یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اور الحمد اللّٰہ میں اللّٰہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتی ہوں۔
اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قرآن میں وعدے کرتا یے، ان تمام عہدوں میں سے ایک عہد یہ بھی ہےکہ آپ جیسے ہوں گے، ہم سفر بھی ویسا ملے گا۔
اگر آپ خبیث ہیں، تو خباثت آپ کی منتظر ہے۔ اور اگر آپ نیک ہیں اور نیکی آپ کے لیے محو انتظار ہے۔
خبیث کو خبیث ملنا ہے اور طیب کو طیب !
یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے۔
اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ۔ ( سورہ نور)
ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے۔
پس اسی کے پیشِ نظر اس قسم کی باتیں میری بشاشت کا ساماں نہیں بن پاتیں۔ میں ہر بار یہی کہتی ہوں کہ میں اپنی ہم عمر لڑکیوں بالیوں سے بہت مختلف ہوں، مجھے اپنی تعریف اور توصیف سن کر ذرا خوشی نہیں ہوتی، میرے پاس لٹوں کو سنبھالنے کا وقت نہیں اور فیشن کرنے میں میری کوئی دل چسپی نہیں، البتہ کوئی دل سے تعریف کرے تو میں پہچان لیتی اس میں کتنا صدق اور اخلاص ہے، بس پھر ذرا مسکرا دیتی ہوں۔ جھوٹی تعریفوں پر مسکرایا نہیں جاتا۔
میری خواہشات کی فہرست میں پہلی خواہش یہی ہے کہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی پسندیدہ بن جاؤں۔
پس اللّٰہ تعالیٰ نفیس ہے اور نفاست کو پسند کرتا یے، وہ لطیف ہے اور لطافت کو پسند ہے۔ وہ پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے۔
لہذا انہی پسند کے تعاقب میں زندگی رواں ہے۔
Category: خواتین

پسند کے تعاقب میں زندگی رواں.تحریر:کنزہ محمد رفیق

یہ خاموشی کب تک؟تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
موسم گرما کی ایک ایسی دوپہر جب چیل بھی انڈا چھوڑ جاتی ہو، سکول بس سے اترنے والی بچی نے ادھر ادھر دیکھا اور ایک طرف کو چل دی۔ ہر روز بس معمول کے مطابق رکتی، وہ بس سے چھلانگ لگا کے اترتی، بستہ کمر پہ بندھا ہوتا اور تیزی سے چلتی ہوئی اس گلی میں داخل ہو جاتی جو دو تین موڑ مڑتی اس کے گھر تک جاتی تھی۔وسیع سڑک پہ دو رویہ دکانیں تھیں جو دوپہر کے وقت عموماً خالی پڑی ہوتیں اور ددوکاندار گرمی کی شدت سے بیزار گاہکوں کے انتظار میں اونگھ رہے ہوتے۔اس دوپہر وہ بچی گلی میں داخل ہونے کی بجائے اس جنرل سٹور کی طرف مڑ گئی جس کے برآمدے میں بہت سے ایسے ریک پڑے ہوتے جو مختلف کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کے ہمراہ رکھوا دیتیں۔ ہر ریک کے اوپر اس چیز کا بڑا سا اشتہار بھی لگا ہوتا جس سے ریک کے اندر موجود شے کا علم ہو جاتا۔بچی برآمدے میں پڑے اس ریک کے پاس رکی جس کے اوپر لگے اشتہار میں ایک خوبصورت عورت ایک جھولے پہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ نیچے ریک کے شیلف پہ بہت سے پیکٹ پڑے ہوئے تھے۔
بچی کو آتے دیکھ کے اونگھتا دوکاندار سیدھا ہو کے بیٹھ گیا،
“بیٹا، کونسی چاکلیٹ دوں”
“نہیں انکل، چاکلیٹ نہیں چاہیے” بچی با اعتماد لہجے میں بولی۔
“پھر کیا چاہیے بیٹا آپ کو؟” دوکاندار نے شفقت سے پوچھا۔
“وہ”
بچی کی انگلی اس ریک کی طرف اشارہ کر رہی تھی جس پہ وہ مسکراتی ہوئی عورت براجمان تھی۔
دوکاندار نے حیران ہو کے بچی کی طرف دیکھا۔ شاید بچی کو اس کی بڑی بہن یا ماں نے خریدنے کو کہا ہو، کہ خواتین شرم کے مارے کہنا مشکل سمجھتی تھیں اور اس کی دکان پہ اس ریک کی سیل بہت ہی کم تھی۔ بغیر کچھ کہے اس نے ایک خاکی لفافے میں پیکٹ لپیٹ کر بچی کو تھما دیا جو اس لفافے کو سکول بیگ میں رکھ کر جلدی سے سیڑھیاں اتر گئی!ہمارا سن ہو گا یہی کوئی بارہ تیرہ برس کا اور ہم محسوس کر چکے تھے کہ کلاس میں ہم جماعتوں کی کھسر پھسر بڑھ چکی ہے۔ دبی دبی آواز میں رازو نیاز، شرمائی لجائی مسکراہٹ، دوپٹہ اوڑھنے میں احتیاط اور پابندی، اٹھتے بیٹھتے دامن کو جھٹکنا اور پشت سے قمیض سیدھی کرنا تو تھا ہی مگر کچھ اور بھی تھا جس کی پردہ داری تھی اور وہ ہم پہ کھلتا نہیں تھا۔
اب ماجرا یہ تھا کہ ہم کلاس کی اکژیت سے معصوم اور کم عمر دکھائی دیتے تھے سو کئی موضوعات ہمارے لئے شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔ گو یہ سمجھنے والے یہ نہیں جانتے تھے کہ ہماری آگہی کا درجہ بیشتر ہم جماعتوں سے اوپر ہی تھا۔
کبھی کبھار کچھ لڑکیاں ٹوہ لینے کے انداز میں ہماری طرف دیکھتیں گویا اندازہ لگا رہی ہوں کہ ہم کیمپ میں ساتھی بنے کہ نہیں۔ سیدھے سبھاؤ لوگ ہماری معصومیت کو داغدار کرنے کا حوصلہ نہیں پاتے تھے۔
کتابیں اور رسائل پڑھ کے کچھ اندازے تو ہم لگا چکے تھے سو ایک روز آپا کے سر ہوئے کہ مخفی امور و رموز کی مزید تفصیلات سے دلچسپی تھی۔ آپا سے ہم نے بات کچھ یوں شروع کی کہ نہ جانے کیوں ہم جماعتیں ٹٹولتی ہوئی نظروں سے ہمیں دیکھتی رہتی ہیں؟ آپس میں تو کچھ کہتی ہیں لیکن جب ہم پاس پہنچتے ہیں تو خاموش ہو جاتی ہیں؟
آپا نے پہلے کچھ ٹال مٹول کرنے کی کوشش کی لیکن ہماری ضد کے سامنے بھلا کب تک ٹھہرتیں۔ چلیے جی انہیں بتانا ہی پڑا کہ ہمیں بھی ایک ناگہانی کا سامنا کرنا ہو گا لیکن یہ علم نہیں کہ کب؟ کہاں؟ کس وقت؟منصوبہ ساز تو ہم شاید پیدائشی طور پہ تھے کہ ہر بات پہلے سے سوچ کے رکھتے۔ اب دماغ اس جوڑ توڑ میں مصروف تھا کہ ہم نے اس آفت سے نبٹنا کیسے ہو گا؟ آپا کے مطابق تو وقت پڑنے پر ہمیں روئی کا ایک بنڈل فراہم کیا جانا تھا جس کے ساتھ ڈاکٹری پٹی بھی ہو گی۔ حسب ضرورت روئی اور اس پہ لپٹی جالی نما پٹی…. بھئی یہ تو بہت فضول آئیڈیا ہے، روئی اور پٹی سے تیاری … کچھ اور ہونا چاہئے، ہم نے دل میں سوچا۔
اسی سوچ بچار میں کچھ دن گزرے کہ ہمیں حل سمجھ آ گیا اور اس کا سہرا اخبار کے سر بندھا جس میں چھپے اشتہار ہم بہت شوق سے پڑھتے تھے۔
اب اگلا مرحلہ کہاں سے اور کیسے کا تھا۔ وہ بھی ہماری عقابی نظر کی بدولت سر ہوا کہ سکول واپسی پہ جس سڑک پہ ہم بس سے اترا کرتے تھے ، وہیں ایک جنرل سٹور کے برآمدے میں ایک ریک پہ ہماری مشکل کا جواب رکھا ہوا تھا۔ یہ ہماری اور سینٹری پیڈز کی پہلی شناسائی تھی، جانسن اینڈ جانسن کے بنائے ہوئے موڈیس پیڈز!اس دن جنرل سٹور سے پیڈز خرید کر لانے کے بعد گھر میں انہیں چھپا کر رکھنا بھی ہمارا ایک کارنامہ تھا۔ اپنی تیاریوں کی خبر ہم اماں اور آپا کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ پیڈز خرید کر اب ہماری حالت اس سپاہی کی سی تھی جو محاذ جنگ پہ سرحد کے پاس چوکنا ہو کے دشمن کا انتظار کر رہا ہو اور دشمن ہو کہ آ ہی نہ چکتا ہو۔کچھ ہی ماہ کے بعد وہ وقت آ ہی گیا جس کے لئے ہم کمر کس کے تیار بیٹھے تھے۔ بنا پریشان ہوئے یا روئے دھوئے ہم نے اس صورت حال سے بخوبی نمٹ لیا۔ اور مزے کی بات یہ کہ اماں اور آپا کو اگلے چھ ماہ تک پتہ ہی نہ چل سکا کہ ان کی ناک کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے؟
یہ راز یوں اگلنا پڑا جب اماں نے پریشان ہو کر ہمیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ علم ہونے پہ ہم کھلکھلاتے ہوئے بولے، ہم بالکل نارمل ہیں اور ہمیں ماہواری ہوتے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔
اماں اور آپا کی حیرت زدہ پھٹی پھٹی آنکھیں ہمیں آج تک نہیں بھول پائیں!
ان کی لاپروا الہڑ بیٹی معاشرتی دباؤ کے ساتھ جنگ کا آغاز کر چکی تھی۔
دکھاوے کی زندگی کا فریب،تحریر:صدف ابرار
آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل منظوری نے ہماری زندگیوں پر راج قائم کر لیا ہے، وہاں اصلیت اور بناوٹ کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔ اب زندگی ایک ذاتی سفر نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی کارکردگی بن چکی ہے جو ایک "نظر نہ آنے والے” سامعین کے لیے مسلسل پیش کی جا رہی ہے۔ فلٹر شدہ خوشیوں سے لے کر بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی بیماریوں تک، ہم ایک ایسی ثقافت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جہاں احساسات سے زیادہ ظاہری تاثر اہمیت رکھتا ہے۔
ایک وقت تھا جب ذاتی دکھ درد صرف قریبی اور مخلص لوگوں سے شیئر کیے جاتے تھے، اور خوشیاں ان کے ساتھ منائی جاتی تھیں جن کا ساتھ اصل ہوتا تھا۔ آج، زندگی کی معمولی باتیں — ہلکا سا سر درد، ایک کپ چائے، اُداس لمحہ یا زبردستی کی مسکراہٹ — سب کچھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ہم زندگی گزار نہیں رہے، بلکہ اسے اسٹیج پر دکھا رہے ہیں —وہ بھی محض توجہ، تعریف اور تالیوں کے لیے۔
اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے لمحے کی اطلاع دوسروں کو دینا صرف عادت نہیں، بلکہ ایک اندرونی خلا کو ظاہر کرتا ہے — وہ خلا جو تسلی، اہمیت اور تسکین کی تلاش میں ہے۔ لوگ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بیماری کا بہانہ کرتے ہیں، کامیاب دکھنے کے لیے جھوٹی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور خود کو بہتر ظاہر کرنے کے لیے جعلی طرزِ زندگی اپناتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس مجمع کے لیے یہ سب کیا جاتا ہے، اسے درحقیقت آپ کی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں۔
چلیے سچ تسلیم کریں — لوگوں کو واقعی آپ کی زندگی کی اونچ نیچ سے کچھ خاص سروکار نہیں۔ وہ ایک لائک، ایک تبصرہ، یا ایک ایموجی ضرور دے سکتے ہیں، مگر ان کے ذہن اپنے مسائل، اپنی فکریں اور اپنی اہمیت کی تلاش میں الجھے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی کامیابی یا ناکامی پر کوئی نیند نہیں کھوتا۔ یہ تلخ حقیقت اکثر بہت دیر سے سمجھ آتی ہے — جب آپ کئی سال اپنی زندگی صرف دوسروں کو متاثر کرنے میں گزار چکے ہوتے ہیں۔
اپنی زندگی دوسروں کو اپڈیٹ کرنے کے لیے جینا ایسے ہی ہے جیسے کسی خالی ویرانے میں پکارنا — شاید آواز گونجے، لیکن کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ یہ دکھاوٹی رویہ نہ تو عزت دلاتا ہے اور نہ ہی وقار، بلکہ ترس یا مذاق کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ انسان کو ایک ایسی شخصیت میں بدل دیتا ہے جو اندر سے کھوکھلی، مگر باہر سے چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
جعلی زندگی کا جذباتی بوجھ
ظاہری دکھاوے کو برقرار رکھنا آسان نہیں — یہ ذہنی سکون، اصلیت اور حقیقی تعلقات کی بھاری قیمت پر ہوتا ہے۔ ہر وقت ‘ٹھیک’ یا ‘کامیاب’ نظر آنے کی کوشش انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ جب آپ وہ بننے کی اداکاری کرتے ہیں جو آپ ہیں ہی نہیں، تو آپ کی اصل خوشیاں بھی کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ، جب لوگ جذباتی کمزوری یا بیماری کو ڈرامہ بنا کر پیش کرتے ہیں، تو وہ ان لوگوں کی حقیقی تکلیف کو کم تر کرتے ہیں جو واقعی درد سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح ہمدردی ایک وقتی ردعمل بن کر رہ جاتی ہے — ایموجیز اور ری ایکشنز کی شکل میں۔خاموشی اور نجی زندگی کی طاقت
خاموشی میں حکمت ہے۔ ہر بات کو شیئر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ نجی زندگی کوئی راز نہیں بلکہ خود احترام کی علامت ہے۔ نہ ہر کامیابی تالی مانگتی ہے، نہ ہر درد ہمدردی۔ زندگی کے کچھ باب صرف اپنے لیے ہوتے ہیں — انہی میں اصل سکون پوشیدہ ہے۔بالغ سوچ یہ ہے کہ ہر کوئی آپ کی زندگی کی اسکرین پر بیٹھا تماشائی نہیں ہونا چاہیے۔ گہرائی کو اپنائیں، دکھاوے کو چھوڑیں، اور ظاہری کارکردگی کی بجائے اندرونی سکون کو اہمیت دیں۔
زندگی گزاریں، اسٹیج ڈرامہ نہ بنائیں
یہ دوسروں کو خوش کرنے کا معاملہ نہیں — اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے ساتھ سچے ہیں یا نہیں۔ خواہ وہ جھوٹی خوشی ہو، فرضی تکلیف ہو یا مصنوعی کامیابی — دکھاوا صرف آپ کو چھوٹا اور بے وقوف بناتا ہے۔جنہیں واقعی آپ کی پرواہ ہے، انہیں آپ کی زندگی کا ثبوت سوشل میڈیا پر نہیں چاہیے۔ اور جنہیں پرواہ نہیں، ان کے لیے جینا دانشمندی نہیں۔ اس لیے اسٹیج سے اتر جائیں، اور اصل زندگی گزارنا شروع کریں۔”آپ کی قدر اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ آپ کی زندگی کو کتنے لوگ دیکھ رہے ہیں، بلکہ اس سے طے ہوتی ہے کہ آپ اسے کتنی سچائی سے گزار رہے ہیں۔”
خود سے وفاداری.تحریر:کوثر رحمتی
زندگی کا سفر جب بچپن اور جوانی کی دہلیز سے نکل کر شعور، تجربے اور سکون کی تلاش کی طرف بڑھتا ہے تو بہت سی چیزیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کی ترجیحات، اس کے رشتے، اس کی باتیں، اس کی خاموشیاں ، سب کا مطلب بدل جاتا ہے۔ایک وقت آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”میرے پاس بے معنی دوستیاں، جبری تعلق اور غیر ضروری گفتگو کرنے کی توانائی نہیں ہے”
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کے تجربات، تھکن، سچائی، اور اندرونی امن کی ایک چیخ ہے۔ بے معنی دوستیاں ، جب دل کا رشتہ صرف نام کا رہ جائے،بچپن میں ہم بہت سے لوگوں کو دوست کہتے ہیں۔ ہر ساتھ کھیلنے والا، ہر ہم جماعت، ہر ہنسی بانٹنے والا دوست بن جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتی ہے کہ سچی دوستی بہت نایاب ہوتی ہے۔ ایسی دوستیاں جو،صرف وقتی فائدے پر مبنی ہوں،جہاں سننے والا صرف اپنی کہتا ہو، دوسروں کی نہ سنے،جہاں آپ کا دکھ مذاق بن جائے،یا آپ کا سکون، ان کی حسد کی آگ میں جلنے لگے،ایسی دوستیاں، تعلقات نہیں بلکہ ایک ذہنی بوجھ بن جاتی ہیں۔ اصل دوستی وہ ہے،جو خاموشی میں بھی آپ کو سمجھ لے،جو آپ کے بغیر بولے دل کا حال جان لے،جس کے ساتھ آپ "خود” بن کر رہ سکیں، بنا دکھاوے کے
ہماری زندگی میں کچھ رشتے صرف اس لیے موجود ہوتے ہیں کہ معاشرہ کہتا ہے، یا ہماری پرورش میں یہ سکھایا گیا ہوتا ہے کہ رشتہ کبھی توڑنا نہیں چاہیے، خواہ وہ آپ کو اندر سے توڑتا ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے رشتے جہاں،عزت نہیں، صرف زبردستی ہو،دل سے نہیں، صرف فرض سے نبھایا جا رہا ہو،جہاں آپ کی ذات کا انکار ہو، مگر تعلق کا دکھاوا باقی ہو،ایسے رشتے قید بن جاتے ہیں۔ کبھی کبھار خود کو بچانے کے لیے رشتے سے فاصلہ اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مطلب بے وفائی نہیں، بلکہ خود سے وفاداری ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاموشی کو کمزوری اور مسلسل بولنے کو "ملنساری” سمجھا جاتا ہے۔ مگر جیسے جیسے انسان خود سے جڑتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے،”ہر بات ضروری نہیں، اور ہر خاموشی اداسی نہیں۔”لوگوں کے فالتو تبصرے،بیکار گپ شپ،جھوٹی تعریفیں،روزمرہ کے رسمی سوالات جن کا کوئی مقصد نہ ہو، کب بات کی جائے؟جب بات دل سے ہو،جب بات کا مقصد ہو،جب خاموشی سے زیادہ بات ضروری ہو
ہم دوسروں کے جذبات کو سمجھنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ خود کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔ وہ چیخ کر نہیں، خاموشی سے کہتا ہے،”اب مجھ میں باقی سب کے بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔”یہ خود غرضی نہیں، بلکہ خود شناسی ہے۔ یہ احساس کہ سکون ہر قیمت پر ضروری ہے،تنہائی بہتر ہے بجائے جھوٹے ہجوم کے،”نہیں” کہنا بھی ایک طرح کی عبادت ہے، اب بس سادگی، خلوص اور سکون چاہیے،میری زندگی اب ان لوگوں اور باتوں کے لیے کھلی ہے جو سچے ہوں،جو زبردستی نہ ہوں،جو خاموشی کو بھی سمجھ سکیں،اور جو میرے ساتھ مجھے ہی رہنے دیں،”زندگی چھوٹی ہے، اور دل نازک، دونوں کو سنبھالنا ہے تو خود پر رحم کرنا سیکھنا ہوگا۔ اور اس کی پہلی سیڑھی ہے،بے معنی لوگوں اور باتوں سے کنارہ کشی،

انتقام…کبھی نہیں، تحریر:نور فاطمہ
زندگی کا سفر سیدھا نہیں ہوتا۔ یہ اونچ نیچ، خیر و شر، محبت و نفرت، وفا و بےوفائی سے بھرا ہوتا ہے۔ ہم سب نے کبھی نہ کبھی ایسے لمحات ضرور گزارے ہیں جہاں کسی نے ہمیں دھوکہ دیا ہو، ہماری نیکی کا غلط فائدہ اٹھایا ہو، ہمارے جذبات کو پامال کیا ہو یا پھر …. ایسے وقت میں انسان کے دل میں فطری طور پر انتقام کی آگ بھڑکتی ہے۔جب کوئی ہمیں تکلیف دے، تو سب سے پہلا خیال جو ذہن میں آتا ہے، وہ یہ ہوتا ہے کہ "میں بھی اس کو وہی دکھ دوں گا، جو اس نے مجھے دیا ہے۔” ہم سمجھتے ہیں کہ بدلہ لینے سے ہمیں سکون ملے گا، ہماری روح کو قرار آئے گا، لیکن سچ یہ ہے کہ انتقام ایک ایسا زہر ہے جو سب سے پہلے خود انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔انتقام ہمیں اس شخص سے جوڑ کر رکھتا ہے جس نے ہمیں تکلیف دی، اور یوں ہم اس سے نجات نہیں پا سکتے۔ ہماری توانائیاں، ہمارے خیالات، ہمارا سکون سب کچھ اس ایک انسان کی گرفت میں آ جاتا ہے، اور ہم زندگی کے اصل حسن سے محروم ہو جاتے ہیں۔
قدرت کا نظام خاموش ضرور ہوتا ہے، مگر اندھا نہیں،یاد رکھو، ہر انسان کا ایک خدا ہے، جو دیکھ رہا ہے۔تمہاری خاموشی، تمہارے آنسو، تمہارے صبر کا ایک ایک لمحہ اُس کے علم میں ہے۔جب تم کسی پر ظلم کرتے ہو تو تم اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہو، لیکن جب تم ظلم برداشت کرتے ہو اور بدلہ نہیں لیتے، تو تم اپنے کردار کی بلندی کا مظاہرہ کرتے ہو۔
اکثر لوگ خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں، لیکن دراصل خاموشی بہت بڑی طاقت ہے۔ جب تمہارا دل ٹوٹا ہو، آنکھیں نم ہوں، دل انتقام کی آگ سے بھر جائے، لیکن تم صرف اللہ پر چھوڑ دو ، یہ ایمان کی معراج ہے۔تم بس دور ہو جاؤ۔مشاہدہ کرتے رہو۔اور ایک دن تم دیکھو گے کہ وہی شخص، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، وہ تقدیر کے ہاتھوں کیسا بےبس ہوتا ہے۔تمہارا کام صبر ہے، حساب اللہ کا کام ہے،تم اپنا دامن صاف رکھو، اپنی نیت درست رکھو، اپنی محنت جاری رکھو۔تمہارے ساتھ جو ہوا، وہ تمہیں روکنے کے لیے نہیں، تمہیں بلند کرنے کے لیے تھا۔جو تمہارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، وہ دراصل خود اپنے لیے برا بیج بوتے ہیں۔اور یاد رکھو، قدرت کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتی۔
زندگی بہت مختصر ہے کہ اسے بدلے، نفرت یا غصے میں ضائع کیا جائے۔سکون صبر میں ہے، خاموشی میں ہے، اللہ پر چھوڑ دینے میں ہے۔جب تم کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرو، انتقام نہ لو، تو اللہ تمہاری حفاظت خود کرتا ہے، تمہیں عزت دیتا ہے، اور تمہیں ایسے مقام پر پہنچاتا ہے جہاں تمہارا دشمن صرف تمہیں دیکھ سکتا ہے، چھو نہیں سکتا۔تو بس یاد رکھو،
"وہ مہلت دیتا ہے… مگر نظر انداز نہیں کرتا۔”
"نہیں” کب کہنا ہے؟تحریر:نور فاطمہ
نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔
یہ تین لفظ بظاہر چھوٹے ہیں، لیکن عورت کی زندگی میں ان کی طاقت بے حد بڑی ہوتی ہے۔ ہماری معاشرتی روایات میں خواتین کو اکثر سکھایا جاتا ہے کہ وہ نرم مزاج، برداشت کرنے والی، اور خاموش رہنے والی ہوں۔ لیکن کیا ہم کبھی یہ سکھاتے ہیں کہ عورت کو "نہیں کہنا” بھی آنا چاہیئے؟”نہیں” کہنا کمزوری نہیں، شعور ہے،عورت جب کسی چیز سے انکار کرتی ہے، تو اکثر اُسے ضدی، خودسر یا بدتمیز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ "نہیں” کہنا، ایک مضبوط ذہن، خود اعتمادی اور حد بندی کی نشانی ہے۔ جب ایک عورت نہیں کہتی ہے، تو وہ دراصل خود کو، اپنے جذبات کو، اور اپنی زندگی کو ترجیح دے رہی ہوتی ہے۔کب "نہیں” کہنا ضروری ہے؟
جب دل راضی نہ ہو،خواہ وہ کسی رشتے کی بات ہو، شادی، یا کسی تعلق کی نوعیت، اگر دل مطمئن نہیں ہے، تو نہیں کہنا حق ہے۔ عورت کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ محض خاندان یا سماج کے دباؤ میں فیصلے کرے۔ جب جسمانی یا ذہنی حدود کی خلاف ورزی ہو،اگر کوئی عورت کی جسمانی یا ذہنی حدوں کو پار کرنے کی کوشش کرے، چاہے وہ قریبی ہو یا اجنبی، تو "نہیں” کہنا ایک حفاظتی دیوار ہے۔ اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دینا بزدلی نہیں بلکہ عقلمندی ہے۔ہر بار "ہاں” کہنا، عورت کو تھکا دیتا ہے۔ اگر کوئی کام آپ کی ذہنی یا جسمانی صحت پر اثر ڈال رہا ہے، تو اسے رد کرنا سیکھنا ضروری ہے۔ اپنی حدوں کو سمجھنا اور ان کا دفاع کرنا زندگی کو متوازن بناتا ہے۔کبھی کبھی لوگ عورت کی نرم دلی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بار بار جذباتی بلیک میلنگ، یا فائدہ اٹھانے کی کوشش پر خاموش رہنا خود کے ساتھ زیادتی ہے۔ ایسے وقت میں "نہیں” کہنا ضروری ہوتا ہے۔"نہیں” کہنا سیکھنا کیسے ممکن ہے؟سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی رائے، احساسات اور حدود اہم ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں "نہیں” کہنے کی مشق کریں، جیسے غیر ضروری وعدے، یا ایسے کام جن کا آپ پر بوجھ ہو۔دوسروں کی ناراضی کا خوف چھوڑ دیں،سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں، اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اپنی خوشی کو ترجیح دیں۔صاف گوئی سے بات کریں،”نہیں” کہنے کے لیے بے احترامی یا سختی کی ضرورت نہیں، بلکہ نرمی سے لیکن واضح انداز میں انکار کرنا سیکھیں۔
عورت کا "نہیں” کہنا، اُس کی خودمختاری، شعور اور طاقت کی علامت ہے۔ یہ صرف انکار کا لفظ نہیں، بلکہ یہ اعلان ہے کہ "میری زندگی، میرے فیصلے میرے ہاتھ میں ہیں۔”یاد رکھیں، جب عورت "نہیں” کہنا سیکھ جاتی ہے، تو وہ اپنی تقدیر خود لکھنا شروع کر دیتی ہے۔نہیں، نہیں، نہیں،یہ الفاظ کمزور نہیں، بہادر لوگوں کے ہوتے ہیں۔

اتنی سی انا تو ہونی چاہئے.تحریر:نور فاطمہ
زندگی ایک سفر ہے، جس میں ہم بہت سے چہروں سے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے ہمیں خوشی دیتے ہیں، کچھ ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے بغیر ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن کبھی کبھار وہی چہرے ہمیں سب سے زیادہ دکھ دے جاتے ہیں۔ ایسے میں دل چاہتا ہے کہ رو لیا جائے، کسی سے شکوہ کیا جائے، لیکن ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”اتنی سی انا تو ہونی چاہئے”
محبت کا مطلب زبردستی تھوڑی ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا ساتھ چھوڑنا چاہتا ہے، تو اُس کی خواہش کا احترام کرو۔ دل کا تعلق زبردستی سے نہیں جڑتا۔ ایسے تعلق کو نبھانے کا فائدہ کیا جس میں دوسرا فریق دل سے آپ کے ساتھ نہ ہو؟اکثر ہم اُسی شخص کی طرف لوٹ جاتے ہیں جو ہمیں توڑ چکا ہوتا ہے۔ لیکن یہ خود پر ظلم ہے۔ خودداری کا مطلب یہی تو ہے کہ جس نے ایک بار آپ کو گرا دیا، اُس کے ہاتھ پھر سے پکڑنے کی نوبت نہ آئے۔ سہارے تلاش کرنا کمزوری نہیں، لیکن غلط سہارے بار بار چننا خود پر ظلم ضرور ہے۔جب کسی کا لہجہ اجنبی سا لگنے لگے، اُس میں محبت کی بجائے طنز، سختی اور بیگانگی نظر آئے، تو سمجھ جاؤ کہ احساسات یک طرفہ ہو چکے ہیں۔ اپنے مخلص جذبات کو وہاں ضائع نہ کرو جہاں ان کی قدر نہیں۔ مخلصی کا جواب اگر خاموشی یا سختی ہو، تو وہ تعلق زہر بن جاتا ہے۔
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو عزت مانگتا ہے۔ اگر بار بار آپ کی قدر نہیں کی جا رہی، اگر آپ کے جذبات کو مذاق سمجھا جا رہا ہے، تو پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ خود کو اتنا سستا نہ کرو کہ کوئی آپ کو استعمال کرے اور آپ خاموش رہو۔زندگی کا راستہ طویل ہے۔ کبھی کبھی ساتھی راستے میں چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفر ختم ہو گیا۔ اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کرو کہ اکیلے بھی چل سکو، خود سے جڑ سکو، اور خود کو مکمل محسوس کر سکو۔تعلق میں سب سے بڑی بے رُخی یہ ہے کہ جب آپ کسی کو پوری اہمیت دیتے ہو اور وہ آپ کو نظر انداز کرے۔ ایسے میں بار بار اُس کی توجہ کے لیے خود کو پیش کرنا خودداری کے خلاف ہے۔ بس نظریں ہٹا لو، خود کو مصروف رکھو، اور اُن لوگوں کے ساتھ جڑو جو تمہیں اہم سمجھیں۔
"انا” اور "غرور” میں فرق ہوتا ہے۔انا وہ وقار ہے جو ہمیں خود سے پیار کرنا سکھاتا ہے، جو ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ یہ خود کو عزت دینا ہے، اپنی ذات کو مقام دینا ہے۔تو بس…اتنی سی انا تو ہونی چاہئے کہ خود کو ہر بار قربان نہ کرنا پڑے، اور جب وقت آئے، تو خاموشی سے، وقار سے، رخصت ہو جاؤ۔

” کون ہے میرا؟ "تحریر:کنزہ محمد رفیق
ستاروں کی جھلملاتی روشنیوں، سمندر کے گہرے پانیوں اور انسانوں کے جذبات واحساسات نے ہماری التفات کو ایسے اپنی جانب مبذول کیا یے کہ ہم اپنی ذات سے پرے انہی لطافت میں کہیں کھو گئے ہیں۔ ہم انسانوں کی ایک دوسرے سے انیست اور محبت کی ضرورت کسی طور کم نہیں ہو سکتی۔ ازل یہ نظام محبت قائم ہے۔ جب یہ دنیا تخلیق کی گئی تو حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام دونوں کو ساتھ زمین پر اتارا گیا، تاکہ وہ ایک دوسرے کے لیے سکون و راحت کا سبب بنے۔
بتدریج انبیاء کرام آتے رہے، اور لوگوں کو اللّٰہ کی راہ پر گامزن کرتے رہے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ نظام کائنات بدلتا گیا، لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات اور انبیاء کرام کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں۔ اور نتیجتاً اپنی اصل کو بھولتے گئے۔ جب ساتویں صدی عیسوی میں اسلام آیا، تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے رہے اور ایمان رگوں میں سرایت کرتا گیا۔ مگر اکیسویں صدی کے لوگ جدیدیت کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ تمام کام جن کو کرنے کی ممانعت کی گئی ہے، اب انہیں بصد شوق سر انجام دیا جاتا ہے اور پھر اسے ” ماڈرنزم” کا لقب دے جاتا ہے
درحقیقت یہ ماڈرنزم انسان کی اصل کو تیرگی میں چھپا دیتی یے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں، ہمیں زندگی بخشنے والا کون ہے؟ اور ہم سے زندگی چھینے والا کون ہے؟ ہم یوں ہی تو دنیا میں نہیں آگئے ہیں؟
” لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی آئے نہ اپنی خوشی چلے ”
وقت بدلتا گیا، اور چیزوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جذبات واحساسات میں بھی ملاوٹ کی آمیزش ہوتی گئی۔ اور گزرے سمے کے ساتھ محبت بھی زائل ہوتی گئی۔ لوگ اپنے ہی جیسے لوگوں کی تلاش میں سرگراں رہے۔
"اتم سے اتم ملے اور ملے نیچ سے نیچ، پانی سے پانی ملے اور ملے کیچ سے کیچ”
جب اپنی ہی صفات و نوعیت کے لوگوں میں کیف و سرور نہ ملا تو، انسان اپنے ذہن میں بنتے حبس میں مبتلا ہوتا گیا، یوں محبت اور عقیدت کی آس میں ڈپریشن کا مریض بن گیا۔
دماغ میں چلتی ہزار ہا فکروں اور پریشانیوں کے ملبے تلے یہ آواز آئی۔
” کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو”
یکایک دل سے صدا آئی:
” کون ہے میرا؟ ”
یہ سوال سن کر روح نے عہد الست کی یاد تازہ کی۔
جب عالم ارواح میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے عہد و پیمان باندھا تھا۔
"کیا میں تمہارا رب نہیں ؟”
کیوں نہیں؟ ” تو ہی تو ہمارا رب ہے۔”
قناعت میں چھپی مسکراہٹ.تحریر:نور فاطمہ
دنیا کی گہما گہمی، مقابلے کی دوڑ، اور مادی خواہشات کی بھرمار نے آج کے انسان کو بے چین کر رکھا ہے۔ ہر شخص بہتر زندگی کی تلاش میں ہے، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ "بہتر زندگی” کا مطلب صرف زیادہ دولت، آسائشیں یا شہرت نہیں بلکہ دل کا سکون اور قناعت ہے۔ یہی قناعت خوش رہنے کا وہ راز ہے جس سے لوگ آج بھی غافل ہیں۔”خوش رہنے والوں کے پاس ہر چیز نہیں ہوتی، بلکہ وہ جو کچھ ہوتا ہے، اس پر مطمئن رہتے ہیں” یہ جملہ گویا ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ خوشی کا انحصار ہماری سوچ پر ہے، نہ کہ وسائل پر۔
قناعت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے "راضی رہنا”۔ جو لوگ قناعت کو زندگی کا اصول بنا لیتے ہیں، وہ ہمیشہ شکر گزار ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں لالچ، حسد یا جلن کے لیے جگہ نہیں ہوتی۔ وہ جانتے ہیں کہ،”جو کچھ میرے پاس ہے، وہی میرے لیے کافی ہے۔”قناعت انسان کو سکون عطا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ہماری ذہنی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ہماری روحانی ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف خود خوش رہتے ہیں بلکہ دوسروں میں بھی مثبت توانائی پھیلاتے ہیں۔اکثر لوگ خوشی کو باہر تلاش کرتے ہیں۔ نئے کپڑے، قیمتی موبائل، بڑی گاڑی یا بیرونِ ملک سفر ، یہ سب وقتی خوشی دے سکتے ہیں، مگر اصل اور دیرپا خوشی ہمیشہ اندر سے آتی ہے۔ خوش رہنے والے لوگ اپنی اندرونی دنیا کو صاف، روشن اور مثبت رکھتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کم وسائل ہوں تو بھی وہ ان میں سے اچھائی تلاش کرتے ہیں۔ اگر مشکلات آئیں، تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ ان کی خوشی کسی شے سے منسلک نہیں بلکہ ان کی سوچ سے جُڑی ہوتی ہے۔
آج کا انسان ہر وقت دوسروں سے خود کا موازنہ کرتا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جب ہم دوسروں کی چمکتی زندگی کو دیکھتے ہیں، تو اپنی زندگی کم تر لگنے لگتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی کہانی الگ ہے، ہر کسی کا سفر مختلف ہے۔خوش رہنے والے لوگ دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں، لیکن خود کو ان سے کمتر نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی زندگی میں موجود ہر نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔شکر گزاری وہ خوبی ہے جو خوش رہنے والے لوگوں میں لازمی پائی جاتی ہے۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو محسوس کرتے ہیں،ماں کی دعا، بچوں کی ہنسی، بارش کی خوشبو، پرندوں کی چہچہاہٹ ، یہ سب چیزیں ان کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق، جو لوگ روزانہ شکر ادا کرتے ہیں وہ زیادہ خوش، صحت مند اور مثبت ہوتے ہیں۔ وہ پریشانیوں کو بھی زیادہ بہتر انداز میں جھیل سکتے ہیں۔
خوشی ہمیشہ مہنگی چیزوں میں نہیں ہوتی۔ اکثر وہ لوگ جو سادہ زندگی گزارتے ہیں، زیادہ مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔ خوش رہنے والے لوگ دکھاوے سے دور ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سادگی میں عظمت ہے۔ ان کے لیے خوشی کا مطلب کسی چیز کو پانا نہیں بلکہ کسی لمحے کو محسوس کرنا ہے۔یہی لوگ ہوتے ہیں جو دوستوں کے ساتھ چائے کے کپ، کسی کتاب کا مطالعہ، یا تنہا کسی باغ میں وقت گزارنے کو بھی خوشی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔خوش رہنے والے لوگ اندر سے پر سکون ہوتے ہیں۔ ان کا ذہن الجھنوں سے پاک، اور دل نفرتوں سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرنا جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاف کرنا دوسروں سے زیادہ خود کے لیے ضروری ہے۔آج کامیابی کو صرف مادی پیمانوں پر ناپا جاتا ہے، لیکن خوش رہنے والے لوگ کامیابی کی تعریف کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی دل کا سکون ہے،والدین کی دعائیں ہیں،کسی کو ہنسانا ہے،روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں جینا ہے،یہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اندر سے خوش اور مطمئن رکھتی ہے۔خوشی ایک انتخاب ہے، حالت نہیں۔ اگر ہم یہ سیکھ لیں کہ جو ہمارے پاس ہے وہی کافی ہے، اور ہر حال میں شکر ادا کریں، تو زندگی خود بخود خوبصورت لگنے لگے گی۔
لہٰذا، اگلی بار جب دل پریشان ہو، تو خود سے ایک سوال کریں،”کیا میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں جو میرے پاس نہیں ہے؟ یا میں شکر گزار ہوں ان نعمتوں کے لیے جو مجھے حاصل ہیں؟” خوش رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ ہو۔ بلکہ ضروری یہ ہے کہ جو کچھ ہے، اس پر دل سے راضی رہیں۔

شعور، خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے،تحریر: رضوانہ چغتائی
شروع سے سکھایا جاتا ہے کہ بیٹیاں وہی اچھی ہوتی ہیں جو ریڈ کارپٹ بن جائیں کہ ہر رشتے کے قدموں تلے بچھ جائیں ۔۔۔۔ ماں کے سامنے، باپ کے سامنے، بھائی، شوہر، سسرال، معاشرہ—سب کے سامنے۔۔۔۔۔
لیکن پھر۔۔۔۔کہیں سے ایک لہر اُٹھتی ہے۔ پہلے سوال بنتی ہے۔۔۔۔۔۔پھر سوچ… پھر شعور… اور آخر میں ایک طوفان—فیمنزم کا طوفان۔
ہاں، اس میں بہت کچھ بکھر جاتا ہے۔کچھ اقدار، کچھ رشتے، کچھ سلیقے۔۔۔۔لیکن جو باقی رہ جاتا ہے۔۔۔۔
وہ صدیوں کی بند زنجیروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے— خودی، اختیار، اور "نہیں” کہنے کا ہنر۔۔۔۔۔ پھر بہت ہی عام سی گھرانوں کی بیٹیاں بھی سمجھنے لگتی ہیں کہ” نہیں ” کہنا اتنا مشکل نہیں ہے۔۔۔۔ باؤنڈریز بنانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔۔۔۔بہت ذیادہ شعور نہیں تھا جب میری چھوٹی پھپھو کی ڈیتھ ہوئی لیکن اب سوچنے سے مطالعہ کرنے سے ان کی زندگی کے بارے میں جو باتیں شعور میں رہ گئیں تو یاد آتا ہے کہ وہ کمال کی فیمینسٹ خاتون تھیں۔۔۔ وہ پہلی خاتون جو اپنے حق کے لئے لڑتی تھیں ، یقیناً وہ ہمارے ٹیپیکل پرانی روایات والے خاندان کی پہلی بیٹی تھیں جنہوں نے ہمارے لاشعور میں فٹ کر دیا کہ عورت کو doormat نہیں ہونا۔۔۔۔ جو بھی ہو جائے ایک واضح سیدھی لکیر کھینچنا ضروری ہے۔۔۔۔
میری زندگی کی وہ پہلی فیمینسٹ ہیں جن کو اپنی زندگی میں فیمینزم کا پرچار کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ ان کا نام نسیم تھا۔۔۔۔ اور وہ اپنے ڈیٹا پر پورے کانفیڈنٹ سے نسیم چغتائی لکھتی اور بولتی تھیں۔۔۔۔ یہ وہ دور تھا جب خواتین کا شادی کے بعد آئی ڈی کارڈ پر ذیادہ تر بی بی یا شوہر کا نام ساتھ لگا دیا جاتا۔۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی ” نہیں” کہنے کی۔۔۔۔باؤنڈری بنانا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ان لوگوں کے سامنے جنہیں آپ کی خاموشی، خدمت اور قربانیوں کی عادت پڑ چکی ہو۔۔۔۔۔ جو لوگ آپ سے صرف فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ کبھی بھی آپ کی حقیقت، آپ کے جذبات، اور آپ کی قائم کردہ حد بندی کو اچھا نہیں جانیں گے،قرآن میں بھی بار بار ہمیں "عدل” اور "نفس کی حفاظت” کا سبق دیا گیا ہے۔ "وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ” (سورہ الاسراء: 29) — "اور نہ ہی اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا رکھو (کہ کچھ دو ہی نہ)، اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو (کہ سب کچھ خرچ کر ڈالو)”۔ یہ آیت ہمیں توازن سکھاتی ہے—اپنے آپ کو ضائع کیے بغیر دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔۔۔۔
اگر آپ خوش قسمتی سے باؤنڈری بنا سکی ہیں، اور لوگ آپ سے دور ہو گئے ہیں—تو سمجھ لیجیے وہ کبھی آپ کے اپنے تھے ہی نہیں۔ جو رشتے باؤنڈریز کے احترام پر قائم ہوں، وہی دیرپا اور مخلص ہوتے ہیں۔ باقی سب محض استعمال کی خواہش ہوتی ہے، جس کا پردہ "محبت” اور "تعلق” کے الفاظ سے ڈھانپا گیا ہوتا ہے۔اس لیے اگر آپ کو باؤنڈریز بنانے کی قیمت چکانی پڑی ہے، تو یاد رکھیں آپ نے کچھ کھویا نہیں، بلکہ اپنے گرد موجود منافقت کا پردہ چاک کیا ہے۔ اور یہ پہچان، یہ شعور، یہ خود احترامی، کسی بھی قیمت سے زیادہ قیمتی ہے۔۔۔۔۔!!!







