Baaghi TV

Category: خواتین

  • جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے، بالکل، ویسے جیسے پتے شجر سے گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے، آہستہ آہستہ اور بے آواز گرتے ہیں۔ نہ چیختے ہیں، نہ روکتے ہیں، بس خود کو ہوا کے حوالے کر دیتے ہیں، ایک آخری بار شجر کو دیکھتے ہیں اور پھر زمین پر آن گرتے ہیں، جہاں ہر قدم انہیں روندتا ہے۔ ہر جوتی ان کے وجود کو مٹاتی ہے، اور کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیوں گرے؟ شجر خاموش رہتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ مگر پتے جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جدائی واقعی موت ہوتی ہے—ایسی موت جو جسم سے پہلے روح کو لے جاتی ہے، جو خاموشی سے دل میں اُترتی ہے اور جس کا نہ کفن ہوتا ہے، نہ جنازہ۔

    جدائی ایک بے نشان قبر کی طرح ہے، جہاں نہ کوئی نام ہوتا ہے، نہ تاریخ، نہ دعائیں—صرف تنہائی، اور وہ ہوا کا تھپڑ جو بار بار یاد دلاتا ہے کہ تم اب شجر کا حصہ نہیں رہے۔ تم اب بس زمین پر ایک بوجھ ہو۔ ہر گزرتا لمحہ ایک اور کچلا ہوا احساس ہوتا ہے، ہر گزرنے والا انسان ایک اور لاتعلق نظر۔ پتے سوچتے ہیں، شجر نے روکا کیوں نہیں؟ کیا وہ بے وفا تھا، یا وقت ظالم تھا، یا قسمت ہی ایسی تھی؟ جدائی کا لمحہ ایک قیامت جیسا ہوتا ہے، جیسے کوئی تمہارا آپ تم سے چھین لے۔ شجر کی ہر شاخ گواہ ہوتی ہے اُس لمحے کی جب پتہ الگ ہوا، جب رشتہ ٹوٹا اور ایک کہانی لفظوں کے بغیر، آواز کے بغیر، بس خاموشی کے کفن میں دفن ہو گئی۔

    ہم سب وقت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جیسے ہر پتہ۔ جدائی نے سب کو چھوا ہے—کسی کی ماں، کسی کا دوست، کسی کا پیار، کسی کی امید—سب ہی روندے گئے، جیسے پتے۔ شجر بدلتے رہے، کہانیاں بدلتی رہیں، مگر انجام ہمیشہ ایک ہی رہا: تنہائی، خاموشی، اور مٹی۔

  • سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے لوگوں کو قریب لاتا ہے اور مثبت استعمال کی صورت میں سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مگر کیا ہم واقعی اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں؟

    اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال وقت ضائع کرنے، بے مقصد بحث و مباحثے، افواہیں پھیلانے اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے تک محدود ہو چکا ہے۔ ہم دن کا بیشتر حصہ اسکرین پر گزار دیتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہمارے تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، دوست ایک ہی محفل میں بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کٹے کٹے نظر آتے ہیں، اور حقیقی رشتے ناتوں کی جگہ "آن لائن کنکشنز” نے لے لی ہے۔

    سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کا طوفان
    سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی جھوٹی خبر یا افواہ چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے، اور لوگ بغیر تصدیق کیے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے بسا اوقات معاشرے میں بے چینی اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)مگر ہم تحقیق سے زیادہ شیئر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی بار لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، قوم میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے بنیاد خبریں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

    کیا ہم سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں؟
    سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو عملی زندگی سے کاٹ کر ایک "ڈیجیٹل دنیا” میں قید کر دیا ہے۔ ہم گھنٹوں موبائل اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں ہمارے رویے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کو کھلانے کے بجائے فون اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، نوجوان کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور لوگ فطری حسن کو دیکھنے کے بجائے کیمروں کے ذریعے اسے قید کرنے میں مصروف ہیں۔

    مثبت استعمال: فیصلہ آپ کا!
    سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں، تعلیمی مواد دیکھیں، اچھے اخلاق کو فروغ دیں، وقت کا درست استعمال کریں اور تحقیق کے بغیر کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اس میں کھو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے رہیں، تو یہ ہمارے تعلقات، ذہنی سکون اور زندگی کی اصل خوبصورتی کو ہم سے چھین لے گا۔

    سوچیں! کیا ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟آئیے، آج سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت ذریعہ بنائیں گے، جھوٹی خبروں اور فضول بحثوں سے دور رہیں گے، اور اپنی حقیقی زندگی کو زیادہ اہمیت دیں گے

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

  • ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں ، کہتی ہے میری نظر شکریہ ۔۔۔۔۔۔

    آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے ۔۔۔۔

    جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں ۔۔۔۔

    اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔

    تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے لازوال گیتوں پہ اپنے منفرد رقص سے فلم انڈسٹری پہ دھاک بٹھانے والی ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے ۔
    غزالی آنکھوں والی رانی بیگم نے اپنے منفرد رقص اور لاجواب اداکاری سے تیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا ۔
    اپنے تیس سالہ فلمی کیریئر میں اس نے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کردار کو اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے ۔ آغاز میں بیشک اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یہی بات رانی بیگم پر بھی صادق آتی ہے ۔
    تین دہائیوں تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی اداکارہ رانی بیگم کا اصل نام ناصرہ تھا ، لیکن فلم انڈسٹری میں شہرت اس نے اپنے فلمی نام رانی بیگم سے حاصل کی ۔
    رانی بیگم ماضی کی معروف گلوکارہ مختار بیگم کے ڈرائیور کی بیٹی تھیں ۔ وہ 8 دسمبر 1946 ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔
    رانی کی فنی تربیت کے لئے اس کے والد نے اسے مختار بیگم کے حوالے کر دیا ۔
    ناصرہ جب سولہ برس کی ہوئی تو ہدایت کار انور کمال پاشا نے اسے رانی کا نام دے کر اپنی فلم ” محبوب” میں کاسٹ کیا ۔ یہ فلم فلاپ ہو گئی ۔ فلم محبوب کی طرح یکے بعد دیگرے دس فلموں میں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد 1967 ء میں ہدایت کار حسن طارق بٹ کی فلم
    ” دیور بھابھی ” کی کامیابی کے بعد اداکار و ہدایت کار کیفی کی پنجابی فلم ” چن مکھناں” بھی سپر ہٹ فلم قرار پائی ، اس کے بعد رانی پہ کامیابیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
    1968 ء میں ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم ” بہن بھائی” منظر عام پر آئی ، اس فلم کا ایک گیت” ہیلو ہیلو مسٹر عبد الغنی ” بھی بہت مشہور ہوا ۔
    1970 ء میں ریلیز ہونے والی فلم ” انجمن ” نے رانی بیگم کی شہرت و مقبولیت میں اور اضافہ کر دیا ، خاص طور پر اس فلم کے سونگ اور ان پہ رانی بیگم کے رقص نے وہ کامیابی حاصل کی جس کے بعد رانی بیگم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اس فلم میں رانی کے علاوہ سنتوش کمار ، صبیحہ خانم ، دیبا اور اداکار وحید مراد نے کام کیا ۔
    رانی بیگم نے اپنے عہد کے تقریباً سبھی قد آور اداکاروں کے ساتھ کام کیا مثلاً محمد علی ، وحید مراد ، سنتوش کمار ، درپن ، کمال ایرانی ، شاہد ، سدھیر ، حبیب ، ندیم ، علی اعجاز ، غلام محی الدین اور اداکار یوسف خان شامل ہیں ۔
    ان سب اداکاروں میں اداکار شاہد اور اداکار وحید مراد کے ساتھ رانی بیگم کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا ۔

    رانی بیگم کی کچھ قابلِ ذکر اُردو فلموں میں امراؤ جان ادا ، خوشبو ، تیری خاطر ، تہذیب ، سیتا مریم مارگریٹ ، ترانہ ، شمع پروانہ ، انجمن ، دیور بھابھی ، ایک گناہ اور سہی ، بہارو پھول برساؤ ، ثریا بھوپالی ، ناگ منی ، میرا گھر میری جنت ، دل میرا دھڑکن تیری ، پیاس ، ہزار داستان ، سہیلی ، گونگا اور فلم نذرانہ اور ان کی چند ایک پنجابی فلموں میں محرم دل دا ، دیوانہ مستانہ ، سونا چاندی ، موج میلہ ، دنیا مطلب دی اور فلم بابل شامل ہیں ۔
    جب بھارت میں فلم امراؤ جان ادا بنائی گئی تو بعد میں ان کی کاسٹ ٹیم نے یہ اعتراف کیا کہ وہ رانی بیگم جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    رانی بیگم نے مجموعی طور پر 168 فلموں میں کام کیا ، جن میں 103 اُردو اور 65 پنجابی فلمیں شامل ہیں ۔
    ان کی آخری فلم ” کالا طوفان ” 1987 ء میں ریلیز ہوئی ۔
    رانی بیگم نے اردو اور پنجابی فلموں میں اپنی دلکش مسکراہٹ ، خوبصورتی ، معصومیت ، جذباتی مکالموں ، اور منفرد رقص سے لاکھوں دلوں پر راج کیا اور اتنی مہارت سے ہر کردار ادا کیا کہ وہ کردار امر ہو گیا ۔

    انہیں بہترین اداکاری پر تین مرتبہ ” نگار ایوارڈ ” سے نوازا گیا ۔
    رانی بیگم نے پاکستان ٹیلی ویژن کے کئی ڈرامہ سیریلز میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ، ان کے مشہور ڈرامہ سیریلز میں خواہش اور فریب سر فہرست ہیں ۔

    اپنے فلمی کیریئر میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود رانی بیگم اپنی حقیقی زندگی میں ازدواجی زندگی کے سکون سے محروم رہی ۔
    ان کی پہلی شادی ہدایت کار حسن طارق سے ہوئی جس سے رانی بیگم کا بیٹا علی رضا پیدا ہوا ، جبکہ دوسری شادی معروف فلم ساز جاوید قمر اور تیسری شادی کرکٹر سرفراز نواز سے ہوئی ، مگر بد قسمتی سے ان کی یہ تینوں شادیاں ناکام رہیں جس کا رانی کو ساری زندگی افسوس رہا ۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کیا ۔

    زندگی کے آخری دنوں میں انہیں کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا ۔ جس کے طویل علاج کے بعد بھی یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور بالآخر 27 مئی 1993 ء کو 47 برس کی عمر میں رانی بیگم اِنتقال کر گئیں ۔
    (ان للہ وان الیہ راجعون)

    وہ لاہور کے مسلم ٹاؤن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
    اللّٰہ تعالیٰ مرحومہ رانی بیگم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )
    آج 2025 ء میں رانی بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 32 برس بیت گئے لیکن ان کی اداکاری ، انداز گفتگو اور ان کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

  • شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ اور خاتون چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے پنجاب میں کسی عام خاتون کے ساتھ بھی ناروا سلوک کا ہونا ناقابل برداشت ہونا چاہئے لیکن ایک معلم کے ساتھ مجرموں والا رویہ ہونا ہم سب کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب کے آفیشل پیچ پر لگی تصاویر اور ویڈیو نے ناصرف اساتذہ اکرام کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہر باشعور اور غیرت مند فرد کو رلا کر رکھ دیا۔ سیکرٹری خود اور اپنے ہمنوا افسران کے ہمراہ کرسیوں پر براجمان ہو کر بادشاہانہ تمکنت کے ساتھ معزز خواتین اساتذہ کو کھڑے کرکے ہئیرنگ کر رہا ہے۔ مرد و خواتین اساتذہ کو مجرموں کی طرح کھڑے کرکے سننا استاد کی توہین اور جتنی مذمت کی جائے اتنی کم والا شرمناک رویہ ہے۔
    پورے پنجاب کے اساتذہ اور ہر شہری اس رویے پر شدید دکھی اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر مکتبہ فکر کی طرف سے اس شرمناک رویے پر سیکرٹری سے معافی اور وزیراعلیٰ سے سیکرٹری کی برطرفی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ جب آپ نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیا تو دنیا بھر کی تعلیمی و سماجی تنظیموں کی طرف سے آپ کی وزارت اعلیٰ کو پنجاب میں خواتین کی بااختیاری اور تعلیمی و معاشرتی ترقی کے نئے دور کا آغاز کہا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے مریم نواز کی وزارت اعلیٰ کا خیر مقدم کیا بلکہ اس امید کا اظہار کیا تھا کہ شعبہ تعلیم میں وزارت اور سیکرٹری کسی خاتون کو دے کر دنیا کو پنجاب اور پاکستان میں خواتین کی تعلیمی ترجیحات کا پیغام دیا جائے گا۔
    پولیس کے رویہ کے بارے عوام کو عمومی شکایت ہوتی ہے لیکن میں نے دیکھا ہے وہاں بھی اگر کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا استاد ہے تو حیا کرتے ہیں۔ بیوروکریسی میں بہت سارے افسران جو اچھے خاندانی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں آج بھی اگر انکا استاد انکے دفتر آجائے تو وہ اپنی سیٹ پیش کرتے ہیں یا کم از کم ریوالونگ چئیر کی بجائے ان کے ساتھ کرسی یا صوفے پر بیٹھتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنے استاد سے بڑے نہیں ہوسکتے۔ آرمی اور جوڈیشری میں قابل تعریف حد تک استاد کی عزت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔
    اللہ کے نبی نے بیشتر دفعہ فرمایا کی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ کے آخری پیغمبر کا کام کرنے والوں کے ساتھ ایسا شرمناک رویہ؟
    ایک موقع پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ استاد کے مقام کیلئے رسول اللہ سے باب العلم کا لقب پانے والے اور جنت کے سردار حضرت علی کا یہ قول کافی ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔ امام علی بن حسین زین العابدین کا کہنا ہے کہ استاد کا حق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اسکی موجودگی کا لحاظ کیا جائے۔
    خلیفہ ہارون الرشید کے دونوں بیٹے استاد کے جوتے پکڑنے میں پہلے کرنے کیلئے مقابلہ کرتے تھے۔
    سیکرٹری تعلیم نے معزز اساتذہ کو کھڑے کرکے نا صرف ان کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ ان کی پیشگی اجازات کی بغیر انکی ویڈیو بنا کر اور سوشل میڈیا پر اپلود کر کے پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی کی، پیکا ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور بنا اجازت سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی سزا تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی معزز شہری کی ویڈیو نہ تو بنائیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر شائع کریں۔ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی کا کام کرکے احسان نہیں کرتا جو زبردستی انکی ویڈیو اور تصاویر بنا کرسوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی ہے۔ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعلی اور وزیراعظم کے علاوہ کسی بھی سرکاری ملازم کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر کاموں کا کریڈٹ اور تشہیر صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے نہ کہ سرکاری ملازمین کا۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع ضلع راجن پور، محض ایک جغرافیائی حد بندی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جو فطرت کے حسین مناظر، دریا اور پہاڑوں کی آغوش میں ہونے کے باوجود محرومیوں، پسماندگی اور بے توجہی کی تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ ضلع ایک طرف کوہِ سلیمان کے دلکش پہاڑی سلسلے سے جڑا ہوا ہے، تو دوسری طرف دریاۓ سندھ کی موجیں اس کی زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ مگر افسوس کہ قدرتی حسن کی یہ سرزمین معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں نہ صرف پیچھے رہ گئی بلکہ کئی حوالوں سے وقت کے قافلے سے کٹ کر رہ گئی ہے۔

    جب ڈیرہ غازی خان کو ڈویژن کا درجہ ملا، تو اس کے ساتھ ہی اس کی تحصیل راجن پور کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس تبدیلی سے علاقے کی تقدیر نہ بدل سکی۔ ترقیاتی عمل یہاں تک پہنچتے پہنچتے جیسے تھک سا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی کمی، صحت کی سہولیات کا فقدان، بنیادی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی اور سب سے بڑھ کر قبائلی و جاگیردارانہ نظام کی جکڑ نے اس خطے کے عوام کو ایک مسلسل معاشرتی جمود میں قید کر رکھا ہے۔

    راجن پور کا سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ یہاں کی خواتین ہیں، جو دہری محرومی کا شکار ہیں۔ ایک طرف پسماندہ معیشت اور بنیادی سہولیات کی کمی، تو دوسری طرف روایتی تمن داری، قبائلی رسوم و رواج، اور سماجی رکاوٹیں۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور خود مختاری کے مواقع فراہم کرنا آج بھی ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔

    یہ بات سچ ہے کہ راجن پور آج بھی کئی حوالوں سے محروم ہے، مگر تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ سیلاب، غربت اور بندشوں نے اگرچہ پروین بی بی جیسی خواتین کی زندگیاں مفلوج کر دیں، لیکن یہی بحران ان کے لیے ایک موقع بھی بن گیا۔ انہوں نے تربیت حاصل کی، روزگار اپنایا، اور رفتہ رفتہ خود کو اور اپنے علاقے کو بدلنے لگیں۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر حالات کو بدلا جائے، مواقع دیے جائیں، تو محرومیوں کی زنجیروں کو توڑا جا سکتا ہے۔

    تاہم، اس سیاہی میں امید کی کچھ روشن کرنیں بھی نظر آتی ہیں۔ راجن پور کی کچھ بیٹیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنے حوصلے، علم، ہنر اور آواز کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے نئی راہیں تلاش کیں بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی مشعلِ راہ بنیں۔ ان میں ڈاکٹر شریں مزاری کا نام نمایاں ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں، جبکہ منیبہ مزاری ایک حوصلہ مند کہانی اور خواتین کے لیے طاقت کی علامت ہیں۔ شازیہ عابد اور نرجس بتول، شہناز اکبر جیسے نام بھی راجن پور کی شناخت کا فخر ہیں جنہوں نے سماجی سطح پر خدمات انجام دے کر خواتین کی آواز کو تقویت دی۔

    حال ہی میں راجن پور کی تاریخ میں ایک مثبت موڑ اس وقت آیا جب موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق، جو نہ صرف ایک فعال منتظم بلکہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے افسر ہیں، نے "عورت بااختیار قومی کانفرنس” کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ اُس گونگی آواز کو زبان دینے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی جو صدیوں سے دبی ہوئی ہے۔

    ملک بھر سے ممتاز خواتین، ماہرین اور سماجی کارکنان اس کانفرنس میں شریک ہوئیں۔ اگرچہ ان میں سے اکثر شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کی موجودگی نے راجن پور کی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان رول ماڈل خواتین کی کامیابیاں ایک ایسی روشنی ہیں جس کی کرنیں اب راجن پور کی گلیوں، بستیوں اور جھونپڑیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب کی موجودہ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف ہیں، جنہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اُن کی قیادت میں راجن پور جیسے اضلاع کے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ایسے میں خواتین کی قومی کانفرنس کا راجن پور میں انعقاد یہ ثابت کرتا ہے کہ اب پسماندہ علاقوں کی خواتین بھی قومی مکالمے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔

    راجن پور کی عورت اب خاموش تماشائی نہیں بلکہ متحرک کردار بننے کو تیار ہے۔ اسے اگر تعلیم، تربیت، معاشی خودمختاری، اور تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ معاشرے کے دھارے کو بھی مثبت سمت میں موڑ سکتی ہے۔

    یہ وقت ہے کہ ہم راجن پور کی عورت کی آواز بنیں، اس کے مسائل کو سنیں، اور اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ جب ایک عورت بااختیار ہوتی ہے، تو ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، اور جب ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، تو ایک قوم کی تقدیر بدلتی ہے۔

  • ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    آسمان مہربان ہے یا آسمان والا؟
    بارہ مئی 2025 میری زندگی کا رنگین دن تھا۔ اس دن میں نے ہمت کے، محنت اور جرات کے سب ہی رنگ دیکھے۔ سورج ڈھل چکا تھا، اور چاند اپنی چاندی پھیلائے آسماں پر جگمگا رہا تھا۔ ساتھ دور سے دکھنے والے ننھے منے ستارے دنیا کو روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
    تازہ اور خوش گوار ہوا ہر سوگوار شخص کو ذہنی طور پر ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اسی وقت رات میں، مجھے پروگرام میں شرکت کرنے کا ‘دعوت نامہ’ ملا۔
    وہ تقریب نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ وہاں انہیں ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا جانا تھا۔
    پہلے پہل، میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ کیوں کہ وہ میرا پہلا ‘ ادبی ایوارڈ ‘ ہوتا۔ مگر تقریب پنجاب کے شہر ‘ لاہور ‘ میں ہونی تھی۔
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    یہ اسمِ معرفہ میرے کانوں اور دل کو راس نہ آیا۔ اگلے دن چند آنسو بہہ کر میں نے میسج کیا۔
    ‘ Ma’am! Sorry I can’t come, due to some problem which is undescribable.”
    Thank-you!
    اس دن کے بعد، میں مسکرانا بھول گئی تھی۔ میری خوشیاں کیوں چھین لی جاتی ہیں ؟ کیوں اس دلِ ناشاد کو شاد نہیں رہنے دیا جاتا؟
    میں محنت کرتی جاؤں، اور حاصل کچھ نہیں ؟
    اللّٰہ تعالیٰ مجھ پر مہربان ہیں۔ ہاں مہربان ہیں!
    یہ میں نہیں میرا دل کہتا ہے۔
    ہر بار کی طرح اس دکھ کی گھڑی میں بھی قرآن تھاما۔ وہاں سے جو تسلیاں ملتی ہیں وہ حوصلہ بخش ہوتی ہیں، اور امید افزا ہوتی ہیں۔
    ‘دل کو بارِ دگر مسکرانے کا سندیس ملا.’
    اگرچہ آپ کی زندگی میں مثبت اور تعمیری سوچ والے نفوس موجود ہیں۔ تو آپ خوش قسمت ہیں۔ ان لوگوں کی آپ سے جڑت ہی آپ کی خوش قسمتی کی ‘علت’ ہے۔
    میں جب جب ہمت ہارنے لگوں، زرش میرے حوصلوں کو پست ہونے نہیں دیتیں۔ میں ایک ایورڈ کے ضائع ہو جانے پر آنسو بہا رہی تھی۔ زرش نے اپنے ضائع ہوئے ایواڈز کی تعداد گنوائی۔
    ایک نہیں۔
    دو نہیں۔
    تین نہیں۔
    چار، پانچ ایورڈ ضائع ہوئے۔
    مگر ان کی ہمت اور پیشن آج بھی قائم ہے۔ وہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے لکھ رہی ہیں۔
    ادبی دنیا میں جب کبھی مشکل گھڑی آئے، وہ مجھے سمجھاتی ہیں، دل جیت لینے والی دعائیں دیتی ہیں۔ ایسے لوگ سب کی قسمت میں کہاں ہوتے ہیں؟
    ‘ یہ تو ہم جیسے ہوتے ہیں جن کی قسمت میں آپ جیسے ہوتے ہیں۔’
    یہ بات میں نے پہلے بھی لکھی تھی، ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی پڑھائی پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اور قلم کار ؟
    دور دور تک کوئی نہیں۔
    مجھے اس بات پر فخر ہوتا یے کہ میں پورے خاندان میں سب سے چھوٹی ہوں۔
    میرے بعد کوئی نہیں یے !
    الحمد اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے زرخیز ذہن سے نوازا ہے۔ میں نے سب سے پہلے ‘ڈاکٹر’ بننے کا خواب بُنا تھا۔ جہاں سپورٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو وہاں ڈاکٹر نہیں بنا جاتا۔ اس وقت میں چھوٹی تھی خود سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ خود کو سنبھالنا نہیں سیکھی تھی۔
    پھر میں نے بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بی اے کے دوران ایک اور خواب بُن لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بننے کا، مجھے CSS کرنا یے۔
    یہ خواب بھی تکمیل تک نہیں پہنچا، اس میدان میں قدم دھرنے سے پہلے ہی سمجھوتہ کرنا پڑا۔ کیوں کہ میں ‘ لڑکی ‘ ہوں۔
    پھر آنسو صاف کر کے انگلش پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر یہاں بھی سمجھوتہ آڑے آیا۔
    روزانہ یونی ورسٹی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کیوں کہ میں ‘لڑکی’ ہوں۔
    اتنے خوابوں کے بکھر جانے کے بعد بھی زندہ ہوں۔ پس یہی میرا حوصلہ ہے۔

    ‘ اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں ‘
    ایک بار پھر خوب آنسو بہا کر دل کو ہلکا کیا۔ اور آخر کار اُردو ادب کی راہ لی۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی قلم تھام لیا تھا۔ شاید وہ سب میرا نہیں تھا۔
    ‘میرے حصّے اُردو ادب اور قلم آیا ‘
    قلم تھامنے کے بعد مجھے ادبی محافل میں دعوت نامے ملنے لگے۔ ایک بار پھر سمجھوتہ زندگی میں لوٹ آیا۔ کبھی کسی محفل میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
    کئی بار ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا۔
    کیوں کہ:
    ہزار برق گرے ــــــــــــ لاکھ آندھیاں اٹھیں
    وہ پھول کھل کر رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

  • اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ
    ادب ایک ایسا چراغ ہے جو معاشروں کی اندھیری راہوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ اور جب اس چراغ کو تھامنے والے اہلِ قلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو وہ معاشرے کے فکری، تہذیبی اور تخلیقی منظرنامے کو نکھار دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک روشن اور پُراثر پلیٹ فارم کا نام ہے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)، جو ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کو نہ صرف جوڑنے بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

    حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام اپووا کے زیرِ اہتمام ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے معزز لکھاریوں، فنکاروں، اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ اس پررونق محفل کی دعوت مجھے بانیِ اپووا ایم ایم علی بھائی کی جانب سے خصوصی طور پر دی گئی تھی، جن کی محبت، خلوص اور تنظیم کے لیے خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ ان کی دعوت میرے لیے باعثِ اعزاز تھی، اور میں دل سے اس تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتی تھی۔بدقسمتی سے، میری والدہ کی طبیعت ناساز ہو گئی جس کے باعث میں اس شاندار تقریب میں شریک نہ ہو سکی۔دوران تقریب بھی علی بھائی کی مسلسل کالز آتی رہیں لیکن میں وقت پر جواب نہ دے سکی، میں دل کی گہرائیوں سے علی بھائی سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ان کی محبت بھری دعوت کے باوجود شریک نہ ہو سکی۔ میری نیک تمنائیں اور دعائیں اس بابرکت محفل کے ساتھ تھیں،وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ ایسے مواقع پر ضرور شریک ہوں گی

    اپووا ایک ایسی تنظیم ہے جس نے بکھرے ہوئے ادیبوں اور شاعروں کو ایک مرکز، ایک سمت، اور ایک مقصد دیا۔ یہ تنظیم اُن پتیوں کی مانند ہے جنہیں چن کر ایک خوبصورت پھول بنایا گیا، اور پھر ان پھولوں سے ایک مہکتا ہوا گلدستہ تیار کیا گیا ایک ایسا گلدستہ جس کی خوشبو پورے پاکستان کے ادبی منظرنامے کو معطر کیے ہوئے ہے۔میری دعا ہے کہ یہ گلدستہ ہمیشہ مہکتا رہے، قلمکاروں کی آواز بلند ہوتی رہے، اور ایم ایم علی بھائی جیسے مخلص افراد ہمیشہ اس کارِ خیر میں پیش پیش رہیں۔ میں اپووا کی پوری ٹیم، تمام شرکاء اور خاص طور پر علی بھائی کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، دلی دعائیں، نیک تمنائیں……

  • آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    10 مئی 2025 کو پاکستانی مسلح افواج نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ آپریشن بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب تھا، جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دنیا کو ثابت کر دیا کہ پاکستان پر میلی نظر رکھنے والے دشمنوں کو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر ایک اور جارحیت کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کا آغاز اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    پاکستانی فوج کی بری، بحری، اور فضائی افواج نے اپنے بھرپور عزم، طاقت اور حکمت عملی کے ساتھ بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کی کامیابی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی افواج کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کو اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس آپریشن نے نہ صرف پاکستانی عوام کا اعتماد جیتا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے دفاعی معیار اور عزم کو بلند کیا۔پاکستانی عوام نے افواجِ پاکستان کی اس بے مثال بہادری اور جوابی کارروائی کو سراہا۔ لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی قربانیوں کی قدر کی۔ عوام کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے، لیکن جب بھی وطن کی سلامتی کے لیے ضرورت پڑی، وہ اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے حملہ کیا، لیکن پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے اس کی ساکھ کو دنیا بھر میں خاک میں ملا دیا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جس جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی، وہ اس کے لیے ایک بدترین ناکامی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا بلکہ اپنی فوج کی طاقت کو عالمی سطح پر ثابت کیا۔پاکستان کی افواج کی اس کامیابی نے نہ صرف دشمن کو ناکامی سے دوچار کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کر دیا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ یہ کامیابی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مزید مضبوط اور معتبر بناتی ہے۔ پاکستانی عوام نے اس موقع پر یہ عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر ان کا ساتھ دیں گے۔ یہ عہد پاکستان کی طاقت، عزم اور یکجہتی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    10 مئی 2025 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب افواجِ پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپریشن پاکستانی فوج کی بے مثال بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثال ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کو سلام، اور ہم سب کا عہد ہے کہ وطن کی دفاع میں ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    صبح جاگتے ہی جاب کے لیے دوڑ، دوپہر کو جلدی جلدی میں کچھ کھا لینا، اور رات کو باہر سے کچھ آرڈر کر لینا — یہ آج کی شہری زندگی کا معمول بن چکا ہے۔زندگی کی اس تیز رفتاری میں ہم اپنی صحت، کلچر اور اصل ذائقے کو بھولتے جا رہے ہیں۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ دیسی کھانے جو آپ کے بڑوں کے دسترخوان کی شان ہوا کرتے تھے، اب بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں؟آئیے جانتے ہیں کہ شہری زندگی کے ساتھ دیسی کھانوں کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے — وہ بھی آسانی اور کم وقت میں!

    1. ہفتہ وار پلاننگ کریں
    ہفتے کے آخر میں تھوڑا وقت نکال کر دالیں، سبزیاں، شوربے یا سالن تیار کر لیں۔
    اس طرح ہفتے بھر میں آپ آسانی سے دیسی کھانے کھا سکیں گے — بغیر وقت ضائع کیے۔

    2. جلدی تیار ہونے والی دیسی ڈشز اپنائیں:
    مثلاً:

    پالک دال

    بھنڈی فرائی

    آلو کے پراٹھے

    دال چاول
    یہ کھانے نہ صرف آسان ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی۔

    3. دیسی ناشتہ واپس لائیں
    آج کل کا ناشتہ صرف چائے اور بسکٹ؟
    اس کی جگہ انڈہ پراٹھا، دہی یا ستّو کا شربت شامل کریں — صحت مند بھی اور سستا بھی۔

    4. دیسی گھی اور مصالحوں کا درست استعمال:
    اعتدال میں دیسی گھی، ہلدی، زیرہ، ادرک، لہسن کا استعمال کریں — یہ کھانوں کو ذائقہ اور صحت دونوں دیتے ہیں۔

    5. باہر کے بجائے گھر کا "Quick Lunch” اپنائیں:
    دفتر کے لیے 10 منٹ میں تیار ہونے والے کھانے جیسے:

    ابلے انڈے

    دال چاول

    سبزی والے رول

    یہ بہترین اور practical آپشنز ہیں۔

    6. فریزر فرینڈلی دیسی کھانے:
    کچھ سالن یا قیمہ فریز کر لیں تاکہ مصروف دنوں میں صرف گرم کرنا پڑے۔

    شہری زندگی اور دیسی کھانے — توازن ممکن ہے!
    اگر ہم تھوڑی سی پلاننگ، اعتدال اور شعور سے کام لیں تو نہ صرف اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند بھی رہ سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں،دیسی کھانے محض خوراک نہیں، اپنی پہچان سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

    خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں