Baaghi TV

Category: خواتین

  • بیٹی کے گھر کے آداب تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بیٹی اللہ کی دی ہوئی ایسی رحمت ہے جس کی چہچہاہٹ سے گھر کے آنگن میں رونق رہتی ہے. خود سے پیار لیتی اور بھرپور لاڈلی اور محبتوں کے حصار میں رہتی ہے. ایک باپ کے ساتھ اپنی بیٹی کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے انمول ہوتی ہے. لہجہ بھلے سخت ہی لیکن بیٹی کے لیے دل ہمیشہ موم کی طرح نم ہوتا ہے. بیٹی کے بچپن کے لاڈ، پھر تعلیم و تربیت بھر بلوغت کے ساتھ ساتھ اس کی شادی کی فکر باپ کی تگ و دو میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے.
    الغرض ایک باپ اپنی ہمت اور جوانی بیچ کر اپنی زاتی خواہشات کو ختم کر کے اپنے بچوں کا مستقبل خریدتا ہے. لیکن اس سب کے باوجود کائنات کی ہر چیز بھی بیچ ڈالے بیٹی کا نصیب اپنی مرضی کا نہیں خرید سکتا. بیٹی شادی کے ساتھ ہی باپ کی محبتیں اپنے دامن میں لئے اپنے شوہر کے گھر روانہ ہو جاتی ہے. ماں تو آہ و بقا کر لیتی ہے. باپ چپکے چپکے محبت کے آنسو اپنے دامن سے پونچتا ماں کو حوصلہ دیتا دکھائی دیتا ہے. دنیا اس باپ کا مضبوط اور حوصلہ مند کندھا تو دیکھتا ہے اس کے اندر بہتا جدائی کا سمندر کوئی نہیں دیکھ پاتا. اس کے آنگن کی چہچہاہٹ اس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کسی اور کے آنگن میں مسکراہٹ بکھیرنے چل پڑتی ہے. یہ دنیا کا دستور اور قانون قدرت ہے. اپنے چگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرن؛ اور کسی کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے گھر کی عزت بنانا ازل سے چلا آ ریا قانون قدرت ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے.
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی فرمائی وہاں ہر رشتے کے آداب بھی سکھاے. بیٹی کے گھر کے آداب بھی سکھاے. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی جنہیں جنتی عورتوں کی سردار کا درجہ دیا گیا کیسے ان کے ساتھ پیش آتے اس حوالے سے دو واقعات اپنی تحریر کا حصہ بنانا چاہتا ہوں تاکہ ہماری رہنمائی ہو سکے.
    صحیح بخاری میں روایت موجود ہے جس کا مفہوم ہے. ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمانے لگیں بابا جان (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہاتھ میں چکی چلا چلا کر چھالے پڑ گئے ہیں ابھی مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں اور غلام آئے ہیں ان میں سے ایک مجھے دے دیں. آپ (رضی اللہ عنہا) نے جب ہاتھ بڑھایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں چھالے دیکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خاموشی سے دامن میں آنسو سمیٹے اور بیٹی کو تسبیح فاطمہ کا تحفہ دیا اور ساری دنیا کو پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملات میں صبر سے کام لیا جاتا ہے. اور سمجھا دیا کہ بیٹا چکی پھر بھی تم نے پیسنی بچے پھر بھی تم نے ہی پالنے اور شوہر کی خدمت الغرض گھر کے سارے معاملات تم نے ہی دیکھنے ہیں.
    *یہ تو ہے تربیت اہلیبیت بزبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم*
    کہ بیٹی کے گھر کے معاملات میں کوئی کسی قسم کی بھی دخل اندازی نہیں کی. چاہتے تو ایک لونڈی یا غلام دءلے سکتے تھے لیکن ساری دنیا کو ایک پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملے میں صبر اور برداشست سے کام لیا جائے اور اسے اپنے گھر کو خود سمبھالنے کا موقع دیا جاے اور حالات سے خود نمٹنے کا موقع دیا جاے.
    ایک جانب تو ہی پیغام تو دوسری جانب گھر کے آداب دیکھیں.

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ فاصلے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر مبارک ہے جس کے کچھ فاصلے پر ایک مسجد منارتین واقع ہے. جو لوگ عمرہ اور حج کے لیے سفر کرتے ہیں اس جگہ سے تقریباً آگاہ ہیں. ہے ترک میوزیم (جو کسی دور میں ترک سٹیشن ہوا کرتا تھا) سے تھوڑا فاصلے پر اسی سڑک کے کنارے واقع ہے. حضور کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ملنے جاتے تو پہلے مسجد میں قیام کرتے اور گھر پیغام بھجواتے جب گھر سے واپس قاصد لوٹتا اجازت مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے. تو اس سے دو باتیں واضح ہوئیں.
    *1. بیٹی کے گھر کے راز کسے بھی صورت آپ پر عیاں نا ہو سکیں اسی لیے جب بھی جاؤ اجازت لے کر جاؤ. تاکہ وہ اپنے معاملات کو حل کر سکیں اور بیٹی کا شوہر کا مقام کسی صورت مجروح نہ ہو سکے.*
    *2. بالفرض کسی وجہ سے گھر میں آپسی ناراضگی والا معاملہ بھی ہو تو اس کو دور کرنے کا موقع مل سکے کیونکہ آپسی ناراضگی آپسی سمجھوتے سے ہی حل ہوتی ہے بیرونی مداخلت سے معاملات بگڑ جاتے ہیں*
    کتنی خوبصورتی سے دین نے ہر معاملے کے آداب بتا رکھے ہیں ان دو واقعات سے ہمیں کھلی آگہی ملتی ہے بیٹی کے گھر سے متعلق معاملات میں رہنمائی ملتی ہے.
    اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین

    @EngrMuddsairH

  • حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب دین اسلام کے احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔
    حجاب حکمِ ربی ہے،
    حجاب قرآن کی آیت ہے،
    حجاب پردہ ہے،
    حجاب آڑ ہے،
    حجاب ڈھال ہے،
    حجاب زندگی ہے،
    حجاب بندگی ہے،
    حجاب عورت کا حق ہے،
    حجاب آزادی ہے بےحیائی سے،
    حجاب رکاوٹ ہے ان نظروں سے جو آپ کو بری نیت سے دیکھتی ہیں۔
    حجاب آپکے لئے جنت کا ٹکٹ بن سکتا ہے۔ حجاب آپکا محافظ ہے۔
    حجاب آپکو بے شمار برائیوں سے بچاتا ہے۔ کچھ نام نہاد روشن خیال مغرب کی تقلید کرنے والے حجاب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے عورت حجاب میں زیادہ پر اعتماد طریقے سے معاشی و معاشرتی خدمات انجام دے سکتی ہے۔
    الله تعالی نے کچھ چیزیں انمول بنائی ہیں جیسے غلاف میں چھپا کعبہ،
    غلاف میں قرآن،
    بند سیپ میں چھپے ہوئے موتی،
    کوئلے کی کان میں چھپے ہیرے،
    گہرے پانی میں چھپے گوہر،
    اسی طرح حجاب میں لپٹی ہوئی لڑکی۔
    الله تعالی نے تمام پھلوں اور سبزی پر ایک چھلکا محافظ مقرر کیا ہے جو جراثیم سے انکی حفاظت کرتا ہے جو انکا حجاب ہوتا ہے۔انار کو دیکھیں اسکے دانوں پہ ایک لئیر سی ہوتی ہے لئیر حجاب ہی تو ہےاور پھر اس لئیر پہ چھلکا۔ اگر آپ حفظانِ صحت کے اصولوں سے واقف ہوں اور آپکو بغیر چھلکے کے پھل ملیں تو کیا آپ انہیں استعمال کرینگے؟ انہیں کوئی استعمال نہیں کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بغیر چھلکے کے تو گودے پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے آپ غور کریں بدن کے زیادہ قیمتی اعضاء زیادہ بڑے حجاب میں ہیں جیسے آپ کا دل پسلیوں کے اندر ہے، ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر پھر اوپر جلد کا پردہ ہے اسی طرح آپکا دماغ جھلی، کھوپڑی، جلد اور پھر بالوں کے اندر چھپا ہے اسی طرح خشک میوہ جات دیکھیں سب چھلکے میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح آپ قیمتی ہیں انمول ہیں منفرد ہیں اور حجاب آپ کا محافظ ہے۔
    جب آپ حجاب اوڑھیں تو یہ سوچ کر اوڑھیں کہ آپ نے اپنے رب کا حکم اوڑھ لیا ہے۔
    الله رب العزت نے قرآن میں فرمایا !
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
    سورہ الاحزاب: آیت نمبر:59

    جب پردےکا حکم صحابیات کے لئے آیا انہوں نے بغیر کسی بہانے کے اطاعت کی۔ تو آپکے لئے انکی زندگی مشعلِ راہ ہے اگر حجاب اوڑھنا آپکو الجھن، گھٹن، اور آگ میں ہونا لگتا ہے تو الله کی رضا کی خاطر یہ گھٹن، الجھن اور آگ اوڑھ لیں دوزخ کی آگ میں بھی تو گرمی ہو گی نہ۔اور جسطرح حضرت ابراہیم علیہ السلام الله کی رضا کی خاطر آگ میں کود پڑے تھے اور وہ آگ ٹھنڈی ہو کر انکے لئے لباسِ گل بن گئی اسی طرح حجاب بھی آپکے لئے لباسِ گل بن جائے گا۔
    حجاب ایک عورت کو خوبصورت بنا دیتا ہےاس سے بھی خوبصورت جو آنکھیں دیکھتی ہیں حجاب ایک مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھے نہ کہ کسی چیز کی حثیت سے، عورت حجاب میں نایاب پھولوں کا گلدستہ لگتی ہے۔ حجاب واجب ہو یا مستحب۔ لیکن نیکی تو ہے نہ۔ اور قیامت کے دن جب انسان ایک ایک نیکی کو ترسے گا پچھتائے گا تو کل کے پچھتانے سے بہتر ہے آج حکمِ ربی مان لیں۔ تو حجاب اوڑھ لیں۔
    Nusrat Perveen
    @Nusrat_186

  • اسلام میں عورت کا مقام   تحریر : تقویٰ نور

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر : تقویٰ نور

    اسلام سے قبل عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا. عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور قابل نفرت سمجھا جاتا تھا. بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا. عورت ہر طرح کے ظلم و بربریت کا شکار تھی.
    طلوعِ اسلام کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام اور حق حاصل ہوا. اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا جو عورت کی عزت اور وقار کے خلاف تھیں. عورت نے معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا جس کی وہ حقدار تھی اسے تمام معاشرتی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے. اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عزت بخشی. جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا.حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں کو قرار دیا.

    قرآن پاک میں مرد و عورت کے لیے ایک جیسے احکامات بیان کیے گئے ہیں.اگر عورت کوئی نیک کام کرے تو اس کی جزا اور گناہ پر سزا ہے اور یہی احکامات مرد کے لیے بھی ہیں.

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو، ہم اس کو ضرور بالضرور پاکیزہ و طیب زندگی عطا فرمائیں گے‘‘۔

    زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا. اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا.
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا”۔

    اسلام سے قبل عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا. اسلام نے عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا.

    ارشاد ربانی ہے :

    لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

    ’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہےo‘‘

    اسلام نے مرد کو عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بنایا ہے. شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے کو عورت کا نگران مقرر کیا.اس طرح عورت کو روٹی، کپڑا اور مکان کی پریشانی سے آزاد کیا. عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرے…

    غرضیکہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی

     

    @TaqwaNoorPTI

  • اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض  تحریر: محمد اختر

    اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، اسلام قبول کرنے والی پہلی عورت حضرت خدیجہ (رض) تھیں، اسلام کی سب سے بڑی عالمِ دین ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیار کیا وہ بھی ایک عورت ہی تھیں جن کا نام حضرت فاطمہ (رض)تھا، آج کے اِس دور میں اسلام کو غلط معنی میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ در حیقت اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اور عزت عورت کو دی گئی ہے بشرط یہ کہ ہم اسلامی تاریخ کا اُس کی اصل روح سے مطالعہ کریں۔دورِ حاضر میں غلط فہمیوں کے باوجود، اسلام میں خواتین کا درجہ محبوب کے برابر کا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ایک گہری جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی شراکت کوسراہا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت اور ان کے حقوق کے لئے مہم چلائے۔اسلام میں خواتین کے ارد گرد بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے جنم لیتے ہیں، جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی نفی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بھی براہ راست مخالفت کرتے ہیں۔ نادان اور پردہ دار مسلمان عورت کی دقیانوسی باتوں سے دور، شیخ ابن باز نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اس عورت کی عزت، حفاظت کرنے، انسانیت کے بھیڑیوں سے اس کی حفاظت کرنے، اس کے حقوق کو محفوظ بنانے اور اس کی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے آیا ہے۔ ” تاریخ، ثقافت اور مذہب کے مابین تمام الجھنوں کے ساتھ، خود سے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید اور احادیث اسلام میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں در حقیقت ہمیں کیا سکھاتی ہیں؟

    اسلام ہمیں برابری کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے

    قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا کو ایک ہی روح سے پیدا کیا گیا تھا۔ دونوں برابر کے قصوروار، یکساں ذمہ دار اور یکساں طور پر قابل قد تھے۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک خالص حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور خواتین – اور ہمیں ایمان کے ساتھ ساتھ اچھے ارادے اور عمل کے ذریعہ اس پاکیزگی کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔مساوات کا مرکزی خیال دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعہ بھی چلتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک اہم آیت میں لکھا ہے، ”مرد مومن اور خواتین مومن ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اور خدا اور اس کے نبی کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ ایک اور قرآنی آیت میں خواتین اور مردوں کے مساوی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے، ”جو بھی مرد، عورت، نیک عمل اور ایمان رکھتے ہیں، ہم ان کو ایک اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں بدلہ دیں گے۔” (16:97)
    خواتین کے حقوق کا تحفظ
    610 ء عیسوی میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیکس ازم میں جڑے ہوئے تاریخی تناظر میں رہ رہے تھے۔ یورپ سے لے کر عربی دنیا تک، خواتین کو مردوں کے برابر سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام خود ہی جزیرالعرب، اب سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا، جہاں خواتین کے پاس کاروبار نہ تھے، نہ ہی ان کی ملکیت تھی اور نہ ہی ان کا مال وراثت میں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لئے تعلیم شاذ و نادر ہی تھی، اور خواتین بچوں کو اکثر ترک کردیا جاتا تھا یا انہیں زندہ دفن کیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تاجر زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان بہت سے ناجائز عمل کے خلاف کھڑی ہوئیں، مردوں سے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق،ہر انسان کی زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مرد اور خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کرے اس کا انتخاب کریں اور انہیں کبھی بھی زبردستی نہیں لینا چاہئے۔ اسلامی قوانین کے تحت، خواتین کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ جائیدادیں فروخت اور خریدیں، کاروبار چلائیں، شادی کے دوران کسی بھی وقت اس سے جہیز کا مطالبہ کریں، ووٹ دیں اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں سرگرم حصہ لیں۔ یہاں یہ قابل ِ ذکر ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک، جیسے پاکستان اور ترکی میں خواتین کی ورزائے اعظم کی حیثیت میں سربراہی رہ چُکی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک یکساں رسائی کو فروغ دیا، ہمیں یہ تعلیم دی کہ، ”علم کی جستجو ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] محبوب کی اپنی بیٹی، حضرت فاطمہ (رض)، اعلی تعلیم یافتہ اور قابل احترام تھیں۔ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تویہ ثابت ہوتاہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اپنی نشست ا نہیں دے دیتے۔

    بحیثیت مسلمان ہمارا فرض

    قارئین کرام، ماضی قریب میں عورتوں کیخالف تشویش ناک حد تک بڑھتے جرائم درحقیقت دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہو کر مغربی ثقافت کو پروان چڑھانے کا نتیجہ ہے، ہمیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور معاشرے میں چُھپے درندہ صفت بھیڑیوں کو عورت کے مقام، عزت و مرتبہ کا بتانا ہوگا۔کیونکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ماں،بہن،بیوی کے روپ میں ہمیں اچھی تربیت دے کر عورت کی عزت کرنا سکھاتی اور معاشرے کا ایک کارآمد شخص بناتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی میراث، بحیثیت مسلمان، سنت کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمیں ایک مہذب معاشرے اور قوم کو تشکیل دینے کے لئے اسلام کے احکامات اور قوانین کی روشنی میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔
    @MAkhter_۔

  • مشرقی لڑکی  اور ہمارا معاشرہ  تحریر: از عمرہ خان

    مشرقی لڑکی اور ہمارا معاشرہ تحریر: از عمرہ خان

    آج کل دیکھا جائے تو عورتیں ہر محاذ پر مردوں کے زمانہ بشانہ کھڑی ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے ۔۔۔ مگر دیکھا جائے تو ایک عورت جتنی ترقی کرلے وہ مرد سے ایک قدم پیچھے ہی رہے گی کیونکہ یہی قدرت کا قانون ہے ۔۔۔۔ بے شک ایک عورت پائلٹ ضرور بن سکتی ہے مگر 40 اور پچاس کلو وزن اٹھانا؟؟؟ یہ اسکے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے تو خود ایک آبگینہ کہا گیا ہے ۔۔۔۔ اور آبگینہ کیا ہوتا ہے؟ نازک آبگینہ یعنی کانچ کا ٹکڑا جو ذرا سی کھرونچ سے اپنی خوبصورت کھو دیتا ہے ۔۔۔۔گر جائے یا ٹکرا جائے تو پاش پاش ہوجاتاہے ۔۔۔۔ عورت تو وہ نازک آبگینہ ہے ۔۔۔۔۔
    اونٹ اپنی رفتار سے چلائے جارہے ہیں کہ اونٹ بان کو حکم ہوتا ہے
    رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ”
    (بخاری:6211)
    "انجشہ! دھیرے چلو، ورنہ آبگینے ٹوٹ جائیں گے _”
    یہ آبگینے کون تھے ؟؟ یہ وہ عورتیں تھیں جو ان اونٹوں پر سوار تھیں۔ اور یہ کہنے والی ہستی ؟؟ یہ وہ ہستی صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھی کے جسکے لئے کائنات کو وجود بخشا گیا ۔۔۔۔۔
    آج جب ایک عورت آزادی کیلئے آواز اٹھاتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے خلاف خلاف آواز اٹھاتی ہے
    اور صرف یہی نہیں پھر مردوں کے بیچ وہ رہتی ہے۔ہر قسم کی باتیں اس ماحول میں کرتی ہے تو بھی وہ اپنی نسوانیت کھو رہی ہوتی ہے
    پھر وہ لڑکی ان مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہے ہنسی مذاق اور بات چیت کرتی ہے ۔۔۔۔۔ایک لڑکی کے پاس تربیت کے علاؤہ کوئی مانع نہیں ہوتا کہ وہ یہ ہنسی مذاقفضول گوئی نہ کرے ۔۔۔۔ اب ان باتوں پر بہت سے لوگ آئینگے کہ جنھیں یہ باتیں کنجسٹڈ سوچ اور دقیانوسیت لگے گی ۔۔۔۔۔مگر ہم چودہ صدی پیچھے جائیں تو دیکھتے ہیں امت مسلمہ کی رول ماڈلز کو حکم ہوا ہے کہ
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو مبادا جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال وابستہ کر لے اور قاعدہ کے مطابق گفتگو کرو۔‘‘
    پھر وہ تو پاکیزہ لوگوں کا دور تھا آج جہاں فتنہ و فساد برپا ہے جہاں 2 اور تین سالہ بچی نہیں بخشی جاتی وہاں ایک لڑکی مردوں سے بے تکلف ہوتی ہے ہنسی مذاق اور فضول گوئی کرتی ہے اور آج تو دل کے روگ کا اور بھی شبہ ہے ۔۔۔۔۔ کیا اچھا نہ ہو کہ عورت اپنی حدود میں رہ کر معرکہ سر کرے ۔۔۔۔۔ کیا اس وقت عورتیں باہر نہیں نکلتی تھیں ؟ کیا اس دور میں عورت گھر کی قیدی تھی؟؟۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ عنھما وہ مدینے کے اطراف میں کھجور کی گھٹلیاں چننے جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔حضرت خولہ بنت ازور اس وقت اسلامی لشکر میں آگے آگے تھیں جب وہ لشکر انکے بھائی کو کفار سے چھڑانے کفار کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ امت ماں ۔۔۔ رضی اللّٰہ عنھا انسے بے شمار صحابہ نے بے شمار احادیث نقل فرمائیں۔ مگر ان سب عظیم عورتوں نے یہ سب اللّٰہ کی قائم کردہ حدودوں میں رہ کر کیا ۔۔۔۔۔۔
    صرف یہی نہیں دین اسلام کی پہلی شہید بھی ایک عورت تھیں حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنھا
    دین کی نشرو اشاعت سے لیکر روز مرہ کے کام کاج تک سبھی تو کرتی تھیں عورتیں چودہ سال پہلے بھی ۔۔۔۔۔اور پھر آزادی ؟؟؟ کیا ہمیں آزادی 1400 سال پہلے نہیں مل گئی؟؟ جب بچیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا ۔۔۔جب عورت دنیا کی حقیر ترین شئے تھی !!! اسلام آیا اور وہی عورت عظیم ترین ہوگئی ماں ہے تو قدموں تلے جنت بیٹی ہے تو رحمت ۔۔۔۔کیا یہ آزادی ملنا نہیں تھا؟ پھر یہ آزادی جو آج عورت چاہتی ہے کیا ہے؟ اب جو رہا ہے وہ مردوں کے برابر آ کھڑا ہونا ہے اور یہ تو قدرت ہی کہ قانون کے خلاف ہوجائے ۔۔۔۔ کیونکہ عورت تو اللّٰہ تعالٰی کی بڑی نفاست اور لچک سے بنی مخلوق پھر وہ کیسے ایک مرد کے برابر ہوسکتی ہے۔۔
    پھر دنیاوی کام کاج وہ تو آج سے چودہ سال پہلے بھی عورتوں نے نہیں چھوڑے تھے دین کے نام پر ۔۔۔۔۔بس آپ ایک بہن ایک بیٹی ایک ماں بن کر اللّٰہ کے حدود کی پاسداری کریںتو سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔ ترقی آج بھی عورت کر رہی ہے مگر یہ سوچ کہ ترقی کیلئے چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ ضروری ہے تو یہ سوچ غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس سوچ کو آج کل بڑی سوچ کہا جارہا ہے یہ اور کچھ نہیں صرف ذہن کا فتور ہے عورت پردے میں رہ کر بھی وہ سب کرسکتی ہے جو کچھ آ ج چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ کے نام پر گھٹیا سوچ بناکر کر رہی ہے۔۔۔۔کسی کو یہ باتیں چھوٹی سوچ کی عکاسی لگتی ہیں تو لگیں ۔۔۔عورت ایک آبگینہ ہے جو جتنا زیادہ چھپا کر اور حفاظت سے رکھا جائے اتنا ہی اپنی خوبصورتی برقرار رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے معاشرے اور دین اسلام کی ان حدود سے کسی عورت کو شکایت ہے تو وہ مغربی ممالک کی عورت کو دیکھے امید ہے کہ شکایت میں کمی واقع ہوگی یوں بھی نسل عورت سے بنتی ہے آج کل جب سب کچھ الٹ چل رہا نسل نو پستی کا شکار ہے تو اس میں بھی کہیں نہ کہیں عورت کا ہاتھ ہے کیونکہ اس نسل کو اپنی پہلی درس گاہ سے ہی اچھا سبق نہ مل سکا تو دنیا میں فتوحات کیسے ہوں
    مشہور سپہ سالار نیپولین بوناپارٹ کا ایک قول ہے کہ
    ” مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دونگا ”
    اس بات کو تو مغرب بھی تسلیم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب وہ اسلامی معاشرے میں عورت کے کردار کو بری طرح مسخ کرنے کے درپے ہے تو آج تو عورت کو اور زیادہ دامن بچا بچا کر اور ثابت قدمی سے رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔
    Twitter handle: @Amk_20k

  • مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    آپ نے جگہ جگہ دیکھا ہو گا اپنے آس پاس گلی محلے میں ہی ہے ۔بہت سی عورتوں ایسی ہوں گی ۔جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہوں گی جو اپنے باپ بھائ کی بھابیوں کی ڈانٹ ڈپٹ سنتی ہوں گی ان کے کام کرتی ہو گی ۔اس سب کے باوجود وہ خوش نہی ہوں گی ۔۔ان کو اپنے بھائیوں سے بھابھی سے والدین سے ہزار شکوے ہوں گے ۔وہ اپنے بچوں کو اچھی زندگی نہیں دے سکتی ۔بھائ کے بچوں سے مقابلہ یا لڑائ جھگڑے عجیب سی سوچ ہو جاتی ان عورتوں کی ۔۔اس سب کی ذمہ دار کون؟ والدین ۔۔والدین کو لڑکی کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ شادی کے بعد شوہر کی خدمت کرنی ہے ساس سسر کی خدمت کرنی ہے وہ مر لڑائ جھگڑا کرے مگر تم نے وہ ہی رہنا ہے ۔۔لیکن اگر والدین کو لڑکی کو اس قابل بنائیں ۔کہ کل اللہ نہ کرے لڑکی کو طلاق ہو جاتی ہے آگے شادی نہیں کر سکتے ۔یا لڑکی بیوہ ہو جاتی ہے ۔تو کم از کم اسے اس قابل بنائیں کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے اسے بھیک مانگ کر زندگی نہ گزارنی پڑے ۔آپ لڑکی کو نہیں پڑھا سکتے نہیں پڑھانا چاہتے مت پڑھائیں ۔آپ اسے سلائ سکھائیں ۔آج کے دور میں سلائ سب سے بہترین ہے وہ اپنی زندگی آسانی سے گزار سکتی ۔آپ اسے پڑھانا چاہتے اسے ضرور پڑھائیں ۔اسے کسی قابل بنائیں ۔شادی کا کیا ۔وہ تو ہو ہی جاتی لیکن کامیاب شادی یہ نصیب کی بات ہے ۔نصیب تو کوی بھی نہی دیکھ سکتا کہ آگے اس کے نصیب میں کیا ہے ۔اگر آپ اسے کسی قابل بنا دیں گے تو یہی آپکی اصل تربیت ہو گی ۔کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی دکھی داستان سنا کر تماشہ بننے یا مجبوری میں بھیک مانگ کر گزارنا کرنے سے بہتر ہے اسے خودار بنائیں ۔۔لازمی نہیں کہ آپ کو میری یہ بات اچھی لگی ہو ۔۔مگر ممکن ہے کہ تیرے دل میں اتر جاے میری بات

     Article Author Name

    Hina Sarwar

     

  • طوائف کی زندگی  تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف کی زندگی تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف تو دنیا کی تھی بے حیاء
    رہے نسبتاً ہم ہی بےباک کم

    آ پ نے اکثر دیکھا ہو گا نئی چم چماتی گاڑیاں لیکن ان گاڑیوں کا استعمال لوگ کچرہ اٹھانے کے لئے گندگی صاف کرنے کے لیے نہیں کر سکتے بلکہ اس کام کے لئے الگ سے گاڑیاں ہوتی ہیں جو کہ آ پ کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر آپ پاس سے گزر جائیں تا ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں کیوں؟ کراہت محسوس ہوتی ہے بدبو آ تی ہے اسی لیے نہ ؟ پر ان گاڑیوں کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آ پ کو ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آ ئیں گے اور آ پکا جینا مشکل ہو جائے گا۔
    بلکل اسی طرح طوائف کی بھی زندگی ہے یہ وہ عورت ہوتی ہے جو ایسے مردوں کی گندی کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے جو عیاش ہوتے ہیں حوس کے پوجاری ہوتے ہیں اور جیب میں چاندی کے سکے اور بہت سے پیسے لے کر گھومتے ہیں۔
    ایک عورت کو طوائف بنانے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں وہ لڑکی جو کسی مرد کے پیار میں گھر سے بھاگ جاتی ہے یا تو اسے بیچ دیا جاتا ہے یا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو ایسی ہی لڑکی پھر ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئیے غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
    یقین جانیں اگر یہ طوائف نہ ہو تو مرد کی گندگی آ پ کو ہر جگہ دکھائی دے گی اور شاید حوس کا پوجاری مرد اپنے ہی گھر کی بہو بیٹیوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیل بیٹھے اور میں ایسے واقعات سنے بھی ہیں کہ باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کی،یہاں تک کہ بے زبان جانور تک کو نہیں چھوڑتے یہ لوگ،ایک معصوم بلی کے ساتھ لڑکوں کا وحشیانہ سلوک تو سب کو یاد ہی ہو گا ۔
    جس چیز کی مانگ زیادہ ہوگی وہ تو مارکیٹ میں ضرور آئے گی اور مرد کی مانگ ہے عورت اور رنگین رات اسی لیے آ ج بھی کہیں نہ کہیں چکلہ آ پکو ملے گا اور اگر مرد اچھا ہو جائے تو یقین کیجیے یہ چکلے ہر جگہ سے خود بخود بند ہو جائیں ۔
    ایک عام عورت اور ایک طوائف میں یہ فرق ہے کہ طوائف اپنے لیے خود کماتی ہے اور عام عورت کے پاس کمانے کے بہت لوگ ہوتے ہیں اسکا باپ بھائی یا بیٹا۔
    اور ایک بات یہ کہ اچھے اور برے لوگوں میں فرق صرف ہم انسان کرتے ہیں خدا تو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
    میں نے دیکھا ہے نیک لوگوں کو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان پر ہنستے ہوئے اور گناہ میں ڈوبے لوگوں کو راتوں میں اللّٰہ کے سامنے روتے ہوئے۔ہم نہیں جانتے کون اچھا ہے کون برا تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر بھی فتوا لگانے والے۔
    یہاں آ پ کو ایک مثال سے بھی سمجھا دیتی ہوں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک بچہ لائق اور ایک نالائق ہے تو کیا آ پ اپنے نالائق بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیں گے نہیں بلکہ اس پر زیادہ توجہ دیں گے کہ کسی طرح یہ بھی لائق ہو جائے پر آ پ انکا موازنہ یا مقابلہ ہر گز نہیں کریں گے۔
    بلکل اسی طرح ایک عام عورت اور طوائف کا کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں بلکہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان سے نہیں ہے ہر انسان اپنے آ پ میں ایک ہیرا ہے کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہے کیونکہ اللّٰہ نے کسی کو بھی فضول نہیں بنایا ہے۔
    بی
    بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آ پ سیاہ قلم ہو کڑوا لکھتی ہو تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہوں اور اگر آپ میرا لکھا آ پ برداشت نہیں کر سکتے تو پھر یہ معاشرہ بھی بھیانک ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    نوٹ: میں نے اس تحریر میں ہر مرد کو برا نہیں کہا ہے جو برے ہیں انکو برا لکھا اور بیان کیا ہے بے شک پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ایسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا شکریہ تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا۔ خوش رہیں محبتیں بانٹتے رہیں

    @iam_FoziaCh

  • عورت اور معاشرتی رویّے  تحریر: سویرااشرف

    عورت اور معاشرتی رویّے تحریر: سویرااشرف

    مرد اور عورت اللہ تعالی کی پخلیق کردہ دو اصناف ہیں اور دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔آج کے ماڈرن اورنام نہاد لبرل دور میں صنفی امتیاز کا لفظ تو زبانِ زدِ عام ہے جس کا مطلب کسی صنف کو اس کے حقوق سے محرومی یا عدم دستیابی کا لیا جاتا ہے، جو یقینا کہیں نہ کہیں دیکھنے میں بھی آجاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ناانصافی inequality. کی ٹرم بیسویں صدی سے باقاعدہ جانی جانے لگی تھی اور مرد اور خواتین کی برابری کی فضا باقاعدہ ماحول میں بدلنے لگی۔ اس اہمیت کو جانتے ہوئے لوگوں میں شعور بیدار ہوا کہ حقوقِ انسانی، خصوصاً عورتوں کے حقوق ، بھی کسی بلا کانام ہے۔ تحریک چلی تو چلتے چلتے ہر سُو پھیلنے لگی اور یوں ہم نے Gender Equality یا Gender Discriminationجیسے الفاظ سے نیا ناتا جوڑلیا۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے آج کی پاکستانی خواتین اپنی پچھلی نسلوں کی نسبت فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات رکھتی ہیں۔ لیبر فورس ہو یا ریاست، خواتین کی نمائندگی ہرشعبۂ زندگی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کے مثبت نتائج اس طرح دیکھنے میں آتے ہیں کہ آج کی خواتین ہر محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں۔ ملکی ترقی اور استحکام ہو یا اُمورِ خانہ داری، صنفِ نازک کی اوّل صفوں میںموجودگی اِس بات کا اظہار ہے کہ خواتین کسی صورت مردوں سے کم نہیں۔

    یہ تو ہوگئی مردوں اور عورتوں میں امتیاز کی بات لیکن ایک امتیاز ہماری سوسائٹی میں خواتین کا خواتین کے مابین بھی دیکھا جاتا ہے جس کوWorking Woman اور Housewife کے نام سے منسوب کردیاگیا ہے۔یہ تفریق معاشرے سے کہیں زیادہ ہمارے رویوں نے پیدا کی ہے لہٰذا ہم اس کا بوجھ معاشرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ ایک مشرقی معاشرے میں، گھر میں رہ کر پورا دن گھر میں کام کرنے والی خاتون کو، 9 سے5 ملازمت کرنے والی خواتین سے، کم تر سمجھا جاتا ہے، یایہ کہا جائے کہ ملازمت کرنے والی گھر کی خاتون کو غیر ملازمہ گھر کی خواتین کی نسبت زیادہ عزت دی جاتی ہے لیکن یہ صورت حال ہر جگہ ایک سی نہیں ، ہم دیہی علاقوں کا رُخ کریں تو وہاں گھریلو خاتون کودی جانے والی ترجیح واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسے عزت دی جاتی ہے جبکہ ایک عورت کے لئے باہر کے کام کرنا وہاں معیوب گردانا جاتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کے مختلف رویے ہیں جو ایک ہی صنف کے لئے مختلف نوعیت کا انداز رکھتے ہیں۔
    اب یہ ہمارے ماحول پر منحصر ہے کہ ہماری سوچ کس زوایے سے سب پرکھتی ہے اور کیسے پروان چڑھے گی۔ ماحول مثبت ہوگا تو سوچ اورخیالات بھی مثبت سمت میں پروان چڑھیں گے اور اگر ماحول منفی ہوگا تو نتائج بھی منفی ہوں گے۔ اِن تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھیں تو وہ ہمیشہ ایک کام کرنے والی خاتون کو بہتر سمجھتا ہے کیونکہ ایک ورکنگ لیڈی معاشی طور پر کنبے میں حصہ ڈال سکتی ہے اور شوہر کا بوجھ بانٹ سکتی ہے لیکن ہر جگہ ایسا نہیں سمجھا جاتا اسلیے ساتھ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو قدامت پسند سوچ رکھتے ہیں اور اپنی بیویوں کو کام کرنے، کی اجازت دینے میں عار محسوس کرتے ہیں ۔
    ایک بچے کی حیثیت سے دیکھیں تو ایک غیر ملازمت والی ماں بہتر ہے کیونکہ وہ بچے کی بہتر تربیت کرتی ہے اور اس کو اپنا سارا وقت دیتی ہے جس کی اس کی اولاد کو زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جاۓ تو ایک ورکنگ لیڈی بھی اچھی ماں ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہمارے پاس بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک عورت نوکری کے ساتھ ساتھ بہترین ماں بھی ثابت ہوئی ہے، وہ عورت جو گھر اور نوکری کے فراٸض میں توازن رکھے اور ایک ساتھ باخوبی نبھائے تو وہ معاشرے کے لئے قابلِ تحسین بھی۔ بچے کی پرورش میں ماں کا کردار باپ سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور اس لئے یہ ترجیح ہوتی ہے کہ ماں بچوں پر خصوصی توجہ اور وقت دے جس اور مزیدیہ کہ اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق بچے کی پرورش کرے۔
    گھر سے باہر رہ کر مردوں کے معاشرے میں کام کرنا یقینا ایک بہت بہادر عمل ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں اپنی مائوں، بہنوں کو جو دن رات24/7گرمی کی حدت اور سردی کی شدت میں ہمارے اور گھروالوں کے لئے اپنے دل و جان سے کام کرتی ہیں۔ معاشرتی طور پر ہمارا رویہ ایسا ہے کہ ایک ورکنگ وومین کا کام پہاڑ توڑنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جب کوئی گھریلو خاتون اپنی پریشانی کا تھوڑا سا اظہار کردے تو ہم اسے کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
    بس یہی فرق ہے ہماری سوچ کا۔۔۔۔ ہمارے رویوں کا۔۔۔ خواتین کسی بھی جگہ ہوں،کسی بھی رشتے،کسی بھی ذمہ داری کو نبھا رہی ہوں، گھریلو یا ورکنگ ،وہ قابلِ عزت ہے،قابلِ احترام ہے ۔ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کو بدلنا ہوگا ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک گھریلو خاتون کسی طور پر بھی ورکنگ وومین سے کم نہیں ہے۔
    ایک طرف دیکھا جاۓ تو ورکنگ لیڈی کو اپنے کام کی اجرت ملتی ہے جبکہ گھریلو عورت کو کام کرنے کے باوجود اکثر لعن طعن ہی ملتی ہے
    ان حقائق کو مدِ نظر ہوئے اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون کس سے بہتر ہے ۔
    ایک عورت ماں بھی ہے، بیٹی بھی،بہن بھی اور بیوی بھی۔ زندگی کے ہر روپ میں عورت کو اللہ نے ایک خاص مقام عطا کیا ہے اور اس خاص مقام کی بدولت ہی خدا نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے ۔ غرض عورت کے وجود سے ہی کائنات کی رونق ہے اور خود عورت ہونا ایک فخر کی بات ہے۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام وہاں آتا ہے جب ہم ورکنگ ویمن کو گھریلو خاتون کے مقابلے میں زیادہ عزت دیتے ہیں۔ یہ بات انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ ہمارا زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس طرح کی سوچ رکھتے ہوئے زمانۂ جاہلیت کی باتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر ایک مرد گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین کے لئے الگ الگ رائے قائم کرتا ہے تو اس کی یہ سوچ کسی حد تک قابلِ قبول ہو سکتی ہے لیکن ایک عورت ہو کر دوسری عورت کے لئے اس طرح کی سوچ رکھنا یقینا غیر مناسب ہے۔
    اگر کام کرنے والی خواتین اپنے کیرٸیر کیساتھ ساتھ بچوں،شوہر کی دیکھ بھال کے لئے وقت نکالنے کی جدو جہد کرتی ہیں وہی ایک گھریلو خاتون کو اپنے لئے وقت نکالنے کیجدوجہد کرتی ہے ۔ گویا دونوں کو وقت اور حالات کے تناظر میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی بھی بات یا فعل ایسا نہ ہو جس سے معاشرے کا کوئی بھی فرد حوصلہ شکنی کا شکار ہو یا اس میں احساسِ کمتری پیدا ہو کیونکہ زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور انسانی رویّوں کی دیکھ بھال ہر دَور کی ضرورت رہی ہے۔ اس لئے اس طرح کے امتیاز کو ذہنی اور معاشرتی طور پر کم کرنا چاہئے کیونکہ حوّا کی بیٹیوں کے دَم سے ہی اس بزمِ جہاں میں رونق ہے اور وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، معاشرے کی فلاح اور پروان میں دونوں کا اپنااپنا کردار ہے اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پرانتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    @IamSawairaKhan1

  • بیوی ایک حسین ساتھی  تحریر:  محمد بلال اسلم

    بیوی ایک حسین ساتھی تحریر: محمد بلال اسلم

    حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ خوش خلقی، حسن معاشرت کی عظیم مثالیں قائم کرکے گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے اصول بتا دیے ۔ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ جس طرح کا محبت بھرا انداز تھا اسکو اگر ہم اپنی زندگیوں میں لے ائیں تو ہمیں گھریلو ناچاقیوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے اور ہمارے گھر سکون اور خوشیوں بھر سکتے ہیں۔ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں

    نبی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (ترمذی)

    انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنی زندگی کی داستان بیان کرسکے اور یہ ضرورت ایک اچھی بیوی پوری کرتی ہے اور اسی طرح انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکون حاصل کرے تو بیوی ایسی ذات ہے کہ جسکے ذریعے انسان سکون حاصل کرتا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو۔‘‘ ( القرآن )

    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے محبت ۔۔
    ( 1) آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔۔۔( 2) حضرت ربیعہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکار ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم مجھے مکھن ملی کھجور سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ ( الطبقات الکبری لابن سعد)(3) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مقام حُر) سے واپس آرہے تھے، میں ایک اونٹ پر سوار تھی جو دوسرے اونٹوں میں آخر میں تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہائے میری دلہن“۔ (مسند احمد: 26866 ) ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے اور انکے ساتھ مزاح فرماتے ۔۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائیں

    اور مردوں کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، اگرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔۔عورت کا اخلاقی حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے افراد کے کام کرے لیکن اسپر ضروری نھیں ۔۔اور شوہر ماں اور بیوی دونوں کو ساتھ لیکر چلے بیوی کی وجہ سے ماں کے ساتھ نا انصافی نا کرے اور ماں کی وجہ سے بیوی کے ساتھ نا انصافی نا کرے ۔۔کسی کے سامنے دوسرے کو نا ڈانٹے بلکے کسی اکیلے وقت میں انکو سمجھائے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلائے ۔آمین

    @BilalAslam_2

  • وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ  تحریر: سمعیہ رشید

    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ تحریر: سمعیہ رشید

    برصغیر پاک و ہند میں ایک عام تصور تھا کہ خواتین کی زمہ داری صرف گھر گر ہستی سنبھالنے تک محدود ہے، اور یہ تاثر 1947 سے سات دھائیاں گزر جانے کے بعد بھی عوام الناس کے دل و دماغ سے نا نکل سکا
    یہ تصور صحیح ہے یا غلط، اس تحریر کا مقصد یہ باآور کروانا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان ستر سالوں میں خواتین نے جو ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے اسکو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کرنا ہے.

    محترمہ فاطمہ جناح

    انیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر بھابھی کی وفات کے بعد سب چھوڑ کے نا صرف بھائی کا گھر سنبھالنے لگیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی ہر جگہ انکے شانہ بشانہ رہیں. آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھی جس نے بعد ازاں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی شکل دھار لی.
    سیاست کے علاوہ سماجی طور پہ بھی بیگم لیاقت علی خان کے ساتھ خواتین کے حقوق کیلیے ایک قد آور شخصیت ثابت ہوئیں، پاکستانی نوجوان نسل کیلیے وہ سیاسی و سماجی اعتبار سے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی

    بیگم شائستہ اکرام اللہ


    بیگم صاحبہ لندن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ پہلی پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر تھیں، پاکستان قانون ساز اسمبلی سے سب سے پہلی خاتون ممبر منتخب ہو کے عورتوں کیلیے سیاست میں آنے کی راہ ہموار کی، نا صرف اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمایندگی کی بلکہ مراکو میں سفیر بھی رہیں
    محترمہ سیاست کے علاوہ بہت اردو اور انگلش اخباروں میں مصنفہ بھی رہیں
    حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز لینے والی بلاشبہ پاکستانی بچیوں کیلئے ایک عملہ نمونہ ہیں

    عائشہ فاروق

    ہمت و جواں مردی، بہادری اور دیدہ دلیری کی بات ہو تو ہمیشہ مردوں کی طرف دھیان جاتا ہے پر یہ ریت بھی عائشہ فارق صاحبہ نے توڑ ڈالی جب چھبیس برس کی عمر میں پہلی فایٹر پائیلٹ بنی.
    اب خواتین صرف میڈیکل، انجینئرنگ اور کارپوریٹس سیکٹر تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ شاہینوں کے ساتھ پرواز کے سفر میں گامزن ہیں

    ارفع کریم

    جس عمر میں عموماً بچیاں کھلونوں اور گڑیاؤں سے کھیلتی ہیں اس عمر میں ایک نو سالہ غیر معمولی ذہین ننھی پری، مائکروسوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی ، جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پہ نمایندگی بھی کرتی رہی،
    اور صرف سولہ سال کی عمر میں سب آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کے ابدی نیند جا سوئیں..

    شمیم اختر

    جہاں بہت کم خواتین ٹرک کی سواری ہی کر پاتی ہیں وہاں ایک با ہمت عورت ٹرک چلانے لگتی ہے
    بے تحاشا تنقید اور مخالفت کے باوجود بھی محترمہ نا صرف اپنے فیصلے پہ ثابت قدم رہیں بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں اپنی قابلیت کا لوہا بھی منوایا
    بلاشبہ شمیم بیگم کا ایسے شعبے میں آنا قابلِ تحسین ہے.
    جہاں ہر طرف مردوں کی اجارہ داری ہو اور عورت کو فیصلے کرنے کا بھی اختیار نا ہو وہاں ایک عورت کا باقی خواتین کے حقوق کیلیے اواز بلند کرنا اور ایک جرگے کی نمایندگی کرنا قابلِ تحسین ہے.

    تبسم عدنان

    تیرہ برس کی عمر میں دلہن بننے والی، شوہر کے ظلم و ستم کے خلاف کھڑی ہونے والی سماجی کارکن تبسم کو کم ہی لوگ جانتے ہونگے جو "خویندہ و جرگہ” کے نام سے ہفتہ وارانہ عورتوں کے مسائل حل کرتی ہیں..
    ان سب خواتین کو ملک و قوم کا نام روشن کرنے اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پہ ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں…