Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت کا تحفظ  تحریر: حسن ساجد

    عورت کا تحفظ تحریر: حسن ساجد

    چند ہفتے قبل راقم الحروف نے ایک کالم "اسلام، پردہ اور عورت مارچ” کے عنوان سے لکھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کے لبرل، سیکولر اور لادین طبقات وزیراعظم کے حجاب کی پابندی سے متعلق بیان پر خاصے رنجیدہ ہیں۔ راقم الحروف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ اب کی بار محض "عورت مارچ” تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسی بہتر، منظم و مربوط اور جامع ترین منصوبہ بندی سے پاکستان کی ثقافت اور اسلامی اقدار پر حملہ آور ہوں گے۔ بندہ ناچیز کو یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ آئندہ چند روز میں ممکنہ طور پر پاکستان میں ریپ کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے یہ وسوسے خوفناک حقیقت کا روپ دھارے میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ان چند ہفتوں کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب میڈیا یا سوشل میڈیا سے کسی ریپ کیس کی اطلاع نہ ملی ہو۔ کبھی قراتہ العین کیس، کبھی نور مقدم کیس (میری دانست میں یہ بھی ریپ کے بعد قتل کیس ہے)، کبھی کسی معصوم بچی کا کیس تو کبھی کسی بکری کے ساتھ بدفعلی کا کیس اور اب ایک مولوی کے ہاتھوں چار سالہ معصوم بچی کے ریپ کا کیس یکے بعد دیگرے ہماری نظروں سے گزر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یک دم پاکستانیوں میں اس قدر حیوانیت کیسے بھر گئی اور نہ ہی میں یہ سمجھ پا رہا ہوں کہ اس پھیلتی ہوئی آگ کا ذمہ دار اپنے اداروں کو ٹھہراوں یا پارلیمنٹ کو، میں اس کا دوش والدین کی تربیت کو دوں یا معاشرے کی صحبت کو۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ قصوروار جنسی حیوان ہی ہیں یا ہم بھی شریک جرم ہیں۔ میرا سر چکرا کر رہ جاتا ہے جب میں سوچتا ہوں کہ عورت نہ تو Living Relationship کے قائل آزاد خیال ترین معاشرے میں محفوظ ہے اور نہ ہی مساجد کے طیب و طاہر ماحول میں۔ دوسرے طبقے کی بات کیا کرنی مگر ہمارے مولوی حضرات کو یک دم سے کیا انہونی بیت گئی وہ مساجد میں ہی۔۔۔۔۔ استغفراللہ
    لکھاریوں کے قلم اس حساس ترین موضوع پر ہر واقعہ کی مذمت میں حرکت میں آئے مگر بندہ ناچیز خاموشی سے تمام معاملات کے مشاہدہ کی کوشش کرتا رہا کیونکہ راقم الحروف وقتی اور جذباتی سوچ سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زوایوں سے سوچنے کے مرض میں بھی مبتلا ہے۔ میں اس بات کا بارہا اظہار کر چکا ہوں کہ پاکستان بین الاقوامی گریٹر گیمز (International Greater Games) کا سرکردہ اور اہم ترین سٹیک ہولڈر یعنی شراکت دار ہے۔ اقوام عالم میں پاکستان کا اثرو رسوخ آئے دن بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے۔ اسی لیے سوچ کا ایک زاویہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں ریپ کیسز کا بڑھنا، ان کی بڑے پیمانے پر میڈیا رپورٹنگ، واقعات کی سوشل میڈیا پر انتہا کو چھوتی تشہیر اور پاکستان کو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور متشدد ملک ثابت کرنے کی کوشش کرنا پاکستان کے خلاف کسی گھمبیر سازش کا پیش خیمہ ہے۔ اور اس سوچ کی وجہ یہ ہے کہ ساوتھ افریقہ، آسٹریلیا، بیلجیئم، امریکہ، فرانس، سویڈن، آسٹریا اور بھارت جیسے ریپ کیسز کے سر فہرست ممالک کو چھوڑ کر کم ترین سکور کے ساتھ فہرست کے آخری اور نچلے ترین درجوں میں موجود پاکستان کو دنیا کے سامنے "#ریسپتان” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار این جی اوز کا سارا نزلہ بھی اسی ملک پر گرتا ہے۔ اور حقوق نسواں کو لے کر تمام تنقیدی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ تھا

    اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کرتے ہیں۔ بالفرض اگر یہ کوئی سازش بھی ہے تو ہم اپنے وطن کے خلاف اس سازش میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہاں پے در پے ہونے والے واقعات کو نہ تو ہم نے سنجیدگی سے لیا اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام اور قانون کی مناسب انداز میں عملداری کے لیے منظم اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ زینب انصاری، چارسدہ کی زینب، حوض نور، مشال، قراتہ العین اور موٹروے پر خاتون کی عصمت دری سمیت نہ جانے کتنے ہی واقعات ایسے ہوں گے جن سے ہمارا سامنا ہوا مگر ہم نے کسی ایک سے بھی عبرت حاصل نہیں کی۔ ہمارے یہاں ایک افسوس ناک رواج جنم لے چکا ہے کہ یہاں واقعہ رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے، سرکار کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لیا جاتا ہے، کمیٹی بنائی جاتی ہے، واقعہ کی کمزور تفتیش عمل میں لائی جاتی ہے، ملزم کے خلاف طویل عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتا ہے اور یہ معاملہ ابھی جوں کا توں لٹکا ہوتا ہے کہ اتنی دیر میں ہم دوسرے واقعہ کو جھیل کر اسی بیان کردہ سرکل کے پہلے مرحلے میں دوبارہ داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ منظم قانون سازی، قانون کی مناسب عملداری، معیاری تفتیش، فوری اور منصفانہ عدالتی کاروائی اور مثالی سزاوں کی عدم دستیابی حیوان صفت جنسی مریضوں کے حوصلے مزید بلند کر رہی ہے جس کے باعث جنسی زیادتی یا ریپ کی آگ کئی زندگیاں اور گھر برباد کرتی ہوئی مسلسل پھیل رہی ہے۔
    آج کے ترقی یافتہ دور میں جب پوری دنیا کی خواتین ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور ہم اپنی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو یقینی طور پر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ریپ کیسز کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی اس قدر میڈیا تشہیر نے حصول علم و رزق کی خاطر گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔ حالات ایسے بن چکے ہیں کہ والدین اپنی بچیوں کے گھر سے نکلنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
    خواتین کو تحفظ اور ان کے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان حالات و واقعات کی سنجیدگی سمجھے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروکار لائے۔ فحش بینی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات جو ایسے واقعات کا پیش خیمہ بنتی ہیں ان کو حتی الامکان حد تک روکا جائے۔ پارلیمنٹ میں انسداد ریپ آرڈیننس 2020 اور ریپ سے متعلق موجود قانون پر اسکی حقیقی روح کے مطابق عملداری کے لیے جامع اور منظم طریقہ کار وضع کیا جائے اور ایسے واقعات کا شکار لوگوں کے لیے عدالتی انصاف کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔ میرے نزدیک ایک فلاحی ریاست کی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کو معاشرے کا باکردار اور مہذب فرد بننے میں مدد فراہم کرے۔ لہذا عوام الناس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آگہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے کہ میڈیا کی بدولت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تہذیب یافتہ معاشرے سے متعلق آگہی پھیلائی جا سکتی ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تاکہ سکول، کالجز، مدارس اور کام کاروبار کی جگہوں پر خواتین کو محفوظ ماحول میسر آ سکے۔
    حکومت کے ساتھ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہر باشعور اور مہذب شہری پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سماجی کارکنان، انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیموں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس نیک عمل میں حصہ لیں اور معاشرے میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے شعور کو اجاگر کرنے میں تعمیری کردار ادا کریں۔ میرے نزدیک ایک خاتون کو تحفظ فراہم کرنے سے مراد آئندہ ایک مکمل نسل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عورت کا تحفظ ہماری ایک قومی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل ہم سب کے ذمے ہے۔

    @DSI786

  • ‏حقوق نسواں اور اسلام  تحریر؛ سردار ہارون بابر

    ‏حقوق نسواں اور اسلام تحریر؛ سردار ہارون بابر

    اسلام محض دین نہیں بلکہ ایک ضابطہ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے ذریعے تمام بنی نوع انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کردیے گئے ہیں۔
    دوسرے کا حق، ہمارا فرض ہوتا ہے، جسے ادا کرنا لازم ہے۔
    حقوق کے بارے میں عورتوں کو ہمیشہ پس پشت ہی رکھا گیا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں طرح طرح کے ظلم و ستم عورتوں پہ ڈھائے گئے۔
    لیکن اسلام نے عورت کو عزت بخشی، گھر کی زینت بنایا، اگر ماں ہے تو جنت ہے اور اگر بیٹی ہے تو رحمت۔

    اللہ تعالیٰ سورة النساء میں فرماتے ہیں کہ؛

    اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ
    ترجمہ؛ مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نےاپنے مال خرچ کئے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ نے اگر مرد کو فضیلت بخشی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مرد، عورتوں کو زر خرید غلام سمجھنے لگے۔ بلکہ دونوں کی اپنی اپنی زمہ داریاں ہیں جن کی ادائیگی سے صحت مند معاشرے پروان چڑھتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی عورتوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔
    خواہ تعلیم حاصل کرنا ہو یا خود سے روزگار کمانا ہو، عورت بااختیار ہے۔
    بلکہ قوم کی کئ بہادر بیٹیوں نے پاکستان کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔ جن میں فاطمہ جناح، رعنا لیاقت، بلقیس ایدھی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر سارہ قریشی، منیبہ مزاری اور خواتین کرکٹ ٹیم کی ثناء میر سر فہرست ہیں۔
    دفاعی میدان میں بھی پاک دھرتی کی بیٹیوں نے محنت سے اپنا لوہا منوایا ہے جیسے نگار جوہر، شازیہ پروین اور شہید مریم مختار وغیرہ۔
    پس ثابت ہوا کہ عورت با حیا انداز میں دنیا کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ روزگار بھی کما سکتی ہے۔
    اللہ نے خاص عورتوں سے بات کرنے کے لیے سورة النساء نازل فرمائی ہے۔ جس میں عورتوں سے متعلق تمام تر امور تفصیل سے بیان فرما دیے۔ زمانہ جاہلیت میں، اسلام سے قبل عورتوں کا وراثت میں کوئی حصّہ نہ تھا مگر اسلام نے عورتوں کا حق مقرر کیا۔
    پر افسوس! کچھ عورتیں اللہ کا فرمان نہیں مانتی۔ نہ پردہ کرتی ہیں نہ حیاء۔
    پھر لوگ بھی پریشان کرتے ہیں اور شیطان بھی۔
    اور اپنی اس بے پردگی کو آزادی کا نام دیتی ہیں؟؟؟

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: ’’ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘​

    حیاء عورت کا زیور ہے۔ پردہ عورت کو باقی تمام عورتوں سے مختلف شناخت دیتا ہے تاکہ اسلام کی بیٹی پہچانی جائے۔

    اللہ تعالیٰ سورة الاحزاب میں فرماتے ہیں کہ؛

    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا
    ترجمہ؛ اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔

    مگر کچھ ایسی خواتین بھی ہیں، جو آزادی کے نام پر بے حیائی پھیلا رہی ہیں۔
    کچھ جھوٹی شہرت تو کچھ چند پیسوں کے عوض گھٹیا تحریک ” میرا جسم، میری مرضی” میں ملوث ہیں۔ یہ عورت مارچ، معاشرتی بگاڑ کے علاوہ کچھ نہیں۔
    اگر کم کپڑے پہننا یا بے لگام گھومتے پھرتے رہنا ‘ ماڈرنیزم ‘ ہے تو جانور ان عورتوں سے زیادہ جدید ہیں۔
    قرآن و حدیث میں پہلے ہی عورتوں کے حقوق و فرائض بیان فرما دیے گئے ہیں۔
    تو پھر انھیں کونسا حق چاہیے؟؟
    کونسی آزادی چاہئے؟؟ کیا یہ باپ سے آزادی چاہتی ہیں جو سراپا شفقت ہے۔ یا بھائی سے؟؟ جو محافظ ہے۔ یا پھر اپنے ہی شوہروں سے؟؟

    ایسی عورتیں جعلی کیسز بناتی ہیں کبھی ذاتی تشہیر کے لیے تو کبھی پیسوں کے لیے اور مردوں پہ الزام لگاتی ہیں۔
    ایسے جعلی کیسز، حقیقی مظلوموں کے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسی چال باز عورتوں کو جہاں موقع ملے وہاں ہی بے نقاب کرنا چاہیے کیونکہ یہ عورت کے وقار پہ دھبہ ہیں۔

    کیسے ہوگی اب اس فرض کی پاسداری
    عمل سے دور ہوگئ بنتِ حوا بیچاری
    تقدس ہوا پامال بے حجابی کے دور میں
    روک اسے نہ پائی گھر کی چار دیواری

    یہ عورتیں اس گندی مچھلی کی مانند ہیں جو پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہیں۔
    لیکن اس سب کے باوجود ہماری قوم کی بیٹیاں، مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

    ‎@HaroonForPak

  • خواتین پر تشدد کے واقعات  میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟  تحریر  صائمہ رحمان

    خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ تحریر صائمہ رحمان

    عورت پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہی عورت کو عزت کے نام پر تشدد کیا جاتا ہے یا ان کو زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات تط ہی روح نما ہوتے ہیں جب عورت اپنے آپ کو کمزور اور بے بس سمجھتی ہے مظلوم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس ظلوم کو برداشت کرتی رہتی ہے اور ایک دن یہ برداشت جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے جسے دوسروں خاندان والوں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گھریلو تشدد یا رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بیشتر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ یہ تشدد کے واقعات زیادہ تر پسماندہ علاقوں میں زیادہ رپورٹ کئے گئے ہیں۔ کیونکہ ایسی خواتین کو نا صرف تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے بلکے عورتوں کے بنیادی حقوق سے بھی آگاہ نہیں کیا جاتا۔
    پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرویڈیوز یا ایسی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جس میں ایک شوہر نے اپنی اہلیہ کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ اپنی جان کی بازی ہار گئی یا ہسپتال پہنچ گئی
    لیکن سوال یہ ہے کہ عورت یہ ظلم برداشت کیوں کرتی ہے؟ کون سے ایسے عوامل ہے جو اس اذیت کو برداشت کرنے پر مجور کر دیتی ہے مجبور عورتیں اپنے گھر کو بچانے کےلئے اپنے بچوں کی خاطر یہ تشدد برداشت کرتی ہے نا ان کو اپنے میکے سے سپورٹ ملتی اور معاشرے میں طاق یافتہ کہلانے کا ڈر ایک مجبور عورت کو یہ گھریلو ظلم سہنے پر مجبور کرتا ہے۔گھریلو تشدد کا موضوع ایسا ہے جس پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔ جب بھی گھر کی چاردیواری کے اندر جب بھی خواتین پر تشدد کی جاتی ہے تو معاشرے میں ہاہا کار مچ جاتی ہے۔ عورت سے طرح طرح کے سوال پوچھے جاتے ہیں؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے جب تھمارا شوہر مارتا تھا تب کیوں نہیں آئی؟ تب آواز کیوں نہیں اٹھائی کہ تم نے یہ پہلے رپورٹ کیوں نہیں کیا؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ ثبوت دکھاؤ کہ کیا تم پر واقعی تشدد ہوا ہے یا نہیں؟
    ایسے سوالات ایک کمزور عورت کو یہ سب تشدد برداشت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ایک بے سہارا عورت آخر اپنے شوہر کا ہاتھ چھوڑ کر جائے گی کہاں؟ اس کو اپنے بچوں کو بھی چھوڑنا پر سکتا ہے۔
    اگر ایک عورت اپنے ماں باپ کے گھر جانا چاہے تو اُس کو بھی ایک یہ بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ اگر ایک عورت ملازمت کرنا چاہے اور اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنا چاہئے تو تب بھی کہرام مچا دیا جاتا ہے اگر وہ اپنے میکےاپنے ماں باپ کو بتانا چاہتی ہے تو اس پر بھی اس کو روکا جاتا ہے یا وہ خود روک جاتی ہے گھر بتایا تو وہ پریشان ہونگے۔
    عورت کو یہ سمجھا کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ شوہر ہے چار دیواری کے اندر مسئلے کو حل کرو اپنے بچوں کی خاطر برداشت کرو اچھے دن بھی آئیں گے اگر گھر چھوڑ دیا یا طاق ہو گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا کہاں جاو گی؟
    اورعمومی طورپر یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ یہ ایک روزہ مرہ کی بات ہے اور آپ اس چیز کو دبا دیں اور آپ اپنے گھر کو بچا نے کی کوشش کروں ان بچوں کا کیا ہوگا اگر آپ پولیس میں جانے کی کوشش کریں تو وہاں پر بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک گھریلو معاملہ ہے ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں آواز اُٹھائیں تو آپ کو طرح طرح کی ’بتاتے سننے کو ملی گئی جس سے خاندان کا نام خراب ہوگااور آپ پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ اپنے گھر کی عزت خراب کرنے کے جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ایک مجبور عورت اس امید پر سب برداشت کرتی ہے کہ اچھے دن بھی آئیں گے ابھی سہتی ہوں بعد میں سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن ایسا اکژ ایسا ہوتا نہیں
    ’مجبور عورتیں اسی لیے اس چیز کو رپورٹ نہیں کرتی کیونکہ کہ ہم نے کبھی اُن کو اس طرح کے ساز گار مواقع ہی فراہم نہیں کیے کہ وہ آرام سے آسانی سے اپنے اس مسئلے کو بیان کر سکیں اور پھر ان کو تحفظ بھی دیا جائے یہ ہمارے معاشرے کی ذمہداری ہے ایسی عورتیں میں خوداعتمادی پیدا کرے کہ وہ اپنے حق کے لئے کھڑی ہو سکتی۔
    خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے ملک میں کئی قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات کا مسلسل بڑھنا تشویش کا سبب بن رہا ہے اصل مقصد ان قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے یہ قوانین صرف کتابوں میں یا صرف آرڈر میں ہی نظر نہیں آنے چاہیئے، اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی قابل فخر ہے یہ واحد پلیٹ فارم ہے ایسے واقعات کو نا صرف اجاگر کرتا ہے بلکے قصور وار کو بے نقاب بھی کرتا
    پاکستان میں پنجاب اسمبلی نے خواتین کو گھریلو تشدد، نفسیاتی اور جذباتی دباؤ، معاشی استحصال اور سائبر کرائمز سے تحفظ دینے کا قانون متفقہ طور پر منظور کیا ہے خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے عدالت ان افراد جن سے خواتین کو تشدد کا خطرہ ہو، پابند کرے گی کہ وہ خاتون سے ایک خاص فاصلے پر رہیں۔
    ریزیڈینس آرڈ کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر گھر سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی بھی خاتون جان کا خطرہ ہویا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جائے یا اسے خاندان کے افراد اس خاتون کو گھر سے نکال دیں تو ایسی صورت میں عدالت خاندان کو پابند کرسکے گی کہ خاتون کی رہائش کا متبادل بندوبست کرے یااسے دوبارہ گھر میں جگہ دی جائے۔
    گھریلو تشدد کو صرف کسی قانون سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کے اندر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں آگاہی دی جائے کہ ہماری بیٹیوں ،بہنوں کو بتایا جائے کہ آپ کے کیا حقوق ہیں؟ آپ اگر کسی جگہ شادی کر کے جا رہی ہیں تو آپ نے کن چیزوں کو مدّنظر رکھنا ہے اگر ہم ان چیزوں کے اُوپر عملدآمد کریں گے تو ہم اس گھریلو تشدد جیسے عفریت پر قابو پا سکیں گے۔ ورنہ یہ چیزیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گی اور اگر پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے تو ہمیں ابھی ان چیزوں کے اوپر قابو پانا ہوگا۔
    خواتین کو ان قوانین استعمال کےلئے جو ان کو تحفظ دے گا شعور اجاگر کیا جائے اور ایک مضبوط عورت اس تشدد کے واقعات پر خود ہی قابو پا سکتی ہیں اگر وہ یہ عزم کر لے کہ ظلم کو سہنا نہیں اپنے حق کے لئے لڑنا ہے تو ان واقعات پر قابو پایاجا سکتا ہے۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • فیمنزم  تحریر : اقصٰی صدیق

    فیمنزم تحریر : اقصٰی صدیق

    ویسے تو فیمنزم کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر صحیح معنوں میں فیمنزم ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق مرد اور عورت دونوں یکساں انسانی حقوق، بنیادی سہولیات، معاشی اور سماجی حقوق کے حق دار ہیں۔فیمنزم اصل میں مغربی خواتین کی اپنے حقوق کے لیے کئیے جانے والی جدوجہد کی ہی ایک شکل ہے۔
    فیمنزم کا آغاز اس وقت ہوا، جب 1911 میں برطانوی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔

    دیکھا جا سکتا ہے، کہ مغربی خواتین نے اپنے حقوق کیلئے کوششیں کی جو ابھی تک جاری ہیں ۔
    مغربی خواتین نے پہلے خود کو مرد کے تسلط سے آزاد کیا، تعلیم، ملازمت، بزنس، غرض کہ ہر جگہ یکساں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں جس کے پیش نظر انہیں حقوق کی جدوجہد میں بہت آسانیاں رہیں۔
    حال ہی میں پاکستان میں بھی فیمنزم کا نام سنا جانے لگا ہے گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں بہت تیزی بھی آئی ہے۔ پاکستان میں فیمنزم کے حوالے سے خواتین کا کردار ہر گز مغربی خواتین والا نہیں ہے یہاں خواتین کو حقوق مغربی خواتین والے چاھئیں مگر ذمہ داریوں کے لحاظ سے پاکستان کی خواتین اتنی زمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔
    معاشرہ مرد و عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے۔دیکھا جائے تو خواتین کے استحصال میں مردوں کا حصہ زیادہ گناجاتا ہے، یہ بات بھی قابل قبول ہے لیکن خواتین اس معاشرہ کا حصہ ہیں۔ خواتین پر ظلم نہیں کیا جاسکتا، یہ ترقی یافتہ قوموں کا دستور نہیں۔

    موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گالی کی طرح بنا دیا گیایہ لفظ عورتوں کے اپنےحقوق کی کتنی لمبی لڑائی اور جدوجہد کے کے بعد وجود میں آیا ہے، تاریخ میں اس کے حوالے سے ہزاروں مضامین اور کتابیں موجود ہیں لیکن آج بات چیت کا موضوع وہ نہیں ہے۔

    جب ایک معاشرہ عورت کی عقل و دانش کی نفی کرتا ہے تو اسے فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا، اسے اختیارات حاصل نہیں۔ایسے معاشرے میں عورت کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی مانند ہوتی ہے جن کو انسان کچھ فائدے اٹھانے کے لیے پالتا ضرور ہے لیکن انہیں وہ اپنا جیسا نہ تو اپنے جیسا سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی ان سے برابری کا سلوک کر سکتا ہے۔

    حقوق نسواں(عورتوں کے حقوق) اور فیمنزم بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے،
    جس پر ہمارے معاشرے میں بغیر کسی سمجھ بوجھ کے، اسکی تاریخ، اغراض و مقاصد، اور کردارکو جانے بغیر رائے دی جاتی ہے اور بعد میں یہی اختلاف رائے یا اتفاق رائے بعض اوقات بہت پیچیدہ مسائل کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
    فیمنزم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں مردکت نقطہ نظر کو ترجیح دی جاتی ہے اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی، امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں فیمنزم ایک ایسی جدوجہد مسلسل کا نام ہے جس میں خواتین کیلئے مردوں کے برابرتعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کی جدوجہد کرنا شامل ہے۔
    خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل ایک تحریک فیمنسٹ موومنٹ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، اس مہم میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدے پر فائز ہونا، جائداد کی ملکیت کا حق حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، پسند کی شادی کرنے کا حق خواتین اور لڑکیوں کو عصمت دری، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا، من پسند لباس زیب تن کرنا اور مناسب اور قابل قبول جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق شامل ہیں۔

    عورت ’’انسان ‘‘ کا نسوانی روپ ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس کے امکانات بھی لامحدود ہیں۔

    ہم تاریخ کے تسلسل کا ایک حصہ ہیں۔برصغیر میں مسلمان معاشرے کی تاریخ ہمیں ہرگز یہ نہیں بتاتی کہ ہمارے آباؤ و اجداد عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
    زیادہ تر معاشروں میں یہ رواج نہ جانے کب سے چلا آرہا ہے کہ عورتوں کو مذہبی معاملات سے دوررکھا جاتا ہے۔ دنیاوی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے دینی تعلیم کی بھی نفی کی جاتی ہے۔
    برصغیر کے مسلم معاشرے میں عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم کرنے کے روشن شواہد موجود ہیں۔

    آج جب میں دنیا بھر کے مسلمان معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا دیکھتی ہوں، تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔کیونکہ میں مغرب کی آزاد و خود مختار عورت کو پس پشت ڈالتے ہوئے زمانہ جاہلیت کے دور میں زندہ دفن کر دی جانے والی عورت سے لے کر موجودہ دور میں ظلم و تشدد، جبر، غربت کی چکی میں پیستی، ہراساں کی جانے والی، تیزاب پھینک کر جلا دی جانے والی اور غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی بنتِ حوا کو دیکھ کر خوف زدہ ہوں، اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہوں.

    @_aqsasiddique

  • میاں بیوی کا رشتہ  تحریر: امتیاز احمد سومرو

    میاں بیوی کا رشتہ تحریر: امتیاز احمد سومرو

    دنیا کا سب سے بڑا رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر اللّٰہ تعالیٰ کے بعد کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتی کہ اس کی بیوی سجدہ کرے۔”

    میاں بیوی کی محبت اسلام ہمیں سیکھاتا ہے اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس محبت کا عملی ثبوت دیا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اماں عائشہ صدیقہ راضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جیسی محبت کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ایک بار پانی پی رہی تھیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ اپنے اس پانی سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی بچا کے دینا ہے جب حضرت عائشہ صدیقہ نے اپنے حصے کا بچا ہوا پانی دیا تو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ مجھے وہ جگہ بتائیں جہاں سے آپ نے اپنے ہونٹ لگائے ہیں۔سبحان اللّٰہ دیکھیں کیسی محبت ہے۔
    اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ کہا ہے۔ دنیا میں کامیاب انسان اگر دیکھے جائیں تو ان کی کامیابی میں ان کی بیوی کا ہاتھ ہو گا جو اس ہر مشکل حالات میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور تاریخ بھری پڑی ہے جس میں کسی شخص کی ناکامی میں اس کی بیوی کا ہاتھ ہوگا۔شیطان روز کچہری لگاتا ہے اور اپنے چیلوں سے پوچھتا ہے کہ آج کیا کام ہے سب باری باری بتاتے ہیں کہ حضور آج جھوٹ بلوایا ہے کوئی کہتا ہے زنا کرایا کوئی کہتا ہے چوری کرائی ہے اس طرح سارے بتاتے ہیں آخر میں ایک چیلا رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے حضور میں نے میاں بیوی کی لڑائی کرائی ہے۔تو شیطان فورا خوش سے تالیاں بجاتے ہوئے کہتا ہے اصل کام تو تو نے کیا ہے اور اس چیلے کو اپنے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ کتنا بڑا یہ رشتہ ہے۔ میاں بیوی کی لڑائی مطلب شیطان کی خوشی تو کیا ایک مومن کبھی چاہے گا کہ اس کے عمل سے شیطان خوش ہو؟؟
    آج کل مرد عورت کو غلام بنانا چاہتے ہیں اور عورتیں مرد کو۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے درمیان رشتہ کتنا بڑا ہے ان کی لڑائی نسلیں تباہ کر دیتی ہے۔کوئی یہ کوشش نہیں کر رہا کہ کیسے ہم اس رشتے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کمپرومائز کریں تو زندگی حسین بن سکتی ہے ۔ مرد عورت کو سمجھے اس کی تکلیف سمجھے عورت مرد کو سمجھے تو وہ ایک خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں۔ اپنی لڑائی ایک بند کمرے میں لڑی جائے کسی تیسرے فریق کو خبر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک گھر کو خوش حال کرنے میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔مرد عورت کو خوش رکھیں اس کے لیے مرد کوشش کرے۔ عورت کو خوش کیسےرکھا جا سکتا ہے یہ طریقہ ہمیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے انہوں نے ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے
    ” عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس لیے وہ پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر آپ طاقت سے اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو عورت ٹوٹ جائے گی اور اگر پیار سے آہستہ آہستہ سیدھا کرو گے تو سیدھی ہو جائے گی”

    بس میاں بیوی ایک دوسرے سے پیار کریں اپنے بچوں کو وقت دیں ان کی تربیت اچھی طرح کریں اور زندگی حسین بنائیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار  تحریر: سید عمیر شیرازی

    معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    بقول حکیم الامت علامہ اقبال وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اگر آپ مصرع پر غور کریں تو کوزہ میں دریا کو سموسے کی مثال صادق آئے گی وجودزن ہی دراصل اس پر آشوب اور رخج و محن سے لبریز دنیا میں سکون و اطمینان کا باعث ہے۔
    اسلام سے پہلے عورتوں کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا مسیحی دنیا میں عورت کو ایک ناگزیر برائی تصور کیا جاتا تھا اور ہندو اسے ناپاک حیوان سمجھتے تھے اور شوہر کے مرنے پر اسے ستی ہونا پڑتا تھا،
    عرب کی دنیا میں بھی یہی حال تھا عرب کے لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے اور انہیں جائیداد منقولہ کی طرح بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا باپ کے مرنے کے بعد بیٹے سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیتے تھے میراث میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اسے حصول تعلیم کی اجازت دی اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حقوق حاصل تھے ان کا کام صرف مردوں کو آرام و سکون پہنچانے اور ان کی اولاد کی پرورش کرنا تھا۔۔
    ایک وقت میں مرد کئی کئی عورتیں رکھتے تھے
    اہل مغرب (جو اپنے آپ کو تہذیب کا علمبردار سمجھتے ہیں) عورت کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مغربی دنیا میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ روزی کمانا پڑتا ہے جسے تہذیب کے یہ علمبردار مساوات سمجھتے ہیں،
    یہ مساوات نہیں بلکہ عورت کے حقوق کے غصب کی ایک صورت ہے مغربی دنیا میں آج بھی عورت کی حالت بدتر ہے اور وہ غلام بنی ہوئی ہے ۔۔۔ گویا اسلام سے پہلے عورتوں کی زندگی محرومیت کا شکار تھی اور وہ ذلت کی زندگی گزار رہی تھیں۔
    دنیا کے تمام مذاہب میں صرف دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں باعزت اور قابل احترام مقام بخشا ہے اسلامی معاشرے میں عورت ماں ہو یا بیٹی بہن یا بیوی ہر لحاظ سے باعزت اور قابل احترام ہے اس کی حیثیت اور مرتبے کے مطابق اس کے حقوق مقرر کردیا گئے ہیں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو تاکید کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کا خیال رکھیں،
    اسلام نے معاشرے میں عورت کو اس کا جائز حق اور بلند مرتبہ عطا فرمایا بیوی کو میراث میں اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی حصہ عطا کیا۔

    "وہ رتبہ عالی کوئی مذہب نہیں دے گا
    کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام”

    اس سلسلے میں قرآن پاک کی بلاغت کی انتہا یہ ہے کہ اس نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اندر بیوی کے جملہ حقوق ارشاد فرما دیے،
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرتا ہے”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے پیٹنے اور برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
    اس میں شک نہیں کہ مردوں کو اللہ تعالی نے زیادہ طاقتور توانا اور مضبوط بنایا ہے اور انہیں قوی اعضاء سے آراستہ کیا جب کہ عورتوں کو کمزور اور نرم و نازک بنایا ہے ان کے اعضاء بھی کمزور اور ان کی دماغی قوتیں بھی مردوں سے کم ہیں البتہ عورتیں بالحاظ جذبات مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں،
    ان میں محبت،الفت، رحم،حیاء، شرم اور غصہ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے حصول تعلیم سے ان کے جذبات میں اور بھی نکھار پیدا ہوجاتا ہے اور یہی جذبات پھر ان کے بچوں میں سرایت کرتے جاتے ہیں اور ان کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں دنیا میں جس قدر بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں ان کی تعلیم و تربیت میں اصل ہاتھ ماں کا تھا اور ماں ایک عورت ہی ہو سکتی ہے۔

    "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”

    ‎@SyedUmair95

  • خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ   تحریر: محمد اختر

    خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، یوں تو کہنے کو پاکستان اسلامیملک ہے مگر افسوس صد افسوس پاکستان میں عورتوں کے خلاف بڑھتے تشدد کے واقعات باعث تشویش ہے، جس کی بنیادی و جہ ناقص تحقیقات اور انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ آئیے! اس ضمن میں حالات اور واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔پاکستان میں خواتین کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ملازمت پر ہراساں کرنے سے لے کر بے دردی سے قتل کیے جانے تک، پاکستانی خواتین عام طور پر زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کے تخمینے کے مطابق، پاکستان میں 70%-90% خواتین کو کسی نہ کسی طرح کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2005 میں، ایک مطالعہ میں 176 شادی شدہ مردوں سے کراچی میں گھریلو تشدد کے بارے میں اپنی رائے کے بارے میں انٹرویو کیاگیا۔ 46%نے کہا کہ مردوں کو اپنی بیویوں کو زدوکوب کرنے کا حق ہے، جبکہ65% نے اپنی ماؤں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنتا دیکھا ہے۔ پاکستان میں اسلام کی غلط تشریح کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد کی سطح بہت زیادہ ہے۔ شوہر یا سسرال والے عام طور پر خواتین پر تشدد جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ 2003 میں، اسلام آباد میں ہونے والی ایک تحقیق میں 216 شادی شدہ خواتین نے حصہ لیا۔ ان خواتین میں سے، 96.8% نے گھریلو زیادتی کی کچھ اقسام کا سامنا کیا۔مبینہ طور پر 80% مجرم شوہر ہیں اور 17%ماں یا سوتیلی مائیں ہیں۔خواتین کے خلاف جسمانی تشد د ہی صرف زیادتی کی واحد قسم نہیں ہے بلکہ اس کی بہت سی اقسام ہیں۔ پاکستان میں گھریلو تشدد معمول بنتا جارہا ہے کیوں کہ مرد اپنی بیویوں کا واحد مالک اور نگہبان تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کے حقوق کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔1999 کی ایک رپورٹ میں 24-45سال کی عمر کے 70 مردوں سے انٹرویو کیا گیا جس میں سے 54 افراد نے اپنی بیویوں کے ساتھ اتفاق رائے سے تعلقات کو قبول کرنے کا اعتراف کیا۔ پاکستان میں بیویوں پر تشدد کے بارے میں 2015 کے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ جنسی تشدد کی انفرادی رپورٹس خواتین میں 77%، جسمانی 50% اور نفسیاتی 90 فیصد تک ہیں۔پاکستان میں خواتین کا ازدواجی زیادتی کا شکار بننے سے اکثر غیر ضروری حمل ہوجاتے ہیں۔ 2002 میں چوبیس لاکھ غیر ارادتاً حمل ہوئے۔ جس کے نتیجے میں نو لاکھ کا اسقاط حمل ہوا۔پاکستان میں اسقاط حمل کے محفوظ طریقوں کی کمی کی وجہ سے،دو لاکھ خواتین پیچیدگیوں کے سبب اسپتال میں داخل ہوگئیں، اور ہر 10 خواتین میں سے 1 عورت فوت ہوگئی۔پاکستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی کا بہت بڑا فقدان ہے کیونکہ عام طور پر اسے اسلام کے مخالف بیانیہتصور کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے اسلا می تعلیمات کے مطابق شوہر کو خاندان کا حاکم ہونے کا اعزاز ضرور ہے مگر شوہر کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ بیوی کے حقوق کو سلب کرے کیونکہ دینِ اسلام میں خواتین کو بہت معتبر سمجھا گیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کو عوام میں بھی ہراساں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مددگار ہیلپ لائن کے مطابق، پاکستان میں 93% خواتین کو عوامی مقامات پر جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کو موصول ہونے والی شکایات میں 56% خواتین کی طرف سے ہیں جبکہ 13% مردوں کی طرف سے ہیں۔2015 سے اب تک، پاکستان میں 22000 زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ روزانہ اوسطا 11 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس میں سزا کی شرح صرف 0.3% ہے۔مزید یہ کہ اس دور جدید میں آن لائن ہراساں کرنے کے معاملات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ خواتین کو فوٹو شاپ تصویروں کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کو 2018-2019 میں خواتین کی جانب سے 8500 شکایات موصول ہوئیں۔ تاہم، صرف 19.5%ہی تحقیقات کی گئیں۔پاکستان میں خواتین کو درپیش تمام پریشانیوں کی وجہ سے، عالمی سطح پر صنفی گیپ انڈیکس سیاسی بااختیارگی، معاشی شراکت، تعلیمی حصول، صحت اور بقا کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار دیتا ہے۔

    @MAkhter_

  • جدید دور کی جدید محبتیں .تحریر: فروانذیر

    جدید دور کی جدید محبتیں .تحریر: فروانذیر

    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر بہت خوبصورت فکرے دیکھے جو دل کو بھا گئے

    وہ فکرے کچھ یوں ہیں:

    نکاح سے پہلے،
    محبت چاہے زمزم سے دھلی ہو،
    یا قرآنی آیات سے دم کی گئی ہو،
    گمراہی ہے،دھوکہ ہے،
    فریب ہے،بے حیائی ہے،
    حرام ہے اور بے سکونی ہے

    میں نے سوچا اس موضوع پر مجھے اپنے خیال کا اظہار کرنا چاہیے
    چونکہ آج کل یہ معاملہ سب سے زیادہ دیکھنے میں آتا ہے، ہر دوسرا شخص دل کا مرض دکھائی دیتا ہے اسکی کوئی تو وجہ ہو گی

    ایک وقت تھا جب محبت کا نام لیا جاتا تو دماغ میں ہیر رانجھا لیلہ مجنوع جیسی کہانیاں اتی تھیں جن کی
    محبت میں لازوال قربانیاں ہر طرف مشہور تھی
    ہمارے بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ اس وقت کی محبت بہت خالص ہوتی تھی تو اب کیا ہم خالص انسان نہیں رہے ؟؟
    ہماری محبت صرف دکھاوے کی حد تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔؟؟

    کیا عشق جیسا خوبصورت احساس کرنے سے لوگ قاصر ہیں۔۔؟؟

    یہ سب آخر ایسا کیوں؟؟؟
    آئے روز ہم بہت سی کہانیاں سنتے ہیں کچھ دن محبت کے نام پر لوگ بات چیت کرتے ہیں اور محبت ہو جاتی ہے اور ٹھیک چند دنوں بعد بریک-اپ ہوجاتا اور سب معاملہ ختم

    ایک مہینے بعد خبر آتی یے کہ انہی محبت کرنے والوں نے کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔
    یہ بات سمجھے سے قاصر ہوں کہ وقتی طور پر بات چیت کو محںت کا نام کیوں دیتے ہیں یاپھر معاشرے میں دکھاوا اس قدر ہو گیا یے کہ ہم رشتوں کی خوبصورتی کو بھول چکے ہیں

    اس جدید دور میں جہاں احساس ختم ہوتا جا رہا ہے وہاں ہم ایک غلطی یہ بھی کرتے ہیں کہ اپنے بڑوں کو ان معاملات سے دور رکھتے ہیں جس کے بدلے میں ہمارا اپنا نقصان ہوتا ہے

    نفسا نفسی کا یہ الم ہر طرف پھیل چکا ہے بہت سے لوگ اپنی نفسیاتی خواہشات کو پورا کرنے کیلیے وقتی طور پر محبت جیسے خوبصورت رشتوں کا استعمال کرتے ہیں اور جب انکا دل بھر جاتا ہے تو اور کوئی رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    یہ کیا نظام چل رہا ہے کیا ہم اسطرح ملک میں کام کرسکتے ہیں کیا یہ ہمارا اسلامی نظام ہے جس کے نام پر لاکھوں پیاروں کی قربانیوں کے بعد ہمیں یہ چمن ملا۔۔۔

    ہم سب مسلمان ہیں اسلام کے پیروکار ہیں ہمارا مذہب یہ تعلیمات نہیں دیتا
    اگر ایسا کرنا ہی ہے تو اللہ پاک نے ایک بہت پیارا جائز رشتہ دیا ہے نکاح کا
    نکاح کرو اور اپنی خواہشات پوری کرو

    یہ معاشرے کو خراب کرنے والے کام نہ کرو جس سے شرمندگی اٹھانی پڑے

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ معاشرے میں شر انگیزی کو پھیلانے سے روکا جائے اور سنت رسول پر عمل کریں تاکہ دنیا اور آخرت میں عزت کا مقام پائے

    اللہ پاک ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں

    آمین ثمہ آمین

    Twitter : @InvisibleFari_

  • مرد محافظ ہے  تحریر: سحر عارف

    مرد محافظ ہے تحریر: سحر عارف

    آج تک ہمارے معاشرے میں صرف عورتوں کے حقوق سے لے کر ان کی معاشرے میں اہمیت، ان کی آزادی کے لیے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے آواز اٹھتی رہی ہےاور ایسے میں عورتوں کو پیش آنے والے ان تمام مسائل کی وجہ مردوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

    کہیں نا کہیں یہ بات بھی بلکل درست ہے کہ زیادہ تر مرد ہی عورتوں کی آزادی کے خلاف، ان کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذمہ دار ہیں ہیں۔ پر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد ایک سے نہیں ہوتے۔ جہاں کچھ مرد عورت ذات کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کو تشدد اور اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں وہیں بہت سے مرد عورت ذات کی عزت کرنا بھی باخوبی جانتے ہیں۔ یہی چیز اگر ہم اپنے گھروں میں دیکھیں تو ہمارے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان مردوں سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر ایسے مرد بھی موجود ہوتے ہیں جو راہ چلتی عورتوں سے نظریں جھکا ہر چلتے ہیں۔

    پر افسوس کا عالم یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف چند ایسے مردوں کی وجہ سے جو عورت ذات کو درپیش مسائل کی وجہ بنتے ہیں باقی کے تمام مردوں کو بھی انہیں جیسا سمجھتے ہے۔ اگر غور کریں تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ہم صرف غلط کو دیکھنے اور دیکھانے پر زور رکھتے ہیں تو پھر ہمارے اردگرد سب غلط ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔

    ٹھیک اسی طرح معاشرے میں چند بھیڑیوں کی وجہ سے ہم مرد ذات کو ہی برا کہنا شروع کردیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ جو مرد عزت کے قابل ہو اسے عزت ضرور ملنی چاہیےنا کہ باقی غلط راہ پہ چلنے والے مردوں کی طرح ان سے سلوک کیا جائے۔ "مرد” لفظ ہی اپنے اندر بےتحاشا مٹھاس سموئے ہوئے ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی اپنے اردگرد حفاظت کی دیوار کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہمارے محرم مرد ہمارے اصل سائبان ہیں۔ جو خود مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہماری حفاظت کرتے ہیں اور اپنے ہونے کا ایک خوبصورت احساس دلاتے ہیں۔

    ہماری خوشیوں کی خاطر ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ مرد اہے کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نا ہوپر وہ اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر اپنے سے جڑے لوگوں کی خواہشات پوری کرنے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتا ہے۔ دن سے رات تک چاہے شدید سردی ہو یا گرمی سخت محنت کر کے اپنا گھر چلاتا ہے۔ بےشک ایسے مرد سراہے جانے کے قابل ہیں۔

    آج کے دور کی عورت مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ ضرور رکھتی ہے پر کچھ معاملات میں وہ کبھی مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہنر اللّٰہ نے صرف مرد ذات کو ہی دیا ہے۔ اللّٰہ مے مرد کے جسم میں اتنی طاقت دی ہے کہ وہ اس طاقت کا استعمال کرکے عورت کو معاشرے میں پلنے والے گندے بھیڑیوں سے بچا کر اسے تحفظ کی گھنی چھاؤں میں بیٹھا سکتا ہے۔ عورت مرد کی طرح م،دوری نہیں کرسکتی، اپنے سے، زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی پر اس کے برعکس مرد اپنا اور اپنے سے جڑے لوگوں کا پیٹ پالنے کی خاطر مزدوری کرسکتا ہے۔ وہ اپنے سے کئی کئی گنا زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے اور پھر بھی کسی سے شکوہ نہیں کرتا۔ مرد تکلیف میں ہونے کے باوجود رو نہیں سکتا کیونکہ ہمارا معاشرہ انھیں رونے کا حق نہیں دیتا۔ بس اپنے اندر ہی اندر اپنا غم اور تکلیف جذب کرلیتا ہے۔ پھر میں یہ کسیے نا کہوں کے مرد اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے۔ جو عورت کی ہی طرح محبت، اعتبار اور عزت کا حقدار ہے۔

    @SeharSulehri

  • نور مقدم قتل  تحریر:     ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اور والدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نور مقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظاہر جعفر ہے ۔ ظاہر جعفر ایک بہت بڑی کمپنی کا سیـایـاو ہے۔ اس کے علاوہ ظاہر جعفر ایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظاہر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طور پر تکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نور مقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نور مقدم کی داہنی کنپٹی اور سینے پر خنجر کھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پر تشدد اور تیز دھار آلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ۔
    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظاہر جعفر کے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظاہر جعفر کا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر اور نور مقدم لیوـاِنـریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سر انجام دے رہی ہے۔ نور مقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کر دی گئی ہے۔ نور کے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔
    نور مقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں ؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیر زادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑ کر سخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اور نور کے حق میں اپنی آواز اٹھائے۔

    Twitter: @Aladdin_Hu_Me