Baaghi TV

Category: خواتین

  • خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    عورت وہ ہستی ہے جو دیکھنے میں تو نرم و نازک ہوتی ہے پر مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتی ہے پھر چاہے کتنا ہی کٹھن وقت کیوں نا آجائے۔ عورت اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے جو ہر رشتے میں خواہ وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی ہو اپنے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے لیے قابلِ فخر ہے۔ اسلام سے قبل عودت کو کوئی حیثیت حاصل نا تھی۔ زمانہ جاہلیت میں مرد عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں جب پیدا ہوتی تو انھیں بوجھ سمجھ کر زندہ زمین میں درگور کردیا جاتا۔ عورت کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نا تھا۔ پر اسلام نے عورت کو تمام حقوق دیے۔ عورت کو ماں کا درجہ دے کر ماں کے قدموں میں جنت رکھی، بیوی، بہن اور بیٹی کو بھی ان کے حقوق دیے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مردوں کی سوچ میں کافی حد تک فرق آچکا ہے۔ جہاں پہلے وہ عورت کو کوئی حق نا دیتے تھے آج وہیں عورتوں کو کافی حد تک آزادی حاصل ہوچکی ہے۔ اب زیادہ تر عورتیں تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے کی بہتری اور ملک کے ترقی میں بھی اپنا حصّہ ڈالتی ہیں۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کے طرح ہیں جس میں سے اگر ایک بھی خراب ہو جائے تو گاڑی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ گاڑی کا اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں پہیے صحیح سے کام کریں۔ ٹھیک اسی طرح ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت ایک ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے ملک کی خوشحالی میں کردار ادا کریں۔

    عورت جہاں گھرداری سمبھالنا جانتی ہے وہیں ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈالنا بھی جانتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ صحیح سے ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین نے ہمیشہ یہ بات باور کروائی ہے کہ کوئی بھی شعبہ ہو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا نام بنا سکتی ہیں۔ پاکستان کو اللّٰہ نے بےشمار ایسی خواتین سے نوازا ہے جنھوں نے عالم فارم تک اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے۔

    زارا نعیم پاکستان کا وہ نام جس نے چند ماہ قبل تعلیمی میدان میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند ہوا۔ زارا نعیم نے ایسے حالات میں اے سی سی اے کے امتحان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پاکستانی قوم کو خود پر فخر کرنے کا موقع دیا جب دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے باقی کے طلبہ بےشمار پریشانیوں کا شکار تھے۔

    شرمین عبید چنائے وہ خاتون جنھوں نے معاشرے میں موجود ایک ایسے عنصر پہ فلم بنائی جو کہ کئی سالوں سے پاکستان کو جکڑے ہوئے ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر آئے روز عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ شرمین عبید چنائے کی اس فلم پر انھیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    بلقیس ایدھی پاکستان کی قابلِ فخر خاتون جنھوں نے اپنے شوہر ایدھی صاحب کے ساتھ مل کر بغیر کسی رنگ و نسل کی تفریق کے بے سہارا لوگوں کی بھرپور خدمت کی۔ بلقیس ایدھی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    مریم مختار پاکستان کی بیٹی اور بہادر فائٹر پائلٹ جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جام شہادت نوش کیا۔ مریم مختار نے اس وقت شہادت حاصل کی جب ان کا طیارہ انجن میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک حادثے کا شکار ہوا۔

    ثناء میر پاکستان کی نامور خاتون کرکٹر جنھوں نے دنیائے کرکٹ میں اپنا نام اپنی محنت اور صلاحیت سے منوایا۔ ثناء میر نے کرکٹ کی دنیا میں بہت سے عالم ریکارڈ بنائے۔ وہ پاکستان کا فخر اور اپنے جیسی باقی عورتوں کے لیے مثال ہیں جو کہ مستقبل میں کرکٹ کے شعبے سے منسلک ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    ان خواتین کے علاوہ اور بھی بہت سی خواتین ہیں جنھوں نے اپنی قابلیت اور جدوجہد سے دنیا کے ہر شعبے خواہ وہ ڈاکٹری کا ہو، انجیرنگ کا ہو، تعلیم کا ہو، فلم انڈسٹری کا ہو یا سیاست کا ہر ایک شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ چل کے اپنے ملک کی ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلائی ہے۔ بےشک ایسی خواتین ہمارے ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • ‏باغی عورت  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    ‏باغی عورت تحریر: ماہ رخ اعظم

    عورت کو اتنا مت تنگ کریں۔کہ وہ بغاوت پر اتر آۓ کیونکہ جب ایک عورت بغاوت پر اتر آتی ہے تو اس باغی عورت میں شرم و حیاء اخلاقیات اور تہذیب کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ،وہ باغی ہوکر ہر شخص کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیتی ہے ،اتنی بد لحاظ ہو جاتی ہے، کہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتی چاہے، وہ بڑا ہو یاجھوٹا ہو اور ہر مرد کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے چاہے وہ مرد اس باپ ہی کیوں نا ہو ،باغی عورت اس وقت تک ہی پرامن اور خاموش رہتی ہے جب تک وہ تہذیب میں ہے جیسے ہی باغی عورت تہذیب چھوڑتی ہے تو وہ فتنہ برپا کر دیتی ہے۔

    پھر بڑے بڑے لوگ بھی اس سے پناہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ باغی عورت تمیز تہذیب اخلاقیات سب بھول کر اگلے انسان کی اینٹ سے اینٹی بجا دیتی ہے۔

    مرد حضرات توجہ فرماٸیں!! ان کو لگتا ہے کہ باغی عورت ہمارا کیا اکھاڑ سکتی ہے ؟ جب یہ ایک عورت باغی ہوتی ہے اور بغاوت پر اتر آتی ہے تو ہر انسان کا بھی ایمان ڈگمگا کر رکھ دیتی ہے ،باغی عورت کے شر سے بچنا ہے، تو عورت کے ساتھ حسن سلوک کروں، انہیں امن عزت، محنت اور اہمیت دو اسکی راۓ کا احترام کرو ،اسے کبھی مجبور اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کرو ،پیار محبّت سے اس سے بےشک جان بھی مانگ لوں ،وہ باغی عورت ہنس کر دے دے گی ،لیکن اگر اس کے ساتھ زور و زبردستی کرنی کی کوشش کروگے، وہ باغی عورت اس وقت آپ کی بات کا مان بھی رکھ لے گی ، لیکن موقع ملتے ہی آپکو دھوکہ دیتے ہوۓ ایک لمحے کو بھی نہیں سوچے گی اور وہ حشر کریں کہ آپ روح تک کانپ جاٸیں گی ۔

    اکثر دیکھا گیا ہے، کہ جس عورت کی زبردستی شادی کروائی جاتی ہے ،وہ عورت اس لہحے تو وہ صبر کا گھونٹ پی جاتی ہے، لیکن جس کی زندگی میں وہ عورت جاتی ہے، اسکی زندگی کو دوزخ بنا کر رکھ دیتی ہے ،جب ہمارے اہل خانہ جب بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو اس وقت وہ بیٹی کے ساتھ داماد کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ،کہ ہم اگر اپنی بیٹی کے ساتھ زور و زبردستی کر رہے ہیں تو اس خمیازہ انکے کو داماد بھی بھگتنا پڑیں گا۔

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ سو میں سے چالیس فیصد ہی عورتیں زبردستی کی شادی کو ایمانداری سے نبھاتی ہیں ورنہ ساٹھ فیصد عورتیں زبردستی کی شادی کے بعد باغی بن جاتی ہے اور مرد کے ساتھ بےوفا ، بے لحاظ بے بد زبان ، مروت ہی ثابت ہوتی ہیں!!

    آخر میں بس یہی کہوں گی

    رہزن ہے میرا رہبر منصف ہے میرا قاتل
    سہہ لوں تو قیامت ہے، کہہ دوں تو بغاوت ہے!!

    >

  • خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے  تحریر: ذیشان علی

    خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے تحریر: ذیشان علی

    ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. جب ہم یہ نام لیتے ہیں تو بڑا فخر محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر بھی فخر ہے،اس لیے جب ہمارے ملک کے ساتھ اسلام کا نام جوڑتا ہے تو ہمیں مسرت ہوتی ہے،
    لیکن کیا ہم اپنے ملک کے نام کے ساتھ جڑے اسلام جو کہ ہمارا مذہب بھی ہے کا پاس ہے،؟
    ہمیں اس کی قدر ہے؟ اس کا ادب و احترام اور اسے باوقار بنانے کی کیا ہم سمجھ رکھتے ہیں،
    کیوں ہمارے معاشرے کے افراد ملک اور اپنے وقار کو بد نام کرنے کے ساتھ ساتھ گناہوں اور ایسے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں جو ناقابل معافی ہے،
    عورت کی عزت اور ناموس کا محافظ مرد ہے، لیکن انتہائی شرم کا مقام ہے ہمارے معاشرے کے ان افراد کے لیے جو عورتوں پر ظلم اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں،
    ہمیں تو انصاف پسند ہونا چاہیے ہمارا دین تو ہمیں سکھاتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ تو کیا تم لوگ دین سے پھر گئے ہو جو اس کے منع کرنے کے باوجود اس ظلم اور گناہ کو جاری رکھے ہوئے ہو،
    آج کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ ظلم کرو گے تو وہ ظلم تمہیں لوٹایا جائے گا، کیا تمہیں اس کی خبر نہیں یا اس کا کوئی خوف نہیں،؟
    تم باز نہیں آتے تو پھر تمہیں ٹھیک کرنے کے ہماری ریاست ہے اور اس کا قانون ہے،
    ہم مل کر آواز بلند کریں گے اور تم لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گئیں، ہم قانون سے تم لوگوں کی ایسی کی تیسی کروائیں گے کہ تم لوگ یاد رکھو گے بلکہ تم لوگوں کی نسلیں بھی یہ سب یاد رکھیں گی،
    قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور عوام کے محافظوں سے ہماری منہ زور اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں،
    ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی اللہ حفاظت کرے اور میری تمام ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اسلامی اقدار کو اپنائیں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عمل پیرا ہوں۔
    اللہ اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کی مدد کرتا ہے بےشک اس کا وعدہ ہے وہ اپنے بندوں کو مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑتا،
    جن خواتین پر ظلم ہوتا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے وہ اس گناہ سے مبرا ہیں اور کچھ شک نہیں کہ پروردگار انہیں بخش دے گا وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے،
    ظلم کو روکنا ریاست اور معاشرہ کے ذمہ داری ہے اپنی خواتین کی حفاظت کریں اور دوسروں کی ماں بہن بیٹی کو اپنی ماں بہن بیٹی جیسا سمجھیں یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے،
    عورت کوئی کھیل کا سامان نہیں ہے کہ جب دل چاہا اس سے کھیلا اور جب دل بھرا اسے پھینک دیا،
    اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہو ایسا کرنے والوں پر ہر گز ہر گز تمہیں اس ظلم کا حساب دنیا اور آخرت دونوں میں دینا پڑے گا،
    معاشرے کو گندا اور تباہ و برباد مت کرو کہ اس سے خود بھی رسوا ہو گے اور اپنے خاندان والوں کو بھی رسوا کرو گے،
    اسلامی اقدار کو فروغ دو پانچ وقت کی نماز ادا کرو شیطانی وسوسوں سے دور رہو اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈروتے رہوں،
    اللہ بے ہدایت لوگوں کو ہدایت دے اور جن کے مقدر میں ہدایت نہیں لکھی انہیں غرق کر یہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہیں سو ہمارے معاشرے کو ان ناسوروں سے پاک کر دے،

    @zsh_ali

  • عورت   تحریر: اعزاز شوکت

    عورت تحریر: اعزاز شوکت

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درِمکنوں
    مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
    عورت کی مدح میں ان اشعار کو لکھےہوئے سو سال بیت گئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ عورت کی عظمت اور حدِ کمال کے بیان کا حق آج تک ادا نہیں ہوسکا۔ مرد کے ہرمعجزے نے کسی نہ کسی عورت ہی کی گود میں پرورش پائی ہے۔ اولین انسان حضرت آدم کو بھی جب تنہائی کی وحشت کاٹ کھانے لگی تو ربِ کریم نے اماں حوا کو پیداکر کے انھیں تسکین بخشی اور یوں مرد اورعورت کے قدم قدم پہ اشتراک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے خلاف بولا اور سوچا تو جا سکتا ہےمگر جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    عورت کی ذات کا سب سے حیران کن پہلو اس کی ایک نئی زندگی کو جنم دینے کی صلاحیت ہے۔قدیم زمانوں میں لوگ جب بے جان زمین سے لہلہاتی فصلیں پیدا ہوتے دیکھتے تو اس زمین کی پرستش شروع کردیتے، جب انھوں نے یہی صلاحیت عورت میں دیکھی تو اسے دیوی مان لیا اور اس طرح قدیم مادرسری (Matriarchal)معاشرے کی بنیاد پڑی جوعورت کو مرکزی اہمیت دیتا تھا۔
    سبطِ حسن اپنی کتاب "ماضی کے مزار” میں لکھتے ہیں کہ زراعت کا پیشہ بھی عورتوں ہی کا ایجادکردہ تھا۔ مرد شکاراور جڑی بوٹیاں ڈھونڈنے جنگلوں میں نکل جاتے تھے جبکہ عورتیں بچوں کی نگہداشت کے لیے خیمہ نما گھروںمیں رہتی تھیں، اسی دوران انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جہاں وہ جڑی بوٹیوں کو استعمال کے بعد پھینکتی ہیں وہاں سے ویسی ہی جڑی بوٹیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔یوں آہستہ آہستہ پودے اور فصلیں اگانے کا رواج شروع ہونے لگا۔گویا یہ عورتیں ہی تھیں جن کی دریافت نے پوری انسانیت کو خوراک کے نہ ختم ہونے والے ذخیرے سے روشناس کروادیا۔
    عورت وہی قوت ہے جو کبھی اولمپیاس بن کر سکندر کی پرداخت کرتی ہے تو کبھی قلوپطرہ بن کر مصر کے تخت پر راج کرتی ہے .
    جدید دور میں بھی عورت کی فتوحات ہر شعبے سے ستاروں کی طرح چمکتی نظر آتی ہیں۔خود پاکستان میں فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم سلمیٰ تصدق سے لے کر بے نظیر بھٹو، ملالہ یوسف زئی ، ارفع کریم جیسی خواتین بے مثال کارناموں سے مشعلِ راہ کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔یہ کامیابیاں ہمیں ماضی کی عورتوں کی قدر کااعتراف کرانے کے ساتھ ساتھ اس امر کا احساس بھی دلاتی ہیں کہ آج بھی عورتیں مرد کے شانہ بشانہ محیرالعقول واقعات سرانجام دے سکتی ہیں۔

    @Zee_PMIK

  • نیت .تحریر: فروا نذیر

    نیت .تحریر: فروا نذیر

    اللہ نے انسان کو جہاں اشرف المخلوقات بنایا ہے جو اتنا بڑا انسان کو درجہ دیا ہے وہاں انسان کیلیے کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں

    اسلام ہمارادین ہے ہمارا دین اسلام بہت ہی خوبصورت ہے جو ہم سب کو مل جل کر متحد رہنے کا درس دیتا ہے اسلام میں جب انسان داخل ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے پیارے نبی کے آخری الزمان صلی اللہ.علیہ والٰہ وسلم ہونے پر ایمان لاتا ہے آخرت پر ایمان لاتا ہے

    اللہ نے جہاں انسان کو اتنی آسائشیں عطافرمائی وہاں انسان کا بھی کچھ فرض کہ ہو اپنے حصے کا کاموں کو پورا کریں تاکہ ہم اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں…

    ویسے سے ہم انسانوں پر بہت سے فرائض ہیں لیکن میں سچ کے بارے میں بات کرنا چاہوں گی اللہ پاک نے ہر انسان کو ہر جگہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی سچ انسان کیلیے اتنی بڑی طاقت ہے کہ دنیا کی سب طاقتیں اس سے کم ہیں…
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم نے ہر جگہ.ہر خطبے ہر بیان ہر حدیث میں سچ بولنے کی تاکید فرمائی ہے…
    اس بات کو میرا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ.ہم.آج جس دور میں کھڑے ہیں کوئی 10یا 15% فیصد لوگ ہو گئے جو سچ بولتے ہیں سچ سے کام لیتے ہیں..

    ہمارے معاشرے میں سچ جیسے غائب ہو چکا ہے
    ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور بچے چھوٹے ہر کسی سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں یہ سب ہمارے نبی کی تعلیمات تو نہیں جنکو لوگ اپنا رہے ہیں ہمارے نبی کی تعلیمات سچ بولنا ہے
    لوگوں کو قیامت کا آخرت کا ڈر نہیں جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں اور شرمندہ نہیں ہوتا وہ مسلمان کا کام نہیں ہے لیکن معاشرے میں رہنے کے ساتھ ساتھ لوگ سچ کو ترجیح دینے کی بجائے جھوٹ کو اہمیت دیتے ہیں….

    میرے پیارے بھائیو اور بہنوں میرا یہ سب لکھنے کا مقصد ہے سب لوگ جھوٹ کو چھوڑ دیں ابھی بھی وقت ہے سب انسان سچ کی رسینکو پکڑ لیں تاکہ ہم سب دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں…

    سچ بعض اوقات کڑوا ہوتا ہے لیکن یہ ہر مشکل کو دور کردیتا ہے اللہ پاک ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے انکی مدد کرتا ہے

    میری سب بھائیو بہنوں سے درخواست ہے: کہ سب سچ کو اپنائیں تاکہ ہمیں دنیاو آخرت میں شرمندہ نہ ہونا پڑے اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سبکو سچ کے راستے پر چلائے اور ہر مشکل سے بچائے

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    پاکستان بننے کی تاریخ سے شروع کیا تو بات بہت لمبی ہو جائے گے ایک دہائی پیچھے سے شروع کرتی ہوں، مختاراں مائی کے نام سے شروع کریں تو اس معاشرے کی تہذیب، مذہب سے لگن سب کچھ ماند سا پڑا ہوا لگتا ہے۔
    مختاراں مائی کو برہنہ کر کے سرِ بازار لانے والا یہی مردانہ معاشرہ ہے۔ ہماری جذباتی قوم نے کچھ دن واویلا کیا اور نئی ڈگر پر چل نکلے، پھر کہیں کسی کے چہرے پر تیزاب تو کسی وڈیرے نے کسی کی بہن کو بھائی کے سامنے ہراساں کیا۔ قوم نے پھر چند دن شورو غوغا کیا اور ہم پھر آگے کو نکلے۔
    چند سالہ ننھی زینب پر بھی ہم نے بہت ٹسوے بہائے اور قانون سازی کا نعرہ مار کر جذباتی قوم کو پھر ایک سستے نشے کا ٹیکہ لگا کر سلا دیا۔
    وحشی جانور جیسے معاشرے نے نشے اور جذبات سے باہر آتے ساتھ ہی ایک ماں کو اس آزاد اور مسلمانوں سے بھرے ہوئے معاشرے میں تین بچوں کے سامنے جس اذیت سے دوچار کیا کہ اس موضوع پر بولنا تو دور کی بات سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت یہ باتیں ہوئیں کہ سخت قانون سازی کر کے نا مرد کرو، عمر قید یا سزائے موت جیسی سخت م، بروقت اور عبرتناک سزائیں دو تاکہ یہ معاشرہ سدھر جائے۔
    پھر یہی مسلمان، برابری کے حقوق سے بھرا معاشرہ قربانی کے دنوں میں حوا کی بیٹی کے گلے پر چھری چلا دیتا ہے۔

    اور پھر ہم سب شدت سے بھرے معاشرے کے افراد طیش میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے اندر کے جانور کو کسی نئی نشے کے گولی دے کر سلانے لگ گئے، اگر اس کے لئےقانون سازی کی گئی ہوتی تو ایک ہفتہ ہونے کو ہے ابھی تک کیا تفتیش ہی چل رہی ہوتی کہ مدعی اور مدعا الیہ دونوں کو پتہ ہے کہ قاتل اور مقتول کون ہیں، اس کے باوجود کوئی سزا نہیں۔
    افسوس صد افسوس اس بات پر کہ جب ایسا کوئی حادثہ رپورٹ ہوتا ہے تو ہم سب لوگ اس مسئلے میں بھی تعمیری تنقید کے بجائے تخریبی اور مفاد پرستی کی لائن بنا کر غل غپاڑہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ایک طبقہ مذہب اور ایک مذہب بیزاری کے بیانات نکالتا ہے، ایک سیاسی تو ایک اختلافی نوٹ بھی مفاد کی بنیاد پر چھاپنا شروع کر دیتا ہے، کبھی بھی ہمارے معاشرے کی کسی بھی اکائی نے نہیں کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر ایک سزاوجزا کا معیار بنائیں بلکہ سبھی اپنے اپنے تحفظ میں لگ جاتے کہ ہم تو بڑے پاک باز لوگ ہیں، کبھی مدرسوں میں ننھے بچوں سے زیادتیاں، کبھی راہ چلتی حوا کی بیٹی کے آبرو ریزی، تو کبھی زبردستی کے مذہب تبدیلی کے واقعات اور بڑے بلند و بانگ دعوے کرنے والا موم بتی مافیا۔جس کےہی ایک بڑے ہرکاروں میں سے ظاہر جعفر نامی درنگان نکل رہے اب۔ذہنی بیماری کا کسی مذہب، شخص یا طبقے سے ہر گز تعلق نہیں ہوتا یہ ایک سوچ ہے جسے باالعموم طور پر پورے معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

    عثمان مرزا کیس، نور مقدم کیس، نسیم بی بی جسے شیر خوار بچی سمیت چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، اس جیسے کتنے ہی ایسے واقعات ہوں گے جو حوا کی بیٹی اپنی آبرو بچانے کی آڑ میں کسی کو بتاتی بھی نہیں ہوگی، چپ چاپ سہہ جاتی ہوگی۔
    قوموں کی ترقی بھی اس آڑ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوتی، جیسے درندہ صفت ظاہر جعفر کا کہنا کہ وہ امریکی شہری ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہ سکتا۔ اگرچہ ظاہر جعفر کے امریکی شہری ہونے کا اس کے بچ جانے سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ ویانا کنونشن کے مطابق استشنیٰ صرف سفارتی عملے کو ملتا ہے۔
    خیر بات کہاں سے کہاں نکلتی جا رہی ہے، جب تک ہم صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے قرآن پاک میں دئیے ہوئے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان معاشرتی بیماریوں کی بنیادوں پر ہم روشن خیال اور برابری کا معاشرہ استوار نہیں کر سکتے۔
    سورہ الانعام میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلی جس نے کبھی خود ہی بدلنے کی کوشش نہیں کی۔
    اب یہ ملک اور اس کی عوام کو پھر سے قانونی معاملات میں الجھا کر اک اور نیا نشہ دیا جا رہا ہوگا، اللہ کرے کہ ہماری غیرت جاگے ، ہمارا معاشرہ اپنے اندر کے درندوں کو حقیقی معنوں میں مار کر آگے بڑھے اور عورتوں کو اپنے تحفظ کے لیے کسی اور عورت مارچ کا سہارا نہ لینا پڑے، پاکستان پائندہ باد

    ٹوئٹر اکاوُنٹ:
    @Kirankhan9654

  • میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    اللہ قُرآن میں فرماتا ہے: اور مردوں پر عورتوں کا حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر حق ہے معروف طریقے پر اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ سورۃ البقرہ 228 اس آیت مبارکہ میں صرف حُسن معاشرت کے لیے ہی نہیں کہا گیا کہ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنا مردوں پر اللہ نے فرض کیا ہے، بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے مسائل کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اِس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستُور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستُور نہیں ہوسکتا، اِس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گُزاری جائے تو اِس رشتے میں کبھی بھی تلخی اور کڑواہٹ پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ اسلام دینِ فطرت اور دینِ انسانیت ہے، اِس نے مسلمانوں کو ایسا نظام مُعاشرت عطاء فرمایا ہے کہ جس میں انسانی زندگی اور ہر طبقے کے افراد کے حقوق و فرائض متعین کردیئے گئے ہیں۔ خاص طور پر میاں بیوی کے حقوق و فرائض کے حوالے سے اسلامی تعلیمات بہت واضح ہیں۔ اسلام میں حقوق و فرائض کے حوالے سے بیویوں کے باہمی تعلق اور اِس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اِس کے لیئے مرد و عورت دونوں پر ذمہ داریاں اور ایک دوسرے پر دونوں کے حقوق و فرائض فرض کئے گئے ہیں، جن سے خاندان کی بُنیاد مضبوط ہوتی ہے اور مُعاشرے میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

    سورۃ نِساء میں حُکم دیا گیا: ’’اور اُن کے ساتھ اچھی طرح گُزر بسر کرو‘‘۔ ترجمہ رُوح القرآن جلد دوم عورتوں کے ذمے احکام بیان کرنے کے بعد قُرآن کریم دوبارہ شوہروں کو بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیتا ہے کہ تمہارے اوپر عورتوں کے جو حقُوق ہیں، اُنہیں اچھی طرح ادا کرو، اور خُود کو بالادست و بااختیار سمجھتے ہوئے اُن کے ساتھ دستور شرعی کے خلاف بدسلوکی نہ کرو، مگر یہاں ہمارا مُعاشرہ دین سے دُور ہوتے ہوتے اپنی ذاتی زندگی سے بھی دُور ہوتا جا رہا ہے ہمارے رشتے رسم و رواج غیر اسلامی ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنی اصل زندگی جس کا طور طریقہ ہمیں ہمارے نبیﷺ نے اپنی زندگی میں عمل کرتے ہُوے زندگی کا تمام ضابطہِ حیات بتایا سکھایا مگر ہم دعوے تو نبیﷺ سے "عشق” کے کرتے ہیں اور عمل ہمارا غیر اسلامی ہے تو اِس رشتے میں دراڑ تو ہم خُود ڈالتے ہیں، وجہ کیا ہے ہم تفصیل میں نہیں جاتے عام باتیں زیرِ نظر رکھتے ہیں جن میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں ہم صرف درگُزر کرنے سے ہی ایک دُوسرے کا اعتماد، پیار، خلوص حاصل کر سکتے ہیں، اِس لئے درگُزر کرنا سیکھیئے اللہ تعالیٰ بھی درگُزر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے تو کیوں ناں ہم درگُزر کرتے ہُوئے اپنے رشتے کو بھی خُوشحال بنائیں خُوبصُورت بنائیں اور اللہ بھی ہم سے خُوش ہو اور رحمتیں نازل ہوں، ہمارے مُعاشرے میں جہاں بے شُمار تبدیلیاں ائی ہیں یا یوں کہیں کے شامل کی گئی ہیں جن میں جُھوٹ، غیبت، تہمت، حسد، یہی چند چیزیں ہیں جن سے ہمارے خُوبصورت رشتے برباد ہو رہے ہیں ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں اپنے اسلامی طریقے اپنانے سے ہی ہم اپنی زندگی پرسکون اور خُوشحال بنا سکتے ہیں جس کے لئے ہمیں صرف اپنی عادتیں اسلامی تہذیب کہ مطابق بنانا ہوں گی، پھر آپ خُود اپنی نظروں سے دیکھیں گے یہی مُعاشرہ آپ کے سامنے بہترین مُعاشرہ بنتا چلا جائے گا اِن شاء اللہ
    اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    @A2Khizar

  • ملالہ یوسف زئی ایک مثبت یا منفی کردار   تحریر : دانش اقبال

    ملالہ یوسف زئی ایک مثبت یا منفی کردار تحریر : دانش اقبال

    سوات کی وادیوں میں پلنے والی ملالہ جب اپنے اردگرد ہر روز لڑکیوں کے سکول اڑنےکی خبر یں سنتی تو اور تو کچھ نہ کر پائی اس نے گل مکئی نام کے کالم لکھنا شروع کر دیے جن میں وہ اپنے علاقے کی بچیوں کے مسائل اجاگر کرتی جس کی پوری دنیا میں پذیرائی ہوئی
    مگر یہ وہ دور تھا جب وادی سوات انڈین دخل اندازی کی وجہ سے آج کی طرح امن کا گہوارہ نہیں تھی امن کے دشمنوں کو یہ بات پسند نہ آئی اور ملالہ پر حملہ کردیا گیا
    سر پر ماری جانے والی گولی سے بچنا نا ممکن تھا مگر ملالہ کو اللہ کی رضا سے بچالیا گیا اور علاج کےلئے برطانیہ بھجوا دیا گیا یہاں سے ایک نئی کہانی کا آغاز ہوا ملالہ کی جان تو بچ گئی مگر اس کی گرومنگ اس طریقے سے شروع ہوئی جس کا ہماری اقدار اور روایات سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے ملالہ کو ایک ہیرو کے طور پر پیش تو کیا جا رہا ہے مگر کیا وہ واقعی ایک ہیرو ہے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ سے جب ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ مستقبل میں ان کا کہاں رہنے کا ارادہ ہے تو ملالہ نے جواب دیا شاید برطانیہ میں یا پاکستان میں یا پھر کسی تیسرے ملک میں , کیا یہ تیسرا ملک انڈیا تو نہیں جس کے کیلاش ستیارتھی کو ملالہ کے ساتھ نوبل پرائز دیا گیا وہی انڈیا جہاں ‘ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’ مہم میں دیواروں پر ملالہ کی تصاویر پینٹ کی گئیں۔

    ایک اور انٹرویو میں جب ملالہ سے ازدواجی تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے برملا کہہ دیا کہ نکاح ایک کاغذی رشتہ ہے ہمیں کسی سے تعلقات رکھنے کے لۓ سائن کرنا کیوں ضروری ہے۔ملالہ کے اس بیان نے ہمارے معاشرے کی بنیادیں ہی ہلا دیں اور ملالہ کو لے کر ایک نئ بحث شروع ہو گئ۔نکاح ایک ایسا بندھن جس پہ ہمارے معاشرے کی بنیاد ہے اسی پہ آپ کے نظریات متنازع ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے وطن سے دور ہو کر آپ اپنی بنیادوں سے ہی دور ہو گئ ہیں اس کے نظریات مغربی تعلیم نے آلودہ کر دیے ہیں اگر یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ملالہ کو ماڈرن اسلام کا سبق سکھا کر پاکستان کی سیاست میں لانچ کیا جا ۓ تو یہ ان کی بھول ہے۔

    پاکستان میں بے شک لبرلز کی ایک اچھی تعداد موجود ہے جبکہ مغربی خیالات کے حامیوں کی بھی کمی نہیں لیکن اسلام کے نام پر بنے اس ملک کی بنیادیں ابھی بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں جہاں کوٸی بھی غیر اسلامی فتنہ سر اٹھاتا ہے تو عوام کی اکثریت اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اس فتنے کو کچل دیا جاتا ہے

    یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ ملالہ کو نوبل پراٸز کسی فلاحی کام یا کسی نوبل اچیومنٹ پر نہیں دیا گیا اس نوبل پراٸز کی بنیاد ملالہ کی داڑھی والوں سے نفرت اور پاکستان کو ایک قدامت پرست ملک قرار دینا ہے
    ملالہ کا یہ کہنا کہ پاکستان عورتوں کے لۓ ایک جہنم ہے اور داڑھی والوں سے اسے نفرت ہے ظاہر کرتا ہے کہ اس کا پاکستان کی روایات اور اسلامی اقدار سے کوٸی لینا دینا نہیں اور اب وہ مغرب کی زبان اور ماحول میں رنگی جا چکی ہے جنہوں نے اسے سلیبریٹی بنایا

    یہ سب میرے زاتی خیالات ہیں جو ملالہ کے متنازع بیانات کی روشنی میں تحریر کۓ ہیں- اختلاف راۓ کا سب کو حق ہے اور مثبت تنقید کو ہمیشہ مثبت لیتا ہوں

    @ch_danishh

  • عورت کی حقیقی آزادی    تحریر: تماضر خنساء

    عورت کی حقیقی آزادی تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کے نام پہ عورت کو تباہی کے دہانے پر لانے والے اصل میں عورت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے عورت کو اسکے سارے حقوق عطاکیے ہیں کہ اگر وہ ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت ہے اگر وہ بیٹی ہے تو اسکی بہترین پرورش جنت کی کنجی ہے اگر وہ بیوی ہے تو اس سے حسن سلوک جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے _____
    اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی، عورت کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین کی، عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا ۔۔۔۔ان سب حقوق کے بعد بھی آخر یہ لبرل طبقہ عورت کو کونسی آزادی دینا چاہتا ہے؟
    اسلام تو دین کامل ہے
    :قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
    ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔
    ایک کامل و اکمل دین نے عورت کو کیا اسکے سارے حقوق نہیں دیئے؟ جو اب بھی دین منصف کے بعد بھی عورت کو آزادی چاہیے؟
    آج کے مشرقی معاشرے میں بھی عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ پڑھ سکتی ہے، جاب کرسکتی ہے، جیسے چاہے زندگی گزار سکتی ہے ۔۔۔۔۔ہم مانیں یا نہ مانیں مگر آج کا مشرقی معاشرہ بھی اب قدیم روایات والا معاشرہ نہیں رہا ۔۔۔۔یہاں نا جانے کتنی خواتین آج مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔۔۔۔
    تو پھر کونسی آزادی ہے جو لبرل طبقہ ان عورتوں کو دینا چاہتا ہے؟
    دراصل یہ لبرل طبقہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے باغی ہیں ۔۔۔انکے نزدیک میاں بیوی کا مقدس رشتہ عورت کے پاؤں کی بیڑی ہے۔۔۔یہ وہی لوگ ہیں آزادی کے نام پر عورت کو اس قدر بے مول دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئ بھی ان تک پہنچ سکے۔۔۔۔یہ دین بیزار لوگوں کیلیے وہ سیڑھی ہیں جن کے ذریعے ہر ایک عورت تک پہنچ رکھ سکے _______ہر کچھ عرصے بعد ایک اسلامی ملک میں ایسی سلوگنز کا پرچار ” اپنا کھانا خود گرم کرو ،میرا جسم میری مرضی آخر کیا مقصد رکھتا ہے؟
    اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام بلاشبہ مکمل ہے جہاں ایک عورت کو گھر کی ملکہ سمجھا جاتا ہے اور مرد کماتا ہے.گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، ۔۔۔۔
    اللہ کے نبی کی زندگی میں ایسے بے شمار نمونے ہیں جو ایک کامیاب زندگی جینے کا طریقہ ہمیں دیتے ہیں۔۔۔
    اللہ کے نبی تو اپنی بیویوں کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے،
    ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھاکہ رسول اللہ ص گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟
    انہوں نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کے کام بھی کیا کرتے تھے مثلا بکری کا دودھ دوھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا (زاد المعاد)
    اپنی ازواج کے ساتھ محبت والا رویہ رکھا۔۔انکے شوق پورے کیے،
    حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ انے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے ۔۔۔آپ ص چاہتے تو منع فرمادیتے مگر آپ نے عائشہ رض کو انکا شوق پورا کرنے سے نہیں روکا ۔۔۔
    عرب میں روایت ہوا کرتی تھی کہ حبشی لوگ خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے کرتب دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ کھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔(مسلم ، حدیث نمبر : ۸۹۲)
    حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ خیبر سے واپسی پر ہم مدینہ کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، آپؐ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے ہوئے ہیں اور حضرت صفیہؓ ان کے گھٹنوں پر پیر رکھ کر اونٹ پر سوار ہورہی ہیں۔(بخاری)
    ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا ، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں ، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا ، آپ انے فرمایا : انجشہ ! آہستہ آہستہ ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو (بخاری۔کتاب الادب)
    اس طرح ناجانے اور کتنے واقعات ہیں جو اللہ کے رسول ص کی زندگی سے ہمیں ملتے ہیں جو ہمارے لیے نمونہ ہیں۔۔۔۔جو کچھ اللہ کے نبی نے اپنی زندگی میں کیا اسی کا حکم ہمیں بھی دیا ۔۔۔۔اتنے عزت و اکرام کے بعد بھی کیا عورت کو کسی آزادی کی ضرورت ہے؟
    مرد کو اللہ نے عورت کا محافظ بنادیا پھر کیوں عورت تحفظ کی دیوار کو پھاند کر باہر آنا چاہتی ہے؟
    یہ آزادی کے نعرے صرف عورت کو اپنی دسترس میں کرنے کے حیلے ہیں کیونکہ اصل آزادی تو آج سے صدیوں پہلے محمد مصطفی ص عطا کر گئے۔۔۔ ہر لحاظ سے عورت کو معتبر کردیا ۔۔ اب جو مزید آزادی چاہتے ہیں تو ان کا مقصد صرف عورت کی بربادی ہے اور کچھ نہیں! اور ایک مسلمہ عورت کبھی ایسی آزادی کی چاہ نہیں کرتی جو اسکے لیے بربادی کا باعث بنے جو اسلام کے مخالف ہو ۔۔۔۔یہ آزادی کے نام پر شور مچانے والا خاص طبقہ صرف اور صرف اپنے گروہ کا نمائندہ ہے عورتوں کا نہیں کیونکہ کوئ عورت نہیں چاہتی کہ اسے بے مول کیا جائے
    عورت کی حقیقی آزادی تو دین اسلام میں ہے جسکو ہم
    مکمل اپنالیں تو ہماری زندگیاں سنور جائیں

    @timazer_K

  • فیمینسٹ   تحریر انعم نوید

    فیمینسٹ تحریر انعم نوید

    میں بھی فیمینسٹ ہوں. مگر میرا تعلق میرا جسم میری مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو اور میں تو ایسے ہی بیٹھوں گی جیسے نعروں کی علمبردار خواتین سے نہیں ہے. میرا جسم میرے خالق کی مرضی. جو میرے اللَّه نے مجھے حکم دیا ہے میں اِس جسم کو ویسا ہی رکھوں گی کیونکہ یہ جسم میرے پاس امانت ہے.

    گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ایک انٹرویو میں دیے بیان پر بہت واویلا مچا. آزادی پسندوں نے اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلایا اور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا. سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وزیراعظم کے بیان میں ایسا کیا تھا کہ اتنا واویلا مچا.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ، "اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اِس کا اثر مرد پر ہو گا اگر وہ روبوٹ نہیں ہیں.” پھر اُنہوں نے مغربی اور مشرقی معاشرے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ، "مغرب میں ڈسکو اور نائٹ کلبز ہوتے ہیں جو کہ ایک بالکل مختلف رہن سہن اور معاشرہ ہے. مشرقی معاشرے میں یہ سب نہیں ہوتا. اِس وجہ سے یہاں اگر مرد کی شہوت کو اُبھارا جائے گا تو وہ اُس کی تسکین کے لیے اِسی معاشرے میں راہ ڈھونڈے گا. اور اِس کا اثر معاشرے پر پڑے گا.”

    سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ بیان کس حد تک درست ہے. تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہماری معاشرتی اقدار کے حوالے سے یہ بیان بالکل درست ہے.

    اِس بات کے حق بجانب ہونے میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ زیادتی اور جنسی ہراسگی کے واقعات کا عورت کے لباس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. ایک عورت اپنی ذاتی زندگی میں مرضی کی مالک ہے اگر وہ اللَّه کا حکم نہیں ماننا چاہتی. مگر عورت مرضی کا لباس پہن کے جنسی ہراسگی اور زیادتی کی مستحق نہیں.

    مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ کپڑوں کا تعلق بالواسطہ مردوں کی نفسیات سے جڑتا ہے. جب ایک ایسا مرد، جس کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں ہوئی، اپنے اردگرد چھوٹے یا کم لباس والی خواتین کو دیکھے گا تو یقیناً اُس کی ہوس کو ہوا ملے گی. اُس سے دماغ میں ہیجان کی کیفیت طاری ہو گی. اور ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں نہ ڈسکو ہیں نہ نائٹ کلبز، وی اپنی ہوس پوری نہیں کر سکے گا. تو اِس کا نتیجہ بہت ہولناک نکلے گا. کیونکہ پھر اُس درندہ صفت مرد کے لیے رنگ، نسل، عمر اور صنف کا فرق ختم ہو جائے گا. وہ کسی بھی کمزور انسان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے گا.

    یہاں پر علمِ نفسیات کا ایک مضمون سایئکلاجیکل ڈسپلیسمنٹ اِس کی مزید وضاحت کرتا ہے.

    کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس لیے اِس معاملے کا اسلامی پہلو دیکھا جائے تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣١ کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
    "مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں. اور اپنی زینت کو کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے. اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال دیں.”

    قرآن کریم کا یہ حکم مومن خواتین کے لیے ہے. لیکن اِس آیت سے ایک آیت پہلے یعنی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣٠ کا حکم کچھ یوں ہے:
    "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں. یہی اِن کے لیے پاکیزگی ہے. لوگ جو کچھ کریں اللَّه تعالیٰ اُن سے خبردار ہے.”

    یہ دو آیات اِس پورے معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہے.سب سے پہلے مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے.

    یعنی اصل مسئلہ ہی اِن نگاہوں کا ہے. دیکھنے سے اگر ہیجان برپا نہ ہوتا تو فحش ویب سائٹس کا تو کام ہی تمام ہو جاتا اور بھوکے کو کھانا دیکھ کر کبھی منہ میں رال نہ آتی.

    یا اِس کو ایسا کہہ لیں کہ ملبوسات کی دکانوں میں سب سے دلکش جوڑے دکان کے داخلی حصے پر نمائش کے لیے آویزاں نہ کیے جاتے. یہ نمائش ہی انسان میں خریداری کی خواہش پیدا کرتی ہے.

    دوسرے نمبر پر اللَّه تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے. کیونکہ اگر نگاہوں کی حفاظت کے باوجود نگاہ پڑ بھی جائے تو خود کو پاکیزہ رکھنے کے لیے حفاظت اور احتیاط ضروری ہے.

    پھر تیسرے نمبر پر ایک حکم عورتوں کو زائد دیا گیا ہے. اور وہ یہ ہے کہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں اور اوڑھنیاں گریبانوں پر ڈال لیں.
    اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ حکم مردوں کو کیوں نہیں ملا؟ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ زینت یا سجاوٹ ہے ہی عورت کے پاس اور اسی کو چھُپانے کا حکم دیا گیا ہے. تاکہ معاشرہ شر اور ہیجان سے پاک رہے.

    اہم بات یہاں پر یہ ہے کہ عورتوں کے متعلق حکم سے پہلے اللَّه تعالیٰ نے مردوں کو حکم دیا ہے کہ نگاہیں نیچی رکھو. کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر معاشرے میں صرف مسلمان عورتیں ہی بستی ہوں جو کہ پردہ بھی کرتی ہوں. یہ حکم اِس لیے ہے کہ کسی بھی عقیدہ، قومیت یا مذہب کی عورت شر سے محفوظ رہ سکے. کیونکہ مردوں سے سوال آخرت میں اُن کی نگاہوں بارے ہونا ہے.

    فیمینزم کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ معاشرہ مادر پدر آزاد ہے. قطع نظر مذہب ہر معاشرے کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور کچھ پابندیاں ہوتی ہیں. مادر پدر آزادی کا کوئی بھی معاشرہ متحمل نہیں ہو سکتا.

    فیمینزم کا تعلق عورت کے بنیادی حقوق کے ساتھ ہے. جِسے مادر پدر آزادی کے علمبرداروں نے ہائی جیک کر لیا ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتے ہیں. جبکہ مسئلہ برابری سے بڑھ کر توازن کا ہے.

    قرآن کریم میں جِس وجہ سے مرد کو افضل قرار دیا ہے وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور بےدریغ قربانیاں ہیں. جبکہ ایک عورت تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہے اور ایک انسان کو پیدا کرتی ہے. اِس لیے اُس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے.

    یہ فضیلت تنقید کرنے والوں کو نظر نہیں آتی. پھر عورت نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہے. مرد جس نسل کو پالنے کی وجہ سے افضل ہے, اُس نسل کو پیدا کرنے اور تربیت کی ذمہ دار عورت افضل کیوں نہیں ہے. حقیقتاً سب کا اپنا مقام اور ذمہ داری ہے جس کا اُسی سے سوال ہونا ہے. جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر ٣٢ میں کہا گیا ہے:

    "اور اِس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللَّه تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. مردوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو اُنہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے اُن میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا. اور اللَّه تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگو. یقیناً اللَّه ہر چیز کو جاننے والا ہے.
    میں پھر سے یہاں اِس بات کو واضح کر دوں کہ بلاتفریق رنگ، نسل، قومیت، حُلیہ اور مذہب کوئی عورت جنسی زیادتی اور ہراسگی کی مستحق نہیں. لیکن معاشرے کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنا کردار نبھانا ضروری ہے. جنسی زیادتی اور ہراسگی جیسے واقعات تبھی ختم ہو سکتے ہیں جب سب اپنی اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرے. خلاصہ یہ ہے کہ اپنے بچوں، خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا، کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کیجئے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن سکیں.

    @NaimatRehmn