اللہ تعالیٰ نے بہت سے رشتے انسان کے ساتھ خود بنا کر بھیجے ہیں مگر ایک رشتہ ہے جس کا اختیار انسان کو دیا ہے کے وہ خود بنائیں یہ خوب صورت رشتہ میاں اور بیوی کا رشتہ ہے اور اس کا مکمل اختیار لڑکے اور لڑکی کو دیا ہے کے تمہاری اجازت کے بغیر کوئ زبردستی نہیں ہو گی نہ صرف اسلام بلکہ کے دنیا بھی جبری شادی کو ایک اخلاقی برائ سمجھتی ہے اور اس کے خلاف قانون سازی کر رہی ہے لیکن آج میں جس نقطے کی طرف توجہ مرکوز کروانا چاہتا ہوں وہ ہے ہمارا روایہ اس معاملے میں یوں تو ہم بہت اسلام کے علم بردار بنتے ہیں مگر کیاہم نے کبھی غور کیا کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں ہمارے معاشرے میں آج بھی بیٹی کو یہ کہہ دیا جاتا ہے کے تمہارا رشتہ کر دیا گیا ہے اور ایک مطلق حکم کی طرح صادر کر کے اس کی تکمیل کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے ہم کو اس کی پسند نا پسند سے کوئ غرض نہیں ہوتا اس کے خوابوں کو ایک پل میں آسمان سے گرا کر زمین کی سات تہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے لڑکے کا کردار کیا ہے وہ کیا کرتا ہے اس کی نیچر کیا ہے ہمارے لیے معنی نہیں رکھتا ہم صرف اپنی جھوٹی آنا کی جیت کے شامیانے بجا رہے ہوتے ہیں ہم اس اخلاقی گراوٹ کو اپنی عزت کی جیت قرار دے کر فخر کر رہے ہوتے ہیں اور وہ گھر کے ایک پہلو میں بیٹھی بیٹی جس کو اتنا حق بھی نہیں کے وہ اس بندھن کے لیے تیار بھی ہے کے نہیں صرف اپنی بدقسمتی پر ماتم کر رہی ہوتی انہیں فضولیات کی دلدل میں اگر کوئ ہمت کر کے اپنی پسند کا اظہار کر دے تو آوارہ اور بد کردار بن جاتی ہے اور کہیں تو یہ گرواٹ اس قدر رو باعمل ہے کے بچپن ہی سے بتا دیا جاتا ہے کے فلاح شخص تمہارا ہمسفر ہو گا اور خبردار اگر اس پنجرے سے باہر تم نے خواب دیکھے تو تمہارا اس دنیا میں آنا ہی تمہارے لیے بہت ہے باقی تمہاری خوشیوں اور تمہاری زندگی کے فیصلے ہم کریں گے اس لیے زیادہ تر اپنی پسند اپنے والدین اپنے خاندان کی عزت کے ڈر سے قربان کر دیتی ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کے اسلام سے قبل تو بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مگر ہم کیا کر رہے ہیں ہم ان کی خوشیاں ان کے خواب ان کی پسند کو دفن کر کے اس پر اپنی جھوٹی عزت کے محل تعمیر کر رہے ہیں ارے ایسی عزت کا کیا فایدہ جس کے لیے اپنی بیٹیوں کی قربانی دے دی جائے گھر کے آنگن سے وہ بیٹی جس کو بڑے ناز سے پالا ہوتا ہے سرخ جوڑے میں لپیٹ کر ایک لاش کر طرح رخصت کر دی جاتی ہیں ہم سمجھتے ہیں ہم جیت گے مگر ہم ہار چکے ہوتے ہیں ہم نے ایک معصوم کی خوشیوں کے قاتل ہوتے ہیں اور کائنات کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے وہ رب جس نے زبردستی کا حق تو اپنے آپ کو منوانے کے لیے نہیں دیا وہ کیسے تمہارے اس جرم کو معاف کرے گا جہاں اس نے اختیار دیا ہے لڑکی کو ہم نہ صرف رب کے دییے گے اس اختیار کو سلب کرتے ہیں بلکہ کے اپنی عزت کی اس عمارت کے چکر میں معصوم زندگیاں برباد کر دیتے ہیں آج جس معاشرے کے ڈر سے ہم نے یہ سب کچھ کیا ہوتا ہے کل رشتوں کی ناکامی پر یہی معاشرہ ایک پل میں آپ کی بیٹی کو قصوروار اور بدکردار تک کا سرٹیفیکیٹ دے چکا ہوتا یہ خاندان یہ معاشرہ اسی طرح اپنی زندگی میں معروف عمل ہو جاتا ہے اور زندگی تباہ ایک لڑکی کی ہو جاتی ہے ہر روز اسی معاشرے کے ڈر سے اور اپنی جھوٹی عزت و آنا کی خاطر ہم سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں رخصت کر رہے ہوتے ہیں میں اپنی مخاطبین سے ایک سوال رکھ کر اجازت چاہوں گا کہ اگر زبردستی کی شادی نا جائز ہیں تو عزت اور رشتوں کے نام پر بلیک میل کر کے گی شادی جائز ہے کیا اور زبردستی کی شادی رب کے ہاں جرم ہے تو بلیک میلنگ سے کی گی شادی جرم نہیں ہو گی کیا ؟؟
@painandsmile334
Category: خواتین

سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں تحریر: صالح ساحل

بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین
کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومیں جنہوں نے خواتین کو علم کی روشنی سے محروم کیا وہ قومیں آباد نہیں ہوتیں، خواتین کو انکی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے،اور یہی خواتین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کانام مختلف ڈیپارٹمنٹس میں روشن کرتے ہیں۔
بلوچستان میں بھی اب خواتین کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور قصبوں سے کوئٹہ میں اپنے خاندانوں سمیت صرف اس لئے مقیم ہیں کہ انہیں بنیادی تعلم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہ ہوں، لڑکیاں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں اور جبکہ بڑی تعداد میں لڑکیاں صوبہ کے مستند ادارے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔
بلوچستان میں رہنا جہاں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آسان اور پرامن نہیں۔
سردار بہادر خان یونیورسٹی کی طالبہ نبیلا کے مطابق مجھے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (ایس بی کے ڈبلیو یو) میں داخلہ ملا جہاں 15 جون 2013 کو ایک دھماکہ ہوا ، جس نے یونیورسٹی بس کو نشانہ بنایا۔ لڑکیاں گھر جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے یونیورسٹی کے 15 طالبات کو ہلاک کر دیا۔ میں نے اس کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، کیونکہ ایس بی کے ڈبلیو یو صوبے کی واحد خواتین کی یونیورسٹی تھی اور لڑکیاں دور دراز علاقوں سے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے آتی ہیں۔ اگرچہ مجھے 2015 میں داخلہ ملا، اس سفاکانہ واقعے کے دو سال بعد بھی میں کیمپس میں خوف محسوس کرتی تھی۔ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تھا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہم سیکھنے کے لیے اس یونیورسٹی میں ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا اور اندر کا ماحول محفوظ محسوس کیا۔ لیکن کوئی اچانک یا بلند آواز ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ 2017 میں جب یونیورسٹی کی بسوں کو دوبارہ دھمکی دی گئی تو یونیورسٹی ایک ہفتے کے لیے بند تھی اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بسیں ایک مہینے تک نہیں چل سکیں۔ کسی نے صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے پاس بلوچستان سے خبریں بلیک آؤٹ کرنے کی تاریخ تھی اس نے صوبے کے مسائل کو دبانے کے لیے کبھی ذمہ داری محسوس نہیں کی جیسے کہ یونیورسٹی کے طلباء خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور کیونکہ اس رویے کی وجہ سے اس نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ کبھی نہیں لی۔ اور اب ہر والدین خوفزدہ اور صدمے کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ دوپہر میں کبھی نہیں سوئیں جب تک کہ وہ مجھے یونیورسٹی سے واپسی پر نہ دیکھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی گریجویشن مکمل کروں۔ یہ میرے ہر کلاس فیلو کی کہانی تھی۔ ہمارے خاندان چاہتے تھے کہ ہم فارغ التحصیل ہوں ، ماضی کو بھول جائیں اور بہتر مستقبل کی امیدیں رکھیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی نے ہم سے بہت سی جانیں لی ہیں۔ ان کے خاندانوں کی خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ باشندے خوف سے زندگی گزار رہے ہیں یقین نہیں ہے کہ محفوظ اور محفوظ مستقبل ممکن ہے۔ آئی ٹی یونیورسٹی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں طالب علم مارے گئے، ہزارہ کوئلہ نکالنے والے مچھ میں ٹارگٹڈ حملے میں مارے گئے، اور سرینا ہوٹل کے احاطے میں حالیہ دھماکہ تمام مہلک واقعات ہیں جو سیکیورٹی کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ والدین یونیورسٹی میں داخل اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ والدین اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاستدان ، ریاست اور میڈیا جو اس مسئلے پر خاموش ہے۔ ہم اب بھی خوف میں رہتے ہیں یقین نہیں ہے کہ ہماری مستقبل کیا ہے۔ کیونکہ سیکورٹی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ان لوگوں کی حالت زار پر توجہ دیں گے جو مسلسل خوف میں رہتے ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ کچھ خطرناک ہو سکتا ہے جنہیں ہر روز تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے لیکن یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک اقتدار میں رہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور اس مرحلے میں ہم صرف چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ بلوچستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہماری خواتین اپنی تعلیم مکمل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اور کل کو اگر کسی بھی جگہ انہیں مشکل وقت پیش آئے تو وہ تعلیم کی شعور رکھنے کی وجہ سے اس مشکل کا حل نکال سکے۔
@iHUSB
بیٹی کہہ کر پکارو تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ
بہو بھی مسکرانا چاہتی ھے
اللہ تعالی نے والدین کیلیے بیٹی کو رحمت بنا کر بھیجا ھے
یہ ننھی کلی جب کھل کر بڑی ھوتی ھے تو اسے اپنے والدین کا گھر نہ چاہتے ھوے بھی چھوڑنا پڑتا ھے اور ایک نیے گھر میں جانا پڑتا ھے یہ نہایت مشکل وقت ھوتا ھے جب ایک بچی اپنا گھر چھوڑ کر نیےگھر میں جاے لیکن یہ اللہ پاک کا فرمان ھے اور نکاح فرض ھے تو اسے ایک نیے گھر میں جانا پڑے گا جب وہ اپنے ھونے والے شوہر کے نکاح میں آتی ھے تو گھر بھی بدل جاتا ھے اور ساتھ میں رشتے بھی بدل جاتے ہیں
جہاں اپنے والدین کے ساتھ شہزادی کی طرح رہنے والی اپنی بہن بھاییوں کےساتھ رھنے والی اب ایک نیے گھر میں نیے رشتوں کے ساتھ کے ساتھ رھے گی
یہ کیسا پیارہ رشتہ ھے جو اللہ پاک نے بنایا ھے ایک کی بیٹی دوسرے کے گھر کی بہو بنتی ھے تو دوسرے کی بیٹی تیسرے گھر کی بہو بنتی ھے یہی وہ ھے جسے اللہ پاک نے اپنے والدین کیلیے رحمت بنایا اب کسی دوسرے گھر میں اللہ کی رحمت بن کر جارھی ھے
لیکن
کچھ گھروں میں ان کیلیے یہ بہو والا لقب بہت برا ثابت ھوتا ھے اور وہ جو اپنے والدین کے گھر میں ایک شہزادی تھی اب یہاں بہو ھے اور اس کے ساتھ سلوک میں بھی بہت تبدیلی آگی ھے بات بات پر طنز اچھا کام بھی کرے تب بھی طنز کیونکہ وہ کسی اور کی بیٹی ھے
حالانکہ تمھاری بھی بیٹی کسی کی بہو ھے یا کبھی بنے گی تو اگر اسے بھی اسی طرح کا سامنا ھوا تو پھر تمھارے دل پر کیا گزرے گی اگر آپ اپنی بیٹی کو شہزادی کے روپ میں دیکھتے ھوتو پھر ضروری ھے کہ جو تمھاری بہو ھے اسے بھی وھی پیار اور سلوک دو جو تم اپنی بیٹی کو دیتے ھو بہو کو بھی اپنے گھر کی شہزادی بنا کر اپنی بیٹی بنا کر رکھو تاکہ تمھارے خاندان کیلیے آپ کی بہو رحمت بن سکے اور پھر تمھارے بڑھاپے میں بیٹی بن کر تمھاری خدمت کرے
جب آپ کسی کی بیٹی کو جو اب آپ کی بہو اور تمھارے خاندان کی عزت بھی ھے اسے اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے تو وہ بھی آپ کو اپنے والدین کی طرح تمھاری خدمت کرے گی اور ہمیشہ آپ کو اپنی بیٹی کی کمی محسوس ھونے نہیں دے گی
اور
بہو کیلیے بھی ضروری ھے کہ جس طرح آپ اپنے والدین کی عزت و تکریم کرتی تھیں اپنے والدین کی شہزادی تھیں اپنے والدین کے سخت و نرم لہجے کو اپنی بہتری کیلیے ان کی باتوں کو اہمیت دیتی تھیں اپنے والدین کا کہا ھوا ہر لفظ تمھارے لیے تمھاری بہتری کیلیے تھا اسی طرح تمھارے شوہر کےوالدین کا بھی تمھارے اوپر اتنا حق ضرور ھے کہ وہ آپ کو اپنی بیٹی سمجھ کر اگر کچھ سخت و نرم لہجے میں بات کرتے ہیں اسی طرح سنو جس طرح آپ اپنے والدین کی بات سنتی تھیں
اس طرح سے آپ کے گھرکے مسایل بھی حل ھوں گےاورناچاکیاں بھی پیدا نہیں ھوں گی
آپ کو پھر ویسے ھی عزت ملے گی جیسے تمھارے والدین تمہیں دیتے تھےاگر آپ اپنے سسرال کو اپنے والدین کی طرح پیار اور خدمت کریں گیں تو یقینا وہ بھی آپ کو اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے
اور آپ کے مقام اور عزت میں بھی کویی کمی نہیں آے گی اسی طرح پھر لازم اس کا بدلہ اللہ پاک آپ کو بھی دے گا جب آپ کی بہو بھی آپ کو اسی طرح عزت دے گی
میری اللہ پاک سے دعا ھے کہ تمام بہن بیٹیوں کے نصیب اللہ اچھے کرے اور ساری پریشانیاں دور کرے .آمینبیٹی کہہ کر پکارو بہو بھی مسکرانہ چاہتی ھے
@KHANKASPAHI1
حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف
**
عورت رب العزت کی سب سے پیاری مخلوق ہے اور ایک مومن عورت تو بالکل انمول موتی کی مانند ہے۔ اس میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اگر پردے کا حکم دیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے جیسے ہم اپنی سب سے خوبصورت چیز کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور اسے دیکھ نا سکے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے تو ٹھیک اسی طرح عورت کو بھی اللّٰہ نے پردے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔
ایسے ہی مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو انمول سمجھتے ہوئے اللّٰہ کے ہر حکم کی تعمیل کرے اور اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرے۔
اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام سے قبل عورت ذات کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی تو باعثِ ذلت اور باعثِ شرمندگی سمجھ کر انھیں زندہ درگور کردیا جاتا۔ انھیں گھروں سے باہر نکلیں تک کی آزادی نا تھی۔ یہاں تک کہ عورت ذات کی عصمت تک محفوظ نہیں تھی۔
پھر ایسے میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین بن کر آئے۔ آپ کی آمد سے عورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہ اللہ کا دین ہی تو ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں الگ مقام اور حیثیت دی ہے۔
اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر کی وفادار ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ فرمایا گیا: "جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سیکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے”.
بےشک اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور اسے عورت ہونے کا اصل مقام اور عزت بخشی۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں عورتوں کے وہ تمام حقوق بیان کیے ہیں جو کسی بھی اور مذہب میں نہیں ملتے اور نہ ہی ان مذاہب کی کسی کتاب میں ملتے ہیں۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں بھی مردوں کی نسبت عورتوں کا ذکر زیادہ بار آیا ہے۔
اسی طرح اسلام نے عورت کو بےشمار حقوق سے بھی نوازا ہے۔ شوہر کے انتخاب سے لے کر آزادی رائے تک کے تمام حقوق عورت کو حاصل ہیں وہ جب چاہے اپنے ان تمام حقوق کو استعمال کرسکتی ہے۔ جہاں اسلام نے اتنے حقوق دیے ہیں وہاں عورتوں کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کی ہیں جس کا مقصد صرف عورت کی حفاظت ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے قبل کسی عورت کو ایسے کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یا یوں کہوں کے حقوق جیسے لفظ تک سے کوئی بھی عورت واقف نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہ لفظ ان کے لیے شاید بنا ہی نہیں تھا۔ مگر اسلام نے عورت کو یہ تمام حقوق دیے۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑے گی کہ ان تمام حقوق کے بعد بھی آج کے دور میں مسلمان عورت پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف چل پڑی ہے۔ وہ اپنا وہ مقام جو اسلام نے اسے دیا ہے اپنے ہاتھوں سے خود ہی ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہے اور مغربی ممالک کی پیروی کررہی ہے۔
آج کے دور میں جب کچھ عورتیں آزادی کے نام پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہیں تو بہت افسوس ہوتا۔ بھئ کون سا جسم؟ کون سی مرضی؟ یہ جسم بھی تو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر اس ذات کی مرضی نہ ہوتو ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصّے کو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں سکتے۔ ایسی عورتوں کو جو خود عورت ذات کو تماشا بنا رہی ہیں پکڑ کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللّٰہ کی بنائ ہوئ حدیں صرف ہماری حفاظت کے لیے ہیں اگر اللّٰہ نے مرد کو ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے اور عورت کو چاہیے کہ مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلیں۔ تاکہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے۔
@SeharSulehri

اسلام، وراثت اور عورت تحریر :سید اویس بن ضیاء
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرد اہل خیر کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ظلم اور نا انصافی کرتا ہے تو اس کے برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے اور ایک مرد ستر سال تک اہل شر کے اعمال کرتا ہے پھر وصیت میں عدل و انصاف سے کام لیتا ہے تو اس اچھے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے،( ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:863)”۔
اسلام واحد دین ہے جو امن محبت اور انصاف کا درس دیتا ہے اسلام میں زندگی کے ہر پہلو پر نہایت ہی باریک بینی سے روشنی ڈالی گئ ہے زندگی کے تمام تر معاملات میں عورت کو وراثت دینے کا ایک اہم مسئلہ ہے جس پر قران مجید میں کئ بار ذکر آیا ہے۔
اسلام میں بیٹیوں کا وراثت میں حصہ بیٹوں کے مقابلے نصف مقرر کیا گیا ہے اور بیوی کا آٹھواں حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ ہمیں اسلام کے قوائد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو وراثت میں مکمل حصہ دینا چاہیے۔ وراثت تقسیم ہونے کا مسئلہ ہمیشہ انسان کی موت کے بعد درپیش آتا ہے جو کہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔
عام طور پر ہمارے معاشرے کے دو قسم کے کمزور طبقے یعنی یتیم بچے اور عورتیں تقسیمِ وراثت کے وقت ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس سے لوگوں کے درمیان نا اتفاقی اور لڑائ جھگڑے جیسے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں جو کہ بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس طرح اسلام میں چوری، ڈکیتی، زنا، شراب پینا حرام ہے اسی طرح وراثت میں حصہ داروں کو انکا حق نا دینا بھی حرام ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ کہہ کر حیلے بہانے بناتے ہیں کہ ہم نے جہیز دیا ہے تو اب جائیداد میں سے حصہ کیوں دیں جائیداد سے حصہ عورتوں کا اسلام و آئنی حق ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبارات آئے دن ایسی خبروں کی زینت ہوتے ہیں کہ مختلف مقامات پر جائیداد (جو کہ اسلامی حق ہے)مانگنے پر عورتوں نا صرف کو ڈریا دھمکایا جاتا ہے بلکہ ان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انکو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔
آج کے جدید دور میں عورتیں تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کا بھی علم رکھتی ہیں اگر انہیں انکا حق نہیں ملتا یا انکی حق تلفی کی جا رہی ہو تو وہ عدالت سے رجوع کر لیتی ہیں اور قانون کے ذریعے اپنا حق حاصل کرتی ہیں اگر چہ ہمارا نظام عدل سست روی کا شکار ہے لیکن انصاف ہمیشہ حق دار کو ہی ملتا ہے ہماری حکومت وقت سے التجا ہے کہ عورتوں کے وراثتی حقوق کی حفاظت کےلئے سخت سے سخت قانون سازی کی جائے
اگر چہ ہمارے معاشرے میں ظلم کرنے والے ہیں مگر مظلوم کا ساتھ دینے والے انصاف پسند لوگ بھی ہیں جو کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہیں جو اپنی ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں ، بیویوں کو مکمل حقوق فراہم کرتے ہیں اور ساتھ اللہ کی پاک ذات کا ڈر دل میں رکھتے ہیںقران پاک مین واضع طور پر فرمایا گیا ہے کہ:”سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے،(النور: 63)”۔
ہمیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دئے احکامات پر عمل کرنے چاہیے اور عورتوں کو وراثت میں حصہ کے ساتھ ساتھ انکے تمام حقوق کا خیال رکھنا چاہیے جوکہ ہم پر لازم ہے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو راہ حق پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے@SyedAwais_

عورت کا مقام تحریر:شعیب خان
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے سازسے ہے زندگی کا سوزِدروںدین اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت و رسواٸی اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی و نجات کا پیغام تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا ،جو عورت کے انسانی وقار کو بری طرح سے متاثر کرتا اور عورت کو وہ حقوق و فرائض عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و احترام کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق صرف مرد حضرات ہوا کرتے تھے ۔
اسلام سے قبل عورتوں کو زندہ زمین میں گڑھ دیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے آنے اس عورت ذات اس رسم و رواج سے نجات ملی ،اللہ نے تخلیق کے درجے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ اور اسی طرح ﷲ کے اجر کے استحقاق میں مرد و عورت دونوں برابر حقدار ہیں ۔
قرآن کریم اور احادیث میں عورتوں کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ عورت لطیف اور رحمت ہے. اسکے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی کی جائے، احسن سلوک کیا جائے اسکے ساتھ ساتھ اس کے ظریف اور نازک وجود کی تعریف کی گئی ہے
قرآن مجید میں اللہﷻ کا ارشاد ہے:
اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ،سورت النساء
دین اسلام کی وجہ سے عورت کو وہ حقوق و فراٸض بھی ملے جو زمانہ جہالیت میں نہیں ملا کرتے تھے اسلام نے تو عورت کے لئے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن مرد کو بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت سے سرفراز فرمایا۔اسلام نے عورت کو چاروں روپوں میں اسکے حقوق و فرائض دٸیے ہیں جو جہالیت کے زمانے میں دینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔
آپﷺ نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا، عورت کو بحيثيت بہن وراثت کا حقدار ٹھہرایا ، اسی طرح عورت بطور بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اس کی تربیت و تعلیم اور احسن طریقے پرورش کرنے پر جنت کا ضامن بنایا۔ عورت کو بطور بیوی اپنے شوہر کا لباس بنایا ہمارا نبی اکرمﷺ نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی اسکے نان و نفقہ کا حقدار مرد کو بنایا
آج کی عورت ہی دین اسلام کے بقاء اور تحفظ کو بقائے دوام عطاء کر سکتی ہے۔ آج کی عورت کو قرون اول کی عورت کی طرح اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرے کا ایسا نمونہ پیش کرنا ہوگا جسے نئی نسل کو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سرخروئی حاصل ہو۔ اور اگر آج کی عورت کو یہ کوشش بارآور ہو جائے تو وہ نہ صرف ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت انجام سرانجام دےگی بلکہ دین اسلام کی بھی خدمت انجام دے گی کیونکہ
دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق و فرائض بھی متعین کردیئے جن کی بدولت عورت معاشرے میں پرسکون زندگی بسر کر سکتی ہے!!اللہ آپکا حامی و ناصر ہو ، آمین
@aapkashobi

شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ تحریر : ام سلمیٰ
گو کے پاکستان میں یہ طریقا رائج نہں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ ضروری سمجھا جاتا ہے شادی کے بعد کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے یہ ایک نہایت آسان طریقہ ہے کے شادی سے پہلے دولہا اور دلہن کی ٹریننگ کی جائے اور ان کے اندر شادی سے متعلق جو سوال پیدا ہوں ان کو تفصیلی سمجھایا جائے.معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی ایک وجہ یہ بھی ہے.
شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت یہ کیا ہے؟
شادی کی توقعات کا تعین کرنے سے لے کر اس بات کا تعین کرنے تک کہ آیا آپ اور آپ کا ساتھی دونوں زندگی کے معاملات کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے اپنے زندگی کے نئے معاملات کو کیا طرح آسانی سے سلجھائیں گے. خواہ وہ بچے پیدا کرنے کے بارے میں ہو یہ زندگی کے کسی بھی معاملے پر دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں یہ ایک صفے پے آسکتے ہیں،کوئی سوال حد سے باہر نہیں ہے۔ اس کے بارے میں اس طرح سوچیں کے جتنا آپ اپنے لیے اہم ہیں دوسرے کے بارے میں بھی ضرور جانیں اور جانیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی ، جتنی جلدی آپ کو اپنے ساتھی کے بارے میں آگاہی ہوگی اتنی آسان آپکی زندگی ہوگی.شادی سے پہلے کی مشاورت/ٹریننگ کیا ہے؟
شادی سے پہلے کی مشاورت تھراپی کی ایک شکل ہے جو شادی سے پہلے ہوتی ہے۔ عام طور پر ، شادی سے پہلے کے ماہر / کونسلر جوڑے کے بارے ساری بتائیں جانیں کی کوشش کرتا ہے اور شادی کے بارے میں جو جوڑے / کپل اپنے تاثرات تاثرات سے آگاہ کرتے ہیں ہیں پھر کونسلر / ماہر ان کو ان کے دماغ میں آئے سوالات کو صحیح طرح انہیں سمجھتا ہے.شادی سے پہلے آپ ضرور اس سے متعلق مشورہ کریں کونسلر /ماہر سے اور آپ ہر وہ چیز شیئر کریں جس کی آپ توقع کر سکتے ہیں اگر آپ اپنے شادی جیسے بڑے دن سے پہلے ماہر سے مشاورت کریں تو یہ نہایت مفید ہے.
مشورے کس سے کریں/ ماہر سے ملیں
ایک لائسنس یافتہ سائیکو تھراپسٹ ، ریلیشن کوچ سے.
1. آپ کی شادی کی توقعات اور کردار کے عقائد
آپ کو ایک اندازہ ہو سکتا ہے کہ شادی کے بعد زندگی کیسی ہوتی ہے اور اس کا شراکت دار ہونے کا کیا مطلب ہے زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بد آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اور کیا مختلف محسوس کرتے ہے۔ شادی کی مشاورت میں ، آپ پتہ چلے گا کے آپ شادی کو کیا سمجھتے ہیں اور دوسرے شادی کے بارے میں کیا تجربہ رکھتے ہیں۔ ماہر آپ سے اس کے بارے میں بات کریں گے کہ ہر شخص دوسرے سے کیا توقع کرتا ہے. آگر آپکو اپنے ساتھی سے توقع ہے تو وہ بھی کچھ توقع آپ سے رکھتا ہے.
ماہر آپکو یے بھی گائیڈ کرتا ہے کے آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کو کس طرح متاثر کرتا ہے شادی کے بعد
کسی حد تک ، ہم سب اپنے ماحول کے عادی ہوتے ہیں، زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بعد دوسرے کو اچھی بری عادتوں کے ساتھ قبول کرنا ہوتا ہے جو کے وقت اور ماحول کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جاتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم خوبیوں کو منتقل کرتے ہیں اور پرانے تعلقات سے نئے تعلقات کو دوبارہ تخلیق کرتے ہیں ، اور ہمیشہ ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کو اپنا لیتے ہیں.3. مستقبل کے تنازعات کو حل کرنے کے منصوبے۔
ماہر آپکو یہ بھی سمجھاتا ہے کے "اگر کوئی جوڑا آزادانہ طور پر کسی بھی موضوع پر بات نہیں کر سکتا ، چاہے کتنا ہی ذاتی ہو یا مشکل تو اس کے لیے ایک اچھی زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اچھی پر سکون زندگی کے لیے شادی شدہ جوڑے کا آپس میں مشاورت کرنا ضروری ہے، شادی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے شادی کی مشاورت اگر آپ مشورہ نہں کرنا چاہتے اپنے ساتھی کے ساتھ تو شادی کی کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں یے ایک اہم پہلو ہے.ماہر کے مطابق شادی میں خوش رہنے کا طریقہ
4. پیسے کا مناسب انتظام۔
ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ شادی کو آباد اور برباد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اس کے مناسب انتظام مستقبل میں ہونے والی مالی لڑائیوں کو روک سکتا ہے ، آپ شادی سے پہلے کی مشاورت میں اپنے پیسے کے تمام خیالات کو سامنے رکھیں گے۔ اور اپنے ساتھی اپنی سہی حالات سے صحیح طرح آ گا ه رکھیں ایک صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ایک کی پیسے کی کہانی ، ماضی اور حال کی مالی تاریخ اور مستقبل کے مشترکہ اہداف اور ارادوں کے بارے میں واضح ہونا جوڑے کو اس مشترکہ تعلقات کی خرابی سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔
5. مباشرت / جنسی تعلق کے مسائل سے بچنا۔
پیسے کی طرح ، مباشرت /جنسی تعلق انتہائی ذاتی ہے ، اور زیادہ تر جوڑے شادی کے کسی موقع پر مباشرت /جنسی تعلق کے مسائل میں پڑ جاتے ہیں.اس کے بارے میں بھی ماہر جوڑوں کو گائیڈ کرتا ہے.6. صحت مند ماحول کو فروغ دینا۔
کھلی اور براہ راست بات چیت کسی بھی تعلق کے کلیدی اجزاء ہیں ، خاص طور پر اگر آپ اور آپ کے ساتھی کے پاس بات چیت کے مختلف طریقے ہیں۔ شادی سے پہلے کی مشاورت آپ کے انداز کو دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور وہ آپ کی شادی کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔اگر آپ کا ساتھی صحت مند ہے اور مناسب طریقے سے غصے کا اظہار کرتا ہے لیکن غصہ آپ کے لیے چار حرفی لفظ ہے تو پھر بات چیت میں ایک مسئلہ بن جائے گا۔تو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا نہایت اہم ہے.شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت آپکو کئی قسم کے مسائل سے بچا سکتی ہے آپ بچوں کے بارے میں بھی مشاورت کر سکتے ہیں شادی سے پہلے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کتنے بچے چاہتے ہیں اپنے ماہر سے بات کریں ، والدین کے شادی کے بعد کے انداز ، خاندانی میں ایک نئے فرد کی شمولیت اور بہت کچھ کے بارے میں بات کر سکتے ہیں اس زریعے سے جوڑوں کو مسائل کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے میں ان کی اور ان کی شادی کو بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔
@salmabhatti111

کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟ تحریر: چوہدری عطا محمد
گزشتہ دو یا تین سالوں سے اسلام آباد سے شروع ہوتا ۂوا عورت مارچ کا شور اب ملک کے مختلف حصوں میں پھلایا جا رہا ہے اب یہ عورت مارچ رفتہ رفتہ موضوع بحث بنتا جارہا ہے۔ عورت مارچ کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے عورت مارچ سمیت کسی کوئی بھی تحریک ہو یا مارچ یا اجتماع یا پھر جلسہ جلوس وغیرہ ان سب میں شمولیت و عدم شمولیت اور حمایت و مخالفت کےلیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس مارچ یا جلسہ جلوس یا اجتماع کے مقاصد، اس کے منشور اور اس کے رجحانات اور سرگرمیوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس جائزہ پر مبنی تجزیہ کی روشنی میں اس طرح کے مارچ جلسہ جلوس یا اجتماع سے اتفاق و اختلاف یا شمولیت و عدم شمولیت کا فیصلہ کیا جانا چائیے اب تک ہونے والے عورت مارچ کے متعلق میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہہ اس پورے مارچ کے اندر عورت کے جو اصلی حقوق ہیں اس بارے میں تو کسی بھی قسم کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہمارے دور دراز علاقوں میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو جو مسائل زندگی میں درپیش ہیں جن کو سامنے لانا ہمارے معاشرہ کی سب سے پہلی زمہ داری ہے اسکا تو کوئی کہیں دور دور تک زکر ہی نہیں ہے اگر عورت کے مسائل کی بات کی جاۓ تو عورت کے بنیادی مسائل تعلیم، غربت، جہالت، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور ہراسگی تیزاب گردی ہے ہماری ماؤں بہنوں کو آج بھی قاتل کے لواحقین اور مقتول کے لواحقین کے درمیان صلح کے لئے بہن بیٹیوں کے رشتہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور اس نام نہاد صلح کی بھینٹ کوئی بہن یا بیٹی چڑھ جاتی ہے آپ زرا غور کیجیے گزشتہ دو یا تین سالوں سے نکالے جانے والے عورت مارچ کے جلوس کی تقاریر یا ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوۓ پلے کارڈ میں کوئی ایک بھی فقرہ عورت کے اصل حقوق کی نشاندہی کر تا ہے کیا اگر آپ انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے تو آپ کا جواب ہوگا نہیں ایسا کوئی فقرہ تقاریر یا پلے کارڈ میں بلکل بھی شامل ہی نہیں ہے آپ خود ہی فیصلہ کریں کہہ یہ عورت مارچ کن حقوق کی بات کر رہا ہے معزرت کے ساتھ عورت مارچ کے نعرے سوشل میڈیا پر سننے کو ملے وہ تھے عورت کیا مانگے آزادی تیرا باپ بھی دے گا آزادی ہم لے کے رئیں گی آزادی ہم چھین کے لیں گے آزادی ہے حق ہمارا آزادی اس طرح کے نعروں کے بعد سب سے پہلا جو سوال زئین میں آتا ہے وہ یہ ہے کہہ ہمارے یہ بہنیں بیٹیاں کس چیز کی آزادی مانگ رہی ہیں کس سے آزادی مانگ رہی ہیں کیا جب وہ پیدا ہوئی تو باپ کے شفقت بھرے سر پر رکھے ہوۓ ہاتھ سے آزادی مانگ رہی ہیں یا پھر بھائی سے آزادی یا پھر جب شادی ہوگئ تو اپنے محافظ یعنی شوہر سے آزادی یہ عورت مارچ کی ہماری بہنیں بیٹیاں کس سے اور کیسی آزادی چائیتی ہیں
اسلام نے عورتوں کو کتنا تحفظ دیا کتنی عزت اور تکریم دی کتنا بلند مقام دیا اس کا تصور بھی کسی اور مزہب میں ممکن ہی نہیں اسلام نے عورت کو پہلے بیٹی کی شکل میں والد کے لئے رحمت کہا اور باپ کو اس کا محافظ بنایا زرا بڑی ہوئی تو بھائی کی شکل میں اسکو ایک اور محافظ مل گیا جب شادی ہوئی تو ایک شوہر کی شکل میں محافظ عطا کر دیا پھر جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس بیٹے کے لئے جنت ماں کے قدموں تلے ہیں جنت کا حصول ماں یعنی عورت کی خدمت میں ہے۔ تو زرا سوچو میری عورت مارچ کی بہنوں بیٹیوں آپ کو کس قسم کی آزادی اور کس رشتہ سے آزادی چائیے۔ اگر مغرب کی بات کریں تو ادھر عورت کو اپنے زاتی استعمال کے لئے بھی خود سے مخنت مشقت کرنا پڑتی ہے مثلاً ادھر عورت جاب کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتی ہمارے ہاں عورت کے تمام اخراجات اور ضروریات کا پہلے باپ۔ پھر۔ بھائی۔ پھر شوہر۔ اور پھر بیٹا زمہ دار ہوتا ہے میں کہیں پر بھی عورت کی ملازمت کی مخالفت نہیں کر رہا آج ہمارے بہن بیٹیاں زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور اس پر ہمیں فخر بھی ہے کہہ ہماری بہنیں بیٹیوں کا ملک کی ترقی اور معیشت میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردو کا ہے
اگر آج کے حالات کا غور و فکر سے اندازہ لگا جاۓ تو ہمارے معاشرہ کے اندر سارے مسائل اور تمام خباسط کی محض اسلئے پائی جاتی ہیں کہ لوگ قرآن مجیدسے دور ہیں اور اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔ اور اس معاملہ میں ہماری بہنیں بیٹیاں بہت پیچھے ہیں۔ جب ایک عورت قرآن کریم کی تعلیمات سے واقف ہوگئ اور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے اس کو کیا زمہ داری سونپی ہے تو پھر لازم سی بات ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات کی روشنی میں کرے گی ہمارے خواتین اب ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اِن خواتین کو قرآن فہمی کے میدان میں بھی آگے آنا ہوگا تاکہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں،اپنے حقوق کی صیح معنوں میں جنگ لڑ سکیں اور نئی نسل کی اخلاقی اصولوں پر تربیت کرکے
ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
میری باتوں سے اتفاق یا اختلاف کا تمام لوگوں کو مکمل اختیار ہے یہ سب میری زاتی سوچ سمجھ ہے آپ اسپر اپنی زاتی راۓ کا مکمل حق رکھتے ہیں
اللہ سبحانہ تعالی ہمیں دین اسلام کو سمجھ کر سنت نبوی صلى الله عليه وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین۔@ChAttaMuhNatt

حقوقِ نسواں تحریر: تحریر عبید الله
کسی بھی موضوع پر گفتگو سے پہلے اس کی بنیاد جاننا لازمی ہے۔
حقوق سے مراد وہ بنیادی معاشی، معاشرتی، اخلاقی، دینی اور حکومتی و قانونی
اصول ہیں جن کے میسر ہو نے سے کوئی بھی فردِ واحد معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ حقوق نسواں سے مراد وہ تمام حقوق ہیں جو کہ اسلام اور عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آئین پاکستان میں درج ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو بنانے اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے کےلیے مرد اور عورت دونوں کی برابر کی کاوشیں لازم ہیں۔ اگر معاشرے کو ہم ایک موٹر سائیکل سے تشبیہ دیں تو مرد اور عورت اس کے دو پہیے ہیں اگر ان میں سے ایک پہیہ میں خرابی آئے تو دوسرا بھی اس سے متاثر ہوتا ہے اور نتیجتاً موٹر سائیکل منزل تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی رک جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر مرد اور عورت دونوں اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام نہ دے سکیں تو معاشرے ترقی اور خوشحالی کی بجائے انتشار اور بے راہ روی کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں اس لیے دونوں کے حقوق اور کردار سے انکار ممکن نہیں۔
عورتوں کے حقوق سےانکار ممکن نہیں کیونکہ عورت کے حقوق اور اکرام تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے اپنی کتاب میں شامل فرما دیےاورہر لحاظ سے عورت کو صاحب عزت قرار دیا۔ اگر وہ ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت رکھ دی، بیٹی ہے تو نعمت قرار دیا، بہن ہےتو غم خواراور جائیداد میں حصہ دار اور بیوی ہے تو لباس اور باعثِ سکون قرار دیا۔ اسی طرح اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ووٹ دینے اور شہری ترقی میں حصہ لینے کا حق بھی دیا ہے۔ سیاست یا سوشلائیز ہونے کا بھی حق دیا ہے اس کے باوجود آجکے جدید دور میں بھی مرد حضرات عوامی بسوں میں خود کھڑے ہوکر عورت کو جگہ دیتے ہیں اور اس بات سے کون قطع نظر ہے۔ ہماری سڑکوں پر چلنے والی بسوں میں سوار نوجوان آج بھی اس سیٹ پر نہیں بیٹھتے جس کے ساتھ والی سیٹ پر عورت بیٹھی ہواور بے شک اس سب میں بھی قابل تحسین ہیں وہ مائیں اپنے بچوں کی تربیت یوں احسن طریقے سے کر رہی ہیں لیکن افسوس آج عورت کے حقوق کے نام پر ایسے لبرل حضرات آگے آرہے ہیں جو گو کہ مرد اور عورت دونوں کے لباس میں ہیں لیکن وہ عورت کے حقوق اور تقدس سے دور اور نا واقف ایسے بے حیائ پر مبنی نعرے لگاتے ہیں کہ باعزت گھرانوں کے مردوخواتین سن کر شرم کے مارے پانی پانی ہو جائیں۔ گوکہ یہ لبرلز تعداد میں تھوڑے ہی سہی(آٹے میں نمک)، لیکن مرد اور عورت کے نام پر دھبہ اور معاشرے کے لیے ناسور ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی معصوم بیٹیوں کو اس نظامِ الٰہی سے متنفر کرنے کی کوشش میں ہیں کہ جس نے ایک ایسے وقت میں جب عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں کو قابل منتقلی جائیداد سمجھا جاتا تھا تو اسلام نے معاشرے میں عورتوں کو عزت دی اور انہیں بے مثال حقوق سے تحفظ دیا۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم، اپنی پسند کے کسی سے شادی کرنے، شادی کے بعد اپنی شناخت برقرار رکھنے، خلع لینے، کام کرنے، جائیداد کی ملکیت اور فروخت کرنے، قانون کے ذریعے تحفظ حاصل کرنے، معاشرتی معاملات میں حصہ لینے کا حق دیا ہے۔ جس نے عورت کو اس قدر حقوق سے نوازا اس باپ بھائی کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل ہیں۔ جو کہ ہمہ وقت اپنی بہن بیٹی کے ناز و نخرے اٹھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
اگراس موضوع پر لکھنا شروع کیا جائے تو شاید الفاظ اور اوراق ختم ہو جائیں لیکن موضوع پھر بھی سمندر کو کوزے میں بند کر نے کے مترادف ہے لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مرد و عورت کی بقا دین اسلام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔@ObaidVirk_717

طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی
پرانے زمانے میں طلاق کی شرح کم اور آج کل روز بروز بڑھتی جارہی ھے تو کوٸی بیوی کو بد زبان، بد اخلاق، نافرمان، کہتا ھے، لیکن یہ ایسا ہر گز نہیں ھے اس کی ایک وجہ بیوی کےحقوق اور دوسری وجہ بچوں کے مرضی کے بغیر شادی کرنا، آج کل تعلیم بہت عام ہو چکی ہے ہر عورت تعلیم یافتہ اور باشعور ہے ہر عورت اپنےحقوق جانتی ہے، لیکن بہت سے مرد ایسے ھے جو بیوی کے حقوق سے نا واقف ہیں، وہ بیوی کو اسکا حق تو دے نہیں سکتے لیکن بیوی کی توجہ چاہتا ہیں اوربیوی سے نوکرانیوں کی طرح خدمت کرواتے ہیں ، لیکن عورت اپنے حق پر ڈٹی رہتی ھے، مرد کو توجہ نہیں دیتی، تو یہ مرد کی انا کا مسلہ بن جاتا ھے اور مرد جزبات میں آکے ایسا فیصلہ کرتا ھے. جزبات کے فیصلوں کے نتاٸج بہت سنگین ہوتے ھیں، بات دشمنی تک بھی جا سکتی ھے، اور دشمنی میں دو خاندانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ھے۔ اگر مرد ایسے فیصلے کرنے سے پہلے جزبات سے نہیں صبر سے کام لے اور بیوی کو اپنا حق وقت پر دیا جاۓ تو بہت نقصان سے بچ سکتے ہیں ۔طلاق کا نقصان صرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو اور بچوں کو بھی ہوتا ہے۔عورت کو طلاق کے بعد یا تو بدکردار کہہ دیا جاتا ہے یا معاشرے میں اس کی رسواٸی ہوتی ہےلیکن مرد کے لٸے یہ خاندانی دشمنی کا جواز بھی ہو سکتی ہے اور بچوں کی تربیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔کیونکہ بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے بچوں کی تربیت ماں کے گود میں ہوتی ہےاور صرف والدین ہی ھیں جو بچوں کو اچھی تربیت دے سکتے ھیں ایسے فیصلوں سے بچوں کا مستقبل بھی برباد ہوتا ھے۔ بہت سے لوگ کہتے ھیں یہ کاغذی رشتہ ہے ایسا رشتہ ٹوٹ بھی سکتا ھے۔ نکاح سنت ھے (حدیث مفہوم ھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت سے منہ موڑے اس کا مجھ سے کوٸی تعلق نہیں اس کے حوالے سے فیصلے جذبات میں نہیں بلکہ حوصلے اور تحمل سے کرو ۔بیوی کو سمجھو کہ وہ کیا چاہتی ہے، بیوی کو پیار اور عزت دو۔ عورت صرف عزت اور پیار کی بھوکی ہوتی ہے اور کسی چیز کی بھی نہیں ۔بیوی کبھی بھی شوہر کا نقصان نہیں چاہتی۔
ایسے لوگ بھی ہیں جن کی طلاق کی وجہ دوسری شادی ہوتی ہے تو کہتے ہیں اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ھے۔ بےشک اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ہے لیکن اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ پہلی والی کو طلاق دو ۔یہ شرط بھی نہیں ہے کہ دوسری شادی یا تیسری شادی کسی کنواری لڑکی سے کرو۔ چار کی اجازت ھے لیکن اس میں طلاق یافتہ عورتیں، بیوہ عورتیں ،عمر میں بڑی یا چھوٹی عورتیں سے شادی کرنے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کو انکی زندگی گزارنے میں جو بنیادی ضرورتیں درکار ہیں فراہم ہو سکیں۔شرط یہ بھی ہےکہ سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہٸیے۔ میرا اس تحریر کا صرف یہ مقصد ہے کہ یہ فلمی اور ڈراماٸی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف آٶ ۔ایک چھوٹی سی بات کو اپنی انا کا مسلہ مت بناٶ۔اپنے جزبات پر قابو رکھ کر فیصلے کرو۔
اپنا اور اپنے بچوں کےمستقبل کے بارے میں سوچوں۔ والدین کو چاہٸیے کہ رشتہ طے ہونے سے پہلے اپنے اولاد کی رضامندی پوچھیں۔ زندگی بہت قیمتی ہے اس کو ایسے فیصلوں سے برباد مت کرو۔اپنے رشتے مضبوط کرو۔ اپنے رشتوں کو کمزورہونے سےبچاٶ ۔اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارو کسی تیسرے کے باتوں پرکان مت دھروں،کیونکہ اگر بیوی کو اسکاحق ملے تو وہ شوہر کو ،اپنے بچوں کو اور گھر کو توجہ دے گی ۔اگر بیوی گھر کے کسی فرد جیسے ساس، دیور، نند سے بد زبانی کرے یا نافرمانی کرے تو فیصلے کرنے سے پہلے دونوں کی طرف سے دلاٸل سن لو اور خود کو اور اپنی نسل کو نقصان سے بچاٶ۔ اللہ ہم سب کو ایسے نقصانات سے بچاۓ ۔آمین
@Munn_wajji (rtwitter)









