انسانی نسل کی اچھی پرورش رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے ہمہ تن گوش ہے بلکہ کبھی عورت وقت پڑنے پر ایک مضبوط چٹان ثابت ہوتی ہے۔اور ہر سمت میں ہر محاذ پر اپنی فتح کا علم بلند کرنے کا ہنر جانتی ہے۔بے شک اللّه پاک کی ذات نے عورت کو بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔ہمارے پاس بے شمار ایسی مثالیں ہیں جن سے عورتوں کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔اسلامی تاریخ ایسی ماؤں/عورتوں سے بڑی پڑی ہے۔سب سے قابل ذکر جناب بی بی زینب علیہ السلام کا واقعہ کربلا میں کردار ہے۔واقعہ کربلا میں جو کردار بی بی زینب علیہ السلام نے نبھایا ھے۔ اس کی مثال زمانے میں نہیں ملتی۔ آپ نے بے مثال بہادری سے کوفہ و شام کی منازل طے کیں۔ اس سے عورتوں کو یہ پیغام ملتا ھے کہ اگر عورت ھمت و بہادری سے کام لے تو وقت کے یزید کا غرور بھی خاک میں ملا سکتی ھے ۔عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق دینا ،ان کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کو مضبوط بنانا ہم سب کا فرض ہے۔عملی طور پر ایک باعزت مقام عورت کی پہچان ہے جیسا کہ سننے میں آتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ عورت کی شخصیت میں ضرور کوئی نہ کوئی ایسی خوبی ہے جو اسے ناقابل تسخیر بناتی ہے۔
    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ۔۔
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا

  • عورتوں کے حقوق تحریر  نوید خان

    عورتوں کے حقوق تحریر نوید خان

    عرصے بعد قلم اُٹھایا تو ذہن میں کافی موضوعات گردش کر رہے تھے دلِ ناداں روٹین سے ہٹ کر کچھ مختلف لکھنے کے موڈُ میں تھا تو سوچا آج صنف نازک پر کالم نگاری کی جائے۔۔
    انسان شعور کی دنیا میں جب قدم رکھتا ہے تو اُسکا سب سے پہلے واسطہ ایک عورت سے ماں کی صورت میں پڑھتا ہے
    ماں اللّٰہ کی طرف سے پیش کئے گئےعظیم تحفوں میں سے ایک تحفہ ہے
    انسان کا پہلہ پروٹوکول دراصل اُسکی ماں ہے
    عورت کے کئی روپ ہیں
    عورت اگر ماں ہے تو جنت ہے
    اگر بہن ہے تو حوصلہ
    اگر شریکِ حیات ہے تو جینے کی وجہ اور ہر خوشی غمی کا ساتھی
    اگر بیٹی ہے تو رحمت
    اگر حالاتِ حاضرہ کا انصاف کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو زہن و گمان میں ایسے کئ ظالمانہ واقعات آتے ہیں جوکہ ثابت کرتے
    انسان ہر دور میں عورتوں پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج تک عورتوں کو اُسکا جائز حق دینے سے انکاری ہے
    دینِ اسلام میں عورتوں کو پورے حقوق دینے کے واضح احکامات ہیں
    خوش بخت ہیں وہ عورتیں جو ماں جیسی عظیم و شان مقام پر فائز ہیں خوش بخت ہیں وہ اولادیں جنکی جنّتیں دنیا میں بھی اُن کے ساتھ ہیں
    ہمارے معاشرے میں کہی تو عورتوں کی قابلیت کے قِصࣿے ہیں چرچے ہیں
    تو کہی
    خواتین کو مارا جا رہا ہیں
    اُنکے چہروں پر تیزاب پھینکا جارہا ہیں اور
    عورتوں کو بے توقیر کیا جا رہا ہیں
    یہ ہماری بد بختی ہیں
    اگر ماں جیسی عظیم ہستی اولڈ ہوم میں ہے
    بہن کو جائیداد میں حصہ نہیں ملا
    اور بیوی اپنے جائز حق سے محروم ہے
    خواتین ڈے پر تقریبات اپنی جگہ
    خوبصورت الفاظ اپنی جگہ
    پر اس ظلم کو بند ہونا جاہئے
    ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم عورتوں کو اُن کے بنیادی حقوق دے
    اُن کو مضبوط کرے
    میری تحریر میرے الفاظ بے اثر ہے اگر لکھے کو پڑھنا نصیب نا ہو
    میں سماج کی اُن فرسودہ روایات کو ختم کرنا چاہتا ہوں جو کہ کسی عورت کو عزت سے اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنےکیلئے کئے گئے کاموں میں رُکاوٹ بنتی ہیں
    میں اُن خواتین کا ذکر بھی کرنا چاہونگا
    جو گلی کے بے کار لونڈوں کی آسمانوں سے باتیں کرتی بے کار اور جھوٹی محبت کا شکار ہو کر خود کو اذئیت دیتی ہے
    یا پھر ساحل پر اُن کشتیوں کا انتظار کرتی ہیں جوکہ اُس سمندر میں موجود ہی نہیں ہوتی۔۔
    شاید مردوں کو میری یہ بات پسند نا آئے
    اور وہ یہ شِکوہ کرے کہ ایک مرد ہو کر آپ نے اپنا قلم اور لفظوں کو مردوں کے خلاف استعمال کیوں کیا پر قابل اور زمانہ شناس لوگ شاید اس بات کو سمجھے کہ میں اپنا فائدہ اپنی ذات اور مفادات کو کسی تحریر پر اثر انداز نہیں کر سکتا میں سچ بولنے کا پابند ہوں
    ہم مرد حضرات بہت خوبصورتی سے کسی خاتون کے دل میں محبت کا احساس اُس وقت جگاتے ہیں جب تک اُسے یقین نہیں آجاتا
    پھر ہمارا دل بھرنے لگ جاتا ہیں
    اور ہم مجبوریوں کا بہانا کرکے کنارہ کر لیتے ہیں یہی ہماری حقیقت ہیں
    یہ ہماری اقدار کبھی نہیں تھی
    بنتِ حوا کے نرم لہجے نے
    ابنِ آدم بگاڑ رکھے ہیں
    جو سچ کہوں تو بُرا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
    یہ سماج جہل کی زَد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے

  • ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔                  تحریر: آصف گوہر

    ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔ تحریر: آصف گوہر

    حجة الوداع کے بارے طویل حدیث ہے۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو”
    لفظ عورت کا معنی ہے چھپی ہوئی چیز یعنی جس کی حفاظت کی جائے۔ یہاں حفاظت سے مراد اچھا برتاو حسن سلوک جسکی وہ
    مستحق ہے وہ کیا جائے۔انگریزی محاورہ لیڈیز فسٹ سے بھی یہی مراد ہے کہ خواتین کو ترجیح دینا ۔
    اسلام سے قبل بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا عورت کی کوئی عزت و توقیر اسلام نے بیٹیوں کی پیدائش کو رحمت کا باعث قرار دیا اور عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا۔
    ہمارے معاشرے میں عورت کو پیدائش کے ساتھ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بیٹوں کو اکثر بیٹیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کئ طرح کے مسائل اور رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں پیدل سوار سفر کرکے سکول اور تعلیمی اداروں میں آنا جانا راستے میں اوباش مردوں کی زہر آلود نظروں جملوں اور تعاقب جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کا حصول بھی ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔لیکن چند دہائیوں سے ہمارے ملک میں لڑکیاں اپنی محنت کے بل بوتے پر سول سروسز میڈیکل کے شعبہ میں بڑی تعداد میں کامیاب ہورہی ہیں جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے اسی طرح خواتین ٹیچنگ اور نرسز کے شعبہ میں بھی گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔
    لیکن ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بھی کم نہیں کام کرنے کی جگہوں پر حراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ساتھ کام کرنے والے مرد حضرات ہر خاتون کو مال مفت سمجھ کر ڈورے ڈالنا فرض سمجھتے ہیں خواتیں کی موجودگی میں ذومعنی گفتگو کرکے خوش ہوتے ہیں اور اکثر خواتین عزت بچانے کی فکر میں یہ سب چپ چاپ برداشت کر جاتیں ہیں ۔ سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ اللہ کی پناہ ۔
    گزشتہ دو روز قبل راولپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی ہسپتال میں زخمی پڑی ہیں ۔ حکومت پنجاب محکمہ تعلیم نے اساتذہ کے تبادلوں میں آسانی تو پیدا کی ہیں لیکن خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔حکومت سے گزارش ہے کہ سرکاری ملازم خواتین کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے ۔ @Educarepak

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    پردہ کرنا نہ کرنا ہر انسان کی اپنی مرضی ہوتی ہے اگر پردہ کرنے کا ارداہ کرلیا ہے تو پھر پورے خلوص نیت سے کریں کہ آپ کی شخصیت سے لوگ متاثر ہوں نہ کہ آپکو چلتی پھرتی ماڈل سمجھنے لگ جائیں جی میں بات کررہی ہوں آجکل کے فیشن ایبل حجاب کی کی اپ پہن کے اتنے پرکشش نہ لگنے لگ جاو کہ پردے کی ساری ۔۔۔ختم ہوجائےآج کے دور میں جو چیز میں نے نوٹ کی ہے وہ حجاب کے نام پرفتنہ
    بازار میں حجاب کے نام سے بیچا جانے والا وہ کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس کی چوڑائی عموماً ڈیڑھ فٹ اور لمبائی ڈیڑھ سے دو گز ہوتی ہے۔یہ سلائی شدہ حالت میں دستیاب ہوتا ہے۔کبھی کبھار اس کی چوڑائی زیادہ بھی ہوتی ہے لیکن یہ زائد چوڑائی بھی صرف سر کی جانب خوبصورت پلیٹس بنانے کیلئے رکھی جاتی ہے۔خیر یہ جس بھی حالت میں ہو مطلب سلا یا ان سلا یہ سر ڈھانپنے کے کام تو آسکتا ہے لیکن کسی بھی طور پر پردے کے طور یوز نہیں ہوسکتاکیونکہ پردے کا مطلب صرف بال چھپانا نہیں ہے۔
    پردے کے کچھ تقاضے ہیں دل میں حیا کی کیفیت پیدا کرنا
    خود کو ہر نا محرم کی نظر سے محفوظ رکھنے کا ارادہ کرنا۔
    ایسا لباس زیب تن کرنا جو اتنا باریک نہ ہو کہ اس میں سے جسم نظر آئے اور اتنا کھلا ہو کہ جسمانی ساخت واضح نہ ہو
    لباس میں دوپٹے کو شامل کرنا تاکہ بال گردن اور سینہ بھی ڈھانپا جاسکے۔۔
    پردے کیلئے برقعہ پہننا ضروری نہیں ہے لیکن اگر آپکا لباس پردے کے تقاضے پورے نہیں کررہا تو برقعہ پہن لیں اس سےبرقعے کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ یہ رنگ برنگے کپڑوں کو چھپا کر آپ کے پرکشش وجود کو بہتر طریقے سے ڈھانپ لیتا ہے۔لیکن اس کیلئے برقعے کا سادہ ہونا ضروری ہے زرق برق نقش و نگار والے برقعے پہننے سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے برقعے کے اوپر سے کوئی بڑا سا سکارف یا دپٹہ لیا جائے نہ کہ جدید حجاب کیونکہ کپڑے کا یہ حقیر سا ٹکڑا جب سر پہ لپیٹا جاتا ہے تو یہ بمشکل گردن تک پہنچ پاتا ہے
    پردے کیلئے تو اللّه تعالی ایسی چادر استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے جو سر سے ہوتی ہوئی گردن اور سینے کو بھی ڈھانپ لے۔یہ جدید حجاب قرآن پاک میں بیان کردہ ‘جلباب’ کے معنی ومفہوم پر کسی طور پورا نہیں اترتا۔
    لیکن اکثر دیکھتی ہوں کچھ خواتین اور لڑکیاں اسی حجاب کو پردہ سمجھتی ہیں۔اس میں ان کا بھی قصور نہیں ہے کیونکہ حجاب کی مارکٹینگ کرنے والے اپنی ماڈلز کو یہ حجاب کھلے کھلے برقعوں کے ساتھ پہنا کر اس فیشن کو پردہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اسی وجہ سے میں اس قسم کے حجاب کو فتنہ سمجھتی ہوں۔ میں ہر اس چیز ،عمل اور عقیدے کو فتنہ سمجھتی ہوں جو انسان کو غلط ہونے کے باوجود بھی یہ باور کروائے کہ وہ ٹھیک ہے اس کے ضمیر کو خاموش کروا دے اس کے گناہ کرنے کے احساس کو پیدا ہی نہ ہونے دے
    یہاں ایک چیز کی مزید وضاحت کرتی چلوں کے عورت کے جسمانی ساخت کو صرف وہی کپڑا چھپا سکتا ہے جو سر سے ہوتا ہوا نیچے کی جانب جائے اگر ایک کپڑے سے صرف سر ڈھانپ لیا جائے اور دوسرے کپڑے سے باقی جسم تو یہ طریقہ کار بھی شرعی پردے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ سر والے کپڑے سے ہی سینہ ڈھانپنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر آپکا پردہ آپ کو مزید پرکشش بنانے کے کام آئے گا۔اپنا ایک سٹائل رکھیں اگر حجاب لینے کا ارادہ کرلیا ہے تو مکمل سر تا پاوں خود کو با پردہ کرلیں اگر نہیں اس پر کاربند رہ سکتے تو پردے کے نام پر فیشن کرنے کے بجائے عام روٹین کے سٹائل کو ہی اپنی شخصیت کا خاصہ بنائے رکھیں

    @Farzana_Blogger

  • اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ”  تحریر: احسان الحق

    اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ” تحریر: احسان الحق

    ایک ایسا زمانہ بھی تھا جب لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا. خواتین کا کوئی مقام، عزت اور حیثیت نہیں تھی. یہ سب زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا. پھر اسلام آیا، اسلام نے خواتین کو زندہ دفن کرنے سے بچایا، خواتین کو زندگی دی. جائیداد میں حصہ دیا. عزت دی، مقام دیا، ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا. بحیثیت ماں عورت کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بحیثیت بیٹی عورت کی اچھی تعلیم و تربیت کے بدلے جنت کی بشارت دے دی. بحیثیت بیوی عورت کو اللہ تعالیٰ، رسولﷺ اور شوہر کی اطاعت کے بدلے جنت کی خوشخبری سنائی. یہ اسلام ہی ہے جس نے دوران زچگی عورت کی موت کو شہادت کا درجہ دیا. اسلام نے عورت کو مرد کے برابر لا کھڑا کیا.

    ایک جنگ میں صحابئ رسولؐ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہہ شہید ہو گئے. آپ کافی مالدار تھے. آپکی شہادت کے بعد آپکے بھائی نے تمام مال پر قبضہ کر لیا. حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی بیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور اپنی پریشانی بتائی تو اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حقوق کے لئے ایک پوری سورۃ "النساء” نازل فرما دی. اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کے تمام حقوق بیان فرما کر عورتوں کو ان کے حقوق کی ضمانت فراہم کردی اور قیامت تک خواتین کے مسائل حل کر دئیے. حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ ساتھی صحابیوں سے فرماتے تھے کہ مجھ سے سورۃ النساء کے بارے میں پوچھو، اس میں عورتوں کے متعلق احکامات بیان کئے گئے ہیں. فرماتے ہیں کہ میں نے سورۃ النساء کو خصوصی اہتمام سے سیکھا ہے کیوں کہ اس میں پردے کے احکام، شادی بیاہ کے مسائل، رشتے داری کے احکام، معاشرتی اور سماجی مسائل، نکاح اور بیاہ کے مسائل اور یتیم بچی کے مسائل پر بحث کی گئی ہے. زمانہ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر بہت ظلم کیا جاتا تھا.

    پاکستان میں چند سالوں سے عورت کے حقوق کی آڑ میں اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے. شرعی اقدار کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے. سب سے پہلے MeToo والی کچھ طلاق یافتہ Feminist خواتین نے تحریک چلائی. اسی MeToo کی بنیاد پر متنازعہ تنظیم "عورت مارچ” معرض وجود میں آئی. تنظیم "ہم عورتیں” کی سہولت کاری اور شراکت داری سے کراچی میں 8 مارچ 2018 کو پہلی بار عورت مارچ کا انعقاد ہوا اور متنازعہ پلے کارڈز اور نعروں کی وجہ سے مارچ کی انتظامیہ اور شرکاء کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا. خواتین کے عالمی دن کے موقع پر باقاعدگی سے عورت مارچ کیا جا رہا ہے. 8 مارچ 2021 کو اسلام آباد میں ہونے والا مارچ انتہائی شرمناک اور بے ہودہ تھا. جس میں شرمناک اور غیر اخلاقی پلے کارڈز کے ساتھ ساتھ ایک گستاخانہ پلے کارڈ بھی شامل تھا جس کی بعد میں تردید کی گئی، حالانکہ وہ پلے کارڈ پوری دنیا نے دیکھا. LGBT تنظیم کا جھنڈا بھی شامل مارچ تھا. عورت مارچ کی متعدد ذیلی تنظیمیں یا سہولت کار جماعتیں بھی ہیں جیسا کہ WDF یا Women Democratic Front اور WAF مطلب Women Action Forum اور کچھ طلبہ تنظیمیں بھی شامل ہیں. ان سب کا ایک ہی ایجنڈا ہے.

    اگر خواتین شرعی، اخلاقی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کریں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ سارا معاشرہ ان کا ساتھ بھی دے گا. مثلاً
    جائیداد میں حصہ
    معیاری تعلیم کے لئے مطالبہ
    جہیز کے خلاف تحریک
    مرضی کے خلاف شادی…
    خواتین کے جسمانی یا جنسی تشدد کے خلاف سزاؤں کا مطالبہ وغیرہ مگر خواتین کے نعرے اور مطالبے انتہائی فحش، بے ہودہ اور غیر اخلاقی ہیں. عورت مارچ کی خواتین کو ہر حال میں ہر وقت ہر طرح کی آزادی چاہئے.
    لاحول ولاقوة الا بالله

    اگر آپ خواتین پر سب سے زیادہ جنسی اور جسمانی زیادتی اور تشدد کرنے والے ممالک کو دیکھیں تو سب سے زیادہ واقعات وہاں ہو رہے ہیں جو ترقی یافتہ اور غیر مسلم ممالک ہیں. وہاں کوئی عورت مارچ کی تنظیم نہیں. سب سے زیادہ واقعات جنوبی افریقہ، امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور فرانس جیسے بڑے ممالک میں رونما ہوتے ہیں. جو آزاد خیال اور ملحد ممالک ہیں. پاکستان کا شمار آخری چند ممالک میں ہوتا ہے مطلب خواتین کے ساتھ ناخوشگوار واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں مگر لبرل خواتین و مرد اسلام اور اسلامی اقدار کو نشانہ بناتے ہوئے چادر اور چاردیواری کی حدود سے تجاوز کرنا چاہتے ہیں.

    پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم خواتین لبرل، اسلام دشمن یا اسلام سے دوری کی وجہ سے ناواقف یا لاعلم ہیں، یہی دو فیصد علمی یا لاعلمی میں عورت مارچ جیسی انتہائی متنازعہ، غیرشرعی اور غیر اخلاقی ریلی اور مارچ کا حصہ بنتی ہیں. یہ بات انتہائی پریشان کن اور حیران کن ہے کہ حکومت اور قوم کی بھرپور مخالفت کے باوجود باقاعدگی سے عورت مارچ کا انعقاد ہو رہا ہے اور ہر آئندہ سال گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ فحاشی اور بدتمیزی والا ہوتا ہے. عورت مارچ کے لئے کون فنڈنگ کر رہا ہے اور کس کے ذریعے فنڈنگ کر رہا ہے؟ ریاست، حکومت اور قوم اچھی طرح جانتی ہے مگر ابھی تک نتیجہ صفر ہے.

    @mian_ihsaan