Baaghi TV

Category: خواتین

  • فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔
    حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے 1963عیسویں میں افریقہ میں منعقدہ جلسہ میں فضیلت النساء کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
    حضرت نے سورۃ آل عمران کے تین آیتیں تلاوت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے ۔جس میں فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے۔ اسلئے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے۔ سب سے پہلے اسی سے سیکھتا ہے۔ باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا کہ اس کا تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے تو وہی اثر بچے میں آئے گا اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان صلاحیتوں سے خالی ہے تو بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
    کسی فارسی شاعر نے کہا ہے
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج
    ”کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر درست رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت سیدھی چلی جاتی ہے“جس کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے۔ اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق بنتا ہے۔ اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کررہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہے۔مگر عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آتی ہیں تو مردوں کا شکریہ اور اگر از خود آتی ہیں پھر ان کے دینی جذبے کی داد دینی چاہئے کہ ان کے اندر بھی از خود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔
    بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر از خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے۔ تو اس طلب پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکریئے کے مستحق ہیں۔ اسی واسطے سے میں نے کہا کہ مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اسلئے کہ زندگی کی ابتداء یہی سے ہوتی ہے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں  تحریر: سیدہ بنت زینب

    بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    ہر انسان قادر مطلق خدا کی مخلوق ہے، تمام انسانی دماغ خدا کی طرف سے تحفہ ہیں. جب اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری نبی ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے تھے تو تمام انسانوں کو بیٹیوں پر مہربان ہونا چاہیے اور ان سے رحم کا معاملہ کرنا چاہیے.
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مشکوۃ شریف)
    اسلام میں بیٹیوں کو”رحمت” اور بیٹوں کو "نعمت” کہا گیا ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "خوش نصیب ہے وہ عورت جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو” اسی طرح کسی اور جگہ پڑھا تھا کہ ” اللّٰہ پاک جس سے خوش ہوتے ہیں اسے بیٹی عطا کرتے ہیں اور جسے خوش کرنا ہو اسے بیٹا عطا کرتے ہیں”. ہم نے اکثر اپنے اردگرد دیکھا ہو گا کہ عموماً بیٹوں کی پیدائش پر بہت زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں جبکہ اگر انہی کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو سارا گھرانہ افسوس کرتا ہے، غم مناتا ہے. ایسے لوگوں سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر آپ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر خوشی نہیں منا سکتے تو کم از کم غم بھی نہ کریں کیونکہ بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت کہا گیا ہے اور اسی رحمت کے صدقے اللّٰہ پاک اکثر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیا کرتے ہیں.
    میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بیٹیوں سے نفرت کی جاتی ہے. ان میں سے سب سے اہم جہیز ہے چونکہ یہ دراصل جہیز درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لئے سب سے پریشانی والا عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے انکے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، ایسے خاندانوں میں ان کی بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی انکے قتل کا زیادہ امکان ہوتا ہے.
    جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنا دینا کہیں سے بھی درست نہیں…..!
    "ہاں! بیٹی نہیں بلکہ جہیز ایک لعنت ہے، اور جہیز کی روایت، بیٹی کے بجائے قتل کی جانی چاہئے!”
    دوسری بڑی وجہ جو بیٹیوں کو زحمت سمجھنے میں سرفرست ہے وہ مجھے یقین ہے کہ "پرانی روایتی سوچ” ہی ہے. یہی پرانی سوچ بیٹیوں اور خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. "مرد ہمیشہ خواتین سے بہتر ہوتے ہیں” یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی ہے اور اسے جلد ہی معاشرے سے ختم ہوجانا چاہئے.
    میرے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انہیں آزادی، پیار، عزت، احترام سب دیا جانا چاہئے اور آزادی کی زندگی تمام مخلوقات کا حق ہے. الحمدللہ میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی بہت پیار دیا ہے، بیٹیوں کو تمام آزادیاں دی ہیں، انہوں نے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش کی ہے، انہیں پیار اور مقام دیا ہے.
    خواتین ہی اگلی مضبوط اور پرجوش رہنما ہیں جن کو آزادی، عزت، پیار، احترام اور آگے بڑھنے نے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تبھی ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے. جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے: "دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں.”
    جب ہم اپنی خوشی سے بیٹیوں کو بیٹوں جتنا آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو یقیناً وہ آپکا نام دنیا کے ہر مقام پر اونچا کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں. بس آخر پر یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں، زحمت یاں لعنت نہیں.

    @BinteZainab33

  • ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ہسپتالوں پر اکثر ہم بات کرتے ہیں لکھتے ہیں جہاں انسانیت کو روند کر زندگی اور موت کا کاروبار کیا جاتا ہے وہی ایک خاص توجہ آپ سب کی پرائیوٹ کلینک پر دلانا چاہوں گی بڑے ہسپتالوں سے مریضوں کو اپنے کلینک لےجانا تو معمول کی بات ہے جہاں ڈاکٹر بھاری فیس لےکر آپ سے گھنٹہ بھر آپکے مسائل سن لیتا ہے وہی خواتین کے ایسے بہت سے مسائل ہیں جو کھل کر بڑے ہسپتالوں میں جانے سے گریز کرتی ہیں بلکہ پرائیوٹ کلینک بھی ایسا ڈھونڈتی جہاں انکو کوئی جانتا نا ہو خاص کر ناجائز بچے کو گرانے کے لیے ایسے وقت پر اکثر لڑکیاں بے وقوف بن جاتی ہیں حال ہی میں نظروں سے گزرا وہ واقعہ سب کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک چھوٹے کلینک میں ڈی این سی کے لیے جانے والی لڑکی اپنی جان گنوا بیٹھی ، گلی نکڑ پر ایسے بہت سے کلینک ہوتے ہیں جہاں نا تجربہ کار ایل ایچ وی، یا سرکاری ہسپتالوں کی ماسیاں اپنا کاروبار چلا رہی ہوتی ہیں بظاہر تو کلینک آپکو او پی ڈی لگتا ہے مگر اندر ایک پورا گینگ ہوتا ہے جو جائز ناجائز بچوں کو گرانے کی بھاری قیمت وصول کرتا ہے جس میں جان بھی جاےپر انکی زمہ داری نا ہوگئی ایسا نہیں کے علاقے کی پولیس کو ایسے معاملات کا علم نا ہو باقاعدہ بھتہ وصول کیا ہے کبھی شکایت درج بھی ہوجاے تب بھی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی علاقے کے بہت سے لوگ واقف ہوتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں پرائی بات میں دخل کیوں دیں یہ والی سوچ ہماری آج بھی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگئی، کون کرے کا ایسے جعلی ڈاکٹروں کا خاتمہ حکومت کب قانون میں اتنی سختی پیدا کرے گی کے ایسے درندے صفت لوگ ناجائز کام کرتے وقت سو بار سوچیں کب یہ کاروبار بند ہوگا ؟ اس کا جواب تو سب باخوبی جانتے ہیں یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا ہمیں ہی اپنی نسلوں کو سدھارنے میں کردار ادا کرنا ہوگا

    کالج میں پڑھنے والی لڑکیاں کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بن کر ان کلینکس پر پہنچ جاتی ہیں نا گھر والوں کو خبر نا اپنی جان کی پرواہ عزتیں لٹوا کر عزتیں بجانے کی کوشش اکثر بہت بڑا نقصان کرجاتی ہے جسکا اندازہ کرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا ایک انجان شخص کے ہاتھوں اپنی عزت دینا اور اس پر بھروسہ کرنا کے یہ ہمیں دھوکہ نہیں دیگا والدین بڑی امیدوں کے ساتھ اپنے بچوں کو ہاسٹل کالج بھیجتے کے ہمارے بچے پڑھائی کریں گے مگر اولاد زمانے کی رنگینیوں میں کھو کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیتی ہے نتیجہ یا تو وہ لڑکا زندگی برباد کرکے چھوڑ دیتا یا حمل گرانے کے دوران جان سے جاتی، خودکشی کرتی یا برادری والے ہی مار دیتے

    لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا باقی کرنے والے تو افسوس کرہی لیتے ہیں
    یہ کہا تو جاتا ہے عورت کو برابری کے حقوق دو مگر عورت پر بھی لازم ہے وہ اپنی شرعی حدود میں رہ کر آگے بڑھیں میں عورت کی آزادی کے خلاف نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور کہوں گی کے عورت کو اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے والدین کی دی ہوئی آزادی اصل میں آپ پر انکا بھروسہ ہوتا ہے جس کو اولاد تھوڑ کر خوش نہیں رہ سکتی، سوچیے ہم کہا کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

  • حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے  ‏تحریر:   چوہدری عطا محمد

    حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے ‏تحریر: چوہدری عطا محمد

    اس کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف کے ابدی اصولوں پر مبنی ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر حق دار کو اس کا پورا حق ملے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے۔ تاکہ اولاد آدم اس دنیا میں حیات ِ مستعار کے لمحات امن و سکون سے بسر کرسکے۔ اسلام کے اس نظام کی بنیاد انسانی مساوات پر مبنی ہے۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھی اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اسی عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔
    ‏اسلام نے حقوقِ نسواں پے بہت زوردیا ہے کیونکہ اسلام سے پہلے بیٹی کے پیدا ہونے پے سوگ منایا جاتا تھا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا ہے اور ان کی عزت کو سرِ عام نیلام کیا جاتا تھا بولیاں لگاٸی جاتی تھی یا یہ کہنا بجا ہو گا کہ جنسی حوس کو پورا کرنے کے لیے درندوں کی طرح روندھا جاتا تھا فر ایک ایسی ہستی کا نزول ہوا جن کو دونوں جہاں کے لیے رحمت العلمین ﷺ بنا کے بھیجا گیا جن کے آنے سے ہر طرف نور ہی نور چھا گیا
    ‏آپﷺ نے ہر زی النوع کے لیے حق کی آواز کو بلند کیا اللہ کے یکتا ہونے کا درس دیا عورت کو خدا کا ایک خوبصورت تحفہ قرار دیا اور حقوقِ نسواں کا متعین کیا اور ورثے میں عورت کا حق مقرر کر دیاگیااور سب سے بڑا تحفہ یہ دیا عورت کو کہ ماں کی صورت میں
    ‏جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی
    ‏عورت کو پاؤں کی جوتی کی بجائے گھر کی مالکہ اور رفیقۂ حیات کا اعزاز بخشا اور اس کا نان نفقہ خاوند کی ذمے داری قرار دیا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار عورت کو مرد کے مساوی حقوق دینے کا اعلان کیا۔ یہ فقط دعویٰ نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اسلام جدید معاشرے کی عورت کو بھی وہی حقوق، عزت و وقار، عزت نفس اور پاکی و طہارت عطا فرماتا ہے جو اس نے زمانۂ قدیم کی عورت کو عطا کرکے اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر اوج ثریا تک پہنچا دیا۔

    ‏قرآن حکیم و حدیث نبویؐ میں عورت کی چار حیثیتوں کا بیان ہے

    ‏(1) ماں (2) بہن (3) بیوی (4) بیٹی

    ‏اسلام نے ماں کی حیثیت سے عورت کا مقام اس قدر بلند کیا ہے کہ معاویہ بن جاہمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ کی خدمت میں میرے والد حاضر ہوئے کہ یا رسول اﷲ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ جہاد کروں اور آپؐ سے مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمھاری ماں زندہ ہے، عرض کی کہ زندہ ہے، تو آپؐ نے فرمایا کہ تو اسی کے ساتھ رہو، اس لیے کہ جنت ماں کے پاؤں کے نیچے ہے۔ (نسائی)

    ‏حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرمؐ سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ ﷺ میرے حسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ تو آپ ؐ نے تین مرتبہ فرمایا کہ تیری والدہ اور چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تیرا والد۔ (بخاری)

    ‏اس روایت سے معلوم ہوا کہ باپ کے مقابلے میں ماں کی حیثیت و مرتبہ استحقاقِ خدمت میں تین گنا زیادہ ہے۔ اگر ماں کافر بھی ہو تو اس سے حسنِ سلوک کرنے کا حکم ہے۔ 

    ‏قرآن کریم میں جہاں عورت کے دیگر معاشرتی و سماجی درجات کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے وہاں بطورِ بہن بھی اس کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ بطور بہن، عورت کی وراثت کا حق بڑی ہی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ اسلام کی آمد سے پہلے بیٹی کی پیدائش کو ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا۔ آپؐ نے بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا۔ اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بل کہ اسے وراثت کا حق د ار بھی ٹھہرایا۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے نسل انسانی کے تسلسل و بقا کے لیے ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتوں کو اپنی نعمت قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیوی کے رشتے کی اہمیت اور اس سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے ۔

    ‏ارشاد ربانی ہے ’’ اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو، اور اﷲ نے اس میں تمہارے لیے بہت بھلائی رکھی ہو۔

    ‏(سورۃ النساء)

    ‏رسول اکرمؐ نے بھی بیوی سے حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔ احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو مختلف واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے عملی طور پر بہت سے مواقع پر دل جوئی فرمائی۔ رسول اکرمؐ حضرت عائشہؓ کے ساتھ کبھی دوڑ لگا رہے ہیں او ر کبھی ان کو حبشیوں کے کھیل (تفریح) سے محظوظ فرما رہے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ سفر میں تھیں فرماتی ہیں کہ میں اور آپؐ دوڑے، تو میں آگے نکل گئی تو پھر دوبارہ جب میں اور آپؐ دوڑے، تو آپؐ آگے نکل گئے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہے تُو پہلے آگے نکل گئی تھی۔ یعنی اب ہم برابر ہوگئے۔ (ابوداؤد)
    ‏اللہ تعالی ﷻ نے عورت کو ایک اعلیٰ مقام پے فاٸز کر دیا اور عورتوں کے حقوق کے لیے اپنی پیاری کتاب قرآنِ مجید میں سورہ النسا نازل کر دی جس میں عورتوں کے لیے معاشی سماجی حقوق کے علاوہ مرد کے شانہ بشانہ اور برابر کے حقوق ادا کردیٸے
    ‏اگر قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ خواتین کے انفرادی حقوق، عائلی حقوق، ازدواجی، معاشی اور دیگر حقوق کو بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ عورتوں کو عزت و تکریم عطا کی ہے۔ عورت کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا اختیار ہے، وہ اپنے نام جائیداد خرید سکتی ہے اور اپنی ملکیت میں رکھ سکتی ہے۔ اسے اپنے خاندان، خاوند اور دوسرے قریبی رشتے داروں سے وراثت میں حصہ ملتا ہے۔ جس طرح مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اسی طرح عورت کو خلع کے ذریعے نکاح تحلیل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

    ‏اسلام نے انسان ہونے کے ناتے سے مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ لہٰذا جو ﷲ تعالیٰ ﷻاور رسول اکرمﷺ نے خواتین کو حقوق دیے ہیں ان کے حقوق کی پاس داری کرنا ہمارا اولین مذہبی فریضہ ہے۔ حقوق نسواں کے حوالے سے خطبہ حجّۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’خبردار تمہاری عورتوں کے ذمے تمہارا حق اور تمہارے ذمے تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں۔ عورتوں کے حق یہ ہیں کہ انہیں اچھا لباس پہناؤ اور اچھا طعام کھلاؤ۔
    ‏ایسی ہزاروں احادیث ہیں جن میں عورتوں کے حقوق متعین کر دیٸے گٸے ہیں اسلام تمام ادیان سے بہتر دین ہے
    ‏جہاں دین اسلام نے حقوقِ نسواں کے لیے روزِ ازل سے آواز بلند کی وہاں دنیا میں ایسے خدا ترس لوگ بھی موجود ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم ہیں ان میں ایک شخصیت کا زکر میں کرتی جاٶں گی
    ‏یوجین ہنگ
    ‏ایسی شخصیت ہیں جن کو حقوقِ نسواں کا حامی ہونے
    ‏ پر بہت فخر ہے۔
    ‏وہ کیلیفورنیا میں ریاضی کے ٹیچر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چودہ برس پہلے جب اُن کی بیٹی پیدا ہوئی تو اُس وقت وہ یہ سوچ کر ذہنی کشمکش میں پڑ گئے کہ یہ دنیا لڑکیوں کے لیے کیسے ہو گی؟

    ‏اُس وقت اُن کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یونیورسٹی میں اُن کے ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں پر کیا گزرتی ہوگی جو تنہا لائبریری سے گھر واپس جاتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔

    ‏ہنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اُنھیں اپنے عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ جینا پڑتا تھا مگر مجھے ایسے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ مجھے اُس وقت اس بات کا احساس ہوا کہ مجھے معاشرے میں کتنا امتیاز حاصل ہے اور میں اس سے بالکل بے خبر تھا۔’
    ‏’ایک مرد کی حیثیت سے میں ان سب باتوں کو اپنے لیے معمول کی باتیں سمجھتا تھا۔’
    ‏اُن کے اندر احساس کی بیداری نے اُنھیں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ایک سرگرم کارکن بنا دیا۔ اُنھوں نے ‘فیمینسٹ ایشیئن ڈیڈ’ کے نام سے ایک بلاگ شروع کیا جس کا مقصد عورتوں کو معاشرے میں با اختیار بنانے کے بارے میں آواز اُٹھانا تھا۔

    ‏ہنگ اپنے بلاگ میں مختلف چیزوں پر بات کرتے ہیں جن میں ڈِزنی کی انیمیٹڈ فلم ’مُلان‘ جس میں ایک طاقتور عورت مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور کملا ہیرِس امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر کے انتخاب جیسے موضوعات شامل ہیں۔
    ‏المختصر کہ اسلام نے جو حقوق عورتوں کے لیے واضع کیے ہیں انکو تسلیم کیا جاٸے اور عورت کو وراثت میں اسکا حق دیا جاۓ
    ‏البتہ یہ بات اپنی جگہ بہ درجہ اتم حقیقت پر مبنی ہے کہ عورتوں کو اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ دینی و جدید تعلیم سے مزین ہونا ہوگا جو موجودہ صدی کا اہم تقاضا ہے
    ‏اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اسلام کے اصولوں پے عمل پیرا ہونے کی توفیق دے
    ‏آمین یا رب العلمین

  • میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    جب ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے اس وقت اس بچی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ فکر بھی جنم لیتی ہے بچی کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ بھی پڑھتی جاتی ہے، کے کیسے بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے لیکن کیا کبھی کسی ماں باپ نے یہ سوچا ہے کے ہماری بیٹی کی بھی کچھ خواہشات ہونگی اسکے سپنے ہونگے جو روزانہ اس نے جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہونگے اچھی تعلیم روشن محفوظ مستقبل کھلا آسمان، مہکتی صبح کے ساتھ پھولوں کی طرح کھلنا، گڑیا سے کھیلنا، بہن بھائیوں سے ناز اٹھوانا، والد سے فرمائشیں پوری کروانا، ماں کے آنچل میں بادلوں کی آواز سے چھپ کر سوجانا، سہیلیوں سے گھنٹوں باتیں کرنا، من پسند کتابوں کو تکیے کے نیچے چھپا کر سونا، یہ سب ایک نارمل لڑکی کے سپنے ہی تو ہیں جو وہ جینا چاہتی ہے بارہ سال کی ہوئی گھر کے کام کاج سیکھو 14 کی ہوئی تو طریقے سے ڈوپٹہ لو گھر سے اکیلے باہر جانا بند کھیلنا بند دوستی گڑیا کھلونے سب سے ناطہ توڑ کر والدین لڑکی کو اسکے گھر کا کرنے میں لگ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ معصوم جس نے گھر کی چار دیواری کے باہر کی دنیا صرف کتابوں کہانیوں میں دیکھی وہ اچانک اتنی بڑی سمجھدار کیسے ہوگئی کے اسکو دوسرے گھر بھیجنے کی تیاری ہونے لگے وہ ہاتھوں میں مہندی لگائے خوب چمک دمک کا ڈوپٹہ اوڑھے خاندان والوں کے درمیاں بیٹھی اپنی ہتھیلیوں کو غور سے دیکھتی رہی کے آخر ابھی کچھ وقت ہی تو گزرا جب اس نے اپنی گڑیا رانو کی شادی اپنی دوست کے گڈے سے کی تھی اور آج اچانک اتنی جلدی وہ خود کسی کی دلہن بنی بیٹھی ہے اس کے سارے خوب ریت کی طرف بہہ گئے وہ رونا چاہتی تھی چیخنا چاہتی تھی پر اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی ماں کمزور سا چہرہ لیے بیٹھی تھی ماں باخوبی واقف تھی اپنی اولاد کی حالت سے پر وہ کیا کرتی یہ خاندانی روایت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ناجانے کب تک یونہی پھولوں جیسی نازک بچیاں اپنے خوابوں کو بکھرتا دیکھتی رہنگی کب وہ دن ہوگا جب وہ آزادی سے اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرینگی آزاد ہوا میں سانس لینگی؟؟
    کسی معصوم نے اپنی مرضی سے ایک قدم جو اٹھایا اس کا حساب اپنے خون سے دینا پڑتا ایسی نا جانے کتنی معصوم بچیاں ہونگی جو نا چاہتے ہوئے بھی ماں باپ کی مرضی پر قربان ہوجاتی ہیں پھر ساری زندگی اپنے سپنوں کو روند کر زندگی کی حقیقت کا سامنا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش کے سب والدین اپنی اولادوں کو پڑھانے پر توجہ دیں انکو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیں ناکہ انھیں مزید دلدل میں دھکیل دیں غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم ہے۔۔۔۔۔ جو بےحد ضروری ہے ہمارے لیے ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر محفوظ مستقبل کے لیے

    …….سوچ بدلیں وقت خود با خود بدل جاے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    ایک ایسا لفظ جو آج کی لڑکی کے لیے سب سے نقصان دہ ہتھیار بن چکا ہے وہ ہے مروت ،اس ایک لفظ کے چکر میں بہت سی لڑکیاں پہلے پہل تو اپنے آرام و سکون کو داؤ پر لگاتی ہیں، لیکن پھر رفتہ رفتہ بات یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ عزت تک کا سودا کرنا پڑ جاتا ہے۔۔۔۔

    زندگی میں بہت سے مقامات پر "نہیں ” کہنا بہت ضروری ہوتا ہے،بلخصوص ایک لڑکی کے لیے۔۔۔
    یاد رکھیے۔۔
    ہماری مروت کے حقدار صرف ہمارے محرم رشتے ہیں”اور بس۔۔
    انکے علاوہ اس دنیا کا کوئی غیر محرم اس لائق نہیں ہے کہ اسکی مروت میں آ کر، یہ سوچ کر کہ اسے کہیں برا نہ لگ جائے۔۔۔
    ہم اسکی کسی الٹی سیدھی بات پر منہ نہ توڑ سکیں۔۔۔

    زمانہ اتنا شاطر ہو چکا ہے کہ گھر بیٹھی عزت دار معصوم لڑکیوں کو ورغلانے کے ہزاروں نسخے لیے پھرتا ہے۔۔۔

    ہم یہی سوچتی رہ جاتی ہیں میرے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔۔
    یا میرے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا اور ہماری اسی بیوقوفی میں ہمارے ساتھ سب ہو جاتا ہے ۔۔تباہی کے دھانے پر کھڑی لڑکیاں اسی معاشرے میں ہوتی ہیں۔ہم جیسی ہی ہوتی ہیں۔اور سب سے اہم "آسمان سے نہیں اترتی، ہم میں سے ہی ہوتی ہیں۔”

    جاگ جائیے۔۔۔
    بھائی کہہ دینے سے کوئی آپکا بھائی بن نہیں جاتا۔۔۔
    آپکا بھائی صرف وہی مرد ہے جسے اللّٰہ نے تخلیق کر کے بھیجا ہے۔۔۔
    باقی خود کو بہلانے کے طریقے ہیں تو شوق سے بہلیے۔۔۔ لیکن پھر اس دن کا انتظار کیجئے جب آپکے ہاتھ میں پھسلتی ریت کی طرح کچھ نہیں بچے گا۔

    اب بہت سے زہنوں میں
    ایک سوال آتا ہے کہ آخر "نہیں ” کہنا کب ہے۔۔۔۔

    تو سنیے
    ایک سادہ سا فارمولا ہے اسکا ۔۔۔

    جب آپ کو لگے کہ کوئی انسان آپکے کمفرٹ زون میں داخل ہو رہا ہے۔۔اسکے آپ کی زندگی میں ہونے کی وجہ سے آپ کچھ ایسے کام کرنے جا رہی ہیں جو زندگی میں آج تک نہیں کیے، جو آپکی حد سے باہر تھے۔یا کچھ ایسا جسے آپ فخر سے سب کے سامنے بیان نہیں کر سکتی۔۔
    تو خدارا کسی کو وہ حدود کراس کرنے کی اجازت نہیں دیجیے ۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جب ایک عزت دار لڑکی نے مقابل کو شٹ اپ کال دینی ہوتی ہے۔۔۔
    یا سادہ الفاظ میں کہوں تو "نہیں ” کہنا ہوتا ہے۔۔۔

    اور یہ "نہیں ” کسی کو بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔
    "کسی کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
    اپنے جاننے والوں کو ۔۔۔
    ملنے ملانے والوں کو ۔۔۔
    کزنز کو ۔۔۔
    کولیگز کو ۔۔۔
    سوشل میڈیا پر قدم قدم پر ملتے بھائیوں کو
    زندگی میں کہیں پر بھی
    اپنے اندر کسی کی غلط بات پر اسکا منہ توڑنے کی ہمت پیدا کریں ۔یوں ہاتھ جھٹکیں کہ مقابل کو ایسا کرنٹ لگے اور اسکا ہاتھ ایسا مفلوج ہو کر رہ جائے کہ دوبارہ کبھی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکے۔۔
    ہماری مقدس کتاب میں ربِ کعبہ نے فرما دیا کہ؛

    "يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَدٖ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّۚ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا”

    "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللّٰہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اور تم اچھی بات کہو۔۔۔”

    (سورہ احزاب۔ آیت 32)

    اس آیت میں پہلے تو امہات المؤمنین کی برتری بیان کی گئی۔۔۔ لیکن ساتھ جو ہدایت دی گئی علماء کے مطابق اس کا اطلاق تمام مومن عورتوں پر ہوتا ہے۔۔۔
    یہ قاعدہ ربِ کریم نے سب خواتین کے لیے مختص کیا ہے۔۔۔
    یعنی ہمارے خدا نے تو حد بندی کر دی کہ غیر سے بات کرنے کے لیے لہجہ سخت کر لو۔۔
    لیکن پھر ہم نے کیا کیا؟
    ہم نے تو اپنا الگ ہی معیار مقرر کر لیا۔

    اونچے عہدے والے سے ہنس کر بات کرنی ہے اور رکشے والے سے سختی سے بات کرنی ہے۔۔۔

    سوشل میڈیا پر ایڈمنز سے مسکرا کر بات کرنی ہے اور ممبران کی بار حدود یاد آ گئی۔۔۔

    سمجھدار لگ رہا ہے تو اچھا امپریشن دینا ہے، ایویں سا ہے تو بھاڑ میں جائے۔۔۔

    بڑی عمر کے انکل جی کا تو دل نہیں دکھا سکتے ناں ہم۔۔۔
    ان سے تو ویسے ہی پیار سے بات کرنی ہو گی۔۔۔
    وہ الگ بات ہے کہ آجکل اکثر انکل جی ہی "پیا جی” بن بیٹھتے ہیں۔۔۔
    مرد کو تو خود کو اچھا اور ڈیسنٹ شو کروانا ہی ہے۔۔ اور ہم ٹھہری بھولی بھالی مخلوق۔۔۔
    ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اکثر لڑکیاں بھائی کا لفظ احتراماً نہیں، احتیاطً ہی استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔۔

    لیکن بھئی ضرورت کیا ہے اس سب کی۔۔
    اس مروت کے ڈھونگ کی۔۔
    جن محرم رشتوں میں مروت اور لچک دکھانی ہے وہاں آجکی لڑکی کو اپنے دو نمبر حقوق کی بناء پر زبان چلانی ہے،اور جہاں سختی دکھانی ہے وہاں اتنی لاچاری۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
    آپ یہ کیسے بھول سکتی ہیں کہ کردار کا آئینہ ایک بار ٹوٹ گیا تو لاکھ ایلفیاں لگانے پر بھی یہ کبھی نہیں جڑ پائے گا۔۔۔۔
    "اس ایک لفظ "مروت” کے چکر میں آپ اتنی کمزور نہیں بن سکتی کہ کوئی آپ سے کھیل جائے اور آپ بھیگی بلی کی طرح کھی کھی کرتی رہ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔”

    تلخ الفاظ کے لیے پیشگی معذرت۔۔۔۔
    لیکن اس میں بڑا سبق ہے۔۔۔
    اگر سمجھیں تو
    یا

    "اگر سمجھنا چاہیں تو۔۔۔۔
    @_Ujala_R

  • غیرت اور عورت   تحریر:   ازان حمزہ ارشد

    غیرت اور عورت تحریر: ازان حمزہ ارشد

    عورت اور غیرت کا صدیوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی ہوئی عورت ہی داغدار ہوئی۔

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جو کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت و وقار دینے کا دعویٰ کرتا ہے یہی عورت گھر میں ہو تو اسے عزت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی دفتر یا کارخانے میں محنت مزدوری کر رہی ہو تو اسے بدکار سمجھا جاتا ہے۔ اپنے گھر کی عورت پر کوئی نظر ڈالے تو نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے اور اگر وہی نظریں خود کسی دوسرےگھر کی عورت پر ڈالی جائے تو اسے مردانگی کی اعلیٰ صفت قرار دے دیا جاتا ہے۔

    اپنی بہن کسی کے ساتھ بھاگ جائے تو عزت مٹی میں مل جاتی ہے اور اگر خود کسی کی بہن بھگا لاؤ تو اسے محبت اور جوانی کے جوش کا نام دے دیا جاتا ہے۔

    قریب ایک سال پہلے کی بات ہے میری ایک قریبی رشتہ دار 23 سالہ نوجوان 3 بچوں کی ماں کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا قتل کی وجہ گھریلو مسائل تھے ہم سب غم سے نڈھال تھے تبھی میرے کان میں میت کے قریب بیٹھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دی جو کہ کہہ رہے تھے کہ ضرور اس لڑکی کا کہی اور چکر ہوگا اور غیرت کے نام پر اسکے شوہر نے اسے قتل کر دیا۔
    مجھے افسوس یہ ہوا کہ ایسی باتیں کرنے والی خود عورتیں ہی تھی۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں مرد نہیں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے۔
    عورت کو غیرت کا نام لے کر قتل کیا جاتا ہے اور پھر اسی عورت کو موٹروے پر روک کر زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسی عورت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا لباس درست نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب 5 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس میں اسکے لباس کا کیا قصور تھا؟ جب عورت کو سسرال والوں کے ناجائز مطالبات پورے نہ کرنے پر جلا دیا جاتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور تھا؟

    قصور عورت کا نہیں ہماری سوچ کا ہے قصور ہم میں موجود اس جانور کا ہے جو عورت کو محض لطف کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ قصور اس نظر کا ہے جو گندگی سے بھرپور ہے۔

    خدارا اپنے گھر اور دوسروں کے گھر کی عورت کو برابر سمجھ کر انھیں عزت دینا شروع کر دیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری مائیں بہنیں ہمارے مکہ فاتح کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عزتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

  • آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    یہ زندگی اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہے…
    سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخوقات ہونے کا شرف بخشا اللہ نے ہمیں جانور پرندے نہیں بنادیا اللہ کا ہم انسانوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے..
    اللہ تعالٰی کے پاس عبادت کیلیے فرشتوں کی کمی نہیں ہے لیکن اللہ نے انسان کو زمین پر اتارا حضرت آدم علیہ السلام سے یہ سلسلہ شروع کیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم پر ختم ہوا اللہ نے ہر نبی کو معجزہ الگ الگ معجزات عطا کیے تاکہ جو گمراہی میں لوگ ہیں وہ سیدھے راستے پر چل سکیں ہر نبی نے اسلام کا پیغام پہنچایا..

    اللہ پاک نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کو ہر انسان کیلیے رحمت بنایا جب نبی پاک اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی امت کو اپنی سیرت اور اسوۂ حسنہ چھوڑ کر جارہا ہو تم اسکو تھام لو…
    لیکن میں اب اصل بات کی طرف آتی ہو اللہ نے ہم انسانوں کی رہنمائی فرمائی اپنے انبیاء کے ذریعے تاکہ انسانوں کو مشکل نہ ہو…

    لیکن میں آتی ہو اب کے حالات کی طرف…
    ہم انسان آجکل اسطرح کے ہو چکے ہیں کہ ذرا سی مشکل آئے تو اللہ کو بھول جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے دنیا جہان کی ہر مشکل ہمارے سر پر ڈال دی ہے ہم آزمائش کو سزا بنا لیتے ہیں اللہ پاک نے اپنے ہر پیارے نبی پر آزمائش دی
    حضرت موسٰی کو فرعون کے پاس بھیج دیا حضرت یوسف کو کنویں میں تین دن رکھا اور ظالموں پاس بھجوادیا لیکن ان سب انبیاء نے افف تک نہ کیا

    لیکن ہم.سب مسلمان جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا دعوٰی کرتے تو ذرا سی مشکل پر واویلا کرتے ہیں

    ہم انسانوں میں صبر ختم ہو چکا ہے آزمائش شرط ہے یہ تو اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے:
    اللہ پاک اپنے ہر بندے کو آزماتا ہے کبھی لے کر آزماتا ہے تو کبھی دے کر آزماتا ہے
    اللہ نے ہر انسان کو جہاں مشکل دی ہے وہی آسانی بھی دی ہے

    فرمایا گیا ہے:
    ان مع الاسر یسرا
    فان مع الاسر یسرا

    ہر مشکل کے بعد آسانی ہے
    ہر غم کے بعد راحت ہے

    پس تم صبر کرو جتنا کرسکتے ہو اللہ اپنے بندے کو زیادہ مشکل میں نہیں ڈالتا
    ہم سب کو نبی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر.مشکل میں صبر کرنا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے

    اللہ پاک قرآن میں فرماتا تم مشکل میں صبر کرو اور مجھے یاد کرو کثرت سے
    تمہاری ہر مشکل آسان ہو.جائے گی

    تو میری اپنے تمام دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں ان سب سے گزارش ہے کہ مشکل وقت میں صبر کریں اللہ کا ذکر کریں اللہ اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سبکو سیدھے راستے پر چلائے اور صبر کرنے کی تلقین عطافرمائے

    آمین ثمہ آمین

    @InvisibleFari_

  • جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب  تحریر: بشارت حسین

    جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب تحریر: بشارت حسین

    معاشرے میں جنسی زیادتی کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا۔ دور حاضر میں جنسی زیادتی کا شکار نہ صرف خواتین ہیں بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی ہونے لگیں ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ اب تو جانور بھی اس سے محفوظ نہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔
    جنسی زیادتی کہ شرح میں خطرناک حد تک کا اضافہ معاشرے میں خوف اور عدم استحکام کا سبب بن چکا ہے۔
    والدین اپنے بچوں کو گھر سے نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو گا اللہ خیر کرے۔
    لیکن ہمارے معاشرے کے وہ ناسور اور درندے کھلے عام پھرتے ہیں اپنا شکار تلاش کرتے ہیں اگر پکڑے بھی جائیں تو اکثر والدین بدنامی کے ڈر سے تھانوں کچہریوں میں جاتے ہیں نہی اگر چلے بھی جائیں تو کچھ عرصہ بعد وہ درندے پھر سے جیلوں سے بری ہو کر آ جاتے ہیں۔
    یوں یہ رحجان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
    اسباب
    معاشرے میں اس بیماری اور ناسور کے پھیلنے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں
    جن میں سب سے پہلا انٹرنیٹ کا کردار ہے۔
    انٹرنیٹ جہاں بہت حد تک زندگی میں اسائیش لایا وہیں پورن ویب سائٹ نے ہمارے معاشرے کے خوبصورت ماحول کو تہس نہس کر دیا۔
    ایسی ویب سائیٹ پہ صرف زنا اور ہر طرح کے گندے کام دکھائے جاتے ہیں جس سے ہمارے بچے وقت سے پہلے جوان ہو جاتے ہیں اور ان میں یہ جنسی خواہشات کا رحجان بڑھ جاتا ہے اس طرح تقریبا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک اس خطرناک مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے نمبر پہ شادی کے مسائل
    ہمارے معاشرے میں شادی کو عموما اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ اب نکاح مہنگا اور سنا سستا ہو گیا ہے۔
    جوان بچوں کی شادیوں میں اتنی دیر کر دی جاتی ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی غلط رستوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    دین سے دوری
    اکثر ہمارے بچے اور بچیوں کو دیں سے شناسائی ہی نہیں ہوتی انکی نظر میں یہ کام کوئی زیادہ غلط نہیں ہوتا اس کو وہ تنگ نظری کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    سدباب
    معاشرے میں اس ناسور کو روکنے کیلئے سخت قوانین کی اشد ضرورت تو ہے ہی ساتھ والدین کی چند اہم ذمہ داریاں بہت نمایاں ہیں۔
    چھوٹے بچوں کو والدین ہر وقت اپنی نظر میں رکھیں انکے ساتھ اپنے تعلقات دوستانہ رکھیں۔
    بچے کے ساتھ ملنے والے ہر شخص کے کردار کو دیکھیں اور اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دور رکھیں۔
    بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں اور بند کمروں میں انٹرنیٹ سے بچائیں۔
    بچے کو کسی کے ساتھ زبردستی کہیں بھی نہ بھیجیں اور نہ بچہ کوئی بات کر رہا ہو اور اس کو روکیں ہو سکتا ہے وہ اپنی پریشانی بتا رہا ہو اور آپ اس کو نظر انداز کریں اور وہی اس کیلئے خطرناک ہو۔
    بچوں کو اکیلا دکان وغیرہ پہ مت بھیجیں بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن اس پہ نظر رکھیں یہ آپ کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
    میاں بیوی بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کریں۔
    بچوں اور بچیوں کو الگ الگ سلائیں۔
    کزن وغیرہ پہ بھی اعتماد نہ کریں بچوں کے معاملے میں کسی پہ کوئی اعتماد نہ کریں۔
    بچے جوان ہوں تو کسی نیک گھرانے میں بغیر لالچ کے شادی کریں۔
    بچوں کی عمر ضائع نہ کریں اور نہ ایسا موقع دیں کہ وہ آپکی رسوائی کا سبب بنیں۔
    مذہبی تعلیم سے آراستہ کریں اور برے کاموں پہ اللہ کی پکڑ کے بارے میں بتائیں۔
    معاشرے کا پر شخص ایسے لوگوں پہ نظر رکھے اور انکو پولیس کے حوالہ کرے۔
    اپنے محلے کے بچوں اور بچیوں کی غلط حرکات سے انکے والدین کو آگاہ کریں۔
    ہم سب ایک ہوں گے تو ہمارا معاشرہ صاف ستھرا ہو گا ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو کسی کو ہمارے ماحول کو معاشرے کو گندہ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • عورتوں میں عدم برداشت   تحریر:فراز حیدر چشتی

    عورتوں میں عدم برداشت تحریر:فراز حیدر چشتی

    آج کل زیادہ تر حضرات صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کے دور حاضر کے حساب سے ہمیں مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا اور ہر فورم پے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے پر اس کے برعکس سیاست دان تو دور دنیا کے بیشتر صحافی کالم نگار ادیب خواتین کے خلاف لکھنے سے قبل ہزار بار سوچتے ہے
    دور جاہلیت کے وقتوں کی بات ہے جب مرد حضرات عورتوں پر تشدد کرتے تھے عورتوں کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے محض بیٹیاں پیدا کرنے پہ ہی طلاق دے دیتے تھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے حقوق پورے نہیں کرتے تھے لیکن آج کا زمانہ تبدیل ہو چکا ہے آج کل مرد حضرات پے عورتیں مظالم کرتی ہے ذہنی و جسمانی طور پر شدید ٹارچر کیا جاتا ہے مردوں کے ذرائع آمدن سے زیادہ اور مہنگے مہنگے برانڈز کی فرمائشیں کرتی ہیں عورتوں میں احساس تقریباً ختم ہو چکا ہے جس کے چلتے نوبت طلاق تک چلی جاتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایک رپورٹ سے لگائیں کے صرف کراچی میں 2019 کی رپورٹ کے مطابق 11 ہزار 143 کیسز دائر کروائے گئے ہیں طلاق کے لیے یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ تو صرف کراچی کی رپورٹ ہے پاکستان کے باقی تمام شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے آج کل طلاق کی زیادہ تر منگ عورتوں کی طرف سے رکھی جاتی ہے عدالتوں میں بیشتر لڑکیاں طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے سارا دن موبائل پے لگی رہتی ہے اپنے خاوند کے حقوق کا ذرا خیال نہیں رکھتی آئے روز ان کا جھگڑا ہوتا رہتا تھا موبائل کی وجہ سے تو تنگ آ کر اس کے خاوند نے کہا کہ يا یہ موبائل رکھ لو یا مجھے رکھ لو اس کی بیوی نے جواب دیا کے میں طلاق لے سکتی ہوں لیکن موبائل کو نہیں چھوڑ سکتی یہ ہے آج کی بیشتر لڑکیوں کا حال میری اپنی ماؤں بہنوں سے التماس ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اندر عدم برداشت لانا ہوگا اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کو روکنا ہوگا گا اور مرد حضرات سے التماس ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم االلہ وجہہ الکریم کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے نبی پاک ہیں معاشرہ روز بروز اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے مردوں اور عورتوں کو اپنی بے جا خواہشات کو علیحدہ رکھتے ہوئے دین اسلام کی بہترین تعلیمات کو اپنانا ہوگا اسی میں کامیابی ہے