Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورتوں کے حقوق تحریر  نوید خان

    عورتوں کے حقوق تحریر نوید خان

    عرصے بعد قلم اُٹھایا تو ذہن میں کافی موضوعات گردش کر رہے تھے دلِ ناداں روٹین سے ہٹ کر کچھ مختلف لکھنے کے موڈُ میں تھا تو سوچا آج صنف نازک پر کالم نگاری کی جائے۔۔
    انسان شعور کی دنیا میں جب قدم رکھتا ہے تو اُسکا سب سے پہلے واسطہ ایک عورت سے ماں کی صورت میں پڑھتا ہے
    ماں اللّٰہ کی طرف سے پیش کئے گئےعظیم تحفوں میں سے ایک تحفہ ہے
    انسان کا پہلہ پروٹوکول دراصل اُسکی ماں ہے
    عورت کے کئی روپ ہیں
    عورت اگر ماں ہے تو جنت ہے
    اگر بہن ہے تو حوصلہ
    اگر شریکِ حیات ہے تو جینے کی وجہ اور ہر خوشی غمی کا ساتھی
    اگر بیٹی ہے تو رحمت
    اگر حالاتِ حاضرہ کا انصاف کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو زہن و گمان میں ایسے کئ ظالمانہ واقعات آتے ہیں جوکہ ثابت کرتے
    انسان ہر دور میں عورتوں پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج تک عورتوں کو اُسکا جائز حق دینے سے انکاری ہے
    دینِ اسلام میں عورتوں کو پورے حقوق دینے کے واضح احکامات ہیں
    خوش بخت ہیں وہ عورتیں جو ماں جیسی عظیم و شان مقام پر فائز ہیں خوش بخت ہیں وہ اولادیں جنکی جنّتیں دنیا میں بھی اُن کے ساتھ ہیں
    ہمارے معاشرے میں کہی تو عورتوں کی قابلیت کے قِصࣿے ہیں چرچے ہیں
    تو کہی
    خواتین کو مارا جا رہا ہیں
    اُنکے چہروں پر تیزاب پھینکا جارہا ہیں اور
    عورتوں کو بے توقیر کیا جا رہا ہیں
    یہ ہماری بد بختی ہیں
    اگر ماں جیسی عظیم ہستی اولڈ ہوم میں ہے
    بہن کو جائیداد میں حصہ نہیں ملا
    اور بیوی اپنے جائز حق سے محروم ہے
    خواتین ڈے پر تقریبات اپنی جگہ
    خوبصورت الفاظ اپنی جگہ
    پر اس ظلم کو بند ہونا جاہئے
    ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم عورتوں کو اُن کے بنیادی حقوق دے
    اُن کو مضبوط کرے
    میری تحریر میرے الفاظ بے اثر ہے اگر لکھے کو پڑھنا نصیب نا ہو
    میں سماج کی اُن فرسودہ روایات کو ختم کرنا چاہتا ہوں جو کہ کسی عورت کو عزت سے اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنےکیلئے کئے گئے کاموں میں رُکاوٹ بنتی ہیں
    میں اُن خواتین کا ذکر بھی کرنا چاہونگا
    جو گلی کے بے کار لونڈوں کی آسمانوں سے باتیں کرتی بے کار اور جھوٹی محبت کا شکار ہو کر خود کو اذئیت دیتی ہے
    یا پھر ساحل پر اُن کشتیوں کا انتظار کرتی ہیں جوکہ اُس سمندر میں موجود ہی نہیں ہوتی۔۔
    شاید مردوں کو میری یہ بات پسند نا آئے
    اور وہ یہ شِکوہ کرے کہ ایک مرد ہو کر آپ نے اپنا قلم اور لفظوں کو مردوں کے خلاف استعمال کیوں کیا پر قابل اور زمانہ شناس لوگ شاید اس بات کو سمجھے کہ میں اپنا فائدہ اپنی ذات اور مفادات کو کسی تحریر پر اثر انداز نہیں کر سکتا میں سچ بولنے کا پابند ہوں
    ہم مرد حضرات بہت خوبصورتی سے کسی خاتون کے دل میں محبت کا احساس اُس وقت جگاتے ہیں جب تک اُسے یقین نہیں آجاتا
    پھر ہمارا دل بھرنے لگ جاتا ہیں
    اور ہم مجبوریوں کا بہانا کرکے کنارہ کر لیتے ہیں یہی ہماری حقیقت ہیں
    یہ ہماری اقدار کبھی نہیں تھی
    بنتِ حوا کے نرم لہجے نے
    ابنِ آدم بگاڑ رکھے ہیں
    جو سچ کہوں تو بُرا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
    یہ سماج جہل کی زَد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے

  • ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔                  تحریر: آصف گوہر

    ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔ تحریر: آصف گوہر

    حجة الوداع کے بارے طویل حدیث ہے۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو”
    لفظ عورت کا معنی ہے چھپی ہوئی چیز یعنی جس کی حفاظت کی جائے۔ یہاں حفاظت سے مراد اچھا برتاو حسن سلوک جسکی وہ
    مستحق ہے وہ کیا جائے۔انگریزی محاورہ لیڈیز فسٹ سے بھی یہی مراد ہے کہ خواتین کو ترجیح دینا ۔
    اسلام سے قبل بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا عورت کی کوئی عزت و توقیر اسلام نے بیٹیوں کی پیدائش کو رحمت کا باعث قرار دیا اور عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا۔
    ہمارے معاشرے میں عورت کو پیدائش کے ساتھ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بیٹوں کو اکثر بیٹیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کئ طرح کے مسائل اور رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں پیدل سوار سفر کرکے سکول اور تعلیمی اداروں میں آنا جانا راستے میں اوباش مردوں کی زہر آلود نظروں جملوں اور تعاقب جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کا حصول بھی ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔لیکن چند دہائیوں سے ہمارے ملک میں لڑکیاں اپنی محنت کے بل بوتے پر سول سروسز میڈیکل کے شعبہ میں بڑی تعداد میں کامیاب ہورہی ہیں جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے اسی طرح خواتین ٹیچنگ اور نرسز کے شعبہ میں بھی گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔
    لیکن ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بھی کم نہیں کام کرنے کی جگہوں پر حراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ساتھ کام کرنے والے مرد حضرات ہر خاتون کو مال مفت سمجھ کر ڈورے ڈالنا فرض سمجھتے ہیں خواتیں کی موجودگی میں ذومعنی گفتگو کرکے خوش ہوتے ہیں اور اکثر خواتین عزت بچانے کی فکر میں یہ سب چپ چاپ برداشت کر جاتیں ہیں ۔ سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ اللہ کی پناہ ۔
    گزشتہ دو روز قبل راولپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی ہسپتال میں زخمی پڑی ہیں ۔ حکومت پنجاب محکمہ تعلیم نے اساتذہ کے تبادلوں میں آسانی تو پیدا کی ہیں لیکن خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔حکومت سے گزارش ہے کہ سرکاری ملازم خواتین کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے ۔ @Educarepak

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    پردہ کرنا نہ کرنا ہر انسان کی اپنی مرضی ہوتی ہے اگر پردہ کرنے کا ارداہ کرلیا ہے تو پھر پورے خلوص نیت سے کریں کہ آپ کی شخصیت سے لوگ متاثر ہوں نہ کہ آپکو چلتی پھرتی ماڈل سمجھنے لگ جائیں جی میں بات کررہی ہوں آجکل کے فیشن ایبل حجاب کی کی اپ پہن کے اتنے پرکشش نہ لگنے لگ جاو کہ پردے کی ساری ۔۔۔ختم ہوجائےآج کے دور میں جو چیز میں نے نوٹ کی ہے وہ حجاب کے نام پرفتنہ
    بازار میں حجاب کے نام سے بیچا جانے والا وہ کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس کی چوڑائی عموماً ڈیڑھ فٹ اور لمبائی ڈیڑھ سے دو گز ہوتی ہے۔یہ سلائی شدہ حالت میں دستیاب ہوتا ہے۔کبھی کبھار اس کی چوڑائی زیادہ بھی ہوتی ہے لیکن یہ زائد چوڑائی بھی صرف سر کی جانب خوبصورت پلیٹس بنانے کیلئے رکھی جاتی ہے۔خیر یہ جس بھی حالت میں ہو مطلب سلا یا ان سلا یہ سر ڈھانپنے کے کام تو آسکتا ہے لیکن کسی بھی طور پر پردے کے طور یوز نہیں ہوسکتاکیونکہ پردے کا مطلب صرف بال چھپانا نہیں ہے۔
    پردے کے کچھ تقاضے ہیں دل میں حیا کی کیفیت پیدا کرنا
    خود کو ہر نا محرم کی نظر سے محفوظ رکھنے کا ارادہ کرنا۔
    ایسا لباس زیب تن کرنا جو اتنا باریک نہ ہو کہ اس میں سے جسم نظر آئے اور اتنا کھلا ہو کہ جسمانی ساخت واضح نہ ہو
    لباس میں دوپٹے کو شامل کرنا تاکہ بال گردن اور سینہ بھی ڈھانپا جاسکے۔۔
    پردے کیلئے برقعہ پہننا ضروری نہیں ہے لیکن اگر آپکا لباس پردے کے تقاضے پورے نہیں کررہا تو برقعہ پہن لیں اس سےبرقعے کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ یہ رنگ برنگے کپڑوں کو چھپا کر آپ کے پرکشش وجود کو بہتر طریقے سے ڈھانپ لیتا ہے۔لیکن اس کیلئے برقعے کا سادہ ہونا ضروری ہے زرق برق نقش و نگار والے برقعے پہننے سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے برقعے کے اوپر سے کوئی بڑا سا سکارف یا دپٹہ لیا جائے نہ کہ جدید حجاب کیونکہ کپڑے کا یہ حقیر سا ٹکڑا جب سر پہ لپیٹا جاتا ہے تو یہ بمشکل گردن تک پہنچ پاتا ہے
    پردے کیلئے تو اللّه تعالی ایسی چادر استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے جو سر سے ہوتی ہوئی گردن اور سینے کو بھی ڈھانپ لے۔یہ جدید حجاب قرآن پاک میں بیان کردہ ‘جلباب’ کے معنی ومفہوم پر کسی طور پورا نہیں اترتا۔
    لیکن اکثر دیکھتی ہوں کچھ خواتین اور لڑکیاں اسی حجاب کو پردہ سمجھتی ہیں۔اس میں ان کا بھی قصور نہیں ہے کیونکہ حجاب کی مارکٹینگ کرنے والے اپنی ماڈلز کو یہ حجاب کھلے کھلے برقعوں کے ساتھ پہنا کر اس فیشن کو پردہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اسی وجہ سے میں اس قسم کے حجاب کو فتنہ سمجھتی ہوں۔ میں ہر اس چیز ،عمل اور عقیدے کو فتنہ سمجھتی ہوں جو انسان کو غلط ہونے کے باوجود بھی یہ باور کروائے کہ وہ ٹھیک ہے اس کے ضمیر کو خاموش کروا دے اس کے گناہ کرنے کے احساس کو پیدا ہی نہ ہونے دے
    یہاں ایک چیز کی مزید وضاحت کرتی چلوں کے عورت کے جسمانی ساخت کو صرف وہی کپڑا چھپا سکتا ہے جو سر سے ہوتا ہوا نیچے کی جانب جائے اگر ایک کپڑے سے صرف سر ڈھانپ لیا جائے اور دوسرے کپڑے سے باقی جسم تو یہ طریقہ کار بھی شرعی پردے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ سر والے کپڑے سے ہی سینہ ڈھانپنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر آپکا پردہ آپ کو مزید پرکشش بنانے کے کام آئے گا۔اپنا ایک سٹائل رکھیں اگر حجاب لینے کا ارادہ کرلیا ہے تو مکمل سر تا پاوں خود کو با پردہ کرلیں اگر نہیں اس پر کاربند رہ سکتے تو پردے کے نام پر فیشن کرنے کے بجائے عام روٹین کے سٹائل کو ہی اپنی شخصیت کا خاصہ بنائے رکھیں

    @Farzana_Blogger

  • اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ”  تحریر: احسان الحق

    اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ” تحریر: احسان الحق

    ایک ایسا زمانہ بھی تھا جب لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا. خواتین کا کوئی مقام، عزت اور حیثیت نہیں تھی. یہ سب زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا. پھر اسلام آیا، اسلام نے خواتین کو زندہ دفن کرنے سے بچایا، خواتین کو زندگی دی. جائیداد میں حصہ دیا. عزت دی، مقام دیا، ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا. بحیثیت ماں عورت کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بحیثیت بیٹی عورت کی اچھی تعلیم و تربیت کے بدلے جنت کی بشارت دے دی. بحیثیت بیوی عورت کو اللہ تعالیٰ، رسولﷺ اور شوہر کی اطاعت کے بدلے جنت کی خوشخبری سنائی. یہ اسلام ہی ہے جس نے دوران زچگی عورت کی موت کو شہادت کا درجہ دیا. اسلام نے عورت کو مرد کے برابر لا کھڑا کیا.

    ایک جنگ میں صحابئ رسولؐ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہہ شہید ہو گئے. آپ کافی مالدار تھے. آپکی شہادت کے بعد آپکے بھائی نے تمام مال پر قبضہ کر لیا. حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی بیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور اپنی پریشانی بتائی تو اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حقوق کے لئے ایک پوری سورۃ "النساء” نازل فرما دی. اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کے تمام حقوق بیان فرما کر عورتوں کو ان کے حقوق کی ضمانت فراہم کردی اور قیامت تک خواتین کے مسائل حل کر دئیے. حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ ساتھی صحابیوں سے فرماتے تھے کہ مجھ سے سورۃ النساء کے بارے میں پوچھو، اس میں عورتوں کے متعلق احکامات بیان کئے گئے ہیں. فرماتے ہیں کہ میں نے سورۃ النساء کو خصوصی اہتمام سے سیکھا ہے کیوں کہ اس میں پردے کے احکام، شادی بیاہ کے مسائل، رشتے داری کے احکام، معاشرتی اور سماجی مسائل، نکاح اور بیاہ کے مسائل اور یتیم بچی کے مسائل پر بحث کی گئی ہے. زمانہ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر بہت ظلم کیا جاتا تھا.

    پاکستان میں چند سالوں سے عورت کے حقوق کی آڑ میں اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے. شرعی اقدار کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے. سب سے پہلے MeToo والی کچھ طلاق یافتہ Feminist خواتین نے تحریک چلائی. اسی MeToo کی بنیاد پر متنازعہ تنظیم "عورت مارچ” معرض وجود میں آئی. تنظیم "ہم عورتیں” کی سہولت کاری اور شراکت داری سے کراچی میں 8 مارچ 2018 کو پہلی بار عورت مارچ کا انعقاد ہوا اور متنازعہ پلے کارڈز اور نعروں کی وجہ سے مارچ کی انتظامیہ اور شرکاء کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا. خواتین کے عالمی دن کے موقع پر باقاعدگی سے عورت مارچ کیا جا رہا ہے. 8 مارچ 2021 کو اسلام آباد میں ہونے والا مارچ انتہائی شرمناک اور بے ہودہ تھا. جس میں شرمناک اور غیر اخلاقی پلے کارڈز کے ساتھ ساتھ ایک گستاخانہ پلے کارڈ بھی شامل تھا جس کی بعد میں تردید کی گئی، حالانکہ وہ پلے کارڈ پوری دنیا نے دیکھا. LGBT تنظیم کا جھنڈا بھی شامل مارچ تھا. عورت مارچ کی متعدد ذیلی تنظیمیں یا سہولت کار جماعتیں بھی ہیں جیسا کہ WDF یا Women Democratic Front اور WAF مطلب Women Action Forum اور کچھ طلبہ تنظیمیں بھی شامل ہیں. ان سب کا ایک ہی ایجنڈا ہے.

    اگر خواتین شرعی، اخلاقی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کریں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ سارا معاشرہ ان کا ساتھ بھی دے گا. مثلاً
    جائیداد میں حصہ
    معیاری تعلیم کے لئے مطالبہ
    جہیز کے خلاف تحریک
    مرضی کے خلاف شادی…
    خواتین کے جسمانی یا جنسی تشدد کے خلاف سزاؤں کا مطالبہ وغیرہ مگر خواتین کے نعرے اور مطالبے انتہائی فحش، بے ہودہ اور غیر اخلاقی ہیں. عورت مارچ کی خواتین کو ہر حال میں ہر وقت ہر طرح کی آزادی چاہئے.
    لاحول ولاقوة الا بالله

    اگر آپ خواتین پر سب سے زیادہ جنسی اور جسمانی زیادتی اور تشدد کرنے والے ممالک کو دیکھیں تو سب سے زیادہ واقعات وہاں ہو رہے ہیں جو ترقی یافتہ اور غیر مسلم ممالک ہیں. وہاں کوئی عورت مارچ کی تنظیم نہیں. سب سے زیادہ واقعات جنوبی افریقہ، امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور فرانس جیسے بڑے ممالک میں رونما ہوتے ہیں. جو آزاد خیال اور ملحد ممالک ہیں. پاکستان کا شمار آخری چند ممالک میں ہوتا ہے مطلب خواتین کے ساتھ ناخوشگوار واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں مگر لبرل خواتین و مرد اسلام اور اسلامی اقدار کو نشانہ بناتے ہوئے چادر اور چاردیواری کی حدود سے تجاوز کرنا چاہتے ہیں.

    پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم خواتین لبرل، اسلام دشمن یا اسلام سے دوری کی وجہ سے ناواقف یا لاعلم ہیں، یہی دو فیصد علمی یا لاعلمی میں عورت مارچ جیسی انتہائی متنازعہ، غیرشرعی اور غیر اخلاقی ریلی اور مارچ کا حصہ بنتی ہیں. یہ بات انتہائی پریشان کن اور حیران کن ہے کہ حکومت اور قوم کی بھرپور مخالفت کے باوجود باقاعدگی سے عورت مارچ کا انعقاد ہو رہا ہے اور ہر آئندہ سال گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ فحاشی اور بدتمیزی والا ہوتا ہے. عورت مارچ کے لئے کون فنڈنگ کر رہا ہے اور کس کے ذریعے فنڈنگ کر رہا ہے؟ ریاست، حکومت اور قوم اچھی طرح جانتی ہے مگر ابھی تک نتیجہ صفر ہے.

    @mian_ihsaan

  • ‏سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں  تحریر: صالح ساحل

    ‏سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں تحریر: صالح ساحل

    اللہ تعالیٰ نے بہت سے رشتے انسان کے ساتھ خود بنا کر بھیجے ہیں مگر ایک رشتہ ہے جس کا اختیار انسان کو دیا ہے کے وہ خود بنائیں یہ خوب صورت رشتہ میاں اور بیوی کا رشتہ ہے اور اس کا مکمل اختیار لڑکے اور لڑکی کو دیا ہے کے تمہاری اجازت کے بغیر کوئ زبردستی نہیں ہو گی نہ صرف اسلام بلکہ کے دنیا بھی جبری شادی کو ایک اخلاقی برائ سمجھتی ہے اور اس کے خلاف قانون سازی کر رہی ہے لیکن آج میں جس نقطے کی طرف توجہ مرکوز کروانا چاہتا ہوں وہ ہے ہمارا روایہ اس معاملے میں یوں تو ہم بہت اسلام کے علم بردار بنتے ہیں مگر کیاہم نے کبھی غور کیا کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں ہمارے معاشرے میں آج بھی بیٹی کو یہ کہہ دیا جاتا ہے کے تمہارا رشتہ کر دیا گیا ہے اور ایک مطلق حکم کی طرح صادر کر کے اس کی تکمیل کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے ہم کو اس کی پسند نا پسند سے کوئ غرض نہیں ہوتا اس کے خوابوں کو ایک پل میں آسمان سے گرا کر زمین کی سات تہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے لڑکے کا کردار کیا ہے وہ کیا کرتا ہے اس کی نیچر کیا ہے ہمارے لیے معنی نہیں رکھتا ہم صرف اپنی جھوٹی آنا کی جیت کے شامیانے بجا رہے ہوتے ہیں ہم اس اخلاقی گراوٹ کو اپنی عزت کی جیت قرار دے کر فخر کر رہے ہوتے ہیں اور وہ گھر کے ایک پہلو میں بیٹھی بیٹی جس کو اتنا حق بھی نہیں کے وہ اس بندھن کے لیے تیار بھی ہے کے نہیں صرف اپنی بدقسمتی پر ماتم کر رہی ہوتی انہیں فضولیات کی دلدل میں اگر کوئ ہمت کر کے اپنی پسند کا اظہار کر دے تو آوارہ اور بد کردار بن جاتی ہے اور کہیں تو یہ گرواٹ اس قدر رو باعمل ہے کے بچپن ہی سے بتا دیا جاتا ہے کے فلاح شخص تمہارا ہمسفر ہو گا اور خبردار اگر اس پنجرے سے باہر تم نے خواب دیکھے تو تمہارا اس دنیا میں آنا ہی تمہارے لیے بہت ہے باقی تمہاری خوشیوں اور تمہاری زندگی کے فیصلے ہم کریں گے اس لیے زیادہ تر اپنی پسند اپنے والدین اپنے خاندان کی عزت کے ڈر سے قربان کر دیتی ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کے اسلام سے قبل تو بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مگر ہم کیا کر رہے ہیں ہم ان کی خوشیاں ان کے خواب ان کی پسند کو دفن کر کے اس پر اپنی جھوٹی عزت کے محل تعمیر کر رہے ہیں ارے ایسی عزت کا کیا فایدہ جس کے لیے اپنی بیٹیوں کی قربانی دے دی جائے گھر کے آنگن سے وہ بیٹی جس کو بڑے ناز سے پالا ہوتا ہے سرخ جوڑے میں لپیٹ کر ایک لاش کر طرح رخصت کر دی جاتی ہیں ہم سمجھتے ہیں ہم جیت گے مگر ہم ہار چکے ہوتے ہیں ہم نے ایک معصوم کی خوشیوں کے قاتل ہوتے ہیں اور کائنات کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے وہ رب جس نے زبردستی کا حق تو اپنے آپ کو منوانے کے لیے نہیں دیا وہ کیسے تمہارے اس جرم کو معاف کرے گا جہاں اس نے اختیار دیا ہے لڑکی کو ہم نہ صرف رب کے دییے گے اس اختیار کو سلب کرتے ہیں بلکہ کے اپنی عزت کی اس عمارت کے چکر میں معصوم زندگیاں برباد کر دیتے ہیں آج جس معاشرے کے ڈر سے ہم نے یہ سب کچھ کیا ہوتا ہے کل رشتوں کی ناکامی پر یہی معاشرہ ایک پل میں آپ کی بیٹی کو قصوروار اور بدکردار تک کا سرٹیفیکیٹ دے چکا ہوتا یہ خاندان یہ معاشرہ اسی طرح اپنی زندگی میں معروف عمل ہو جاتا ہے اور زندگی تباہ ایک لڑکی کی ہو جاتی ہے ہر روز اسی معاشرے کے ڈر سے اور اپنی جھوٹی عزت و آنا کی خاطر ہم سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں رخصت کر رہے ہوتے ہیں میں اپنی مخاطبین سے ایک سوال رکھ کر اجازت چاہوں گا کہ اگر زبردستی کی شادی نا جائز ہیں تو عزت اور رشتوں کے نام پر بلیک میل کر کے گی شادی جائز ہے کیا اور زبردستی کی شادی رب کے ہاں جرم ہے تو بلیک میلنگ سے کی گی شادی جرم نہیں ہو گی کیا ؟؟
    ‎@painandsmile334

  • بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومیں جنہوں نے خواتین کو علم کی روشنی سے محروم کیا وہ قومیں آباد نہیں ہوتیں، خواتین کو انکی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے،اور یہی خواتین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کانام مختلف ڈیپارٹمنٹس میں روشن کرتے ہیں۔
    بلوچستان میں بھی اب خواتین کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور قصبوں سے کوئٹہ میں اپنے خاندانوں سمیت صرف اس لئے مقیم ہیں کہ انہیں بنیادی تعلم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہ ہوں، لڑکیاں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں اور جبکہ بڑی تعداد میں لڑکیاں صوبہ کے مستند ادارے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔
    بلوچستان میں رہنا جہاں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آسان اور پرامن نہیں۔
    سردار بہادر خان یونیورسٹی کی طالبہ نبیلا کے مطابق مجھے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (ایس بی کے ڈبلیو یو) میں داخلہ ملا جہاں 15 جون 2013 کو ایک دھماکہ ہوا ، جس نے یونیورسٹی بس کو نشانہ بنایا۔ لڑکیاں گھر جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے یونیورسٹی کے 15 طالبات کو ہلاک کر دیا۔ میں نے اس کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، کیونکہ ایس بی کے ڈبلیو یو صوبے کی واحد خواتین کی یونیورسٹی تھی اور لڑکیاں دور دراز علاقوں سے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے آتی ہیں۔ اگرچہ مجھے 2015 میں داخلہ ملا، اس سفاکانہ واقعے کے دو سال بعد بھی میں کیمپس میں خوف محسوس کرتی تھی۔ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تھا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہم سیکھنے کے لیے اس یونیورسٹی میں ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا اور اندر کا ماحول محفوظ محسوس کیا۔ لیکن کوئی اچانک یا بلند آواز ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ 2017 میں جب یونیورسٹی کی بسوں کو دوبارہ دھمکی دی گئی تو یونیورسٹی ایک ہفتے کے لیے بند تھی اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بسیں ایک مہینے تک نہیں چل سکیں۔ کسی نے صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے پاس بلوچستان سے خبریں بلیک آؤٹ کرنے کی تاریخ تھی اس نے صوبے کے مسائل کو دبانے کے لیے کبھی ذمہ داری محسوس نہیں کی جیسے کہ یونیورسٹی کے طلباء خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور کیونکہ اس رویے کی وجہ سے اس نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ کبھی نہیں لی۔ اور اب ہر والدین خوفزدہ اور صدمے کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ دوپہر میں کبھی نہیں سوئیں جب تک کہ وہ مجھے یونیورسٹی سے واپسی پر نہ دیکھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی گریجویشن مکمل کروں۔ یہ میرے ہر کلاس فیلو کی کہانی تھی۔ ہمارے خاندان چاہتے تھے کہ ہم فارغ التحصیل ہوں ، ماضی کو بھول جائیں اور بہتر مستقبل کی امیدیں رکھیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی نے ہم سے بہت سی جانیں لی ہیں۔ ان کے خاندانوں کی خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ باشندے خوف سے زندگی گزار رہے ہیں یقین نہیں ہے کہ محفوظ اور محفوظ مستقبل ممکن ہے۔ آئی ٹی یونیورسٹی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں طالب علم مارے گئے، ہزارہ کوئلہ نکالنے والے مچھ میں ٹارگٹڈ حملے میں مارے گئے، اور سرینا ہوٹل کے احاطے میں حالیہ دھماکہ تمام مہلک واقعات ہیں جو سیکیورٹی کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ والدین یونیورسٹی میں داخل اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ والدین اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاستدان ، ریاست اور میڈیا جو اس مسئلے پر خاموش ہے۔ ہم اب بھی خوف میں رہتے ہیں یقین نہیں ہے کہ ہماری مستقبل کیا ہے۔ کیونکہ سیکورٹی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ان لوگوں کی حالت زار پر توجہ دیں گے جو مسلسل خوف میں رہتے ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ کچھ خطرناک ہو سکتا ہے جنہیں ہر روز تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے لیکن یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک اقتدار میں رہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور اس مرحلے میں ہم صرف چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
    حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ بلوچستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہماری خواتین اپنی تعلیم مکمل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اور کل کو اگر کسی بھی جگہ انہیں مشکل وقت پیش آئے تو وہ تعلیم کی شعور رکھنے کی وجہ سے اس مشکل کا حل نکال سکے۔
    @iHUSB

  • بیٹی کہہ کر پکارو  تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بیٹی کہہ کر پکارو تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بہو بھی مسکرانا چاہتی ھے
    اللہ تعالی نے والدین کیلیے بیٹی کو رحمت بنا کر بھیجا ھے
    یہ ننھی کلی جب کھل کر بڑی ھوتی ھے تو اسے اپنے والدین کا گھر نہ چاہتے ھوے بھی چھوڑنا پڑتا ھے اور ایک نیے گھر میں جانا پڑتا ھے یہ نہایت مشکل وقت ھوتا ھے جب ایک بچی اپنا گھر چھوڑ کر نیےگھر میں جاے لیکن یہ اللہ پاک کا فرمان ھے اور نکاح فرض ھے تو اسے ایک نیے گھر میں جانا پڑے گا جب وہ اپنے ھونے والے شوہر کے نکاح میں آتی ھے تو گھر بھی بدل جاتا ھے اور ساتھ میں رشتے بھی بدل جاتے ہیں
    جہاں اپنے والدین کے ساتھ شہزادی کی طرح رہنے والی اپنی بہن بھاییوں کےساتھ رھنے والی اب ایک نیے گھر میں نیے رشتوں کے ساتھ کے ساتھ رھے گی
    یہ کیسا پیارہ رشتہ ھے جو اللہ پاک نے بنایا ھے ایک کی بیٹی دوسرے کے گھر کی بہو بنتی ھے تو دوسرے کی بیٹی تیسرے گھر کی بہو بنتی ھے یہی وہ ھے جسے اللہ پاک نے اپنے والدین کیلیے رحمت بنایا اب کسی دوسرے گھر میں اللہ کی رحمت بن کر جارھی ھے
    لیکن
    کچھ گھروں میں ان کیلیے یہ بہو والا لقب بہت برا ثابت ھوتا ھے اور وہ جو اپنے والدین کے گھر میں ایک شہزادی تھی اب یہاں بہو ھے اور اس کے ساتھ سلوک میں بھی بہت تبدیلی آگی ھے بات بات پر طنز اچھا کام بھی کرے تب بھی طنز کیونکہ وہ کسی اور کی بیٹی ھے
    حالانکہ تمھاری بھی بیٹی کسی کی بہو ھے یا کبھی بنے گی تو اگر اسے بھی اسی طرح کا سامنا ھوا تو پھر تمھارے دل پر کیا گزرے گی اگر آپ اپنی بیٹی کو شہزادی کے روپ میں دیکھتے ھوتو پھر ضروری ھے کہ جو تمھاری بہو ھے اسے بھی وھی پیار اور سلوک دو جو تم اپنی بیٹی کو دیتے ھو بہو کو بھی اپنے گھر کی شہزادی بنا کر اپنی بیٹی بنا کر رکھو تاکہ تمھارے خاندان کیلیے آپ کی بہو رحمت بن سکے اور پھر تمھارے بڑھاپے میں بیٹی بن کر تمھاری خدمت کرے
    جب آپ کسی کی بیٹی کو جو اب آپ کی بہو اور تمھارے خاندان کی عزت بھی ھے اسے اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے تو وہ بھی آپ کو اپنے والدین کی طرح تمھاری خدمت کرے گی اور ہمیشہ آپ کو اپنی بیٹی کی کمی محسوس ھونے نہیں دے گی
    اور
    بہو کیلیے بھی ضروری ھے کہ جس طرح آپ اپنے والدین کی عزت و تکریم کرتی تھیں اپنے والدین کی شہزادی تھیں اپنے والدین کے سخت و نرم لہجے کو اپنی بہتری کیلیے ان کی باتوں کو اہمیت دیتی تھیں اپنے والدین کا کہا ھوا ہر لفظ تمھارے لیے تمھاری بہتری کیلیے تھا اسی طرح تمھارے شوہر کےوالدین کا بھی تمھارے اوپر اتنا حق ضرور ھے کہ وہ آپ کو اپنی بیٹی سمجھ کر اگر کچھ سخت و نرم لہجے میں بات کرتے ہیں اسی طرح سنو جس طرح آپ اپنے والدین کی بات سنتی تھیں
    اس طرح سے آپ کے گھرکے مسایل بھی حل ھوں گےاورناچاکیاں بھی پیدا نہیں ھوں گی
    آپ کو پھر ویسے ھی عزت ملے گی جیسے تمھارے والدین تمہیں دیتے تھےاگر آپ اپنے سسرال کو اپنے والدین کی طرح پیار اور خدمت کریں گیں تو یقینا وہ بھی آپ کو اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے
    اور آپ کے مقام اور عزت میں بھی کویی کمی نہیں آے گی اسی طرح پھر لازم اس کا بدلہ اللہ پاک آپ کو بھی دے گا جب آپ کی بہو بھی آپ کو اسی طرح عزت دے گی
    میری اللہ پاک سے دعا ھے کہ تمام بہن بیٹیوں کے نصیب اللہ اچھے کرے اور ساری پریشانیاں دور کرے .آمین

    بیٹی کہہ کر پکارو بہو بھی مسکرانہ چاہتی ھے
    @KHANKASPAHI1

  • حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    **

    عورت رب العزت کی سب سے پیاری مخلوق ہے اور ایک مومن عورت تو بالکل انمول موتی کی مانند ہے۔ اس میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اگر پردے کا حکم دیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے جیسے ہم اپنی سب سے خوبصورت چیز کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور اسے دیکھ نا سکے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے تو ٹھیک اسی طرح عورت کو بھی اللّٰہ نے پردے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔

    ایسے ہی مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو انمول سمجھتے ہوئے اللّٰہ کے ہر حکم کی تعمیل کرے اور اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرے۔

    اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام سے قبل عورت ذات کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی تو باعثِ ذلت اور باعثِ شرمندگی سمجھ کر انھیں زندہ درگور کردیا جاتا۔ انھیں گھروں سے باہر نکلیں تک کی آزادی نا تھی۔ یہاں تک کہ عورت ذات کی عصمت تک محفوظ نہیں تھی۔

    پھر ایسے میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین بن کر آئے۔ آپ کی آمد سے عورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہ اللہ کا دین ہی تو ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں الگ مقام اور حیثیت دی ہے۔

    اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر کی وفادار ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ فرمایا گیا: "جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سیکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے”.

    بےشک اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور اسے عورت ہونے کا اصل مقام اور عزت بخشی۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں عورتوں کے وہ تمام حقوق بیان کیے ہیں جو کسی بھی اور مذہب میں نہیں ملتے اور نہ ہی ان مذاہب کی کسی کتاب میں ملتے ہیں۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں بھی مردوں کی نسبت عورتوں کا ذکر زیادہ بار آیا ہے۔

    اسی طرح اسلام نے عورت کو بےشمار حقوق سے بھی نوازا ہے۔ شوہر کے انتخاب سے لے کر آزادی رائے تک کے تمام حقوق عورت کو حاصل ہیں وہ جب چاہے اپنے ان تمام حقوق کو استعمال کرسکتی ہے۔ جہاں اسلام نے اتنے حقوق دیے ہیں وہاں عورتوں کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کی ہیں جس کا مقصد صرف عورت کی حفاظت ہے۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے قبل کسی عورت کو ایسے کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یا یوں کہوں کے حقوق جیسے لفظ تک سے کوئی بھی عورت واقف نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہ لفظ ان کے لیے شاید بنا ہی نہیں تھا۔ مگر اسلام نے عورت کو یہ تمام حقوق دیے۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑے گی کہ ان تمام حقوق کے بعد بھی آج کے دور میں مسلمان عورت پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف چل پڑی ہے۔ وہ اپنا وہ مقام جو اسلام نے اسے دیا ہے اپنے ہاتھوں سے خود ہی ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہے اور مغربی ممالک کی پیروی کررہی ہے۔

    آج کے دور میں جب کچھ عورتیں آزادی کے نام پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہیں تو بہت افسوس ہوتا۔ بھئ کون سا جسم؟ کون سی مرضی؟ یہ جسم بھی تو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر اس ذات کی مرضی نہ ہوتو ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصّے کو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں سکتے۔ ایسی عورتوں کو جو خود عورت ذات کو تماشا بنا رہی ہیں پکڑ کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللّٰہ کی بنائ ہوئ حدیں صرف ہماری حفاظت کے لیے ہیں اگر اللّٰہ نے مرد کو ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے اور عورت کو چاہیے کہ مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلیں۔ تاکہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے۔

    @SeharSulehri

  • اسلام، وراثت اور عورت تحریر :سید اویس بن ضیاء

    اسلام، وراثت اور عورت تحریر :سید اویس بن ضیاء

    حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرد اہل خیر کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ظلم اور نا انصافی کرتا ہے تو اس کے برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے اور ایک مرد ستر سال تک اہل شر کے اعمال کرتا ہے پھر وصیت میں عدل و انصاف سے کام لیتا ہے تو اس اچھے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے،( ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:863)”۔

    اسلام واحد دین ہے جو امن محبت اور انصاف کا درس دیتا ہے اسلام میں زندگی کے ہر پہلو پر نہایت ہی باریک بینی سے روشنی ڈالی گئ ہے زندگی کے تمام تر معاملات میں عورت کو وراثت دینے کا ایک اہم مسئلہ ہے جس پر قران مجید میں کئ بار ذکر آیا ہے۔
    اسلام میں بیٹیوں کا وراثت میں حصہ بیٹوں کے مقابلے نصف مقرر کیا گیا ہے اور بیوی کا آٹھواں حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ ہمیں اسلام کے قوائد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو وراثت میں مکمل حصہ دینا چاہیے۔ وراثت تقسیم ہونے کا مسئلہ ہمیشہ انسان کی موت کے بعد درپیش آتا ہے جو کہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔
    عام طور پر ہمارے معاشرے کے دو قسم کے کمزور طبقے یعنی یتیم بچے اور عورتیں تقسیمِ وراثت کے وقت ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس سے لوگوں کے درمیان نا اتفاقی اور لڑائ جھگڑے جیسے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں جو کہ بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس طرح اسلام میں چوری، ڈکیتی، زنا، شراب پینا حرام ہے اسی طرح وراثت میں حصہ داروں کو انکا حق نا دینا بھی حرام ہے۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ کہہ کر حیلے بہانے بناتے ہیں کہ ہم نے جہیز دیا ہے تو اب جائیداد میں سے حصہ کیوں دیں جائیداد سے حصہ عورتوں کا اسلام و آئنی حق ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبارات آئے دن ایسی خبروں کی زینت ہوتے ہیں کہ مختلف مقامات پر جائیداد (جو کہ اسلامی حق ہے)مانگنے پر عورتوں نا صرف کو ڈریا دھمکایا جاتا ہے بلکہ ان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انکو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔
    آج کے جدید دور میں عورتیں تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کا بھی علم رکھتی ہیں اگر انہیں انکا حق نہیں ملتا یا انکی حق تلفی کی جا رہی ہو تو وہ عدالت سے رجوع کر لیتی ہیں اور قانون کے ذریعے اپنا حق حاصل کرتی ہیں اگر چہ ہمارا نظام عدل سست روی کا شکار ہے لیکن انصاف ہمیشہ حق دار کو ہی ملتا ہے ہماری حکومت وقت سے التجا ہے کہ عورتوں کے وراثتی حقوق کی حفاظت کےلئے سخت سے سخت قانون سازی کی جائے
    اگر چہ ہمارے معاشرے میں ظلم کرنے والے ہیں مگر مظلوم کا ساتھ دینے والے انصاف پسند لوگ بھی ہیں جو کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہیں جو اپنی ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں ، بیویوں کو مکمل حقوق فراہم کرتے ہیں اور ساتھ اللہ کی پاک ذات کا ڈر دل میں رکھتے ہیں

    قران پاک مین واضع طور پر فرمایا گیا ہے کہ:”سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے،(النور: 63)”۔
    ہمیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دئے احکامات پر عمل کرنے چاہیے اور عورتوں کو وراثت میں حصہ کے ساتھ ساتھ انکے تمام حقوق کا خیال رکھنا چاہیے جوکہ ہم پر لازم ہے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو راہ حق پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے

    @SyedAwais_