Baaghi TV

Category: خواتین

  • قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان

    قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان

    یہ ایک مہاجر عورت کی داستان ہے۔ جو جالندھر کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ داستان غم خود اس کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔
    میں تو اس بات پر یقین رکھتی ہوں جو خدا نے اپنی کتاب میں فرمائی ہے کہ خدا جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے وہ بہت ہی کریم و رحیم ذات ہے۔ پھر وہ ایک دم اپنے بچپن کی طرف لوٹی اور کہنے لگی کہ بچپن میں ہمیں قرآن کریم کی تعلیم بہت سختی سے دی جاتی تھی۔ اگر کوئی کسی بہانے کی وجہ سے قرآن پڑھنے نہ جاتا تو پہلے بزرگ اس کو سمجھاتے پھر اسے نئے طریقوں سے سزا دی جاتی حتیٰ کہ وہ بڑی خوشی سے قرآن پاک پڑھنے چلا جاتا۔
    اسی طرح میں نے بھی ایک دفعہ سر درد کا بہانا بنایا۔ سزا تو نہیں ملی تھی لیکن سمجھو مجھے ایک دم سمجھ آگئی کہ قرآن پاک پڑھے بغیر گزارا نہیں۔ چنانچہ میں نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا۔ اور اس وقت نئے کپڑے نہیں پہنے لیکن دھلے ہوئے پہنے تھے جب تک قرآن پاک حفظ کرلیا۔
    زندگی کے دن گزر رہے تھے کہ اچانک ملک تقسیم ہوگیا اور ہم پاکستان آرہے تھے کہ راستے میں غنڈوں اور ڈاکوؤں نے ہمارے قافلے پر حملہ کردیا پھر کیا ہوا اس کے بعد اس کی آواز مدہم پڑھ گئی اور دو ننھے ننھے اشک انسو سے گر پڑے۔ میرے گھر کے تمام افراد شہید ہوگئے اور میں بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آنے پر میں نے اپنے آپ کو ایک نرم اور پر سکون بستر پر پڑا پایا۔ یہ ایک خوبصورت کمرہ تھا جس میں کچھ عریاں فوٹو تھیں اور بعض تصویروں پر گرنتھ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ سکھوں کا گھر ہے اچانک زور سے دروازہ کھلا۔ اور ایک نواجوان سکھ اور ایک بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئے۔ اور آتے ہی اس نوجوان نے اس عورت سے کہا ”ماں یہ ہے تیری بہو کیا تجھے پسند ہے؟ “ وہ۔عورت ہنس کر بولی ہاں پسند ہے۔ پھر وہ باہر چلی گئی اس کے بعد اس نوجوان نے الماری سے شراب کی بوتلیں نکالیں پھر وہ بے تحاشہ پینے لگا۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے بعد میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی۔ اور میں وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی۔ رات کے تقریباً دو بجے تھے میں چارپائی سے اتر کوئی چیز تلاش کرنے لگی۔ اچانک مجھے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی یہ ایک کرپان تھی جو اس بے ہوش سکھ کی چارپائی کی نیچے پڑی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے کرپان اٹھائی اور اس کا سر تن سے جدکردیا۔ معمولی سی چیخ سنائی دی اور بے تحاشہ باہر کو بھاگی۔ راسے کی مشکلات سے بچنے کے بعد دن تقریباً دو بجے واہگہ بارڈر کی سرحد پر ہلالی پرچم کو دیکھ کر میں بے ہوش ہوگئی۔ اس کے بعد کیا ہوا میں اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان رہنے لگی۔المختصر اسی محافظ (قرآن) نے میری زندگی بچائی۔ جو اسی وقت یہی قرآن میرے بغل میں تھا۔

    IhsanMarwat_786

  • عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    ہمارے ہاں جب بھی ریپ کا کوئی واقع پیش آئے، تو معاشرے کا ایک طبقہ مختلف نقاط، جیسے کہ عورت کا لباس،عورت کی آزادی،عورت کی تعلیم وغیرہ کو بنیاد بنا کر عورت کو ہو موردالزام ٹھہرا دیتا ہے۔یعنی مظلوم کو ہی ظلم کی وجہ بنا دیا جاتا ہے۔

    مجھے اس سے اختلاف ہے۔ دو حرفی بات یہ ہے کہ ریپ کی وجہ صرف اور صرف ریپ کرنے والا مرد ہے۔

    اس معاشرے میں برقع پوش خواتین کے ساتھ ریپ ہوئے، چھوٹی بچیاں اس ظلم کا نشانہ بنیں، درندوں نے چھوٹے لڑکوں کو بھی نہیں بخشا۔ ‏ابھی کچھ روز پہلے ملتان میں ایک لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی کی تو جب اس لڑکے نے ریکیشن دیا تو اس کو گولی مار دی گئی۔ ابھی چند دن پہلے ایک چھوٹی بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اس کو مار کے اس کے جسم کو آگ لگادی گئی۔ زینب کا واقعہ ہم سب کو یاد ہے۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہم سب نے سن رکھے ہیں۔

    ان بچوں نے کون سی حد پار کی تھی؟ کیا اپنے ساتھ ریپ ہونے کی وجہ یہ بچے خود تھے؟ انکا لباس تھا؟ انکی مادر پدر آزادی تھی؟

    ‏مجرم ہمیشہ ریپ کرنے والا ہے نا کہ ریپ ہونے والا۔

    اگر کوئی مرد بچوں کا ریپ کر رہا، بچیوں کا ریپ کر رہا ہے، خواتین کا ریپ کر رہا ہے تو مسئلہ اس ریپ کرنے والے مرد کے ساتھ ہےاور اسی کی ہمیں بطور معاشرہ روک تھام کرنی ہے۔

    Twitter account @MH__586

  • طلاق   تحریر: مدثر حسن

    طلاق تحریر: مدثر حسن

    ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جو کہ ایک پریشانی کا بحث ہے طلاق کا لفظ سن کر ہمیشہ ہماری سوچ لڑکی کے کریکٹر پر جاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ لڑکی ہی ہوگی حلانکہ اکثر معمولات میں مرد کی ہی وجہ ہوتی ہے طلاق کا بوجھ اٹھانا ایک لڑکی کی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا وہ وزنی پتھر کا بوجھ اٹھا سکتی ہے لیکن اس کے لیے طلاق کا بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے مرد کے لیے طلاق کے صرف تین حرف ہیں لیکن یہ تین حرف لڑکی کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں!!!!!

    طلاق کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہےکہ گھر والوں کی مرضی ہوتی ہے ان کو زبردستی شادی کے بندھن میں بندھ دیتے ہیں لڑکے اور لڑکی کی دلچسپی جانے بغیر لڑکی بیچاری تو کمپرومائز کر جاتی ہے اپنی زندگی پر لیکن مرد ایسا نہیں کرتے وہ کچھ عرصہ بعد طلاق دے دیتے ہیں اور اپنا نیا جیون ساتھی تلاش کرتے ہیں جو ان کی پسند ہو اور وہ لڑکی طلاق کا ٹھپہ لیے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے

    حلانکہ طلاق اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اس لیے قرآن میں واضح بتایا ہے کہ جو عورت تمہیں پسند ہو ان سے نکاح کر لو تاکہ یہ طلاق کی نوبت نہ آئے والدین کو چاہیے شادی کرنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کی مرضی جان لیں تاکہ بعد میں ان کو یہ صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے!!!!!!!

    اسلام نے ہمیں چار شادیوں کا حکم دیا ہے اس میں طلاق یافتہ سے بیوہ سے شادی کرنا بھی شامل ہے طلاق یافتہ اور بیوہ سے شادی کرنا بھی سنت رسول ﷺ ہے کوشش کریں جس شادی کریں ان سے راشتہ طور نبھائیں تاکہ طلاق کی نوبت نہ آسکے ۔

    طلاق کی وجہ سے والدین بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ قصور بیٹے کا ہوتا ہے اگر بیٹے کی تربیت ٹھیک طریقے سے کی جائے تو
    طلاق کی نوبت بھی نہ آئے

    اس لیے بہن ،بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ان کے لیے نصیب اچھے کرے اور آسانیاں فرمائے آمین !!!!!!

    @MudasirWrittes

  • جہیز ایک لعنت ہے۔    تحریر: عمران خان رند بلوچ

    جہیز ایک لعنت ہے۔ تحریر: عمران خان رند بلوچ

    "جہیز "عربی زبان کے لفظ جہاز کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جس کے معنی ہیں "سازوسامان پہنچانا” اصطلاح میں اس سے مراد وہ سازوسامان ہے جو والدین شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹی کو نقدی،کپڑوں،زیور یا سامان خانہ داری کی صورت میں دیتے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جہیز کی موجودہ رسم ہندو معاشرے کی پیداوار ہے ۔
    مسلمانوں اور ہندوؤں کے آزادانہ میل جول کا عرصہ تقریباً ایک ہزار سال کا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران ” تخم تاثیر صحبت اثر” کے مصداق مسلمانوں اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو بہت متاثر کیا اور ہندو معاشرے کی بہت سی بری رسومات مسلمانوں نے اپنالیں۔ اس لیے علامہ اقبال نے خوب کہا کہ
    حقیقت خرافات میں کھو گئی
    یہ امت روایات میں کھو گئ
    اگر اسلامی تعلیمات کو پرکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کو ان کے نکاح کے موقع پر بہت معمولی سامان بطورِ جہیز دیاتھا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کےساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے سے قبل حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہِ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اور ان کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔شادی کے بعد جب انھوں نے اپنا گھر بنایا تو اس میں گھریلو سامان کی ضرورت فطری امر تھا۔ لہذا اگر حضور نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا تو اس سنت کا اطلاق انھی حالات میں ہوگا جن حالات میں حضور نے اپنی بیٹی کو یہ سامان دیا۔
    اس سے ثابت ہوا کہ لڑکی کا گھر بسانے کے لیے اسے ضروری ساز و سامان مہیا کرناسنت کے عین مطابق ہے مگر اس سلسلے میں حد سے تجاوز کرنا محض رسم پرستی اور اسراف ہے۔ اسی اسراف سے بعد ازاں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
    حضور ﷺ نے فرمایا:
    "اسراف کرنے والا شیطان کا بھائی ہے”.
    ہمارے ہاں آج کل یہ رسم بد اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک غریب شخص جو اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بمشکل پالتا ہے۔ بیٹی پیدا ہوتے ہی یہ فکر اس کے دامن گیر ہو جاتی ہے کہ خواہ جہیز کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے مگر بیٹی کی شادی کے موقع پر ساکھ قائم رہے اور برادری میں ناک رہ جائے۔ خود بھلے فاقوں کا سامنا کرنا پڑے ۔مگر بچی کا جہیز تو شان دار ہونا چاہیے۔
    اے ہوا!تو میرے دامن کو اڑا نہ اس طرح
    پیٹ پر باندھے ہوئے کوئی پتھر نہ دیکھ لے
    خصوصاً قیام پاکستان کے بعد تو یہ رسم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کے لیے لوگ ہرطرح کے غیر قانونی اور ناجائز ذرائع مثلاً چوری،رشوت،سمگلنگ وغیرہ کو بھی استعمال میں لانے لگے ہیں۔ اس طرح امراء کی دیکھا دیکھی زیاده جہیز دینے کی دوڑ میں غریب اپنی غربت کی چکی میں میں پس کر رہ جاتے ہیں۔
    صورت حال یہ ہے کہ بہت سے غریب گھرانوں کی شریف زادیاں شادی کی عمر ہونے کے باوجود تمام عمر گھر میں گھل گھل کر گزارنے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے والدین لڑکے والوں کے حسب منشا جہیز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
    گویا یہ ایک ایسی رسم ہے کہ جس نے بہت سی بیٹیوں اور بہنوں کی زندگیاں برباد کر ڈالی ہیں ۔
    اگر ہمارے ہاں ہوس زر کا یہی رحجان رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب غیرت مند غریب لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالیں گے۔ یا پھر خود
    اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ والدین کی جائیداد میں عورت کا ایک مقررہ حصہ ہوتا ہے ، جو اس کا شرعی حق ہے۔اب وہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ یہ حصہ اس لڑکی کو شادی سے پہلے سے ہی دیتے ہیں، شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں دیتے ہیں یاشادی کے بعد دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں شریعت کے اعتبار سے بھی ان پر کوئی قید نہیں ہے۔ آج کل حکومت نے جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے قانون تو بنا دیا ہے مگر قوانین کا فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب ان پر عمل ہو اور عمل بھی تب ہی ہوتا ہے، جب انسان سچے دل سے اسے قبول کر لے۔ لہذا ضروری ہے کہ پہلے افراد کی سوچ تبدیل کی جائے تا کہ وہ یہ مان لیں کہ جہیز واقعتاً ایک معاشرتی روگ ہے۔ پھر اس کے بعد ضروری ہے کہ سب لوگ اس لعنت کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لاکر اس کی بیخ کنی کر ڈالیں۔ اس سلسلے میں اہل ثروت اور باقی لوگوں کو پہل کرنی چاہیے۔ اگر یہ لوگ شادی بیاہ میں سادگی اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ غربا بھی ان کی پیروی نہ کریں۔ آج کل بہت سے علماء اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ اپنی لڑکیوں کی شادی بیاہ سادگی سے مسجد میں کرتے ہیں اور معمولی سامان کے ساتھ وہاں سے رخصت کر دیتے ہیں۔اگر نوجوان لڑکے بھی اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھیں تو انھیںں چاہیے کہ وہ جہیز لینے ہی سے انکار کر دیں ۔ خواہ لڑکی والے کتنا زور کیوں نہ دیں۔
    ہمارے پیارے نبی نے اپنی بیٹی کو بہت سا جہیز اس لیے نہیں دیا کہ ان کی امت کا غریب سے غریب فرد بھی معمولی جہیز دینے کے باوجود اپنے آپ کو عزت دار سمجھے۔ ہمیں چاہیے کہ اسلام کے سنہری اصولوں پرعمل کریں اور اس برائی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی پوری سعی کریں۔اگر سب لوگ مل کر کوشش کریں تو جلد یا بدیر اس رسمِ بد کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    twitter.com/@ibaloch007

  • عید قُرباں اور ہماری زمہ داری.تحریر.اُم سلمیٰ

    عید قُرباں اور ہماری زمہ داری.تحریر.اُم سلمیٰ

    عیدالاضحی آمد آمد ہے اور ہر سال عید آتی اور گذر جاتی ہے اور ہر بار شہروں میں صفائی کا بڑا سنگین مسئلہ پیدا ہوتا ہے عید قربان پے جانورں کی قربانی سے بچی آلائشیںوں کو ٹھکانے لگانے کا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے.
    اسی حوالے سے گورنمنٹ کے منتخب اداروں کی طرف سے عملہ صفائی کی چھٹیاں منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کا اہتمام کے لئے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں
    ۔صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنے اپنے صوبے میں اس حوالے سے شعبہ صفائی کو سختی سے ہدایت کرتے ہیں،
    ہر بڑے شہر میں انتظامیہ کی طرف سے انتظامات کیے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ عوام سے بار بار اپیل بھی کی جاتی ہے قربانی جگہ جگہ نہ کی جائے اور جانوروں کے ذبح کے بعد آلائشیں کھلی جگہ پر نہ پھینکیں جائیں،اسے شعبہ صفائی کی طرف سے مقرر کردہ مقامات پر جمع کیا جائے۔ تاکہ برقت عیدالاضحی کے حوالے سے آلائشوں کو سمیٹنا ممکن ہو سکے گا آسان ہوسکے اور فوری ہوسکے.آلائشیں فوری اٹھانا اس لیے ضروری ہے کے وقت بڑھنے کے ساتھ ان میں پیدا ہونے والے تعفن سے کئی قسم کے امراض اور آلودگی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے تو گورمنٹ انتظامی محکموں کے ساتھ ہم پے بھی یہ ذمداری عائد ہوتی ہے کے ہم اس موقعے پر بھرپور تعاون کریں۔

    ماہرین طب کے مُطابق عید قرباں پر آلودہ ماحول کے وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے .اس لیے اپنے لیے اپنے خاندان اور صاف معاشرے کے لیے اپنی ذمداری پوری کریں قربانی کرنے کے بعد اس جگہ کی صفائی آلائشیں کو منتخب کردہ جگہ پر پنچہنا قربانی کے ساتھ ہمارا اہم فریضہ ہونا چاہیے.
    اگرچہ بنیادی طور پر یہ سرکاری اداروں اور ذمدار افراد کی ہی ذمہ داری ہے کہ عید الاضحٰی کے موقع پر صفائی کے انتظامات کو یقینی بنائیں لیکن اس حوالے سے عوام الناس بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتے اِنکی بھی ذمداری ہے کے وہ عید کے موقع پر بھرپور تعاون کریں.

    عوام کو چاہیے کہ جس اہتمام سے وہ جانور خریدتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، قربانی کے لیے قصائی کا بندوبست کرتے ہیں، گوشت بانٹتے اور پکا کے کھاتے کھلاتے ہیں، اسی اہتمام سے قربان کیے گئے جانوروں کی آلائشوں اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے بھی انتظام کریں اپنی زمداری سمجھیں۔ سب جانتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی کوئی چیز ضائع نہیں کی جاتی اور آلائشوں کو مفت میں اٹھا کر لے جانے والے باآسانی مل جاتے ہیں۔ بس آپ کی طرف سے ذمہ داری لینے اور تھوڑی سی کوشش کرنے کی بات ہے۔

    قربانی کے بعد اپنے علاقے اپنی گلی کی صفائی سرکاری اداروں پر نہ رہیں، زندگی کے اور کتنے ہی معاملات ایسے ہیں جن میں ہم ذاتی حیثیت میں کوشش کرکے اپنا اور دوسروں کا بھلا کرلیتے ہیں تو اس میں کیوں نہں؟ اسی طرح اس حوالے سے بھی انفرادی کوشش کو اپنا فرض جانیں کیوں کے یہ آپ کی گلی، آپ کا محلہ، آپ کا علاقہ اور آپ کا شہر ہے یہ آپ کا پیارا ملک پاکستان ہے اس کی صفائی جتنی گورمنٹ کے اداروں کی زمداری ہے اتنی آپ کی بھی ہے.

    عید کے موقع پر ہماری گلیاں ہماری محلے ہمارا ملک بھی ایسے ہی صاف ستھرا دکھائی دینا چاہیے جیسے ہمارے گھر خوشی کے موقع پر چمک دمک رہے ہوتے ہیں۔

    آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اس عید قربان پر صفائی کو یقینی بنائیں گے اور اگلی ہر عید پر ایسا ہی کریں گے اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی یہی تربیت دیں گے کے گورمنٹ کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی صفائی کا خیال رکھیں گے اور اپنی ذمداری پوری کریں گے۔۔
    قربانی کرتے وقت اور عید کے موقع پر ماسک لگانا اور سماجی فاصلہ رکھنا بھی نہ بھولیں تاکہ آپ خود اور دوسرے کو محفوظ رکھ سکیں۔
    @umesalma_

  • والدین کی یاد عید کے موقع پر.تحریر : فروا نزیر

    والدین کی یاد عید کے موقع پر.تحریر : فروا نزیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    عید ایک ایسا تہوار ہے جو اپنوں کے بغیر نامکمل لگتا ہے
    دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یا تو پردیس میں عید گزارتے ہیں یا جن کے والدین حیات نہیں ہوتے

    اگر میں یہ کہوں والدین اللہ کا خوبصورت تحفہ ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا…
    دنیا میں سب سے بلند مقام والدین کا ہے ماں کا الگ اور باپ کا الگ جو ہمارے لیے ڈھیروں قربانیاں دیتے ہیں

    ماں کے پاؤں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ

    ماں ایک بہت ہی خوبصورت لفظ ہے جسے بولتے ہی مسکراہٹ آجاتی ہے خودبخود اور باپ اتنا عظیم رشتہ جو شخصیت کو ابھارنے میں مدد کرتا ہے

    زندگی میں ان دو رشتوں سے لامحدود محبت ہوتی ہے
    ایسے سمجھ لیں کہ جیسے انسان نے دنیا میں کوئی بھی کام کرنا ہو تو مطلب ضرور ہوتا ہے جیسے عبادت نیکیوں کیلیے لیکن ماں باپ بنا کسی لالچ کے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں

    اولاد چاہے کتنی ہی بڑی ہو جائے والدین کیلیے وہ ہمیشہ بچے ہی ہوتے ہیں
    جو ہمیشہ خیال رکھتے ہیں

    میں اس عید کے موقع پر اپنے سب بھائیو بہنوں کو پیغام دینا چاہتی ہو
    میری خواہش ہے کہ ہر انسان اس پر لازمی عمل پیرا ہو تاکہ وہ مشکلات سے بچے اور پرسکون رہے…

    یہ زندگی اللہ کی امانت ہے ہر ذی روح نے موت کا مزہ چکھنا ہے
    اللہ پاک انسان کو آزمائش مختلف طریقوں سے دیتا یے کبھی دے کر تو کبھی من پسند چیزیں لے کر

    اب جیسے کہ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کے والدین حیات نہیں ہوتے یا کسی کی والدہ نہیں ہوتی یا کسی کے والد نہیں ہوتے
    اور وہ سب لوگ زندگی سے ناامید یوتے ہیں مایوس ہوتے ہیں
    میں جانتی ہو یہ باتیں بہت مشکل ہیں لیکن جب اللہ پر توکل ہو تو ہم مایوس نہ ہو اللہ کے فیصلے پر عمل کریں

    اللہ پاک اپنے ہر بندے سے بہت پیار کرتا ہے کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا لیکن ہم پر چھوٹی سی مشکل آجائے تو کہتے ہیں کہ سب مشکلات بس ہم پر آگئی ہیں
    لیکن اگر تاریخ دیکھیں تو اللہ نے اپنے ہر انبیاء کو مشکلات دی اور ان سب نے اللہ کے فیصلوں پر صبر سے کام لیا

    ہم انسان تو کچھ نہیں اللہ نے اپنے پیارے محبوب پر اتنی سخت آزمائش دی کہ بن باپ کے پیدا ہوئے والدہ چھ ماہ بعد ہوئی
    حضرت موسٰی علیہ السلام ماں کے ہوتے ہوئے کافروں میں پرورش پائی
    یہ سب اللہ ہی کے حکم سے تھا اور ان سب نے اللہ کے فیصلوں کو دل سے مانا

    اور یہ عیدالاضحٰی قربانی کا دن ہے اللہ کی راہ میں کچھ بھی قربان کرنے کا دن
    سب سے بڑی آزمائش تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر تھی جن کو دس سال بعد پیدا ہونے والےبیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور آپ قربان کرنے چلے گئے

    سلامتی ہو ابراہیم پر اور انکی آل پر

    انبیاء پر آزمائشیں اللہ نے اس لیے دی تاکہ عمل کر سکیں
    لیکن ہم مسلمان دعوے کرتے ہیں لیکن عمل.غائب ہوتا ہے

    اور بیشک فرمایا گیا ہے:
    اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اسکا شکر بجالاؤ ناشکری نہ کرو

    اگر اللہ نے والدین میں سے ایک واپس بلالیا ہے تو آپ کے کوئی تو ہوتا ہے بھائی یا بہن ہوتا تو اس وقت بھی اللہ کا شکر ادا کرو کیونکہ یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے
    اور جو شکر کرتے اللہ کو یاد کرتے ہیں بیشک اللہ انکے ساتھ ہوتا ہے

    میری سب سے درخواست ہے کہ عید پر اداس ہونے کی بجائے خوشیاں بانٹیں باقی رشتوں کو ضائع نہ کریں مایوسی کفر ہے

    اللہ کے احکامات کو سمجھے کیونکہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے پیاروں کیلیے دل سے دعا کریں لیکن اداس نہ ہو

    عیدالاضحٰی مبارک ہو اہلِ اسلام کو

    خوش رہے خوشیاں بانٹیں

  • عید اور ہم لڑکیاں۔   تحریر: کنزہ صدیق

    عید اور ہم لڑکیاں۔ تحریر: کنزہ صدیق

    لو جی عید آگئ ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم لڑکیوں کی خوشی دیدنی ہے کیونکہ ظاہر ہے بھئ جہاں بات آجائے سجنے سنورنے کی اور نئے نئے کپڑے جوتے جیولری پہننے کی تو ہم لڑکیاں سب سے زیادہ خوش ہوتیں ہیں۔
    یوں تو عید کی تیاریاں عید سے کافی دن پہلے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔
    بازار کے بار بار چکر لگانا،درزی کو جلدی کپڑے سینے کا کہا، چوڑیاں جوتیاں میچنگ لیسز لینا اور نجانے کیا کیا سیاپے ہیں ہم لڑکیوں کے۔۔
    تیاریاں کرتے کرتے عید سر پہ آن پہنچتی ہے لیکن یہ ٹینشن دماغ پہ سوار ہی رہتی ہے کہ ابھی تک درزی نے کپڑے نہیں دئیے تو بار بار درزی کو کال کرنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جناب درزی صاحب تو اپنے آپ میں ماشااللہ سے انجینئر بنے ہوتے ہیں وہ اپنا نمبر ہی بند کر دیتے ہیں اور اب ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ بھلا درزی کا نمبر کیوں بند ہے کہیں اس نے کپڑے نہ سئیے تو کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
    اسی ٹینشن کے چلتے ہی بھائی وہ فرشتہ ثابت ہوتے ہیں تو بائیک پہ بیٹھا کر ہمیں درزی کے سر پہ لا کھڑا کرتے ہیں اب غصہ تو بہت آرہا ہوتا ہے لیکن درزی کو کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ اگر یہ غصہ ہوگیا تو بھئ ہوگیا کام تمام۔۔
    پھر یاد آتا ہے کہ مہندی بھی تو لگوانی ہے وہ تو رہ ہی گئ جی جناب ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم لڑکیاں مہندی نہ لگائیں تو اب مہندی لگانے والی کی تلاش شروع ہوجاتی یے محلے میں مہندی لگانے والی لڑکیوں کے الگ ہی نخرے ہوتے ہیں بھلا کوئی ان سے یہ پوچھے کہ باجی آپ تھوڑی نہ مفت میں مہندی لگارہی ہیں لیکن نہ نہ اگر یہ کہہ دیا تو مہندی کون لگائے گا۔۔
    خیر اسکے نخرے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنی زلف اٹھا کر کان کے پیچھے کرکے منہ بنا کر تھکن کا اظہار کرتی ہے تو بس دل کرتا ہے اسے کہیں بی بی "توں رہن دے اسی آپ لاں لیں گے”
    لیکن ایسا تو کہنا ہی گناہ ہے اللہ اللہ کر کے مہندی لگ ہی جاتی ہے پھر آجاتی ہے بھائیوں کے اور اپنے کپڑے پریس کرکے رکھنے کی۔
    جی تو اکثر گھروں میں چاند رات کو ہی سب کے کپڑے استری ہوجاتے ہیں تاکہ صبح سویرے پریشانی نہ ہو لیکن ہم لڑکیوں کو اس لمحے استری کرنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا کیونکہ ابھی پارلر بھی تو جانا ہے لیکن جیسے تیسے منہ بنا کر استری کرنی پڑتی ہے کیونکہ اگر استری نہ کی تو بھائی پارلر نہیں چھوڑ کر آئیں گے اور یہی تو قیامت ہے اگر پارلر نہ گئے تو بس۔۔۔۔۔
    سمجھ ہی گئے ہوں سب ۔۔
    لہذا عید جتنی مزے دار اور خوشگوار احساس دلاتی ہے وہی ہم لڑکیوں کو بے شمار پریشانیاں بھی لاحق ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود پہ ہم اپنے بناو سنگھار کا خیال خوب اچھے سے رکھتی ہیں اب جیسا کہ عید الاضحیٰ آنے والی ہے تو اس عید پہ زیادہ تر وقت کچن میں ہی گزرتا ہے مزے مزے کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور خوب لطف اٹھایا جاتا ہے لیکن کہاں بھی ہم لڑکیاں بڑی پریشان ہیں وہ کیوں بھلا؟
    وہ اس لیے کہ اتنا تیار ہو کر کچن میں کون جائے لیکن اماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے یہ بھی کرنا پڑتا ہے صبح کلیجی بنانی ہے دوپہر میں قورمہ پلاو وغیرہ ابھی دوپہر والا ہضم نہیں ہوتا کہ پھر رات کے لیے باربی کیو تیار کرنا ہے۔۔۔
    بہرحال جو بھی ہو مزہ تو اسی میں ہے کہ ہم لڑکیاں سب کا باقاعدہ خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ خود کے بناؤ سنگھار پہ بھی خوب توجہ دیتی ہیں۔
    اسی لیے آپ سب لڑکیوں کو میرا پیار بھرا سلام۔۔

    @KinzaSiddiq

  • فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان  حُسنِ قدرت

    فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان حُسنِ قدرت

    پاکستان کی پہلی نابینا پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور مصنفہ ڈاکٹر فرزانہ سلیمان کی زندگی کے بارے میں آج میں آپ کو بتاؤں گی
    وہ لوگ جو کسی جسمانی معذوری کو روگ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے لئے ایک بہترین مثال ڈاکٹر فرزانہ سلیمان ہیں جن کی بصارت ہی چلی گئی

    محترمہ فرزانہ سلیمان ایک نارمل بچی پیدا ہوئیں انکا تعلق کراچی سے ہے جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچیں تو ٹائیفائیڈ انکی بصارت چرا گیا اب زندگی انہیں دشوار لگنے لگی اور یہ بھی اب پڑھائے گا کون لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری نہم اور دہم جماعت کا امتحان پرائیویٹ دیا ،سینٹ لارنس کالج سے انٹر اور جوزف کالج سے گریجویشن کی ،فلسفے میں ماسٹرز کیا تو احساس ہوا کہ یہ مضمون انکے مزاج کے مطابق نہیں پھر انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا
    ماسٹرز مکمل ہوتے ہی ” گورنمنٹ کالج پی ای سی ایچ کالج کراچی” میں اسلامک اسٹیڈیز کی لیکچرر ہوئیں
    لیکن
    انکا خواب پی ایچ ڈی کرنے کا تھا تو انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پی ایچ ڈی مکمل کی اس دوران انکی دوست سارہ نے انکی بہت مدد کی وہ انہیں کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتی تھی
    ڈاکٹر فرزانہ سلیمان نے قرآن کریم حفظ کیا ،تفسیر کا مطالعہ کرتی رہیں اور اب تک 4 کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کے نام یہ ہیں
    1۔قرآن،قرآن کی روشنی میں
    2۔توبہ قرآن کی روشنی میں
    3۔تقوی قرآن کی روشنی میں
    4۔تذکرہ آدم قرآن کی روشنی میں
    شامل ہیں
    ڈاکٹر فرزانہ کو بے مثال کارکردگی پہ کئی شیلڈز،تمغے اور اعزازات حاصل ہوئے جن میں سابق صدر (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملنے والا "فاطمہ جناح گولڈ میڈل”
    اور گورنر سندھ سے ملنے والا
    "تمغہ حُسنِ کارکردگی”
    نمایاں ہیں
    یہ کہانی کروڑوں لوگوں کےلئے ایک سبق ہے کہ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر فرذانہ کی طرح اپنے حوصلے بلند رکھیں آپ ضرور کامیاب ہوں گے

    Twitter: @HusnHere

  • اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل  تحریر ارشاد حسین

    اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل تحریر ارشاد حسین

    افسوس سے کہنا پڑتا ہے سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تحریریں یا تصویریں بھی دکھائی دیتی ہیں دیکھنا اور پڑھنا بھی شرم آتی ہے ۔سوشل میڈیا عمومی تاثر یہ ہے کہ بس خود کو پوشیدہ رکھنا ہی کافی ہے۔۔ شخصیت کی پردہ داری بہت ہے۔۔اسکے بعد کھلی چھٹی ھے جو مرضی کہیں اور جیسی مرضی چاہیں پوسٹس لگائیں۔۔ دراصل بدقسمتی سے ہمارے ہاں حیا کا بہت عام اور سطحی پیمانہ صرف پردے اور ساتر لباس سے ہی مشروط سمجھا جاتا ہے جبکہ ” حیا” کے لغوی معنی وقار ، سنجیدگی اور متانت کے ہیں۔۔ حیا صرف اپنی شخصیت کو پردے میں ملفوف کرنے کا نام نہیں ہے۔۔ یہ گفتار میں بھی نظر آنی چاھیئے اور تحریر میں بھی اور اپنی پبلک پوسٹوں میں بھی یہی احتیاط ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے اکثر وبیشتر کتنی ہی ایسی پوسٹس نظر سے گزرتی ہیں جس میں نوعمر بچیاں جوکہ بظاہر خود کو پردہ دار اور باحجاب کہتی ہیں اپنی تحاریر میں اپنے مستقبل ، اپنی شادی اور اپنے ہونے والے شوہر سے متعلق اپنے بہت ہی ذاتی خیالات اور خواہشات بلاجھجھک شئیر کر دیتی ہیں ۔۔۔ سپنے دیکھنا غلط نہیں ہے لیکن ان سپنوں کی اپنی وال پہ اور خصوصاً پبلک پوسٹس میں یوں تشہیر ضرور معیوب ہے ۔۔ اور اس سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب ایسی پوسٹس پر دین کی علمبردار اور بہت سی سمجھدار خواتین بھی دعائیہ ، تعریفی اور ستائشی کمنٹس پاس کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ کیوں نہیں اس خاتون یا بچی کی مناسب انداز میں اصلاح کی جاتی کہ آپ کے لیے حیا کے تقاضے پورے کرنا تحریر میں بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا کے لباس میں ۔۔ یہ نجی نہیں بلکہ عوامی پلیٹ فارم ہے۔۔ ایسی پبلک پوسٹس لگا کر ہزاروں لوگوں کو متوجہ کرنا بہت نامناسب اور خطرناک عمل ہے ۔۔بلاوجہ کیوں لوگوں کی آتشِ شوق بھڑکائی جائے کبھی کوئی باحجاب خاتون اپنی پوسٹس میں اپنے "گمنام فالورز” کی جانب سے ملنے والے تحائف کی فخریہ تشہیر کر دیتیں ہیں۔۔یوں باقی فالورز کو بھی اس ‘نیکی’ کی ترغیب دلاتی ہیں کوئی سیر سپاٹوں پہ جانے کے لیے اپنے محرم کی تلاش میں دعائیں کر کر ہلکان ہیں پھر بہت سی باپردہ خواتین ایسی بھی ہیں کہ مختلف بولڈ موضوعات پہ انکے بے محابا کمنٹس حیران ہی کر دیتے ہیں۔۔۔ مرد حضرات کی وال پہ اگر کوئی گرما گرم موضوع ، سوشل ایشو چھڑا ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ وہاں آستینیں چڑھا کر بے دھڑک کوئی بھی بیان جاری کرنے پہنچ جائیں۔۔۔بس کہیں بھی کچھ بھی کھل کے کہہ دو کہ کونسا ہم پہچان لی جائیں گی۔۔ کیونکہ بھئی نہ تو ہم یہاں دیگر خواتین کی طرح اپنی شکل دکھانے کی بےحیائی کرتے ہیں اور نہ ہی ہم یہاں اپنے اصل نام سے موجود ہیں۔۔ لہذا پردہ داری کی آڑ میں سب کہہ دو ۔۔ دھیان رکھیئے کہ یہ ” پاپا کی پرنسس ، بنت ، ام ، اخت ، اہلیہ ، مسز ، زوجہ ، سونو ، مونو اور دیگر سوشل میڈیا ناموں کی آئی ڈیز ہیں ” یہ سب بھی صنف نازک ہونے کے حوالے ہی ہیں ۔۔۔اور آپ یہاں بہرحال ایک خاتون کی حیثیت سے ہی موجود ہیں ان سب باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے ہماری خواتین اپنی صنف کی نمائندگی ہی نہ کریں سوشل میڈیا پر متحرک نہ ہوں۔۔۔ پتھر کے دور میں چلی جائیں اور اپنی شخصیت کو گمنام کرلیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔
    اپنا بھرپور کردار ادا کرنا اور اپنی موجودگی یا اپنی رائے کا اظہار بھی کرنا۔۔ اور اس طاقتور پلیٹ فارم سے مثبت چیزیں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ضرور جاری رکھنا چاھیئے لیکن ہر قدم پہ احتیاط پسندی ، نپا تلا اور باوقار انداز اولین ترجیح ہونا چاھیئے ۔۔۔ خصوصاً پبلک پوسٹ سے کیسا پیغام جا رہا ہے یہ لحاظ رکھنا اور اپنی حدود متعین کرنا بہت ضروری ہے سارا قصور مردوں ہی پر نہ ڈالیئے۔۔کچھ تو خود بھی احتیاط کیجیئے۔۔ ورنہ پھر یہ رونے بھی مت رویئے کہ لوگ فضول سے کمنٹس کر دیتے ہیں ، انباکس اپروچ کرتے ہیں ، ہمیں پریشان کرتے ہیں۔۔
    صرف باپردہ ہونا ہی عفت مآب ہونے کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔۔اور حیاداری صرف چہرے کا پردہ کرنے سے ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ ہمارے کمنٹس اور ہماری پوسٹس بھی انکی عکاس ہوتی ہیں۔۔
    تحریر ارشاد حسین
    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • بچوں کی تعلیم وتربیت میں ماں کا کردار  تحریر: صائمہ مسعود

    بچوں کی تعلیم وتربیت میں ماں کا کردار تحریر: صائمہ مسعود

    ماں کے پاؤں تلے جنت ہے
    اس بات سے ماں کی عظمت اور درجے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
    اسلام نے عورت کو جو روپ دیئے ان میں سب سے زیادہ افضل ماں کا روپ ہے
    جب ایک بچہ دنیا میں انکھ کھولتا ہے اسکی پہلی درسگاہ اسکی ماں کی گود ہے
    ماں بجے کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ا سکی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیے
    بچہ مکتب جانے سے پہلے بہت ساری باتیں ماں سے سیکھتا ہے
    کھانا کھانے کے اداب
    بڑوں کی عزت کرنا
    بات چیت کرنے کے طور طریقے
    اہم ہیں
    اسکے بعد جب عملی طور پر بچہ گھر سے باہر کے ماحول سے آشنا ہوتا وہ بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے
    اور جوں جوں وقت گزرتا ماں ہی وہ ہستی ہوتی جو اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے
    اج کل کے دور میں جہاں زمانہ تبدیلیوں کی جانب رواں دواں ہے وہا معاشرے کے رویوں کو بھی سمجھنا لازم ہو چکا
    ایسے میں تعلیم یافتہ ماں بچے کو ایک ذمہ دار انسان بناتی
    بچے کو احساس ہو کہ وہ مستقبل کا معمار ہے اور معاشرے میں ایک اہم ستون ہے ۔۔
    ماں ہی وہ عظیم ہستی ہوتی جو بچوں کی ہر ذمہ داری باپ کے شانہ بشانہ نبھاتی
    اوربچوں کے بہتر مستقبل کا سوچتی
    بچوں کی مثبت شخصیت بنانے میں ماں کا کردار اہم ہوتا ہے
    اسی لئے ماں خصوصاً جب اسکی بیٹیاں ہوں تو وہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ گھر گرہستی کے امور بھی بچیوں کو سکھاتی ہے
    دنیا بھر میں خواتین خصوصاً وہ جو بچوں کو تن تنہا پالتیں
    ان کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے
    بچے یا بچی کے لئے ماں آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے
    ماں کو دکھ نہیں دینے چاہیں
    کیونکہ ماں اپنے بچوں کو ہر طرح کے حالات میں تنہا نہیں چھوڑثی
    اور اولاد کے لئے کسی قسم کے حالات ہوں ڈھال اور بہترین پناہ گاہ ہے

    اسی لئے کہتے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
    ماں گھر کو روشن رکھتی اور ماں کے بغیر گھر گھر نہیں رہتا
    ماں بچوں کو تہذیب سے روشناس کراتی
    اج کل کے تیزی سے بدلتے رجحانات میں ماں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے بچوں کے لباس سے لے کر دور جدید کی تمام سہولیات کو ماں کے سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہی بچوں کی بہتر نگرانی کر سکتی کہ بچوں کے دوست کیسے
    موبائل کا استعمال کہیں پڑھائ میں روکاوٹ تو نہیں
    ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ہمیں سادگی اور پاکیزگی کا درس دیتا
    بچوں کو دین سے محبت میں ماں کا کردار ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا
    کیونکہ بچے کی اول درسگاہ ماں کی گود اور تربیت ہے
    اولاد کی نشوونما کے ساتھ ساتھ انہیں نماز کی سکھانا اور راغب کرنا بھی ماں کی اولین ذمہ داری ہے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت کریں تاکہ مستقبل میں وطن کے لئے فعال اور اچھے شہری بن سکیں

    @simsimsim1930