Baaghi TV

Category: خواتین

  • بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    پاکستان بننے کی تاریخ سے شروع کیا تو بات بہت لمبی ہو جائے گے ایک دہائی پیچھے سے شروع کرتی ہوں، مختاراں مائی کے نام سے شروع کریں تو اس معاشرے کی تہذیب، مذہب سے لگن سب کچھ ماند سا پڑا ہوا لگتا ہے۔
    مختاراں مائی کو برہنہ کر کے سرِ بازار لانے والا یہی مردانہ معاشرہ ہے۔ ہماری جذباتی قوم نے کچھ دن واویلا کیا اور نئی ڈگر پر چل نکلے، پھر کہیں کسی کے چہرے پر تیزاب تو کسی وڈیرے نے کسی کی بہن کو بھائی کے سامنے ہراساں کیا۔ قوم نے پھر چند دن شورو غوغا کیا اور ہم پھر آگے کو نکلے۔
    چند سالہ ننھی زینب پر بھی ہم نے بہت ٹسوے بہائے اور قانون سازی کا نعرہ مار کر جذباتی قوم کو پھر ایک سستے نشے کا ٹیکہ لگا کر سلا دیا۔
    وحشی جانور جیسے معاشرے نے نشے اور جذبات سے باہر آتے ساتھ ہی ایک ماں کو اس آزاد اور مسلمانوں سے بھرے ہوئے معاشرے میں تین بچوں کے سامنے جس اذیت سے دوچار کیا کہ اس موضوع پر بولنا تو دور کی بات سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت یہ باتیں ہوئیں کہ سخت قانون سازی کر کے نا مرد کرو، عمر قید یا سزائے موت جیسی سخت م، بروقت اور عبرتناک سزائیں دو تاکہ یہ معاشرہ سدھر جائے۔
    پھر یہی مسلمان، برابری کے حقوق سے بھرا معاشرہ قربانی کے دنوں میں حوا کی بیٹی کے گلے پر چھری چلا دیتا ہے۔

    اور پھر ہم سب شدت سے بھرے معاشرے کے افراد طیش میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے اندر کے جانور کو کسی نئی نشے کے گولی دے کر سلانے لگ گئے، اگر اس کے لئےقانون سازی کی گئی ہوتی تو ایک ہفتہ ہونے کو ہے ابھی تک کیا تفتیش ہی چل رہی ہوتی کہ مدعی اور مدعا الیہ دونوں کو پتہ ہے کہ قاتل اور مقتول کون ہیں، اس کے باوجود کوئی سزا نہیں۔
    افسوس صد افسوس اس بات پر کہ جب ایسا کوئی حادثہ رپورٹ ہوتا ہے تو ہم سب لوگ اس مسئلے میں بھی تعمیری تنقید کے بجائے تخریبی اور مفاد پرستی کی لائن بنا کر غل غپاڑہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ایک طبقہ مذہب اور ایک مذہب بیزاری کے بیانات نکالتا ہے، ایک سیاسی تو ایک اختلافی نوٹ بھی مفاد کی بنیاد پر چھاپنا شروع کر دیتا ہے، کبھی بھی ہمارے معاشرے کی کسی بھی اکائی نے نہیں کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر ایک سزاوجزا کا معیار بنائیں بلکہ سبھی اپنے اپنے تحفظ میں لگ جاتے کہ ہم تو بڑے پاک باز لوگ ہیں، کبھی مدرسوں میں ننھے بچوں سے زیادتیاں، کبھی راہ چلتی حوا کی بیٹی کے آبرو ریزی، تو کبھی زبردستی کے مذہب تبدیلی کے واقعات اور بڑے بلند و بانگ دعوے کرنے والا موم بتی مافیا۔جس کےہی ایک بڑے ہرکاروں میں سے ظاہر جعفر نامی درنگان نکل رہے اب۔ذہنی بیماری کا کسی مذہب، شخص یا طبقے سے ہر گز تعلق نہیں ہوتا یہ ایک سوچ ہے جسے باالعموم طور پر پورے معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

    عثمان مرزا کیس، نور مقدم کیس، نسیم بی بی جسے شیر خوار بچی سمیت چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، اس جیسے کتنے ہی ایسے واقعات ہوں گے جو حوا کی بیٹی اپنی آبرو بچانے کی آڑ میں کسی کو بتاتی بھی نہیں ہوگی، چپ چاپ سہہ جاتی ہوگی۔
    قوموں کی ترقی بھی اس آڑ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوتی، جیسے درندہ صفت ظاہر جعفر کا کہنا کہ وہ امریکی شہری ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہ سکتا۔ اگرچہ ظاہر جعفر کے امریکی شہری ہونے کا اس کے بچ جانے سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ ویانا کنونشن کے مطابق استشنیٰ صرف سفارتی عملے کو ملتا ہے۔
    خیر بات کہاں سے کہاں نکلتی جا رہی ہے، جب تک ہم صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے قرآن پاک میں دئیے ہوئے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان معاشرتی بیماریوں کی بنیادوں پر ہم روشن خیال اور برابری کا معاشرہ استوار نہیں کر سکتے۔
    سورہ الانعام میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلی جس نے کبھی خود ہی بدلنے کی کوشش نہیں کی۔
    اب یہ ملک اور اس کی عوام کو پھر سے قانونی معاملات میں الجھا کر اک اور نیا نشہ دیا جا رہا ہوگا، اللہ کرے کہ ہماری غیرت جاگے ، ہمارا معاشرہ اپنے اندر کے درندوں کو حقیقی معنوں میں مار کر آگے بڑھے اور عورتوں کو اپنے تحفظ کے لیے کسی اور عورت مارچ کا سہارا نہ لینا پڑے، پاکستان پائندہ باد

    ٹوئٹر اکاوُنٹ:
    @Kirankhan9654

  • میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    اللہ قُرآن میں فرماتا ہے: اور مردوں پر عورتوں کا حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر حق ہے معروف طریقے پر اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ سورۃ البقرہ 228 اس آیت مبارکہ میں صرف حُسن معاشرت کے لیے ہی نہیں کہا گیا کہ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنا مردوں پر اللہ نے فرض کیا ہے، بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے مسائل کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اِس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستُور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستُور نہیں ہوسکتا، اِس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گُزاری جائے تو اِس رشتے میں کبھی بھی تلخی اور کڑواہٹ پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ اسلام دینِ فطرت اور دینِ انسانیت ہے، اِس نے مسلمانوں کو ایسا نظام مُعاشرت عطاء فرمایا ہے کہ جس میں انسانی زندگی اور ہر طبقے کے افراد کے حقوق و فرائض متعین کردیئے گئے ہیں۔ خاص طور پر میاں بیوی کے حقوق و فرائض کے حوالے سے اسلامی تعلیمات بہت واضح ہیں۔ اسلام میں حقوق و فرائض کے حوالے سے بیویوں کے باہمی تعلق اور اِس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اِس کے لیئے مرد و عورت دونوں پر ذمہ داریاں اور ایک دوسرے پر دونوں کے حقوق و فرائض فرض کئے گئے ہیں، جن سے خاندان کی بُنیاد مضبوط ہوتی ہے اور مُعاشرے میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

    سورۃ نِساء میں حُکم دیا گیا: ’’اور اُن کے ساتھ اچھی طرح گُزر بسر کرو‘‘۔ ترجمہ رُوح القرآن جلد دوم عورتوں کے ذمے احکام بیان کرنے کے بعد قُرآن کریم دوبارہ شوہروں کو بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیتا ہے کہ تمہارے اوپر عورتوں کے جو حقُوق ہیں، اُنہیں اچھی طرح ادا کرو، اور خُود کو بالادست و بااختیار سمجھتے ہوئے اُن کے ساتھ دستور شرعی کے خلاف بدسلوکی نہ کرو، مگر یہاں ہمارا مُعاشرہ دین سے دُور ہوتے ہوتے اپنی ذاتی زندگی سے بھی دُور ہوتا جا رہا ہے ہمارے رشتے رسم و رواج غیر اسلامی ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنی اصل زندگی جس کا طور طریقہ ہمیں ہمارے نبیﷺ نے اپنی زندگی میں عمل کرتے ہُوے زندگی کا تمام ضابطہِ حیات بتایا سکھایا مگر ہم دعوے تو نبیﷺ سے "عشق” کے کرتے ہیں اور عمل ہمارا غیر اسلامی ہے تو اِس رشتے میں دراڑ تو ہم خُود ڈالتے ہیں، وجہ کیا ہے ہم تفصیل میں نہیں جاتے عام باتیں زیرِ نظر رکھتے ہیں جن میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں ہم صرف درگُزر کرنے سے ہی ایک دُوسرے کا اعتماد، پیار، خلوص حاصل کر سکتے ہیں، اِس لئے درگُزر کرنا سیکھیئے اللہ تعالیٰ بھی درگُزر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے تو کیوں ناں ہم درگُزر کرتے ہُوئے اپنے رشتے کو بھی خُوشحال بنائیں خُوبصُورت بنائیں اور اللہ بھی ہم سے خُوش ہو اور رحمتیں نازل ہوں، ہمارے مُعاشرے میں جہاں بے شُمار تبدیلیاں ائی ہیں یا یوں کہیں کے شامل کی گئی ہیں جن میں جُھوٹ، غیبت، تہمت، حسد، یہی چند چیزیں ہیں جن سے ہمارے خُوبصورت رشتے برباد ہو رہے ہیں ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں اپنے اسلامی طریقے اپنانے سے ہی ہم اپنی زندگی پرسکون اور خُوشحال بنا سکتے ہیں جس کے لئے ہمیں صرف اپنی عادتیں اسلامی تہذیب کہ مطابق بنانا ہوں گی، پھر آپ خُود اپنی نظروں سے دیکھیں گے یہی مُعاشرہ آپ کے سامنے بہترین مُعاشرہ بنتا چلا جائے گا اِن شاء اللہ
    اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    @A2Khizar

  • ملالہ یوسف زئی ایک مثبت یا منفی کردار   تحریر : دانش اقبال

    ملالہ یوسف زئی ایک مثبت یا منفی کردار تحریر : دانش اقبال

    سوات کی وادیوں میں پلنے والی ملالہ جب اپنے اردگرد ہر روز لڑکیوں کے سکول اڑنےکی خبر یں سنتی تو اور تو کچھ نہ کر پائی اس نے گل مکئی نام کے کالم لکھنا شروع کر دیے جن میں وہ اپنے علاقے کی بچیوں کے مسائل اجاگر کرتی جس کی پوری دنیا میں پذیرائی ہوئی
    مگر یہ وہ دور تھا جب وادی سوات انڈین دخل اندازی کی وجہ سے آج کی طرح امن کا گہوارہ نہیں تھی امن کے دشمنوں کو یہ بات پسند نہ آئی اور ملالہ پر حملہ کردیا گیا
    سر پر ماری جانے والی گولی سے بچنا نا ممکن تھا مگر ملالہ کو اللہ کی رضا سے بچالیا گیا اور علاج کےلئے برطانیہ بھجوا دیا گیا یہاں سے ایک نئی کہانی کا آغاز ہوا ملالہ کی جان تو بچ گئی مگر اس کی گرومنگ اس طریقے سے شروع ہوئی جس کا ہماری اقدار اور روایات سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے ملالہ کو ایک ہیرو کے طور پر پیش تو کیا جا رہا ہے مگر کیا وہ واقعی ایک ہیرو ہے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ سے جب ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ مستقبل میں ان کا کہاں رہنے کا ارادہ ہے تو ملالہ نے جواب دیا شاید برطانیہ میں یا پاکستان میں یا پھر کسی تیسرے ملک میں , کیا یہ تیسرا ملک انڈیا تو نہیں جس کے کیلاش ستیارتھی کو ملالہ کے ساتھ نوبل پرائز دیا گیا وہی انڈیا جہاں ‘ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’ مہم میں دیواروں پر ملالہ کی تصاویر پینٹ کی گئیں۔

    ایک اور انٹرویو میں جب ملالہ سے ازدواجی تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے برملا کہہ دیا کہ نکاح ایک کاغذی رشتہ ہے ہمیں کسی سے تعلقات رکھنے کے لۓ سائن کرنا کیوں ضروری ہے۔ملالہ کے اس بیان نے ہمارے معاشرے کی بنیادیں ہی ہلا دیں اور ملالہ کو لے کر ایک نئ بحث شروع ہو گئ۔نکاح ایک ایسا بندھن جس پہ ہمارے معاشرے کی بنیاد ہے اسی پہ آپ کے نظریات متنازع ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے وطن سے دور ہو کر آپ اپنی بنیادوں سے ہی دور ہو گئ ہیں اس کے نظریات مغربی تعلیم نے آلودہ کر دیے ہیں اگر یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ملالہ کو ماڈرن اسلام کا سبق سکھا کر پاکستان کی سیاست میں لانچ کیا جا ۓ تو یہ ان کی بھول ہے۔

    پاکستان میں بے شک لبرلز کی ایک اچھی تعداد موجود ہے جبکہ مغربی خیالات کے حامیوں کی بھی کمی نہیں لیکن اسلام کے نام پر بنے اس ملک کی بنیادیں ابھی بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں جہاں کوٸی بھی غیر اسلامی فتنہ سر اٹھاتا ہے تو عوام کی اکثریت اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اس فتنے کو کچل دیا جاتا ہے

    یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ ملالہ کو نوبل پراٸز کسی فلاحی کام یا کسی نوبل اچیومنٹ پر نہیں دیا گیا اس نوبل پراٸز کی بنیاد ملالہ کی داڑھی والوں سے نفرت اور پاکستان کو ایک قدامت پرست ملک قرار دینا ہے
    ملالہ کا یہ کہنا کہ پاکستان عورتوں کے لۓ ایک جہنم ہے اور داڑھی والوں سے اسے نفرت ہے ظاہر کرتا ہے کہ اس کا پاکستان کی روایات اور اسلامی اقدار سے کوٸی لینا دینا نہیں اور اب وہ مغرب کی زبان اور ماحول میں رنگی جا چکی ہے جنہوں نے اسے سلیبریٹی بنایا

    یہ سب میرے زاتی خیالات ہیں جو ملالہ کے متنازع بیانات کی روشنی میں تحریر کۓ ہیں- اختلاف راۓ کا سب کو حق ہے اور مثبت تنقید کو ہمیشہ مثبت لیتا ہوں

    @ch_danishh

  • عورت کی حقیقی آزادی    تحریر: تماضر خنساء

    عورت کی حقیقی آزادی تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کے نام پہ عورت کو تباہی کے دہانے پر لانے والے اصل میں عورت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے عورت کو اسکے سارے حقوق عطاکیے ہیں کہ اگر وہ ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت ہے اگر وہ بیٹی ہے تو اسکی بہترین پرورش جنت کی کنجی ہے اگر وہ بیوی ہے تو اس سے حسن سلوک جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے _____
    اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی، عورت کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین کی، عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا ۔۔۔۔ان سب حقوق کے بعد بھی آخر یہ لبرل طبقہ عورت کو کونسی آزادی دینا چاہتا ہے؟
    اسلام تو دین کامل ہے
    :قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
    ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔
    ایک کامل و اکمل دین نے عورت کو کیا اسکے سارے حقوق نہیں دیئے؟ جو اب بھی دین منصف کے بعد بھی عورت کو آزادی چاہیے؟
    آج کے مشرقی معاشرے میں بھی عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ پڑھ سکتی ہے، جاب کرسکتی ہے، جیسے چاہے زندگی گزار سکتی ہے ۔۔۔۔۔ہم مانیں یا نہ مانیں مگر آج کا مشرقی معاشرہ بھی اب قدیم روایات والا معاشرہ نہیں رہا ۔۔۔۔یہاں نا جانے کتنی خواتین آج مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔۔۔۔
    تو پھر کونسی آزادی ہے جو لبرل طبقہ ان عورتوں کو دینا چاہتا ہے؟
    دراصل یہ لبرل طبقہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے باغی ہیں ۔۔۔انکے نزدیک میاں بیوی کا مقدس رشتہ عورت کے پاؤں کی بیڑی ہے۔۔۔یہ وہی لوگ ہیں آزادی کے نام پر عورت کو اس قدر بے مول دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئ بھی ان تک پہنچ سکے۔۔۔۔یہ دین بیزار لوگوں کیلیے وہ سیڑھی ہیں جن کے ذریعے ہر ایک عورت تک پہنچ رکھ سکے _______ہر کچھ عرصے بعد ایک اسلامی ملک میں ایسی سلوگنز کا پرچار ” اپنا کھانا خود گرم کرو ،میرا جسم میری مرضی آخر کیا مقصد رکھتا ہے؟
    اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام بلاشبہ مکمل ہے جہاں ایک عورت کو گھر کی ملکہ سمجھا جاتا ہے اور مرد کماتا ہے.گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، ۔۔۔۔
    اللہ کے نبی کی زندگی میں ایسے بے شمار نمونے ہیں جو ایک کامیاب زندگی جینے کا طریقہ ہمیں دیتے ہیں۔۔۔
    اللہ کے نبی تو اپنی بیویوں کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے،
    ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھاکہ رسول اللہ ص گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟
    انہوں نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کے کام بھی کیا کرتے تھے مثلا بکری کا دودھ دوھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا (زاد المعاد)
    اپنی ازواج کے ساتھ محبت والا رویہ رکھا۔۔انکے شوق پورے کیے،
    حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ انے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے ۔۔۔آپ ص چاہتے تو منع فرمادیتے مگر آپ نے عائشہ رض کو انکا شوق پورا کرنے سے نہیں روکا ۔۔۔
    عرب میں روایت ہوا کرتی تھی کہ حبشی لوگ خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے کرتب دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ کھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔(مسلم ، حدیث نمبر : ۸۹۲)
    حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ خیبر سے واپسی پر ہم مدینہ کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، آپؐ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے ہوئے ہیں اور حضرت صفیہؓ ان کے گھٹنوں پر پیر رکھ کر اونٹ پر سوار ہورہی ہیں۔(بخاری)
    ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا ، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں ، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا ، آپ انے فرمایا : انجشہ ! آہستہ آہستہ ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو (بخاری۔کتاب الادب)
    اس طرح ناجانے اور کتنے واقعات ہیں جو اللہ کے رسول ص کی زندگی سے ہمیں ملتے ہیں جو ہمارے لیے نمونہ ہیں۔۔۔۔جو کچھ اللہ کے نبی نے اپنی زندگی میں کیا اسی کا حکم ہمیں بھی دیا ۔۔۔۔اتنے عزت و اکرام کے بعد بھی کیا عورت کو کسی آزادی کی ضرورت ہے؟
    مرد کو اللہ نے عورت کا محافظ بنادیا پھر کیوں عورت تحفظ کی دیوار کو پھاند کر باہر آنا چاہتی ہے؟
    یہ آزادی کے نعرے صرف عورت کو اپنی دسترس میں کرنے کے حیلے ہیں کیونکہ اصل آزادی تو آج سے صدیوں پہلے محمد مصطفی ص عطا کر گئے۔۔۔ ہر لحاظ سے عورت کو معتبر کردیا ۔۔ اب جو مزید آزادی چاہتے ہیں تو ان کا مقصد صرف عورت کی بربادی ہے اور کچھ نہیں! اور ایک مسلمہ عورت کبھی ایسی آزادی کی چاہ نہیں کرتی جو اسکے لیے بربادی کا باعث بنے جو اسلام کے مخالف ہو ۔۔۔۔یہ آزادی کے نام پر شور مچانے والا خاص طبقہ صرف اور صرف اپنے گروہ کا نمائندہ ہے عورتوں کا نہیں کیونکہ کوئ عورت نہیں چاہتی کہ اسے بے مول کیا جائے
    عورت کی حقیقی آزادی تو دین اسلام میں ہے جسکو ہم
    مکمل اپنالیں تو ہماری زندگیاں سنور جائیں

    @timazer_K

  • فیمینسٹ   تحریر انعم نوید

    فیمینسٹ تحریر انعم نوید

    میں بھی فیمینسٹ ہوں. مگر میرا تعلق میرا جسم میری مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو اور میں تو ایسے ہی بیٹھوں گی جیسے نعروں کی علمبردار خواتین سے نہیں ہے. میرا جسم میرے خالق کی مرضی. جو میرے اللَّه نے مجھے حکم دیا ہے میں اِس جسم کو ویسا ہی رکھوں گی کیونکہ یہ جسم میرے پاس امانت ہے.

    گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ایک انٹرویو میں دیے بیان پر بہت واویلا مچا. آزادی پسندوں نے اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلایا اور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا. سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وزیراعظم کے بیان میں ایسا کیا تھا کہ اتنا واویلا مچا.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ، "اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اِس کا اثر مرد پر ہو گا اگر وہ روبوٹ نہیں ہیں.” پھر اُنہوں نے مغربی اور مشرقی معاشرے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ، "مغرب میں ڈسکو اور نائٹ کلبز ہوتے ہیں جو کہ ایک بالکل مختلف رہن سہن اور معاشرہ ہے. مشرقی معاشرے میں یہ سب نہیں ہوتا. اِس وجہ سے یہاں اگر مرد کی شہوت کو اُبھارا جائے گا تو وہ اُس کی تسکین کے لیے اِسی معاشرے میں راہ ڈھونڈے گا. اور اِس کا اثر معاشرے پر پڑے گا.”

    سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ بیان کس حد تک درست ہے. تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہماری معاشرتی اقدار کے حوالے سے یہ بیان بالکل درست ہے.

    اِس بات کے حق بجانب ہونے میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ زیادتی اور جنسی ہراسگی کے واقعات کا عورت کے لباس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. ایک عورت اپنی ذاتی زندگی میں مرضی کی مالک ہے اگر وہ اللَّه کا حکم نہیں ماننا چاہتی. مگر عورت مرضی کا لباس پہن کے جنسی ہراسگی اور زیادتی کی مستحق نہیں.

    مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ کپڑوں کا تعلق بالواسطہ مردوں کی نفسیات سے جڑتا ہے. جب ایک ایسا مرد، جس کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں ہوئی، اپنے اردگرد چھوٹے یا کم لباس والی خواتین کو دیکھے گا تو یقیناً اُس کی ہوس کو ہوا ملے گی. اُس سے دماغ میں ہیجان کی کیفیت طاری ہو گی. اور ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں نہ ڈسکو ہیں نہ نائٹ کلبز، وی اپنی ہوس پوری نہیں کر سکے گا. تو اِس کا نتیجہ بہت ہولناک نکلے گا. کیونکہ پھر اُس درندہ صفت مرد کے لیے رنگ، نسل، عمر اور صنف کا فرق ختم ہو جائے گا. وہ کسی بھی کمزور انسان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے گا.

    یہاں پر علمِ نفسیات کا ایک مضمون سایئکلاجیکل ڈسپلیسمنٹ اِس کی مزید وضاحت کرتا ہے.

    کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس لیے اِس معاملے کا اسلامی پہلو دیکھا جائے تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣١ کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
    "مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں. اور اپنی زینت کو کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے. اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال دیں.”

    قرآن کریم کا یہ حکم مومن خواتین کے لیے ہے. لیکن اِس آیت سے ایک آیت پہلے یعنی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣٠ کا حکم کچھ یوں ہے:
    "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں. یہی اِن کے لیے پاکیزگی ہے. لوگ جو کچھ کریں اللَّه تعالیٰ اُن سے خبردار ہے.”

    یہ دو آیات اِس پورے معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہے.سب سے پہلے مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے.

    یعنی اصل مسئلہ ہی اِن نگاہوں کا ہے. دیکھنے سے اگر ہیجان برپا نہ ہوتا تو فحش ویب سائٹس کا تو کام ہی تمام ہو جاتا اور بھوکے کو کھانا دیکھ کر کبھی منہ میں رال نہ آتی.

    یا اِس کو ایسا کہہ لیں کہ ملبوسات کی دکانوں میں سب سے دلکش جوڑے دکان کے داخلی حصے پر نمائش کے لیے آویزاں نہ کیے جاتے. یہ نمائش ہی انسان میں خریداری کی خواہش پیدا کرتی ہے.

    دوسرے نمبر پر اللَّه تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے. کیونکہ اگر نگاہوں کی حفاظت کے باوجود نگاہ پڑ بھی جائے تو خود کو پاکیزہ رکھنے کے لیے حفاظت اور احتیاط ضروری ہے.

    پھر تیسرے نمبر پر ایک حکم عورتوں کو زائد دیا گیا ہے. اور وہ یہ ہے کہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں اور اوڑھنیاں گریبانوں پر ڈال لیں.
    اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ حکم مردوں کو کیوں نہیں ملا؟ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ زینت یا سجاوٹ ہے ہی عورت کے پاس اور اسی کو چھُپانے کا حکم دیا گیا ہے. تاکہ معاشرہ شر اور ہیجان سے پاک رہے.

    اہم بات یہاں پر یہ ہے کہ عورتوں کے متعلق حکم سے پہلے اللَّه تعالیٰ نے مردوں کو حکم دیا ہے کہ نگاہیں نیچی رکھو. کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر معاشرے میں صرف مسلمان عورتیں ہی بستی ہوں جو کہ پردہ بھی کرتی ہوں. یہ حکم اِس لیے ہے کہ کسی بھی عقیدہ، قومیت یا مذہب کی عورت شر سے محفوظ رہ سکے. کیونکہ مردوں سے سوال آخرت میں اُن کی نگاہوں بارے ہونا ہے.

    فیمینزم کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ معاشرہ مادر پدر آزاد ہے. قطع نظر مذہب ہر معاشرے کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور کچھ پابندیاں ہوتی ہیں. مادر پدر آزادی کا کوئی بھی معاشرہ متحمل نہیں ہو سکتا.

    فیمینزم کا تعلق عورت کے بنیادی حقوق کے ساتھ ہے. جِسے مادر پدر آزادی کے علمبرداروں نے ہائی جیک کر لیا ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتے ہیں. جبکہ مسئلہ برابری سے بڑھ کر توازن کا ہے.

    قرآن کریم میں جِس وجہ سے مرد کو افضل قرار دیا ہے وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور بےدریغ قربانیاں ہیں. جبکہ ایک عورت تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہے اور ایک انسان کو پیدا کرتی ہے. اِس لیے اُس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے.

    یہ فضیلت تنقید کرنے والوں کو نظر نہیں آتی. پھر عورت نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہے. مرد جس نسل کو پالنے کی وجہ سے افضل ہے, اُس نسل کو پیدا کرنے اور تربیت کی ذمہ دار عورت افضل کیوں نہیں ہے. حقیقتاً سب کا اپنا مقام اور ذمہ داری ہے جس کا اُسی سے سوال ہونا ہے. جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر ٣٢ میں کہا گیا ہے:

    "اور اِس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللَّه تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. مردوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو اُنہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے اُن میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا. اور اللَّه تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگو. یقیناً اللَّه ہر چیز کو جاننے والا ہے.
    میں پھر سے یہاں اِس بات کو واضح کر دوں کہ بلاتفریق رنگ، نسل، قومیت، حُلیہ اور مذہب کوئی عورت جنسی زیادتی اور ہراسگی کی مستحق نہیں. لیکن معاشرے کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنا کردار نبھانا ضروری ہے. جنسی زیادتی اور ہراسگی جیسے واقعات تبھی ختم ہو سکتے ہیں جب سب اپنی اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرے. خلاصہ یہ ہے کہ اپنے بچوں، خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا، کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کیجئے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن سکیں.

    @NaimatRehmn

  • فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔
    حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے 1963عیسویں میں افریقہ میں منعقدہ جلسہ میں فضیلت النساء کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
    حضرت نے سورۃ آل عمران کے تین آیتیں تلاوت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے ۔جس میں فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے۔ اسلئے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے۔ سب سے پہلے اسی سے سیکھتا ہے۔ باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا کہ اس کا تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے تو وہی اثر بچے میں آئے گا اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان صلاحیتوں سے خالی ہے تو بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
    کسی فارسی شاعر نے کہا ہے
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج
    ”کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر درست رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت سیدھی چلی جاتی ہے“جس کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے۔ اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق بنتا ہے۔ اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کررہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہے۔مگر عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آتی ہیں تو مردوں کا شکریہ اور اگر از خود آتی ہیں پھر ان کے دینی جذبے کی داد دینی چاہئے کہ ان کے اندر بھی از خود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔
    بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر از خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے۔ تو اس طلب پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکریئے کے مستحق ہیں۔ اسی واسطے سے میں نے کہا کہ مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اسلئے کہ زندگی کی ابتداء یہی سے ہوتی ہے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں  تحریر: سیدہ بنت زینب

    بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    ہر انسان قادر مطلق خدا کی مخلوق ہے، تمام انسانی دماغ خدا کی طرف سے تحفہ ہیں. جب اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری نبی ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے تھے تو تمام انسانوں کو بیٹیوں پر مہربان ہونا چاہیے اور ان سے رحم کا معاملہ کرنا چاہیے.
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مشکوۃ شریف)
    اسلام میں بیٹیوں کو”رحمت” اور بیٹوں کو "نعمت” کہا گیا ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "خوش نصیب ہے وہ عورت جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو” اسی طرح کسی اور جگہ پڑھا تھا کہ ” اللّٰہ پاک جس سے خوش ہوتے ہیں اسے بیٹی عطا کرتے ہیں اور جسے خوش کرنا ہو اسے بیٹا عطا کرتے ہیں”. ہم نے اکثر اپنے اردگرد دیکھا ہو گا کہ عموماً بیٹوں کی پیدائش پر بہت زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں جبکہ اگر انہی کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو سارا گھرانہ افسوس کرتا ہے، غم مناتا ہے. ایسے لوگوں سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر آپ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر خوشی نہیں منا سکتے تو کم از کم غم بھی نہ کریں کیونکہ بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت کہا گیا ہے اور اسی رحمت کے صدقے اللّٰہ پاک اکثر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیا کرتے ہیں.
    میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بیٹیوں سے نفرت کی جاتی ہے. ان میں سے سب سے اہم جہیز ہے چونکہ یہ دراصل جہیز درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لئے سب سے پریشانی والا عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے انکے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، ایسے خاندانوں میں ان کی بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی انکے قتل کا زیادہ امکان ہوتا ہے.
    جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنا دینا کہیں سے بھی درست نہیں…..!
    "ہاں! بیٹی نہیں بلکہ جہیز ایک لعنت ہے، اور جہیز کی روایت، بیٹی کے بجائے قتل کی جانی چاہئے!”
    دوسری بڑی وجہ جو بیٹیوں کو زحمت سمجھنے میں سرفرست ہے وہ مجھے یقین ہے کہ "پرانی روایتی سوچ” ہی ہے. یہی پرانی سوچ بیٹیوں اور خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. "مرد ہمیشہ خواتین سے بہتر ہوتے ہیں” یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی ہے اور اسے جلد ہی معاشرے سے ختم ہوجانا چاہئے.
    میرے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انہیں آزادی، پیار، عزت، احترام سب دیا جانا چاہئے اور آزادی کی زندگی تمام مخلوقات کا حق ہے. الحمدللہ میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی بہت پیار دیا ہے، بیٹیوں کو تمام آزادیاں دی ہیں، انہوں نے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش کی ہے، انہیں پیار اور مقام دیا ہے.
    خواتین ہی اگلی مضبوط اور پرجوش رہنما ہیں جن کو آزادی، عزت، پیار، احترام اور آگے بڑھنے نے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تبھی ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے. جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے: "دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں.”
    جب ہم اپنی خوشی سے بیٹیوں کو بیٹوں جتنا آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو یقیناً وہ آپکا نام دنیا کے ہر مقام پر اونچا کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں. بس آخر پر یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں، زحمت یاں لعنت نہیں.

    @BinteZainab33

  • ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ہسپتالوں پر اکثر ہم بات کرتے ہیں لکھتے ہیں جہاں انسانیت کو روند کر زندگی اور موت کا کاروبار کیا جاتا ہے وہی ایک خاص توجہ آپ سب کی پرائیوٹ کلینک پر دلانا چاہوں گی بڑے ہسپتالوں سے مریضوں کو اپنے کلینک لےجانا تو معمول کی بات ہے جہاں ڈاکٹر بھاری فیس لےکر آپ سے گھنٹہ بھر آپکے مسائل سن لیتا ہے وہی خواتین کے ایسے بہت سے مسائل ہیں جو کھل کر بڑے ہسپتالوں میں جانے سے گریز کرتی ہیں بلکہ پرائیوٹ کلینک بھی ایسا ڈھونڈتی جہاں انکو کوئی جانتا نا ہو خاص کر ناجائز بچے کو گرانے کے لیے ایسے وقت پر اکثر لڑکیاں بے وقوف بن جاتی ہیں حال ہی میں نظروں سے گزرا وہ واقعہ سب کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک چھوٹے کلینک میں ڈی این سی کے لیے جانے والی لڑکی اپنی جان گنوا بیٹھی ، گلی نکڑ پر ایسے بہت سے کلینک ہوتے ہیں جہاں نا تجربہ کار ایل ایچ وی، یا سرکاری ہسپتالوں کی ماسیاں اپنا کاروبار چلا رہی ہوتی ہیں بظاہر تو کلینک آپکو او پی ڈی لگتا ہے مگر اندر ایک پورا گینگ ہوتا ہے جو جائز ناجائز بچوں کو گرانے کی بھاری قیمت وصول کرتا ہے جس میں جان بھی جاےپر انکی زمہ داری نا ہوگئی ایسا نہیں کے علاقے کی پولیس کو ایسے معاملات کا علم نا ہو باقاعدہ بھتہ وصول کیا ہے کبھی شکایت درج بھی ہوجاے تب بھی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی علاقے کے بہت سے لوگ واقف ہوتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں پرائی بات میں دخل کیوں دیں یہ والی سوچ ہماری آج بھی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگئی، کون کرے کا ایسے جعلی ڈاکٹروں کا خاتمہ حکومت کب قانون میں اتنی سختی پیدا کرے گی کے ایسے درندے صفت لوگ ناجائز کام کرتے وقت سو بار سوچیں کب یہ کاروبار بند ہوگا ؟ اس کا جواب تو سب باخوبی جانتے ہیں یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا ہمیں ہی اپنی نسلوں کو سدھارنے میں کردار ادا کرنا ہوگا

    کالج میں پڑھنے والی لڑکیاں کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بن کر ان کلینکس پر پہنچ جاتی ہیں نا گھر والوں کو خبر نا اپنی جان کی پرواہ عزتیں لٹوا کر عزتیں بجانے کی کوشش اکثر بہت بڑا نقصان کرجاتی ہے جسکا اندازہ کرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا ایک انجان شخص کے ہاتھوں اپنی عزت دینا اور اس پر بھروسہ کرنا کے یہ ہمیں دھوکہ نہیں دیگا والدین بڑی امیدوں کے ساتھ اپنے بچوں کو ہاسٹل کالج بھیجتے کے ہمارے بچے پڑھائی کریں گے مگر اولاد زمانے کی رنگینیوں میں کھو کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیتی ہے نتیجہ یا تو وہ لڑکا زندگی برباد کرکے چھوڑ دیتا یا حمل گرانے کے دوران جان سے جاتی، خودکشی کرتی یا برادری والے ہی مار دیتے

    لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا باقی کرنے والے تو افسوس کرہی لیتے ہیں
    یہ کہا تو جاتا ہے عورت کو برابری کے حقوق دو مگر عورت پر بھی لازم ہے وہ اپنی شرعی حدود میں رہ کر آگے بڑھیں میں عورت کی آزادی کے خلاف نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور کہوں گی کے عورت کو اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے والدین کی دی ہوئی آزادی اصل میں آپ پر انکا بھروسہ ہوتا ہے جس کو اولاد تھوڑ کر خوش نہیں رہ سکتی، سوچیے ہم کہا کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

  • حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے  ‏تحریر:   چوہدری عطا محمد

    حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے ‏تحریر: چوہدری عطا محمد

    اس کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف کے ابدی اصولوں پر مبنی ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر حق دار کو اس کا پورا حق ملے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے۔ تاکہ اولاد آدم اس دنیا میں حیات ِ مستعار کے لمحات امن و سکون سے بسر کرسکے۔ اسلام کے اس نظام کی بنیاد انسانی مساوات پر مبنی ہے۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھی اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اسی عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔
    ‏اسلام نے حقوقِ نسواں پے بہت زوردیا ہے کیونکہ اسلام سے پہلے بیٹی کے پیدا ہونے پے سوگ منایا جاتا تھا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا ہے اور ان کی عزت کو سرِ عام نیلام کیا جاتا تھا بولیاں لگاٸی جاتی تھی یا یہ کہنا بجا ہو گا کہ جنسی حوس کو پورا کرنے کے لیے درندوں کی طرح روندھا جاتا تھا فر ایک ایسی ہستی کا نزول ہوا جن کو دونوں جہاں کے لیے رحمت العلمین ﷺ بنا کے بھیجا گیا جن کے آنے سے ہر طرف نور ہی نور چھا گیا
    ‏آپﷺ نے ہر زی النوع کے لیے حق کی آواز کو بلند کیا اللہ کے یکتا ہونے کا درس دیا عورت کو خدا کا ایک خوبصورت تحفہ قرار دیا اور حقوقِ نسواں کا متعین کیا اور ورثے میں عورت کا حق مقرر کر دیاگیااور سب سے بڑا تحفہ یہ دیا عورت کو کہ ماں کی صورت میں
    ‏جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی
    ‏عورت کو پاؤں کی جوتی کی بجائے گھر کی مالکہ اور رفیقۂ حیات کا اعزاز بخشا اور اس کا نان نفقہ خاوند کی ذمے داری قرار دیا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار عورت کو مرد کے مساوی حقوق دینے کا اعلان کیا۔ یہ فقط دعویٰ نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اسلام جدید معاشرے کی عورت کو بھی وہی حقوق، عزت و وقار، عزت نفس اور پاکی و طہارت عطا فرماتا ہے جو اس نے زمانۂ قدیم کی عورت کو عطا کرکے اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر اوج ثریا تک پہنچا دیا۔

    ‏قرآن حکیم و حدیث نبویؐ میں عورت کی چار حیثیتوں کا بیان ہے

    ‏(1) ماں (2) بہن (3) بیوی (4) بیٹی

    ‏اسلام نے ماں کی حیثیت سے عورت کا مقام اس قدر بلند کیا ہے کہ معاویہ بن جاہمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ کی خدمت میں میرے والد حاضر ہوئے کہ یا رسول اﷲ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ جہاد کروں اور آپؐ سے مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمھاری ماں زندہ ہے، عرض کی کہ زندہ ہے، تو آپؐ نے فرمایا کہ تو اسی کے ساتھ رہو، اس لیے کہ جنت ماں کے پاؤں کے نیچے ہے۔ (نسائی)

    ‏حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرمؐ سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ ﷺ میرے حسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ تو آپ ؐ نے تین مرتبہ فرمایا کہ تیری والدہ اور چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تیرا والد۔ (بخاری)

    ‏اس روایت سے معلوم ہوا کہ باپ کے مقابلے میں ماں کی حیثیت و مرتبہ استحقاقِ خدمت میں تین گنا زیادہ ہے۔ اگر ماں کافر بھی ہو تو اس سے حسنِ سلوک کرنے کا حکم ہے۔ 

    ‏قرآن کریم میں جہاں عورت کے دیگر معاشرتی و سماجی درجات کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے وہاں بطورِ بہن بھی اس کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ بطور بہن، عورت کی وراثت کا حق بڑی ہی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ اسلام کی آمد سے پہلے بیٹی کی پیدائش کو ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا۔ آپؐ نے بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا۔ اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بل کہ اسے وراثت کا حق د ار بھی ٹھہرایا۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے نسل انسانی کے تسلسل و بقا کے لیے ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتوں کو اپنی نعمت قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیوی کے رشتے کی اہمیت اور اس سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے ۔

    ‏ارشاد ربانی ہے ’’ اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو، اور اﷲ نے اس میں تمہارے لیے بہت بھلائی رکھی ہو۔

    ‏(سورۃ النساء)

    ‏رسول اکرمؐ نے بھی بیوی سے حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔ احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو مختلف واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے عملی طور پر بہت سے مواقع پر دل جوئی فرمائی۔ رسول اکرمؐ حضرت عائشہؓ کے ساتھ کبھی دوڑ لگا رہے ہیں او ر کبھی ان کو حبشیوں کے کھیل (تفریح) سے محظوظ فرما رہے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ سفر میں تھیں فرماتی ہیں کہ میں اور آپؐ دوڑے، تو میں آگے نکل گئی تو پھر دوبارہ جب میں اور آپؐ دوڑے، تو آپؐ آگے نکل گئے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہے تُو پہلے آگے نکل گئی تھی۔ یعنی اب ہم برابر ہوگئے۔ (ابوداؤد)
    ‏اللہ تعالی ﷻ نے عورت کو ایک اعلیٰ مقام پے فاٸز کر دیا اور عورتوں کے حقوق کے لیے اپنی پیاری کتاب قرآنِ مجید میں سورہ النسا نازل کر دی جس میں عورتوں کے لیے معاشی سماجی حقوق کے علاوہ مرد کے شانہ بشانہ اور برابر کے حقوق ادا کردیٸے
    ‏اگر قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ خواتین کے انفرادی حقوق، عائلی حقوق، ازدواجی، معاشی اور دیگر حقوق کو بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ عورتوں کو عزت و تکریم عطا کی ہے۔ عورت کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا اختیار ہے، وہ اپنے نام جائیداد خرید سکتی ہے اور اپنی ملکیت میں رکھ سکتی ہے۔ اسے اپنے خاندان، خاوند اور دوسرے قریبی رشتے داروں سے وراثت میں حصہ ملتا ہے۔ جس طرح مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اسی طرح عورت کو خلع کے ذریعے نکاح تحلیل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

    ‏اسلام نے انسان ہونے کے ناتے سے مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ لہٰذا جو ﷲ تعالیٰ ﷻاور رسول اکرمﷺ نے خواتین کو حقوق دیے ہیں ان کے حقوق کی پاس داری کرنا ہمارا اولین مذہبی فریضہ ہے۔ حقوق نسواں کے حوالے سے خطبہ حجّۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’خبردار تمہاری عورتوں کے ذمے تمہارا حق اور تمہارے ذمے تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں۔ عورتوں کے حق یہ ہیں کہ انہیں اچھا لباس پہناؤ اور اچھا طعام کھلاؤ۔
    ‏ایسی ہزاروں احادیث ہیں جن میں عورتوں کے حقوق متعین کر دیٸے گٸے ہیں اسلام تمام ادیان سے بہتر دین ہے
    ‏جہاں دین اسلام نے حقوقِ نسواں کے لیے روزِ ازل سے آواز بلند کی وہاں دنیا میں ایسے خدا ترس لوگ بھی موجود ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم ہیں ان میں ایک شخصیت کا زکر میں کرتی جاٶں گی
    ‏یوجین ہنگ
    ‏ایسی شخصیت ہیں جن کو حقوقِ نسواں کا حامی ہونے
    ‏ پر بہت فخر ہے۔
    ‏وہ کیلیفورنیا میں ریاضی کے ٹیچر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چودہ برس پہلے جب اُن کی بیٹی پیدا ہوئی تو اُس وقت وہ یہ سوچ کر ذہنی کشمکش میں پڑ گئے کہ یہ دنیا لڑکیوں کے لیے کیسے ہو گی؟

    ‏اُس وقت اُن کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یونیورسٹی میں اُن کے ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں پر کیا گزرتی ہوگی جو تنہا لائبریری سے گھر واپس جاتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔

    ‏ہنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اُنھیں اپنے عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ جینا پڑتا تھا مگر مجھے ایسے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ مجھے اُس وقت اس بات کا احساس ہوا کہ مجھے معاشرے میں کتنا امتیاز حاصل ہے اور میں اس سے بالکل بے خبر تھا۔’
    ‏’ایک مرد کی حیثیت سے میں ان سب باتوں کو اپنے لیے معمول کی باتیں سمجھتا تھا۔’
    ‏اُن کے اندر احساس کی بیداری نے اُنھیں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ایک سرگرم کارکن بنا دیا۔ اُنھوں نے ‘فیمینسٹ ایشیئن ڈیڈ’ کے نام سے ایک بلاگ شروع کیا جس کا مقصد عورتوں کو معاشرے میں با اختیار بنانے کے بارے میں آواز اُٹھانا تھا۔

    ‏ہنگ اپنے بلاگ میں مختلف چیزوں پر بات کرتے ہیں جن میں ڈِزنی کی انیمیٹڈ فلم ’مُلان‘ جس میں ایک طاقتور عورت مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور کملا ہیرِس امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر کے انتخاب جیسے موضوعات شامل ہیں۔
    ‏المختصر کہ اسلام نے جو حقوق عورتوں کے لیے واضع کیے ہیں انکو تسلیم کیا جاٸے اور عورت کو وراثت میں اسکا حق دیا جاۓ
    ‏البتہ یہ بات اپنی جگہ بہ درجہ اتم حقیقت پر مبنی ہے کہ عورتوں کو اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ دینی و جدید تعلیم سے مزین ہونا ہوگا جو موجودہ صدی کا اہم تقاضا ہے
    ‏اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اسلام کے اصولوں پے عمل پیرا ہونے کی توفیق دے
    ‏آمین یا رب العلمین

  • میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    جب ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے اس وقت اس بچی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ فکر بھی جنم لیتی ہے بچی کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ بھی پڑھتی جاتی ہے، کے کیسے بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے لیکن کیا کبھی کسی ماں باپ نے یہ سوچا ہے کے ہماری بیٹی کی بھی کچھ خواہشات ہونگی اسکے سپنے ہونگے جو روزانہ اس نے جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہونگے اچھی تعلیم روشن محفوظ مستقبل کھلا آسمان، مہکتی صبح کے ساتھ پھولوں کی طرح کھلنا، گڑیا سے کھیلنا، بہن بھائیوں سے ناز اٹھوانا، والد سے فرمائشیں پوری کروانا، ماں کے آنچل میں بادلوں کی آواز سے چھپ کر سوجانا، سہیلیوں سے گھنٹوں باتیں کرنا، من پسند کتابوں کو تکیے کے نیچے چھپا کر سونا، یہ سب ایک نارمل لڑکی کے سپنے ہی تو ہیں جو وہ جینا چاہتی ہے بارہ سال کی ہوئی گھر کے کام کاج سیکھو 14 کی ہوئی تو طریقے سے ڈوپٹہ لو گھر سے اکیلے باہر جانا بند کھیلنا بند دوستی گڑیا کھلونے سب سے ناطہ توڑ کر والدین لڑکی کو اسکے گھر کا کرنے میں لگ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ معصوم جس نے گھر کی چار دیواری کے باہر کی دنیا صرف کتابوں کہانیوں میں دیکھی وہ اچانک اتنی بڑی سمجھدار کیسے ہوگئی کے اسکو دوسرے گھر بھیجنے کی تیاری ہونے لگے وہ ہاتھوں میں مہندی لگائے خوب چمک دمک کا ڈوپٹہ اوڑھے خاندان والوں کے درمیاں بیٹھی اپنی ہتھیلیوں کو غور سے دیکھتی رہی کے آخر ابھی کچھ وقت ہی تو گزرا جب اس نے اپنی گڑیا رانو کی شادی اپنی دوست کے گڈے سے کی تھی اور آج اچانک اتنی جلدی وہ خود کسی کی دلہن بنی بیٹھی ہے اس کے سارے خوب ریت کی طرف بہہ گئے وہ رونا چاہتی تھی چیخنا چاہتی تھی پر اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی ماں کمزور سا چہرہ لیے بیٹھی تھی ماں باخوبی واقف تھی اپنی اولاد کی حالت سے پر وہ کیا کرتی یہ خاندانی روایت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ناجانے کب تک یونہی پھولوں جیسی نازک بچیاں اپنے خوابوں کو بکھرتا دیکھتی رہنگی کب وہ دن ہوگا جب وہ آزادی سے اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرینگی آزاد ہوا میں سانس لینگی؟؟
    کسی معصوم نے اپنی مرضی سے ایک قدم جو اٹھایا اس کا حساب اپنے خون سے دینا پڑتا ایسی نا جانے کتنی معصوم بچیاں ہونگی جو نا چاہتے ہوئے بھی ماں باپ کی مرضی پر قربان ہوجاتی ہیں پھر ساری زندگی اپنے سپنوں کو روند کر زندگی کی حقیقت کا سامنا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش کے سب والدین اپنی اولادوں کو پڑھانے پر توجہ دیں انکو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیں ناکہ انھیں مزید دلدل میں دھکیل دیں غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم ہے۔۔۔۔۔ جو بےحد ضروری ہے ہمارے لیے ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر محفوظ مستقبل کے لیے

    …….سوچ بدلیں وقت خود با خود بدل جاے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔