Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، ایک انمول کتاب،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کو اگر کتاب سے تشبیہ دی جائے تو یہ مثال نہایت خوبصورت اور معنی خیز ہے۔کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ جذبات، خیالات، فہم و ادراک، اور وقت کا عکس ہوتی ہیں۔ عورت بھی کچھ ایسی ہی ہستی ہے،گہرائیوں سے بھری ہوئی، نرمی سے مزین، اور اسرار سے لبریز،مرد کی فطرت میں تجسس ہے۔ وہ عورت کو جاننا، سمجھنا اور اس کے دل کے رازوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔لیکن عورت محض ظاہر میں موجود خوبصورتی یا نرم لہجے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک پورا جہان آباد ہوتا ہے۔اس جہان تک رسائی حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

    کتاب کو پڑھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں ہوتیں، دل، وقت، توجہ، اور احترام بھی درکار ہوتا ہے۔اسی طرح عورت کو سمجھنے کے لیے محض گفتگو یا ظاہری حرکات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ احساس درکار ہوتا ہے،صبر درکار ہوتا ہے،سمجھ بوجھ،اور سب سے بڑھ کر احترام درکار ہوتا ہے،بہت سے مرد عورت کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ عورت ایک آزاد ہستی ہے، ایک مکمل وجود، جسے صرف محبت سے، سمجھ بوجھ سے اور عزت دے کر ہی پڑھا جا سکتا ہے۔

    چند خوش نصیب مردوہہوتے ہیں جو عورت کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ سے زیادہ اس کی خاموشیوں کو سمجھتے ہیں۔
    جو اس کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرتے ہیں۔جو عورت کو ایک شخصیت، ایک انسان سمجھتے ہیں، نہ کہ محض ایک کردار،ایسے مرد عورت کی کتاب کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اسے سلیقے سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عورت کے ہر صفحے پر ایک الگ کہانی ہے،کبھی ماں کی محبت،کبھی بیوی کی وفاداری،کبھی بیٹی کی معصومیت،
    اور کبھی بہن کی شفقت،عورت کو سمجھنے کے لیے کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں،بلکہ خود اس "کتاب” کو سمجھنے کی نیت، ہنر، اور سلیقہ ہونا چاہیے۔جو یہ سلیقہ سیکھ لیتے ہیں، وہ زندگی کی سب سے حسین اور گہری کتاب کو پا لیتے ہیں۔

  • جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    جو چاہو کھو دو، مگر اس دل کو مت کھونا.تحریر:نبیلہ رحمان

    زندگی میں ہر انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی شہرت چاہتا ہے، کوئی دولت، کوئی کامیابی کے پیچھے دوڑتا ہے اور کوئی رشتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان تمام ترجیحات میں ایک چیز اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے ، دل۔ہم اکثر ان لوگوں کی قدر تب کرتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتے۔ وہ لوگ جو دن رات ہمیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے ہیں، ہمارے لیے اپنے جذبات کو قربان کر دیتے ہیں، ہم انہیں معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے خلوص کو، ان کے پیار کو، ان کی توجہ کو ہم کبھی مکمل طور پر محسوس ہی نہیں کرتے۔لیکن وقت جب ہاتھ سے نکل جاتا ہے، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ "کچھ دل کبھی دوبارہ نہیں ملتے”

    دل جو خاموشی سے محبت کرتا ہے،ایسے دل نہ تو واویلا کرتے ہیں، نہ ہی محبت کے لیے مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ دل صرف چاہتے ہیں کہ انہیں سمجھا جائے۔ ان کی بے آواز چیخوں کو سنا جائے، ان کی خاموش قربانیوں کو پہچانا جائے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اُن دلوں کو کھو دیتے ہیں، جو ہمارے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔جب ایک طرف سے محبت ہو، اور دوسری طرف صرف بے نیازی، تو ایک وقت آتا ہے جب وہ مخلص دل بھی تھک کر خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ جو کبھی تمہیں خوش کرنے کے لیے ہر حد پار کرتا تھا، وہ ایک دن خاموش ہو کر دور ہو جاتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل ٹوٹتے ہیں ، نہ صرف ایک، بلکہ دونوں طرف کے۔

    اگر ہم وقت پر آنکھیں کھولیں، اگر ہم اُن لوگوں کی قدر کریں جو بے غرض محبت کرتے ہیں، تو ہم بہت کچھ بچا سکتے ہیں۔ ہم اُن دلوں کو سنبھال سکتے ہیں جو شاید وقت کے ساتھ تھکنے لگے ہیں۔محبت کرنے والے دل بہت نایاب ہوتے ہیں۔ جس دل نے آپ کے لیے بہت کچھ کیا ہے، جس نے ہر بار آپ کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا ہے، اُسے کبھی نہ کھوئیں۔ کیونکہ جب وہ دل چلا جاتا ہے تو نہ وقت واپس آتا ہے، نہ وہ خلوص، نہ وہ جذبہ،جو چاہو کھو دو، مگر کبھی اس دل کو مت کھونا۔۔۔ کیونکہ کچھ دل واقعی کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔

  • سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    سب سے بڑی دلیری،تحریر:رائے نوشین بھٹی

    دنیا کی بھیڑ میں، جہاں ہر شخص کسی نہ کسی نقاب کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے، وہاں سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ انسان خود کو وہی ظاہر کرے جو وہ حقیقت میں ہے۔ یہ ایک سادہ سا جملہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر ایک بہت گہری دانائی چھپی ہوئی ہے۔آج کی دنیا میں لوگ اکثر دوسروں کی خوشنودی، سماجی دباؤ یا ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے خود کو چھپاتے ہیں۔ ہم اکثر وہ دکھاتے ہیں جو دوسرے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ بولتے ہیں جو دوسرے سننا چاہتے ہیں، اور وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو معاشرہ ہم سے چاہتا ہے۔ مگر اس سارے عمل میں ہم خود سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے اصل کو کھو بیٹھتے ہیں۔

    اپنی اصل کو قبول کرنا کیوں مشکل ہے؟
    خود کو اپنی حقیقت کے ساتھ ظاہر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں
    تنقید کا خوف: اگر میں نے اپنے خیالات اور جذبات سچ سچ بیان کیے تو لوگ کیا کہیں گے؟
    رد کیے جانے کا ڈر: کیا اگر میں اپنی اصل شکل دکھاؤں تو لوگ مجھے قبول کریں گے؟
    موازنہ: سوشل میڈیا اور دنیاوی کامیابیوں نے ہمیں دوسروں سے موازنہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو "کامیاب” دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ ہماری فطرت سے میل نہ کھاتا ہو۔

    حقیقی دلیری کیا ہے؟
    حقیقی دلیری تلوار چلانے یا اونچی آواز میں بولنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانک کر، اپنی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ خود کو ایسے قبول کرنا جیسا کہ ہم ہیں، اور بغیر کسی خوف یا دکھاوے کے ویسا ہی دنیا کے سامنے پیش آنا—یہی اصل بہادری ہے۔

    خود کو اپنی حقیقت میں ظاہر کرنے کے فوائد
    اندرونی سکون: جب آپ خود کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے، تو دل کو ایک سکون ملتا ہے۔
    خالص رشتے: آپ کے اردگرد وہی لوگ رہتے ہیں جو آپ کو حقیقت میں پسند کرتے ہیں، نہ کہ آپ کے نقاب کو۔
    ذاتی ترقی: جب آپ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں تو ہی آپ انہیں بہتر بنا سکتے ہیں۔
    اعتماد میں اضافہ: جب آپ خود پر اعتماد کرتے ہیں، تو دوسروں کا اعتماد بھی آپ پر بڑھتا ہے۔

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں سب سے خوبصورت ساتھی ہمارا "اصل خود” ہے۔ تو کیوں نہ ہم اس کے ساتھ سچائی سے جئیں؟ سب سے بڑی دلیری یہی ہے کہ ہم خود کو نہ بدلیں، نہ چھپائیں، بلکہ اپنی اصل کو فخر سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔

  • اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نے کہا تھا
    وجود زن سے تصویر کائنات میں ہے رنگ
    یہ درست ہے اس کائنات میں خواتین کا رول بہت اہم ہے نسل انسانی کو پروان چڑھانے اور ان کی تربیت کی زمہ داری اللہ تعالیٰ نے خواتین کے کندھوں پر ڈالی اور تاریخ شاہد ہے جن خواتین نے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی ان کی اولاد نے اپنے اعلیٰ اوصاف سے ایسے رنگ بھرے کہ جو کبھی ماند نہیں ہوئے، فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ہم قدم رہیں کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑا ،رعنا لیاقت علی خان نے اپنے شوہر لیاقت علی خان کا ساتھ دیا مال و دولت جمع نہیں کیا اسی طرح تاریخ اسلام اور دنیا کی تاریخ خواتین کے کار ناموں سے بھری پڑی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ حقوق جو اسلام نے اور قانون نے عورتوں کو دئیے ان پر عملدرآمد بہت کم دیکھنے میں آ یا اور معاشرے میں خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا اور ایسے ماحول میں اگر خواتین کو عزت و تکریم دینے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہنے کی کی بات ہو تو بہت خوش آئند ہے، اسی حوالے سے آ ل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن ( اپووا ) نے کل بارہ اپریل ہفتے کے دن پاک ھیرٹج ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی .


    اپووا کے بانی اور صدر ایم ایم علی ہیں جبکہ چئیرمین زبیر احمد انصاری ہیں ان کی طرف سے منعقد کردہ یہ تقریب شاندار تھی اپنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایوارڈ حاصل کرنے پر خواتین خوش نظر آ رہی تھیں تمام گیسٹ سپیکرز اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز مقام رکھتی تھیں ان میں سامعہ خان ، عذرا آ فتاب ، عارفہ صبح خان ، دعا مرزا ، ثنا آ غا خان ، ڈاکٹر فضلیت بانو ، گل ارباب ، کومل جوئیہ ، لالہ رخ اور دیگر شامل تھیں اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کو غزہ کے مظلوموں سے منسوب کیا گیا کالی پٹیاں باندھ کر اور فلسطین کے جھنڈے لہرا کر احتجاج کیا گیا اور فلسطین کی مظلوم عورتوں اور بچوں سے اظہار یک جہتی کیا گیا ،اس تقریب میں پشاور ، کراچی ، اور کئی دوسرے شہروں سے آ نے والی خواتین شامل تھیں یہ بھر پور اور باوقار تقریب تھی اس کے لیے اپووا کے بانی اور چئیرمین لائق تحسین ہیں ان کو بہت مبارکباد اور انتظامیہ میں شامل تمام خواتین جن میں سحرش خان ، ڈاکٹر ثمینہ طاہر اور دیگر بہت مستعد تھیں ان سب کا بھی شکریہ اور مبارکباد
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد

    الحمداللہ! 12 اپریل 2025 کو لاہور کے پاک ہیرٹج ہوٹل میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے پانچویں خواتین کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں پاکستان کے تمام صوبوں سے خواتین نے شرکت کی۔ مختلف شعبہ جات میں کامیاب خواتین نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نئی نسل کو آگے بڑھنے کا جذبہ دیا۔ بہت سے مسائل پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس کا مقصد بہت بڑا تھا۔

    آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اللہ پاک نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے بس اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم قانون قدرت کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار، داتا، ملکیت، تکبر سب اللّٰہ ربّ العزت کی صفات ہیں جب بھی کسی انسان نے یا کسی قوم نے ان صفات کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ فرمان نبوی کے مطابق اگر آپ کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے منع کرو اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو اسے دل سے برا جانو اگرچہ یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ "مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کے کسی ایک حصے میں درد ہو گی تو دوسرا حصہ خود بخود تکلیف میں ہو گا۔” کانفرنس میں غزہ کے مسلمانوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور ان کے ساتھ یکجتی کا اظہار کیا گیا مگر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہم ایمان کے کون سے درجے پر ہیں۔ نہ ہم ہاتھ سے روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ ہماری زبان حق کے لیے بولتی ہے تو کیا ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے سے بھی گر گئے جہاں ہم کفار کو برا بھلا ہی کہہ سکیں؟ ان کی بنائی مصنوعات کو چھوڑ سکیں؟ مسلمان جو ایک جسم کی مانند ہیں پھر ہمارا جسم ہمارا دل ہماری روح غزہ کے مسلمانوں کے لیے تکلیف میں کیوں نہیں؟ کیا ہم مسلمان ہی نہیں رہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔

    خواتین کانفرنس میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا میں تو سمجھتی ہوں جس کا جتنا برتن ہوتا ہے اس میں وہ اتنی اشیاء بھر لیتا ہے۔ ایک سپیکر خاتون نے تو جیسے میرے دل کی باتیں کہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میں نے باہر معاشرے میں نکل کر دیکھا ہے جتنی ٹانگ خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کھینچتی ہیں اس کے برعکس مردوں میں حسد جلن اور نفرت کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کامیابی برداشت نہیں کرتیں بلکہ ان کو سیدھے راستے کی بجائے غلط راستہ دکھاتی ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتی ہیں کسی دوسری کے پاس نہ ہو۔

    تو واقعی خواتین کا عالمی دن منانے سے کچھ نہیں ہونے والا میری نظر میں خواتین کے حقوق کی جنگ مردوں سے نہیں اپنی ہی ہم جنس خواتین سے ہے۔ مقابلہ تو برابر والے سے ہوتا ہے جنگ کے اصولوں میں بھی برابری شامل ہے۔ ہم جو پلے کارڈ اٹھا کر مردوں کے سامنے آ گئی ہیں ان کے برابر کے حقوق مانگنے اگر عورت اپنی سوچ کو مثبت کر لے تقدیر پر راضی رہنا اور ہمیشہ دوسری عورت کی مدد کرنا اس کا ساتھ دینا سیکھ لے تو ہمیں کسی مرد سے اپنے حق مانگنے کی ضرورت نہیں۔ باقی میں متفق ہوں کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں بس اللہ نے آپ کو جتنی طاقت اور جتنی ہمت و سہولت دی ہے اس میں انسانیت کو فایدہ پہنچاتے رہیں۔ آگے بڑھ کر اپنی خواتین ساتھیوں کی مدد کریں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جو کسی کا مقدر ہے وہ آپ چھین نہیں سکتیں اور جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی آپ سے لے نہیں سکتا تو پھر ڈر کس بات کا۔ یہ دنیا فانی ہے اس کی ہر شے کو فنا ہے یہ دولت یہ شہرت یہ عزت یہ مقام سب منوں مٹی تلے دب جانے ہیں باقی رہ جانی ہیں صرف اور صرف نیکیاں۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ چلنے اور برابری کے چکر میں یہ بھول ہی گئی ہے اس کی عزت اس کا وقار اس کے سر کی چادر اور سر کے سائیں کے ساتھ ہے۔ اپنی چادر اور اپنے سائیں کی عزت کا خیال رکھیں کبھی معاشرہ آپ کے حقوق نہیں چھینے گا۔ دوپٹہ یا چادر اتار کر ہم نہ مرد بن سکتیں ہیں نہ ان کے برابر جس کو اللہ نے قوام بنایا ہم اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں۔ آدم کے لیے حوا لازم تھی اور حوا کے لیے آدم۔ ہم بھی اپنے ساتھی اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سب باتیں لکھنا کہنا برتنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے اٹھارہ سال لگے یہ سب لکھنے میں مگر دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنی سیکھیں لڑائی جھگڑے اور پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس کے ساتھ حقوق مانگنے کی جنگ ہے وہ کسی سڑک پر نہیں رہتا وہ ہمارے گھر پر ہمارے دل میں رہتا ہے اور یہ جنگ لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ محبت اور دلیل کے ساتھ جیتنی ہے ان شاءاللہ!


    میری نظر میں ہر عورت خاص ہے چاہے وہ باہر کام کرنے والی خاتون ہے یا گھر سنبھالنے والی۔ عورت اللہ کی مخلوق ہے اس کے خاص ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کیا۔ حدود اللّٰہ میں رہتے ہوئے جو عورت بھی معاشرے کے لیے نفع مند رہے گی وہ کبھی ناکام نہیں رہے گی۔

    میں اپووا کی تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اتنے کامیاب پروگرام کے لیے۔ علی بھائی، زاہد بھائی، ثمینہ آپا، مدیحہ، سحرش اللہ پاک آپ سے آپ کی تمام کوششوں کو قبول فرمائے اسی طرح سب کو ہمت دلاتے رہیں اللہ پاک آپ کی عزت میں اضافہ فرمائے آمین
    قرۃالعین خالد
    نائب صدر پنجاب (اپووا)
    سیالکوٹ

    اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

  • زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں ہمیں کئی سوالات، کئی راستے، اور کئی چہرے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور کچھ سوالات خاموشی کے پردوں میں دبے رہتے ہیں۔زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں ایک نہ ایک بار ایسے سوالات کے سامنے ضرور کھڑا ہوتا ہے جن کے جواب آسان نہیں ہوتے۔ اور جب ان کے جوابات ملتے ہیں، تو یا تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے یا ہم خود بدل چکے ہوتے ہیں۔

    کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی
    کون دشمن ہے، کسے دوست سمجھنا ہے یہاں
    ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

    یہ اشعار سادہ الفاظ میں ایک پیچیدہ حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کا یہ کرب صرف اس کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کی آواز ہے۔ ہر وہ شخص جو زندگی میں دھوکہ کھا چکا ہو، جو رشتوں کی پہچان میں غلطی کر چکا ہو، اس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔یہ اشعار صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک پوری کہانی کا نچوڑ ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں دھوکہ، بھروسہ، حقیقت اور فریب سب شامل ہیں۔زندگی ہمیں بچپن میں سیدھی لگتی ہے، لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، سوالات پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ ’’کیا یہ شخص میرا خیرخواہ ہے؟‘‘ ’’کیا جس پر بھروسہ کیا، وہی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپے گا؟‘‘انسانی فطرت بڑی پیچیدہ ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کا ایک چہرہ دوسروں کو دکھاتا ہے، اور دوسرا چہرہ چھپائے رکھتا ہے۔ بسا اوقات دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے آ کر مخالفت کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ساتھ چلتا ہے، دعائیں دیتا ہے، مگر دل میں نفرت لیے ہوتا ہے۔ انسانی رشتے سب سے زیادہ دھوکہ دے سکتے ہیں۔ بسا اوقات جو مسکرا کر ملتا ہے، وہی اندر ہی اندر جلن ،حسد رکھتا ہے۔ اور جو سخت بولتا ہے، وہی اصل میں خیرخواہ ہوتا ہے۔

    انسان سیکھتا ہے، مگر سیکھنے کے لیے قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کبھی عزت کی صورت میں، کبھی اعتماد کی، کبھی جذبات کی۔ حالات ہمیں گراتے ہیں، توڑتے ہیں، مگر پھر جوڑتے بھی ہیں۔ اور یہی زندگی ہے،جب ہم حالات سے سیکھتے ہیں، تو ہم صرف ہوشیار نہیں ہوتے، بلکہ حقیقت پسند بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم جذباتی نہیں، عقلمند بن جاتے ہیں۔ اور اس سیکھنے کا لمحہ چاہے جتنا بھی تکلیف دہ ہو، ہماری شخصیت میں وہ پختگی لے آتا ہے جو برسوں کے مطالعے سے بھی نہیں آتی۔

    دوستی کی پہچان وقت کرتا ہے۔ وہ وقت جو کٹھن ہو، جو آزمائشوں سے بھرپور ہو۔ کیونکہ آسان وقت میں سب ساتھ ہوتے ہیں، مگر جب حالات خراب ہوں، تب ہی اصلی چہرے سامنے آتے ہیں۔کئی بار ہم خود کو صحیح سمجھتے ہیں، مگر حالات ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں، مگر اصل علم تب آتا ہے جب ہم آزمائش سے گزرتے ہیں۔یہ ایک احساس ہے، پچھتاوے کا، سبق کا، سچ کا۔ لیکن یہی دیر، ہمیں نیا انسان بناتی ہے۔ ہمیں اندر سے مضبوط کرتی ہے۔

    زندگی میں سیکھنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور کبھی کبھی سیکھنے میں دیر ہو بھی جائے، تو کوئی بات نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم نے سیکھا۔ چاہے تکلیف کے ذریعے، چاہے دھوکہ کھا کر، چاہے تنہائی میں جا کر۔ مگر اس سب کے باوجود، سیکھنا، آگے بڑھنا اور خود کو بہتر بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔

  • معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی دینا ایک خوبصورت عمل ہے۔ یہ دل کی وسعت، ظرف کی بلندی اور انسان کی انسانیت کا ثبوت ہے۔ مگر ہر خوبی تبھی خوبصورت رہتی ہے جب وہ اپنی حدود میں ہو۔ اندھا دھند معاف کرتے جانا، خود کو بار بار تکلیف میں جھونک دینا، اور زہر گھولنے والوں کو بار بار پینے دینا ، یہ بخشش نہیں، بے خبری ہے۔

    ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے،”معاف کر دینا بہتر ہے، جو اللہ معاف کرتا ہے، بندہ کیوں نہ کرے؟”بیشک یہ بات سچ ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ بھی وہی گناہ معاف کرتا ہے جن پر سچی توبہ ہو، ندامت ہو، اور آئندہ نہ دہرانے کا پکا ارادہ ہو۔ تو کیا ہم انسان یہ حق نہیں رکھتے کہ یہ دیکھیں کہ معافی مانگنے والے کی نیت کیا ہے؟ کیا وہ واقعی شرمندہ ہے یا صرف حالات نے اُسے مجبور کیا ہے؟دنیا میں ہر دکھ کے بعد سکون آتا ہے، ہر اندھیرے کے بعد اجالا۔ لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو صرف وقت سے نہیں، بلکہ فاصلوں سے بھرے جاتے ہیں۔جس نے نہ صرف ایک بار، بلکہ بار بار آپ کے جذبات کو مجروح کیا۔ جس نے آپ کے احساسات کے ساتھ کھیلا اور جان بوجھ کر آپ کو توڑا۔ ایسے شخص کے "معاف کر دو” کہنے پر دل نرم نہ کریں۔

    جب آپ نے اخلاص سے رشتہ نبھایا، جب آپ نے ہر قدم پر ساتھ دیا، اور بدلے میں تحقیر، بدگمانی اور طنز ملا ، تو یہ محبت کا مذاق ہے۔ اور مذاق اُڑانے والے کو کبھی عزت کے ساتھ واپس نہیں لایا جاتا۔جب کسی کا برتاؤ آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرے کہ اب آپ ہر سچے جذبے پر شک کرنے لگیں، ہر مسکراہٹ میں مطلب ڈھونڈیں، اور ہر خلوص کو فریب سمجھنے لگیں ، تو یہ صرف ایک رشتہ نہیں، ایک شخصیت کی تباہی ہے۔ اس تباہی کا سبب بننے والے کو معاف کرنا اپنے آپ سے بے وفائی ہے۔یقین وہ بنیاد ہے جس پر ہر رشتہ قائم ہوتا ہے۔ ایک بار اگر یہ بنیاد ہل جائے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے۔ جو شخص آپ کا یقین توڑتا ہے، وہ صرف بھروسہ نہیں توڑتا بلکہ آپ کے اندر ایک گہرا خلا پیدا کرتا ہے۔ ایسے خلا کو بھرنے کے لیے مہینے، سال، اور بعض اوقات پوری زندگی لگ جاتی ہے۔

    معافی ایک نعمت ہے، مگر جب یقین ٹوٹ جائے، تو وہ صرف ایک لفظ بن جاتی ہے، بے معنی، خالی، اور کھوکھلا، "ایسے لوگوں کو جانے دیں جو اپنی آسانی اور ضرورت کے حساب سے آپ کو ضروری سمجھیں۔”یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو تب چاہتے ہیں جب ان کو اکیلا محسوس ہوتا ہے، جب ان کے کام رک جاتے ہیں، یا جب دنیا ان کی طرف نہیں دیکھتی۔ یہ تعلقات نہیں ہوتے، بلکہ وقتی سہارا ہوتے ہیں۔ اور انسان کوئی کرسی نہیں جو بس سہارا دے ،انسان ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے،

    پہلا قدم یہ ہے کہ خود کو معاف کریں ، اس لمحے کے لیے جب آپ نے خود سے زیادہ کسی اور کو اہم جانا۔ جب آپ نے اپنی قدر گھٹا کر کسی کو اوپر رکھا۔ جب آپ نے آنکھیں بند کر کے کسی پر بھروسہ کیا۔زندگی ایک استاد ہے۔ وہ سبق سکھاتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تلخ ہو جائیں، یا ہر کسی سے بدگمان۔ ہر کوئی برا نہیں ہوتا ، بس اب آپ جانتے ہیں کہ اچھے اور برے میں فرق کیسے کرنا ہے۔معذرت ایک خوبصورت عمل ہے، مگر صرف تب، جب دل سے ہو۔ ورنہ وہ ایک بہانہ بن جاتی ہے، واپس آنے کا، پھر تکلیف دینے کا،اپنے دل، اپنے سکون، اور اپنی خودی کی حفاظت کریں۔ اور یاد رکھیں ،”وہی لوگ معاف کیے جانے کے لائق ہوتے ہیں جو آپ کو کبھی تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے۔”

    noor fatima

  • رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں بے شمار لوگ آتے ہیں، کچھ لمحوں کے لیے، کچھ سکھ ،تکلیف،دینے کے لیے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے۔ مگر اُن سب میں سے "کسی کو چُننا” یہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک چہرے، ایک آواز، یا کسی مسکراہٹ کو چُننا نہیں ہوتا۔یہ دراصل ایک مکمل انسان کو، اُس کی مکمل ذات کے ساتھ اپنانے کا عمل ہے۔ اور یہی بات تعلقات کی اصل روح ہے۔جب ہم کسی کو چُنتے ہیں تو ہم اُس کی پسندیدہ عادتوں، اُس کی مسکراہٹ، اُس کے اندازِ گفتگو، اور اُس کی موجودگی سے ملنے والی خوشی کو اپناتے ہیں۔مگر اصل چناؤ تب ہوتا ہے جب ہم اُس کی ناپسندیدہ باتوں، اُس کی چپ، اُس کے ماضی کے زخموں، اور اُس کی کمزوریوں کو بھی اُسی اپنائیت سے قبول کرتے ہیں۔قبولیت صرف خوبصورت پہلوؤں کی نہیں ہوتی، بلکہ ہر اُس ٹوٹ پھوٹ، ہر اُس تلخی، ہر اُس کمزوری کی ہوتی ہے جو ایک انسان کو مکمل بناتی ہے۔

    اکثر رشتے اِس غلط فہمی میں قائم ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان ہمیشہ خوش رہے گا، ہمیشہ محبت دے گا، اور کبھی نہیں بدلے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اندرونی جنگ چل رہی ہوتی ہے، وہ کبھی ہار رہا ہوتا ہے، کبھی تھک جاتا ہے، کبھی خود سے بھی بات نہیں کر پاتا۔وہ لمحے جب وہ چپ ہو جاتا ہے، جب اُس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوتی ہے، جب وہ خود سے دور ہو جاتا ہے ، یہی اصل وقت ہوتا ہے اُسے اپنانے کا، اُسے سمجھنے کا، اور اُس کا ساتھ دینے کا۔

    ہم اکثر رشتوں کو خوشیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن سچا رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں آنسو بھی قبول کیے جاتے ہیں۔
    جہاں صرف "میں تمہارے ساتھ ہوں” کہنا کافی نہیں، بلکہ ساتھ بیٹھ کر، خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام کر، اُس کے دُکھ میں شریک ہونا ضروری ہوتا ہے۔کسی کی تکلیف میں اُس کے قریب ہونا، صرف لفظوں سے نہیں، احساسات سے اُسے تھپکی دینا یہی” محبت "ہے۔جب ہم کسی کو اپناتے ہیں، تو اُس کے ماضی کو بھی اپناتے ہیں۔ اُس کے پرانے زخم، اُس کی تلخیاں، اُس کی کہانیاں ، یہ سب اُس کی موجودہ ذات کو تشکیل دیتے ہیں۔
    اگر ہم کسی کے ماضی کو رد کر دیتے ہیں، تو ہم اُس کی مکمل شناخت کو مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔رشتے میں اعتماد تب قائم ہوتا ہے جب ہم ماضی کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ کہ اُس پر طعنہ دیتے ہیں۔

    محبت اور تعلق صرف ایک جذباتی بندھن نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے۔جب دو لوگ ایک دوسرے کی تکلیفیں، کمزوریاں، خوشیاں، اداسیاں سب کچھ بانٹتے ہیں تو وہ ایک ایسا رشتہ بناتے ہیں جسے وقت، فاصلہ، یا حالات بھی کمزور نہیں کر سکتے۔ایسے رشتے میں "میں” اور "تم” ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف "ہم” باقی رہ جاتا ہے۔کسی کو چننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ایک کامل شخص چُنا ہے۔بلکہ آپ نے ایک ایسا شخص چُنا ہے جس کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ، اور آپ نے اُسے ہر صورت میں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔محبت صرف یہ نہیں کہ آپ اُس کے ساتھ اچھے وقت گزاریں، بلکہ یہ کہ آپ اُس کے برے وقت میں بھی اُسی شدت سے اُس کے ساتھ رہیں۔اسی میں اصل انسانیت، اصل رشتہ، اور اصل محبت چھپی ہے۔

    noor fatima

  • جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    یہ ایک دلچسپ اور پیچیدہ سوال ہے جو صنفی مساوات اور تاریخ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مختلف ادوار میں بحث کی گئی ہے، اور آج بھی یہ مسئلہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو کتنی آزادی اور خودمختاری نہیں ملتی۔

    جیبیں مردوں کے لباس میں 1550 کی دہائی میں ظاہر ہوئیں، جب مردوں کے پینٹ میں ڈرا اسٹرنگ بیگ شامل کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے مرد و خواتین دونوں ہی اپنے سامان کو آزادانہ طور پر رکھتے تھے، لیکن جیسے جیسے مردوں کے ملبوسات میں تفصیل آئی، جیبیں بھی ان کا حصہ بن گئیں۔ اس کے برعکس خواتین کا لباس اس وقت تک جیبوں سے خالی رہا۔ خواتین اپنی چیزیں رکھنے کے لیے بیلٹ یا کمر کے ساتھ لٹکتی بیگز استعمال کرتی تھیں۔جب خواتین نے 18ویں اور 19ویں صدی کے دوران مزید آزادی حاصل کی اور اپنے لباس میں تبدیلیاں کیں، تو اس وقت خواتین کے لباس میں جیبیں شامل کرنا ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اس دوران بھی جیبوں کا ڈیزائن مردوں کی جیبوں سے مختلف تھا۔ خواتین کے لیے جیبیں اکثر اسکرٹس کے اندر ایک چھوٹے سے تھیلے کی شکل میں ہوتی تھیں، یا پھر ان جیبوں کو ٹائی کر کے رکھا جاتا تھا، جو کہ ہمیشہ کھلنے کا خطرہ رکھتے تھے۔19ویں صدی کے آخر میں، جب خواتین کے لباس میں کچھ بہتری آئی، تو جیبوں کا ڈیزائن بدل کر بیک بسل (پچھلے حصے) میں رکھا گیا تھا، جس سے خواتین کو اپنی چیزیں تلاش کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اس کے بعد، 20ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے لیے جیبیں تیار کرنا ایک حقیقت بننے لگا، خاص طور پر خواتین کے فوجی لباس میں، لیکن ان جیبوں کی حقیقت ہمیشہ شکوک و شبہات کے ساتھ جڑی رہی۔

    پہلی جنگ عظیم کے دوران جب خواتین نے صنعتوں میں کام کرنا شروع کیا اور فوج میں خدمات انجام دیں، تب انہوں نے زیادہ عملی لباس کی ضرورت محسوس کی۔ اس دور میں خواتین نے مردوں کی طرح جیبوں والی جیکٹیں، ٹراوزرز اور دیگر عملی لباس اختیار کیے۔ لیکن اس کے باوجود، ان جیبوں کی تعداد اور سائز میں ہمیشہ کمی رہی۔ مثال کے طور پر، 1940 میں خواتین کے فوجی یونیفارم میں جیبوں کی جگہ محض جعلی جیبیں رکھی گئی تھیں تاکہ یہ ظاہری طور پر مردوں کے لباس کے جیسے دکھائی دیں، لیکن حقیقت میں ان جیبوں میں کچھ بھی رکھنے کا امکان نہیں تھا۔20ویں صدی کے دوران، خاص طور پر 1960 کی دہائی میں، دوسری لہر کی نسوانی تحریک نے خواتین کے لباس میں جیبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس تحریک کے دوران، خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات اور ان کے لباس میں عملی جگہ بنانے کی بھی بات کی گئی۔ خواتین کی جیبوں کا فقدان اس وقت ایک نکتہ چینی کا موضوع بنا، اور کئی خواتین نے اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا استعمال کیا، جس سے ان کے لباس کی عملیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

    women
    آج بھی خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک مسئلہ ہے۔ اکثر خواتین کے لباس میں جیبوں کا سائز چھوٹا ہوتا ہے، یا پھر ان جیبوں کی جگہ محض غیر فعال فلیپ ہوتے ہیں۔ 2018 میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ مردوں کے جینز میں جیبوں کا سائز خواتین کے جینز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں خاص طور پر خواتین کے اسکننی جینز اور اسٹریٹ جینز کا ذکر کیا گیا، جن کی جیبیں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ ان میں ایک موبائل فون یا دیگر ضروری سامان رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ، فاسٹ فیشن کی صنعت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب لباس کے ڈیزائن میں جیبوں کا اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ اضافی خرچ اور محنت کا سبب بنتا ہے، جسے فیشن انڈسٹری اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے نظرانداز کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کا ایک اور سبب یہ ہے کہ فیشن ڈیزائنرز نے ہمیشہ خواتین کے جسمانی خطوط کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، اور جیبیں انہیں اس مقصد میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہیں۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کو صنفی عدم مساوات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کارلسن کے مطابق، جیبیں ہمیشہ مردوں کی خصوصیت رہی ہیں، اور یہ "مردانگی” کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ جیبیں ایک عملی اور خودمختار خصوصیت رہی ہیں، جو ہمیشہ مردوں کے لیے مخصوص کی گئی تھیں، جبکہ خواتین کو اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا محتاج بنایا گیا۔یہ مسئلہ صرف ملبوسات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم خودمختاری دی جاتی ہے۔ جیبیں اس حقیقت کی علامت بن گئی ہیں کہ مردوں کو ہمیشہ زیادہ عملی آزادی حاصل رہی ہے، جبکہ خواتین کو جمالیاتی اور سجاوٹی لباسوں میں محدود رکھا گیا ہے۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک تاریخی، ثقافتی اور صنفی مسئلہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔ یہ سوال صرف خواتین کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی مساوات کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جیبوں کی کمی خواتین کی آزادی اور خودمختاری کی کمی کی علامت بن چکی ہے۔ فیشن انڈسٹری اور ڈیزائنرز کے لیے یہ ایک اہم چیلنج ہے کہ وہ خواتین کے لباس میں جیبوں کو شامل کریں تاکہ خواتین کو مردوں کے مساوی آزادی اور خودمختاری حاصل ہو سکے۔

  • زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک مسلسل امتحان ہے، جہاں خوشیاں اور غم، کامیابیاں اور ناکامیاں، دونوں کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو ہر انسان کو مختلف مراحل سے گزار کر ایک خاص مقصد تک پہنچاتا ہے۔ زندگی کے بارے میں ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ دو دنوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک آپ کے حق میں ہوتا ہے اور دوسرا آپ کے خلاف۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا ہے۔ آپ کی دعائیں قبول ہو رہی ہوتی ہیں، ہر کام آسان لگ رہا ہوتا ہے اور دنیا کی تمام خوشیاں آپ کے قدم چوم رہی ہوتی ہیں۔ ایسے دنوں میں انسان کو خوشی ملتی ہے اور وہ ہر لمحہ کا لطف اٹھاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت ضروری بات یہ ہے کہ انسان کو کبھی بھی اپنے کامیاب دنوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔جب آپ کے حق میں سب کچھ ہو رہا ہو، تو آپ کو اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔ غرور انسان کو زمین پر لا کر اس کی حقیقت دکھا دیتا ہے۔ کامیاب دنوں میں بھی انسان کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کی رضا اور رحمت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب آپ کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی محنت ضائع ہو جاتی ہے، حالات آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں اور آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے دنوں میں انسان کو غم، مایوسی اور افسوس کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ جب آپ کے خلاف حالات ہوں، تو ان پر صبر کرو۔ یہ دن بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہم جو بھی حالات میں ہوں، اس پر صبر کریں کیونکہ یہ ہمارے ایمان اور قوت کا امتحان ہوتا ہے۔ جو دن آپ کے خلاف ہوں، وہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں، اور ان سے نکل کر ہی انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔

    شیطان انسان کو ہر لمحہ گمراہی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا پہلا حملہ انسان کی زبان پر ہوتا ہے۔ وہ انسان کو اللہ کے ذکر سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو اس کی روح سکون پاتی ہے اور وہ دنیا کی پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھے، تو شیطان اسے اپنے جال میں نہیں پھانس سکتا۔جب انسان اللہ کے ذکر سے دور ہو جاتا ہے، تو اس کا دل اور دماغ پریشان ہو جاتے ہیں، اور پھر جسمانی طور پر بھی انسان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی ہمارے دل کی سکونت اور شیطان کی شکست کا ذریعہ ہے۔

    زندگی کے دونوں دنوں میں ہمیں توازن قائم رکھنا چاہیے۔ جب ہم خوش ہوں تو غرور سے بچنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور جب حالات ہمارے خلاف ہوں تو صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ شیطان کی کوششوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں، کیونکہ ذکر اللہ کے ذریعے انسان کا دل سکون پاتا ہے اور شیطان کی تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔یاد رکھیں کہ زندگی کا مقصد صرف کامیابی یا خوشی حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس میں انسان کی شخصیت اور ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ ہر دن ایک نیا امتحان ہوتا ہے، اور ہمیں ان امتحانوں کا صبر اور شکر کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے۔