Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت مارچ اور چند حقائق تحریر  : راجہ حشام صادق

    عورت مارچ اور چند حقائق تحریر : راجہ حشام صادق

    دین اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورت کو اس کے حقوق دے دیئے ہیں آج کل کے یہ عورت مارچ جن حقوق کے لیے گھروں سے نکل رہی ہیں وہ دین اسلام کے نہ تو بنیادی حقوق ہیں نہ ہی اسلام نے عورت کو اتنی آزادی کی اجازت دی ہے۔ باپ بھائی بیٹے اور شوہر کی صورت میں قابل عزت رشتے عورت کے محافظ اور طاقت ہوتے ہیں

    سب سے پہلے تو ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اور ملک پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس بنیاد پے بنا تھا یہ ملک

    ہم سب جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں کی خواتین باحیا ہیں الحمدللہ دین اسلام کے بتائے گئے اصولوں پر زندگی گزارتی ہیں ۔ عورت مارچ کو سڑکوں پر نکلنے اور حقوق کے لیے احتجاج کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کہیں نہ کہیں ہمارے قانون کا بھی ہاتھ ہے۔

    بہت سارے ایسے واقعات ہوئے ہیں جس سے عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ غیر محفوظ ہے۔وہ شاید سمجھتی ہے کہ یہاں دوندا صفت انسان بستے ہیں اور جنگل کا قانون ہے یہاں۔
    بہت سے ایسے واقعات جس میں معصوم بچیوں کا ریپ کیا گیا ہے یا پھر دفاتر اور مختلف ایسی جگہیں جہاں مرد و خواتین ایک ساتھ کام کرتے ہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت پھر بغاوت کرنے پے اتر آتی ہے کچھ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار تو بچوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کرتے پائے گئے سکولز اور یونورسٹیز میں بھی کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی

    قارئین اس عورت مارچ کے حوالے سے ہمارا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن اس کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔
    جنگل کا قانون تو ٹھیک ہے مگر کہیں نہ کہیں مرد حضرات بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں
    معاشرے میں بسنے والے مردوں کا منفی رویہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے جہاں ایک طوائف کو بدکردار کہا جاتا ہے۔ اور اسے پورے معاشرے میں کوئی عزت نہیں دی جاتی لیکن اس کے پاس جاتا کون ہے اس معاشرے کے باعزت کہلانے والے افراد اور پھر ان کی اونچی شان اور عزت میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

    کیا اس معاشرے میں بغاوت کی ذمہ دار صرف عورت ہے؟
    ایک جنگل کا قانون اور دوسرے وہ مرد بھی برابر کے مجرم ہیں جو عورت کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے ہیں
    اور ان کو غلط راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرتے ہیں کوئی بھی عورت باغی پیدا نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے رویے اور بنائے گئے حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں اس مارچ پے تنقید کرنا اور اسے روکنا ہمارا فرض ہے۔

    ہمیں بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ معاشرہ صرف مردوں کا نہیں اس میں جو حقوق دین اسلام نے عورت کو دیئے ہیں اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور قانون کے رکھوالوں سے بھی گزارش ہے کہ یہ لا قانونیت کا دبہ اپنے اوپر سے اتار پھینکیئے اور مدینہ جیسی ریاست کو بنیاد بنا کر اس ماڈل کی ریاست بنانے کے بارئے قانون بنائے

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • قبرستان میں سونے والی خاتون اور ہمارا معاشرہ تحریر : عروج منطور

    میں پولیس اسٹیشن میں تھا ۔ وہاں کا تھانیدار میرا دوست ہے ۔ باتیں کرتے کرتے وہ اپنا کام بھی نمٹا رہا تھا ، وہاں آئی ایک سائل خاتون کی بات سن کر میں چونک گیا ۔وہ کہہ رہی تھیں میں ہر رات قبر میں لیٹ کر سوتی ہوں ۔
    میں نے ان سے کہا اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ معلوم ہوا خاتون کے شوہر وفات پا چکے ہیں ۔ وہ گھر میں تنہا ہوتی ہیں ۔ کہنے لگیں قبر اور کمرے میں فرق ہی کیا ہے ، چاروں طرف دیواریں اور اوپر چھت ۔ لائٹ بند کر کے میں باقاعدہ نیت کرتی ہوں کہ مر گئی تو یہی میری قبر ہے ،24 گھنٹے تسبیح ہی کرتی رہتی ہوں ۔ اس کہانی میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی
    ان خاتون کو یقین تھا کہ ان کے رشتہ دار انہیں قتل کر کے ان کے مکان پر قبضہ کر لیں گے ۔ خاتون چاہتی تھی کہ وہ مر جائے تو اسی مکان کو اس کی قبر ڈکلیئر کر دیا جائے ۔ اپنی ذات میں ولی ہونے کے زعم کے ساتھ ساتھ ان کا حسد اور انتقام اس سطح پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتی تھیں ۔
    خاتون کے بچے بیرون ملک تھے اور واپس آنے کو تیار نہیں تھے۔خاتون مکان چھوڑ کر بچوں کے پاس جانے پر آمادہ نہیں تھیں ۔انہیں ڈر تھا کہ وہ گئیں تو مکان پر قبضہ ہو جائے گا ۔ وہ یہ مکان بیچنے پر بھی آمادہ نہیں تھیں۔ تھانیدار نے ان کے رشتے داروں کو بھی بلا لیا ۔انہوں نے کہا کہ خاتون کے وہم کا علاج کچھ نہیں ۔دو ماہ پہلے تک خاتون کے تمام اخراجات ہم اٹھاتے تھے ،اب بھی راشن پانی کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ خاتون کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،ہمارے بھائی کی بیوہ ہے ۔ پہلے یہ مکان خاندانی جائیداد میں تھا ،ہم نے ہی حصے کر کے خاتون کے نام یہ مکان کروایا تھا ۔ جیسے ہی مکان خاتون کے نام ہوا انہیں وہم ہو گیا کہ اس مکان پر یہ رشتے دار قبضہ کر لیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔
    ان کے دیور بڑی سے بڑی قسم اور گارنٹی دینے کو تیار تھے، ان کے اپنے ذاتی گھر اور کاروبار تھے لیکن خاتون کا اصرار تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہوا تو پرچہ ان کے دیوروں کے خلاف کاٹا جائے اور ان کے گھر کو قبر ڈکلیئر کیا جائے ۔
    وہ اپنے ممکنہ قتل کی ایڈوانس درخواست اور وصیت لکھ کر لائی تھیں۔ یہ ایسی درخواست تھی جو قتل ہونے والا ایڈوانس میں اپنے دستخط کے ساتھ تھانے جمع کروا رہا تھا اور فوری پرچہ دینا چاہتا تھا
    یہ کہانی صرف اس خاتون کی نہیں ہے ۔ ہم میں سے اکثر نفسیاتی طور پر ایسے ہی ہو چکے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے ہماری چھوٹی سی خوشی سے بھی باقی سب جل جاتے ہیں ، حسد کرتے ہیں اور ہمارے خلاف انتقامی باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی روٹین میں معمول کی بات کرے تو ہمیں لگتا ہے ضرور یہ اشارہ ہماری جانب ہے ۔
    یہ رویہ ہمیں آہستہ آہستہ نفسیاتی مریض بنا رہا ہے ،ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے سمیت 21 کروڑ لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں
    آگہی کے ایک خاص لمحے اس درویش کو ادراک ہوا تھا ۔اس دنیا میں اہم اب کوئی بھی نہیں رہا ۔کسی کے چلے جانے سے نہ تو دنیا کا کاروبار رکتا ہے اور نہ کسی دفتر کا نظام ٹھہرتا ہے ۔یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہے اور ہر سیر کو سوا سیر میسر ہے ۔
    کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ دوسرے کی خوشی سے جلے اور اگر کوئی حسد کرتا بھی ہے تو اس پر توجہ دینا بےوقوفی اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے خوش رہنے کا راز پایا ۔ میں نے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دی ۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ اس دنیا کے لیے میں اتنا اہم نہیں ہو سکتا کہ کوئی اپنے کام چھوڑ کر مجھ سے حسد کرے گا یا میری خوشیوں سے جلے گا ۔ اگر ایسا محسوس بھی ہو تو میں اسے نظر انداز کرکے مسکراتا ہوا گزر جاتا ہوں ۔میں اب ایسی ٹینشن پالنے کا قائل نہیں جس کا انجام کچھ نہ ہو ۔
    آپ اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف کشید کیجیے ۔ لمحہ موجود میں خوش رہنے کا ہنر سیکھیں ۔ اپنی خوشیوں کے لمحے یہ سوچ کر برباد نہ ہونے دیں کہ کون کون جل رہا ہو گا اور کس کس کو جواب دینا ہے ۔
    یاد رکھیں ایک ہی کام کچھ لوگوں کے نزدیک درست ہو گا اور کچھ کے نزدیک غلط ہو گا ۔آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔آپ نے صرف اپنے ضمیر کو خوش رکھنا ہے ، کیا درست ہے اور کیا غلط یہ اپنے ضمیر سے پوچھیں اور پھر ثابت قدم رہیں ۔
    اپنی نجی خوشیوں کو دکھاوے میں بدلنے کی بجائے اپنی یادوں کا حصہ بنائیں ۔ تصاویر ضرور بنائیں لیکن اتنی نہیں کہ اپنی آنکھ کو براہ راست نظارے سے محروم کر کے وہی منظر لینز سے دیکھتے رہیں ۔
    یقین مانیں زندگی بہت خوبصورت ہے ،محبت کرنے والوں کے لیے تو بہت ہی خوبصورت ہے لیکن یہ خوبصورتی اس وقت اذیت میں بدل جاتی ہے کب آپ اپنے آپ کو نیشنل ہیرو سمجھنے لگتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوشی سے باقی سب کو جلن ہو رہی ہے آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس جلن کا جواب سوچنے لگتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت وہ خاص لمحہ آپ کی مٹھی سے پھسل جاتا ہے جو آپ کے لیے باعث تسکین ہونا تھا

    Twitter ID: @AroojKhan786

  • بیٹیاں رحمت ہی رحمت  تحریر: چوہدری عطا محمد

    بیٹیاں رحمت ہی رحمت تحریر: چوہدری عطا محمد

    اللہ سبحانہ تعالی نے بنی نوع انسان کو جہاں کروڑوں رحمتوں اور نعمتوں سے نوازہ ہے ان رحمتوں میں سے ایک رحمت اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے انسان کو بیٹی سے نواز نے کی ہے بیٹی ہر گھر کا مقدر نہیں ہوتی جس گھر پر اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے خاص رحمت ہوتی ہے اسی گھر میں اللہ سبحانہ تعالی بیٹی جیسی رحمت عطا کرتے ہیں ہمارے مذہب اسلام کی بات کی جاۓ تو ہمارے دین میں بیٹی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے بیٹیاں اللہ کی رحمت تو ہیں ہی وہی پر بیٹیاں اپنے والدین کے لئے دوزخ سے نجات کا باعث بنتی ہیں اور جنت کے حصول کا زریعہ بھی بنتی ہیں اللہ سبحانہ تعالی نے اقوام عالم میں ایسا نظام بنایا ہے کہہ یہ نہ تو عورتوں کے بغیر مکمل ہوتا ہے اور نہ یہ دنیا کا نظام مردوں کے بغیر ہی مکمل ہوتا ہے آدی لئے قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کیلئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے گو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرما دیتا ہے(سورۃ شوریٰ)
    یعنی اس ارشاد باری تعالی سے صاف بات پتہ چلتی اللہ سبانہ تعالی جس کو جب چاۓ اور جو چاۓ عطا فرماۓ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زرا مختلف سوچ کے حامی لو گ پاۓ جاتے ہیں می عام روایت کی بات کر رہا ہوں جیساکہہ ہمارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو بہت خوشیاں منائی جاتی مبارک باد دی جاتی۔ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی جشن مناۓ جاتے لیکن اس کے برعکس جب بیٹی پیدا ہوتی تو سارے خاندان میں خاموشی چھا جاتی سب مایوس نظر آتے ایسا محسوس ہوتا ادھر اللہ کی رحمت نہی جیسا کہ خدانخواستہ کوئی عزاب آگیا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو کچھ ایسے قبیلے اور رشتہ دار بھی ہوتے جو بیٹی کی پیدائش پر رشتہ تک ختم کر دیتے خاوند اپنی زوجہ محترمہ کو چھوڑ دیتا اور بیٹی کی پیدائش کا زمہ دار گہنگار اپنی ہی بیگم کو ٹھہراتا اور اللہ سبحانہ تعالی کے قرآن کریم میں ارشاد تک کو ہی بھول جاتا ان سب کی بڑی وجہ ہماری ہمارےپیارے دین سے دوری کی ہے دین سے دوری کی وجہ سے ہی ہمارے اخلاقی معاشرتی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے اگر آج کے ترقی یافتہ دور کی بات کی جاۓ تو بیٹیاں کسی بھی میدان میں بیٹوں سے پیچھے نہی بلکہ ان کے شانہ بشانہ اور ان سے آگے بڑھ رہی ہیں بیٹیاں بیٹوں کی بنسبت کئ گناہ بڑھ کر اپنے والدین کی خدمت کرتی ہیں اپنے والدین کا بڑھاپے میں سہارا بنتی ہیں اسی وجہ سے آج ہمیں ہر شعبہ ہاۓ زندگی چاۓ میڈیکل ہو یا فوج پولیس ہو یا ٹیلی کمیونیکشن آپ کو ہر جگہ لڑکیاں نظر آئیں گی ایک اور بات لڑکیوں میں مقابلہ کرنے کی قوت بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتی ہے لڑکیاں زیادہ مشکل حالات کا مقابلہ صبر واستقامت سے کر سکتی ہیں
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، یا اللہ جب آپ اپنے بندے پر مہربان ہوتے ہیں تو کیا عطا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر شادی شدہ ہو تو بیٹی عطا کرتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر کہا جب زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا تو میں دوسری بیٹی عطا کرتا ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر سب سے زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیسری بیٹی عطا کرتا ہوں اور فرمایا کہ جب میں اپنے پیارے بندے کو بیٹا عطا کرتا ہوں تو اس بیٹے کو بولتا ہوں جاؤ اور اپنے باپ کا بازو بنو اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں تو مجھے اپنی خدائی کی قسم کہ میں اس کے باپ کا بازو خود بنوں گا۔
    اس سے ثابت ہوا کہہ بیٹیاں اللہ پاک کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہیں اور ہمیشہ ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھا جانا چائیے ویسے بھی ہمارے ہاں بیٹیاں اپنے بابا کی پریاں بھی ہوتے بابا کی آنکھوں کی چمک اور بابا کے دل کی دھڑکن ہوتی اور والدین بیٹی کی پیدائش سے ہی اپنی بیٹی کے لئے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں مانگتے رہیتے اللہ سبحانہ تعالی ہر بیٹی کے مقدر خوبصورت بناۓ یہی ہر والدین کی خواہش ہوتی
    بیٹیاں ہر گھر کی گڑیا ہوتی رونق ہوتی اور اپنے بابا کے لئے کسی بھی قیمتی زیور سے کم نہی ہوتی ہیں ۔اگر بیٹی باپ کے گھر میں ہوتی ہے تو رحمت ہوتی ہے شادی شدہ ہوتی ہے تو آگے جا کر کسی کے بچوں ماں یعنی جنت بنتی ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالی کے حکم ہے جنت ماں کے قدموں میں ہے اور یاد رکھیں ماں ایک بیٹی بنتی ہے۔ہمیں سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو رحمت سمجھیں گے، اور ہمیشہ بیٹیوں کی ولادت پر بھی ایسے ہی خوشیاں منائیں گے جس طرح بیٹوں کی ولادت پر مناتے ہیں ہماری بیٹیاں ہماری بخشش کا ساماں ہیں ، اللہ پاک تمام بیٹیوں کے مقدر خوبصورت بناۓ آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    پاکستان میں مڈل کلاس عورت کو اک انسان نہیں اک روبوٹ کنسیڈر کیا جاتا ہے جس کا ریموٹ سوسائٹی ہوتی ہے۔ اگر اک مڈل کلاس لڑکی کی زندگی میں آنے والے چیلنجز کی بات کی جائے تو سب سے بڑا چیلنج اس کی زندگی میں سوشل پریشر ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کی ساری کہانی صرف اک فقرے کہ گرد گھومتی رہتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ حتی کہ وہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرتے بھی 10 ہزار دفعہ سوچتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ مڈل کلاس لڑکی وہ کھلونا ہے جس کہ انچارج اس کہ ماں باپ سے لے کر معاشرے کا ہر وہ فرد ہے جس سے اس کا کوئی خونی یا جذباتی رشتہ ہو گا۔ مڈل کلاس لڑکیاں وہ کٹھ پتلیاں ہیں جو خوف سے بھر دی گئی ہیں۔ زندگی کہ چھوٹے سے بڑے فیصلے کہ لیے انہیں گھر کہ مردوں پہ یقین کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں گھروں میں پیدا ہوتے ہی یہ درس دیا جاتا ہے کہ ان کہ ماں باپ اور ان کا معاشرہ ہی ان کہ لیے سب کچھ ہے۔ اب اگر بات کی جائے مڈل کلاس لڑکی کی تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی کی تو اس کا تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی بھی اس کے گھر کے سیٹ کردہ اصولوں اور معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں پہ گزرے گی۔ اگر وہ اپنی کوئی خواہش ظاہر کرے گی تو معاشرہ اسے بدکردار اور بد چلن اور اس کی فیملی کہ لیے باعث شرمندگی ہو گی۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کی زندگی کہ سب سے اہم فیصلوں کا پوچھا جائے تو اس کا جواب ہوتا ہے جیسے میرے بڑے کہیں گے میں ویسے ہی کروں گی۔ مڈل کلاس فیملی کی لڑکی کہ لیے کپڑوں سے لے کہ زندگی کہ بڑے بڑے فیصلوں میں اس کی اپنی رائے اور صحیح اور غلط کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ اب آجاتے ہیں مڈل کلاس لڑکی کی رخصتی پہ ،گھر سے رخصت ہوتے اس کہ ماں باپ اور معاشرہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ تمہارا جنازہ ہی اس گھر سے نکلنا چاہیے اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ مڈل کلاس لڑکی اس خوف سے تشدد برداشت کرتے کرتے درحقیقت جنازہ نکالتی ہے اپنا۔ پیدا ہونے سے جوانی تک اس کا ریموٹ اس کہ اپنوں اور معاشرہ کہ پاس ہوتا ہے اور پریکٹیکل زندگی میں داخل ہونے کہ بعد اس کا ریموٹ اس کہ سسرال اور خاوند کہ ہاتھوں میں جاتا ہے۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کہ حقوق کا پوچھا جائے تو یہ جواب ملتا ہے کہ میرے ماں باپ کو پتہ ہو گا۔ میری اس تحریر کو پڑھنے کہ بعد بھی بہت سی مڈل کلاس لڑکیاں مجھے برا بھلا کہیں گی کیونکہ ان کے مائنڈ ایسے بلڈ کیے گے کہ وہ خود بھی کانفڈنٹ اور بولڈ لڑکیوں کہ خلاف بولتی ہیں۔ میں اس میں بھی انہیں قصور وار نہیں سمجھتی کیونکہ مڈل کلاس لڑکیاں خود کو وہ انسان سمجھنے میں فخر محسوس کرتی ہیں جو دن رات معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ تابع رہنے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی اس تحریر میں بس وہ مسائل اجاگر کیے ہیں جو روزمرہ زندگی میں مڈل کلاس لڑکیوں کو پیش آتے ہیں۔ میں اپنی اس تحریر پڑھنے والے ہر انسان سے یہ ریکوسٹ کروں گی کہ مڈل کلاس لڑکیاں بھی جیتے جاگتے انسان ہیں انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی اور اللّٰہ کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ مطابق زندگیاں گزار سکیں نہ کہ کٹھ پتلیاں بن کہ۔
    @KhatoonZobia

  • خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟   تحریر: محمد اختر

    خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟ تحریر: محمد اختر

    ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین کی آبادی کا تخمینہ 50%ہے اور معاشرے میں عصمت دری، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل، تیزابی حملوں، گھریلو تشدد، جبری شادیاں اور خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات حیرت زدہ ہیں۔ ریاست پاکستان میں خواتین تحفظ ہمارے اداروں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالیہ واقعات سے بحث و مباحثہ زندگی اوربرابری کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے میدان سے ہٹ گیا ہے، اور انسانی سلامتی کے ان بنیادی اصولوں کی طرف گامزن ہے جو خوف، آزادی، استحصال سے آزادی، ہر طرح کے جنسی تشدد سے آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

    پاکستان میں خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین
    ماضی قریب میں، پاکستان کی خواتین کی حفاظت اور ان کو بااختیار بنانے کے لئے متعدد ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایسڈ کنٹرول اور ایسڈ کرائم روک تھام ایکٹ 2011 کے تحت گھناؤنے تیزاب جرائم کے مجرموں کو سزا دینے کے لئے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ اخلاق کی ضابطے میں ترمیم کی گئی تھی جہاں جرمانے کے ساتھ ساتھ عمر قید تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔انسداد خواتین سے بچاؤ کے قانون، 2011 کے تحت جبری شادیوں سے بچنے والی خواتین کے لئے رواج اور تعصب آمیز رسم و رواج کے بارے میں بتایا گیا ہے، قرآن مجید کے ساتھ گنہگار اہتمام سے شادی اور ان کے وراثت کے حق کے تحفظ کے سلسلے میں جہاں اس طرح کی کارروائیوں کی سزا 3 سے 7 سال کے درمیان ہے۔ اور10 لاکھ روپے قید اور جرمانے کی رقم ہے۔ فوجداری قانون (ترمیم) (عصمت ریزی کا ایکٹ) ایکٹ. 2016 نے صاف ستھری بنیادوں کا احاطہ کیا اور اس خوفناک جرم کے مجرموں اور سہولت کاروں سے نمٹنے میں دور رس اثرات مرتب کیے۔ نابالغوں یا معذور افراد کی عصمت دری کے لئے عمر قید مقرر کی گئی تھی، صوبائی بار کونسل کے ذریعہ عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کے لئے قانونی امداد کی دفعات شامل کی گئیں اور اس میں سرکاری ملازمین کی ناقص تحقیقات پر 3 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا مقرر کی گئی۔ فوجداری قانون (ترمیم) (غیرت کے نام پر یا بہانے سے متعلق جرائم) ایکٹ، 16 20 غیرت کے نام پر قتل کو مرتکب قرار دینے کے بعد اسے موت یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت غیرت مندانہ نقصان یا رازداری کی خلاف ورزی پر 7 سال تک قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔

    عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟
    اب، یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ آیا یہ ریاست کی ناکامی ہے، اس کی بے عملی ہے یا معاشرے، کہ ایک ایسے ملک میں خواتین کے خلاف صنفی جبر اور زبردست تشدد کی فضا قائم ہے جو متعدد اہم بین الاقوامی عہدوں پر عمل پیرا ہے اور اس کے تحت خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اس کے آئین اور بہترین قوانین اور اقدامات کے تحفظ میں ناکام ہو رہے ہیں۔پاکستان میں خواتین کی سلامتی اور حفاظت کے سمت نہ لے جانے والے حالات اور واقعات پر آج، ہم اجتماعی طور پر خوف زدہ ہیں۔ ناقص تحقیقات اور نظامِ انصاف کے عملی نفاذ کی اس ناکامی کے لئے کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے؟ دوسری جانب میڈیا میں خواتین کی غیر قانونی اور غیر منحرف جنسی تصویر کشی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الزام جزوی طور پر ہمارے ٹیلی ویژن سیریلز پر پڑتا ہے جہاں زیادتی کرنے والے یا اغوا کار کو سزا نہیں ملتی ہے، بعض معاملات میں شکار سے شادی بھی کردی جاتی ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: پائیدار ممکنہ حل
    پاکستان کی عوام کی حفاظت کے عزم کی واضحی اس کی پالیسیوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتی ہے۔ انتظامی طریقہ کار کے ساتھ مل کر قومی اور صوبائی قانون سازی سب صحیح اقدامات ہیں لیکن اگر ہم اپنے معاشرے میں کمزور لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ مطلوب ہے۔یہ وقت کی اولین ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں جابرانہ طریقوں کی نشاندہی کی جائے، اور نچلی سطح پر کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ ہم نے اپنے معاشرے کو خواتین کے حقوق اور برابری کے بارے میں تلقین اور تعلیم عام کریں، شاید اب سبق آموز معاشرے کو پروان چڑھانے کے لئے رضامندی اور اس سے وابستہ اتحادیوں کی تدبیروں کی طرف راغب ہونا چاہئے۔ اسکولوں میں پروگرام متعارف کرایا جانا چاہیے جس کا مقصد دھونس، شکار، نام کی کالنگ اور اس طرح کے رویوں سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہو۔کارکنوں کے ذریعہ اٹھائے گئے نعروں پر بحث کرنے کی بجائے، ہمیں اپنے معاشرے خصوصا نوجوان نسل کے مابین معاشرتی – جذباتی تعلیم اور صحت مند جنسیت کی تائید کریں۔ اجتماعی طور پر، ہمیں ان روایات اور اقدام کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو جنسی تشدد کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ازسر نو تشکیل دینا ہوگا۔پاکستان میں فارینزک لیبز اور ماہروں کا بہت بڑا فقدان ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انصاف کی عدم فراہمیمیں جرم کی ناقص تحقیقات بھی بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کا بڑاسبب ہے۔پولیس اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے مگر اس کے بر عکس پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسے ایک مرض کی تشخیص کے لیے ایک مستند ڈاکٹر کا ہونا ضروری ہے بلکل ویسے ہی ایک جرم کی تشخیص اورارتکاب کرنے والے مجرم کو منطقی انجام پہنچانے کے لیے ایک کرمنالودجسٹ کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک کرمنالودجسٹ جرم کی وجوہات اور سائینسی طریقے کار کو بروہکار لاتے ہوئے ایک منظم تحقیقات کرنے کے جدید علم سے آراستہ ہوتاہے۔یقین ہے،کہ یہ اصلاحات جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگی۔
    @MAkhter_

  • عورت کا تحفظ  تحریر: حسن ساجد

    عورت کا تحفظ تحریر: حسن ساجد

    چند ہفتے قبل راقم الحروف نے ایک کالم "اسلام، پردہ اور عورت مارچ” کے عنوان سے لکھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کے لبرل، سیکولر اور لادین طبقات وزیراعظم کے حجاب کی پابندی سے متعلق بیان پر خاصے رنجیدہ ہیں۔ راقم الحروف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ اب کی بار محض "عورت مارچ” تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسی بہتر، منظم و مربوط اور جامع ترین منصوبہ بندی سے پاکستان کی ثقافت اور اسلامی اقدار پر حملہ آور ہوں گے۔ بندہ ناچیز کو یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ آئندہ چند روز میں ممکنہ طور پر پاکستان میں ریپ کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے یہ وسوسے خوفناک حقیقت کا روپ دھارے میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ان چند ہفتوں کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب میڈیا یا سوشل میڈیا سے کسی ریپ کیس کی اطلاع نہ ملی ہو۔ کبھی قراتہ العین کیس، کبھی نور مقدم کیس (میری دانست میں یہ بھی ریپ کے بعد قتل کیس ہے)، کبھی کسی معصوم بچی کا کیس تو کبھی کسی بکری کے ساتھ بدفعلی کا کیس اور اب ایک مولوی کے ہاتھوں چار سالہ معصوم بچی کے ریپ کا کیس یکے بعد دیگرے ہماری نظروں سے گزر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یک دم پاکستانیوں میں اس قدر حیوانیت کیسے بھر گئی اور نہ ہی میں یہ سمجھ پا رہا ہوں کہ اس پھیلتی ہوئی آگ کا ذمہ دار اپنے اداروں کو ٹھہراوں یا پارلیمنٹ کو، میں اس کا دوش والدین کی تربیت کو دوں یا معاشرے کی صحبت کو۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ قصوروار جنسی حیوان ہی ہیں یا ہم بھی شریک جرم ہیں۔ میرا سر چکرا کر رہ جاتا ہے جب میں سوچتا ہوں کہ عورت نہ تو Living Relationship کے قائل آزاد خیال ترین معاشرے میں محفوظ ہے اور نہ ہی مساجد کے طیب و طاہر ماحول میں۔ دوسرے طبقے کی بات کیا کرنی مگر ہمارے مولوی حضرات کو یک دم سے کیا انہونی بیت گئی وہ مساجد میں ہی۔۔۔۔۔ استغفراللہ
    لکھاریوں کے قلم اس حساس ترین موضوع پر ہر واقعہ کی مذمت میں حرکت میں آئے مگر بندہ ناچیز خاموشی سے تمام معاملات کے مشاہدہ کی کوشش کرتا رہا کیونکہ راقم الحروف وقتی اور جذباتی سوچ سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زوایوں سے سوچنے کے مرض میں بھی مبتلا ہے۔ میں اس بات کا بارہا اظہار کر چکا ہوں کہ پاکستان بین الاقوامی گریٹر گیمز (International Greater Games) کا سرکردہ اور اہم ترین سٹیک ہولڈر یعنی شراکت دار ہے۔ اقوام عالم میں پاکستان کا اثرو رسوخ آئے دن بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے۔ اسی لیے سوچ کا ایک زاویہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں ریپ کیسز کا بڑھنا، ان کی بڑے پیمانے پر میڈیا رپورٹنگ، واقعات کی سوشل میڈیا پر انتہا کو چھوتی تشہیر اور پاکستان کو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور متشدد ملک ثابت کرنے کی کوشش کرنا پاکستان کے خلاف کسی گھمبیر سازش کا پیش خیمہ ہے۔ اور اس سوچ کی وجہ یہ ہے کہ ساوتھ افریقہ، آسٹریلیا، بیلجیئم، امریکہ، فرانس، سویڈن، آسٹریا اور بھارت جیسے ریپ کیسز کے سر فہرست ممالک کو چھوڑ کر کم ترین سکور کے ساتھ فہرست کے آخری اور نچلے ترین درجوں میں موجود پاکستان کو دنیا کے سامنے "#ریسپتان” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار این جی اوز کا سارا نزلہ بھی اسی ملک پر گرتا ہے۔ اور حقوق نسواں کو لے کر تمام تنقیدی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ تھا

    اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کرتے ہیں۔ بالفرض اگر یہ کوئی سازش بھی ہے تو ہم اپنے وطن کے خلاف اس سازش میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہاں پے در پے ہونے والے واقعات کو نہ تو ہم نے سنجیدگی سے لیا اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام اور قانون کی مناسب انداز میں عملداری کے لیے منظم اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ زینب انصاری، چارسدہ کی زینب، حوض نور، مشال، قراتہ العین اور موٹروے پر خاتون کی عصمت دری سمیت نہ جانے کتنے ہی واقعات ایسے ہوں گے جن سے ہمارا سامنا ہوا مگر ہم نے کسی ایک سے بھی عبرت حاصل نہیں کی۔ ہمارے یہاں ایک افسوس ناک رواج جنم لے چکا ہے کہ یہاں واقعہ رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے، سرکار کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لیا جاتا ہے، کمیٹی بنائی جاتی ہے، واقعہ کی کمزور تفتیش عمل میں لائی جاتی ہے، ملزم کے خلاف طویل عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتا ہے اور یہ معاملہ ابھی جوں کا توں لٹکا ہوتا ہے کہ اتنی دیر میں ہم دوسرے واقعہ کو جھیل کر اسی بیان کردہ سرکل کے پہلے مرحلے میں دوبارہ داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ منظم قانون سازی، قانون کی مناسب عملداری، معیاری تفتیش، فوری اور منصفانہ عدالتی کاروائی اور مثالی سزاوں کی عدم دستیابی حیوان صفت جنسی مریضوں کے حوصلے مزید بلند کر رہی ہے جس کے باعث جنسی زیادتی یا ریپ کی آگ کئی زندگیاں اور گھر برباد کرتی ہوئی مسلسل پھیل رہی ہے۔
    آج کے ترقی یافتہ دور میں جب پوری دنیا کی خواتین ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور ہم اپنی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو یقینی طور پر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ریپ کیسز کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی اس قدر میڈیا تشہیر نے حصول علم و رزق کی خاطر گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔ حالات ایسے بن چکے ہیں کہ والدین اپنی بچیوں کے گھر سے نکلنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
    خواتین کو تحفظ اور ان کے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان حالات و واقعات کی سنجیدگی سمجھے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروکار لائے۔ فحش بینی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات جو ایسے واقعات کا پیش خیمہ بنتی ہیں ان کو حتی الامکان حد تک روکا جائے۔ پارلیمنٹ میں انسداد ریپ آرڈیننس 2020 اور ریپ سے متعلق موجود قانون پر اسکی حقیقی روح کے مطابق عملداری کے لیے جامع اور منظم طریقہ کار وضع کیا جائے اور ایسے واقعات کا شکار لوگوں کے لیے عدالتی انصاف کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔ میرے نزدیک ایک فلاحی ریاست کی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کو معاشرے کا باکردار اور مہذب فرد بننے میں مدد فراہم کرے۔ لہذا عوام الناس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آگہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے کہ میڈیا کی بدولت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تہذیب یافتہ معاشرے سے متعلق آگہی پھیلائی جا سکتی ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تاکہ سکول، کالجز، مدارس اور کام کاروبار کی جگہوں پر خواتین کو محفوظ ماحول میسر آ سکے۔
    حکومت کے ساتھ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہر باشعور اور مہذب شہری پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سماجی کارکنان، انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیموں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس نیک عمل میں حصہ لیں اور معاشرے میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے شعور کو اجاگر کرنے میں تعمیری کردار ادا کریں۔ میرے نزدیک ایک خاتون کو تحفظ فراہم کرنے سے مراد آئندہ ایک مکمل نسل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عورت کا تحفظ ہماری ایک قومی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل ہم سب کے ذمے ہے۔

    @DSI786

  • ‏حقوق نسواں اور اسلام  تحریر؛ سردار ہارون بابر

    ‏حقوق نسواں اور اسلام تحریر؛ سردار ہارون بابر

    اسلام محض دین نہیں بلکہ ایک ضابطہ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے ذریعے تمام بنی نوع انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کردیے گئے ہیں۔
    دوسرے کا حق، ہمارا فرض ہوتا ہے، جسے ادا کرنا لازم ہے۔
    حقوق کے بارے میں عورتوں کو ہمیشہ پس پشت ہی رکھا گیا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں طرح طرح کے ظلم و ستم عورتوں پہ ڈھائے گئے۔
    لیکن اسلام نے عورت کو عزت بخشی، گھر کی زینت بنایا، اگر ماں ہے تو جنت ہے اور اگر بیٹی ہے تو رحمت۔

    اللہ تعالیٰ سورة النساء میں فرماتے ہیں کہ؛

    اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ
    ترجمہ؛ مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نےاپنے مال خرچ کئے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ نے اگر مرد کو فضیلت بخشی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مرد، عورتوں کو زر خرید غلام سمجھنے لگے۔ بلکہ دونوں کی اپنی اپنی زمہ داریاں ہیں جن کی ادائیگی سے صحت مند معاشرے پروان چڑھتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی عورتوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔
    خواہ تعلیم حاصل کرنا ہو یا خود سے روزگار کمانا ہو، عورت بااختیار ہے۔
    بلکہ قوم کی کئ بہادر بیٹیوں نے پاکستان کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔ جن میں فاطمہ جناح، رعنا لیاقت، بلقیس ایدھی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر سارہ قریشی، منیبہ مزاری اور خواتین کرکٹ ٹیم کی ثناء میر سر فہرست ہیں۔
    دفاعی میدان میں بھی پاک دھرتی کی بیٹیوں نے محنت سے اپنا لوہا منوایا ہے جیسے نگار جوہر، شازیہ پروین اور شہید مریم مختار وغیرہ۔
    پس ثابت ہوا کہ عورت با حیا انداز میں دنیا کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ روزگار بھی کما سکتی ہے۔
    اللہ نے خاص عورتوں سے بات کرنے کے لیے سورة النساء نازل فرمائی ہے۔ جس میں عورتوں سے متعلق تمام تر امور تفصیل سے بیان فرما دیے۔ زمانہ جاہلیت میں، اسلام سے قبل عورتوں کا وراثت میں کوئی حصّہ نہ تھا مگر اسلام نے عورتوں کا حق مقرر کیا۔
    پر افسوس! کچھ عورتیں اللہ کا فرمان نہیں مانتی۔ نہ پردہ کرتی ہیں نہ حیاء۔
    پھر لوگ بھی پریشان کرتے ہیں اور شیطان بھی۔
    اور اپنی اس بے پردگی کو آزادی کا نام دیتی ہیں؟؟؟

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: ’’ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘​

    حیاء عورت کا زیور ہے۔ پردہ عورت کو باقی تمام عورتوں سے مختلف شناخت دیتا ہے تاکہ اسلام کی بیٹی پہچانی جائے۔

    اللہ تعالیٰ سورة الاحزاب میں فرماتے ہیں کہ؛

    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا
    ترجمہ؛ اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔

    مگر کچھ ایسی خواتین بھی ہیں، جو آزادی کے نام پر بے حیائی پھیلا رہی ہیں۔
    کچھ جھوٹی شہرت تو کچھ چند پیسوں کے عوض گھٹیا تحریک ” میرا جسم، میری مرضی” میں ملوث ہیں۔ یہ عورت مارچ، معاشرتی بگاڑ کے علاوہ کچھ نہیں۔
    اگر کم کپڑے پہننا یا بے لگام گھومتے پھرتے رہنا ‘ ماڈرنیزم ‘ ہے تو جانور ان عورتوں سے زیادہ جدید ہیں۔
    قرآن و حدیث میں پہلے ہی عورتوں کے حقوق و فرائض بیان فرما دیے گئے ہیں۔
    تو پھر انھیں کونسا حق چاہیے؟؟
    کونسی آزادی چاہئے؟؟ کیا یہ باپ سے آزادی چاہتی ہیں جو سراپا شفقت ہے۔ یا بھائی سے؟؟ جو محافظ ہے۔ یا پھر اپنے ہی شوہروں سے؟؟

    ایسی عورتیں جعلی کیسز بناتی ہیں کبھی ذاتی تشہیر کے لیے تو کبھی پیسوں کے لیے اور مردوں پہ الزام لگاتی ہیں۔
    ایسے جعلی کیسز، حقیقی مظلوموں کے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسی چال باز عورتوں کو جہاں موقع ملے وہاں ہی بے نقاب کرنا چاہیے کیونکہ یہ عورت کے وقار پہ دھبہ ہیں۔

    کیسے ہوگی اب اس فرض کی پاسداری
    عمل سے دور ہوگئ بنتِ حوا بیچاری
    تقدس ہوا پامال بے حجابی کے دور میں
    روک اسے نہ پائی گھر کی چار دیواری

    یہ عورتیں اس گندی مچھلی کی مانند ہیں جو پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہیں۔
    لیکن اس سب کے باوجود ہماری قوم کی بیٹیاں، مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

    ‎@HaroonForPak

  • خواتین پر تشدد کے واقعات  میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟  تحریر  صائمہ رحمان

    خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ تحریر صائمہ رحمان

    عورت پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہی عورت کو عزت کے نام پر تشدد کیا جاتا ہے یا ان کو زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات تط ہی روح نما ہوتے ہیں جب عورت اپنے آپ کو کمزور اور بے بس سمجھتی ہے مظلوم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس ظلوم کو برداشت کرتی رہتی ہے اور ایک دن یہ برداشت جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے جسے دوسروں خاندان والوں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گھریلو تشدد یا رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بیشتر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ یہ تشدد کے واقعات زیادہ تر پسماندہ علاقوں میں زیادہ رپورٹ کئے گئے ہیں۔ کیونکہ ایسی خواتین کو نا صرف تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے بلکے عورتوں کے بنیادی حقوق سے بھی آگاہ نہیں کیا جاتا۔
    پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرویڈیوز یا ایسی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جس میں ایک شوہر نے اپنی اہلیہ کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ اپنی جان کی بازی ہار گئی یا ہسپتال پہنچ گئی
    لیکن سوال یہ ہے کہ عورت یہ ظلم برداشت کیوں کرتی ہے؟ کون سے ایسے عوامل ہے جو اس اذیت کو برداشت کرنے پر مجور کر دیتی ہے مجبور عورتیں اپنے گھر کو بچانے کےلئے اپنے بچوں کی خاطر یہ تشدد برداشت کرتی ہے نا ان کو اپنے میکے سے سپورٹ ملتی اور معاشرے میں طاق یافتہ کہلانے کا ڈر ایک مجبور عورت کو یہ گھریلو ظلم سہنے پر مجبور کرتا ہے۔گھریلو تشدد کا موضوع ایسا ہے جس پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔ جب بھی گھر کی چاردیواری کے اندر جب بھی خواتین پر تشدد کی جاتی ہے تو معاشرے میں ہاہا کار مچ جاتی ہے۔ عورت سے طرح طرح کے سوال پوچھے جاتے ہیں؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے جب تھمارا شوہر مارتا تھا تب کیوں نہیں آئی؟ تب آواز کیوں نہیں اٹھائی کہ تم نے یہ پہلے رپورٹ کیوں نہیں کیا؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ ثبوت دکھاؤ کہ کیا تم پر واقعی تشدد ہوا ہے یا نہیں؟
    ایسے سوالات ایک کمزور عورت کو یہ سب تشدد برداشت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ایک بے سہارا عورت آخر اپنے شوہر کا ہاتھ چھوڑ کر جائے گی کہاں؟ اس کو اپنے بچوں کو بھی چھوڑنا پر سکتا ہے۔
    اگر ایک عورت اپنے ماں باپ کے گھر جانا چاہے تو اُس کو بھی ایک یہ بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ اگر ایک عورت ملازمت کرنا چاہے اور اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنا چاہئے تو تب بھی کہرام مچا دیا جاتا ہے اگر وہ اپنے میکےاپنے ماں باپ کو بتانا چاہتی ہے تو اس پر بھی اس کو روکا جاتا ہے یا وہ خود روک جاتی ہے گھر بتایا تو وہ پریشان ہونگے۔
    عورت کو یہ سمجھا کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ شوہر ہے چار دیواری کے اندر مسئلے کو حل کرو اپنے بچوں کی خاطر برداشت کرو اچھے دن بھی آئیں گے اگر گھر چھوڑ دیا یا طاق ہو گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا کہاں جاو گی؟
    اورعمومی طورپر یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ یہ ایک روزہ مرہ کی بات ہے اور آپ اس چیز کو دبا دیں اور آپ اپنے گھر کو بچا نے کی کوشش کروں ان بچوں کا کیا ہوگا اگر آپ پولیس میں جانے کی کوشش کریں تو وہاں پر بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک گھریلو معاملہ ہے ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں آواز اُٹھائیں تو آپ کو طرح طرح کی ’بتاتے سننے کو ملی گئی جس سے خاندان کا نام خراب ہوگااور آپ پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ اپنے گھر کی عزت خراب کرنے کے جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ایک مجبور عورت اس امید پر سب برداشت کرتی ہے کہ اچھے دن بھی آئیں گے ابھی سہتی ہوں بعد میں سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن ایسا اکژ ایسا ہوتا نہیں
    ’مجبور عورتیں اسی لیے اس چیز کو رپورٹ نہیں کرتی کیونکہ کہ ہم نے کبھی اُن کو اس طرح کے ساز گار مواقع ہی فراہم نہیں کیے کہ وہ آرام سے آسانی سے اپنے اس مسئلے کو بیان کر سکیں اور پھر ان کو تحفظ بھی دیا جائے یہ ہمارے معاشرے کی ذمہداری ہے ایسی عورتیں میں خوداعتمادی پیدا کرے کہ وہ اپنے حق کے لئے کھڑی ہو سکتی۔
    خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے ملک میں کئی قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات کا مسلسل بڑھنا تشویش کا سبب بن رہا ہے اصل مقصد ان قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے یہ قوانین صرف کتابوں میں یا صرف آرڈر میں ہی نظر نہیں آنے چاہیئے، اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی قابل فخر ہے یہ واحد پلیٹ فارم ہے ایسے واقعات کو نا صرف اجاگر کرتا ہے بلکے قصور وار کو بے نقاب بھی کرتا
    پاکستان میں پنجاب اسمبلی نے خواتین کو گھریلو تشدد، نفسیاتی اور جذباتی دباؤ، معاشی استحصال اور سائبر کرائمز سے تحفظ دینے کا قانون متفقہ طور پر منظور کیا ہے خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے عدالت ان افراد جن سے خواتین کو تشدد کا خطرہ ہو، پابند کرے گی کہ وہ خاتون سے ایک خاص فاصلے پر رہیں۔
    ریزیڈینس آرڈ کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر گھر سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی بھی خاتون جان کا خطرہ ہویا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جائے یا اسے خاندان کے افراد اس خاتون کو گھر سے نکال دیں تو ایسی صورت میں عدالت خاندان کو پابند کرسکے گی کہ خاتون کی رہائش کا متبادل بندوبست کرے یااسے دوبارہ گھر میں جگہ دی جائے۔
    گھریلو تشدد کو صرف کسی قانون سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کے اندر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں آگاہی دی جائے کہ ہماری بیٹیوں ،بہنوں کو بتایا جائے کہ آپ کے کیا حقوق ہیں؟ آپ اگر کسی جگہ شادی کر کے جا رہی ہیں تو آپ نے کن چیزوں کو مدّنظر رکھنا ہے اگر ہم ان چیزوں کے اُوپر عملدآمد کریں گے تو ہم اس گھریلو تشدد جیسے عفریت پر قابو پا سکیں گے۔ ورنہ یہ چیزیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گی اور اگر پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے تو ہمیں ابھی ان چیزوں کے اوپر قابو پانا ہوگا۔
    خواتین کو ان قوانین استعمال کےلئے جو ان کو تحفظ دے گا شعور اجاگر کیا جائے اور ایک مضبوط عورت اس تشدد کے واقعات پر خود ہی قابو پا سکتی ہیں اگر وہ یہ عزم کر لے کہ ظلم کو سہنا نہیں اپنے حق کے لئے لڑنا ہے تو ان واقعات پر قابو پایاجا سکتا ہے۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • فیمنزم  تحریر : اقصٰی صدیق

    فیمنزم تحریر : اقصٰی صدیق

    ویسے تو فیمنزم کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر صحیح معنوں میں فیمنزم ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق مرد اور عورت دونوں یکساں انسانی حقوق، بنیادی سہولیات، معاشی اور سماجی حقوق کے حق دار ہیں۔فیمنزم اصل میں مغربی خواتین کی اپنے حقوق کے لیے کئیے جانے والی جدوجہد کی ہی ایک شکل ہے۔
    فیمنزم کا آغاز اس وقت ہوا، جب 1911 میں برطانوی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔

    دیکھا جا سکتا ہے، کہ مغربی خواتین نے اپنے حقوق کیلئے کوششیں کی جو ابھی تک جاری ہیں ۔
    مغربی خواتین نے پہلے خود کو مرد کے تسلط سے آزاد کیا، تعلیم، ملازمت، بزنس، غرض کہ ہر جگہ یکساں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں جس کے پیش نظر انہیں حقوق کی جدوجہد میں بہت آسانیاں رہیں۔
    حال ہی میں پاکستان میں بھی فیمنزم کا نام سنا جانے لگا ہے گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں بہت تیزی بھی آئی ہے۔ پاکستان میں فیمنزم کے حوالے سے خواتین کا کردار ہر گز مغربی خواتین والا نہیں ہے یہاں خواتین کو حقوق مغربی خواتین والے چاھئیں مگر ذمہ داریوں کے لحاظ سے پاکستان کی خواتین اتنی زمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔
    معاشرہ مرد و عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے۔دیکھا جائے تو خواتین کے استحصال میں مردوں کا حصہ زیادہ گناجاتا ہے، یہ بات بھی قابل قبول ہے لیکن خواتین اس معاشرہ کا حصہ ہیں۔ خواتین پر ظلم نہیں کیا جاسکتا، یہ ترقی یافتہ قوموں کا دستور نہیں۔

    موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گالی کی طرح بنا دیا گیایہ لفظ عورتوں کے اپنےحقوق کی کتنی لمبی لڑائی اور جدوجہد کے کے بعد وجود میں آیا ہے، تاریخ میں اس کے حوالے سے ہزاروں مضامین اور کتابیں موجود ہیں لیکن آج بات چیت کا موضوع وہ نہیں ہے۔

    جب ایک معاشرہ عورت کی عقل و دانش کی نفی کرتا ہے تو اسے فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا، اسے اختیارات حاصل نہیں۔ایسے معاشرے میں عورت کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی مانند ہوتی ہے جن کو انسان کچھ فائدے اٹھانے کے لیے پالتا ضرور ہے لیکن انہیں وہ اپنا جیسا نہ تو اپنے جیسا سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی ان سے برابری کا سلوک کر سکتا ہے۔

    حقوق نسواں(عورتوں کے حقوق) اور فیمنزم بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے،
    جس پر ہمارے معاشرے میں بغیر کسی سمجھ بوجھ کے، اسکی تاریخ، اغراض و مقاصد، اور کردارکو جانے بغیر رائے دی جاتی ہے اور بعد میں یہی اختلاف رائے یا اتفاق رائے بعض اوقات بہت پیچیدہ مسائل کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
    فیمنزم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں مردکت نقطہ نظر کو ترجیح دی جاتی ہے اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی، امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں فیمنزم ایک ایسی جدوجہد مسلسل کا نام ہے جس میں خواتین کیلئے مردوں کے برابرتعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کی جدوجہد کرنا شامل ہے۔
    خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل ایک تحریک فیمنسٹ موومنٹ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، اس مہم میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدے پر فائز ہونا، جائداد کی ملکیت کا حق حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، پسند کی شادی کرنے کا حق خواتین اور لڑکیوں کو عصمت دری، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا، من پسند لباس زیب تن کرنا اور مناسب اور قابل قبول جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق شامل ہیں۔

    عورت ’’انسان ‘‘ کا نسوانی روپ ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس کے امکانات بھی لامحدود ہیں۔

    ہم تاریخ کے تسلسل کا ایک حصہ ہیں۔برصغیر میں مسلمان معاشرے کی تاریخ ہمیں ہرگز یہ نہیں بتاتی کہ ہمارے آباؤ و اجداد عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
    زیادہ تر معاشروں میں یہ رواج نہ جانے کب سے چلا آرہا ہے کہ عورتوں کو مذہبی معاملات سے دوررکھا جاتا ہے۔ دنیاوی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے دینی تعلیم کی بھی نفی کی جاتی ہے۔
    برصغیر کے مسلم معاشرے میں عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم کرنے کے روشن شواہد موجود ہیں۔

    آج جب میں دنیا بھر کے مسلمان معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا دیکھتی ہوں، تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔کیونکہ میں مغرب کی آزاد و خود مختار عورت کو پس پشت ڈالتے ہوئے زمانہ جاہلیت کے دور میں زندہ دفن کر دی جانے والی عورت سے لے کر موجودہ دور میں ظلم و تشدد، جبر، غربت کی چکی میں پیستی، ہراساں کی جانے والی، تیزاب پھینک کر جلا دی جانے والی اور غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی بنتِ حوا کو دیکھ کر خوف زدہ ہوں، اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہوں.

    @_aqsasiddique

  • میاں بیوی کا رشتہ  تحریر: امتیاز احمد سومرو

    میاں بیوی کا رشتہ تحریر: امتیاز احمد سومرو

    دنیا کا سب سے بڑا رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر اللّٰہ تعالیٰ کے بعد کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتی کہ اس کی بیوی سجدہ کرے۔”

    میاں بیوی کی محبت اسلام ہمیں سیکھاتا ہے اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس محبت کا عملی ثبوت دیا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اماں عائشہ صدیقہ راضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جیسی محبت کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ایک بار پانی پی رہی تھیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ اپنے اس پانی سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی بچا کے دینا ہے جب حضرت عائشہ صدیقہ نے اپنے حصے کا بچا ہوا پانی دیا تو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ مجھے وہ جگہ بتائیں جہاں سے آپ نے اپنے ہونٹ لگائے ہیں۔سبحان اللّٰہ دیکھیں کیسی محبت ہے۔
    اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ کہا ہے۔ دنیا میں کامیاب انسان اگر دیکھے جائیں تو ان کی کامیابی میں ان کی بیوی کا ہاتھ ہو گا جو اس ہر مشکل حالات میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور تاریخ بھری پڑی ہے جس میں کسی شخص کی ناکامی میں اس کی بیوی کا ہاتھ ہوگا۔شیطان روز کچہری لگاتا ہے اور اپنے چیلوں سے پوچھتا ہے کہ آج کیا کام ہے سب باری باری بتاتے ہیں کہ حضور آج جھوٹ بلوایا ہے کوئی کہتا ہے زنا کرایا کوئی کہتا ہے چوری کرائی ہے اس طرح سارے بتاتے ہیں آخر میں ایک چیلا رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے حضور میں نے میاں بیوی کی لڑائی کرائی ہے۔تو شیطان فورا خوش سے تالیاں بجاتے ہوئے کہتا ہے اصل کام تو تو نے کیا ہے اور اس چیلے کو اپنے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ کتنا بڑا یہ رشتہ ہے۔ میاں بیوی کی لڑائی مطلب شیطان کی خوشی تو کیا ایک مومن کبھی چاہے گا کہ اس کے عمل سے شیطان خوش ہو؟؟
    آج کل مرد عورت کو غلام بنانا چاہتے ہیں اور عورتیں مرد کو۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے درمیان رشتہ کتنا بڑا ہے ان کی لڑائی نسلیں تباہ کر دیتی ہے۔کوئی یہ کوشش نہیں کر رہا کہ کیسے ہم اس رشتے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کمپرومائز کریں تو زندگی حسین بن سکتی ہے ۔ مرد عورت کو سمجھے اس کی تکلیف سمجھے عورت مرد کو سمجھے تو وہ ایک خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں۔ اپنی لڑائی ایک بند کمرے میں لڑی جائے کسی تیسرے فریق کو خبر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک گھر کو خوش حال کرنے میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔مرد عورت کو خوش رکھیں اس کے لیے مرد کوشش کرے۔ عورت کو خوش کیسےرکھا جا سکتا ہے یہ طریقہ ہمیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے انہوں نے ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے
    ” عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس لیے وہ پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر آپ طاقت سے اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو عورت ٹوٹ جائے گی اور اگر پیار سے آہستہ آہستہ سیدھا کرو گے تو سیدھی ہو جائے گی”

    بس میاں بیوی ایک دوسرے سے پیار کریں اپنے بچوں کو وقت دیں ان کی تربیت اچھی طرح کریں اور زندگی حسین بنائیں۔

    @Imtiazahmad_pti