Baaghi TV

Category: خواتین

  • حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ عورت کی عزت ، حیا ، وقار اور اسلامی شناخت کی علامت ہے ۔ حجاب ۔۔۔ عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ حجاب ڈے کی بنیاد فرانس میں حجاب کے خلاف پابندیاں بنیں۔ فرانس میں مسلم خواتین کے برقع اوڑھنے پر تنازعات پیدا ہونے کے بعد اپریل میں ہیملٹن کی مشہور میک ماسٹر یونیورسٹی میں کچھ مسلم و غیر مسلم طلبہ نے حجاب ڈے منایا۔ کچھ عرصے بعد یہ دن فرانس میں قومی سطح پر منایا جانے لگا۔ کچھ عرصہ بعد کینیڈا میں بھی اس دن کو منایا جانے لگا۔ فرانس اور کینیڈا کے بعد اب چار ستمبر کو عالمی سطح پر حجاب کا دن منایا جاتا ہے۔اسی طرح امریکہ کی ایک مسلمان خاتون نزیما خان نے حجاب ورلڈ ڈے منانے کا اعلان کیا ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ تھا کہ عورت کو باور کروایا جائے کہ حجاب بوجھ نہیں بلکہ ضرورت ہے ۔ اس دن کے منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مختلف مذاہب اور معاشروں سے تعلق رکھنے والے جو لوگ حجاب پر تنقید کرتے ہیں ، مسلمان خواتین سے نفرت کرتے ہیں ان کو یہ باور کروایا جاسکے کہ ان کے متعصبانہ سلوک کی وجہ سے مسلمان خواتین کن مشکلات اور تعصبات کا شکار ہیں۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آج حجاب ڈے ایک عالمی تحریک تحریک بن چکا ہے، جس میں ساٹھ سے زائد ممالک کی خواتین اور ادارے شریک ہوتے ہیں۔

    اسلام عورت کو عزت، وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں حجاب کا حکم واضح الفاظ میں موجود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور مومنہ عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیں۔”(سورة النور: 31) اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: "اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔”(سورة الاحزاب: 59)ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاب عورت کی عزت کا حصار ہے۔ یہ صرف ظاہری لباس نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے، جو عورت کو پاکیزگی، سکون اور وقار عطا کرتا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے بھی عورت کی عفت و عصمت کے تحفظ پر زور دیا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی عورتوں نے فوراً اپنے دوپٹے بڑے کرلیے اور سر سے پاوں تک اپنے آپ کو ڈھانپ لیا۔ یہ صحابیات کے ایمان اور فرمانبرداری کا عملی ثبوت ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ حجاب عورت کےلئے روزمرہ کی ضروریات اور خوراک سے بھی زیادہ ضروری ہے ۔ حجاب کرنے کے فوائد ہی فوائد ہیں ۔ حجاب کرنے والی خاتون نہ صرف اپنی حفاظت کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو برائیوں سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔حجاب کرنے سے روحانی سکون اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ حجاب اللہ کے حکم کی تعمیل ہے۔ جو عورت یہ حکم پورا کرتی ہے، اس کے دل میں ایمان کی تازگی اور روحانی سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ خود کو اللہ کے قریب محسوس کرتی ہے۔ حجاب عورت کو وقار بخشتا ہے۔ لوگ اسے احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کردار اور حیاءکی حفاظت کرتی ہے۔

    حجاب معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور برائی کے دروازے بند کرتا ہے۔ یہ عورت اور مرد دونوں کو گناہوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ جب خواتین حجاب اختیار کرتی ہیں تو معاشرے میں بد نظری، ہراسانی اور بے حیائی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اس سے ایک پاکیزہ معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔

    حجاب عورت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اس پر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت لازم ہے۔جہاں حجاب کرنے کے بے شمار فوائد ہیں وہاں حجاب نہ کرنے کے بیشمار نقصانات بھی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔ جو عورت حجاب نہیں کرتی وہ براہِ راست اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس کا انجام آخرت میں سخت عذاب اور درد ناک عذاب ہے۔حجاب نہ کرنے کا دوسرا مطلب ہے بے پردگی ۔ بے پردگی معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ نہ صرف عورت کو بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔مغربی معاشروں میں جہاں حجاب کو نظرانداز کیا گیا، وہاں عورت محض جسمانی کشش اور تفریح کا ذریعہ بن گئی۔ نتیجتاً عزت و وقار کی بجائے وہ اشتہارات اور خواہشات کی تسکین کا آلہ سمجھی جانے لگی۔بے پردگی اور مخلوط زندگی طلاق، بے وفائی اور خاندانی جھگڑوں کا سبب بنتی ہے۔ یہ چیز خاندان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

    اسلامی تاریخ میں صحابیات کے کردار سے ہمیں حجاب کی حقیقی روح سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے ہمیشہ وقار اور حیاءکے ساتھ زندگی گزاری اور خواتین کے لیے عملی نمونہ پیش کیا۔
    حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی حیاءاور عفت ایسی تھی کہ غیر محرم کی موجودگی میں بھی مکمل پردے کا اہتمام فرماتیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ فرماتی ہیں کہ عورت جب اپنے گھر سے باہر نکلے تو خود کو مکمل طور پر ڈھانپے تاکہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ایک موقع پر جب ان کا لباس باریک تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً توجہ دلائی کہ عورت کے جسم کا ظاہر صرف ہاتھ اور چہرہ ہے، باقی سب ڈھانپنا ضروری ہے۔یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ صحابیات نے حجاب کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنایا اور آنے والی نسلوں کے لیے عملی نمونہ چھوڑا۔آج مغرب میں حجاب پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ کبھی اسے دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے اور کبھی عورت کی آزادی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حجاب ہی عورت کی اصل آزادی ہے، کیونکہ یہ اسے ہوس پرست نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ الحمدللہ دنیا بھر کی لاکھوں مسلم خواتین ہر قسم کے دباو¿ اور تعصب کے باوجود حجاب پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ یہی ایمان اور غیرت کا مظہر ہے۔اسلام نے عورت کو وہ عزت عطا کی ہے جو کسی مذہب یا تہذیب نے نہیں دی۔ حجاب اس کی عزت کا سب سے بڑا نشان ہے۔ یہ عورت کی پاکیزگی، حیاءاور وقار کی ضمانت ہے۔ حجاب ترک کرنا دراصل اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے جو دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث ہے۔میں اپنی ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں سے کہوں گا کہ وہ نہ صرف خود حجاب ڈے کے موقع پر نہ صرف خود حجاب کی پابندی کریں بلکہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو بھی اس کی ترغیب دیں، تاکہ ہمارامعاشرہ پاکیزگی، امن اور ایمان کی روشنی سے منور ہو سکے۔

  • ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم، کڑوے ضرور ہیں مگر منافق نہیں ہیں ہم

    زندگی میں سب کو خوش رکھنا اور ہر ایک کی پسند پر پورا اترنا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دنیا کو دکھانے کے لیے میٹھے بول بولتے ہیں، چاہے دل میں کچھ اور ہو۔ جبکہ کچھ لوگ سچ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان کی بات کسی کو بری لگے۔ یہ بلاگ انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی بات صاف، سچی، اور دل سے کہتے ہیں ، اور اسی لیے اکثر "کڑوے” کہلائے جاتے ہیں۔سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ دل کو چبھنے والا، کانوں کو ناگوار، اور ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی سچ وہ آئینہ ہے جس میں ہم خود کو دیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ ہم واقعی ہیں۔جو لوگ سچ بولتے ہیں، وہ اکثر دوسروں کی نظروں میں "کڑوے” بن جاتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں چاپلوسی نہیں ہوتی، لیکن ان کے دل میں کوئی کھوٹ بھی نہیں ہوتا۔ وہ جیسا محسوس کرتے ہیں، ویسا ہی کہتے ہیں اور یہی چیز انہیں منافقوں سے الگ کرتی ہے۔

    منافقت بظاہر نرم خوئی، شائستگی، اور میٹھی باتوں کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے، لیکن اندر سے یہ ایک زہر ہے۔ منافق لوگ ہر کسی کے سامنے ایک نیا چہرہ رکھتے ہیں، ہر کسی کی پسند کے مطابق ڈھل جاتے ہیں، لیکن دل میں ان کا کچھ اور ہی ارادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ وقتی طور پر پسند کیے جاتے ہیں، لیکن جب اصلیت سامنے آتی ہے تو اعتماد ایک بار ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑتا نہیں۔وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کے بجائے سچ کا ساتھ دیتے ہیں، وہ معاشرے کا اصل آئینہ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں وہ باتیں بتاتے ہیں جو شاید ہم سننا نہ چاہیں، لیکن ان باتوں سے ہم بہتر انسان بن سکتے ہیں۔یہ لوگ وفادار دوست، سچے رشتہ دار، اور مخلص ساتھی ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں وقتی طور پر تلخ ضرور لگتی ہیں، لیکن ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد دل آزاری نہیں، بلکہ اصلاح ہوتا ہے۔

    زندگی ایک سٹیج نہیں کہ جہاں ہر وقت اداکاری کی جائے۔ اگر ہم اپنی اصلیت چھوڑ کر دوسروں کی پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے لگیں، تو ہم اپنی انفرادیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے کہ ہم کیسا انسان بننا چاہتے ہیں،وہ جو سب کو خوش کر کے اپنا اصل کھو دے؟یا وہ جو سچ بول کر دلوں میں اپنی جگہ بنائے، چاہے وہ جگہ سب کے دل میں نہ ہو؟”کڑوے ضرور ہیں، مگر منافق نہیں ہیں” یہ جملہ ان تمام لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے جو سچائی کے راستے پر چلتے ہیں، چاہے وہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔اگر آپ بھی سچ بولتے ہیں، اپنی بات صاف طریقے سے رکھتے ہیں، اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے خود کو نہیں بدلتے ، تو آپ اکیلے نہیں، یہ دنیا شاید آپ کو فوری طور پر نہ سمجھے، لیکن وقت گواہی دے گا کہ سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں، اور منافقت کی عمارت دیرپا نہیں ہوتی۔

  • مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "مبارک ہو!” یہ الفاظ سماعتوں کو کتنے بھلے لگتے ہیں۔ جب کوئی لیڈی ڈاکٹر کسی باپ کو بتاتی ہے کہ "مبارک ہو آپ کے گھر میں رحمت آئی ہے۔ خاص طور پر اس والد کی بات کروں گی جہاں شدت سے بیٹی کی پیدائش کا انتظار کیا جا رہا ہو۔ گھر کو سجایا جاتا ہے ہر طرف خوشیاں منائی جاتی ہیں طرح طرح کے پکوان بنتے ہیں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ یہ اس گھر کا منظر ہے جہاں واقعی بیٹی کو رحمت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں باپ سوچتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ رزق کے دروازے کھلتے ہیں لیکن اسی دور میں اب بھی زمانہ جاہلیت جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں اسے برا بھلا کہتے ہیں اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر مرد بھی مکمل طور پر بہترین باپ نہیں ہوتا۔ کئی باپ اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن کئی باپ اپنی بیٹیوں کو اپنی زندگی کی بہار سمجھتے ہیں۔ آج ہم اس باپ کے بارے میں بات کریں گے جو اپنی بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے اس کی ہر خواہش اس کی زبان پر آنے سے پہلے پوری کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو اپنی بیٹی کی محبت میں کسی کی بیٹی کو ذلیل کرنے سے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اپنی بیٹی کی محبت اس کے باقی تمام رشتوں پر خاوی آ جاتی ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے اسے اچھے سے اچھا کھلائے پلائے بہترین تعلیمی ادارے میں داخل کرواتا ہے۔

    "بابا جان! اسکول کا ٹرپ جا رہا ہے مجھے کچھ پیسے اور آپ کی اجازت چاہیے۔” سارے زمانے کی معصومیت لیے بیٹی باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
    "کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی لڑکی ہو گھر پر بیٹھو۔ حالات دیکھے ہیں باہر کے۔” بیٹی کے لیے فکر مند ماں فوراً سے باپ بیٹی کے مکالمے میں زبردستی آ جاتی ہے حالانکہ اس کی رائے نہ کسی نے مانگی اور نہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔
    "تم تو چپ ہی رہو۔ میری بیٹی تو شہزادی ہے اور وہ ضرور جائے گی۔” بیٹی کی محبت میں چور چور باپ کسی اور کی بیٹی کو ہمیشہ اس کی اوقات یاد دلانے سے باز نہیں آتا۔ وہ محبت کیوں نہ کرے آخر وہ اس کا خون ہے اور خون کی محبت تو لازم ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ میاں بیوی کا رشتہ اس زمین کا وہ پہلا رشتہ تھا جسے رب کائنات نے تخلیق کیا تھا اس رشتے کے سبب اولاد پیدا ہوتی ہے کتنے خون کے رشتے تخلیق ہوتے ہیں۔ آپس میں بہن بھائیوں کی محبت والدین کی وجہ سے چچا پھوپھو ماموں خالہ دادا دادی نانا نانی سب سے خون کا رشتہ بن جاتا ہے مگر میاں بیوی کا رشتہ بیک وقت بہت مضبوط اور کمزور ہوتا ہے جو نکاح کے دو بول سے جڑ جاتا ہے اور طلاق کے دو بول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ رشتہ خون کا نہ ہونے کے باوجود اگلی نسل کو کئی خون کے رشتے دے جاتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے ننھی پری جو گھر کے آنگن میں اچھلتی کودتی تھی وہ جو گھر بھر کی رونق ہے۔ کبھی باپ کو شکایت لگا کر بھائیوں کی پٹائی کرواتی ہے تو کبھی ضد کر کے سہیلیوں کے ساتھ باہر گھومنے جاتی ہے۔
    "آپ اس کی ہر بات نہ مانا کریں عادتیں خراب ہو جائیں گی۔ کل کو شادی بھی تو کرنی ہے کون پوری کرے گا اس کی ہر خواہش آپ کی طرح۔” ماں کے دل کا ڈر اس کی زبان پر آ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ خواہشات بس باپ کے آنگن تک ہی پوری ہوتی ہیں بلکہ کبھی کبھی اسی آنگن میں خواہشات دم توڑ دیتی ہیں پھر انہیں یہ باپ خود ہی مار کر دفنا دیتے ہیں۔ ماں کی بات ہر اکثر باپ کی لاڈلی کو غصہ آ جاتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے لگتا ہے یہ میری سوتیلی امی ہیں۔ کبھی مجھے خوش نہیں دیکھ سکتیں۔” باپ کی محبت کے حمار میں قید ایک بیٹی اکثر وسوسوں میں الجھی ماں کو ایسے ہی سمجھتی ہے۔

    "تم فکر نہ کرو میری بیٹی شہزادی ہے اور میں اس کے لیے شہزادہ کی تلاش ہی کروں گا۔ جو آزادی اسے اپنے باپ کے گھر میں ہے ویسے ہی آگے ملے گی میری بیٹی ہے بہت خوش قسمت رہے گی۔” ایک باپ کا غرور اپنی بیٹی کو لے کر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
    "ہاں! جیسے میرے باپ نے شہزادہ تلاش کیا تھا جس کے گھر میں مجھے سب آزادی ہے۔” ایک ماں کا خاموش احتجاج۔
    "بہت ہی ناشکری عورت ہو تم کیا کمی ہے تمھیں اس گھر میں؟ کھانا پینا، اچھا پہننا اوڑھنا تم جیسی عورتیں ہی ناشکری ہوتی ہیں بس میری بیٹی سے مقابلہ کرنا ہے تمھیں۔”
    "میری بھی بیٹی ہے وہ اور اس کی بھلائی ہی چاہتی ہوں میں۔” درد سے چور نڈھال لہجے میں جواب آتا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

    یہ کہانی سب کو کچھ کچھ اپنی لگے گی۔ یہ کہانی اکثر گھروں کی ہو سکتی ہے۔ جس میں اکثر ماں ظالم اور باپ محبت کرنے والا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی بیٹی ماں کے محتاط رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ باپ کے تحفظ اور محبت بھری باہوں میں محفوظ بیٹی وہ نہیں دیکھ پاتی جو ماں کا تجربہ اسے دکھانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے اور پھر وہ وقت آتا ہے جب بیٹی کی زندگی کے سب اہم فیصلے کا وقت آتا ہے۔ اس کی شادی کا وقت اس کے جیون ساتھی تلاش کرنے کا وقت وہ باپ جو ساری زندگی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ اس کی مرضی کی تعلیم یہاں تک کہ لباس بھی وہ بیٹی اپنی پسند سے پہنتی ہے اور باپ اپنی پر اعتماد بیٹی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے یہاں شادی نہیں کرنی مجھے کوئی اور پسند ہے آپ ایک بار اس سے مل تو لیں۔”
    "کیا؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ اس لیے تمھیں پڑھایا لکھایا تمھارے اتنے لاڈ اٹھائے۔ اس دن کے لیے کہ تم میرے سامنے آ کر یہ سب کہو۔” محبت کا محل پاش پاش ہو گیا۔
    "آپ ایک بار مل تو لیں کہہ تو رہی ہے اگر آپ کو مناسب نہ لگا تو ٹھیک ہے جہاں آپ کہیں گے وہ وہیں راضی ہو جائے گی۔” ماں عورت ہوتی ہے نا وہ بیٹی کے احساسات کو سمجھتی ہے۔ اس وقت بیٹی کو پتہ چلتا ہے کہ ماں بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔
    "یہ ہے تمھاری تربیت؟ میں نے تمھارے بھروسے پر اپنی اولاد کو چھوڑا یہ نتیجہ نکلا یہ صلح ملا مجھے۔” طاقت ور کا سارا غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی نکلتا ہے۔
    "بابا جان! پسند کے نکاح کا حق تو مجھے میرے دین نے دیا ہے۔” بیٹی نے اپنے حق کے لیے دلیل دینے کی کوشش کی۔
    "مجھے دین نہ سکھاؤ میں تمھارا باپ ہوں تم میری ماں نہیں اور اسی دین نے مجھے تمھارا ولی بنایا ہے۔ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اس لیے میں ہی تم پر حق رکھتا ہوں جہاں چاہوں گا جس سے چاہوں گا شادی کروں گا۔” دو ٹوک جواب آتا ہے۔
    "مجھے نہیں کرنی آپ کی پسند سے شادی۔” اسے لگا یہاں بھی ہمیشہ کی طرح باپ اس کی ضد مان لے گا۔ میں سوچتی ہوں بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے والے والدین زندگی کی سب سے بڑی خواہش کا حق چھین لیتے ہیں۔ یہاں بھی وہی بات آ گئی نا کہ اولاد والدین کی غلام نہیں وہ تو دراصل اللہ کی غلام ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح بغیر اجازت کے نہ کیا جائے۔(صحیح بخآری:4843)

    ہم خود کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن دین اسلام کی صرف ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جو ہمیں فائدہ دیتی ہیں ہم دین کے مطابق کہاں چلتے ہیں؟ ہم تو خاندانی روایات کے مطابق چلتے ہیں۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن ہم جس نبی کے امتی ہیں آئیے ہم ان کے دربار میں چلتے ہیں۔ دربار رسالت میں سب خاموش بیٹھے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتوں کو، نصیحتوں کو ایسے سن رہے ہیں گویا ہل گئے تو کہیں کندھوں پر بیٹھے فرضی پرندے اڑ ہی نا جائیں کہ اچانک سے ایک لڑکی فریادی بن کر آتی ہے۔ ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے وہ فریاد کرتی ہے۔ "یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرا نکاح میرے گھر والوں نے میری مرضی کے بغیر کر دیا ہے۔” نکاح تو دو اجنبیوں کے درمیان ایجاب وقبول کا معاملہ ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان دل کی رضا سے مضبوط رشتہ ہے۔ جب کوئی دل سے راضی نا ہو تو کیسا رشتہ؟ یہ رشتہ کاغذی نہیں، کاغذ تو اس دور کے تقاضوں کے لیے ہے۔ اصل بات تو گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے ساتھ دل کے ایجاب وقبول کا نام نکاح ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان حلال اور پاکیزہ تعلق جس میں رب خود موجود ہوتا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لڑکی کی فریاد کو سنا اور فرمایا: "یہ لڑکی چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر دے۔”(ابوداؤد: 2096)
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مطعون کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی کی شادی ولی بن کر اس کے چچا جو کہ میرے ماموں بھی تھے سیدنا قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے مجھ سے کروا دی۔ نکاح سے پہلے لڑکی سے مشورہ نہیں کیا اسے میرے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ تھا۔ وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہا سے نکاح کرنا چاہتی تھی آخر قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے اس کا نکاح مغیرہ سے کر دیا۔”(سنن ابن ماجہ:1878)

    "بابا جان! آپ ایک بار اس سے مل تو لیں بہت اچھے خاندان کا ہے یونیورسٹی میں میرے ساتھ ہی پڑھتا ہے۔”
    "کیا اچھے خاندان کا ہے؟ یونیورسٹی پڑھنے آتا ہے یا لڑکیوں کے ساتھ چکر چلانے۔ بس میں نے کہہ دیا۔” وہ بھی اپنے باپ کی بیٹی تھی۔ ضدی تو وہ بھی تھی۔ ٹھیک ہے دو دن بھوکی رہوں گی تو خود ہی بابا جان مان جائیں گے۔ ایک دن گزر گیا بابا جان نے اسے اپنے کمرے میں بلایا وہ خوش تھی یا پھر اسے خوش فہمی تھی کہ وہ مان جائیں گے۔

    "دیکھو بیٹا! میں آپ کی بات مان لیتا مگر لوگ کیا کہیں گے کہ لڑکی کو یونیورسٹی بھیجا تو اس نے یہ کام کیا میری عزت آپ کے ہاتھوں میں ہے چاہو تو پیروں تلے روند دو چاہو تو بلند کر دو۔” دل بند ہو گیا بیٹی ہار گئی اس کی خوشی ہار گئی باپ کی جھوٹی عزت جیت گئی۔ یہاں سے دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں ایک وہ بیٹی جو ہار جائے ایک وہ بیٹی جو بھاگ جائے۔ سوچتے رہیے گا کہ ہار جانے میں اور بھاگ جانے میں قصور کس ہے ہے؟ ہارنے والی بیٹی نے باپ کو تو جتا دیا مگر ساری زندگی کے لیے تکلیف کو اپنے دامن میں بھر لیا۔ بھاگ جانے والی نے بھی کیا پایا نہ دل کی سچی خوشی نہ باپ کی دعائیں۔ دونوں صورتوں میں ہار بیٹی کی ہی ہے۔ میں یہ بات سمجھنے سے آج تک قاصر ہوں کہ زندگی جن دو لوگوں نے گزارنی ہوتی ہے ان کی رائے کی بجائے پورے خاندان سے رائے لی جاتی ہے۔ ان کی ملاقات نہیں کروائی جاتی باقی پورا خاندان اکثر ملتا جلتا رہتا ہے۔ جب اسلام نے عورت کو اپنی پسند کے نکاح کا حق دیا ہے تو ولی کھلے دل کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟ کیوں ہر بار ناپسندیدہ شخص کے ساتھ ہی صبر و شکر والی زندگی کی تلقین کی جاتی ہے؟ کیوں ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ شکر کرو تمھارا شوہر تو لاکھوں سے اچھا ہے ورنہ تو آدمی نشہ کرتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں۔
    کیا ہوا جو ذہنی آہنگی نہیں وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    کیا ہوا جو وہ تمھیں سمجھتا نہیں روٹی تو کما کر لاتا ہے نا۔
    کیا ہوا جو تمھارا دوست نہیں تمھاری ضرورتیں تو پوری کرتا ہے۔
    کیا ہوا جو محبت کا اظہار نہیں کرتا ساری ذمہ داریاں تو نبھاتا ہے۔ کیا ہوا اگر وہ دوسری شادی کرنے لگا ہے یہ حق تو اسے ہمارے دین نے دیا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ اسی دین اسلام نے عورت کو بھی حقوق دیئے ہیں۔
    سے بھی حق ہے اپنی اڑان بھرنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پر پھیلانے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پسندیدہ شحض کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنی مرضی سے سانس لینے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کا۔۔۔۔۔سوچتے رہیے ۔۔۔۔۔
    ہمیشہ مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیے اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے گا۔ ان شاءاللہ!

  • یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    قومی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف یاد کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اُن کے کردار کو سمجھنا اور اُن کی اقدار کو اپنانا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آج ان کا 133واں یومِ ولادت ہے، مگر ہماری قومی یادداشت میں ان کی جو جگہ ہونی چاہیے، وہ کہیں دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ جس قوم کی بنیاد میں خواتین کا خون، عزم اور کردار شامل ہو، وہی قوم آج ان عظیم خواتین کو صرف ایک تصویر یا رسمی تقریب تک محدود کر کے بھول چکی ہے۔

    محترمہ فاطمہ جناح محض قائداعظم محمد علی جناح کی بہن نہ تھیں، وہ ان کے مشن کی رازدار، ہم قدم اور نظریاتی رفیق تھیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں جب برصغیر کی مسلمان خواتین گھروں تک محدود تھیں، سیاست، تعلیم اور سماجی خدمات کے میدان میں قدم رکھا۔ اُنہوں نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ 1923 میں کلکتہ سے ڈینٹل سرجری میں سند لے کر پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ مگر جب انہیں اندازہ ہوا کہ بھائی کی سیاسی جدوجہد ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے، تو انہوں نے اپنے کلینک کو خیرباد کہہ کر خود کو مکمل طور پر تحریکِ پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔

    ان کی جدوجہد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ خاموش مزاحمت کا استعارہ تھیں۔ جلسوں میں خواتین کو منظم کرنے، سیاسی شعور بیدار کرنے اور قائداعظم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے انہوں نے جو کردار ادا کیا، وہ کسی مرد سیاسی رہنما سے کم نہ تھا۔ فاطمہ جناح نے ثابت کیا کہ قیادت خون کے رشتوں کی نہیں، کردار اور بصیرت کی محتاج ہوتی ہے۔ قائداعظم کی بیماری کے دنوں میں وہ نہ صرف ذاتی طور پر ان کی خدمت کرتی رہیں بلکہ سیاسی معاملات میں بھی ان کی معاون رہیں۔

    قیام پاکستان کے بعد اُن کے کردار کا دوسرا پہلو سامنے آیا۔ انہوں نے خود کو صرف قومی یادداشت کا حصہ بننے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے سیاست میں دوبارہ قدم رکھا۔ 1965 میں جب انہوں نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو گویا وہ جمہوریت کے لیے علمِ بغاوت بلند کر رہی تھیں۔ اگرچہ یہ انتخاب سرکاری سرپرستی میں دھاندلی کا شکار ہو گیا، لیکن عوامی سطح پر انہیں جو مقبولیت ملی، وہ ایک نئی تاریخ رقم کر گئی۔ اس انتخاب نے صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی نئی سوچ پیدا کی کہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ، اصول پسند اور محب وطن خاتون ملک کی قیادت کر سکتی ہے۔

    قوم نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں "مادرِ ملت” کا خطاب دیا، جو محض ایک رسمی اعزاز نہ تھا بلکہ ایک نظریاتی سچائی کا اظہار تھا۔ انہوں نے خواتین کو محض مظلوم یا محدود کردار تک نہیں رکھا، بلکہ ان میں شعور، خود داری اور خود اعتمادی پیدا کی۔ ان کی تقریریں، تحریریں اور عوامی بیانات آج بھی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کا لباس، لہجہ اور طرزِ فکر خالصتاً مشرقی اور اسلامی اقدار کا نمائندہ تھا، جس میں جدید تعلیم کی روشنی اور سیاسی فہم کی گہرائی نمایاں تھی۔

    9 جولائی 1967 کو ان کی وفات ایک ایسا باب ہے جو آج بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ان کی موت کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی وفات طبعی نہیں بلکہ مشکوک حالات میں ہوئی، اور حکومتِ وقت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر کے مزید شکوک پیدا کیے۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ عوام ان سے کتنی محبت رکھتے تھے، اور ان کی رحلت کو صرف ایک سیاسی سانحہ نہیں بلکہ قومی زوال کی علامت سمجھتے تھے۔

    یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ آج کی نسل محترمہ فاطمہ جناح کے کردار اور قربانی سے واقف نہیں۔ ہماری درسی کتب میں ان کا ذکر محض ایک سطر پر محیط ہے، اور میڈیا میں بھی ان کا نام صرف مخصوص ایام میں لیا جاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی غفلت کی علامت ہے۔ ایک قوم جو اپنے رہنماؤں کو بھول جائے، وہ سمت کھو بیٹھتی ہے۔ فاطمہ جناح محض ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ایک نظریہ تھیں — وہ نظریہ جو جمہوریت، انصاف، وقار اور قربانی پر مبنی تھا۔

    آج اگر ہم واقعی مادرِ ملت کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو یہ خراج محض خطبوں یا تصویری حوالوں میں محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فکر، عمل اور آگہی میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ان کے افکار کو اپنی سماجی اور سیاسی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ خواتین کو وہی اعتماد، وہی شعور اور وہی آزادی دینی ہوگی جس کا خواب فاطمہ جناح نے دیکھا تھا۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ان کے کردار کو نمایاں کیا جائے، میڈیا پر ان کے افکار کو روشناس کرایا جائے، اور نئی نسل کو بتایا جائے کہ ایک عورت بھی پوری قوم کی رہنما بن سکتی ہے — بشرطیکہ وہ صداقت، استقامت اور نظریاتی وفاداری کا پیکر ہو۔

  • جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے، بالکل، ویسے جیسے پتے شجر سے گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے، آہستہ آہستہ اور بے آواز گرتے ہیں۔ نہ چیختے ہیں، نہ روکتے ہیں، بس خود کو ہوا کے حوالے کر دیتے ہیں، ایک آخری بار شجر کو دیکھتے ہیں اور پھر زمین پر آن گرتے ہیں، جہاں ہر قدم انہیں روندتا ہے۔ ہر جوتی ان کے وجود کو مٹاتی ہے، اور کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیوں گرے؟ شجر خاموش رہتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ مگر پتے جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جدائی واقعی موت ہوتی ہے—ایسی موت جو جسم سے پہلے روح کو لے جاتی ہے، جو خاموشی سے دل میں اُترتی ہے اور جس کا نہ کفن ہوتا ہے، نہ جنازہ۔

    جدائی ایک بے نشان قبر کی طرح ہے، جہاں نہ کوئی نام ہوتا ہے، نہ تاریخ، نہ دعائیں—صرف تنہائی، اور وہ ہوا کا تھپڑ جو بار بار یاد دلاتا ہے کہ تم اب شجر کا حصہ نہیں رہے۔ تم اب بس زمین پر ایک بوجھ ہو۔ ہر گزرتا لمحہ ایک اور کچلا ہوا احساس ہوتا ہے، ہر گزرنے والا انسان ایک اور لاتعلق نظر۔ پتے سوچتے ہیں، شجر نے روکا کیوں نہیں؟ کیا وہ بے وفا تھا، یا وقت ظالم تھا، یا قسمت ہی ایسی تھی؟ جدائی کا لمحہ ایک قیامت جیسا ہوتا ہے، جیسے کوئی تمہارا آپ تم سے چھین لے۔ شجر کی ہر شاخ گواہ ہوتی ہے اُس لمحے کی جب پتہ الگ ہوا، جب رشتہ ٹوٹا اور ایک کہانی لفظوں کے بغیر، آواز کے بغیر، بس خاموشی کے کفن میں دفن ہو گئی۔

    ہم سب وقت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جیسے ہر پتہ۔ جدائی نے سب کو چھوا ہے—کسی کی ماں، کسی کا دوست، کسی کا پیار، کسی کی امید—سب ہی روندے گئے، جیسے پتے۔ شجر بدلتے رہے، کہانیاں بدلتی رہیں، مگر انجام ہمیشہ ایک ہی رہا: تنہائی، خاموشی، اور مٹی۔

  • سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے لوگوں کو قریب لاتا ہے اور مثبت استعمال کی صورت میں سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مگر کیا ہم واقعی اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں؟

    اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال وقت ضائع کرنے، بے مقصد بحث و مباحثے، افواہیں پھیلانے اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے تک محدود ہو چکا ہے۔ ہم دن کا بیشتر حصہ اسکرین پر گزار دیتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہمارے تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، دوست ایک ہی محفل میں بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کٹے کٹے نظر آتے ہیں، اور حقیقی رشتے ناتوں کی جگہ "آن لائن کنکشنز” نے لے لی ہے۔

    سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کا طوفان
    سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی جھوٹی خبر یا افواہ چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے، اور لوگ بغیر تصدیق کیے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے بسا اوقات معاشرے میں بے چینی اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)مگر ہم تحقیق سے زیادہ شیئر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی بار لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، قوم میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے بنیاد خبریں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

    کیا ہم سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں؟
    سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو عملی زندگی سے کاٹ کر ایک "ڈیجیٹل دنیا” میں قید کر دیا ہے۔ ہم گھنٹوں موبائل اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں ہمارے رویے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کو کھلانے کے بجائے فون اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، نوجوان کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور لوگ فطری حسن کو دیکھنے کے بجائے کیمروں کے ذریعے اسے قید کرنے میں مصروف ہیں۔

    مثبت استعمال: فیصلہ آپ کا!
    سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں، تعلیمی مواد دیکھیں، اچھے اخلاق کو فروغ دیں، وقت کا درست استعمال کریں اور تحقیق کے بغیر کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اس میں کھو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے رہیں، تو یہ ہمارے تعلقات، ذہنی سکون اور زندگی کی اصل خوبصورتی کو ہم سے چھین لے گا۔

    سوچیں! کیا ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟آئیے، آج سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت ذریعہ بنائیں گے، جھوٹی خبروں اور فضول بحثوں سے دور رہیں گے، اور اپنی حقیقی زندگی کو زیادہ اہمیت دیں گے

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

  • ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں ، کہتی ہے میری نظر شکریہ ۔۔۔۔۔۔

    آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے ۔۔۔۔

    جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں ۔۔۔۔

    اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔

    تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے لازوال گیتوں پہ اپنے منفرد رقص سے فلم انڈسٹری پہ دھاک بٹھانے والی ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے ۔
    غزالی آنکھوں والی رانی بیگم نے اپنے منفرد رقص اور لاجواب اداکاری سے تیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا ۔
    اپنے تیس سالہ فلمی کیریئر میں اس نے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کردار کو اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے ۔ آغاز میں بیشک اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یہی بات رانی بیگم پر بھی صادق آتی ہے ۔
    تین دہائیوں تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی اداکارہ رانی بیگم کا اصل نام ناصرہ تھا ، لیکن فلم انڈسٹری میں شہرت اس نے اپنے فلمی نام رانی بیگم سے حاصل کی ۔
    رانی بیگم ماضی کی معروف گلوکارہ مختار بیگم کے ڈرائیور کی بیٹی تھیں ۔ وہ 8 دسمبر 1946 ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔
    رانی کی فنی تربیت کے لئے اس کے والد نے اسے مختار بیگم کے حوالے کر دیا ۔
    ناصرہ جب سولہ برس کی ہوئی تو ہدایت کار انور کمال پاشا نے اسے رانی کا نام دے کر اپنی فلم ” محبوب” میں کاسٹ کیا ۔ یہ فلم فلاپ ہو گئی ۔ فلم محبوب کی طرح یکے بعد دیگرے دس فلموں میں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد 1967 ء میں ہدایت کار حسن طارق بٹ کی فلم
    ” دیور بھابھی ” کی کامیابی کے بعد اداکار و ہدایت کار کیفی کی پنجابی فلم ” چن مکھناں” بھی سپر ہٹ فلم قرار پائی ، اس کے بعد رانی پہ کامیابیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
    1968 ء میں ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم ” بہن بھائی” منظر عام پر آئی ، اس فلم کا ایک گیت” ہیلو ہیلو مسٹر عبد الغنی ” بھی بہت مشہور ہوا ۔
    1970 ء میں ریلیز ہونے والی فلم ” انجمن ” نے رانی بیگم کی شہرت و مقبولیت میں اور اضافہ کر دیا ، خاص طور پر اس فلم کے سونگ اور ان پہ رانی بیگم کے رقص نے وہ کامیابی حاصل کی جس کے بعد رانی بیگم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اس فلم میں رانی کے علاوہ سنتوش کمار ، صبیحہ خانم ، دیبا اور اداکار وحید مراد نے کام کیا ۔
    رانی بیگم نے اپنے عہد کے تقریباً سبھی قد آور اداکاروں کے ساتھ کام کیا مثلاً محمد علی ، وحید مراد ، سنتوش کمار ، درپن ، کمال ایرانی ، شاہد ، سدھیر ، حبیب ، ندیم ، علی اعجاز ، غلام محی الدین اور اداکار یوسف خان شامل ہیں ۔
    ان سب اداکاروں میں اداکار شاہد اور اداکار وحید مراد کے ساتھ رانی بیگم کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا ۔

    رانی بیگم کی کچھ قابلِ ذکر اُردو فلموں میں امراؤ جان ادا ، خوشبو ، تیری خاطر ، تہذیب ، سیتا مریم مارگریٹ ، ترانہ ، شمع پروانہ ، انجمن ، دیور بھابھی ، ایک گناہ اور سہی ، بہارو پھول برساؤ ، ثریا بھوپالی ، ناگ منی ، میرا گھر میری جنت ، دل میرا دھڑکن تیری ، پیاس ، ہزار داستان ، سہیلی ، گونگا اور فلم نذرانہ اور ان کی چند ایک پنجابی فلموں میں محرم دل دا ، دیوانہ مستانہ ، سونا چاندی ، موج میلہ ، دنیا مطلب دی اور فلم بابل شامل ہیں ۔
    جب بھارت میں فلم امراؤ جان ادا بنائی گئی تو بعد میں ان کی کاسٹ ٹیم نے یہ اعتراف کیا کہ وہ رانی بیگم جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    رانی بیگم نے مجموعی طور پر 168 فلموں میں کام کیا ، جن میں 103 اُردو اور 65 پنجابی فلمیں شامل ہیں ۔
    ان کی آخری فلم ” کالا طوفان ” 1987 ء میں ریلیز ہوئی ۔
    رانی بیگم نے اردو اور پنجابی فلموں میں اپنی دلکش مسکراہٹ ، خوبصورتی ، معصومیت ، جذباتی مکالموں ، اور منفرد رقص سے لاکھوں دلوں پر راج کیا اور اتنی مہارت سے ہر کردار ادا کیا کہ وہ کردار امر ہو گیا ۔

    انہیں بہترین اداکاری پر تین مرتبہ ” نگار ایوارڈ ” سے نوازا گیا ۔
    رانی بیگم نے پاکستان ٹیلی ویژن کے کئی ڈرامہ سیریلز میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ، ان کے مشہور ڈرامہ سیریلز میں خواہش اور فریب سر فہرست ہیں ۔

    اپنے فلمی کیریئر میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود رانی بیگم اپنی حقیقی زندگی میں ازدواجی زندگی کے سکون سے محروم رہی ۔
    ان کی پہلی شادی ہدایت کار حسن طارق سے ہوئی جس سے رانی بیگم کا بیٹا علی رضا پیدا ہوا ، جبکہ دوسری شادی معروف فلم ساز جاوید قمر اور تیسری شادی کرکٹر سرفراز نواز سے ہوئی ، مگر بد قسمتی سے ان کی یہ تینوں شادیاں ناکام رہیں جس کا رانی کو ساری زندگی افسوس رہا ۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کیا ۔

    زندگی کے آخری دنوں میں انہیں کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا ۔ جس کے طویل علاج کے بعد بھی یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور بالآخر 27 مئی 1993 ء کو 47 برس کی عمر میں رانی بیگم اِنتقال کر گئیں ۔
    (ان للہ وان الیہ راجعون)

    وہ لاہور کے مسلم ٹاؤن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
    اللّٰہ تعالیٰ مرحومہ رانی بیگم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )
    آج 2025 ء میں رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے لیکن ان کی اداکاری ، انداز گفتگو اور ان کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

  • شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ اور خاتون چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے پنجاب میں کسی عام خاتون کے ساتھ بھی ناروا سلوک کا ہونا ناقابل برداشت ہونا چاہئے لیکن ایک معلم کے ساتھ مجرموں والا رویہ ہونا ہم سب کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب کے آفیشل پیچ پر لگی تصاویر اور ویڈیو نے ناصرف اساتذہ اکرام کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہر باشعور اور غیرت مند فرد کو رلا کر رکھ دیا۔ سیکرٹری خود اور اپنے ہمنوا افسران کے ہمراہ کرسیوں پر براجمان ہو کر بادشاہانہ تمکنت کے ساتھ معزز خواتین اساتذہ کو کھڑے کرکے ہئیرنگ کر رہا ہے۔ مرد و خواتین اساتذہ کو مجرموں کی طرح کھڑے کرکے سننا استاد کی توہین اور جتنی مذمت کی جائے اتنی کم والا شرمناک رویہ ہے۔
    پورے پنجاب کے اساتذہ اور ہر شہری اس رویے پر شدید دکھی اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر مکتبہ فکر کی طرف سے اس شرمناک رویے پر سیکرٹری سے معافی اور وزیراعلیٰ سے سیکرٹری کی برطرفی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ جب آپ نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیا تو دنیا بھر کی تعلیمی و سماجی تنظیموں کی طرف سے آپ کی وزارت اعلیٰ کو پنجاب میں خواتین کی بااختیاری اور تعلیمی و معاشرتی ترقی کے نئے دور کا آغاز کہا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے مریم نواز کی وزارت اعلیٰ کا خیر مقدم کیا بلکہ اس امید کا اظہار کیا تھا کہ شعبہ تعلیم میں وزارت اور سیکرٹری کسی خاتون کو دے کر دنیا کو پنجاب اور پاکستان میں خواتین کی تعلیمی ترجیحات کا پیغام دیا جائے گا۔
    پولیس کے رویہ کے بارے عوام کو عمومی شکایت ہوتی ہے لیکن میں نے دیکھا ہے وہاں بھی اگر کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا استاد ہے تو حیا کرتے ہیں۔ بیوروکریسی میں بہت سارے افسران جو اچھے خاندانی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں آج بھی اگر انکا استاد انکے دفتر آجائے تو وہ اپنی سیٹ پیش کرتے ہیں یا کم از کم ریوالونگ چئیر کی بجائے ان کے ساتھ کرسی یا صوفے پر بیٹھتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنے استاد سے بڑے نہیں ہوسکتے۔ آرمی اور جوڈیشری میں قابل تعریف حد تک استاد کی عزت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔
    اللہ کے نبی نے بیشتر دفعہ فرمایا کی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ کے آخری پیغمبر کا کام کرنے والوں کے ساتھ ایسا شرمناک رویہ؟
    ایک موقع پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ استاد کے مقام کیلئے رسول اللہ سے باب العلم کا لقب پانے والے اور جنت کے سردار حضرت علی کا یہ قول کافی ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔ امام علی بن حسین زین العابدین کا کہنا ہے کہ استاد کا حق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اسکی موجودگی کا لحاظ کیا جائے۔
    خلیفہ ہارون الرشید کے دونوں بیٹے استاد کے جوتے پکڑنے میں پہلے کرنے کیلئے مقابلہ کرتے تھے۔
    سیکرٹری تعلیم نے معزز اساتذہ کو کھڑے کرکے نا صرف ان کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ ان کی پیشگی اجازات کی بغیر انکی ویڈیو بنا کر اور سوشل میڈیا پر اپلود کر کے پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی کی، پیکا ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور بنا اجازت سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی سزا تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی معزز شہری کی ویڈیو نہ تو بنائیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر شائع کریں۔ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی کا کام کرکے احسان نہیں کرتا جو زبردستی انکی ویڈیو اور تصاویر بنا کرسوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی ہے۔ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعلی اور وزیراعظم کے علاوہ کسی بھی سرکاری ملازم کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر کاموں کا کریڈٹ اور تشہیر صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے نہ کہ سرکاری ملازمین کا۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع ضلع راجن پور، محض ایک جغرافیائی حد بندی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جو فطرت کے حسین مناظر، دریا اور پہاڑوں کی آغوش میں ہونے کے باوجود محرومیوں، پسماندگی اور بے توجہی کی تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ ضلع ایک طرف کوہِ سلیمان کے دلکش پہاڑی سلسلے سے جڑا ہوا ہے، تو دوسری طرف دریاۓ سندھ کی موجیں اس کی زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ مگر افسوس کہ قدرتی حسن کی یہ سرزمین معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں نہ صرف پیچھے رہ گئی بلکہ کئی حوالوں سے وقت کے قافلے سے کٹ کر رہ گئی ہے۔

    جب ڈیرہ غازی خان کو ڈویژن کا درجہ ملا، تو اس کے ساتھ ہی اس کی تحصیل راجن پور کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس تبدیلی سے علاقے کی تقدیر نہ بدل سکی۔ ترقیاتی عمل یہاں تک پہنچتے پہنچتے جیسے تھک سا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی کمی، صحت کی سہولیات کا فقدان، بنیادی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی اور سب سے بڑھ کر قبائلی و جاگیردارانہ نظام کی جکڑ نے اس خطے کے عوام کو ایک مسلسل معاشرتی جمود میں قید کر رکھا ہے۔

    راجن پور کا سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ یہاں کی خواتین ہیں، جو دہری محرومی کا شکار ہیں۔ ایک طرف پسماندہ معیشت اور بنیادی سہولیات کی کمی، تو دوسری طرف روایتی تمن داری، قبائلی رسوم و رواج، اور سماجی رکاوٹیں۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور خود مختاری کے مواقع فراہم کرنا آج بھی ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔

    یہ بات سچ ہے کہ راجن پور آج بھی کئی حوالوں سے محروم ہے، مگر تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ سیلاب، غربت اور بندشوں نے اگرچہ پروین بی بی جیسی خواتین کی زندگیاں مفلوج کر دیں، لیکن یہی بحران ان کے لیے ایک موقع بھی بن گیا۔ انہوں نے تربیت حاصل کی، روزگار اپنایا، اور رفتہ رفتہ خود کو اور اپنے علاقے کو بدلنے لگیں۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر حالات کو بدلا جائے، مواقع دیے جائیں، تو محرومیوں کی زنجیروں کو توڑا جا سکتا ہے۔

    تاہم، اس سیاہی میں امید کی کچھ روشن کرنیں بھی نظر آتی ہیں۔ راجن پور کی کچھ بیٹیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنے حوصلے، علم، ہنر اور آواز کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے نئی راہیں تلاش کیں بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی مشعلِ راہ بنیں۔ ان میں ڈاکٹر شریں مزاری کا نام نمایاں ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں، جبکہ منیبہ مزاری ایک حوصلہ مند کہانی اور خواتین کے لیے طاقت کی علامت ہیں۔ شازیہ عابد اور نرجس بتول، شہناز اکبر جیسے نام بھی راجن پور کی شناخت کا فخر ہیں جنہوں نے سماجی سطح پر خدمات انجام دے کر خواتین کی آواز کو تقویت دی۔

    حال ہی میں راجن پور کی تاریخ میں ایک مثبت موڑ اس وقت آیا جب موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق، جو نہ صرف ایک فعال منتظم بلکہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے افسر ہیں، نے "عورت بااختیار قومی کانفرنس” کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ اُس گونگی آواز کو زبان دینے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی جو صدیوں سے دبی ہوئی ہے۔

    ملک بھر سے ممتاز خواتین، ماہرین اور سماجی کارکنان اس کانفرنس میں شریک ہوئیں۔ اگرچہ ان میں سے اکثر شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کی موجودگی نے راجن پور کی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان رول ماڈل خواتین کی کامیابیاں ایک ایسی روشنی ہیں جس کی کرنیں اب راجن پور کی گلیوں، بستیوں اور جھونپڑیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب کی موجودہ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف ہیں، جنہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اُن کی قیادت میں راجن پور جیسے اضلاع کے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ایسے میں خواتین کی قومی کانفرنس کا راجن پور میں انعقاد یہ ثابت کرتا ہے کہ اب پسماندہ علاقوں کی خواتین بھی قومی مکالمے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔

    راجن پور کی عورت اب خاموش تماشائی نہیں بلکہ متحرک کردار بننے کو تیار ہے۔ اسے اگر تعلیم، تربیت، معاشی خودمختاری، اور تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ معاشرے کے دھارے کو بھی مثبت سمت میں موڑ سکتی ہے۔

    یہ وقت ہے کہ ہم راجن پور کی عورت کی آواز بنیں، اس کے مسائل کو سنیں، اور اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ جب ایک عورت بااختیار ہوتی ہے، تو ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، اور جب ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، تو ایک قوم کی تقدیر بدلتی ہے۔

  • ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    آسمان مہربان ہے یا آسمان والا؟
    بارہ مئی 2025 میری زندگی کا رنگین دن تھا۔ اس دن میں نے ہمت کے، محنت اور جرات کے سب ہی رنگ دیکھے۔ سورج ڈھل چکا تھا، اور چاند اپنی چاندی پھیلائے آسماں پر جگمگا رہا تھا۔ ساتھ دور سے دکھنے والے ننھے منے ستارے دنیا کو روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
    تازہ اور خوش گوار ہوا ہر سوگوار شخص کو ذہنی طور پر ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اسی وقت رات میں، مجھے پروگرام میں شرکت کرنے کا ‘دعوت نامہ’ ملا۔
    وہ تقریب نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ وہاں انہیں ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا جانا تھا۔
    پہلے پہل، میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ کیوں کہ وہ میرا پہلا ‘ ادبی ایوارڈ ‘ ہوتا۔ مگر تقریب پنجاب کے شہر ‘ لاہور ‘ میں ہونی تھی۔
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    یہ اسمِ معرفہ میرے کانوں اور دل کو راس نہ آیا۔ اگلے دن چند آنسو بہہ کر میں نے میسج کیا۔
    ‘ Ma’am! Sorry I can’t come, due to some problem which is undescribable.”
    Thank-you!
    اس دن کے بعد، میں مسکرانا بھول گئی تھی۔ میری خوشیاں کیوں چھین لی جاتی ہیں ؟ کیوں اس دلِ ناشاد کو شاد نہیں رہنے دیا جاتا؟
    میں محنت کرتی جاؤں، اور حاصل کچھ نہیں ؟
    اللّٰہ تعالیٰ مجھ پر مہربان ہیں۔ ہاں مہربان ہیں!
    یہ میں نہیں میرا دل کہتا ہے۔
    ہر بار کی طرح اس دکھ کی گھڑی میں بھی قرآن تھاما۔ وہاں سے جو تسلیاں ملتی ہیں وہ حوصلہ بخش ہوتی ہیں، اور امید افزا ہوتی ہیں۔
    ‘دل کو بارِ دگر مسکرانے کا سندیس ملا.’
    اگرچہ آپ کی زندگی میں مثبت اور تعمیری سوچ والے نفوس موجود ہیں۔ تو آپ خوش قسمت ہیں۔ ان لوگوں کی آپ سے جڑت ہی آپ کی خوش قسمتی کی ‘علت’ ہے۔
    میں جب جب ہمت ہارنے لگوں، زرش میرے حوصلوں کو پست ہونے نہیں دیتیں۔ میں ایک ایورڈ کے ضائع ہو جانے پر آنسو بہا رہی تھی۔ زرش نے اپنے ضائع ہوئے ایواڈز کی تعداد گنوائی۔
    ایک نہیں۔
    دو نہیں۔
    تین نہیں۔
    چار، پانچ ایورڈ ضائع ہوئے۔
    مگر ان کی ہمت اور پیشن آج بھی قائم ہے۔ وہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے لکھ رہی ہیں۔
    ادبی دنیا میں جب کبھی مشکل گھڑی آئے، وہ مجھے سمجھاتی ہیں، دل جیت لینے والی دعائیں دیتی ہیں۔ ایسے لوگ سب کی قسمت میں کہاں ہوتے ہیں؟
    ‘ یہ تو ہم جیسے ہوتے ہیں جن کی قسمت میں آپ جیسے ہوتے ہیں۔’
    یہ بات میں نے پہلے بھی لکھی تھی، ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی پڑھائی پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اور قلم کار ؟
    دور دور تک کوئی نہیں۔
    مجھے اس بات پر فخر ہوتا یے کہ میں پورے خاندان میں سب سے چھوٹی ہوں۔
    میرے بعد کوئی نہیں یے !
    الحمد اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے زرخیز ذہن سے نوازا ہے۔ میں نے سب سے پہلے ‘ڈاکٹر’ بننے کا خواب بُنا تھا۔ جہاں سپورٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو وہاں ڈاکٹر نہیں بنا جاتا۔ اس وقت میں چھوٹی تھی خود سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ خود کو سنبھالنا نہیں سیکھی تھی۔
    پھر میں نے بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بی اے کے دوران ایک اور خواب بُن لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بننے کا، مجھے CSS کرنا یے۔
    یہ خواب بھی تکمیل تک نہیں پہنچا، اس میدان میں قدم دھرنے سے پہلے ہی سمجھوتہ کرنا پڑا۔ کیوں کہ میں ‘ لڑکی ‘ ہوں۔
    پھر آنسو صاف کر کے انگلش پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر یہاں بھی سمجھوتہ آڑے آیا۔
    روزانہ یونی ورسٹی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کیوں کہ میں ‘لڑکی’ ہوں۔
    اتنے خوابوں کے بکھر جانے کے بعد بھی زندہ ہوں۔ پس یہی میرا حوصلہ ہے۔

    ‘ اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں ‘
    ایک بار پھر خوب آنسو بہا کر دل کو ہلکا کیا۔ اور آخر کار اُردو ادب کی راہ لی۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی قلم تھام لیا تھا۔ شاید وہ سب میرا نہیں تھا۔
    ‘میرے حصّے اُردو ادب اور قلم آیا ‘
    قلم تھامنے کے بعد مجھے ادبی محافل میں دعوت نامے ملنے لگے۔ ایک بار پھر سمجھوتہ زندگی میں لوٹ آیا۔ کبھی کسی محفل میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
    کئی بار ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا۔
    کیوں کہ:
    ہزار برق گرے ــــــــــــ لاکھ آندھیاں اٹھیں
    وہ پھول کھل کر رہیں گے جو کھلنے والے ہیں