Baaghi TV

Category: خواتین

  • اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ
    ادب ایک ایسا چراغ ہے جو معاشروں کی اندھیری راہوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ اور جب اس چراغ کو تھامنے والے اہلِ قلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو وہ معاشرے کے فکری، تہذیبی اور تخلیقی منظرنامے کو نکھار دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک روشن اور پُراثر پلیٹ فارم کا نام ہے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)، جو ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کو نہ صرف جوڑنے بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

    حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام اپووا کے زیرِ اہتمام ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے معزز لکھاریوں، فنکاروں، اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ اس پررونق محفل کی دعوت مجھے بانیِ اپووا ایم ایم علی بھائی کی جانب سے خصوصی طور پر دی گئی تھی، جن کی محبت، خلوص اور تنظیم کے لیے خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ ان کی دعوت میرے لیے باعثِ اعزاز تھی، اور میں دل سے اس تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتی تھی۔بدقسمتی سے، میری والدہ کی طبیعت ناساز ہو گئی جس کے باعث میں اس شاندار تقریب میں شریک نہ ہو سکی۔دوران تقریب بھی علی بھائی کی مسلسل کالز آتی رہیں لیکن میں وقت پر جواب نہ دے سکی، میں دل کی گہرائیوں سے علی بھائی سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ان کی محبت بھری دعوت کے باوجود شریک نہ ہو سکی۔ میری نیک تمنائیں اور دعائیں اس بابرکت محفل کے ساتھ تھیں،وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ ایسے مواقع پر ضرور شریک ہوں گی

    اپووا ایک ایسی تنظیم ہے جس نے بکھرے ہوئے ادیبوں اور شاعروں کو ایک مرکز، ایک سمت، اور ایک مقصد دیا۔ یہ تنظیم اُن پتیوں کی مانند ہے جنہیں چن کر ایک خوبصورت پھول بنایا گیا، اور پھر ان پھولوں سے ایک مہکتا ہوا گلدستہ تیار کیا گیا ایک ایسا گلدستہ جس کی خوشبو پورے پاکستان کے ادبی منظرنامے کو معطر کیے ہوئے ہے۔میری دعا ہے کہ یہ گلدستہ ہمیشہ مہکتا رہے، قلمکاروں کی آواز بلند ہوتی رہے، اور ایم ایم علی بھائی جیسے مخلص افراد ہمیشہ اس کارِ خیر میں پیش پیش رہیں۔ میں اپووا کی پوری ٹیم، تمام شرکاء اور خاص طور پر علی بھائی کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، دلی دعائیں، نیک تمنائیں……

  • آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    10 مئی 2025 کو پاکستانی مسلح افواج نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ آپریشن بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب تھا، جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دنیا کو ثابت کر دیا کہ پاکستان پر میلی نظر رکھنے والے دشمنوں کو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر ایک اور جارحیت کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کا آغاز اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    پاکستانی فوج کی بری، بحری، اور فضائی افواج نے اپنے بھرپور عزم، طاقت اور حکمت عملی کے ساتھ بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کی کامیابی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی افواج کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کو اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس آپریشن نے نہ صرف پاکستانی عوام کا اعتماد جیتا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے دفاعی معیار اور عزم کو بلند کیا۔پاکستانی عوام نے افواجِ پاکستان کی اس بے مثال بہادری اور جوابی کارروائی کو سراہا۔ لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی قربانیوں کی قدر کی۔ عوام کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے، لیکن جب بھی وطن کی سلامتی کے لیے ضرورت پڑی، وہ اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے حملہ کیا، لیکن پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے اس کی ساکھ کو دنیا بھر میں خاک میں ملا دیا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جس جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی، وہ اس کے لیے ایک بدترین ناکامی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا بلکہ اپنی فوج کی طاقت کو عالمی سطح پر ثابت کیا۔پاکستان کی افواج کی اس کامیابی نے نہ صرف دشمن کو ناکامی سے دوچار کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کر دیا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ یہ کامیابی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مزید مضبوط اور معتبر بناتی ہے۔ پاکستانی عوام نے اس موقع پر یہ عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر ان کا ساتھ دیں گے۔ یہ عہد پاکستان کی طاقت، عزم اور یکجہتی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    10 مئی 2025 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب افواجِ پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپریشن پاکستانی فوج کی بے مثال بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثال ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کو سلام، اور ہم سب کا عہد ہے کہ وطن کی دفاع میں ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    صبح جاگتے ہی جاب کے لیے دوڑ، دوپہر کو جلدی جلدی میں کچھ کھا لینا، اور رات کو باہر سے کچھ آرڈر کر لینا — یہ آج کی شہری زندگی کا معمول بن چکا ہے۔زندگی کی اس تیز رفتاری میں ہم اپنی صحت، کلچر اور اصل ذائقے کو بھولتے جا رہے ہیں۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ دیسی کھانے جو آپ کے بڑوں کے دسترخوان کی شان ہوا کرتے تھے، اب بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں؟آئیے جانتے ہیں کہ شہری زندگی کے ساتھ دیسی کھانوں کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے — وہ بھی آسانی اور کم وقت میں!

    1. ہفتہ وار پلاننگ کریں
    ہفتے کے آخر میں تھوڑا وقت نکال کر دالیں، سبزیاں، شوربے یا سالن تیار کر لیں۔
    اس طرح ہفتے بھر میں آپ آسانی سے دیسی کھانے کھا سکیں گے — بغیر وقت ضائع کیے۔

    2. جلدی تیار ہونے والی دیسی ڈشز اپنائیں:
    مثلاً:

    پالک دال

    بھنڈی فرائی

    آلو کے پراٹھے

    دال چاول
    یہ کھانے نہ صرف آسان ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی۔

    3. دیسی ناشتہ واپس لائیں
    آج کل کا ناشتہ صرف چائے اور بسکٹ؟
    اس کی جگہ انڈہ پراٹھا، دہی یا ستّو کا شربت شامل کریں — صحت مند بھی اور سستا بھی۔

    4. دیسی گھی اور مصالحوں کا درست استعمال:
    اعتدال میں دیسی گھی، ہلدی، زیرہ، ادرک، لہسن کا استعمال کریں — یہ کھانوں کو ذائقہ اور صحت دونوں دیتے ہیں۔

    5. باہر کے بجائے گھر کا "Quick Lunch” اپنائیں:
    دفتر کے لیے 10 منٹ میں تیار ہونے والے کھانے جیسے:

    ابلے انڈے

    دال چاول

    سبزی والے رول

    یہ بہترین اور practical آپشنز ہیں۔

    6. فریزر فرینڈلی دیسی کھانے:
    کچھ سالن یا قیمہ فریز کر لیں تاکہ مصروف دنوں میں صرف گرم کرنا پڑے۔

    شہری زندگی اور دیسی کھانے — توازن ممکن ہے!
    اگر ہم تھوڑی سی پلاننگ، اعتدال اور شعور سے کام لیں تو نہ صرف اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند بھی رہ سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں،دیسی کھانے محض خوراک نہیں، اپنی پہچان سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

    خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں

  • نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    اسلام میں نکاح کا اعلان کرنا ایک مؤکد سنت ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف نسب کی حفاظت ہے بلکہ معاشرتی فتنوں اور بدگمانیوں سے بچاؤ بھی ہے۔ نکاح کا اعلان کسی خاص انداز یا میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں۔۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی مشہور شخصیات کے نکاح کے معاملے میں یہ اصول اور زیادہ مؤکد ہو جاتا ہے کہ نکاح عام عوام کے علم میں ہو۔۔۔۔
    ایسا شخص اگر اپنی ازدواجی زندگی کو میڈیا کی چمک دمک سے بچا کر رکھتا ہے،۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کی تصویریں تفصیلات یا نجی معلومات عام نہیں کرتا،
    تو یہ بالکل جائز اور قابل احترام بات ہے۔ بلکہ قابل ستائش ہے۔۔۔۔
    اسلام بھی پردے، رازداری اور گھریلو وقار کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔
    لیکن شرط یہ ہے کہ
    نکاح کا وجود،
    عام لوگوں کے علم میں ہو۔۔۔۔ایسا نہ ہو کہ
    نکاح ہی چھپا لیا جائے، ازدواجی رشتہ ہی پوشیدہ رکھا جائے، یا عوام کو علم ہی نہ ہو کہ اس شخص کی شریعت کے مطابق کوئی اور بیوی موجود ہے۔۔۔۔
    سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نجی زندگی کو حد میں رکھنا اورنکاح کے وجود کو چھپانا — یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔۔۔۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کو میڈیا سے دور رکھنا نجی زندگی کے تحفظ کے دائرے میں آتا ہے، اور اسلام پردے، حیاء اور پرائیویسی کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن نکاح کے بارے میں اعلانیہ بتانے کا حکم دیتا ہے کہ کسی قسم کی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں، اور ذاتی زندگی کو حد میں رکھتے ہوئے عزت و وقار کے ساتھ گزارا جائے۔۔۔۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نکاح کو علانیہ کرو، اور اسے مسجد میں انجام دو اور دف بجاؤ۔” (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا مقصد صرف دو افراد کا باہم رشتہ قائم کرنا نہیں، بلکہ معاشرت میں ایک پاکیزہ تعلق کو واضح اور اعلانیہ بنانا بھی ہے۔ اگر نکاح چھپایا جائے تو نہ صرف شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں بلکہ بعض اوقات بڑے فتنوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے نکاح کا اعلان ایک اسلامی حکمت ہے تاکہ معاشرتی نظام سلامت رہے اور لوگوں کے درمیان اعتماد اور شفافیت قائم ہو اور بے جا قیاس آرائیاں نہ پھیلیں۔۔۔۔

    لیکن ساتھ ہی میں اس رویے کی مذمت کرتی ہوں کہ سلیبرٹیز کی ذاتی زندگی، ان کی فیملی اور بالخصوص ان کی اولاد کے بارے میں زبان درازی یا منفی گفتگو نہ کی جائے۔ میں دوبارہ اس رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہوں کہ کسی کی اولاد کو اچھا یا برا کہہ کر جج کیا جائے یا ان کی تربیت پر طعن کیا جائے۔۔۔۔
    اولاد کسی بھی انسان کا سب سے نازک معاملہ ہوتی ہے اور ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو بہترین تربیت دے۔ ہم ظاہر کو دیکھ کر کسی کے معاملات کے اندرونی پہلوؤں کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتے، اس لیے کسی کی اولاد کے کردار یا تربیت پر گفتگو کرنا بدگمانی اور غیر ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے، جس سے اسلام نے منع فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔
    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان اور قلم کی نوک کی تراش خراش نرمی سے کریں۔۔۔۔ اور دوسروں کے نجی معاملات میں تنقید سے پرہیز کریں۔ اصلاح اگر کرنی ہو تو اصولوں پر بات کی جائے، افراد کی ذاتیات میں اتر کر نہیں۔ یہی اسلامی اخلاق اور مہذب معاشرت کا تقاضا ہے۔۔۔۔!!!

  • ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    اسلامی جمہوریہ پاکستان، وہ عظیم ریاست جسے قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا، آج مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے عفریت کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے،ایک ایسا ملک جہاں کبھی خوشحالی کے خواب دیکھے جاتے تھے، اب ہر طرف مایوسی کے سائے چھا چکے ہیں،گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی شرح اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے،پہلے کے ادوار میں اگرچہ مشکلات تھیں، مگر ہر طبقے کے افراد کسی نہ کسی طرح اپنا نظام زندگی چلا لیتے تھے،آج صورتحال یہ ہے کہ متوسط طبقے کے افراد، بلکہ خوشحال خاندان بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے تڑپتے نظر آتے ہیں،معیشت زوال پذیر ہے اور ہر گزرنے والا دن عوام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے حکمران، جو عوام کی بہتری کے وعدے لے کر اقتدار میں آتے ہیں، خود عوامی مسائل کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں،ان کے پاس اختیار بھی ہے اور وسائل بھی، مگر بدانتظامی اور خود غرضی کے سبب ان کا درست استعمال نہیں ہو رہا،اگر وہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے

    آج ملک میں صرف انسان کی جان ہی ارزاں رہ گئی ہے،زندگی کی ہر ضرورت مہنگی ہو چکی ہے۔ وہی روٹی، جو کبھی پانچ روپے میں دستیاب تھی، اب پچیس روپے میں ملتی ہے،روزمرہ کی اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں،غربت اور بے روزگاری کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،سوال یہ ہے کہ وہ محنت کش، جو اپنی عزت نفس کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے
    آخر اس کمر توڑ مہنگائی میں کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالے؟
    یہی صورتحال ہمیں صلاح الدین ایوبی کے اس دردناک قول کی یاد دلاتی ہے:
    "جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے، وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں: عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔”
    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کی عکاسی ہے
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اصلاح احوال کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب حالات مزید ابتری کی طرف چلے جائیں گے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریاں سمجھے سنجیدگی سے معیشت کو سنبھالنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے.
    کیونکہ جب عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو پھر ریاستیں صرف جغرافیائی نقشوں پر باقی رہ جاتی ہیں دلوں میں نہیں

  • کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    زندگی انمول ہے۔زندگی پیدا ہونے سے شروع ہوتی ہے ۔اور اس کا اختتام موت سے ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے؟ کیا کبھی ہم نے اپنی زندگی پر نظر ثانی کی ہے۔ کیا زندگی بادشاہی ہو یا فقیری میں ہی گزاری ہو۔کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا۔ یہ سوال ہر بنی نوع انسان کو خود سے کرنا چاہیے۔اگر مجھ سے پوچھیں تو کیا ہم مال و دولت عیش عشرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے نکل پائے۔ کیا اللّٰہ پاک رب العالمین کے احکامات کے مطابق ہم نے زندگی گزاری؟ ہمارا مقابلہ مال و دولت اور آسائش میں آگے بڑنا نہیں ہے۔ بلکہ بحثیت اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے نیک کاوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔یہی انسانیت یہی اصل زندگی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ شائد اس زمانے کے لیے لکھا تھا۔ ،،نیکی میں جو کام نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے، اس بے فیض سنگی سے بہتر یار اکیلے،، کچھ عرصہ قبل تک ہماری زندگیاں بہت مختلف ہوا کرتی تھیں، روزمرہ کے کام کاج اور زندگی بسر کرنے کے طور طریقے ، ہماری روٹین سب کچھ ایسا تھا جس میں ہم خود کو پُرسکون محسوس کرتے تھے ، ہمارے اردگرد کے لوگ اور اب کی صحبتیں ایسی ہوا کرتی تھیں جس سے ہم اور ہمارے پیارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے تھے، مثال کے طور پر، مل جل کر رہنا، ایک دوسرے سے محبت کرنا، اپنے پیاروں اور آس پاس بسنے والوں کا خیال کرنا، بڑوں کی عزت و احترام اور چھوٹوں سے پیار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ حیات میں تلخی ہے مگر خیر چل زری شکوہ جو تُو کرے، تو خدا روٹھ جائیگا ۔۔ پھر آہستہ آہستہ ہم دورِجدید میں داخل ہوتے گئے، نفسا نفسی کے اس دور میں ہر طرف ہر سُو افراتفری کا عالم ہے جہاں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ ہر شخص بے سکونی میں مبتلا ہے سب کے پاس زندگی گزارنے کی تمامتر سہولیات میسر ہونے کے باوجود بھی بے چینی کی کیفیت طاری ہے، یہاں تک کے نماز ادا کرنے میں بھی ہر شخص جلدبازی کر رہا ہے ۔ لوگ نماز کی اہمیت بھول رہے ہیں اور بس اس فرض کو بھی کسی صورت سر سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں.. اس دنیا میں رہتے ہوئے ۵ منٹ کی نماز ادا کرنے گھر کے ساتھ تعمیر کی گئی مسجد میں جایا نہیں جاتا اور مرنے کے بعد ہم جنت کے طلبگار ہیں ۔۔ زمانہ بھی کیا سے کیا ہوگیا، بھلا کر انسانیت خدا سے جدا ہوگیا، ہماری کچھ عرصے پہلے کی زندگی میں ہمارے حال کی نسبت کافی حد تک فرق تھا ،اور وہ فرق ایسے تھا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی بہت بہترین طریقے سے بسر کر رہے تھے، ہر کام کے لئے مکمل فرصت تھی، گھر کے سب کام وقت پر ہوتے تھے سب کے پاس اپنے پیاروں کو دینے کے لئے ڈھیروں محبتیں ہوتی تھیں ۔۔

    اس دور میں اتنی مشینری بھی میسر نہ تھی اس کے باوجود بھی کام اپنے مقررہ وقت پر ہوجاتے تھے ۔۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اُس محنت اور لگن سے کام کرنے والے دورہِ حیات میں جب ہم خوش اسلوبی سے جی سکتے تھے تو آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کیوں نہیں جی پاتے ؟؟ جبکہ ابھی تو ہمارے پاس ہر کام کرنے کے لئے اعلی سے اعلی مشینری بھی موجود ہے ۔۔ دلوں میں خوف تھا نہ دہشتوں کا پہرا تھا میرے خیال میں وہ دور ہی سنہرا تھا ۔۔ زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو دلوں میں گنجائش پیدا کریں کسی کی بات کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کریں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا سیکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھیں اپنے آس پاس کے لوگوں کی پریشانیوں دکھ اور تکلیف کو اپنا سمجھ کر محسوس کرنا سیکھیں تو انشاءاللہ اس دور میں بھی پرسکون زندگی گزار سکیں گے ۔

  • دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    انسانی فطرت میں ایک عجیب سی خصوصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے مفاد یا نقصان کو اپنے دل میں بہت بڑا بنا کر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، جو محبت، مہربانی یا اچھائیاں اس کو ملتی ہیں، وہ بہت جلد بھلا دی جاتی ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔خوشی ایک ایسا جذبہ ہے جس کا ہر انسان پیچھا کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوشی کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں، کچھ محبت اور تعلقات میں، اور کچھ روحانی سکون کی تلاش میں ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، انسان مکمل خوشی اور سکون کو کبھی حاصل نہیں کر پاتا، کیوں کہ اس کی خوشی اکثر دوسروں کے افعال اور رویوں پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے۔

    یہ حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کا دل بہت پیچیدہ ہے۔ ایک معمولی بات بھی، جیسے کسی چھوٹے سے مفاد کا ٹوٹنا یا کسی کی طرف سے ایک چھوٹی سی بے توجہی، انسان کی خوشی کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے کی مدد کی ہو، اس کی بہت سی اچھائیاں کی ہوں، مگر جب وہ شخص اس کے کسی مفاد کو نظر انداز کرتا ہے یا اس سے کچھ توقعات پوری نہیں کرتا، تو وہ ساری محبتیں اور مہربانیاں اس کی نظروں سے مٹ جاتی ہیں۔انسان کا دل اتنا جلدی بدلنے والا ہوتا ہے کہ جو اچھائیاں اس نے کسی سے پچھلے دنوں میں کی تھیں، وہ سب اس کے ذہن سے فوراً محو ہو جاتی ہیں۔ جب تک وہ شخص کسی مسئلے یا مفاد کے پیچھے نہیں پڑتا، وہ ان تمام اچھائیوں کو بھول جاتا ہے اور محض اپنے ذاتی مفاد پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مادی اور عارضی چیزوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

    دوسروں کو خوش رکھنا بہت مشکل کام ہے، اور اس میں کبھی کبھی انسان کو اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان کسی دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے، تب بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص اس کی محنت اور محبت کو سمجھ سکے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مفاد کے بغیر دوسروں کی محبت اور مہربانی کو مکمل طور پر سراہ نہیں پاتا۔حقیقت میں خوشی کا راز کسی دوسرے کے افعال پر نہیں بلکہ اپنے اندر ہے۔ جب تک ہم اپنی خوشی کا دارومدار دوسروں پر رکھتے ہیں، ہم کبھی بھی مکمل طور پر خوش نہیں رہ سکتے۔ خوشی ایک داخلی احساس ہے، جو انسان کو تب ملتا ہے جب وہ اپنے آپ سے مطمئن ہو، جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔

    انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے مفاد کو بڑا بنا لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اپنی خوشی کھو دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود، انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشی کسی دوسرے کی مہربانی یا کسی مفاد پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ یہ خود انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو بہتر سمجھیں گے اور اپنے اندر کی خوشی کو تلاش کریں گے، تب ہم دوسروں کو خوش رکھنے میں بھی کامیاب ہو سکیں گے۔

  • ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی میں انسان کو بہت ساری چیزوں کا سامنا ہوتا ہے: محبت، نفرت، خوشی، غم، کامیابیاں، ناکامیاں، ان سب کے درمیان انسان اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری اللہ کے ساتھ تعلق اور اُس سے ڈرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوف انسان کے دل میں ہونا چاہیے، کیونکہ جب اللہ کا خوف دل میں ہو، تو انسان کی زندگی ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اللہ سے ڈرنا ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو اپنی زندگی کی ہر حرکت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جب اللہ سے ڈرنے کا خوف انسان کے دل میں ہوتا ہے، تو وہ برائیوں سے بچتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اپنے بندوں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ صرف اُس سے ڈریں، کیونکہ وہی سچا مالک ہے، اُس کا عذاب بہت سخت ہے، اور اُس کی رضا میں ہی اصل سکون اور کامیابی ہے۔

    اللہ کا خوف انسان کو اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دل میں فکریں اور پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو بھی ہو، اللہ کے فیصلے میں بہتری ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف ہو، تو انسان برے کاموں سے دور رہتا ہے اور نیک عملوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کا ڈر انسان کو دونوں جہانوں میں کامیاب کرتا ہے۔ دنیا میں اللہ کی رضا سے انسان کو سکون، خوشی اور کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور آخرت میں اللہ کی مغفرت اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔

    نماز اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں میں خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکیں، تو ہمارا دل اُس سے جڑ جائے گا اور ہمیں اللہ کا خوف اور محبت محسوس ہوگی۔اللہ کا ذکر کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ قرآن پاک اور اذکار کی تلاوت انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اللہ کی رضا، اس کے راستوں اور اُس کے عذاب سے بچنے کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ قرآن انسان کو اُس کے عمل پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔: اللہ کے خوف کے ساتھ انسان جب نیک عمل کرتا ہے، تو اُس کی زندگی میں بہت ساری خوشیاں آتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عملوں میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنا انسان کے ایمان کو مضبوط بناتا ہے۔

    جو شخص اللہ کا ڈر رکھتا ہے، اُس کی زندگی میں کامیابیاں اور برکتیں آتی ہیں۔ اللہ کے ڈر کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کی رضا اور خوف میں ہی انسان کی کامیابی اور سکون ہے۔اللہ کا ڈر ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو ہمیشہ درست راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اس خوف کو پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے قریب جا سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ،”ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا”۔اس خوف کے ساتھ جینے سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔

  • رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے ہر رشتے میں اختلافات ایک فطری عمل ہے۔ دوستوں کے درمیان، والدین اور اولاد کے درمیان، شوہر اور بیوی کے درمیان، یا حتیٰ کہ ہمسایوں کے درمیان بھی کبھی نہ کبھی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غلط فہمی یا ناراضی کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس اختلاف کو کیسے لیتے ہیں؟ کیا ہم ہر بات پر رشتہ توڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں یا ہم ایک لمحہ رک کر سوچتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والا انسان ہمارے خلاف ہے، یا وہ ہمیں نیچا دکھانا چاہتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف صرف نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے۔ ہر انسان کی سوچنے کی صلاحیت، اس کی پرورش، تجربات اور علم مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے رائے بھی مختلف ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم بغیر سوچے سمجھے ردعمل دیتے ہیں، تو ہم وہ دروازے بند کر دیتے ہیں جو دلوں کو جوڑ سکتے تھے۔

    ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر رشتہ قیمتی ہوتا ہے۔ زندگی میں ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دل سے ہمارے لیے مخلص ہوتے ہیں۔ اختلاف کی صورت میں اگر ہم تھوڑا سا تحمل، برداشت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں، تو شاید ہم بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ اکثر اوقات چھوٹی باتوں پر ناراضی شروع ہوتی ہے، اور پھر وہ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ برسوں پرانے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور افواہوں کا دور ہے، وہاں "تفرقہ ڈالنے والے” عناصر بہت سرگرم ہیں۔ ایک کامیاب رشتہ یا مضبوط تعلقات کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوتے۔ ایسے موقعوں پر وہ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں، اور پیغام رسانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اگر ہم ایک لمحے کو رک کر یہ سوال کریں کہ "کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟” تو شاید ہم بہتر انداز میں صورتحال کو سمجھ سکیں۔

    غلط فہمیاں اکثر ان لوگوں کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں جو ہماری زندگی میں منفی سوچ لے کر آتے ہیں۔ اگر ہم ہر بات پر برا ماننے لگیں، بغیر تصدیق کے کسی کی بات پر یقین کر لیں، تو ہم خود اپنے رشتوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی بات خود کریں، وضاحت طلب کریں، اور دل صاف رکھیں۔آخری بات یہی ہے کہ”اس سے پہلے کہ ہم کسی سے اختلاف کریں یا رشتہ توڑیں، ایک لمحہ رک کر خود سے یہ سوال ضرور کریں: کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟”یہ سوال نہ صرف ہمارے فیصلے کو بہتر بنائے گا بلکہ ہمیں اندر سے مضبوط، باشعور اور بالغ نظر بھی بنائے گا۔