Baaghi TV

Category: خواتین

  • نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    اسلام میں نکاح کا اعلان کرنا ایک مؤکد سنت ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف نسب کی حفاظت ہے بلکہ معاشرتی فتنوں اور بدگمانیوں سے بچاؤ بھی ہے۔ نکاح کا اعلان کسی خاص انداز یا میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں۔۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی مشہور شخصیات کے نکاح کے معاملے میں یہ اصول اور زیادہ مؤکد ہو جاتا ہے کہ نکاح عام عوام کے علم میں ہو۔۔۔۔
    ایسا شخص اگر اپنی ازدواجی زندگی کو میڈیا کی چمک دمک سے بچا کر رکھتا ہے،۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کی تصویریں تفصیلات یا نجی معلومات عام نہیں کرتا،
    تو یہ بالکل جائز اور قابل احترام بات ہے۔ بلکہ قابل ستائش ہے۔۔۔۔
    اسلام بھی پردے، رازداری اور گھریلو وقار کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔
    لیکن شرط یہ ہے کہ
    نکاح کا وجود،
    عام لوگوں کے علم میں ہو۔۔۔۔ایسا نہ ہو کہ
    نکاح ہی چھپا لیا جائے، ازدواجی رشتہ ہی پوشیدہ رکھا جائے، یا عوام کو علم ہی نہ ہو کہ اس شخص کی شریعت کے مطابق کوئی اور بیوی موجود ہے۔۔۔۔
    سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نجی زندگی کو حد میں رکھنا اورنکاح کے وجود کو چھپانا — یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔۔۔۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کو میڈیا سے دور رکھنا نجی زندگی کے تحفظ کے دائرے میں آتا ہے، اور اسلام پردے، حیاء اور پرائیویسی کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن نکاح کے بارے میں اعلانیہ بتانے کا حکم دیتا ہے کہ کسی قسم کی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں، اور ذاتی زندگی کو حد میں رکھتے ہوئے عزت و وقار کے ساتھ گزارا جائے۔۔۔۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نکاح کو علانیہ کرو، اور اسے مسجد میں انجام دو اور دف بجاؤ۔” (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا مقصد صرف دو افراد کا باہم رشتہ قائم کرنا نہیں، بلکہ معاشرت میں ایک پاکیزہ تعلق کو واضح اور اعلانیہ بنانا بھی ہے۔ اگر نکاح چھپایا جائے تو نہ صرف شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں بلکہ بعض اوقات بڑے فتنوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے نکاح کا اعلان ایک اسلامی حکمت ہے تاکہ معاشرتی نظام سلامت رہے اور لوگوں کے درمیان اعتماد اور شفافیت قائم ہو اور بے جا قیاس آرائیاں نہ پھیلیں۔۔۔۔

    لیکن ساتھ ہی میں اس رویے کی مذمت کرتی ہوں کہ سلیبرٹیز کی ذاتی زندگی، ان کی فیملی اور بالخصوص ان کی اولاد کے بارے میں زبان درازی یا منفی گفتگو نہ کی جائے۔ میں دوبارہ اس رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہوں کہ کسی کی اولاد کو اچھا یا برا کہہ کر جج کیا جائے یا ان کی تربیت پر طعن کیا جائے۔۔۔۔
    اولاد کسی بھی انسان کا سب سے نازک معاملہ ہوتی ہے اور ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو بہترین تربیت دے۔ ہم ظاہر کو دیکھ کر کسی کے معاملات کے اندرونی پہلوؤں کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتے، اس لیے کسی کی اولاد کے کردار یا تربیت پر گفتگو کرنا بدگمانی اور غیر ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے، جس سے اسلام نے منع فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔
    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان اور قلم کی نوک کی تراش خراش نرمی سے کریں۔۔۔۔ اور دوسروں کے نجی معاملات میں تنقید سے پرہیز کریں۔ اصلاح اگر کرنی ہو تو اصولوں پر بات کی جائے، افراد کی ذاتیات میں اتر کر نہیں۔ یہی اسلامی اخلاق اور مہذب معاشرت کا تقاضا ہے۔۔۔۔!!!

  • ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    اسلامی جمہوریہ پاکستان، وہ عظیم ریاست جسے قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا، آج مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے عفریت کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے،ایک ایسا ملک جہاں کبھی خوشحالی کے خواب دیکھے جاتے تھے، اب ہر طرف مایوسی کے سائے چھا چکے ہیں،گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی شرح اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے،پہلے کے ادوار میں اگرچہ مشکلات تھیں، مگر ہر طبقے کے افراد کسی نہ کسی طرح اپنا نظام زندگی چلا لیتے تھے،آج صورتحال یہ ہے کہ متوسط طبقے کے افراد، بلکہ خوشحال خاندان بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے تڑپتے نظر آتے ہیں،معیشت زوال پذیر ہے اور ہر گزرنے والا دن عوام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے حکمران، جو عوام کی بہتری کے وعدے لے کر اقتدار میں آتے ہیں، خود عوامی مسائل کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں،ان کے پاس اختیار بھی ہے اور وسائل بھی، مگر بدانتظامی اور خود غرضی کے سبب ان کا درست استعمال نہیں ہو رہا،اگر وہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے

    آج ملک میں صرف انسان کی جان ہی ارزاں رہ گئی ہے،زندگی کی ہر ضرورت مہنگی ہو چکی ہے۔ وہی روٹی، جو کبھی پانچ روپے میں دستیاب تھی، اب پچیس روپے میں ملتی ہے،روزمرہ کی اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں،غربت اور بے روزگاری کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،سوال یہ ہے کہ وہ محنت کش، جو اپنی عزت نفس کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے
    آخر اس کمر توڑ مہنگائی میں کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالے؟
    یہی صورتحال ہمیں صلاح الدین ایوبی کے اس دردناک قول کی یاد دلاتی ہے:
    "جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے، وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں: عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔”
    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کی عکاسی ہے
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اصلاح احوال کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب حالات مزید ابتری کی طرف چلے جائیں گے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریاں سمجھے سنجیدگی سے معیشت کو سنبھالنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے.
    کیونکہ جب عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو پھر ریاستیں صرف جغرافیائی نقشوں پر باقی رہ جاتی ہیں دلوں میں نہیں

  • کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    زندگی انمول ہے۔زندگی پیدا ہونے سے شروع ہوتی ہے ۔اور اس کا اختتام موت سے ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے؟ کیا کبھی ہم نے اپنی زندگی پر نظر ثانی کی ہے۔ کیا زندگی بادشاہی ہو یا فقیری میں ہی گزاری ہو۔کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا۔ یہ سوال ہر بنی نوع انسان کو خود سے کرنا چاہیے۔اگر مجھ سے پوچھیں تو کیا ہم مال و دولت عیش عشرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے نکل پائے۔ کیا اللّٰہ پاک رب العالمین کے احکامات کے مطابق ہم نے زندگی گزاری؟ ہمارا مقابلہ مال و دولت اور آسائش میں آگے بڑنا نہیں ہے۔ بلکہ بحثیت اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے نیک کاوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔یہی انسانیت یہی اصل زندگی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ شائد اس زمانے کے لیے لکھا تھا۔ ،،نیکی میں جو کام نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے، اس بے فیض سنگی سے بہتر یار اکیلے،، کچھ عرصہ قبل تک ہماری زندگیاں بہت مختلف ہوا کرتی تھیں، روزمرہ کے کام کاج اور زندگی بسر کرنے کے طور طریقے ، ہماری روٹین سب کچھ ایسا تھا جس میں ہم خود کو پُرسکون محسوس کرتے تھے ، ہمارے اردگرد کے لوگ اور اب کی صحبتیں ایسی ہوا کرتی تھیں جس سے ہم اور ہمارے پیارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے تھے، مثال کے طور پر، مل جل کر رہنا، ایک دوسرے سے محبت کرنا، اپنے پیاروں اور آس پاس بسنے والوں کا خیال کرنا، بڑوں کی عزت و احترام اور چھوٹوں سے پیار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ حیات میں تلخی ہے مگر خیر چل زری شکوہ جو تُو کرے، تو خدا روٹھ جائیگا ۔۔ پھر آہستہ آہستہ ہم دورِجدید میں داخل ہوتے گئے، نفسا نفسی کے اس دور میں ہر طرف ہر سُو افراتفری کا عالم ہے جہاں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ ہر شخص بے سکونی میں مبتلا ہے سب کے پاس زندگی گزارنے کی تمامتر سہولیات میسر ہونے کے باوجود بھی بے چینی کی کیفیت طاری ہے، یہاں تک کے نماز ادا کرنے میں بھی ہر شخص جلدبازی کر رہا ہے ۔ لوگ نماز کی اہمیت بھول رہے ہیں اور بس اس فرض کو بھی کسی صورت سر سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں.. اس دنیا میں رہتے ہوئے ۵ منٹ کی نماز ادا کرنے گھر کے ساتھ تعمیر کی گئی مسجد میں جایا نہیں جاتا اور مرنے کے بعد ہم جنت کے طلبگار ہیں ۔۔ زمانہ بھی کیا سے کیا ہوگیا، بھلا کر انسانیت خدا سے جدا ہوگیا، ہماری کچھ عرصے پہلے کی زندگی میں ہمارے حال کی نسبت کافی حد تک فرق تھا ،اور وہ فرق ایسے تھا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی بہت بہترین طریقے سے بسر کر رہے تھے، ہر کام کے لئے مکمل فرصت تھی، گھر کے سب کام وقت پر ہوتے تھے سب کے پاس اپنے پیاروں کو دینے کے لئے ڈھیروں محبتیں ہوتی تھیں ۔۔

    اس دور میں اتنی مشینری بھی میسر نہ تھی اس کے باوجود بھی کام اپنے مقررہ وقت پر ہوجاتے تھے ۔۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اُس محنت اور لگن سے کام کرنے والے دورہِ حیات میں جب ہم خوش اسلوبی سے جی سکتے تھے تو آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کیوں نہیں جی پاتے ؟؟ جبکہ ابھی تو ہمارے پاس ہر کام کرنے کے لئے اعلی سے اعلی مشینری بھی موجود ہے ۔۔ دلوں میں خوف تھا نہ دہشتوں کا پہرا تھا میرے خیال میں وہ دور ہی سنہرا تھا ۔۔ زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو دلوں میں گنجائش پیدا کریں کسی کی بات کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کریں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا سیکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھیں اپنے آس پاس کے لوگوں کی پریشانیوں دکھ اور تکلیف کو اپنا سمجھ کر محسوس کرنا سیکھیں تو انشاءاللہ اس دور میں بھی پرسکون زندگی گزار سکیں گے ۔

  • دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    انسانی فطرت میں ایک عجیب سی خصوصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے مفاد یا نقصان کو اپنے دل میں بہت بڑا بنا کر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، جو محبت، مہربانی یا اچھائیاں اس کو ملتی ہیں، وہ بہت جلد بھلا دی جاتی ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔خوشی ایک ایسا جذبہ ہے جس کا ہر انسان پیچھا کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوشی کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں، کچھ محبت اور تعلقات میں، اور کچھ روحانی سکون کی تلاش میں ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، انسان مکمل خوشی اور سکون کو کبھی حاصل نہیں کر پاتا، کیوں کہ اس کی خوشی اکثر دوسروں کے افعال اور رویوں پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے۔

    یہ حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کا دل بہت پیچیدہ ہے۔ ایک معمولی بات بھی، جیسے کسی چھوٹے سے مفاد کا ٹوٹنا یا کسی کی طرف سے ایک چھوٹی سی بے توجہی، انسان کی خوشی کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے کی مدد کی ہو، اس کی بہت سی اچھائیاں کی ہوں، مگر جب وہ شخص اس کے کسی مفاد کو نظر انداز کرتا ہے یا اس سے کچھ توقعات پوری نہیں کرتا، تو وہ ساری محبتیں اور مہربانیاں اس کی نظروں سے مٹ جاتی ہیں۔انسان کا دل اتنا جلدی بدلنے والا ہوتا ہے کہ جو اچھائیاں اس نے کسی سے پچھلے دنوں میں کی تھیں، وہ سب اس کے ذہن سے فوراً محو ہو جاتی ہیں۔ جب تک وہ شخص کسی مسئلے یا مفاد کے پیچھے نہیں پڑتا، وہ ان تمام اچھائیوں کو بھول جاتا ہے اور محض اپنے ذاتی مفاد پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مادی اور عارضی چیزوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

    دوسروں کو خوش رکھنا بہت مشکل کام ہے، اور اس میں کبھی کبھی انسان کو اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان کسی دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے، تب بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص اس کی محنت اور محبت کو سمجھ سکے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مفاد کے بغیر دوسروں کی محبت اور مہربانی کو مکمل طور پر سراہ نہیں پاتا۔حقیقت میں خوشی کا راز کسی دوسرے کے افعال پر نہیں بلکہ اپنے اندر ہے۔ جب تک ہم اپنی خوشی کا دارومدار دوسروں پر رکھتے ہیں، ہم کبھی بھی مکمل طور پر خوش نہیں رہ سکتے۔ خوشی ایک داخلی احساس ہے، جو انسان کو تب ملتا ہے جب وہ اپنے آپ سے مطمئن ہو، جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔

    انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے مفاد کو بڑا بنا لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اپنی خوشی کھو دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود، انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشی کسی دوسرے کی مہربانی یا کسی مفاد پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ یہ خود انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو بہتر سمجھیں گے اور اپنے اندر کی خوشی کو تلاش کریں گے، تب ہم دوسروں کو خوش رکھنے میں بھی کامیاب ہو سکیں گے۔

  • ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی میں انسان کو بہت ساری چیزوں کا سامنا ہوتا ہے: محبت، نفرت، خوشی، غم، کامیابیاں، ناکامیاں، ان سب کے درمیان انسان اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری اللہ کے ساتھ تعلق اور اُس سے ڈرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوف انسان کے دل میں ہونا چاہیے، کیونکہ جب اللہ کا خوف دل میں ہو، تو انسان کی زندگی ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اللہ سے ڈرنا ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو اپنی زندگی کی ہر حرکت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جب اللہ سے ڈرنے کا خوف انسان کے دل میں ہوتا ہے، تو وہ برائیوں سے بچتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اپنے بندوں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ صرف اُس سے ڈریں، کیونکہ وہی سچا مالک ہے، اُس کا عذاب بہت سخت ہے، اور اُس کی رضا میں ہی اصل سکون اور کامیابی ہے۔

    اللہ کا خوف انسان کو اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دل میں فکریں اور پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو بھی ہو، اللہ کے فیصلے میں بہتری ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف ہو، تو انسان برے کاموں سے دور رہتا ہے اور نیک عملوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کا ڈر انسان کو دونوں جہانوں میں کامیاب کرتا ہے۔ دنیا میں اللہ کی رضا سے انسان کو سکون، خوشی اور کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور آخرت میں اللہ کی مغفرت اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔

    نماز اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں میں خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکیں، تو ہمارا دل اُس سے جڑ جائے گا اور ہمیں اللہ کا خوف اور محبت محسوس ہوگی۔اللہ کا ذکر کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ قرآن پاک اور اذکار کی تلاوت انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اللہ کی رضا، اس کے راستوں اور اُس کے عذاب سے بچنے کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ قرآن انسان کو اُس کے عمل پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔: اللہ کے خوف کے ساتھ انسان جب نیک عمل کرتا ہے، تو اُس کی زندگی میں بہت ساری خوشیاں آتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عملوں میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنا انسان کے ایمان کو مضبوط بناتا ہے۔

    جو شخص اللہ کا ڈر رکھتا ہے، اُس کی زندگی میں کامیابیاں اور برکتیں آتی ہیں۔ اللہ کے ڈر کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کی رضا اور خوف میں ہی انسان کی کامیابی اور سکون ہے۔اللہ کا ڈر ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو ہمیشہ درست راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اس خوف کو پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے قریب جا سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ،”ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا”۔اس خوف کے ساتھ جینے سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔

  • رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے ہر رشتے میں اختلافات ایک فطری عمل ہے۔ دوستوں کے درمیان، والدین اور اولاد کے درمیان، شوہر اور بیوی کے درمیان، یا حتیٰ کہ ہمسایوں کے درمیان بھی کبھی نہ کبھی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غلط فہمی یا ناراضی کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس اختلاف کو کیسے لیتے ہیں؟ کیا ہم ہر بات پر رشتہ توڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں یا ہم ایک لمحہ رک کر سوچتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والا انسان ہمارے خلاف ہے، یا وہ ہمیں نیچا دکھانا چاہتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف صرف نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے۔ ہر انسان کی سوچنے کی صلاحیت، اس کی پرورش، تجربات اور علم مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے رائے بھی مختلف ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم بغیر سوچے سمجھے ردعمل دیتے ہیں، تو ہم وہ دروازے بند کر دیتے ہیں جو دلوں کو جوڑ سکتے تھے۔

    ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر رشتہ قیمتی ہوتا ہے۔ زندگی میں ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دل سے ہمارے لیے مخلص ہوتے ہیں۔ اختلاف کی صورت میں اگر ہم تھوڑا سا تحمل، برداشت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں، تو شاید ہم بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ اکثر اوقات چھوٹی باتوں پر ناراضی شروع ہوتی ہے، اور پھر وہ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ برسوں پرانے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور افواہوں کا دور ہے، وہاں "تفرقہ ڈالنے والے” عناصر بہت سرگرم ہیں۔ ایک کامیاب رشتہ یا مضبوط تعلقات کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوتے۔ ایسے موقعوں پر وہ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں، اور پیغام رسانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اگر ہم ایک لمحے کو رک کر یہ سوال کریں کہ "کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟” تو شاید ہم بہتر انداز میں صورتحال کو سمجھ سکیں۔

    غلط فہمیاں اکثر ان لوگوں کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں جو ہماری زندگی میں منفی سوچ لے کر آتے ہیں۔ اگر ہم ہر بات پر برا ماننے لگیں، بغیر تصدیق کے کسی کی بات پر یقین کر لیں، تو ہم خود اپنے رشتوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی بات خود کریں، وضاحت طلب کریں، اور دل صاف رکھیں۔آخری بات یہی ہے کہ”اس سے پہلے کہ ہم کسی سے اختلاف کریں یا رشتہ توڑیں، ایک لمحہ رک کر خود سے یہ سوال ضرور کریں: کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟”یہ سوال نہ صرف ہمارے فیصلے کو بہتر بنائے گا بلکہ ہمیں اندر سے مضبوط، باشعور اور بالغ نظر بھی بنائے گا۔

  • ایمان و حیا،لازم و ملزوم،تحریر:نور فاطمہ

    ایمان و حیا،لازم و ملزوم،تحریر:نور فاطمہ

    ایمان اور حیا دو ایسی بنیادی خصوصیات ہیں جو ایک مسلمان کی شخصیت کی پہچان بناتی ہیں۔ ان دونوں کا تعلق انسان کی روحانیت اور اخلاقی اقدار سے ہے، اور دونوں کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ان میں سے ایک کی کمی، دوسری کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ایمان ایک ایسا عقیدہ ہے جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے احکام پر یقین کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ ایمان انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ کی رضا، اس کی ہدایات، اور آخرت کی حقیقت پر ایمان انسان کو نیک عمل کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ایمان کا اثر انسان کے عمل، سوچ، اور دل پر پڑتا ہے۔ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے، انسان میں اچھے اخلاق، صدق، امانت داری، اور سچائی کی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ ایمان کی کمی انسان کو دنیا کی فریب کاریوں میں مبتلا کر سکتی ہے، اور وہ اخلاقی لحاظ سے گرنے لگتا ہے۔

    حیا انسان کی ایک اندرونی خصوصیت ہے جو اسے برے کاموں سے روکنے اور اچھے کاموں کی طرف راغب کرتی ہے۔ حیا کا تعلق انسان کی عفت و پاکیزگی سے ہے۔ جو انسان حیا دار ہوتا ہے، وہ اپنے کردار، زبان اور عمل میں اعتدال کا مظاہرہ کرتا ہے۔ حیا انسان کو کسی بھی برے کام سے بچاتی ہے اور اسے اپنی عزت نفس کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔حیا کا عمل نہ صرف معاشرتی سطح پر ضروری ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی روحانیت سے بھی ہے۔ حیا انسان کے ایمان کا مظہر ہوتی ہے۔ جب انسان میں حیا ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خواہش میں اپنی بےہودہ حرکتوں سے بچتا ہے۔

    ایمان اور حیا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایمان کی روشنی دل میں کم ہو جائے تو انسان کی حیا بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایمان کی طاقت انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے، اور حیا اس کی حفاظتی قوت بنتی ہے۔ اگر ایمان کمزور ہو جائے، تو حیا بھی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ انسان کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس کے احکام کا خوف کم ہو جاتا ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "اگر ایمان کسی شخص کے دل میں ہوتا ہے، تو اس کے اندر حیا ضرور ہوگی۔” (صحیح مسلم)اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور حیا ایک دوسرے کا جزو ہیں، اور ان میں سے ایک کی کمی دوسرے کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایمان اور حیا کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں اللہ کی یاد کو اپنی عادت بنائے۔ نماز، ذکر، قرآن کی تلاوت اور صدقہ انسان کو اپنے ایمان کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اچھی صحبت، نیک لوگوں کا ساتھ اور برے کاموں سے بچنا بھی ایمان اور حیا کی حفاظت کا اہم ذریعہ ہے۔

    ایمان اور حیا دونوں انسان کے اندر کی خوبصورت خصوصیات ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں۔ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے، تو حیا کی روشنی دل میں درخشاں ہوتی ہے۔ اور جب حیا موجود ہوتی ہے، تو انسان کی زندگی میں عزت، وقار اور اخلاقی استحکام آتا ہے۔لہذا، ہر مسلمان کو اپنی زندگی میں ایمان اور حیا کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ وہ اللہ کی رضا اور معاشرتی اخلاقی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزار سکے۔ ان دونوں کی حفاظت کی کوشش کرنا ہی اصل میں ہماری روحانیت اور اخلاقی کامیابی کی ضمانت ہے۔

  • آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    اکثر ہم سنتے ہیں یا خود کہتے ہیں کہ "یہ دنیا بہت بری ہے۔ یہاں اچھے لوگ نہیں رہے۔” لیکن کبھی ہم نے خود سے پوچھا ہے کہ آخر یہ دنیا بری کیوں بنی؟ کیا واقعی دنیا اپنے آپ میں بری ہے یا ہم انسانوں نے اسے ایسا بنا دیا ہے؟

    ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں سے نفرت کرتے ہیں، بغض رکھتے ہیں، حسد کرتے ہیں، پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں، اور موقع ملتے ہی کسی کو نقصان پہنچانے سے نہیں کتراتے۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے دوسروں کی عزت، آرام اور سکون کو قربان کر دیتے ہیں۔اور جب کوئی ہمارے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جیسا ہم نے دوسروں کے ساتھ کیا، تو ہم چیخ اٹھتے ہیں "دنیا بہت خراب ہو گئی ہے۔ لوگ خودغرض ہو گئے ہیں۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں رہی۔”

    یہ دنیا تو ہماری ہی عکاسی کرتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ دنیا وہی ہے جو ہم خود اسے بناتے ہیں۔ دنیا میں محبت ہو، اخلاص ہو، خیرخواہی ہو، یا نفرت، بغض، اور فریب ، یہ سب ہم انسانوں کے رویوں کا عکس ہے۔ دنیا ایک آئینے کی مانند ہے۔ ہم جو اس میں دکھاتے ہیں، وہی ہمیں واپس دکھاتا ہے۔ہم ظلم کرتے ہیں، اور الزام دنیا پر،ایک شخص اگر اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکلیف دیتا ہے، انہیں دھوکہ دیتا ہے، زبان سے زخم دیتا ہے، اور دل آزاری کرتا ہے، تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا بری ہے۔ وہ یہ سوچے کہ اس نے خود کتنا برا ماحول پیدا کیا ہے۔ جب ہر شخص اپنے حصے کی روشنی بجھا دے گا تو اندھیرا خود بخود چھا جائے گا۔

    بد اخلاقی، حسد، تکبر، اور نفرت وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم اپنی زبان سے لوگوں کو کاٹتے ہیں، اپنی آنکھوں سے نفرت کرتے ہیں، اور دل سے دشمنیاں پالتے ہیں۔ پھر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن ہو، محبت ہو، اور بھائی چارہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ دنیا ایک بہتر جگہ بنے، تو ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنے رویے، اپنی نیت، اپنے الفاظ اور اعمال کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب ہر شخص اپنے آپ کو درست کرے گا، تبھی یہ دنیا درست ہو سکتی ہے۔دنیا ویسی ہی ہے جیسا ہم اسے بناتے ہیں۔ اگر ہم اسے محبت، رحم دلی، اخلاص اور حسنِ سلوک سے سجائیں گے، تو یہ خوبصورت ہو جائے گی۔ اور اگر ہم نفرت، بغض، فریب اور ظلم کو عام کریں گے، تو پھر اس میں شکایت کا کوئی حق نہیں رہتا۔تو آئیے، آج سے یہ عہد کریں کہ ہم دنیا کو برا کہنے سے پہلے خود کو بہتر بنائیں گے۔ کیونکہ تبدیلی ہمیشہ خود سے شروع ہوتی ہے۔

  • اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہم میں سے ہر ایک کو کبھی نہ کبھی تناؤ اور اضطراب کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ اور جسم پر اس کا برا اثر پڑتا ہے، اور ہمیں سکون کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسی سکون کی تلاش میں ہم مختلف طریقے آزمانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز وہ جادوئی نسخہ ثابت ہو سکتی ہے جو آپ کے عصاب کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ آواز نہ صرف دل کو سکون دیتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی کم کر دیتی ہے۔آواز کا دماغ پر اثر ایک قدرتی عمل ہے جو انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جب ہمیں کسی پسندیدہ شخص کی آواز سنائی دیتی ہے، تو دماغ میں ایک قسم کا سکون پیدا ہوتا ہے۔ یہ آواز ہمارے دماغ کو ایک محفوظ اور محبت بھری حالت میں لے آتی ہے، جو کہ ہمارے جسم میں اینڈورفنز (یعنی خوشی کے ہارمونز) کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔

    اینڈورفنز، جو کہ قدرتی درد کش دوا کی طرح کام کرتے ہیں، ہمارے جسم کو سکون فراہم کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آواز آپ کے اندر ایک خاص احساس پیدا کرتی ہے جو آپ کے دماغ کو خوشی اور سکون کی حالت میں لے آتی ہے۔جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آپ کے دماغ میں ان یادوں کو تازہ کرتی ہے جو آپ نے اس شخص کے ساتھ گزاری ہیں۔چائے کی محفلیں،کھانے کی دعوتیں،دفتر میں گزرے پل،تنہائی کے حسین لمحے، وہ یادیں،باتیں اور تعلقات آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، اور جب وہ آواز آپ کے کانوں میں گونجتی ہے، تو وہ احساسات دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ان یادوں اور تعلقات کا دماغ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ صرف آپ کو خوشی اور سکون نہیں دیتے، بلکہ آپ کو ایک محفوظ جگہ کا احساس بھی دلاتے ہیں، جو کہ ذہنی سکون کے لئے ضروری ہے۔ یہ تعلقات اور یادیں آپ کے جسم میں ایک حفاظتی نظام کی طرح کام کرتے ہیں، جو کہ اضطراب اور پریشانی کو کم کرتا ہے۔

    آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز کا دماغ پر اثر صرف ذہنی سکون تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا جسمانی اثر بھی ہوتا ہے۔ جب آپ کو سکون ملتا ہے، تو آپ کا جسم بھی آرام دہ ہو جاتا ہے۔ آپ کی دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور آپ کے جسم میں تناؤ کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی سانسوں کا رفتار بھی نارمل ہو جاتا ہے، اور آپ کا جسم مکمل طور پر ریلیکس ہوتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق، جب ہم کسی کو اپنی پسندیدہ آواز میں بات کرتے ہوئے سنتے ہیں، تو ہمارے جسم میں ایک طرح کی فلاحی حالت پیدا ہوتی ہے جو ہماری صحت کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

    آج کل کے جدید دور میں ہم اپنی زندگی کے بیشتر حصے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے گزار رہے ہیں۔ موبائل فون، ویڈیو کالز، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع نے ہمیں اپنے پیاروں سے میلوں دور ہونے کے باوجود جڑا رکھا ہے۔ جب ہم ان ذرائع کے ذریعے اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو ہمیں وہی سکون ملتا ہے جو ہم انہیں قریب محسوس کرنے پر پاتے ہیں۔یہی نہیں، بلکہ اب ہم کسی بھی وقت، کہیں بھی اپنے پسندیدہ شخص سے بات کر سکتے ہیں، اور یہ آوازیں ہمیں زندگی کے دباؤ سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے میلوں دور رہ کر بھی وہ احساسات اور سکون ہمیں فراہم کیا ہے جو ہم کبھی اس طرح سے نہیں محسوس کر پاتے تھے۔آخرکار، یہ کہنا کہ میلوں دور سے آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز آپکے عصاب کو پرسکون کرنے کی طاقت رکھتی ہے، محض ایک خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ جب آپ کے اندر سکون اور سکون کا احساس آتا ہے، تو آپ کا دماغ اور جسم دونوں بہتر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں۔ یہ آپ کو اپنی زندگی کی مشکلات کا بہتر مقابلہ کرنے کے لئے توانائی فراہم کرتا ہے۔یاد رکھیں کہ زندگی میں پرسکونیت اور سکون کے لمحے بہت اہم ہیں، اور یہ صرف آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز سے ہی نہیں، بلکہ ان لمحوں سے جڑے ہوئے جذبات سے بھی ملتا ہے جو آپ کے اندر موجود ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کی آواز ایک عجیب جادوئی اثر رکھتی ہے جو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب وہ شخص ہمارے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہو، تو اس کی آواز ہمارے اندر ایک سکون کی لہر پیدا کر دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارا دماغ پرسکون ہوتا ہے، بلکہ ہمارا جسم بھی ایک توانائی محسوس کرتا ہے جو ہمیں روزمرہ کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں، یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب آپ کا پسندیدہ شخص آپ کو اپنی آواز کے ذریعے سکون دینے آتا ہے، اور اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،کبھی بھی نہیں، غلطی سے بھی نہیں، اور اگر نظر انداز کر دیں تو سمجھیں…..بہت کچھ کھو دیا…