Baaghi TV

Category: خواتین

  • کم عمری کی شادی کے نقصانات

    کم عمری کی شادی کے نقصانات

    پاکستان میں شادی بیاہ کے سماجی و قانونی ڈھانچے میں، دوسری شادی (تعددِ ازواج) اور کم عمری کی شادی ایسے اہم معاملات ہیں جو نہ صرف خاندانوں کی ساخت بلکہ خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی زندگی کے امکانات کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رجحانات روایت، مذہب اور قانون کی ایک پیچیدہ آمیزش میں جکڑے ہوئے ہیں، اور حقوقِ نسواں کے تناظر میں شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

    کم عمری کی شادی، جسے بعض علاقوں میں ’بچپن کی شادی‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے کئی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ایک تشویشناک حقیقت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں لڑکیوں کی شادی 18 سال کی قانونی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ سندھ جیسے صوبوں نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے، اور وفاقی سطح پر بھی اس کے خلاف سخت قوانین اور سزائیں موجود ہیں، مگر یہ رواج اپنی جڑیں گہری رکھتا ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کا سب سے پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔ کم عمری میں رشتہ ازدواج میں بندھنے والی بچیاں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتیں، جس سے ان کی صلاحیتوں کا غیر ارتقائی اختتام ہو جاتا ہے۔ نوعمری میں حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیاں لڑکیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں ایک بڑا حصہ کم عمر ماؤں کا ہوتا ہے۔ نابالغ لڑکی، جو جذباتی اور ذہنی طور پر ازدواجی ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہوتی، اکثر گھریلو تشدد، زبردستی اور جذباتی استحصال کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ شادی اس کا بچپن، بے فکری اور خود مختاری چھین لیتی ہے۔ چونکہ یہ شادیاں اکثر والدین یا خاندان کے فیصلے پر ہوتی ہیں، لڑکی سے اس کے زندگی کے سب سے اہم فیصلے یعنی شریک حیات کے انتخاب کا حق سلب کر لیا جاتا ہے۔

    اسلام میں تعددِ ازواج کی مشروط اجازت ہے، لیکن پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے تحریری اجازت اور یونین کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے صوابدیدی اختیار پر قدغن لگانا تھا۔ اگرچہ قانون میں پہلی بیوی کی اجازت لازمی ہے، لیکن کئی واقعات میں مرد حضرات یونین کونسل سے رجوع کیے بغیر یا پہلی بیوی پر دباؤ ڈال کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے حقوقِ کفالت، مساوات اور جذباتی استحکام شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ دوسری بیوی کو لانے سے اکثر پہلی بیوی اور بچوں کو مالی اور جذباتی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تعددِ ازواج میں تمام بیویوں کے ساتھ مکمل اور برابر کا سلوک، جو کہ مذہبی حکم بھی ہے، عملی طور پر ایک نازک توازن بن جاتا ہے جسے برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔قانون موجود ہونے کے باوجود، دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس کی کمزور عملداری اور کم آگاہی کی وجہ سے خواتین اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوتیں اور انہیں استعمال کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔

    یہ دونوں سماجی و قانونی چیلنجز خواتین کی حیثیت اور ان کے وقار کے خلاف ہیں۔ حقوقِ نسواں کی حقیقی پاسداری کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ، کم عمری کی شادی اور غیر قانونی تعددِ ازواج کے خلاف قوانین کو پورے ملک میں بلا امتیاز مذہب و علاقے سختی سے نافذ کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ وہ شعور اور معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں اور اپنے شادی کے فیصلے خود کر سکیں۔ مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور میڈیا کے ذریعے ان سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائی جائے اور اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوقِ مساوات و عدل کی صحیح تفہیم کو فروغ دیا جائے۔تمام صوبوں میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال پر لانا اور اس کی خلاف ورزی پر سزاؤں کو سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پاکستان میں خواتین کی مکمل خودمختاری کا سفر تب تک ادھورا رہے گا جب تک کم عمری کی شادی اور تعددِ ازواج جیسے مسائل پر تحقیقاتی، تنقیدی اور اصلاحی نظر نہیں ڈالی جاتی۔ خواتین کو صرف خاندان کی زینت نہیں، بلکہ ایک آزاد، باشعور اور بااختیار شہری تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں بلکہ ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اپنا پورا کردار ادا کر سکیں۔

  • اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    کمرے کی دیواروں پر وقت کے سائے رینگ رہے تھے۔ کھڑکی کے پردے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے، جیسے ہوا بھی کسی انجانی بےچینی کا اظہار کر رہی ہو،شگفتہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی۔آئینہ اُس کا چہرہ نہیں، اُس کی تنہائی دکھا رہا تھا،اس کے ہاتھوں میں کنگھی تھی، مگر وہ بالوں کو نہیں، خیالوں کو سلجھا رہی تھی،خیالات جو برسوں سے الجھے پڑے تھ، کبھی محبت کی نمی میں، کبھی نظراندازی کی دھول میں۔

    ناصر، اس کا شوہر، ہمیشہ کی طرح اخبار کے سمندر میں غرق تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے حروف ناچتے، خبریں چیختیں، تصویریں لہراتیں ، مگر ان سب میں کہیں شگفتہ نہیں تھی،اسی اثنا،شگفتہ نے دھیرے سے کہا،ناصر، آج چاند بہت خوبصورت ہے ناں،ناصر نے اخبار کے اوپر سے سرسری سی نگاہ ڈالی، اور بنا توجہ کئے بولا، ہوں… شاید،اور پھر حروف کی دنیا میں واپس چلا گیا۔

    یہ شاید کا لفظ شگفتہ کے دل میں کسی خنجر کی طرح اتر گیا۔کیا کسی کی توجہ بھی اب شاید ہو گئی ہے؟رات کے وقت وہ اکثر خود سے باتیں کرتی،کبھی آئینے سے، کبھی دیوار سے، کبھی چاند سے،میں تو کچھ نہیں مانگتی، وہ کہتی، نہ تحفے، نہ وعدے،بس ایک لمحے کی نگاہ ایک سنجیدہ لمسِ توجہ،مگر یہ چھوٹی سی خواہش بھی اب دنیا کے شور میں دب چکی تھی،عورت کی آواز اکثر نرم ہوتی ہے، مگر جب وہ دب جاتی ہے تو صدیوں گونجتی رہتی ہے۔

    شگفتہ کی نگاہیں اب کمرے کے ہر کونے میں بھٹکنے لگیں،دریچے، میز، دیوار پر لٹکا کیلنڈر ، ہر شے خاموش تھی،مگر ان خاموشیوں میں ایک طنز چھپا تھا، جیسے کہہ رہی ہوں تمہیں توجہ چاہیے، مگر تمہارا وجود اب معمول بن چکا ہے،کبھی کبھی اسے یاد آتا وہ دن جب ناصر کی نگاہیں اُس پر ٹکی رہتی تھیں،جب ایک چائے کے کپ میں مسکراہٹ گھول دی جاتی تھی،جب خاموشی میں بھی ایک مکالمہ ہوتا تھالیکن….اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،توجہ ایک رسمِ ماضی بن گئی تھی،وہ چاہتی تھی کہ کوئی اُس کے چہرے کی لکیروں میں وقت کی تھکن نہ دیکھے، بلکہ اُس کے دل میں باقی رہ جانے والے احساس کو پہچانے۔

    شگفتہ اکثر سوچتی،یہ دنیا عورت سے محبت تو مانگتی ہے، مگر اسے سننا نہیں جانتی،عورت جب بولتی ہے، تو لوگ کہتے ہیں ‘خاموش رہو،اور جب خاموش رہتی ہے، تو کہتے ہیں ‘تم بدل گئی ہو۔کیا عورت کی توجہ کی خواہش کوئی گناہ ہے،یا یہ فطرت کی وہ صدائے خموش ہے جسے مرد سننے سے قاصر ہے؟ایک رات وہ دیر تک جاگتی رہی،
    چاند کھڑکی سے اندر جھانک رہا تھا،اور چاندنی نے کمرے کے ہر کونے کو چھو لیا تھا،اس نے آہستہ سے کہا، چاند، تم بھی تو ہر رات آتے ہو، مگر کوئی تمہیں دیکھتا کب ہے،تمہاری روشنی سب کے لیے ہے، مگر تمہاری تنہائی تمہاری اپنی ہے۔میں تمہاری طرح ہوں شاید، چمکتی ہوئی، مگر غیرمحسوس

    چاند جیسے سن رہا تھا،روشنی کی ایک لہر اس کے چہرے پر گری،اور وہ مسکرا دی ،وہ مسکراہٹ جو دل کی تھکن سے جنم لیتی ہے، مگر شکستگی میں بھی حسن رکھتی ہے۔شگفتہ نے خود سے کہا،شاید عورت کو توجہ کے لیے دوسروں کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔توجہ ایک کیفیت ہے، جو اندر سے پیدا ہوتی ہے،اگر دل بیدار ہو، تو پوری کائنات اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے،اور تب پہلی بار، اس نے خود کو محسوس کیا ،اپنے سانسوں کی نرمی، اپنی آواز کی گہرائی، اپنی مسکراہٹ کی موجودگی،

    کمرے میں اب ویسا سنّاٹا نہیں تھا،دیواریں جیسے سانس لے رہی تھیں،شگفتہ نے کھڑکی کھولی ، ہوا کے نرم جھونکے نے اس کے بالوں کو چھوا،وہ لمحہ گویا کائنات کی خاموش اعترافی نگاہ تھی ،ایک خاموش مگر بھرپور توجہ،ناصر اب بھی اخبار پڑھ رہا تھا،مگر اس رات شگفتہ نے اُس کی طرف نہیں دیکھا۔وہ آئینے میں دیکھ رہی تھی ، خود کو،اور شاید پہلی بار،اسے لگا کہ وہ دیکھی جا رہی ہے ،کسی انسان کی نہیں،بلکہ اپنے وجود کی نگاہ سے

  • کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    زندگی بہت مختصر ہے اور سب کو اپنے اپنے حصے کی ملی ہے۔ کوئی انسان کسی دوسرے کی زندگی نہیں کی سکتا نہ کسی کی قسمت میں لکھے غموں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے نہ کسی کو ملی خوشیوں کو جی سکتا ہے۔ کوئی انسان کسی کے سکھ اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا اور نہ کسی کے دکھ بانٹ سکتا ہے۔ جو جس کا ہے وہ اسی کا ہے پھر پتہ نہیں کیوں کچھ لوگ اپنے حصے کی زندگی جینے کی بجائے دوسروں کی زندگی میں ذیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
    الحمدللہ! مجھے میرے پیارے رب نے بہت سے ممالک دیکھنے کا موقع نصیب کیا اور تقریباً پیارے وطن کے تمام شمالی علاقہ جات بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ بے شک یہ میرے رب کا فضل ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر طرف ایک گہما گہمی ہے وہاں ہر طرح کے رابطوں کا ذریعہ بھی یہی میڈیم ہے۔ آج سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ایک کلک کے ساتھ آپ اپنی زندگی کے یادگار لمحات کو ہمیشہ کے لیے اپنی یادوں میں قید کر سکتے ہیں ان کو اپنے پیاروں کے ساتھ شئیر بھی کر سکتے ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر بہت ذیادہ ایکٹیو بھی نہیں ہوں لیکن ابھی چند دن ہوئے میں نے چند تصاویر پوسٹ کیں اور میں حیران رہ گئی کہ
    لوگ کیسے دوسروں کو دین سکھاتے ہیں۔
    فتوے جاری کرتے ہیں۔
    تو چلیں کچھ باتیں کرتے ہیں!
    ان لوگوں سے جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو صرف محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو مجھے دین سکھانا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے بھی جو مجھے غلط اور صحیح کا درس دینا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری فرینڈ لسٹ میں ہیں لیکن فرینڈ نہیں۔
    ان لوگوں سے جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان لوگوں سے بھی جو۔۔۔۔۔۔

    اللّٰہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ میں نے تقویٰ اور فجور انسان کے دل میں ڈال دیا ہے اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کوئی انسان امریکہ جائے، انگلینڈ جائے، دبئی جائے یا دنیا کے کسی کونے میں جائے اس پر تصویر بنانے اور سیلفی لینے میں کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوتا لیکن حرم جو سب سے قیمتی، پیاری، پاک جگہ ہے جہاں کا ایک ایک لمحہ محفوظ کرنا ہر مسلمان کی اولین خواہش ہو سکتا ہے وہاں پر تصویر لینے میں فوراً فتویٰ جاری۔۔۔۔۔میرا سوال اہل علم و دانش سے ہے تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر لگانا غلط ہے یا حرم میں تصویر بنا کر لگانا غلط۔۔۔۔؟ کیونکہ جہاں تک میری ناقص عقل ہے تو غلط تو ہر جگہ غلط ہی ہوتا ہے۔

    میری عبادت، میرا اللّٰہ سے تعلق، میں اس کی خود ذمہ دار ہوں عام عوام کو میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر میں حرم سے ہر روز ایک سیلفی لے کر پوسٹ کر رہی ہوں تو بھی میری مرضی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی لوگوں کے اعتراضات کی، کوئی صاحب علم و دانش مجھے سمجھا دے کہ گلے میں دوپٹہ ڈال کر یا کبھی بغیر دوپٹے کے بال کھول کر دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی اپنی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے تو لوگ ماشاءاللہ کی لائن لگا دیتے ہیں لیکن پردے اور خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے کوئی اپنی تصویر لگا دے تو اس کا جینا مشکل کر دیتے ہیں لوگ۔
    لوگ بغیر جانے دوسروں کو کیوں جج کرتے ہیں؟
    کسی کے لباس سے کوئی کیسے کسی کا تعلق باللہ جانچ سکتا ہے؟
    کیا اللہ اور بندے کے درمیان کی محبت ماپنے کا کوئی پیمانہ انسانوں کے پاس ہے؟

    اسی لیے ۔۔۔۔اسی لیے۔۔۔۔اسی تنگ نظری کی وجہ سے ہماری نئی نسل دین سے دور ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ اگر ہم پردہ کریں گے تو زندگی کے دروازے ہم پر تنگ ہو جائیں گے۔ میں ان کو بتانا چاہتی ہوں دین اسلام میں بہت وسعت ہے بس خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے اپنی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق جئیں اور دوسروں کو جینے دیں۔ اگر کسی کی عبادت قبول نہیں ہو رہی تو پلیز آپ لوگ ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔۔اگر اچھا نہیں بول سکتے تو برا بھی نہ بولیں۔۔۔۔۔اتنے تو ہم سب مسلمان ہیں نا کہ حطبہ حجہ الوداع میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
    "لوگو! تمھارے خون، تمھارے مال، تمھاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسے کہ تم پر آج کا دن اور اس شہر کی حرمت، دیکھو عنقریب تمھیں اللّٰہ کے سامنے حاضر ہونا ہے وہ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔”

    غور سے پڑھیے گا تمھارے اعمال کے بارے میں سوال ۔۔۔۔۔۔میرے نہیں ۔۔۔۔۔ کسی اور کے اعمال کے بارے میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے اعمال کے بارے میں اللہ نے پوچھنا ہے۔
    "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔” یہاں تو زبان اور ہاتھ رکتے ہی نہیں۔ جب جس کا دل چاہتا ہے ہاتھ کی انگلیوں سے بٹن دبایا اور تنقید اپنا حق سمجھ لیا۔ اگر تنقید برائے اصلاح ہو تو وہ ان باکس میں کرنی چاہیے کمینٹ باکس میں اصلاح نہیں بلکہ بے عزتی ہوتی ہے۔ صحن حرم میں لی گئی ایک تصویر پر مجھ سے دوستی کے دعوے داروں کا کمینٹ آتا ہے کہ حرم میں جوتا پہنا ہے۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ جوتا اتارتی تو زیادہ عاجزی نظر آتی۔ پھر ایک کمینٹ آتا ہے کہ یہی جوتا واش روم میں لے کر گئیں اور یہی صحن حرم میں، مجھے کوئی ان سے پوچھ کر یہ بتائے جب میں حرم میں واش روم گئی تھی تو یہ میرے ساتھ تھے انہوں نے دیکھا تھا کہ میں نے یہی جوتا پہنا ہے؟ یہاں بھی کوئی سعودی گورنمنٹ کا فتویٰ ہے تو ضرور کوئی مجھے بتائے ورنہ میں نے تو حرم میں ہر سوئیپر کو، ہر پولیس والے کو، ہر ملازم کو ہر ایک کو جوتوں نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ مٹی لگے ہوئے بھاری بھرکم بوٹوں میں دیکھا ہے۔ خدارا دین کو تنگ نہ بنائیں۔
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دین میں آسانی پیدا کرو مشکل میں نہ ڈالو، خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو۔”
    دین کے ٹھیکے دار بننے کی بجائے اپنے اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں۔ دور نبوت میں سیدنا اسامہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے ایک سریہ کے دوران ایسے شخص کو پایا جس نے تلوار دیکھ کر فوراً لا الہ الا اللہ پڑھ لیا مجھے لگا اس نے تلوار اور موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے جب یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا: "اسامہ! کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ تمھیں کیسے پتہ کہ اس نے سچ میں کلمہ پڑھا یا موت کے ڈر سے۔” پھر رسول اللّٰہ بار بار یہ بات دہراتے گئے اور میں نے سوچا کاش میں نے آج اسلام قبول کیا ہوتا اور میرے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے۔(حوالہ صحیح مسلم:7)
    کسی کا اللہ سے کیا تعلق ہے؟
    وہ حرم میں تصویر بنائے یا ننگے پاؤں چلے۔۔۔۔وہ فرمان نبوی ہے نا کہ "اللہ بندے کی قربانی کا گوشت یا خون نہیں بلکہ اس کے دل کا تقویٰ دیکھتا ہے۔”
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق:”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔”
    اور جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں تو ابھی تک سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ دلوں اور نیتوں کو جانچنے والا کوئی آلہ بنا لیا ہو۔ دوسروں کی نیتوں پر نہیں اپنی نیتوں پر غور کریں۔ خدارا دین میں آسانیاں پیدا کریں جیں اور جینے دیں۔ اللہ پاک ہم سب کی مدد فرمائے آمین!

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی محض الفاظ کے نہ ہونے کا نام نہیں، یہ روح کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے اندر کے مکالمے سنتا ہے۔ بعض اوقات ایک لمحۂ سکوت ہزاروں لفظوں پر بھاری ہوتا ہے۔ دل کی گہرائیوں میں چھپی وہ صدائیں جو زبان ادا نہیں کر پاتی، خاموشی ہی کے پردے میں زیادہ واضح ہو جاتی ہیں۔

    ہمارا موجودہ معاشرہ شور و ہنگامے میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاست کا شور، میڈیا کا شور، بازاروں کا شور—لیکن ان سب آوازوں کے بیچ وہ سکوت کھو گیا ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ ہر شخص بول رہا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات کمزور اور دلوں کے فاصلے طویل ہو گئے ہیں۔خاموشی کی اپنی زبان ہے۔ یہ کبھی محبت کی گہری علامت بن جاتی ہے اور کبھی احتجاج کا سب سے مضبوط اظہار۔ کبھی یہ زخموں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کبھی دعا کی صورت آسمان تک پہنچتی ہے۔ اہلِ دانش کا کہنا ہے کہ کچھ سچائیاں صرف سکوت میں سمجھی جا سکتی ہیں، کیونکہ شور میں حقیقت کی آواز دب جاتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ آج ہم نے یہ دولت کھو دی ہے۔ ہماری زندگیاں مصنوعی مصروفیات میں الجھ گئی ہیں۔ لمحہ بھر کے سکوت کو ہم اجنبیت سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ یہی لمحے ہماری روح کے لیے شفا ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شور سے نکل کر اپنے اندر جھانکیں، اپنے دل کی خاموشی کو سنیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی خاموشی کو سمجھ لیتا ہے، وہی اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو پہچان لے تو دنیا کے ہنگامے بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو پاتے۔

  • اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ ایک فتنوں سے بھرا دور ہے۔ گناہ عام ہو چکے ہیں، بے حیائی نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، اور سوشل میڈیا نے ہمارے ہاتھوں سے اخلاقی کنٹرول چھین لیا ہے۔ ہم سب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ "ہماری گورنمنٹ ٹھیک نہیں”، "معاشی حالات برے ہیں”، "امن و امان نہیں”، مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم خود کتنے ٹھیک ہیں؟،آج مرد و عورت دن رات سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ حیا، شرم، اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں نامحرموں سے بات چیت کو فخر سمجھتے ہیں۔ تصاویر، ویڈیوز، اور لائکس کی دوڑ نے ہمیں اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ٹک ٹاک، انسٹا گرام، اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحاشی عام ہے۔خواتین اپنے جسم کی نمائش کو آزادی کا نام دیتی ہیں۔مرد ان پلیٹ فارمز پر عورتوں کو تماشہ بنا کر تفریح لیتے ہیں۔نکاح مشکل، زنا آسان ہو گیا ہے۔

    ہم پنج وقتہ نماز چھوڑ کر دعا مانگتے ہیں کہ "یا اللہ ہمیں رزق دے”۔ ہم ماں باپ کی نافرمانی کرکے چاہتے ہیں کہ "اللہ ہماری اولاد کو نیک بنا دے”۔ ہم سود، جھوٹ، اور خیانت کے دھندوں میں ملوث ہو کر دعا کرتے ہیں کہ "اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے”۔کیا ہم اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟قرآن کہتا ہے:اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے،

    جب ہم ٹیکس چوری کرتے ہیں، رشوت لیتے اور دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، سفارش پر حق دار کا حق چھینتے ہیں ، تو کیا قصور صرف حکومت کا ہے؟اگر حکومت کرپٹ ہے، تو یاد رکھیں کہ وہ اسی معاشرے سے نکلی ہے۔ معاشرہ ہم ہیں۔ اگر ہم خود کرپٹ ہیں، تو ہمارے حکمران کیسے نیک ہو سکتے ہیں؟ہمیں حکومت بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر شرم و حیا کو فروغ دیں،اپنی اولاد کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کریں،حلال کمائی کو ترجیح دیں،سچ بولیں، امانت دار بنیں،اللہ کے احکامات پر عمل کریں ،ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تو نہ نظام بدلے گا، نہ حکومت، نہ حالات۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔آج کا وقت پکار رہا ہے،اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔

  • حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ عورت کی عزت ، حیا ، وقار اور اسلامی شناخت کی علامت ہے ۔ حجاب ۔۔۔ عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ حجاب ڈے کی بنیاد فرانس میں حجاب کے خلاف پابندیاں بنیں۔ فرانس میں مسلم خواتین کے برقع اوڑھنے پر تنازعات پیدا ہونے کے بعد اپریل میں ہیملٹن کی مشہور میک ماسٹر یونیورسٹی میں کچھ مسلم و غیر مسلم طلبہ نے حجاب ڈے منایا۔ کچھ عرصے بعد یہ دن فرانس میں قومی سطح پر منایا جانے لگا۔ کچھ عرصہ بعد کینیڈا میں بھی اس دن کو منایا جانے لگا۔ فرانس اور کینیڈا کے بعد اب چار ستمبر کو عالمی سطح پر حجاب کا دن منایا جاتا ہے۔اسی طرح امریکہ کی ایک مسلمان خاتون نزیما خان نے حجاب ورلڈ ڈے منانے کا اعلان کیا ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ تھا کہ عورت کو باور کروایا جائے کہ حجاب بوجھ نہیں بلکہ ضرورت ہے ۔ اس دن کے منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مختلف مذاہب اور معاشروں سے تعلق رکھنے والے جو لوگ حجاب پر تنقید کرتے ہیں ، مسلمان خواتین سے نفرت کرتے ہیں ان کو یہ باور کروایا جاسکے کہ ان کے متعصبانہ سلوک کی وجہ سے مسلمان خواتین کن مشکلات اور تعصبات کا شکار ہیں۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آج حجاب ڈے ایک عالمی تحریک تحریک بن چکا ہے، جس میں ساٹھ سے زائد ممالک کی خواتین اور ادارے شریک ہوتے ہیں۔

    اسلام عورت کو عزت، وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں حجاب کا حکم واضح الفاظ میں موجود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور مومنہ عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیں۔”(سورة النور: 31) اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: "اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔”(سورة الاحزاب: 59)ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاب عورت کی عزت کا حصار ہے۔ یہ صرف ظاہری لباس نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے، جو عورت کو پاکیزگی، سکون اور وقار عطا کرتا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے بھی عورت کی عفت و عصمت کے تحفظ پر زور دیا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی عورتوں نے فوراً اپنے دوپٹے بڑے کرلیے اور سر سے پاوں تک اپنے آپ کو ڈھانپ لیا۔ یہ صحابیات کے ایمان اور فرمانبرداری کا عملی ثبوت ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ حجاب عورت کےلئے روزمرہ کی ضروریات اور خوراک سے بھی زیادہ ضروری ہے ۔ حجاب کرنے کے فوائد ہی فوائد ہیں ۔ حجاب کرنے والی خاتون نہ صرف اپنی حفاظت کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو برائیوں سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔حجاب کرنے سے روحانی سکون اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ حجاب اللہ کے حکم کی تعمیل ہے۔ جو عورت یہ حکم پورا کرتی ہے، اس کے دل میں ایمان کی تازگی اور روحانی سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ خود کو اللہ کے قریب محسوس کرتی ہے۔ حجاب عورت کو وقار بخشتا ہے۔ لوگ اسے احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کردار اور حیاءکی حفاظت کرتی ہے۔

    حجاب معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور برائی کے دروازے بند کرتا ہے۔ یہ عورت اور مرد دونوں کو گناہوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ جب خواتین حجاب اختیار کرتی ہیں تو معاشرے میں بد نظری، ہراسانی اور بے حیائی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اس سے ایک پاکیزہ معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔

    حجاب عورت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اس پر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت لازم ہے۔جہاں حجاب کرنے کے بے شمار فوائد ہیں وہاں حجاب نہ کرنے کے بیشمار نقصانات بھی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔ جو عورت حجاب نہیں کرتی وہ براہِ راست اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس کا انجام آخرت میں سخت عذاب اور درد ناک عذاب ہے۔حجاب نہ کرنے کا دوسرا مطلب ہے بے پردگی ۔ بے پردگی معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ نہ صرف عورت کو بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔مغربی معاشروں میں جہاں حجاب کو نظرانداز کیا گیا، وہاں عورت محض جسمانی کشش اور تفریح کا ذریعہ بن گئی۔ نتیجتاً عزت و وقار کی بجائے وہ اشتہارات اور خواہشات کی تسکین کا آلہ سمجھی جانے لگی۔بے پردگی اور مخلوط زندگی طلاق، بے وفائی اور خاندانی جھگڑوں کا سبب بنتی ہے۔ یہ چیز خاندان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

    اسلامی تاریخ میں صحابیات کے کردار سے ہمیں حجاب کی حقیقی روح سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے ہمیشہ وقار اور حیاءکے ساتھ زندگی گزاری اور خواتین کے لیے عملی نمونہ پیش کیا۔
    حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی حیاءاور عفت ایسی تھی کہ غیر محرم کی موجودگی میں بھی مکمل پردے کا اہتمام فرماتیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ فرماتی ہیں کہ عورت جب اپنے گھر سے باہر نکلے تو خود کو مکمل طور پر ڈھانپے تاکہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ایک موقع پر جب ان کا لباس باریک تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً توجہ دلائی کہ عورت کے جسم کا ظاہر صرف ہاتھ اور چہرہ ہے، باقی سب ڈھانپنا ضروری ہے۔یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ صحابیات نے حجاب کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنایا اور آنے والی نسلوں کے لیے عملی نمونہ چھوڑا۔آج مغرب میں حجاب پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ کبھی اسے دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے اور کبھی عورت کی آزادی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حجاب ہی عورت کی اصل آزادی ہے، کیونکہ یہ اسے ہوس پرست نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ الحمدللہ دنیا بھر کی لاکھوں مسلم خواتین ہر قسم کے دباو¿ اور تعصب کے باوجود حجاب پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ یہی ایمان اور غیرت کا مظہر ہے۔اسلام نے عورت کو وہ عزت عطا کی ہے جو کسی مذہب یا تہذیب نے نہیں دی۔ حجاب اس کی عزت کا سب سے بڑا نشان ہے۔ یہ عورت کی پاکیزگی، حیاءاور وقار کی ضمانت ہے۔ حجاب ترک کرنا دراصل اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے جو دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث ہے۔میں اپنی ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں سے کہوں گا کہ وہ نہ صرف خود حجاب ڈے کے موقع پر نہ صرف خود حجاب کی پابندی کریں بلکہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو بھی اس کی ترغیب دیں، تاکہ ہمارامعاشرہ پاکیزگی، امن اور ایمان کی روشنی سے منور ہو سکے۔

  • ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم، کڑوے ضرور ہیں مگر منافق نہیں ہیں ہم

    زندگی میں سب کو خوش رکھنا اور ہر ایک کی پسند پر پورا اترنا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دنیا کو دکھانے کے لیے میٹھے بول بولتے ہیں، چاہے دل میں کچھ اور ہو۔ جبکہ کچھ لوگ سچ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان کی بات کسی کو بری لگے۔ یہ بلاگ انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی بات صاف، سچی، اور دل سے کہتے ہیں ، اور اسی لیے اکثر "کڑوے” کہلائے جاتے ہیں۔سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ دل کو چبھنے والا، کانوں کو ناگوار، اور ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی سچ وہ آئینہ ہے جس میں ہم خود کو دیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ ہم واقعی ہیں۔جو لوگ سچ بولتے ہیں، وہ اکثر دوسروں کی نظروں میں "کڑوے” بن جاتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں چاپلوسی نہیں ہوتی، لیکن ان کے دل میں کوئی کھوٹ بھی نہیں ہوتا۔ وہ جیسا محسوس کرتے ہیں، ویسا ہی کہتے ہیں اور یہی چیز انہیں منافقوں سے الگ کرتی ہے۔

    منافقت بظاہر نرم خوئی، شائستگی، اور میٹھی باتوں کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے، لیکن اندر سے یہ ایک زہر ہے۔ منافق لوگ ہر کسی کے سامنے ایک نیا چہرہ رکھتے ہیں، ہر کسی کی پسند کے مطابق ڈھل جاتے ہیں، لیکن دل میں ان کا کچھ اور ہی ارادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ وقتی طور پر پسند کیے جاتے ہیں، لیکن جب اصلیت سامنے آتی ہے تو اعتماد ایک بار ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑتا نہیں۔وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کے بجائے سچ کا ساتھ دیتے ہیں، وہ معاشرے کا اصل آئینہ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں وہ باتیں بتاتے ہیں جو شاید ہم سننا نہ چاہیں، لیکن ان باتوں سے ہم بہتر انسان بن سکتے ہیں۔یہ لوگ وفادار دوست، سچے رشتہ دار، اور مخلص ساتھی ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں وقتی طور پر تلخ ضرور لگتی ہیں، لیکن ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد دل آزاری نہیں، بلکہ اصلاح ہوتا ہے۔

    زندگی ایک سٹیج نہیں کہ جہاں ہر وقت اداکاری کی جائے۔ اگر ہم اپنی اصلیت چھوڑ کر دوسروں کی پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے لگیں، تو ہم اپنی انفرادیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے کہ ہم کیسا انسان بننا چاہتے ہیں،وہ جو سب کو خوش کر کے اپنا اصل کھو دے؟یا وہ جو سچ بول کر دلوں میں اپنی جگہ بنائے، چاہے وہ جگہ سب کے دل میں نہ ہو؟”کڑوے ضرور ہیں، مگر منافق نہیں ہیں” یہ جملہ ان تمام لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے جو سچائی کے راستے پر چلتے ہیں، چاہے وہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔اگر آپ بھی سچ بولتے ہیں، اپنی بات صاف طریقے سے رکھتے ہیں، اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے خود کو نہیں بدلتے ، تو آپ اکیلے نہیں، یہ دنیا شاید آپ کو فوری طور پر نہ سمجھے، لیکن وقت گواہی دے گا کہ سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں، اور منافقت کی عمارت دیرپا نہیں ہوتی۔

  • مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "مبارک ہو!” یہ الفاظ سماعتوں کو کتنے بھلے لگتے ہیں۔ جب کوئی لیڈی ڈاکٹر کسی باپ کو بتاتی ہے کہ "مبارک ہو آپ کے گھر میں رحمت آئی ہے۔ خاص طور پر اس والد کی بات کروں گی جہاں شدت سے بیٹی کی پیدائش کا انتظار کیا جا رہا ہو۔ گھر کو سجایا جاتا ہے ہر طرف خوشیاں منائی جاتی ہیں طرح طرح کے پکوان بنتے ہیں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ یہ اس گھر کا منظر ہے جہاں واقعی بیٹی کو رحمت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں باپ سوچتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ رزق کے دروازے کھلتے ہیں لیکن اسی دور میں اب بھی زمانہ جاہلیت جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں اسے برا بھلا کہتے ہیں اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر مرد بھی مکمل طور پر بہترین باپ نہیں ہوتا۔ کئی باپ اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن کئی باپ اپنی بیٹیوں کو اپنی زندگی کی بہار سمجھتے ہیں۔ آج ہم اس باپ کے بارے میں بات کریں گے جو اپنی بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے اس کی ہر خواہش اس کی زبان پر آنے سے پہلے پوری کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو اپنی بیٹی کی محبت میں کسی کی بیٹی کو ذلیل کرنے سے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اپنی بیٹی کی محبت اس کے باقی تمام رشتوں پر خاوی آ جاتی ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے اسے اچھے سے اچھا کھلائے پلائے بہترین تعلیمی ادارے میں داخل کرواتا ہے۔

    "بابا جان! اسکول کا ٹرپ جا رہا ہے مجھے کچھ پیسے اور آپ کی اجازت چاہیے۔” سارے زمانے کی معصومیت لیے بیٹی باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
    "کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی لڑکی ہو گھر پر بیٹھو۔ حالات دیکھے ہیں باہر کے۔” بیٹی کے لیے فکر مند ماں فوراً سے باپ بیٹی کے مکالمے میں زبردستی آ جاتی ہے حالانکہ اس کی رائے نہ کسی نے مانگی اور نہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔
    "تم تو چپ ہی رہو۔ میری بیٹی تو شہزادی ہے اور وہ ضرور جائے گی۔” بیٹی کی محبت میں چور چور باپ کسی اور کی بیٹی کو ہمیشہ اس کی اوقات یاد دلانے سے باز نہیں آتا۔ وہ محبت کیوں نہ کرے آخر وہ اس کا خون ہے اور خون کی محبت تو لازم ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ میاں بیوی کا رشتہ اس زمین کا وہ پہلا رشتہ تھا جسے رب کائنات نے تخلیق کیا تھا اس رشتے کے سبب اولاد پیدا ہوتی ہے کتنے خون کے رشتے تخلیق ہوتے ہیں۔ آپس میں بہن بھائیوں کی محبت والدین کی وجہ سے چچا پھوپھو ماموں خالہ دادا دادی نانا نانی سب سے خون کا رشتہ بن جاتا ہے مگر میاں بیوی کا رشتہ بیک وقت بہت مضبوط اور کمزور ہوتا ہے جو نکاح کے دو بول سے جڑ جاتا ہے اور طلاق کے دو بول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ رشتہ خون کا نہ ہونے کے باوجود اگلی نسل کو کئی خون کے رشتے دے جاتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے ننھی پری جو گھر کے آنگن میں اچھلتی کودتی تھی وہ جو گھر بھر کی رونق ہے۔ کبھی باپ کو شکایت لگا کر بھائیوں کی پٹائی کرواتی ہے تو کبھی ضد کر کے سہیلیوں کے ساتھ باہر گھومنے جاتی ہے۔
    "آپ اس کی ہر بات نہ مانا کریں عادتیں خراب ہو جائیں گی۔ کل کو شادی بھی تو کرنی ہے کون پوری کرے گا اس کی ہر خواہش آپ کی طرح۔” ماں کے دل کا ڈر اس کی زبان پر آ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ خواہشات بس باپ کے آنگن تک ہی پوری ہوتی ہیں بلکہ کبھی کبھی اسی آنگن میں خواہشات دم توڑ دیتی ہیں پھر انہیں یہ باپ خود ہی مار کر دفنا دیتے ہیں۔ ماں کی بات ہر اکثر باپ کی لاڈلی کو غصہ آ جاتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے لگتا ہے یہ میری سوتیلی امی ہیں۔ کبھی مجھے خوش نہیں دیکھ سکتیں۔” باپ کی محبت کے حمار میں قید ایک بیٹی اکثر وسوسوں میں الجھی ماں کو ایسے ہی سمجھتی ہے۔

    "تم فکر نہ کرو میری بیٹی شہزادی ہے اور میں اس کے لیے شہزادہ کی تلاش ہی کروں گا۔ جو آزادی اسے اپنے باپ کے گھر میں ہے ویسے ہی آگے ملے گی میری بیٹی ہے بہت خوش قسمت رہے گی۔” ایک باپ کا غرور اپنی بیٹی کو لے کر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
    "ہاں! جیسے میرے باپ نے شہزادہ تلاش کیا تھا جس کے گھر میں مجھے سب آزادی ہے۔” ایک ماں کا خاموش احتجاج۔
    "بہت ہی ناشکری عورت ہو تم کیا کمی ہے تمھیں اس گھر میں؟ کھانا پینا، اچھا پہننا اوڑھنا تم جیسی عورتیں ہی ناشکری ہوتی ہیں بس میری بیٹی سے مقابلہ کرنا ہے تمھیں۔”
    "میری بھی بیٹی ہے وہ اور اس کی بھلائی ہی چاہتی ہوں میں۔” درد سے چور نڈھال لہجے میں جواب آتا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

    یہ کہانی سب کو کچھ کچھ اپنی لگے گی۔ یہ کہانی اکثر گھروں کی ہو سکتی ہے۔ جس میں اکثر ماں ظالم اور باپ محبت کرنے والا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی بیٹی ماں کے محتاط رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ باپ کے تحفظ اور محبت بھری باہوں میں محفوظ بیٹی وہ نہیں دیکھ پاتی جو ماں کا تجربہ اسے دکھانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے اور پھر وہ وقت آتا ہے جب بیٹی کی زندگی کے سب اہم فیصلے کا وقت آتا ہے۔ اس کی شادی کا وقت اس کے جیون ساتھی تلاش کرنے کا وقت وہ باپ جو ساری زندگی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ اس کی مرضی کی تعلیم یہاں تک کہ لباس بھی وہ بیٹی اپنی پسند سے پہنتی ہے اور باپ اپنی پر اعتماد بیٹی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے یہاں شادی نہیں کرنی مجھے کوئی اور پسند ہے آپ ایک بار اس سے مل تو لیں۔”
    "کیا؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ اس لیے تمھیں پڑھایا لکھایا تمھارے اتنے لاڈ اٹھائے۔ اس دن کے لیے کہ تم میرے سامنے آ کر یہ سب کہو۔” محبت کا محل پاش پاش ہو گیا۔
    "آپ ایک بار مل تو لیں کہہ تو رہی ہے اگر آپ کو مناسب نہ لگا تو ٹھیک ہے جہاں آپ کہیں گے وہ وہیں راضی ہو جائے گی۔” ماں عورت ہوتی ہے نا وہ بیٹی کے احساسات کو سمجھتی ہے۔ اس وقت بیٹی کو پتہ چلتا ہے کہ ماں بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔
    "یہ ہے تمھاری تربیت؟ میں نے تمھارے بھروسے پر اپنی اولاد کو چھوڑا یہ نتیجہ نکلا یہ صلح ملا مجھے۔” طاقت ور کا سارا غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی نکلتا ہے۔
    "بابا جان! پسند کے نکاح کا حق تو مجھے میرے دین نے دیا ہے۔” بیٹی نے اپنے حق کے لیے دلیل دینے کی کوشش کی۔
    "مجھے دین نہ سکھاؤ میں تمھارا باپ ہوں تم میری ماں نہیں اور اسی دین نے مجھے تمھارا ولی بنایا ہے۔ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اس لیے میں ہی تم پر حق رکھتا ہوں جہاں چاہوں گا جس سے چاہوں گا شادی کروں گا۔” دو ٹوک جواب آتا ہے۔
    "مجھے نہیں کرنی آپ کی پسند سے شادی۔” اسے لگا یہاں بھی ہمیشہ کی طرح باپ اس کی ضد مان لے گا۔ میں سوچتی ہوں بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے والے والدین زندگی کی سب سے بڑی خواہش کا حق چھین لیتے ہیں۔ یہاں بھی وہی بات آ گئی نا کہ اولاد والدین کی غلام نہیں وہ تو دراصل اللہ کی غلام ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح بغیر اجازت کے نہ کیا جائے۔(صحیح بخآری:4843)

    ہم خود کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن دین اسلام کی صرف ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جو ہمیں فائدہ دیتی ہیں ہم دین کے مطابق کہاں چلتے ہیں؟ ہم تو خاندانی روایات کے مطابق چلتے ہیں۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن ہم جس نبی کے امتی ہیں آئیے ہم ان کے دربار میں چلتے ہیں۔ دربار رسالت میں سب خاموش بیٹھے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتوں کو، نصیحتوں کو ایسے سن رہے ہیں گویا ہل گئے تو کہیں کندھوں پر بیٹھے فرضی پرندے اڑ ہی نا جائیں کہ اچانک سے ایک لڑکی فریادی بن کر آتی ہے۔ ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے وہ فریاد کرتی ہے۔ "یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرا نکاح میرے گھر والوں نے میری مرضی کے بغیر کر دیا ہے۔” نکاح تو دو اجنبیوں کے درمیان ایجاب وقبول کا معاملہ ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان دل کی رضا سے مضبوط رشتہ ہے۔ جب کوئی دل سے راضی نا ہو تو کیسا رشتہ؟ یہ رشتہ کاغذی نہیں، کاغذ تو اس دور کے تقاضوں کے لیے ہے۔ اصل بات تو گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے ساتھ دل کے ایجاب وقبول کا نام نکاح ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان حلال اور پاکیزہ تعلق جس میں رب خود موجود ہوتا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لڑکی کی فریاد کو سنا اور فرمایا: "یہ لڑکی چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر دے۔”(ابوداؤد: 2096)
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مطعون کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی کی شادی ولی بن کر اس کے چچا جو کہ میرے ماموں بھی تھے سیدنا قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے مجھ سے کروا دی۔ نکاح سے پہلے لڑکی سے مشورہ نہیں کیا اسے میرے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ تھا۔ وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہا سے نکاح کرنا چاہتی تھی آخر قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے اس کا نکاح مغیرہ سے کر دیا۔”(سنن ابن ماجہ:1878)

    "بابا جان! آپ ایک بار اس سے مل تو لیں بہت اچھے خاندان کا ہے یونیورسٹی میں میرے ساتھ ہی پڑھتا ہے۔”
    "کیا اچھے خاندان کا ہے؟ یونیورسٹی پڑھنے آتا ہے یا لڑکیوں کے ساتھ چکر چلانے۔ بس میں نے کہہ دیا۔” وہ بھی اپنے باپ کی بیٹی تھی۔ ضدی تو وہ بھی تھی۔ ٹھیک ہے دو دن بھوکی رہوں گی تو خود ہی بابا جان مان جائیں گے۔ ایک دن گزر گیا بابا جان نے اسے اپنے کمرے میں بلایا وہ خوش تھی یا پھر اسے خوش فہمی تھی کہ وہ مان جائیں گے۔

    "دیکھو بیٹا! میں آپ کی بات مان لیتا مگر لوگ کیا کہیں گے کہ لڑکی کو یونیورسٹی بھیجا تو اس نے یہ کام کیا میری عزت آپ کے ہاتھوں میں ہے چاہو تو پیروں تلے روند دو چاہو تو بلند کر دو۔” دل بند ہو گیا بیٹی ہار گئی اس کی خوشی ہار گئی باپ کی جھوٹی عزت جیت گئی۔ یہاں سے دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں ایک وہ بیٹی جو ہار جائے ایک وہ بیٹی جو بھاگ جائے۔ سوچتے رہیے گا کہ ہار جانے میں اور بھاگ جانے میں قصور کس ہے ہے؟ ہارنے والی بیٹی نے باپ کو تو جتا دیا مگر ساری زندگی کے لیے تکلیف کو اپنے دامن میں بھر لیا۔ بھاگ جانے والی نے بھی کیا پایا نہ دل کی سچی خوشی نہ باپ کی دعائیں۔ دونوں صورتوں میں ہار بیٹی کی ہی ہے۔ میں یہ بات سمجھنے سے آج تک قاصر ہوں کہ زندگی جن دو لوگوں نے گزارنی ہوتی ہے ان کی رائے کی بجائے پورے خاندان سے رائے لی جاتی ہے۔ ان کی ملاقات نہیں کروائی جاتی باقی پورا خاندان اکثر ملتا جلتا رہتا ہے۔ جب اسلام نے عورت کو اپنی پسند کے نکاح کا حق دیا ہے تو ولی کھلے دل کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟ کیوں ہر بار ناپسندیدہ شخص کے ساتھ ہی صبر و شکر والی زندگی کی تلقین کی جاتی ہے؟ کیوں ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ شکر کرو تمھارا شوہر تو لاکھوں سے اچھا ہے ورنہ تو آدمی نشہ کرتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں۔
    کیا ہوا جو ذہنی آہنگی نہیں وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    کیا ہوا جو وہ تمھیں سمجھتا نہیں روٹی تو کما کر لاتا ہے نا۔
    کیا ہوا جو تمھارا دوست نہیں تمھاری ضرورتیں تو پوری کرتا ہے۔
    کیا ہوا جو محبت کا اظہار نہیں کرتا ساری ذمہ داریاں تو نبھاتا ہے۔ کیا ہوا اگر وہ دوسری شادی کرنے لگا ہے یہ حق تو اسے ہمارے دین نے دیا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ اسی دین اسلام نے عورت کو بھی حقوق دیئے ہیں۔
    سے بھی حق ہے اپنی اڑان بھرنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پر پھیلانے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پسندیدہ شحض کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنی مرضی سے سانس لینے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کا۔۔۔۔۔سوچتے رہیے ۔۔۔۔۔
    ہمیشہ مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیے اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے گا۔ ان شاءاللہ!

  • یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    قومی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف یاد کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اُن کے کردار کو سمجھنا اور اُن کی اقدار کو اپنانا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آج ان کا 133واں یومِ ولادت ہے، مگر ہماری قومی یادداشت میں ان کی جو جگہ ہونی چاہیے، وہ کہیں دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ جس قوم کی بنیاد میں خواتین کا خون، عزم اور کردار شامل ہو، وہی قوم آج ان عظیم خواتین کو صرف ایک تصویر یا رسمی تقریب تک محدود کر کے بھول چکی ہے۔

    محترمہ فاطمہ جناح محض قائداعظم محمد علی جناح کی بہن نہ تھیں، وہ ان کے مشن کی رازدار، ہم قدم اور نظریاتی رفیق تھیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں جب برصغیر کی مسلمان خواتین گھروں تک محدود تھیں، سیاست، تعلیم اور سماجی خدمات کے میدان میں قدم رکھا۔ اُنہوں نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ 1923 میں کلکتہ سے ڈینٹل سرجری میں سند لے کر پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ مگر جب انہیں اندازہ ہوا کہ بھائی کی سیاسی جدوجہد ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے، تو انہوں نے اپنے کلینک کو خیرباد کہہ کر خود کو مکمل طور پر تحریکِ پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔

    ان کی جدوجہد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ خاموش مزاحمت کا استعارہ تھیں۔ جلسوں میں خواتین کو منظم کرنے، سیاسی شعور بیدار کرنے اور قائداعظم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے انہوں نے جو کردار ادا کیا، وہ کسی مرد سیاسی رہنما سے کم نہ تھا۔ فاطمہ جناح نے ثابت کیا کہ قیادت خون کے رشتوں کی نہیں، کردار اور بصیرت کی محتاج ہوتی ہے۔ قائداعظم کی بیماری کے دنوں میں وہ نہ صرف ذاتی طور پر ان کی خدمت کرتی رہیں بلکہ سیاسی معاملات میں بھی ان کی معاون رہیں۔

    قیام پاکستان کے بعد اُن کے کردار کا دوسرا پہلو سامنے آیا۔ انہوں نے خود کو صرف قومی یادداشت کا حصہ بننے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے سیاست میں دوبارہ قدم رکھا۔ 1965 میں جب انہوں نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو گویا وہ جمہوریت کے لیے علمِ بغاوت بلند کر رہی تھیں۔ اگرچہ یہ انتخاب سرکاری سرپرستی میں دھاندلی کا شکار ہو گیا، لیکن عوامی سطح پر انہیں جو مقبولیت ملی، وہ ایک نئی تاریخ رقم کر گئی۔ اس انتخاب نے صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی نئی سوچ پیدا کی کہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ، اصول پسند اور محب وطن خاتون ملک کی قیادت کر سکتی ہے۔

    قوم نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں "مادرِ ملت” کا خطاب دیا، جو محض ایک رسمی اعزاز نہ تھا بلکہ ایک نظریاتی سچائی کا اظہار تھا۔ انہوں نے خواتین کو محض مظلوم یا محدود کردار تک نہیں رکھا، بلکہ ان میں شعور، خود داری اور خود اعتمادی پیدا کی۔ ان کی تقریریں، تحریریں اور عوامی بیانات آج بھی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کا لباس، لہجہ اور طرزِ فکر خالصتاً مشرقی اور اسلامی اقدار کا نمائندہ تھا، جس میں جدید تعلیم کی روشنی اور سیاسی فہم کی گہرائی نمایاں تھی۔

    9 جولائی 1967 کو ان کی وفات ایک ایسا باب ہے جو آج بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ان کی موت کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی وفات طبعی نہیں بلکہ مشکوک حالات میں ہوئی، اور حکومتِ وقت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر کے مزید شکوک پیدا کیے۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ عوام ان سے کتنی محبت رکھتے تھے، اور ان کی رحلت کو صرف ایک سیاسی سانحہ نہیں بلکہ قومی زوال کی علامت سمجھتے تھے۔

    یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ آج کی نسل محترمہ فاطمہ جناح کے کردار اور قربانی سے واقف نہیں۔ ہماری درسی کتب میں ان کا ذکر محض ایک سطر پر محیط ہے، اور میڈیا میں بھی ان کا نام صرف مخصوص ایام میں لیا جاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی غفلت کی علامت ہے۔ ایک قوم جو اپنے رہنماؤں کو بھول جائے، وہ سمت کھو بیٹھتی ہے۔ فاطمہ جناح محض ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ایک نظریہ تھیں — وہ نظریہ جو جمہوریت، انصاف، وقار اور قربانی پر مبنی تھا۔

    آج اگر ہم واقعی مادرِ ملت کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو یہ خراج محض خطبوں یا تصویری حوالوں میں محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فکر، عمل اور آگہی میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ان کے افکار کو اپنی سماجی اور سیاسی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ خواتین کو وہی اعتماد، وہی شعور اور وہی آزادی دینی ہوگی جس کا خواب فاطمہ جناح نے دیکھا تھا۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ان کے کردار کو نمایاں کیا جائے، میڈیا پر ان کے افکار کو روشناس کرایا جائے، اور نئی نسل کو بتایا جائے کہ ایک عورت بھی پوری قوم کی رہنما بن سکتی ہے — بشرطیکہ وہ صداقت، استقامت اور نظریاتی وفاداری کا پیکر ہو۔