Baaghi TV

Category: خواتین

  • معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار  تحریر: سید عمیر شیرازی

    معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    بقول حکیم الامت علامہ اقبال وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اگر آپ مصرع پر غور کریں تو کوزہ میں دریا کو سموسے کی مثال صادق آئے گی وجودزن ہی دراصل اس پر آشوب اور رخج و محن سے لبریز دنیا میں سکون و اطمینان کا باعث ہے۔
    اسلام سے پہلے عورتوں کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا مسیحی دنیا میں عورت کو ایک ناگزیر برائی تصور کیا جاتا تھا اور ہندو اسے ناپاک حیوان سمجھتے تھے اور شوہر کے مرنے پر اسے ستی ہونا پڑتا تھا،
    عرب کی دنیا میں بھی یہی حال تھا عرب کے لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے اور انہیں جائیداد منقولہ کی طرح بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا باپ کے مرنے کے بعد بیٹے سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیتے تھے میراث میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اسے حصول تعلیم کی اجازت دی اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حقوق حاصل تھے ان کا کام صرف مردوں کو آرام و سکون پہنچانے اور ان کی اولاد کی پرورش کرنا تھا۔۔
    ایک وقت میں مرد کئی کئی عورتیں رکھتے تھے
    اہل مغرب (جو اپنے آپ کو تہذیب کا علمبردار سمجھتے ہیں) عورت کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مغربی دنیا میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ روزی کمانا پڑتا ہے جسے تہذیب کے یہ علمبردار مساوات سمجھتے ہیں،
    یہ مساوات نہیں بلکہ عورت کے حقوق کے غصب کی ایک صورت ہے مغربی دنیا میں آج بھی عورت کی حالت بدتر ہے اور وہ غلام بنی ہوئی ہے ۔۔۔ گویا اسلام سے پہلے عورتوں کی زندگی محرومیت کا شکار تھی اور وہ ذلت کی زندگی گزار رہی تھیں۔
    دنیا کے تمام مذاہب میں صرف دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں باعزت اور قابل احترام مقام بخشا ہے اسلامی معاشرے میں عورت ماں ہو یا بیٹی بہن یا بیوی ہر لحاظ سے باعزت اور قابل احترام ہے اس کی حیثیت اور مرتبے کے مطابق اس کے حقوق مقرر کردیا گئے ہیں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو تاکید کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کا خیال رکھیں،
    اسلام نے معاشرے میں عورت کو اس کا جائز حق اور بلند مرتبہ عطا فرمایا بیوی کو میراث میں اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی حصہ عطا کیا۔

    "وہ رتبہ عالی کوئی مذہب نہیں دے گا
    کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام”

    اس سلسلے میں قرآن پاک کی بلاغت کی انتہا یہ ہے کہ اس نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اندر بیوی کے جملہ حقوق ارشاد فرما دیے،
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرتا ہے”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے پیٹنے اور برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
    اس میں شک نہیں کہ مردوں کو اللہ تعالی نے زیادہ طاقتور توانا اور مضبوط بنایا ہے اور انہیں قوی اعضاء سے آراستہ کیا جب کہ عورتوں کو کمزور اور نرم و نازک بنایا ہے ان کے اعضاء بھی کمزور اور ان کی دماغی قوتیں بھی مردوں سے کم ہیں البتہ عورتیں بالحاظ جذبات مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں،
    ان میں محبت،الفت، رحم،حیاء، شرم اور غصہ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے حصول تعلیم سے ان کے جذبات میں اور بھی نکھار پیدا ہوجاتا ہے اور یہی جذبات پھر ان کے بچوں میں سرایت کرتے جاتے ہیں اور ان کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں دنیا میں جس قدر بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں ان کی تعلیم و تربیت میں اصل ہاتھ ماں کا تھا اور ماں ایک عورت ہی ہو سکتی ہے۔

    "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”

    ‎@SyedUmair95

  • خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ   تحریر: محمد اختر

    خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، یوں تو کہنے کو پاکستان اسلامیملک ہے مگر افسوس صد افسوس پاکستان میں عورتوں کے خلاف بڑھتے تشدد کے واقعات باعث تشویش ہے، جس کی بنیادی و جہ ناقص تحقیقات اور انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ آئیے! اس ضمن میں حالات اور واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔پاکستان میں خواتین کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ملازمت پر ہراساں کرنے سے لے کر بے دردی سے قتل کیے جانے تک، پاکستانی خواتین عام طور پر زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کے تخمینے کے مطابق، پاکستان میں 70%-90% خواتین کو کسی نہ کسی طرح کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2005 میں، ایک مطالعہ میں 176 شادی شدہ مردوں سے کراچی میں گھریلو تشدد کے بارے میں اپنی رائے کے بارے میں انٹرویو کیاگیا۔ 46%نے کہا کہ مردوں کو اپنی بیویوں کو زدوکوب کرنے کا حق ہے، جبکہ65% نے اپنی ماؤں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنتا دیکھا ہے۔ پاکستان میں اسلام کی غلط تشریح کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد کی سطح بہت زیادہ ہے۔ شوہر یا سسرال والے عام طور پر خواتین پر تشدد جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ 2003 میں، اسلام آباد میں ہونے والی ایک تحقیق میں 216 شادی شدہ خواتین نے حصہ لیا۔ ان خواتین میں سے، 96.8% نے گھریلو زیادتی کی کچھ اقسام کا سامنا کیا۔مبینہ طور پر 80% مجرم شوہر ہیں اور 17%ماں یا سوتیلی مائیں ہیں۔خواتین کے خلاف جسمانی تشد د ہی صرف زیادتی کی واحد قسم نہیں ہے بلکہ اس کی بہت سی اقسام ہیں۔ پاکستان میں گھریلو تشدد معمول بنتا جارہا ہے کیوں کہ مرد اپنی بیویوں کا واحد مالک اور نگہبان تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کے حقوق کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔1999 کی ایک رپورٹ میں 24-45سال کی عمر کے 70 مردوں سے انٹرویو کیا گیا جس میں سے 54 افراد نے اپنی بیویوں کے ساتھ اتفاق رائے سے تعلقات کو قبول کرنے کا اعتراف کیا۔ پاکستان میں بیویوں پر تشدد کے بارے میں 2015 کے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ جنسی تشدد کی انفرادی رپورٹس خواتین میں 77%، جسمانی 50% اور نفسیاتی 90 فیصد تک ہیں۔پاکستان میں خواتین کا ازدواجی زیادتی کا شکار بننے سے اکثر غیر ضروری حمل ہوجاتے ہیں۔ 2002 میں چوبیس لاکھ غیر ارادتاً حمل ہوئے۔ جس کے نتیجے میں نو لاکھ کا اسقاط حمل ہوا۔پاکستان میں اسقاط حمل کے محفوظ طریقوں کی کمی کی وجہ سے،دو لاکھ خواتین پیچیدگیوں کے سبب اسپتال میں داخل ہوگئیں، اور ہر 10 خواتین میں سے 1 عورت فوت ہوگئی۔پاکستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی کا بہت بڑا فقدان ہے کیونکہ عام طور پر اسے اسلام کے مخالف بیانیہتصور کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے اسلا می تعلیمات کے مطابق شوہر کو خاندان کا حاکم ہونے کا اعزاز ضرور ہے مگر شوہر کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ بیوی کے حقوق کو سلب کرے کیونکہ دینِ اسلام میں خواتین کو بہت معتبر سمجھا گیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کو عوام میں بھی ہراساں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مددگار ہیلپ لائن کے مطابق، پاکستان میں 93% خواتین کو عوامی مقامات پر جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کو موصول ہونے والی شکایات میں 56% خواتین کی طرف سے ہیں جبکہ 13% مردوں کی طرف سے ہیں۔2015 سے اب تک، پاکستان میں 22000 زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ روزانہ اوسطا 11 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس میں سزا کی شرح صرف 0.3% ہے۔مزید یہ کہ اس دور جدید میں آن لائن ہراساں کرنے کے معاملات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ خواتین کو فوٹو شاپ تصویروں کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کو 2018-2019 میں خواتین کی جانب سے 8500 شکایات موصول ہوئیں۔ تاہم، صرف 19.5%ہی تحقیقات کی گئیں۔پاکستان میں خواتین کو درپیش تمام پریشانیوں کی وجہ سے، عالمی سطح پر صنفی گیپ انڈیکس سیاسی بااختیارگی، معاشی شراکت، تعلیمی حصول، صحت اور بقا کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار دیتا ہے۔

    @MAkhter_

  • جدید دور کی جدید محبتیں .تحریر: فروانذیر

    جدید دور کی جدید محبتیں .تحریر: فروانذیر

    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر بہت خوبصورت فکرے دیکھے جو دل کو بھا گئے

    وہ فکرے کچھ یوں ہیں:

    نکاح سے پہلے،
    محبت چاہے زمزم سے دھلی ہو،
    یا قرآنی آیات سے دم کی گئی ہو،
    گمراہی ہے،دھوکہ ہے،
    فریب ہے،بے حیائی ہے،
    حرام ہے اور بے سکونی ہے

    میں نے سوچا اس موضوع پر مجھے اپنے خیال کا اظہار کرنا چاہیے
    چونکہ آج کل یہ معاملہ سب سے زیادہ دیکھنے میں آتا ہے، ہر دوسرا شخص دل کا مرض دکھائی دیتا ہے اسکی کوئی تو وجہ ہو گی

    ایک وقت تھا جب محبت کا نام لیا جاتا تو دماغ میں ہیر رانجھا لیلہ مجنوع جیسی کہانیاں اتی تھیں جن کی
    محبت میں لازوال قربانیاں ہر طرف مشہور تھی
    ہمارے بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ اس وقت کی محبت بہت خالص ہوتی تھی تو اب کیا ہم خالص انسان نہیں رہے ؟؟
    ہماری محبت صرف دکھاوے کی حد تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔؟؟

    کیا عشق جیسا خوبصورت احساس کرنے سے لوگ قاصر ہیں۔۔؟؟

    یہ سب آخر ایسا کیوں؟؟؟
    آئے روز ہم بہت سی کہانیاں سنتے ہیں کچھ دن محبت کے نام پر لوگ بات چیت کرتے ہیں اور محبت ہو جاتی ہے اور ٹھیک چند دنوں بعد بریک-اپ ہوجاتا اور سب معاملہ ختم

    ایک مہینے بعد خبر آتی یے کہ انہی محبت کرنے والوں نے کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔
    یہ بات سمجھے سے قاصر ہوں کہ وقتی طور پر بات چیت کو محںت کا نام کیوں دیتے ہیں یاپھر معاشرے میں دکھاوا اس قدر ہو گیا یے کہ ہم رشتوں کی خوبصورتی کو بھول چکے ہیں

    اس جدید دور میں جہاں احساس ختم ہوتا جا رہا ہے وہاں ہم ایک غلطی یہ بھی کرتے ہیں کہ اپنے بڑوں کو ان معاملات سے دور رکھتے ہیں جس کے بدلے میں ہمارا اپنا نقصان ہوتا ہے

    نفسا نفسی کا یہ الم ہر طرف پھیل چکا ہے بہت سے لوگ اپنی نفسیاتی خواہشات کو پورا کرنے کیلیے وقتی طور پر محبت جیسے خوبصورت رشتوں کا استعمال کرتے ہیں اور جب انکا دل بھر جاتا ہے تو اور کوئی رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    یہ کیا نظام چل رہا ہے کیا ہم اسطرح ملک میں کام کرسکتے ہیں کیا یہ ہمارا اسلامی نظام ہے جس کے نام پر لاکھوں پیاروں کی قربانیوں کے بعد ہمیں یہ چمن ملا۔۔۔

    ہم سب مسلمان ہیں اسلام کے پیروکار ہیں ہمارا مذہب یہ تعلیمات نہیں دیتا
    اگر ایسا کرنا ہی ہے تو اللہ پاک نے ایک بہت پیارا جائز رشتہ دیا ہے نکاح کا
    نکاح کرو اور اپنی خواہشات پوری کرو

    یہ معاشرے کو خراب کرنے والے کام نہ کرو جس سے شرمندگی اٹھانی پڑے

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ معاشرے میں شر انگیزی کو پھیلانے سے روکا جائے اور سنت رسول پر عمل کریں تاکہ دنیا اور آخرت میں عزت کا مقام پائے

    اللہ پاک ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں

    آمین ثمہ آمین

    Twitter : @InvisibleFari_

  • مرد محافظ ہے  تحریر: سحر عارف

    مرد محافظ ہے تحریر: سحر عارف

    آج تک ہمارے معاشرے میں صرف عورتوں کے حقوق سے لے کر ان کی معاشرے میں اہمیت، ان کی آزادی کے لیے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے آواز اٹھتی رہی ہےاور ایسے میں عورتوں کو پیش آنے والے ان تمام مسائل کی وجہ مردوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

    کہیں نا کہیں یہ بات بھی بلکل درست ہے کہ زیادہ تر مرد ہی عورتوں کی آزادی کے خلاف، ان کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذمہ دار ہیں ہیں۔ پر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد ایک سے نہیں ہوتے۔ جہاں کچھ مرد عورت ذات کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کو تشدد اور اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں وہیں بہت سے مرد عورت ذات کی عزت کرنا بھی باخوبی جانتے ہیں۔ یہی چیز اگر ہم اپنے گھروں میں دیکھیں تو ہمارے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان مردوں سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر ایسے مرد بھی موجود ہوتے ہیں جو راہ چلتی عورتوں سے نظریں جھکا ہر چلتے ہیں۔

    پر افسوس کا عالم یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف چند ایسے مردوں کی وجہ سے جو عورت ذات کو درپیش مسائل کی وجہ بنتے ہیں باقی کے تمام مردوں کو بھی انہیں جیسا سمجھتے ہے۔ اگر غور کریں تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ہم صرف غلط کو دیکھنے اور دیکھانے پر زور رکھتے ہیں تو پھر ہمارے اردگرد سب غلط ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔

    ٹھیک اسی طرح معاشرے میں چند بھیڑیوں کی وجہ سے ہم مرد ذات کو ہی برا کہنا شروع کردیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ جو مرد عزت کے قابل ہو اسے عزت ضرور ملنی چاہیےنا کہ باقی غلط راہ پہ چلنے والے مردوں کی طرح ان سے سلوک کیا جائے۔ "مرد” لفظ ہی اپنے اندر بےتحاشا مٹھاس سموئے ہوئے ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی اپنے اردگرد حفاظت کی دیوار کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہمارے محرم مرد ہمارے اصل سائبان ہیں۔ جو خود مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہماری حفاظت کرتے ہیں اور اپنے ہونے کا ایک خوبصورت احساس دلاتے ہیں۔

    ہماری خوشیوں کی خاطر ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ مرد اہے کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نا ہوپر وہ اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر اپنے سے جڑے لوگوں کی خواہشات پوری کرنے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتا ہے۔ دن سے رات تک چاہے شدید سردی ہو یا گرمی سخت محنت کر کے اپنا گھر چلاتا ہے۔ بےشک ایسے مرد سراہے جانے کے قابل ہیں۔

    آج کے دور کی عورت مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ ضرور رکھتی ہے پر کچھ معاملات میں وہ کبھی مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہنر اللّٰہ نے صرف مرد ذات کو ہی دیا ہے۔ اللّٰہ مے مرد کے جسم میں اتنی طاقت دی ہے کہ وہ اس طاقت کا استعمال کرکے عورت کو معاشرے میں پلنے والے گندے بھیڑیوں سے بچا کر اسے تحفظ کی گھنی چھاؤں میں بیٹھا سکتا ہے۔ عورت مرد کی طرح م،دوری نہیں کرسکتی، اپنے سے، زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی پر اس کے برعکس مرد اپنا اور اپنے سے جڑے لوگوں کا پیٹ پالنے کی خاطر مزدوری کرسکتا ہے۔ وہ اپنے سے کئی کئی گنا زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے اور پھر بھی کسی سے شکوہ نہیں کرتا۔ مرد تکلیف میں ہونے کے باوجود رو نہیں سکتا کیونکہ ہمارا معاشرہ انھیں رونے کا حق نہیں دیتا۔ بس اپنے اندر ہی اندر اپنا غم اور تکلیف جذب کرلیتا ہے۔ پھر میں یہ کسیے نا کہوں کے مرد اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے۔ جو عورت کی ہی طرح محبت، اعتبار اور عزت کا حقدار ہے۔

    @SeharSulehri

  • نور مقدم قتل  تحریر:     ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اور والدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نور مقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظاہر جعفر ہے ۔ ظاہر جعفر ایک بہت بڑی کمپنی کا سیـایـاو ہے۔ اس کے علاوہ ظاہر جعفر ایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظاہر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طور پر تکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نور مقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نور مقدم کی داہنی کنپٹی اور سینے پر خنجر کھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پر تشدد اور تیز دھار آلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ۔
    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظاہر جعفر کے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظاہر جعفر کا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر اور نور مقدم لیوـاِنـریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سر انجام دے رہی ہے۔ نور مقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کر دی گئی ہے۔ نور کے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔
    نور مقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں ؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیر زادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑ کر سخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اور نور کے حق میں اپنی آواز اٹھائے۔

    Twitter: @Aladdin_Hu_Me

  • اسلام میں عورت کے احکام  تحریر: منصور احمد قریشی

    اسلام میں عورت کے احکام تحریر: منصور احمد قریشی

    الّٰلہ تعالٰی کے ہاں ایمان و عمل کے مطابق اجر و ثواب اور فضیلت میں عورت مرد کی طرح ہے ۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ بلاشبہ عورتیں ( عمومی احکام میں ) مردوں کی مانند ہیں ۔ “ (ابوداؤد)

    عورت اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے ۔ کیونکہ دینی احکام کے خطاب میں مرد و عورت برابر ہیں ۔ سواۓ ان مسائل کے جن میں شریعت خود فرق بیان کر دے ۔ اور یہ احکام مشترک احکام کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ شریعت نے مرد و عورت کی خلقت کے اعتبار سے خصوصیات کو مدِ نظر رکھا ہے ۔

    الّٰلہ عزوجل کا ارشاد ہے :۔
    “ کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ “ ( الملک : ۱۴)

    چنانچہ کچھ امور و ذمہ داریاں عورت کے ساتھ خاص ہیں ۔ اور کچھ مردوں کے ساتھ ۔ ان کی ایک دوسرے کی خصوصیات میں دخل اندازی زندگی کا توازن بگاڑ دیتی ہے ۔ بلکہ عورت کو گھر میں رہتے ہوۓ مرد کے برابر اجر و ثواب کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے ۔

    کسی مرد کا اجنبی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس عورت کا کوئی محرم رشتہ دار ساتھ ہو ۔

    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کرے الا یہ کہ اس کا کوئی محرم ساتھ ہو “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    عورت کے لیۓ مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے ۔ البتہ اگر فتنے کا ڈر ہو تو مکروہ ہے ۔ حضرت عائشہ رضی الّٰلہ تعالٰی عنہا کا فرمان ہے :۔ جو کچھ عورتوں نے کرنا شروع کر دیا ہے اگر رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم اس کا مشاہدہ فرما لیتے تو انھیں ضرور مسجدوں میں جانے سے روک دیتے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ ( بخاری و مسلم )

    جس طرح مرد کی نماز مسجد میں کئی گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔ اسی طرح عورت کے لیۓ گھر میں نماز پڑھنا زیادہ باعثِ اجر ہے ۔ ایک عورت نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : الّٰلہ کے رسول صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں ۔
    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ تم جانتی ہو کہ تمھیں میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے ۔ حالانکہ تیرا بند گھر میں نماز پڑھنا تیرے حجرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور حجرے میں نماز پڑھنا تیرے صحن والے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور تیرا صحن والے گھر میں نماز پڑھنا قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا تیرے لیۓ میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے “ ۔ ( مسند احمد )

    اور نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :-
    “عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے گھر ہیں “ ۔ ( مسند احمد )

    عورت کے لیۓ الّٰلہ تعالٰی نے وراثت میں جو حق رکھا ہے ، وہ حق اسے دینا ضروری ہے اور روکنا حرام ہے ۔

    نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ جس نے وارث کی میراث روک لی ۔ الّٰلہ تعالٰی روزِ قیامت جنت سے اس کی میراث ختم کر دے گا “ ۔ ( ابن ماجہ )

    خاوند پر بیوی کا خرچ لازم ہے ۔ اور اس سے مراد دستور کے مطابق کھانے ، پینے اور رہائش و لباس کی ہر وہ چیز ہے ۔ جس کے بغیر عورت کا گزارہ نہ ہو ۔

    ارشادِ باری تعالٰی ہے :۔
    “ چاہیۓ کہ آسائش والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی نپی تُلی ہو تو وہ الّٰلہ کے دیئے ہوۓ میں سے ( اپنی وسعت کے مطابق ) خرچ کرے “ ۔ ( الطلاق ۶۵ )

    اگر کسی عورت کا شوہر نہیں ہے تو اس کے اخراجات پورے کرنا اس کے باپ ، بھائی یا بیٹے کی ذمہ داری ہے ۔ اگر اس کا کوئی قریبی نہ ہو تو دیگر لوگوں کے لیۓ مستحب ہے کہ وہ اس کی ضروریات پوری کریں ۔

    جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ہے :-
    “ بے شوہر عورتوں اور مسکینوں کے لیۓ دوڑ دھوپ کرنے والا الّٰلہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    Twitter Handle : @MansurQr

  • عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی    تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    جب ریاست کا وجود بھی نہ تھا تب بھی شاید ایسا ہوا ہوگا جیسے اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے کون کہے گا کہ یہ انہی لوگوں کا دیس ہے جو عورتوں کی عزت کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو قربان کر دیتے تھے. اب یہ دھرتی عورتوں کے لئے جہنم بنا دی گئی ہے. جہاں پر عورت کا غیرت کے نام پر قتل, اجتماعی زیادتی, جنسی اور جسمانی تشدد, ان کو پیسوں کے عوض بیچنا, جرگوں میں انکی عزت کی قیمت لگانا عام بن چکا ہے. یہ واقعات اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگے ہیں کہ لوگوں میں اس کی حساسیت ہی ختم ہوگئی ہے. عورتوں کے قتل اور تشدد کے حوالے سے اس حد تک بے حسی بڑھ گئی ہے کہ اب لوگوں کے رونگٹے بھی کھڑے نہیں ہوتے. اب تو یہ ان کے لئے جیسے معمول کی کوئی خبر ہو کچھ دنوں سے عورتوں پر تشدد اور قتل کے حوالے سے غیر معمولی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں پر وہ خبریں اس ملک کی عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کی آنکھوں کو بھگا بھی نہ سکیں. مدیجی میں ملزم نے اپنی بیوی, دو بیٹیوں سمیت اپنی چاچی گولیاں مار کر قتل کر دیا کچھ دن پہلے حیدرآباد میں قرت العین کو شوہر نے تشدد کر کے مار ڈالا, ٹنڈو جام میں عورت کو زندہ جلا کر قتل کردیا یے تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں کئی ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے.

    پاکستان میں قانون پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے اس کی موجودگی کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا. عورتوں پر ظلم اور تشدد کے خلاف قانون انکا سہارا نہیں بن سکا. لوگوں کے دلوں میں سے قانون کا ڈر ہی نکل گیا انسانی حقوق تو دور کی بات ہے. پاکستان کی آدھی آبادی کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا. ہمارے حکمران خود کو دنیا میں لبرل اور روشن خیال گنوانے کے لئے عورتوں کے حقوق کے لئے قانون سازی تو کرتے ہیں پر اس قانون پر عمل ہو نہیں پاتا. پاکستان کے حکمرانوں کی ادا ہی نرالی ہے ہر بات پر نوٹس لینا انکا مرغوب مشغلہ ہے معاملہ شاید ہی اس سے آگے بڑھا ہو بہت کم دیکھنے کو ملا ہے. دراصل پاکستان میں عورتوں کے خلاف ظلم اور بربریت کا گولا جس گائے کے سینگ پر رکھا ہوا ہے انکا نام ہے جرگائی بھوتار. انکی رسائی اقتدار اور اختیار کے ایوانوں تک ہے. انہوں نے انصاف کے نام پر ناانصافی کا نظام قائم کیا ہوا ہے. جہاں پر یہ عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سزا دلواتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرواتے ہیں وہ جرگہ کرواتے ہیں جہاں پر عورت کے سر کی قیمت اور عصمت دری کی قیمت مقرر کردی جاتی ہے. عورت کے قتل کے فتوے جاری کردیے جاتے ہیں. مظلوم عورتوں کی چیخیں ان ناانصافیوں کے خلاف حکمرانوں کی اناوں کی دیواروں تک بھی نہیں پہنچ پاتی.

    پاکستان میں عورتوں پر بڑھتے ظلم, جنسی اور جسمانی تشدد اور انکے قتل کے واقعات میں اضافہ پر حکمرانوں کا پریشان نہ ہونا بھی بڑی پریشانی کی بات ہے. پاکستان میں عورتوں پر تشدد بند کروایا جائے ریاستی قانون کو فعال کیا جائے اور عورتوں کے قتل کے کیسز کو جلد از جلد میرٹ پر فیصلا دے کر ملزمان کو سزا دے کر مظلوم عورتوں کو انصاف مہیا کیا جائے.

    @Nadir0fficial

  • آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟   تحریر: سحر عارف

    آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟ تحریر: سحر عارف

    عورت اللّٰہ تعالٰی کا سب سے انمول تحفہ ہے لیکن عورت پر تشدد ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کبھی اس پہ جنسی تشدد ہوتا ہے تو کبھی جسمانی تشدد۔ یہ بات سرے سے سمجھ میں نہیں آتی کہ جو مرد عورتوں پہ تشدد کرتے ہیں ان کے نزدیک آخر عورت کیا ہے؟ آخر مرد کی نظر میں عورت کیا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اسے انسانوں کی طرح جینے کا حق نہیں؟ آخر کب تک عورت ظلم سہتی رہے گی؟ مرد کو اللّٰہ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے نہیں دیا کہ وہ عورت پر تشدد کر سکے بلکہ اس لیے دیا کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے۔ نکاح کی صورت میں عورت کو اللّٰہ کی امانت کے طور پر مرد کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ پر افسوس آج پھر جہالت اپنے قدم اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک سے ایک واقعہ جو منظر عام میں آتا ہے دل دہلا دیتا ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو کچھ روز قبل 15 جولائی کی رات قوم کی بیٹی قرةالعین کے لیے ایک بھیانک رات ثابت ہوئی۔ کوئی قیامت نہیں آئی کوئی زمین نہیں پھٹی جب چار بچوں کی ماں کو انہیں کے سامنے ان کے باپ نے کس قدر درندگی سے تشدد کر کے قتل کردیا۔ بچے سے دہائیاں دیتے رہے قوم کی بیٹی قرةالعین اپنی زندگی کے لیے گڑگڑاتی رہی اپنے شوہر سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی پر افسوس عمر میمن جو کہ نشے کی حالت میں چور تھا کسی کی ایک نا سنی اور اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قرةالعین بلوچ کی شادی 2012 میں عمر میمن جو کہ سابق سیکرٹری آبپاشی سند خالد حیدر میمن کا بیٹا ہے اس سے ہوئی۔ شادی کے ایک دو سال تک تو سب ٹھیک رہا پر پھر جیسے جیسے شادی آگے بڑھتی گئی عمر میمن اپنے بیوی بچوں پر تشدد کرنے لگا۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا ہے کہ عمر میمن ایک شرابی ہے۔ وہ بات بات پر میری بہن کو مارتا پیٹتا اور بچوں پر بھی تشدد کرتا ان کے سر پھاڑ دیتا، ہاتھ توڑ دیتا۔ اکثر اوقات میری بہن کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا اور دوسری عورتوں کو گھر بلوا کر عیاشی کرتا۔ قاتل کے والد کو اس تمام صورتحال کا علم تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ اگر میرے بیٹے کو گرفتار کروایا تو میں اسے دوبارہ باہر نکلوا لوں گا۔

    15 جولائی کی قیامت خیز رات جب عینی کا قتل ہوا تو اس کی بڑی بیٹی رامین زہرہ جس کی عمر نو سال ہے اس نے اپنی ماں کا قتل ہوتے دیکھا وہ چھوٹی سی بچی جس نے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا اس کے ننھے دماغ پر کتنا بھیانک اثر پڑا ہوگا۔ پر عمر میمن، انسان نما حیوان کو زرا ترس نا آیا۔ نشے سے چور جب گھر لوٹا تو جانوروں کی طرح اپنا شکار تلاش کرنے لگا۔ بیٹی کو کیا خبر تھی کہ شکار اس ماں بن جائے گی پر ہوش تب آیا جب عمر میمن کے ہاتھوں اپنی ماں کو پیٹتے دیکھا۔ بچی تھی نا رونے سسکنے کے علاؤہ کیا کرسکتی تھی۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی عمر کے تشدد میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عمر میمن نے تشدد کر کر کے جب تھک گیا تو بیوی پہ ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا اور ٹھنڈے پانی سے بھگانے کے بعد اےسی کے نیچے پھینک دیا۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی جب اس حیوان کی حیوانگی ختم نا ہوئی تو آخر میں اپنے ہی بچوں کی ماں کا گلا دبا کے عینی سے اس کی سانسیں چھین لی۔ بچے خوف کی حالت میں اس بات سے بے خبر کھڑے تھے کہ ان کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کٹوانی چاہی تو پہلے پولیس نے منع کردیا اور اب جب ایف آئی آر درج ہوگئ ہے تو پھر بھی پولیس اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ مسلسل اسی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پولیس کی یہ کوشش رہی کہ جب پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آئے تو اس میں کسی طرح ردوبدل کر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مجرم کو بچایا جاسکے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مقتولہ میں شدید تشدد ہوا تھا۔ اگر اب بھی ہم چپ کرکے بیٹھ گئے تو ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور درندہ آزاد ہوجائے گا۔ لیکن ہم چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے ہم انصاف کی خاطر لڑیں گے۔

    اسی سلسلے میں ٹوئیٹر پر ‘جسٹس فار قرةالعین’ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اس کے علاؤہ مقتولہ کے لیے موم بتیاں جلا کر کئی روز تک احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور عینی کو انصاف دلوائیں ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود عوام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عمر میمن کو پھانسی دی جائے تاکہ اس جیسے باقی درندوں کے لیے سبق ہو اور دوبارہ کوئی دوسری عینی ایسی حیوانیت کا شکار نا ہو۔

    ہم سب کو مل کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ہمیں عینی کے ساتھ ساتھ ان تمام عورتوں کی بھی آواز بننا ہوگا جو دنیا سے ڈر کر خود پہ چپ کرکے تشدد سہتی رہتی ہیں۔ اور پھر ماں باپ کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں یہ بات ذہن نشیں کروا کے بھیجیں کہ اگر یہ انسان نما شخص جانور نکل آئے تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے واپس چلی آنا۔ اگر ایسا ہوجائے تو یقین جانیں اس دنیا میں بہت سی عورتیں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ماں باپ دنیا داری کا سوچتے ہوئے اور بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں اور بیٹیاں ان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے خود پر تشدد ہونے دیتی ہیں۔

    @SeharSulehri

  • جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    آج کا موضوع دو جڑواں بہنوں پہ ہے جو ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں جی ہاں! بالکل الٹ بات ہو رہی ہے دیانت اور بد دیانتی کی کہ یہ کیسے ہمارے معاملات زندگی میں اثر انداز ہوتی ہیں
    ذندگی میں ہمارا مخلتف لوگوں کےساتھ واسطہ پڑتا ہے اور ہمیں مختلف قسم کے معاملات کرتے ہوئے زندگی گزارنی پڑتی ہے یہ معاملات یا معاہدات کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں جیسا کہ سیاسی ،سماجی یا معاشی نوعیت کے اور یہ معاملات ہر حالت میں اکثر دونوں طرف کے لوگوں کےلیے آزمائش ہوتے ہیں کیونکہ یہاں جب اپنے نفع کو سامنے رکھا جاتا ہے تو وہیں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دوسرے انسان کا میری وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرے فریق کو ممکنہ فائدہ ہو
    دیانت داری،ایمانداری کبھی بھی شکست نہیں کھائی سکتی اور وہیں جو بندہ خیانت کرتا ہے اسکی خیانت کبھی بھی پروان نہیں چڑھتی
    خیانت سے کمایا ہوا رزق یا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں نقصاندہ ثابت ہوجاتا ہے
    جب ہم اپنی اردگرد چیزوں کا بغور معائنہ کرتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دیانت کو فرار نہیں اور خیانت کو قرار نہیں
    مثلاً :ایک بندہ خیانت کرتا ہے حرام مال کماتا ہے اپنا معیار زندگی بلند کرتا ہے اپنے بچوں کو اعلی سکول میں پڑھاتا ہے اسکے برعکس ایک انسان رزق حلال کماتا ہے اپنے بچوں کو چھوٹے سکول میں پڑھاتا ہے اور انہیں حسب توفیق کھلاتا ہے تو اکثر دیکھنے کو یہ نتائج ملتے ہیں کہ خیانت کے مال سے معیارِ زندگی بلند کرنے والے کی اولاد بڑے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتی اور اس غریب مگر دیانت دار اور حلال کمانے ،کھلانے والے کی اولاد پڑھ لکھ اور سنور جاتی ہے
    جو لوگ بددیانتی،دھوکہ دہی اور خیانت سے پیسہ بناتے ہیں انہیں زندگی میں کبھی بھی قرار حاصل نہیں ہوتا انکی زندگی سے سکون چلا جاتا ہے وہ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہی رہتے ہیں جبکہ ایک دیانت دار انسان اپنے آپ کو منوا کر رہتا ہے
    جب کوئی انسان خیانت سے مال کماتا ہے یا رشتوں میں خیانت کرتا ہے تو وہ خیانت اسکی ذات پہ بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے بددیانتی،عدم سچائی اور دھوکہ دہی اسکےلیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں جیساکہ سائنسی ضابطہ ہے ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے تو یہ بات ہمارے جسم سے نکلنے والے اور ہم سے سرزد ہونے والے اعمال پر بھی پوری اترتی ہے جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ حشر کے روز سب کو ان کے اعمال کی سزا ملے کی اور جزا بھی لیکن یہ سلسلہ صرف وہیں کے لیے محدود نہیں اس پہ تو عمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے برے اعمال کی جو فصل بوئی تھی وہ پک کر کٹنےکو تیار ہو چکی ہے
    بد دیانتی اور دھوکہ دہی سے کام کرنے والا انسان کچھ بھی کر لے خود کو مضر اثرات سے نہ نہیں بچا سکتا کیونکہ کوئی بھی انسان قدرت کے بنائے ہوئے قوانین سے بالاتر نہیں ہوسکتا
    چونکہ دیانت اور بد دیانتی جڑواں بہنیں ضرور ہیں لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کے الٹ کام کرتی ہیں اور انکے نتائج بھی ایسے ہی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اسلیے انکی طرف راستے بھی مختلف جاتے ہیں اور انعام بھی اب اوپر لکھی گئی مثال سے آپ لوگوں نے سمجھا ہوگا کہ دیانت کا راستہ بظاہر بہت تکلیف اور جدوجہد والا ہے جبکہ اسکا انعام دائمی خوشی ،آرام اور سکون ہے جبکہ بددیانتی کی طرف جانے والا راستہ بظاہر آسان،خوبصورت اور پر تعیش ہے جبکہ اسکا انجام رسوائی ،پریشانی اور احساسِ جرم ہے اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ کونسا راستہ چنتے ہیں اور ان جڑواں بہنوں میں سے کسے پسند کرتے ہیں.
    Twitter: @HusnHere

  • عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    یوں تو عورت مارچ عورتوں کے تحفظ کے نام بنی ہے جس میں نام نہاد عورتوں کے حقوق کے لیے بنی تنظمیں بھی پیش پیش ہوتی ہیں لیکن کیا عورت مارچ میں اٹھائے گئے اصل ایشوز واقعی ہمارے معاشرے کا اصل مسلہ ہے؟؟؟

    کیا واقعی عورت کو اپنے شوہر کو کھانا گرم کرکے دینا ایک ایسا ایشو ہے جسے اٹھایا جانا چاہیے ؟؟ کیا واقعی عورت کے سیگریٹ پینا ، چھوٹے لباس پہننا ، سڑکوں پر ناچنا ، جیسے مسائل اتنے اہم ہیں کہ یہ عورت مارچ میں اٹھائے گئے پلے کارڈز کی زینت بنے رہتے ہیں؟؟

    دراصل عورت مارچ کی آڑھ میں معاشرے کی تباہی ہورہی ہے ہمیں اپنی خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں تاریخ گواہ ہے پہلے عورتوں کو حیوانوں سے بد تر سمجھا جاتا ہے بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا بیٹی پیدا ہوتے ہی اسکا قتل کرنا عام تھا لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس انتہا کو پہنچ چکی تھی ،اس کے باوجود ماننے سے بھی انکار کیا جارہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللہ العلمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا اور زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی اور عملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اسکو ذمداریاں سونپی گئی

    آسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد عورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا انسان کے دل و دماغ میں عورت کا حق مقام و مرتبہ اور وقار اس کو متعین کیا اور اس کی سماجی ،تمدنی ،اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا

    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے خواتین
    کو ان کے حقوق دلائے اور
    خواتین کو معاشرے میں چا عزت مقام دلایا ۔ہمیں اب معاشرے میں ایسے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو در حقیقت عورتوں کو پیش آتے ہیں عورت مارچ میں سوائے عورت کے تحفظ پر بات کرنے کے تمام تر بے حیائی کو پروموٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔

    کچھ بہنیں جو عورت مارچ کی حقیقت سے واقف نہیں انہیں اب پہچان کرنی ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مرد اور عورت پر مشتمل ہوتا ہے اور ان دونوں میں سے کسی بھی ایک جنس کے حوالے سے ایک دوسرے کے دلوں میں نفرتیں پھیلانا دور جہالت ہے ایک دوسرے کے خلاف لوگوں کو اکسانہ ایک احمقانہ حرکت ہے اس سے معاشرے میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔۔۔سلطان صلاح الدین ایوبی "کا ایک قول ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم میں بے حیائی برہنگی کو عام کر دو اور یہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے ساتھ یہی سب کچھ کرنا چاہتی ہیں یہ ففتھ جنریشن وار کا ایک رخ ہے میری تمام بہنوں سے گزارش ہے ان کے اصل مقصد کو سمجھیں اور دیکھیں
    ک آپ کے اصل مسائل کیا ہیں ؟۔۔ عورت تحفظ کے نام پر بنی تنظمیں بیرون ملک فنڈنگ وصول کرتی ہیں اور مغربی کلچر کو پروموٹ کرتی ہیں جس میں انہیں اسلام میں عورتوں کے تحفظ پر آگاہی دینا تو دور کی بات انہیں مذہب کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہا ہے اس سازش کو ہمیں مل کر روکنا ہے اور اس کے خلاف لڑنا ہے انشاء اللہ