Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے سازسے ہے زندگی کا سوزِدروں

    دین اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت و رسواٸی اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی و نجات کا پیغام تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا ،جو عورت کے انسانی وقار کو بری طرح سے متاثر کرتا اور عورت کو وہ حقوق و فرائض عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و احترام کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق صرف مرد حضرات ہوا کرتے تھے ۔

    اسلام سے قبل عورتوں کو زندہ زمین میں گڑھ دیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے آنے اس عورت ذات اس رسم و رواج سے نجات ملی ،اللہ نے تخلیق کے درجے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ اور اسی طرح ﷲ کے اجر کے استحقاق میں مرد و عورت دونوں برابر حقدار ہیں ۔

    قرآن کریم اور احادیث میں عورتوں کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ عورت لطیف اور رحمت ہے. اسکے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی کی جائے، احسن سلوک کیا جائے اسکے ساتھ ساتھ اس کے ظریف اور نازک وجود کی تعریف کی گئی ہے

    قرآن مجید میں اللہﷻ کا ارشاد ہے:

    اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ،سورت النساء

    دین اسلام کی وجہ سے عورت کو وہ حقوق و فراٸض بھی ملے جو زمانہ جہالیت میں نہیں ملا کرتے تھے اسلام نے تو عورت کے لئے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن مرد کو بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت سے سرفراز فرمایا۔اسلام نے عورت کو چاروں روپوں میں اسکے حقوق و فرائض دٸیے ہیں جو جہالیت کے زمانے میں دینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔

    آپﷺ نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا، عورت کو بحيثيت بہن وراثت کا حقدار ٹھہرایا ، اسی طرح عورت بطور بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اس کی تربیت و تعلیم اور احسن طریقے پرورش کرنے پر جنت کا ضامن بنایا۔ عورت کو بطور بیوی اپنے شوہر کا لباس بنایا ہمارا نبی اکرمﷺ نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی اسکے نان و نفقہ کا حقدار مرد کو بنایا

    آج کی عورت ہی دین اسلام کے بقاء اور تحفظ کو بقائے دوام عطاء کر سکتی ہے۔ آج کی عورت کو قرون اول کی عورت کی طرح اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرے کا ایسا نمونہ پیش کرنا ہوگا جسے نئی نسل کو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سرخروئی حاصل ہو۔ اور اگر آج کی عورت کو یہ کوشش بارآور ہو جائے تو وہ نہ صرف ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت انجام سرانجام دےگی بلکہ دین اسلام کی بھی خدمت انجام دے گی کیونکہ
    دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق و فرائض بھی متعین کردیئے جن کی بدولت عورت معاشرے میں پرسکون زندگی بسر کر سکتی ہے!!

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو ، آمین

    ‎@aapkashobi

  • شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ  تحریر : ام سلمیٰ

    شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ تحریر : ام سلمیٰ

    گو کے پاکستان میں یہ طریقا رائج نہں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ ضروری سمجھا جاتا ہے شادی کے بعد کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے یہ ایک نہایت آسان طریقہ ہے کے شادی سے پہلے دولہا اور دلہن کی ٹریننگ کی جائے اور ان کے اندر شادی سے متعلق جو سوال پیدا ہوں ان کو تفصیلی سمجھایا جائے.معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی ایک وجہ یہ بھی ہے.

    شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت یہ کیا ہے؟
    شادی کی توقعات کا تعین کرنے سے لے کر اس بات کا تعین کرنے تک کہ آیا آپ اور آپ کا ساتھی دونوں زندگی کے معاملات کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے اپنے زندگی کے نئے معاملات کو کیا طرح آسانی سے سلجھائیں گے. خواہ وہ بچے پیدا کرنے کے بارے میں ہو یہ زندگی کے کسی بھی معاملے پر دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں یہ ایک صفے پے آسکتے ہیں،کوئی سوال حد سے باہر نہیں ہے۔ اس کے بارے میں اس طرح سوچیں کے جتنا آپ اپنے لیے اہم ہیں دوسرے کے بارے میں بھی ضرور جانیں اور جانیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی ، جتنی جلدی آپ کو اپنے ساتھی کے بارے میں آگاہی ہوگی اتنی آسان آپکی زندگی ہوگی.

    شادی سے پہلے کی مشاورت/ٹریننگ کیا ہے؟
    شادی سے پہلے کی مشاورت تھراپی کی ایک شکل ہے جو شادی سے پہلے ہوتی ہے۔ عام طور پر ، شادی سے پہلے کے ماہر / کونسلر جوڑے کے بارے ساری بتائیں جانیں کی کوشش کرتا ہے اور شادی کے بارے میں جو جوڑے / کپل اپنے تاثرات تاثرات سے آگاہ کرتے ہیں ہیں پھر کونسلر / ماہر ان کو ان کے دماغ میں آئے سوالات کو صحیح طرح انہیں سمجھتا ہے.

    شادی سے پہلے آپ ضرور اس سے متعلق مشورہ کریں کونسلر /ماہر سے اور آپ ہر وہ چیز شیئر کریں جس کی آپ توقع کر سکتے ہیں اگر آپ اپنے شادی جیسے بڑے دن سے پہلے ماہر سے مشاورت کریں تو یہ نہایت مفید ہے.

    مشورے کس سے کریں/ ماہر سے ملیں

    ایک لائسنس یافتہ سائیکو تھراپسٹ ، ریلیشن کوچ سے.

    1. آپ کی شادی کی توقعات اور کردار کے عقائد

    آپ کو ایک اندازہ ہو سکتا ہے کہ شادی کے بعد زندگی کیسی ہوتی ہے اور اس کا شراکت دار ہونے کا کیا مطلب ہے زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بد آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اور کیا مختلف محسوس کرتے ہے۔ شادی کی مشاورت میں ، آپ پتہ چلے گا کے آپ شادی کو کیا سمجھتے ہیں اور دوسرے شادی کے بارے میں کیا تجربہ رکھتے ہیں۔ ماہر آپ سے اس کے بارے میں بات کریں گے کہ ہر شخص دوسرے سے کیا توقع کرتا ہے. آگر آپکو اپنے ساتھی سے توقع ہے تو وہ بھی کچھ توقع آپ سے رکھتا ہے.

    ماہر آپکو یے بھی گائیڈ کرتا ہے کے آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کو کس طرح متاثر کرتا ہے شادی کے بعد
    کسی حد تک ، ہم سب اپنے ماحول کے عادی ہوتے ہیں، زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بعد دوسرے کو اچھی بری عادتوں کے ساتھ قبول کرنا ہوتا ہے جو کے وقت اور ماحول کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جاتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم خوبیوں کو منتقل کرتے ہیں اور پرانے تعلقات سے نئے تعلقات کو دوبارہ تخلیق کرتے ہیں ، اور ہمیشہ ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کو اپنا لیتے ہیں.

    3. مستقبل کے تنازعات کو حل کرنے کے منصوبے۔
    ماہر آپکو یہ بھی سمجھاتا ہے کے "اگر کوئی جوڑا آزادانہ طور پر کسی بھی موضوع پر بات نہیں کر سکتا ، چاہے کتنا ہی ذاتی ہو یا مشکل تو اس کے لیے ایک اچھی زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اچھی پر سکون زندگی کے لیے شادی شدہ جوڑے کا آپس میں مشاورت کرنا ضروری ہے، شادی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے شادی کی مشاورت اگر آپ مشورہ نہں کرنا چاہتے اپنے ساتھی کے ساتھ تو شادی کی کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں یے ایک اہم پہلو ہے.

    ماہر کے مطابق شادی میں خوش رہنے کا طریقہ
    4. پیسے کا مناسب انتظام۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ شادی کو آباد اور برباد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اس کے مناسب انتظام مستقبل میں ہونے والی مالی لڑائیوں کو روک سکتا ہے ، آپ شادی سے پہلے کی مشاورت میں اپنے پیسے کے تمام خیالات کو سامنے رکھیں گے۔ اور اپنے ساتھی اپنی سہی حالات سے صحیح طرح آ گا ه رکھیں ایک صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ایک کی پیسے کی کہانی ، ماضی اور حال کی مالی تاریخ اور مستقبل کے مشترکہ اہداف اور ارادوں کے بارے میں واضح ہونا جوڑے کو اس مشترکہ تعلقات کی خرابی سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔

    5. مباشرت / جنسی تعلق کے مسائل سے بچنا۔
    پیسے کی طرح ، مباشرت /جنسی تعلق انتہائی ذاتی ہے ، اور زیادہ تر جوڑے شادی کے کسی موقع پر مباشرت /جنسی تعلق کے مسائل میں پڑ جاتے ہیں.اس کے بارے میں بھی ماہر جوڑوں کو گائیڈ کرتا ہے.

    6. صحت مند ماحول کو فروغ دینا۔
    کھلی اور براہ راست بات چیت کسی بھی تعلق کے کلیدی اجزاء ہیں ، خاص طور پر اگر آپ اور آپ کے ساتھی کے پاس بات چیت کے مختلف طریقے ہیں۔ شادی سے پہلے کی مشاورت آپ کے انداز کو دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور وہ آپ کی شادی کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔اگر آپ کا ساتھی صحت مند ہے اور مناسب طریقے سے غصے کا اظہار کرتا ہے لیکن غصہ آپ کے لیے چار حرفی لفظ ہے تو پھر بات چیت میں ایک مسئلہ بن جائے گا۔تو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا نہایت اہم ہے.

    شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت آپکو کئی قسم کے مسائل سے بچا سکتی ہے آپ بچوں کے بارے میں بھی مشاورت کر سکتے ہیں شادی سے پہلے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کتنے بچے چاہتے ہیں اپنے ماہر سے بات کریں ، والدین کے شادی کے بعد کے انداز ، خاندانی میں ایک نئے فرد کی شمولیت اور بہت کچھ کے بارے میں بات کر سکتے ہیں اس زریعے سے جوڑوں کو مسائل کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے میں ان کی اور ان کی شادی کو بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    @salmabhatti111

  • کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟   تحریر: چوہدری عطا محمد

    کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟ تحریر: چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دو یا تین سالوں سے اسلام آباد سے شروع ہوتا ۂوا عورت مارچ کا شور اب ملک کے مختلف حصوں میں پھلایا جا رہا ہے اب یہ عورت مارچ رفتہ رفتہ موضوع بحث بنتا جارہا ہے۔ عورت مارچ کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے عورت مارچ سمیت کسی کوئی بھی تحریک ہو یا مارچ یا اجتماع یا پھر جلسہ جلوس وغیرہ ان سب میں شمولیت و عدم شمولیت اور حمایت و مخالفت کےلیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس مارچ یا جلسہ جلوس یا اجتماع کے مقاصد، اس کے منشور اور اس کے رجحانات اور سرگرمیوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس جائزہ پر مبنی تجزیہ کی روشنی میں اس طرح کے مارچ جلسہ جلوس یا اجتماع سے اتفاق و اختلاف یا شمولیت و عدم شمولیت کا فیصلہ کیا جانا چائیے اب تک ہونے والے عورت مارچ کے متعلق میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہہ اس پورے مارچ کے اندر عورت کے جو اصلی حقوق ہیں اس بارے میں تو کسی بھی قسم کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہمارے دور دراز علاقوں میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو جو مسائل زندگی میں درپیش ہیں جن کو سامنے لانا ہمارے معاشرہ کی سب سے پہلی زمہ داری ہے اسکا تو کوئی کہیں دور دور تک زکر ہی نہیں ہے اگر عورت کے مسائل کی بات کی جاۓ تو عورت کے بنیادی مسائل تعلیم، غربت، جہالت، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور ہراسگی تیزاب گردی ہے ہماری ماؤں بہنوں کو آج بھی قاتل کے لواحقین اور مقتول کے لواحقین کے درمیان صلح کے لئے بہن بیٹیوں کے رشتہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور اس نام نہاد صلح کی بھینٹ کوئی بہن یا بیٹی چڑھ جاتی ہے آپ زرا غور کیجیے گزشتہ دو یا تین سالوں سے نکالے جانے والے عورت مارچ کے جلوس کی تقاریر یا ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوۓ پلے کارڈ میں کوئی ایک بھی فقرہ عورت کے اصل حقوق کی نشاندہی کر تا ہے کیا اگر آپ انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے تو آپ کا جواب ہوگا نہیں ایسا کوئی فقرہ تقاریر یا پلے کارڈ میں بلکل بھی شامل ہی نہیں ہے آپ خود ہی فیصلہ کریں کہہ یہ عورت مارچ کن حقوق کی بات کر رہا ہے معزرت کے ساتھ عورت مارچ کے نعرے سوشل میڈیا پر سننے کو ملے وہ تھے عورت کیا مانگے آزادی تیرا باپ بھی دے گا آزادی ہم لے کے رئیں گی آزادی ہم چھین کے لیں گے آزادی ہے حق ہمارا آزادی اس طرح کے نعروں کے بعد سب سے پہلا جو سوال زئین میں آتا ہے وہ یہ ہے کہہ ہمارے یہ بہنیں بیٹیاں کس چیز کی آزادی مانگ رہی ہیں کس سے آزادی مانگ رہی ہیں کیا جب وہ پیدا ہوئی تو باپ کے شفقت بھرے سر پر رکھے ہوۓ ہاتھ سے آزادی مانگ رہی ہیں یا پھر بھائی سے آزادی یا پھر جب شادی ہوگئ تو اپنے محافظ یعنی شوہر سے آزادی یہ عورت مارچ کی ہماری بہنیں بیٹیاں کس سے اور کیسی آزادی چائیتی ہیں
    اسلام نے عورتوں کو کتنا تحفظ دیا کتنی عزت اور تکریم دی کتنا بلند مقام دیا اس کا تصور بھی کسی اور مزہب میں ممکن ہی نہیں اسلام نے عورت کو پہلے بیٹی کی شکل میں والد کے لئے رحمت کہا اور باپ کو اس کا محافظ بنایا زرا بڑی ہوئی تو بھائی کی شکل میں اسکو ایک اور محافظ مل گیا جب شادی ہوئی تو ایک شوہر کی شکل میں محافظ عطا کر دیا پھر جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس بیٹے کے لئے جنت ماں کے قدموں تلے ہیں جنت کا حصول ماں یعنی عورت کی خدمت میں ہے۔ تو زرا سوچو میری عورت مارچ کی بہنوں بیٹیوں آپ کو کس قسم کی آزادی اور کس رشتہ سے آزادی چائیے۔ اگر مغرب کی بات کریں تو ادھر عورت کو اپنے زاتی استعمال کے لئے بھی خود سے مخنت مشقت کرنا پڑتی ہے مثلاً ادھر عورت جاب کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتی ہمارے ہاں عورت کے تمام اخراجات اور ضروریات کا پہلے باپ۔ پھر۔ بھائی۔ پھر شوہر۔ اور پھر بیٹا زمہ دار ہوتا ہے میں کہیں پر بھی عورت کی ملازمت کی مخالفت نہیں کر رہا آج ہمارے بہن بیٹیاں زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور اس پر ہمیں فخر بھی ہے کہہ ہماری بہنیں بیٹیوں کا ملک کی ترقی اور معیشت میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردو کا ہے
    اگر آج کے حالات کا غور و فکر سے اندازہ لگا جاۓ تو ہمارے معاشرہ کے اندر سارے مسائل اور تمام خباسط کی محض اسلئے پائی جاتی ہیں کہ لوگ قرآن مجیدسے دور ہیں اور اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔ اور اس معاملہ میں ہماری بہنیں بیٹیاں بہت پیچھے ہیں۔ جب ایک عورت قرآن کریم کی تعلیمات سے واقف ہوگئ اور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے اس کو کیا زمہ داری سونپی ہے تو پھر لازم سی بات ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات کی روشنی میں کرے گی ہمارے خواتین اب ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اِن خواتین کو قرآن فہمی کے میدان میں بھی آگے آنا ہوگا تاکہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں،اپنے حقوق کی صیح معنوں میں جنگ لڑ سکیں اور نئی نسل کی اخلاقی اصولوں پر تربیت کرکے
    ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
    میری باتوں سے اتفاق یا اختلاف کا تمام لوگوں کو مکمل اختیار ہے یہ سب میری زاتی سوچ سمجھ ہے آپ اسپر اپنی زاتی راۓ کا مکمل حق رکھتے ہیں
    اللہ سبحانہ تعالی ہمیں دین اسلام کو سمجھ کر سنت نبوی صلى الله عليه وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین۔

    @ChAttaMuhNatt

  • حقوقِ نسواں  تحریر: تحریر عبید الله

    حقوقِ نسواں تحریر: تحریر عبید الله

    کسی بھی موضوع پر گفتگو سے پہلے اس کی بنیاد جاننا لازمی ہے۔
    حقوق سے مراد وہ بنیادی معاشی، معاشرتی، اخلاقی، دینی اور حکومتی و قانونی
    اصول ہیں جن کے میسر ہو نے سے کوئی بھی فردِ واحد معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ حقوق نسواں سے مراد وہ تمام حقوق ہیں جو کہ اسلام اور عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آئین پاکستان میں درج ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو بنانے اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے کےلیے مرد اور عورت دونوں کی برابر کی کاوشیں لازم ہیں۔ اگر معاشرے کو ہم ایک موٹر سائیکل سے تشبیہ دیں تو مرد اور عورت اس کے دو پہیے ہیں اگر ان میں سے ایک پہیہ میں خرابی آئے تو دوسرا بھی اس سے متاثر ہوتا ہے اور نتیجتاً موٹر سائیکل منزل تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی رک جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر مرد اور عورت دونوں اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام نہ دے سکیں تو معاشرے ترقی اور خوشحالی کی بجائے انتشار اور بے راہ روی کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں اس لیے دونوں کے حقوق اور کردار سے انکار ممکن نہیں۔
    عورتوں کے حقوق سےانکار ممکن نہیں کیونکہ عورت کے حقوق اور اکرام تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے اپنی کتاب میں شامل فرما دیےاورہر لحاظ سے عورت کو صاحب عزت قرار دیا۔ اگر وہ ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت رکھ دی، بیٹی ہے تو نعمت قرار دیا، بہن ہےتو غم خواراور جائیداد میں حصہ دار اور بیوی ہے تو لباس اور باعثِ سکون قرار دیا۔ اسی طرح اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ووٹ دینے اور شہری ترقی میں حصہ لینے کا حق بھی دیا ہے۔ سیاست یا سوشلائیز ہونے کا بھی حق دیا ہے اس کے باوجود آجکے جدید دور میں بھی مرد حضرات عوامی بسوں میں خود کھڑے ہوکر عورت کو جگہ دیتے ہیں اور اس بات سے کون قطع نظر ہے۔ ہماری سڑکوں پر چلنے والی بسوں میں سوار نوجوان آج بھی اس سیٹ پر نہیں بیٹھتے جس کے ساتھ والی سیٹ پر عورت بیٹھی ہواور بے شک اس سب میں بھی قابل تحسین ہیں وہ مائیں اپنے بچوں کی تربیت یوں احسن طریقے سے کر رہی ہیں لیکن افسوس آج عورت کے حقوق کے نام پر ایسے لبرل حضرات آگے آرہے ہیں جو گو کہ مرد اور عورت دونوں کے لباس میں ہیں لیکن وہ عورت کے حقوق اور تقدس سے دور اور نا واقف ایسے بے حیائ پر مبنی نعرے لگاتے ہیں کہ باعزت گھرانوں کے مردوخواتین سن کر شرم کے مارے پانی پانی ہو جائیں۔ گوکہ یہ لبرلز تعداد میں تھوڑے ہی سہی(آٹے میں نمک)، لیکن مرد اور عورت کے نام پر دھبہ اور معاشرے کے لیے ناسور ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی معصوم بیٹیوں کو اس نظامِ الٰہی سے متنفر کرنے کی کوشش میں ہیں کہ جس نے ایک ایسے وقت میں جب عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں کو قابل منتقلی جائیداد سمجھا جاتا تھا تو اسلام نے معاشرے میں عورتوں کو عزت دی اور انہیں بے مثال حقوق سے تحفظ دیا۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم، اپنی پسند کے کسی سے شادی کرنے، شادی کے بعد اپنی شناخت برقرار رکھنے، خلع لینے، کام کرنے، جائیداد کی ملکیت اور فروخت کرنے، قانون کے ذریعے تحفظ حاصل کرنے، معاشرتی معاملات میں حصہ لینے کا حق دیا ہے۔ جس نے عورت کو اس قدر حقوق سے نوازا اس باپ بھائی کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل ہیں۔ جو کہ ہمہ وقت اپنی بہن بیٹی کے ناز و نخرے اٹھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
    اگراس موضوع پر لکھنا شروع کیا جائے تو شاید الفاظ اور اوراق ختم ہو جائیں لیکن موضوع پھر بھی سمندر کو کوزے میں بند کر نے کے مترادف ہے لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مرد و عورت کی بقا دین اسلام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔

    @ObaidVirk_717

  • طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    ‏پرانے زمانے میں طلاق کی شرح کم اور آج کل روز بروز بڑھتی جارہی ھے تو کوٸی بیوی کو بد زبان، بد اخلاق، نافرمان، کہتا ھے، لیکن یہ ایسا ہر گز نہیں ھے اس کی ایک وجہ بیوی کےحقوق اور دوسری وجہ بچوں کے مرضی کے بغیر شادی کرنا، آج کل تعلیم بہت عام ہو چکی ہے ہر عورت تعلیم یافتہ اور باشعور ہے ہر عورت اپنےحقوق جانتی ہے، لیکن بہت سے مرد ایسے ھے جو بیوی کے حقوق سے نا واقف ہیں، وہ بیوی کو اسکا حق تو دے نہیں سکتے لیکن بیوی کی توجہ چاہتا ہیں اوربیوی سے نوکرانیوں کی طرح خدمت کرواتے ہیں ، لیکن عورت اپنے حق پر ڈٹی رہتی ھے، مرد کو توجہ نہیں دیتی، تو یہ مرد کی انا کا مسلہ بن جاتا ھے اور مرد جزبات میں آکے ایسا فیصلہ کرتا ھے. جزبات کے فیصلوں کے نتاٸج بہت سنگین ہوتے ھیں، بات دشمنی تک بھی جا سکتی ھے، اور دشمنی میں دو خاندانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ھے۔ اگر مرد ایسے فیصلے کرنے سے پہلے جزبات سے نہیں صبر سے کام لے اور بیوی کو اپنا حق وقت پر دیا جاۓ تو بہت نقصان سے بچ سکتے ہیں ۔طلاق کا نقصان صرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو اور بچوں کو بھی ہوتا ہے۔عورت کو طلاق کے بعد یا تو بدکردار کہہ دیا جاتا ہے یا معاشرے میں اس کی رسواٸی ہوتی ہےلیکن مرد کے لٸے یہ خاندانی دشمنی کا جواز بھی ہو سکتی ہے اور بچوں کی تربیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔کیونکہ بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے بچوں کی تربیت ماں کے گود میں ہوتی ہےاور صرف والدین ہی ھیں جو بچوں کو اچھی تربیت دے سکتے ھیں ایسے فیصلوں سے بچوں کا مستقبل بھی برباد ہوتا ھے۔ بہت سے لوگ کہتے ھیں یہ کاغذی رشتہ ہے ایسا رشتہ ٹوٹ بھی سکتا ھے۔ نکاح سنت ھے (حدیث مفہوم ھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت سے منہ موڑے اس کا مجھ سے کوٸی تعلق نہیں اس کے حوالے سے فیصلے جذبات میں نہیں بلکہ حوصلے اور تحمل سے کرو ۔بیوی کو سمجھو کہ وہ کیا چاہتی ہے، بیوی کو پیار اور عزت دو۔ عورت صرف عزت اور پیار کی بھوکی ہوتی ہے اور کسی چیز کی بھی نہیں ۔بیوی کبھی بھی شوہر کا نقصان نہیں چاہتی۔
    ایسے لوگ بھی ہیں جن کی طلاق کی وجہ دوسری شادی ہوتی ہے تو کہتے ہیں اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ھے۔ بےشک اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ہے لیکن اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ پہلی والی کو طلاق دو ۔یہ شرط بھی نہیں ہے کہ دوسری شادی یا تیسری شادی کسی کنواری لڑکی سے کرو۔ چار کی اجازت ھے لیکن اس میں طلاق یافتہ عورتیں، بیوہ عورتیں ،عمر میں بڑی یا چھوٹی عورتیں سے شادی کرنے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کو انکی زندگی گزارنے میں جو بنیادی ضرورتیں درکار ہیں فراہم ہو سکیں۔شرط یہ بھی ہےکہ سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہٸیے۔ میرا اس تحریر کا صرف یہ مقصد ہے کہ یہ فلمی اور ڈراماٸی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف آٶ ۔ایک چھوٹی سی بات کو اپنی انا کا مسلہ مت بناٶ۔اپنے جزبات پر قابو رکھ کر فیصلے کرو۔
    اپنا اور اپنے بچوں کےمستقبل کے بارے میں سوچوں۔ والدین کو چاہٸیے کہ رشتہ طے ہونے سے پہلے اپنے اولاد کی رضامندی پوچھیں۔ زندگی بہت قیمتی ہے اس کو ایسے فیصلوں سے برباد مت کرو۔اپنے رشتے مضبوط کرو۔ اپنے رشتوں کو کمزورہونے سےبچاٶ ۔اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارو کسی تیسرے کے باتوں پرکان مت دھروں،کیونکہ اگر بیوی کو اسکاحق ملے تو وہ شوہر کو ،اپنے بچوں کو اور گھر کو توجہ دے گی ۔اگر بیوی گھر کے کسی فرد جیسے ساس، دیور، نند سے بد زبانی کرے یا نافرمانی کرے تو فیصلے کرنے سے پہلے دونوں کی طرف سے دلاٸل سن لو اور خود کو اور اپنی نسل کو نقصان سے بچاٶ۔ اللہ ہم سب کو ایسے نقصانات سے بچاۓ ۔آمین
    @Munn_wajji (rtwitter)

  • عورت مارچ اور چند حقائق تحریر  : راجہ حشام صادق

    عورت مارچ اور چند حقائق تحریر : راجہ حشام صادق

    دین اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورت کو اس کے حقوق دے دیئے ہیں آج کل کے یہ عورت مارچ جن حقوق کے لیے گھروں سے نکل رہی ہیں وہ دین اسلام کے نہ تو بنیادی حقوق ہیں نہ ہی اسلام نے عورت کو اتنی آزادی کی اجازت دی ہے۔ باپ بھائی بیٹے اور شوہر کی صورت میں قابل عزت رشتے عورت کے محافظ اور طاقت ہوتے ہیں

    سب سے پہلے تو ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اور ملک پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس بنیاد پے بنا تھا یہ ملک

    ہم سب جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں کی خواتین باحیا ہیں الحمدللہ دین اسلام کے بتائے گئے اصولوں پر زندگی گزارتی ہیں ۔ عورت مارچ کو سڑکوں پر نکلنے اور حقوق کے لیے احتجاج کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کہیں نہ کہیں ہمارے قانون کا بھی ہاتھ ہے۔

    بہت سارے ایسے واقعات ہوئے ہیں جس سے عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ غیر محفوظ ہے۔وہ شاید سمجھتی ہے کہ یہاں دوندا صفت انسان بستے ہیں اور جنگل کا قانون ہے یہاں۔
    بہت سے ایسے واقعات جس میں معصوم بچیوں کا ریپ کیا گیا ہے یا پھر دفاتر اور مختلف ایسی جگہیں جہاں مرد و خواتین ایک ساتھ کام کرتے ہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت پھر بغاوت کرنے پے اتر آتی ہے کچھ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار تو بچوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کرتے پائے گئے سکولز اور یونورسٹیز میں بھی کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی

    قارئین اس عورت مارچ کے حوالے سے ہمارا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن اس کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔
    جنگل کا قانون تو ٹھیک ہے مگر کہیں نہ کہیں مرد حضرات بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں
    معاشرے میں بسنے والے مردوں کا منفی رویہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے جہاں ایک طوائف کو بدکردار کہا جاتا ہے۔ اور اسے پورے معاشرے میں کوئی عزت نہیں دی جاتی لیکن اس کے پاس جاتا کون ہے اس معاشرے کے باعزت کہلانے والے افراد اور پھر ان کی اونچی شان اور عزت میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

    کیا اس معاشرے میں بغاوت کی ذمہ دار صرف عورت ہے؟
    ایک جنگل کا قانون اور دوسرے وہ مرد بھی برابر کے مجرم ہیں جو عورت کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے ہیں
    اور ان کو غلط راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرتے ہیں کوئی بھی عورت باغی پیدا نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے رویے اور بنائے گئے حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں اس مارچ پے تنقید کرنا اور اسے روکنا ہمارا فرض ہے۔

    ہمیں بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ معاشرہ صرف مردوں کا نہیں اس میں جو حقوق دین اسلام نے عورت کو دیئے ہیں اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور قانون کے رکھوالوں سے بھی گزارش ہے کہ یہ لا قانونیت کا دبہ اپنے اوپر سے اتار پھینکیئے اور مدینہ جیسی ریاست کو بنیاد بنا کر اس ماڈل کی ریاست بنانے کے بارئے قانون بنائے

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • قبرستان میں سونے والی خاتون اور ہمارا معاشرہ تحریر : عروج منطور

    میں پولیس اسٹیشن میں تھا ۔ وہاں کا تھانیدار میرا دوست ہے ۔ باتیں کرتے کرتے وہ اپنا کام بھی نمٹا رہا تھا ، وہاں آئی ایک سائل خاتون کی بات سن کر میں چونک گیا ۔وہ کہہ رہی تھیں میں ہر رات قبر میں لیٹ کر سوتی ہوں ۔
    میں نے ان سے کہا اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ معلوم ہوا خاتون کے شوہر وفات پا چکے ہیں ۔ وہ گھر میں تنہا ہوتی ہیں ۔ کہنے لگیں قبر اور کمرے میں فرق ہی کیا ہے ، چاروں طرف دیواریں اور اوپر چھت ۔ لائٹ بند کر کے میں باقاعدہ نیت کرتی ہوں کہ مر گئی تو یہی میری قبر ہے ،24 گھنٹے تسبیح ہی کرتی رہتی ہوں ۔ اس کہانی میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی
    ان خاتون کو یقین تھا کہ ان کے رشتہ دار انہیں قتل کر کے ان کے مکان پر قبضہ کر لیں گے ۔ خاتون چاہتی تھی کہ وہ مر جائے تو اسی مکان کو اس کی قبر ڈکلیئر کر دیا جائے ۔ اپنی ذات میں ولی ہونے کے زعم کے ساتھ ساتھ ان کا حسد اور انتقام اس سطح پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتی تھیں ۔
    خاتون کے بچے بیرون ملک تھے اور واپس آنے کو تیار نہیں تھے۔خاتون مکان چھوڑ کر بچوں کے پاس جانے پر آمادہ نہیں تھیں ۔انہیں ڈر تھا کہ وہ گئیں تو مکان پر قبضہ ہو جائے گا ۔ وہ یہ مکان بیچنے پر بھی آمادہ نہیں تھیں۔ تھانیدار نے ان کے رشتے داروں کو بھی بلا لیا ۔انہوں نے کہا کہ خاتون کے وہم کا علاج کچھ نہیں ۔دو ماہ پہلے تک خاتون کے تمام اخراجات ہم اٹھاتے تھے ،اب بھی راشن پانی کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ خاتون کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،ہمارے بھائی کی بیوہ ہے ۔ پہلے یہ مکان خاندانی جائیداد میں تھا ،ہم نے ہی حصے کر کے خاتون کے نام یہ مکان کروایا تھا ۔ جیسے ہی مکان خاتون کے نام ہوا انہیں وہم ہو گیا کہ اس مکان پر یہ رشتے دار قبضہ کر لیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔
    ان کے دیور بڑی سے بڑی قسم اور گارنٹی دینے کو تیار تھے، ان کے اپنے ذاتی گھر اور کاروبار تھے لیکن خاتون کا اصرار تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہوا تو پرچہ ان کے دیوروں کے خلاف کاٹا جائے اور ان کے گھر کو قبر ڈکلیئر کیا جائے ۔
    وہ اپنے ممکنہ قتل کی ایڈوانس درخواست اور وصیت لکھ کر لائی تھیں۔ یہ ایسی درخواست تھی جو قتل ہونے والا ایڈوانس میں اپنے دستخط کے ساتھ تھانے جمع کروا رہا تھا اور فوری پرچہ دینا چاہتا تھا
    یہ کہانی صرف اس خاتون کی نہیں ہے ۔ ہم میں سے اکثر نفسیاتی طور پر ایسے ہی ہو چکے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے ہماری چھوٹی سی خوشی سے بھی باقی سب جل جاتے ہیں ، حسد کرتے ہیں اور ہمارے خلاف انتقامی باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی روٹین میں معمول کی بات کرے تو ہمیں لگتا ہے ضرور یہ اشارہ ہماری جانب ہے ۔
    یہ رویہ ہمیں آہستہ آہستہ نفسیاتی مریض بنا رہا ہے ،ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے سمیت 21 کروڑ لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں
    آگہی کے ایک خاص لمحے اس درویش کو ادراک ہوا تھا ۔اس دنیا میں اہم اب کوئی بھی نہیں رہا ۔کسی کے چلے جانے سے نہ تو دنیا کا کاروبار رکتا ہے اور نہ کسی دفتر کا نظام ٹھہرتا ہے ۔یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہے اور ہر سیر کو سوا سیر میسر ہے ۔
    کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ دوسرے کی خوشی سے جلے اور اگر کوئی حسد کرتا بھی ہے تو اس پر توجہ دینا بےوقوفی اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے خوش رہنے کا راز پایا ۔ میں نے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دی ۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ اس دنیا کے لیے میں اتنا اہم نہیں ہو سکتا کہ کوئی اپنے کام چھوڑ کر مجھ سے حسد کرے گا یا میری خوشیوں سے جلے گا ۔ اگر ایسا محسوس بھی ہو تو میں اسے نظر انداز کرکے مسکراتا ہوا گزر جاتا ہوں ۔میں اب ایسی ٹینشن پالنے کا قائل نہیں جس کا انجام کچھ نہ ہو ۔
    آپ اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف کشید کیجیے ۔ لمحہ موجود میں خوش رہنے کا ہنر سیکھیں ۔ اپنی خوشیوں کے لمحے یہ سوچ کر برباد نہ ہونے دیں کہ کون کون جل رہا ہو گا اور کس کس کو جواب دینا ہے ۔
    یاد رکھیں ایک ہی کام کچھ لوگوں کے نزدیک درست ہو گا اور کچھ کے نزدیک غلط ہو گا ۔آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔آپ نے صرف اپنے ضمیر کو خوش رکھنا ہے ، کیا درست ہے اور کیا غلط یہ اپنے ضمیر سے پوچھیں اور پھر ثابت قدم رہیں ۔
    اپنی نجی خوشیوں کو دکھاوے میں بدلنے کی بجائے اپنی یادوں کا حصہ بنائیں ۔ تصاویر ضرور بنائیں لیکن اتنی نہیں کہ اپنی آنکھ کو براہ راست نظارے سے محروم کر کے وہی منظر لینز سے دیکھتے رہیں ۔
    یقین مانیں زندگی بہت خوبصورت ہے ،محبت کرنے والوں کے لیے تو بہت ہی خوبصورت ہے لیکن یہ خوبصورتی اس وقت اذیت میں بدل جاتی ہے کب آپ اپنے آپ کو نیشنل ہیرو سمجھنے لگتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوشی سے باقی سب کو جلن ہو رہی ہے آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس جلن کا جواب سوچنے لگتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت وہ خاص لمحہ آپ کی مٹھی سے پھسل جاتا ہے جو آپ کے لیے باعث تسکین ہونا تھا

    Twitter ID: @AroojKhan786

  • بیٹیاں رحمت ہی رحمت  تحریر: چوہدری عطا محمد

    بیٹیاں رحمت ہی رحمت تحریر: چوہدری عطا محمد

    اللہ سبحانہ تعالی نے بنی نوع انسان کو جہاں کروڑوں رحمتوں اور نعمتوں سے نوازہ ہے ان رحمتوں میں سے ایک رحمت اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے انسان کو بیٹی سے نواز نے کی ہے بیٹی ہر گھر کا مقدر نہیں ہوتی جس گھر پر اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے خاص رحمت ہوتی ہے اسی گھر میں اللہ سبحانہ تعالی بیٹی جیسی رحمت عطا کرتے ہیں ہمارے مذہب اسلام کی بات کی جاۓ تو ہمارے دین میں بیٹی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے بیٹیاں اللہ کی رحمت تو ہیں ہی وہی پر بیٹیاں اپنے والدین کے لئے دوزخ سے نجات کا باعث بنتی ہیں اور جنت کے حصول کا زریعہ بھی بنتی ہیں اللہ سبحانہ تعالی نے اقوام عالم میں ایسا نظام بنایا ہے کہہ یہ نہ تو عورتوں کے بغیر مکمل ہوتا ہے اور نہ یہ دنیا کا نظام مردوں کے بغیر ہی مکمل ہوتا ہے آدی لئے قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کیلئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے گو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرما دیتا ہے(سورۃ شوریٰ)
    یعنی اس ارشاد باری تعالی سے صاف بات پتہ چلتی اللہ سبانہ تعالی جس کو جب چاۓ اور جو چاۓ عطا فرماۓ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زرا مختلف سوچ کے حامی لو گ پاۓ جاتے ہیں می عام روایت کی بات کر رہا ہوں جیساکہہ ہمارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو بہت خوشیاں منائی جاتی مبارک باد دی جاتی۔ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی جشن مناۓ جاتے لیکن اس کے برعکس جب بیٹی پیدا ہوتی تو سارے خاندان میں خاموشی چھا جاتی سب مایوس نظر آتے ایسا محسوس ہوتا ادھر اللہ کی رحمت نہی جیسا کہ خدانخواستہ کوئی عزاب آگیا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو کچھ ایسے قبیلے اور رشتہ دار بھی ہوتے جو بیٹی کی پیدائش پر رشتہ تک ختم کر دیتے خاوند اپنی زوجہ محترمہ کو چھوڑ دیتا اور بیٹی کی پیدائش کا زمہ دار گہنگار اپنی ہی بیگم کو ٹھہراتا اور اللہ سبحانہ تعالی کے قرآن کریم میں ارشاد تک کو ہی بھول جاتا ان سب کی بڑی وجہ ہماری ہمارےپیارے دین سے دوری کی ہے دین سے دوری کی وجہ سے ہی ہمارے اخلاقی معاشرتی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے اگر آج کے ترقی یافتہ دور کی بات کی جاۓ تو بیٹیاں کسی بھی میدان میں بیٹوں سے پیچھے نہی بلکہ ان کے شانہ بشانہ اور ان سے آگے بڑھ رہی ہیں بیٹیاں بیٹوں کی بنسبت کئ گناہ بڑھ کر اپنے والدین کی خدمت کرتی ہیں اپنے والدین کا بڑھاپے میں سہارا بنتی ہیں اسی وجہ سے آج ہمیں ہر شعبہ ہاۓ زندگی چاۓ میڈیکل ہو یا فوج پولیس ہو یا ٹیلی کمیونیکشن آپ کو ہر جگہ لڑکیاں نظر آئیں گی ایک اور بات لڑکیوں میں مقابلہ کرنے کی قوت بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتی ہے لڑکیاں زیادہ مشکل حالات کا مقابلہ صبر واستقامت سے کر سکتی ہیں
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، یا اللہ جب آپ اپنے بندے پر مہربان ہوتے ہیں تو کیا عطا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر شادی شدہ ہو تو بیٹی عطا کرتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر کہا جب زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا تو میں دوسری بیٹی عطا کرتا ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر سب سے زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیسری بیٹی عطا کرتا ہوں اور فرمایا کہ جب میں اپنے پیارے بندے کو بیٹا عطا کرتا ہوں تو اس بیٹے کو بولتا ہوں جاؤ اور اپنے باپ کا بازو بنو اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں تو مجھے اپنی خدائی کی قسم کہ میں اس کے باپ کا بازو خود بنوں گا۔
    اس سے ثابت ہوا کہہ بیٹیاں اللہ پاک کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہیں اور ہمیشہ ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھا جانا چائیے ویسے بھی ہمارے ہاں بیٹیاں اپنے بابا کی پریاں بھی ہوتے بابا کی آنکھوں کی چمک اور بابا کے دل کی دھڑکن ہوتی اور والدین بیٹی کی پیدائش سے ہی اپنی بیٹی کے لئے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں مانگتے رہیتے اللہ سبحانہ تعالی ہر بیٹی کے مقدر خوبصورت بناۓ یہی ہر والدین کی خواہش ہوتی
    بیٹیاں ہر گھر کی گڑیا ہوتی رونق ہوتی اور اپنے بابا کے لئے کسی بھی قیمتی زیور سے کم نہی ہوتی ہیں ۔اگر بیٹی باپ کے گھر میں ہوتی ہے تو رحمت ہوتی ہے شادی شدہ ہوتی ہے تو آگے جا کر کسی کے بچوں ماں یعنی جنت بنتی ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالی کے حکم ہے جنت ماں کے قدموں میں ہے اور یاد رکھیں ماں ایک بیٹی بنتی ہے۔ہمیں سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو رحمت سمجھیں گے، اور ہمیشہ بیٹیوں کی ولادت پر بھی ایسے ہی خوشیاں منائیں گے جس طرح بیٹوں کی ولادت پر مناتے ہیں ہماری بیٹیاں ہماری بخشش کا ساماں ہیں ، اللہ پاک تمام بیٹیوں کے مقدر خوبصورت بناۓ آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    پاکستان میں مڈل کلاس عورت کو اک انسان نہیں اک روبوٹ کنسیڈر کیا جاتا ہے جس کا ریموٹ سوسائٹی ہوتی ہے۔ اگر اک مڈل کلاس لڑکی کی زندگی میں آنے والے چیلنجز کی بات کی جائے تو سب سے بڑا چیلنج اس کی زندگی میں سوشل پریشر ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کی ساری کہانی صرف اک فقرے کہ گرد گھومتی رہتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ حتی کہ وہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرتے بھی 10 ہزار دفعہ سوچتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ مڈل کلاس لڑکی وہ کھلونا ہے جس کہ انچارج اس کہ ماں باپ سے لے کر معاشرے کا ہر وہ فرد ہے جس سے اس کا کوئی خونی یا جذباتی رشتہ ہو گا۔ مڈل کلاس لڑکیاں وہ کٹھ پتلیاں ہیں جو خوف سے بھر دی گئی ہیں۔ زندگی کہ چھوٹے سے بڑے فیصلے کہ لیے انہیں گھر کہ مردوں پہ یقین کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں گھروں میں پیدا ہوتے ہی یہ درس دیا جاتا ہے کہ ان کہ ماں باپ اور ان کا معاشرہ ہی ان کہ لیے سب کچھ ہے۔ اب اگر بات کی جائے مڈل کلاس لڑکی کی تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی کی تو اس کا تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی بھی اس کے گھر کے سیٹ کردہ اصولوں اور معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں پہ گزرے گی۔ اگر وہ اپنی کوئی خواہش ظاہر کرے گی تو معاشرہ اسے بدکردار اور بد چلن اور اس کی فیملی کہ لیے باعث شرمندگی ہو گی۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کی زندگی کہ سب سے اہم فیصلوں کا پوچھا جائے تو اس کا جواب ہوتا ہے جیسے میرے بڑے کہیں گے میں ویسے ہی کروں گی۔ مڈل کلاس فیملی کی لڑکی کہ لیے کپڑوں سے لے کہ زندگی کہ بڑے بڑے فیصلوں میں اس کی اپنی رائے اور صحیح اور غلط کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ اب آجاتے ہیں مڈل کلاس لڑکی کی رخصتی پہ ،گھر سے رخصت ہوتے اس کہ ماں باپ اور معاشرہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ تمہارا جنازہ ہی اس گھر سے نکلنا چاہیے اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ مڈل کلاس لڑکی اس خوف سے تشدد برداشت کرتے کرتے درحقیقت جنازہ نکالتی ہے اپنا۔ پیدا ہونے سے جوانی تک اس کا ریموٹ اس کہ اپنوں اور معاشرہ کہ پاس ہوتا ہے اور پریکٹیکل زندگی میں داخل ہونے کہ بعد اس کا ریموٹ اس کہ سسرال اور خاوند کہ ہاتھوں میں جاتا ہے۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کہ حقوق کا پوچھا جائے تو یہ جواب ملتا ہے کہ میرے ماں باپ کو پتہ ہو گا۔ میری اس تحریر کو پڑھنے کہ بعد بھی بہت سی مڈل کلاس لڑکیاں مجھے برا بھلا کہیں گی کیونکہ ان کے مائنڈ ایسے بلڈ کیے گے کہ وہ خود بھی کانفڈنٹ اور بولڈ لڑکیوں کہ خلاف بولتی ہیں۔ میں اس میں بھی انہیں قصور وار نہیں سمجھتی کیونکہ مڈل کلاس لڑکیاں خود کو وہ انسان سمجھنے میں فخر محسوس کرتی ہیں جو دن رات معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ تابع رہنے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی اس تحریر میں بس وہ مسائل اجاگر کیے ہیں جو روزمرہ زندگی میں مڈل کلاس لڑکیوں کو پیش آتے ہیں۔ میں اپنی اس تحریر پڑھنے والے ہر انسان سے یہ ریکوسٹ کروں گی کہ مڈل کلاس لڑکیاں بھی جیتے جاگتے انسان ہیں انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی اور اللّٰہ کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ مطابق زندگیاں گزار سکیں نہ کہ کٹھ پتلیاں بن کہ۔
    @KhatoonZobia

  • خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟   تحریر: محمد اختر

    خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟ تحریر: محمد اختر

    ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین کی آبادی کا تخمینہ 50%ہے اور معاشرے میں عصمت دری، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل، تیزابی حملوں، گھریلو تشدد، جبری شادیاں اور خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات حیرت زدہ ہیں۔ ریاست پاکستان میں خواتین تحفظ ہمارے اداروں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالیہ واقعات سے بحث و مباحثہ زندگی اوربرابری کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے میدان سے ہٹ گیا ہے، اور انسانی سلامتی کے ان بنیادی اصولوں کی طرف گامزن ہے جو خوف، آزادی، استحصال سے آزادی، ہر طرح کے جنسی تشدد سے آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

    پاکستان میں خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین
    ماضی قریب میں، پاکستان کی خواتین کی حفاظت اور ان کو بااختیار بنانے کے لئے متعدد ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایسڈ کنٹرول اور ایسڈ کرائم روک تھام ایکٹ 2011 کے تحت گھناؤنے تیزاب جرائم کے مجرموں کو سزا دینے کے لئے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ اخلاق کی ضابطے میں ترمیم کی گئی تھی جہاں جرمانے کے ساتھ ساتھ عمر قید تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔انسداد خواتین سے بچاؤ کے قانون، 2011 کے تحت جبری شادیوں سے بچنے والی خواتین کے لئے رواج اور تعصب آمیز رسم و رواج کے بارے میں بتایا گیا ہے، قرآن مجید کے ساتھ گنہگار اہتمام سے شادی اور ان کے وراثت کے حق کے تحفظ کے سلسلے میں جہاں اس طرح کی کارروائیوں کی سزا 3 سے 7 سال کے درمیان ہے۔ اور10 لاکھ روپے قید اور جرمانے کی رقم ہے۔ فوجداری قانون (ترمیم) (عصمت ریزی کا ایکٹ) ایکٹ. 2016 نے صاف ستھری بنیادوں کا احاطہ کیا اور اس خوفناک جرم کے مجرموں اور سہولت کاروں سے نمٹنے میں دور رس اثرات مرتب کیے۔ نابالغوں یا معذور افراد کی عصمت دری کے لئے عمر قید مقرر کی گئی تھی، صوبائی بار کونسل کے ذریعہ عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کے لئے قانونی امداد کی دفعات شامل کی گئیں اور اس میں سرکاری ملازمین کی ناقص تحقیقات پر 3 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا مقرر کی گئی۔ فوجداری قانون (ترمیم) (غیرت کے نام پر یا بہانے سے متعلق جرائم) ایکٹ، 16 20 غیرت کے نام پر قتل کو مرتکب قرار دینے کے بعد اسے موت یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت غیرت مندانہ نقصان یا رازداری کی خلاف ورزی پر 7 سال تک قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔

    عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟
    اب، یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ آیا یہ ریاست کی ناکامی ہے، اس کی بے عملی ہے یا معاشرے، کہ ایک ایسے ملک میں خواتین کے خلاف صنفی جبر اور زبردست تشدد کی فضا قائم ہے جو متعدد اہم بین الاقوامی عہدوں پر عمل پیرا ہے اور اس کے تحت خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اس کے آئین اور بہترین قوانین اور اقدامات کے تحفظ میں ناکام ہو رہے ہیں۔پاکستان میں خواتین کی سلامتی اور حفاظت کے سمت نہ لے جانے والے حالات اور واقعات پر آج، ہم اجتماعی طور پر خوف زدہ ہیں۔ ناقص تحقیقات اور نظامِ انصاف کے عملی نفاذ کی اس ناکامی کے لئے کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے؟ دوسری جانب میڈیا میں خواتین کی غیر قانونی اور غیر منحرف جنسی تصویر کشی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الزام جزوی طور پر ہمارے ٹیلی ویژن سیریلز پر پڑتا ہے جہاں زیادتی کرنے والے یا اغوا کار کو سزا نہیں ملتی ہے، بعض معاملات میں شکار سے شادی بھی کردی جاتی ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: پائیدار ممکنہ حل
    پاکستان کی عوام کی حفاظت کے عزم کی واضحی اس کی پالیسیوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتی ہے۔ انتظامی طریقہ کار کے ساتھ مل کر قومی اور صوبائی قانون سازی سب صحیح اقدامات ہیں لیکن اگر ہم اپنے معاشرے میں کمزور لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ مطلوب ہے۔یہ وقت کی اولین ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں جابرانہ طریقوں کی نشاندہی کی جائے، اور نچلی سطح پر کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ ہم نے اپنے معاشرے کو خواتین کے حقوق اور برابری کے بارے میں تلقین اور تعلیم عام کریں، شاید اب سبق آموز معاشرے کو پروان چڑھانے کے لئے رضامندی اور اس سے وابستہ اتحادیوں کی تدبیروں کی طرف راغب ہونا چاہئے۔ اسکولوں میں پروگرام متعارف کرایا جانا چاہیے جس کا مقصد دھونس، شکار، نام کی کالنگ اور اس طرح کے رویوں سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہو۔کارکنوں کے ذریعہ اٹھائے گئے نعروں پر بحث کرنے کی بجائے، ہمیں اپنے معاشرے خصوصا نوجوان نسل کے مابین معاشرتی – جذباتی تعلیم اور صحت مند جنسیت کی تائید کریں۔ اجتماعی طور پر، ہمیں ان روایات اور اقدام کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو جنسی تشدد کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ازسر نو تشکیل دینا ہوگا۔پاکستان میں فارینزک لیبز اور ماہروں کا بہت بڑا فقدان ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انصاف کی عدم فراہمیمیں جرم کی ناقص تحقیقات بھی بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کا بڑاسبب ہے۔پولیس اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے مگر اس کے بر عکس پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسے ایک مرض کی تشخیص کے لیے ایک مستند ڈاکٹر کا ہونا ضروری ہے بلکل ویسے ہی ایک جرم کی تشخیص اورارتکاب کرنے والے مجرم کو منطقی انجام پہنچانے کے لیے ایک کرمنالودجسٹ کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک کرمنالودجسٹ جرم کی وجوہات اور سائینسی طریقے کار کو بروہکار لاتے ہوئے ایک منظم تحقیقات کرنے کے جدید علم سے آراستہ ہوتاہے۔یقین ہے،کہ یہ اصلاحات جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگی۔
    @MAkhter_