Baaghi TV

Category: خواتین

  • اسلام میں عورت کے احکام  تحریر: منصور احمد قریشی

    اسلام میں عورت کے احکام تحریر: منصور احمد قریشی

    الّٰلہ تعالٰی کے ہاں ایمان و عمل کے مطابق اجر و ثواب اور فضیلت میں عورت مرد کی طرح ہے ۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ بلاشبہ عورتیں ( عمومی احکام میں ) مردوں کی مانند ہیں ۔ “ (ابوداؤد)

    عورت اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے ۔ کیونکہ دینی احکام کے خطاب میں مرد و عورت برابر ہیں ۔ سواۓ ان مسائل کے جن میں شریعت خود فرق بیان کر دے ۔ اور یہ احکام مشترک احکام کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ شریعت نے مرد و عورت کی خلقت کے اعتبار سے خصوصیات کو مدِ نظر رکھا ہے ۔

    الّٰلہ عزوجل کا ارشاد ہے :۔
    “ کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ “ ( الملک : ۱۴)

    چنانچہ کچھ امور و ذمہ داریاں عورت کے ساتھ خاص ہیں ۔ اور کچھ مردوں کے ساتھ ۔ ان کی ایک دوسرے کی خصوصیات میں دخل اندازی زندگی کا توازن بگاڑ دیتی ہے ۔ بلکہ عورت کو گھر میں رہتے ہوۓ مرد کے برابر اجر و ثواب کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے ۔

    کسی مرد کا اجنبی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس عورت کا کوئی محرم رشتہ دار ساتھ ہو ۔

    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کرے الا یہ کہ اس کا کوئی محرم ساتھ ہو “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    عورت کے لیۓ مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے ۔ البتہ اگر فتنے کا ڈر ہو تو مکروہ ہے ۔ حضرت عائشہ رضی الّٰلہ تعالٰی عنہا کا فرمان ہے :۔ جو کچھ عورتوں نے کرنا شروع کر دیا ہے اگر رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم اس کا مشاہدہ فرما لیتے تو انھیں ضرور مسجدوں میں جانے سے روک دیتے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ ( بخاری و مسلم )

    جس طرح مرد کی نماز مسجد میں کئی گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔ اسی طرح عورت کے لیۓ گھر میں نماز پڑھنا زیادہ باعثِ اجر ہے ۔ ایک عورت نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : الّٰلہ کے رسول صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں ۔
    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ تم جانتی ہو کہ تمھیں میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے ۔ حالانکہ تیرا بند گھر میں نماز پڑھنا تیرے حجرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور حجرے میں نماز پڑھنا تیرے صحن والے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور تیرا صحن والے گھر میں نماز پڑھنا قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا تیرے لیۓ میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے “ ۔ ( مسند احمد )

    اور نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :-
    “عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے گھر ہیں “ ۔ ( مسند احمد )

    عورت کے لیۓ الّٰلہ تعالٰی نے وراثت میں جو حق رکھا ہے ، وہ حق اسے دینا ضروری ہے اور روکنا حرام ہے ۔

    نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ جس نے وارث کی میراث روک لی ۔ الّٰلہ تعالٰی روزِ قیامت جنت سے اس کی میراث ختم کر دے گا “ ۔ ( ابن ماجہ )

    خاوند پر بیوی کا خرچ لازم ہے ۔ اور اس سے مراد دستور کے مطابق کھانے ، پینے اور رہائش و لباس کی ہر وہ چیز ہے ۔ جس کے بغیر عورت کا گزارہ نہ ہو ۔

    ارشادِ باری تعالٰی ہے :۔
    “ چاہیۓ کہ آسائش والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی نپی تُلی ہو تو وہ الّٰلہ کے دیئے ہوۓ میں سے ( اپنی وسعت کے مطابق ) خرچ کرے “ ۔ ( الطلاق ۶۵ )

    اگر کسی عورت کا شوہر نہیں ہے تو اس کے اخراجات پورے کرنا اس کے باپ ، بھائی یا بیٹے کی ذمہ داری ہے ۔ اگر اس کا کوئی قریبی نہ ہو تو دیگر لوگوں کے لیۓ مستحب ہے کہ وہ اس کی ضروریات پوری کریں ۔

    جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ہے :-
    “ بے شوہر عورتوں اور مسکینوں کے لیۓ دوڑ دھوپ کرنے والا الّٰلہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    Twitter Handle : @MansurQr

  • عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی    تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    جب ریاست کا وجود بھی نہ تھا تب بھی شاید ایسا ہوا ہوگا جیسے اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے کون کہے گا کہ یہ انہی لوگوں کا دیس ہے جو عورتوں کی عزت کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو قربان کر دیتے تھے. اب یہ دھرتی عورتوں کے لئے جہنم بنا دی گئی ہے. جہاں پر عورت کا غیرت کے نام پر قتل, اجتماعی زیادتی, جنسی اور جسمانی تشدد, ان کو پیسوں کے عوض بیچنا, جرگوں میں انکی عزت کی قیمت لگانا عام بن چکا ہے. یہ واقعات اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگے ہیں کہ لوگوں میں اس کی حساسیت ہی ختم ہوگئی ہے. عورتوں کے قتل اور تشدد کے حوالے سے اس حد تک بے حسی بڑھ گئی ہے کہ اب لوگوں کے رونگٹے بھی کھڑے نہیں ہوتے. اب تو یہ ان کے لئے جیسے معمول کی کوئی خبر ہو کچھ دنوں سے عورتوں پر تشدد اور قتل کے حوالے سے غیر معمولی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں پر وہ خبریں اس ملک کی عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کی آنکھوں کو بھگا بھی نہ سکیں. مدیجی میں ملزم نے اپنی بیوی, دو بیٹیوں سمیت اپنی چاچی گولیاں مار کر قتل کر دیا کچھ دن پہلے حیدرآباد میں قرت العین کو شوہر نے تشدد کر کے مار ڈالا, ٹنڈو جام میں عورت کو زندہ جلا کر قتل کردیا یے تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں کئی ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے.

    پاکستان میں قانون پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے اس کی موجودگی کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا. عورتوں پر ظلم اور تشدد کے خلاف قانون انکا سہارا نہیں بن سکا. لوگوں کے دلوں میں سے قانون کا ڈر ہی نکل گیا انسانی حقوق تو دور کی بات ہے. پاکستان کی آدھی آبادی کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا. ہمارے حکمران خود کو دنیا میں لبرل اور روشن خیال گنوانے کے لئے عورتوں کے حقوق کے لئے قانون سازی تو کرتے ہیں پر اس قانون پر عمل ہو نہیں پاتا. پاکستان کے حکمرانوں کی ادا ہی نرالی ہے ہر بات پر نوٹس لینا انکا مرغوب مشغلہ ہے معاملہ شاید ہی اس سے آگے بڑھا ہو بہت کم دیکھنے کو ملا ہے. دراصل پاکستان میں عورتوں کے خلاف ظلم اور بربریت کا گولا جس گائے کے سینگ پر رکھا ہوا ہے انکا نام ہے جرگائی بھوتار. انکی رسائی اقتدار اور اختیار کے ایوانوں تک ہے. انہوں نے انصاف کے نام پر ناانصافی کا نظام قائم کیا ہوا ہے. جہاں پر یہ عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سزا دلواتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرواتے ہیں وہ جرگہ کرواتے ہیں جہاں پر عورت کے سر کی قیمت اور عصمت دری کی قیمت مقرر کردی جاتی ہے. عورت کے قتل کے فتوے جاری کردیے جاتے ہیں. مظلوم عورتوں کی چیخیں ان ناانصافیوں کے خلاف حکمرانوں کی اناوں کی دیواروں تک بھی نہیں پہنچ پاتی.

    پاکستان میں عورتوں پر بڑھتے ظلم, جنسی اور جسمانی تشدد اور انکے قتل کے واقعات میں اضافہ پر حکمرانوں کا پریشان نہ ہونا بھی بڑی پریشانی کی بات ہے. پاکستان میں عورتوں پر تشدد بند کروایا جائے ریاستی قانون کو فعال کیا جائے اور عورتوں کے قتل کے کیسز کو جلد از جلد میرٹ پر فیصلا دے کر ملزمان کو سزا دے کر مظلوم عورتوں کو انصاف مہیا کیا جائے.

    @Nadir0fficial

  • آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟   تحریر: سحر عارف

    آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟ تحریر: سحر عارف

    عورت اللّٰہ تعالٰی کا سب سے انمول تحفہ ہے لیکن عورت پر تشدد ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کبھی اس پہ جنسی تشدد ہوتا ہے تو کبھی جسمانی تشدد۔ یہ بات سرے سے سمجھ میں نہیں آتی کہ جو مرد عورتوں پہ تشدد کرتے ہیں ان کے نزدیک آخر عورت کیا ہے؟ آخر مرد کی نظر میں عورت کیا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اسے انسانوں کی طرح جینے کا حق نہیں؟ آخر کب تک عورت ظلم سہتی رہے گی؟ مرد کو اللّٰہ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے نہیں دیا کہ وہ عورت پر تشدد کر سکے بلکہ اس لیے دیا کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے۔ نکاح کی صورت میں عورت کو اللّٰہ کی امانت کے طور پر مرد کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ پر افسوس آج پھر جہالت اپنے قدم اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک سے ایک واقعہ جو منظر عام میں آتا ہے دل دہلا دیتا ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو کچھ روز قبل 15 جولائی کی رات قوم کی بیٹی قرةالعین کے لیے ایک بھیانک رات ثابت ہوئی۔ کوئی قیامت نہیں آئی کوئی زمین نہیں پھٹی جب چار بچوں کی ماں کو انہیں کے سامنے ان کے باپ نے کس قدر درندگی سے تشدد کر کے قتل کردیا۔ بچے سے دہائیاں دیتے رہے قوم کی بیٹی قرةالعین اپنی زندگی کے لیے گڑگڑاتی رہی اپنے شوہر سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی پر افسوس عمر میمن جو کہ نشے کی حالت میں چور تھا کسی کی ایک نا سنی اور اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قرةالعین بلوچ کی شادی 2012 میں عمر میمن جو کہ سابق سیکرٹری آبپاشی سند خالد حیدر میمن کا بیٹا ہے اس سے ہوئی۔ شادی کے ایک دو سال تک تو سب ٹھیک رہا پر پھر جیسے جیسے شادی آگے بڑھتی گئی عمر میمن اپنے بیوی بچوں پر تشدد کرنے لگا۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا ہے کہ عمر میمن ایک شرابی ہے۔ وہ بات بات پر میری بہن کو مارتا پیٹتا اور بچوں پر بھی تشدد کرتا ان کے سر پھاڑ دیتا، ہاتھ توڑ دیتا۔ اکثر اوقات میری بہن کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا اور دوسری عورتوں کو گھر بلوا کر عیاشی کرتا۔ قاتل کے والد کو اس تمام صورتحال کا علم تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ اگر میرے بیٹے کو گرفتار کروایا تو میں اسے دوبارہ باہر نکلوا لوں گا۔

    15 جولائی کی قیامت خیز رات جب عینی کا قتل ہوا تو اس کی بڑی بیٹی رامین زہرہ جس کی عمر نو سال ہے اس نے اپنی ماں کا قتل ہوتے دیکھا وہ چھوٹی سی بچی جس نے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا اس کے ننھے دماغ پر کتنا بھیانک اثر پڑا ہوگا۔ پر عمر میمن، انسان نما حیوان کو زرا ترس نا آیا۔ نشے سے چور جب گھر لوٹا تو جانوروں کی طرح اپنا شکار تلاش کرنے لگا۔ بیٹی کو کیا خبر تھی کہ شکار اس ماں بن جائے گی پر ہوش تب آیا جب عمر میمن کے ہاتھوں اپنی ماں کو پیٹتے دیکھا۔ بچی تھی نا رونے سسکنے کے علاؤہ کیا کرسکتی تھی۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی عمر کے تشدد میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عمر میمن نے تشدد کر کر کے جب تھک گیا تو بیوی پہ ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا اور ٹھنڈے پانی سے بھگانے کے بعد اےسی کے نیچے پھینک دیا۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی جب اس حیوان کی حیوانگی ختم نا ہوئی تو آخر میں اپنے ہی بچوں کی ماں کا گلا دبا کے عینی سے اس کی سانسیں چھین لی۔ بچے خوف کی حالت میں اس بات سے بے خبر کھڑے تھے کہ ان کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کٹوانی چاہی تو پہلے پولیس نے منع کردیا اور اب جب ایف آئی آر درج ہوگئ ہے تو پھر بھی پولیس اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ مسلسل اسی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پولیس کی یہ کوشش رہی کہ جب پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آئے تو اس میں کسی طرح ردوبدل کر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مجرم کو بچایا جاسکے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مقتولہ میں شدید تشدد ہوا تھا۔ اگر اب بھی ہم چپ کرکے بیٹھ گئے تو ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور درندہ آزاد ہوجائے گا۔ لیکن ہم چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے ہم انصاف کی خاطر لڑیں گے۔

    اسی سلسلے میں ٹوئیٹر پر ‘جسٹس فار قرةالعین’ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اس کے علاؤہ مقتولہ کے لیے موم بتیاں جلا کر کئی روز تک احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور عینی کو انصاف دلوائیں ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود عوام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عمر میمن کو پھانسی دی جائے تاکہ اس جیسے باقی درندوں کے لیے سبق ہو اور دوبارہ کوئی دوسری عینی ایسی حیوانیت کا شکار نا ہو۔

    ہم سب کو مل کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ہمیں عینی کے ساتھ ساتھ ان تمام عورتوں کی بھی آواز بننا ہوگا جو دنیا سے ڈر کر خود پہ چپ کرکے تشدد سہتی رہتی ہیں۔ اور پھر ماں باپ کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں یہ بات ذہن نشیں کروا کے بھیجیں کہ اگر یہ انسان نما شخص جانور نکل آئے تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے واپس چلی آنا۔ اگر ایسا ہوجائے تو یقین جانیں اس دنیا میں بہت سی عورتیں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ماں باپ دنیا داری کا سوچتے ہوئے اور بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں اور بیٹیاں ان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے خود پر تشدد ہونے دیتی ہیں۔

    @SeharSulehri

  • جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    آج کا موضوع دو جڑواں بہنوں پہ ہے جو ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں جی ہاں! بالکل الٹ بات ہو رہی ہے دیانت اور بد دیانتی کی کہ یہ کیسے ہمارے معاملات زندگی میں اثر انداز ہوتی ہیں
    ذندگی میں ہمارا مخلتف لوگوں کےساتھ واسطہ پڑتا ہے اور ہمیں مختلف قسم کے معاملات کرتے ہوئے زندگی گزارنی پڑتی ہے یہ معاملات یا معاہدات کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں جیسا کہ سیاسی ،سماجی یا معاشی نوعیت کے اور یہ معاملات ہر حالت میں اکثر دونوں طرف کے لوگوں کےلیے آزمائش ہوتے ہیں کیونکہ یہاں جب اپنے نفع کو سامنے رکھا جاتا ہے تو وہیں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دوسرے انسان کا میری وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرے فریق کو ممکنہ فائدہ ہو
    دیانت داری،ایمانداری کبھی بھی شکست نہیں کھائی سکتی اور وہیں جو بندہ خیانت کرتا ہے اسکی خیانت کبھی بھی پروان نہیں چڑھتی
    خیانت سے کمایا ہوا رزق یا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں نقصاندہ ثابت ہوجاتا ہے
    جب ہم اپنی اردگرد چیزوں کا بغور معائنہ کرتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دیانت کو فرار نہیں اور خیانت کو قرار نہیں
    مثلاً :ایک بندہ خیانت کرتا ہے حرام مال کماتا ہے اپنا معیار زندگی بلند کرتا ہے اپنے بچوں کو اعلی سکول میں پڑھاتا ہے اسکے برعکس ایک انسان رزق حلال کماتا ہے اپنے بچوں کو چھوٹے سکول میں پڑھاتا ہے اور انہیں حسب توفیق کھلاتا ہے تو اکثر دیکھنے کو یہ نتائج ملتے ہیں کہ خیانت کے مال سے معیارِ زندگی بلند کرنے والے کی اولاد بڑے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتی اور اس غریب مگر دیانت دار اور حلال کمانے ،کھلانے والے کی اولاد پڑھ لکھ اور سنور جاتی ہے
    جو لوگ بددیانتی،دھوکہ دہی اور خیانت سے پیسہ بناتے ہیں انہیں زندگی میں کبھی بھی قرار حاصل نہیں ہوتا انکی زندگی سے سکون چلا جاتا ہے وہ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہی رہتے ہیں جبکہ ایک دیانت دار انسان اپنے آپ کو منوا کر رہتا ہے
    جب کوئی انسان خیانت سے مال کماتا ہے یا رشتوں میں خیانت کرتا ہے تو وہ خیانت اسکی ذات پہ بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے بددیانتی،عدم سچائی اور دھوکہ دہی اسکےلیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں جیساکہ سائنسی ضابطہ ہے ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے تو یہ بات ہمارے جسم سے نکلنے والے اور ہم سے سرزد ہونے والے اعمال پر بھی پوری اترتی ہے جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ حشر کے روز سب کو ان کے اعمال کی سزا ملے کی اور جزا بھی لیکن یہ سلسلہ صرف وہیں کے لیے محدود نہیں اس پہ تو عمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے برے اعمال کی جو فصل بوئی تھی وہ پک کر کٹنےکو تیار ہو چکی ہے
    بد دیانتی اور دھوکہ دہی سے کام کرنے والا انسان کچھ بھی کر لے خود کو مضر اثرات سے نہ نہیں بچا سکتا کیونکہ کوئی بھی انسان قدرت کے بنائے ہوئے قوانین سے بالاتر نہیں ہوسکتا
    چونکہ دیانت اور بد دیانتی جڑواں بہنیں ضرور ہیں لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کے الٹ کام کرتی ہیں اور انکے نتائج بھی ایسے ہی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اسلیے انکی طرف راستے بھی مختلف جاتے ہیں اور انعام بھی اب اوپر لکھی گئی مثال سے آپ لوگوں نے سمجھا ہوگا کہ دیانت کا راستہ بظاہر بہت تکلیف اور جدوجہد والا ہے جبکہ اسکا انعام دائمی خوشی ،آرام اور سکون ہے جبکہ بددیانتی کی طرف جانے والا راستہ بظاہر آسان،خوبصورت اور پر تعیش ہے جبکہ اسکا انجام رسوائی ،پریشانی اور احساسِ جرم ہے اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ کونسا راستہ چنتے ہیں اور ان جڑواں بہنوں میں سے کسے پسند کرتے ہیں.
    Twitter: @HusnHere

  • عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    یوں تو عورت مارچ عورتوں کے تحفظ کے نام بنی ہے جس میں نام نہاد عورتوں کے حقوق کے لیے بنی تنظمیں بھی پیش پیش ہوتی ہیں لیکن کیا عورت مارچ میں اٹھائے گئے اصل ایشوز واقعی ہمارے معاشرے کا اصل مسلہ ہے؟؟؟

    کیا واقعی عورت کو اپنے شوہر کو کھانا گرم کرکے دینا ایک ایسا ایشو ہے جسے اٹھایا جانا چاہیے ؟؟ کیا واقعی عورت کے سیگریٹ پینا ، چھوٹے لباس پہننا ، سڑکوں پر ناچنا ، جیسے مسائل اتنے اہم ہیں کہ یہ عورت مارچ میں اٹھائے گئے پلے کارڈز کی زینت بنے رہتے ہیں؟؟

    دراصل عورت مارچ کی آڑھ میں معاشرے کی تباہی ہورہی ہے ہمیں اپنی خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں تاریخ گواہ ہے پہلے عورتوں کو حیوانوں سے بد تر سمجھا جاتا ہے بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا بیٹی پیدا ہوتے ہی اسکا قتل کرنا عام تھا لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس انتہا کو پہنچ چکی تھی ،اس کے باوجود ماننے سے بھی انکار کیا جارہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللہ العلمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا اور زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی اور عملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اسکو ذمداریاں سونپی گئی

    آسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد عورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا انسان کے دل و دماغ میں عورت کا حق مقام و مرتبہ اور وقار اس کو متعین کیا اور اس کی سماجی ،تمدنی ،اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا

    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے خواتین
    کو ان کے حقوق دلائے اور
    خواتین کو معاشرے میں چا عزت مقام دلایا ۔ہمیں اب معاشرے میں ایسے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو در حقیقت عورتوں کو پیش آتے ہیں عورت مارچ میں سوائے عورت کے تحفظ پر بات کرنے کے تمام تر بے حیائی کو پروموٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔

    کچھ بہنیں جو عورت مارچ کی حقیقت سے واقف نہیں انہیں اب پہچان کرنی ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مرد اور عورت پر مشتمل ہوتا ہے اور ان دونوں میں سے کسی بھی ایک جنس کے حوالے سے ایک دوسرے کے دلوں میں نفرتیں پھیلانا دور جہالت ہے ایک دوسرے کے خلاف لوگوں کو اکسانہ ایک احمقانہ حرکت ہے اس سے معاشرے میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔۔۔سلطان صلاح الدین ایوبی "کا ایک قول ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم میں بے حیائی برہنگی کو عام کر دو اور یہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے ساتھ یہی سب کچھ کرنا چاہتی ہیں یہ ففتھ جنریشن وار کا ایک رخ ہے میری تمام بہنوں سے گزارش ہے ان کے اصل مقصد کو سمجھیں اور دیکھیں
    ک آپ کے اصل مسائل کیا ہیں ؟۔۔ عورت تحفظ کے نام پر بنی تنظمیں بیرون ملک فنڈنگ وصول کرتی ہیں اور مغربی کلچر کو پروموٹ کرتی ہیں جس میں انہیں اسلام میں عورتوں کے تحفظ پر آگاہی دینا تو دور کی بات انہیں مذہب کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہا ہے اس سازش کو ہمیں مل کر روکنا ہے اور اس کے خلاف لڑنا ہے انشاء اللہ

  • خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    عورت وہ ہستی ہے جو دیکھنے میں تو نرم و نازک ہوتی ہے پر مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتی ہے پھر چاہے کتنا ہی کٹھن وقت کیوں نا آجائے۔ عورت اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے جو ہر رشتے میں خواہ وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی ہو اپنے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے لیے قابلِ فخر ہے۔ اسلام سے قبل عودت کو کوئی حیثیت حاصل نا تھی۔ زمانہ جاہلیت میں مرد عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں جب پیدا ہوتی تو انھیں بوجھ سمجھ کر زندہ زمین میں درگور کردیا جاتا۔ عورت کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نا تھا۔ پر اسلام نے عورت کو تمام حقوق دیے۔ عورت کو ماں کا درجہ دے کر ماں کے قدموں میں جنت رکھی، بیوی، بہن اور بیٹی کو بھی ان کے حقوق دیے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مردوں کی سوچ میں کافی حد تک فرق آچکا ہے۔ جہاں پہلے وہ عورت کو کوئی حق نا دیتے تھے آج وہیں عورتوں کو کافی حد تک آزادی حاصل ہوچکی ہے۔ اب زیادہ تر عورتیں تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے کی بہتری اور ملک کے ترقی میں بھی اپنا حصّہ ڈالتی ہیں۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کے طرح ہیں جس میں سے اگر ایک بھی خراب ہو جائے تو گاڑی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ گاڑی کا اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں پہیے صحیح سے کام کریں۔ ٹھیک اسی طرح ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت ایک ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے ملک کی خوشحالی میں کردار ادا کریں۔

    عورت جہاں گھرداری سمبھالنا جانتی ہے وہیں ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈالنا بھی جانتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ صحیح سے ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین نے ہمیشہ یہ بات باور کروائی ہے کہ کوئی بھی شعبہ ہو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا نام بنا سکتی ہیں۔ پاکستان کو اللّٰہ نے بےشمار ایسی خواتین سے نوازا ہے جنھوں نے عالم فارم تک اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے۔

    زارا نعیم پاکستان کا وہ نام جس نے چند ماہ قبل تعلیمی میدان میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند ہوا۔ زارا نعیم نے ایسے حالات میں اے سی سی اے کے امتحان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پاکستانی قوم کو خود پر فخر کرنے کا موقع دیا جب دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے باقی کے طلبہ بےشمار پریشانیوں کا شکار تھے۔

    شرمین عبید چنائے وہ خاتون جنھوں نے معاشرے میں موجود ایک ایسے عنصر پہ فلم بنائی جو کہ کئی سالوں سے پاکستان کو جکڑے ہوئے ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر آئے روز عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ شرمین عبید چنائے کی اس فلم پر انھیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    بلقیس ایدھی پاکستان کی قابلِ فخر خاتون جنھوں نے اپنے شوہر ایدھی صاحب کے ساتھ مل کر بغیر کسی رنگ و نسل کی تفریق کے بے سہارا لوگوں کی بھرپور خدمت کی۔ بلقیس ایدھی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    مریم مختار پاکستان کی بیٹی اور بہادر فائٹر پائلٹ جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جام شہادت نوش کیا۔ مریم مختار نے اس وقت شہادت حاصل کی جب ان کا طیارہ انجن میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک حادثے کا شکار ہوا۔

    ثناء میر پاکستان کی نامور خاتون کرکٹر جنھوں نے دنیائے کرکٹ میں اپنا نام اپنی محنت اور صلاحیت سے منوایا۔ ثناء میر نے کرکٹ کی دنیا میں بہت سے عالم ریکارڈ بنائے۔ وہ پاکستان کا فخر اور اپنے جیسی باقی عورتوں کے لیے مثال ہیں جو کہ مستقبل میں کرکٹ کے شعبے سے منسلک ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    ان خواتین کے علاوہ اور بھی بہت سی خواتین ہیں جنھوں نے اپنی قابلیت اور جدوجہد سے دنیا کے ہر شعبے خواہ وہ ڈاکٹری کا ہو، انجیرنگ کا ہو، تعلیم کا ہو، فلم انڈسٹری کا ہو یا سیاست کا ہر ایک شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ چل کے اپنے ملک کی ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلائی ہے۔ بےشک ایسی خواتین ہمارے ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • ‏باغی عورت  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    ‏باغی عورت تحریر: ماہ رخ اعظم

    عورت کو اتنا مت تنگ کریں۔کہ وہ بغاوت پر اتر آۓ کیونکہ جب ایک عورت بغاوت پر اتر آتی ہے تو اس باغی عورت میں شرم و حیاء اخلاقیات اور تہذیب کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ،وہ باغی ہوکر ہر شخص کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیتی ہے ،اتنی بد لحاظ ہو جاتی ہے، کہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتی چاہے، وہ بڑا ہو یاجھوٹا ہو اور ہر مرد کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے چاہے وہ مرد اس باپ ہی کیوں نا ہو ،باغی عورت اس وقت تک ہی پرامن اور خاموش رہتی ہے جب تک وہ تہذیب میں ہے جیسے ہی باغی عورت تہذیب چھوڑتی ہے تو وہ فتنہ برپا کر دیتی ہے۔

    پھر بڑے بڑے لوگ بھی اس سے پناہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ باغی عورت تمیز تہذیب اخلاقیات سب بھول کر اگلے انسان کی اینٹ سے اینٹی بجا دیتی ہے۔

    مرد حضرات توجہ فرماٸیں!! ان کو لگتا ہے کہ باغی عورت ہمارا کیا اکھاڑ سکتی ہے ؟ جب یہ ایک عورت باغی ہوتی ہے اور بغاوت پر اتر آتی ہے تو ہر انسان کا بھی ایمان ڈگمگا کر رکھ دیتی ہے ،باغی عورت کے شر سے بچنا ہے، تو عورت کے ساتھ حسن سلوک کروں، انہیں امن عزت، محنت اور اہمیت دو اسکی راۓ کا احترام کرو ،اسے کبھی مجبور اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کرو ،پیار محبّت سے اس سے بےشک جان بھی مانگ لوں ،وہ باغی عورت ہنس کر دے دے گی ،لیکن اگر اس کے ساتھ زور و زبردستی کرنی کی کوشش کروگے، وہ باغی عورت اس وقت آپ کی بات کا مان بھی رکھ لے گی ، لیکن موقع ملتے ہی آپکو دھوکہ دیتے ہوۓ ایک لمحے کو بھی نہیں سوچے گی اور وہ حشر کریں کہ آپ روح تک کانپ جاٸیں گی ۔

    اکثر دیکھا گیا ہے، کہ جس عورت کی زبردستی شادی کروائی جاتی ہے ،وہ عورت اس لہحے تو وہ صبر کا گھونٹ پی جاتی ہے، لیکن جس کی زندگی میں وہ عورت جاتی ہے، اسکی زندگی کو دوزخ بنا کر رکھ دیتی ہے ،جب ہمارے اہل خانہ جب بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو اس وقت وہ بیٹی کے ساتھ داماد کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ،کہ ہم اگر اپنی بیٹی کے ساتھ زور و زبردستی کر رہے ہیں تو اس خمیازہ انکے کو داماد بھی بھگتنا پڑیں گا۔

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ سو میں سے چالیس فیصد ہی عورتیں زبردستی کی شادی کو ایمانداری سے نبھاتی ہیں ورنہ ساٹھ فیصد عورتیں زبردستی کی شادی کے بعد باغی بن جاتی ہے اور مرد کے ساتھ بےوفا ، بے لحاظ بے بد زبان ، مروت ہی ثابت ہوتی ہیں!!

    آخر میں بس یہی کہوں گی

    رہزن ہے میرا رہبر منصف ہے میرا قاتل
    سہہ لوں تو قیامت ہے، کہہ دوں تو بغاوت ہے!!

    >

  • خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے  تحریر: ذیشان علی

    خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے تحریر: ذیشان علی

    ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. جب ہم یہ نام لیتے ہیں تو بڑا فخر محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر بھی فخر ہے،اس لیے جب ہمارے ملک کے ساتھ اسلام کا نام جوڑتا ہے تو ہمیں مسرت ہوتی ہے،
    لیکن کیا ہم اپنے ملک کے نام کے ساتھ جڑے اسلام جو کہ ہمارا مذہب بھی ہے کا پاس ہے،؟
    ہمیں اس کی قدر ہے؟ اس کا ادب و احترام اور اسے باوقار بنانے کی کیا ہم سمجھ رکھتے ہیں،
    کیوں ہمارے معاشرے کے افراد ملک اور اپنے وقار کو بد نام کرنے کے ساتھ ساتھ گناہوں اور ایسے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں جو ناقابل معافی ہے،
    عورت کی عزت اور ناموس کا محافظ مرد ہے، لیکن انتہائی شرم کا مقام ہے ہمارے معاشرے کے ان افراد کے لیے جو عورتوں پر ظلم اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں،
    ہمیں تو انصاف پسند ہونا چاہیے ہمارا دین تو ہمیں سکھاتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ تو کیا تم لوگ دین سے پھر گئے ہو جو اس کے منع کرنے کے باوجود اس ظلم اور گناہ کو جاری رکھے ہوئے ہو،
    آج کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ ظلم کرو گے تو وہ ظلم تمہیں لوٹایا جائے گا، کیا تمہیں اس کی خبر نہیں یا اس کا کوئی خوف نہیں،؟
    تم باز نہیں آتے تو پھر تمہیں ٹھیک کرنے کے ہماری ریاست ہے اور اس کا قانون ہے،
    ہم مل کر آواز بلند کریں گے اور تم لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گئیں، ہم قانون سے تم لوگوں کی ایسی کی تیسی کروائیں گے کہ تم لوگ یاد رکھو گے بلکہ تم لوگوں کی نسلیں بھی یہ سب یاد رکھیں گی،
    قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور عوام کے محافظوں سے ہماری منہ زور اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں،
    ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی اللہ حفاظت کرے اور میری تمام ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اسلامی اقدار کو اپنائیں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عمل پیرا ہوں۔
    اللہ اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کی مدد کرتا ہے بےشک اس کا وعدہ ہے وہ اپنے بندوں کو مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑتا،
    جن خواتین پر ظلم ہوتا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے وہ اس گناہ سے مبرا ہیں اور کچھ شک نہیں کہ پروردگار انہیں بخش دے گا وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے،
    ظلم کو روکنا ریاست اور معاشرہ کے ذمہ داری ہے اپنی خواتین کی حفاظت کریں اور دوسروں کی ماں بہن بیٹی کو اپنی ماں بہن بیٹی جیسا سمجھیں یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے،
    عورت کوئی کھیل کا سامان نہیں ہے کہ جب دل چاہا اس سے کھیلا اور جب دل بھرا اسے پھینک دیا،
    اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہو ایسا کرنے والوں پر ہر گز ہر گز تمہیں اس ظلم کا حساب دنیا اور آخرت دونوں میں دینا پڑے گا،
    معاشرے کو گندا اور تباہ و برباد مت کرو کہ اس سے خود بھی رسوا ہو گے اور اپنے خاندان والوں کو بھی رسوا کرو گے،
    اسلامی اقدار کو فروغ دو پانچ وقت کی نماز ادا کرو شیطانی وسوسوں سے دور رہو اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈروتے رہوں،
    اللہ بے ہدایت لوگوں کو ہدایت دے اور جن کے مقدر میں ہدایت نہیں لکھی انہیں غرق کر یہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہیں سو ہمارے معاشرے کو ان ناسوروں سے پاک کر دے،

    @zsh_ali

  • عورت   تحریر: اعزاز شوکت

    عورت تحریر: اعزاز شوکت

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درِمکنوں
    مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
    عورت کی مدح میں ان اشعار کو لکھےہوئے سو سال بیت گئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ عورت کی عظمت اور حدِ کمال کے بیان کا حق آج تک ادا نہیں ہوسکا۔ مرد کے ہرمعجزے نے کسی نہ کسی عورت ہی کی گود میں پرورش پائی ہے۔ اولین انسان حضرت آدم کو بھی جب تنہائی کی وحشت کاٹ کھانے لگی تو ربِ کریم نے اماں حوا کو پیداکر کے انھیں تسکین بخشی اور یوں مرد اورعورت کے قدم قدم پہ اشتراک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے خلاف بولا اور سوچا تو جا سکتا ہےمگر جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    عورت کی ذات کا سب سے حیران کن پہلو اس کی ایک نئی زندگی کو جنم دینے کی صلاحیت ہے۔قدیم زمانوں میں لوگ جب بے جان زمین سے لہلہاتی فصلیں پیدا ہوتے دیکھتے تو اس زمین کی پرستش شروع کردیتے، جب انھوں نے یہی صلاحیت عورت میں دیکھی تو اسے دیوی مان لیا اور اس طرح قدیم مادرسری (Matriarchal)معاشرے کی بنیاد پڑی جوعورت کو مرکزی اہمیت دیتا تھا۔
    سبطِ حسن اپنی کتاب "ماضی کے مزار” میں لکھتے ہیں کہ زراعت کا پیشہ بھی عورتوں ہی کا ایجادکردہ تھا۔ مرد شکاراور جڑی بوٹیاں ڈھونڈنے جنگلوں میں نکل جاتے تھے جبکہ عورتیں بچوں کی نگہداشت کے لیے خیمہ نما گھروںمیں رہتی تھیں، اسی دوران انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جہاں وہ جڑی بوٹیوں کو استعمال کے بعد پھینکتی ہیں وہاں سے ویسی ہی جڑی بوٹیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔یوں آہستہ آہستہ پودے اور فصلیں اگانے کا رواج شروع ہونے لگا۔گویا یہ عورتیں ہی تھیں جن کی دریافت نے پوری انسانیت کو خوراک کے نہ ختم ہونے والے ذخیرے سے روشناس کروادیا۔
    عورت وہی قوت ہے جو کبھی اولمپیاس بن کر سکندر کی پرداخت کرتی ہے تو کبھی قلوپطرہ بن کر مصر کے تخت پر راج کرتی ہے .
    جدید دور میں بھی عورت کی فتوحات ہر شعبے سے ستاروں کی طرح چمکتی نظر آتی ہیں۔خود پاکستان میں فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم سلمیٰ تصدق سے لے کر بے نظیر بھٹو، ملالہ یوسف زئی ، ارفع کریم جیسی خواتین بے مثال کارناموں سے مشعلِ راہ کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔یہ کامیابیاں ہمیں ماضی کی عورتوں کی قدر کااعتراف کرانے کے ساتھ ساتھ اس امر کا احساس بھی دلاتی ہیں کہ آج بھی عورتیں مرد کے شانہ بشانہ محیرالعقول واقعات سرانجام دے سکتی ہیں۔

    @Zee_PMIK

  • نیت .تحریر: فروا نذیر

    نیت .تحریر: فروا نذیر

    اللہ نے انسان کو جہاں اشرف المخلوقات بنایا ہے جو اتنا بڑا انسان کو درجہ دیا ہے وہاں انسان کیلیے کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں

    اسلام ہمارادین ہے ہمارا دین اسلام بہت ہی خوبصورت ہے جو ہم سب کو مل جل کر متحد رہنے کا درس دیتا ہے اسلام میں جب انسان داخل ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے پیارے نبی کے آخری الزمان صلی اللہ.علیہ والٰہ وسلم ہونے پر ایمان لاتا ہے آخرت پر ایمان لاتا ہے

    اللہ نے جہاں انسان کو اتنی آسائشیں عطافرمائی وہاں انسان کا بھی کچھ فرض کہ ہو اپنے حصے کا کاموں کو پورا کریں تاکہ ہم اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں…

    ویسے سے ہم انسانوں پر بہت سے فرائض ہیں لیکن میں سچ کے بارے میں بات کرنا چاہوں گی اللہ پاک نے ہر انسان کو ہر جگہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی سچ انسان کیلیے اتنی بڑی طاقت ہے کہ دنیا کی سب طاقتیں اس سے کم ہیں…
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم نے ہر جگہ.ہر خطبے ہر بیان ہر حدیث میں سچ بولنے کی تاکید فرمائی ہے…
    اس بات کو میرا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ.ہم.آج جس دور میں کھڑے ہیں کوئی 10یا 15% فیصد لوگ ہو گئے جو سچ بولتے ہیں سچ سے کام لیتے ہیں..

    ہمارے معاشرے میں سچ جیسے غائب ہو چکا ہے
    ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور بچے چھوٹے ہر کسی سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں یہ سب ہمارے نبی کی تعلیمات تو نہیں جنکو لوگ اپنا رہے ہیں ہمارے نبی کی تعلیمات سچ بولنا ہے
    لوگوں کو قیامت کا آخرت کا ڈر نہیں جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں اور شرمندہ نہیں ہوتا وہ مسلمان کا کام نہیں ہے لیکن معاشرے میں رہنے کے ساتھ ساتھ لوگ سچ کو ترجیح دینے کی بجائے جھوٹ کو اہمیت دیتے ہیں….

    میرے پیارے بھائیو اور بہنوں میرا یہ سب لکھنے کا مقصد ہے سب لوگ جھوٹ کو چھوڑ دیں ابھی بھی وقت ہے سب انسان سچ کی رسینکو پکڑ لیں تاکہ ہم سب دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں…

    سچ بعض اوقات کڑوا ہوتا ہے لیکن یہ ہر مشکل کو دور کردیتا ہے اللہ پاک ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے انکی مدد کرتا ہے

    میری سب بھائیو بہنوں سے درخواست ہے: کہ سب سچ کو اپنائیں تاکہ ہمیں دنیاو آخرت میں شرمندہ نہ ہونا پڑے اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سبکو سچ کے راستے پر چلائے اور ہر مشکل سے بچائے

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_