Baaghi TV

Category: خواتین

  • عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن فیملی سے منسوب ہوتا ہے جب سب گھر والے خاندان والے اکھٹے ہوتے ہیں ملکر کھانا کھاتے ہیں چہروں پر خوشی اور مسکراہٹیں ہوتی ہیں نئے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کی شاپنگ پر تبصرہ ہوتا ہے عیدی دی اور لی جاتی ہے پھر پلک جھپکتے ہی یہ دن اگلے سال دوبارہ آ نے کے لیے رخصت ہو جاتا ہے اور پھر عید کا دوسرا دن یعنی ٹرو اس وقت عید کے دن کی طرح خوشگوار ہوجاتا ہے جب دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جاے

    عید کے دوسرے دن شمیم عارف تسنیم جعفری میرے گھر تشریف لائیں مجھے بہت خوشی ہوئی عید کی رونق دوبالا ہوگئی ہم نے خوب باتیں کیں تسنیم صاحبہ کی نئی کتاب جو سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے شائع ہو چکی ہے انشاء اللہ یہ کتاب بھی ایوارڈ حاصل کرے گی تسنیم جعفری 25 سے زائد کتابوں کی مصنفہ اور پہلی سائنس فکشن رائیٹر ہیں ماشاءاللہ بہت سے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں نئی کتاب کی خوشی میں ہم نے کیک کاٹا .

    شمیم عارف صاحبہ کی بھی دو کتب پبلش ہونے کے لیے تیار ہیں وہ حج کے سفر نامہ سمیت دو کتابوں ،، ننھا سلطان ،، اور ،، ہم ابھی راہ گزر میں ہیں ،، کی مصنفہ ہیں ،، ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنی نظمیں سنائیں
    تسنیم اور شمیم آ پ کی آ مد کا بہت شکریہ ، بہت اچھا وقت گزرا اور تسنیم کو اہم موضوع پر نئی کتاب لکھنے پر مبارکباد ❤️
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ
    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ

  • عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے حقوق اور برابری کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف نظریات ہیں، اور یہ بحث ہمیشہ چلی آ رہی ہے کہ عورت کو مردوں کی طرح زندگی گزارنی چاہیے تاکہ وہ برابری کا حق حاصل کر سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کی برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کی طرح زندگی گزارے یا ان کی طرح طرزِ زندگی اپنائے۔ بلکہ عورت کی برابری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی مکمل شناخت کے ساتھ برابری کی سطح پر لے کر آئے۔

    عورت کو ایک الگ اور خاص شناخت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت، اس کی نفسیات اور اس کی قوتیں مردوں سے مختلف ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کم تر ہے یا اس کو مرد کے ساتھ موازنہ کرنا ضروری ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے آپ کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے اپنی جگہ بنانی چاہیے۔ اگر عورت مرد بننے کی کوشش کرے گی، تو وہ اپنی حقیقت کو مٹا دے گی اور اپنی شناخت کھو دے گی۔اگر عورت صرف اس لیے مردوں کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دے کہ وہ انہیں اپنے سے برتر سمجھتی ہے، تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ عورت کا مردوں کی پیروی کرنا نہ صرف اس کی اپنی شناخت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے اس کے اندر احساسِ کمتری بھی جنم لیتا ہے۔ عورت کی برابری اس میں ہے کہ وہ اپنی فطرت، اپنی صلاحیتوں اور اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے، نہ کہ مردوں کی پیروی کر کے۔

    یہ ضروری نہیں کہ اگر مرد سگریٹ پیتے ہیں تو عورت بھی ان کی تقلید کرے اور یہ سمجھے کہ اس طرح وہ برابری حاصل کر رہی ہے۔ برابری کا مطلب یہ نہیں کہ عورت بھی وہی کرے جو مرد کرتے ہیں۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دے، اور اس کا حق مردوں سے کم نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی فطری خصائص کے ساتھ بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔اگر کوئی عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ مردوں کی طرح پنٹ شرٹ پہنتی ہے تاکہ برابری کا احساس ہو، تو وہ اس بات کو نہیں سمجھ پا رہی کہ برابری طرزِ زندگی کی تقلید سے نہیں، بلکہ اپنے آپ کو تسلیم کرنے اور اپنی خصوصیات کو اہمیت دینے سے ملتی ہے۔ برابری کا مطلب اپنی جگہ پر پہنچنا ہے، نہ کہ مردوں کی طرح بننا۔برابری کا مفہوم یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح زندگی گزارے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو وہی مواقع اور حقوق ملیں جو مردوں کو ملتے ہیں، اور اس میں کوئی تفاوت نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ عورت اپنے طور پر، اپنی شناخت کے ساتھ، ہر میدان میں کامیاب ہو۔

    عورت کا مقام اس کی فطرت اور شخصیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور اس کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی برابری مردوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے آپ کے ساتھ ہے۔ جب عورت اپنے اندر کی طاقت کو پہچانے گی اور اپنی مکمل شناخت کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن ہو گی، تو وہ خود کو اور دوسروں کو یہ دکھا پائے گی کہ برابری صرف ایک ہی طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہے: وہ ہے اپنی حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی جگہ پر کامیاب ہونا۔

  • رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک دشمن وہ نہیں ہوتے جو سامنے سے وار کرتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوستوں، رشتہ داروں یا خیرخواہوں کا چہرہ لے کر ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی غداریوں سے زیادہ تباہ ہوئیں۔ یہی اصول ہماری ذاتی زندگیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔باہر کے لوگ جب مخالفت کرتے ہیں تو کم از کم ہمیں اس کا علم ہوتا ہے، ہم دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے وار کرتے ہیں، ان کی چالاکیاں دیر سے سامنے آتی ہیں، اور تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی نفرت، ان کے خیرخواہی بھرے الفاظ کے پیچھے چھپا حسد، اور ان کی خاموشیوں میں چھپے راز،یہ سب ہمیں اندر سے توڑ دیتے ہیں۔

    جب کوئی قریبی شخص، جس پر ہم آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں، ہمیں دھوکہ دیتا ہے تو وہ صرف ایک دھوکہ نہیں ہوتا، بلکہ ہماری امید، اعتماد اور دل کو ایک ساتھ توڑ دیتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے راز دوسروں کو بتاتے ہیں، ہماری کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں، اور بظاہر ہماری خوشیوں میں شریک ہو کر اندر سے ان کی جڑیں کاٹتے ہیں۔زندگی میں ہر رشتہ آزمانا چاہیے، لیکن اندھا اعتماد نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کی پہچان ان کے عمل سے کریں، نہ کہ صرف ان کی باتوں سے۔ جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کا دفاع کریں، وہی آپ کے اصل خیرخواہ ہیں۔

    سچے رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں خلوص، سچائی اور وفاداری ہو۔ نہ کہ وہ رشتے جو صرف دکھاوے کے لیے ہوں، جہاں مسکراہٹ تو ہو لیکن دل میں کینہ ہو، جہاں بظاہر ساتھ ہو لیکن نیت میں دشمنی ہو۔ ایسے رشتوں کو وقت کے ساتھ پرکھیں، اور دل کی آنکھوں سے دیکھیں۔زندگی میں اندرونی غداروں سے بچنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ خود کو مضبوط بنائیں، اپنی ذات پر یقین رکھیں، اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو آپ کے اندر کا سکون برباد نہیں کرتے بلکہ اس کو اور سنوارنے میں مدد دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، سچائی اور خلوص ہمیشہ دیرپا ہوتے ہیں، باقی سب وقتی چمک ہے۔

  • پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادب کی دنیا میں ادبی فن پارے کو پرکھنے والا پارکھ کہلاتا یے، اور ادبی تخلیقات کو سنوارنے کا کام نقاد کے ذمہ ہوتا یے۔
    یہ پارکھ، یہ مبصر اور یہ نقاد سب ادب کی دنیا میں بھلے لگتے ہیں۔ حقیقی دنیا میں کسی کو بھی ایسے نقاد اور پارکھ کی حاجت نہیں ہوتی، جو تحقیق کے بغیر تنقید کرے یا کچھ بھی جانے بغیر آپ کے بارے میں رائے قائم کرے۔
    اس دُنیا میں انواع و اقسام کے نفوس موجود ہیں۔
    کسی کے والدین کیسے ہیں ؟
    آپ اس بات سے ناواقف ہیں۔
    کسی کے بہن بھائی کا رویہ کیسا ہے؟
    آپ اس بات سے بے بہرہ ہیں۔
    کسی کے خاندان والے کیسے ہیں؟
    آپ کو اس بات کاذرا علم نہیں۔
    جب تک یہ تمام باتیں آپ کو نہیں معلوم ، خدا کے لیے کسی کو غلط نہ کہیں۔
    یہ بگڑا ہوا، منفی اور عجیب وغیرہ وغیرہ۔۔۔
    کیا پتا ان کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں اپنے بچوں سے زیادہ دنیا کے بچے عزیز ہوں؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچّوں کی کامرانی پر جشن منانا نہیں آتا ہو ؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچے سدا کے نالائق لگتے ہو ؟
    اور کیا پتا کسی کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں کچھ سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہ ہو وہ اپنے اپنے دائروں میں گردش کر رہے ہو، اور زندگی کو سمجھنے کی بجائے بس کھانے، پینے اور سونے تک اپنی زندگی محدود کر رکھی ہو۔
    زندگی میں موڑ کیا ہوتے ہیں ؟ اور فیصلے کس بلا کا نام ہے وہ ان تمام باتوں سے بے بہرہ ہو۔
    اور ایسے ہی والدین کے بچے جب اپنے بل بوتے پر مسلسل تگ و دو کے بعد کچھ حاصل کرتے ہیں، تو دنیا والدین کے سر پر تاج سجا دیتی یے۔

    ہر کسی کے والدین ساتھ کھڑے ہونے والے، اور ہمت بڑھانے والے نہیں ہوتے، یہ دنیا ہے اور یہاں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ تو لہذا لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں، آپ کے پاس اچھے لوگ موجود ہیں تو یہ نہ سمجھیں سب کے پاس حوصلے بلند کرنے والے والدین موجود ہوں گے، یہ اپنے پاس کہیں لکھ کر رکھ لیجیے کہ اسی دنیا میں کچھ لوگوں کے پاس والدین محض حوصلے پست کرنے والے ہوتے ہیں، اور ایسے ہی بچے ہوتے ہیں، جن کی کامیابی دنیا میں امر ہوجاتی یے، ورنہ وہی دہرائی ہوتی یے۔ کچھ کو اچھے ماحول کے سبب کامیابی مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کا سفارش سے کام بن جاتا یے۔ مگر خدا سے بڑا منصف اور کون ہوسکتا ہے بھلا ؟
    اس جہانِ تگ و دو میں کس نے کتنی اور کس حد تگ و دو کی ہے، یہ صرف اللّٰہ کے علم میں ہے۔
    اور کیا کوئی اللّٰہ کے مقابل آسکتا ہے ؟

  • سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    عالمی یومِ خواتین پر ہمیں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے ادب کے شعبے میں ” سوچ عورت ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے لیے ہم خدا، والدین، شوہر، بچوں اور آپ سب کے شکر گزار ہیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا بے حد شکریہ۔

    جب ہم نے لکھنا آغاز کیا تو بس ایک آگ تھی جو خود بخود کاغذ پر الفاظ کی صورت اختیار کیا کرتی تھی۔ جب ادراک ہوا کہ ہم لکھ رہے ہیں تو بس ایک دھن تھی کہ اس دنیا کو خوب صورت دیکھنے کا ہمارا خواب پورا ہو جائے۔ جب احساس ہوا کہ لوگ ہمیں پڑھ رہے ہیں تو خوشی کے بجائے فکر لاحق ہوئی کہ لکھنا تو بڑی ذمہ داری کا کام ہے کیوں کہ اب یہ ذاتی معاملہ نہیں رہا۔

    ہمیں خوشی ہے تو اس بات کی کہ ہم نے دنیا کو اپنی نظروں سے دیکھا، اپنے دل سے محسوس کیا، اپنے ذہن سے سوچا اور جو درست سمجھا وہی لکھا۔ ہم نے اپنی تحریر میں فکری پر مائیگی، مطالعاتی بصیرت اور مشاہدے کی گہرائی وغیرہ کا دعویٰ کبھی نہیں کیا تاہم تمام تر انکسار کے باوجود یہ اصرار ہم نے ہمیشہ کیا ہے کہ جذبات و احساسات اور خیالات کی سچائی اور سنجیدگی کو ہم نے ہمیشہ فن کی بنیاد جانا ہے۔ ہماری سوچ لوگوں کو شعور، ہمت، طاقت اور مسرت دے رہی ہے یہ احساس ہمارے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

    ہم نے شہرت کی کبھی نہ خواہش کی، نہ کوشش اس لیے اس کی قیمت بھی نہیں چکانی پڑی لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھنے، اپنے دل سے محسوس کرنے، اپنے ذہن سے سوچنے اور حق بات کہنے اور لکھنے کی قیمت ابتدا سے چکائی اور آج تک چکاتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اس پر کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں بلکہ گہری طمانیت ہے۔
    آپ سب کا بے حد شکریہ کہ آپ ہمیں پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ اگر کوئی ناپسند کرتا ہے تو اس کا بھی شکریہ کہ توجہ تو اس کی بھی ہماری تحریر پر ہے۔

    اور ہاں! یہ ایوارڈ کی جو جگہ جگہ تصاویر ہیں یہ اس مرد کی خوشی کا شاخسانہ ہیں جس نے ہمیں عورت ہونے کا احترام دیا۔ ہمیں انسان سمجھتے ہوئے پوری جگہ دی اور ہمارے وجود کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس وجود کو مقدم جانا۔ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کسی بھی کامیاب عورت کے پیچھے صرف مرد کا نہیں بلکہ ہمیشہ بھرے پرے مرد کا ہاتھ ہوتا ہے جو اس عورت کی کامیابی سے خائف نہیں ہوتا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنا وزن رکھتا ہے، وہ کسی صورت اس عورت سے کم نہیں ہو جائے گا

  • خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان
    پاکستان سمیت دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس دن کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی معاشرتی حیثیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں مختلف تقاریب، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات چیت کی گئی اور ان کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ تاہم، اس دن کے بعد جو افسوسناک واقعہ سامنے آیا، وہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور تشدد کے حوالے سے ابھی بھی ایک بڑی خاموشی اور لاپرواہی کا عالم ہے۔

    8 مارچ کے بعد، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایف 9 پارک کے قریب ایک معروف فوڈ چین کے باہر ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان خواتین کو سڑک پر زدوکوب کر رہا ہے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا.اس ویڈیو نے پورے ملک میں ایک ہلچل مچائی اور خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک نئے سوالات اٹھا دیے۔ویڈیو میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف خواتین کے ساتھ تشدد کا ہے بلکہ اس میں ان کی بے بسی اور بدترین صورت حال بھی سامنے آتی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور ایف آئی آر کے مطابق، مرکزی ملزم جمال نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 23 فروری کی رات خواتین کو مارا پیٹا اور ان سے 10 تولہ زیورات اور 20 لاکھ روپے نقد چھین لیے۔

    پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم جمال کو گرفتار کیا، لیکن اس کے بعد ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ 10 مارچ کو یہ انکشاف ہوا کہ ملزم جمال اور متاثرہ خواتین کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔ خواتین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سب محض ایک غلط فہمی تھی اور اس وجہ سے وہ یہ مقدمہ واپس لے رہی ہیں۔ خواتین نے عدالت میں یہ کہا کہ اگر جمال کو ضمانت ملتی ہے یا وہ بری ہو جاتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم جمال نامی شخص کو گرفتارتو کر لیالیکن ایسے لگتا ہے کہ ملزم کے ہاتھ لمبے تھے، اندراج مقدمہ کے بعد تشدد کا شکار خواتین نے ملزم کے ساتھ صلح کر لی اور عدالت میں بیان دے دیا کہ غلط فہمی ہوئی…ابے غلط فہمی کس چیز کی…ویڈیو سامنے آئی…تشدد ہوا..سر عام ہوا..مقدمہ درج ہوا…پھر غلط فہمی کس بات کی….یہی چلتا ہے پاکستانی معاشرے میں..ملزم کو ضمانت ملے گی کل وہ کسی اور کو تشدد کا نشانہ بنائے گا پھر آوازیں اٹھیں گی ہائے خواتین پر تشدد..لیکن یہ جو خواتین تشدد کے بعد بھی صلح کر رہی…اب نام نہاد خواتین کے حقوق کی دعویدار تنظیموں کے منہ کو تالے کیوں لگ گئے، آئیں سامنے اور کہیں کہ ہم مدعی بنیں گی لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کریں گی.

    یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرتی نظام میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے نہ صرف قانونی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ان کا اعتماد بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی آواز بلند کرسکیں اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ پاکستان میں خواتین کو تحفظ چاہیے تو انہیں اپنے حقوق کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔ مار کھا کر صلح کر لینا، مجرم کو مزید شہہ دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کسی عورت کو ظلم کا سامنا ہو اور وہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائے تو یہ ظلم بڑھتا ہی چلا جائے گا۔کل کو اگر ان خواتین کو کہیں اور سے تشدد کا سامنا ہوا تو اس کی ذمہ داری ان خود ہی ہوگی جنہوں نے اپنی خاموشی سے مجرم کو مزید حوصلہ دیا۔ ہمیں اس بات کا شعور حاصل کرنا ہوگا کہ حقوق کا تحفظ صرف اس صورت ممکن ہے جب ہم ان کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں اور معاشرتی بدعنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت، ادارے، اور خواتین کی خود کی کوششیں اہم ہیں۔ ہمیں خواتین کے ساتھ ہمدردی اور احترام کے ساتھ پیش آنا ہوگا، تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ سکیں اور معاشرتی سطح پر اپنی مقام بنا سکیں۔ جب تک ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، تب تک خواتین کو ان کے حقوق نہیں مل پائیں گے اور اس طرح کے افسوسناک واقعات ہمیشہ ہمارے معاشرے کا حصہ بنے رہیں گے۔

  • حضرت خدیجہ طاہرہ کی عظمت.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حضرت خدیجہ طاہرہ کی عظمت.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری حسن و خوبصورتی کے بارے میں جب بھی زکر ہوتا ہے توکہا جاتا ہے وہ حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ حسین وجمیل تھے بہت اچھی شخصیت کے مالک تھے یہی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب 25 سال کی عمر میں عین عالم شباب میں جب دولہا بنے ہونگے تو کیا عالم ہوگا ،جب حضور کے پیارے چچا حضرت ابو طالب نکاحِ پڑھا رہے ہونگے آور حضور کی اولین شادی کا منظر کتنا خوبصورت ہوگا کتنی مقدس محفل ہوگی دولہا دلہن پر کتنا روپ اور نور ہوگا..

    رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی شادی خدیجہ طاہرہ سے ہوئی جن کا قبل اسلام زمانہ جہالت میں بھی لقب طاہرہ تھا ، وہ طاہرہ یعنی پاکیزہ ہستی کی قدر و منزلت یہ تھی کہ وہ 25 سال اپنے عالی مرتبت شوہر کی ہمراہی میں رہیں اور رسول اللہ نے دوسری شادی نہیں کی ان کا دوسرا اہم اعزاز یہ تھا کہ رسول اللہ کی اولاد انہی سے ہوئی اور یہ خاتون جنت فاطمہ زاہرا سیدۃ النساء العلمین کی والدہ ماجدہ بنیں..

    اسلام کی پہلی خاتون اول جو ورکنگ لیڈی تھیں ایک کامیاب بزنس وومن تھیں جب سمجھ گئیں کہ ان کے شوہر منجانب اللہ سچے پیغمبر ہیں تو پھر دل وجان سے ان کا ساتھ دیا اپنی دولت اسلام کی نشر واشاعت کے لیے خرچ کی ان کا اس حد تک ساتھ دیا کہ جب مکہ والوں نے بتوں کی عبادت سے منع کرنے پر محمد مصطفی کا سوشل بائیکاٹ کیا اور انہیں ایک تنگ گھاٹی شعیب ابی طالب میں محصور کردیا تو یہ اس وقت ان کے ساتھ محصور تھیں سب تکالیف برداشت کیں فاقے کئیے ، وفا داری کی اعلیٰ ترین مثال پیش کی

    اوائل اسلام کی تمام مشکلات میں پیغمبر کی پشت پناہ بنی رہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے زریعے ان کو سلام پہنچوایا جب رسول اللہ غارحرا میں عبادت میں مصروف تھے تو ان کے لیے کھانا لے کر پہنچی تھیں ، اس زمانے میں جب بڑے بڑے سردار حضور کے مخالف تھے سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا وہ ثابت قدم رہیں اپنے عالی مرتبت شوہر کا حوصلہ بڑھاتی رہیں ، ان کی زات مسلمان خواتین کے لیے رول ماڈل ہے بزنس کرنا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اور اپنا وقار قائم رکھنا یہ سب باہمت خواتین کر سکتی ہیں ،اعلان نبوت کے بعد جتنی بھی تکالیف اور مشکلات رسول خدا کو پیش آ ئیں ان سب میں وہ حضور کے ساتھ تھیں تبہی ان کی وفات کے سال کو انہوں نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا اس سال دو مخلص ترین ہستیوں سے جدائی ہوئی خدیجہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اور چچا حضرت ابو طالب علیہ السلام حضور جب تک زندہ رہے خدیجہ طاہرہ کو یاد کرتے رہے ان کی سہلیوں کی عزت کرتے انہیں قربانی کا گوشت بھجواتے اور برملا کہتے مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی ۔

    اتنے قدیم زمانہ میں بھی عورت نہ صرف بزنس کر سکتی تھی بلکہ شادی کے لیے قوت فیصلہ اور اختیار بھی رکھتی تھی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام تنگ نظری کا مذہب نہیں ہے بس اعلیٰ انسانی اقدار و اوصاف چاہتا ہے تاکہ انسان اچھے کردار اور وفا داری جیسے اعلٰی اوصاف سے مزین ہوں –

  • خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز تاریخ رقم کر رہی.تحریر: جان محمد رمضان

    خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز تاریخ رقم کر رہی.تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک طویل جدوجہد جاری ہے، جس میں نہ صرف قانون سازی بلکہ معاشرتی سطح پر آگاہی اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان کی معاشرت میں خواتین کو ہمیشہ سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے، مگر آج کی خواتین، خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جیسی باہمت اور توانا آواز رکھنے والے لیڈرز، اس جدوجہد کو ایک نیا موڑ دے رہی ہیں۔

    مریم نواز، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما ،وزیراعلیٰ پنجاباور سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے والد کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہیں بلکہ خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئی ہیں۔ وزارت اعلیٰ ملنے کے بعد مریم نواز کی شخصیت میں ایک نیا جوش، عزم اور حوصلہ ہے جو خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں اور ان کی آواز کو تقویت دیتی ہیں۔مریم نواز نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے حوالے سے اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی سیاسی اور سماجی تقریریں ہمیشہ خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی ترقی اور فلاح کیلیے سیاست میں موثر اور فعال کردار ادا کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرتی سطح پر برابری کی فضا قائم کی جا سکے۔پاکستان میں جہاں بہت سی خواتین کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی حاصل نہیں، مریم نواز ان کے حق میں کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ میں خواتین کے لیے زیادہ مواقع، تعلیم، صحت کی سہولتیں اور معاشرتی تحفظ شامل ہے۔ ان کی آواز نے نہ صرف سیاست کے میدان میں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔

    مریم نواز کا وژن ہمیشہ ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کا ہے، جس میں ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں، خاص طور پر خواتین کو۔ ان کا کہنا ہے کہ گڈ گورننس کی بنیاد عدلیہ، شفافیت، اور عوام کے ساتھ رابطے پر ہے۔ گڈ گورننس سے مراد وہ حکومتی پالیسیز ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، اور خواتین کی ترقی کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔مریم نواز کے مطابق، پاکستان میں خواتین کے لیے بہتر حکومت سازی کا عمل ہی ایک کامیاب پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے متعدد بار اپنے عوامی خطابوں میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا کام عوام کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرنا ہے اور عملی طور پر مریم نواز مسائل کو حل کر رہی ہیں۔ ان کا گڈ گورننس کا نظریہ اس بات پر مرکوز ہے کہ خواتین کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بھی معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

    پاکستان میں مریم نواز کی گڈ گورننس اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ ان کی رہنمائی میں مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور ان کی ترقی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مریم نواز کی سیاسی مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں نے انہیں دنیا بھر میں ایک معتبر شخصیت بنا دیا ہے۔پنجاب میں مریم نواز پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں تو مریم اورنگزیب سینئر وزیر پنجاب بھی خاتون ہیں، عظمیٰ بخاری سیکرٹری اطلاعات بھی ایک خاتون ہیں.مریم نواز کی آواز اور اقدامات نے پاکستانی خواتین کے اندر ایک نئی روح پھونکی ہے، اور وہ اس بات پر قائل ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگی کے فیصلے خود لے سکتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی اور گڈ گورننس کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے اور ان کے نظریات کو ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    مریم نواز کی سیاسی سفر میں خواتین کے حقوق اور گڈ گورننس کے اصولوں کا مرکزی کردار ہے۔ ان کی کوششوں سے نہ صرف خواتین کے حقوق کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی جا رہی ہے بلکہ پاکستان کی سیاست میں بھی ایک نئی سمت دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا کردار ایک رہنما کے طور پر ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا رہے گا اور دنیا بھر میں ان کی آواز سنائی دے گی۔پاکستان میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد اور ان کی ترقی کے لیے مریم نواز کا کردار بے مثال ہے اور وہ یقیناً ایک تاریخ رقم کر رہی ہیں جسے مستقبل میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • پیغمبر کی بیٹیاں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    پیغمبر کی بیٹیاں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی تحریر.
    قارئین آج جو تحریر جب آپ پڑھ رہے اب یہ چھپنے اور آپ کی نگاہوں میں آنے تک ہوسکتا ہے عورتوں کا عالمی دن 8 مارچ ہو، یا گزر چکا ہو یا ایک آدھا دن باقی ہو۔ آج تمہید موقوف، تاریخی حوالہ جات سے ابتدا۔ 1857 جب ایک جانب برصغیر میں جنگ آزادی (بغاوت ہند) کو پینتالیسواں دن تھا۔ تو وہیں 5 جولائی 1857 کو جرمنی کے شہر کونیگشین میں ایک لڑکی نے جنم لیا جو آگے چل کر عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جدوجہد سے معروف ہوئی۔
    جرمن مارکسی تھیوریسٹ، کمیونسٹ کارکن، اور خواتین کے حقوق کی وکیل کلارا زیٹیکن کے نام سے معروف اس عورت نے جرمنی میں سماجی جمہوری خواتین کی تحریک کو فروغ دینے میں مدد کی۔ 1891 سے 1917 تک، اس نے SPD خواتین کے اخبار ڈائی گلیچیٹ (مساوات) میں ترمیم کی۔ 1907 میں وہ SPD میں نئے قائم کردہ "خواتین کے دفتر” کی رہنما بن گئیں۔ اس نے خواتین کے عالمی دن (IWD) میں بھی حصہ ڈالا. 19 مارچ 1911 کو باقاعدہ پہلا عالمی دن برائے خواتین منایا گیا۔ 1913 میں اس کو انعقاد 8 مارچ ہو جو اب بھی ہر سال نہ صرف منایا جاتا ہے بلکہ اب تو منوایا جاتا ہے۔ میڈیا تک رسائی، گیٹ کیپکنگ ( میڈیا ٹرم معنی شائع یا نشر کرنے سے پہلے اخلاقی و قانونی پہلو کا خیال رکھنا) نددار سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا اور ریٹنگ کی دوڑ میں اندھا دھند دوڑتے میڈیا کی دانستہ بند آنکھوں نے عورتوں کے عالمی دن پر عورت مارچ کو اتنا اچھالا اور موضوع بنایا کہ اب یہ مذہبی ، لبرل اور درمیانے درجے کے ذہن رکھنے والوں میں ضد اور چڑ بن گیا۔ 2018 میں کراچی سے ایک این جی او ” ہم عورتیں” نے اس مارچ کا آغاز کیا تھا۔ تحریر کا رنگ اصل میں قاری کا مزاج تو پرکھتا ہی ہے لیکن لکھاری کو جس امتحان میں ڈالتا ہے وہ بھی عجیب ہے۔ بات کو سمجھانا بھی کے اور قارئین کے معیار، استعداد ذہنی و مذہبی رجحان بھی دیکھنے اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنا ایسا ہی ہے جیسے 100 گز کے 20 فٹ بلند رسے پر ہاتھ میں گیند پکڑ کر چلنا۔ سازش، عالمی ادارے، خواتین کی سمت کا غلط تعین اس طرف قلم چلے گا تو دلائل کی کمزور سڑک قلم کی افادیت کو ختم کر دے گی۔ بس تاریخ اور اعداد و شمار کی پکڈنڈی سے محفوظ راہ لیتے ہیں۔ قران کریم کی چوتھی سورۃ (النساء) میں وراثت کے جو اصول وضع ہیں۔ ان کے مطابق والد کی وراثت سے بیٹی کا حصہ دیکھیں ۔ترجمہ :اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے( کنزالعرفان) یہی بیٹی بیوی بنتی ہے تو خاوند کی جائیداد میں اللہ حصہ مقرر کر رہے ہیں” اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا۔ بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے۔اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہو) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں ، مگر اس کا بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے۔ النساء -12

    عورت کو بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں اللہ تعالیٰ نے جن حقوق سے نوازا ہے۔اس میں جائیداد کا حصہ کم کہنے والوں کو پہلے مطالعہ کرنا پھر بولنا چاہیے۔ مرد شادی کرتا ہے تو اپنی جائیداد میں بھی عورت کو حصہ دیتا ہے۔ بیٹی کا باپ اپنی جائیداد سے حصہ دیتا ہے اور بہن کا بھائی اگر بے اولاد ہو تو اس شخص کا ورثہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور وارثوں میں ایک بیوی اور باپ کی طرف سے ایک بھائی اور ایک بہن ہیں تو بیوی کو چوتھائی حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے اور پھر بچے ہوئے 75000 روپوں کے تین حصے ہوں گے۔ بھائی کو دو حصے یعنی 50000 اور بہن کو ایک حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے ۔ سڑکوں پر نکلنے والے لبرل مکتبہ فکر کو دعوتِ مطالعہ و تحقیق ہے ۔ بنتا تو مردوں کا احتجاج ہے جو ہر روپ میں عورت کو جائیداد میں شامل کر رہے صبح سے رات تک کام، گھر کے اخراجات پر اضافی محنت، ادھار لینے بیوی کے میکے تک میں مصروفیات کا وقت نکالنا۔ باہر کے حالات خود پر جھیل کر گھر کا ماحول خوشگوار رکھنا پھر یہ بھی سننا کہ اپنے موزے خود دھو لو، اپنا کھانا خود گرم کرو، میرا جسم میری مرضی۔ پہلی بات کہ موزہ ہو یا کچھ بھی گھر میں کام عورت اس لیے کرتی کہ وہ اس گھر کی مالکہ ہوتی مرد جب باہر حالات کے تھپیڑوں کی ذد میں ہوتا تو ایک بند مکان میں فکر معاش سے آزاد محفوظ خاتون کھانا بنانا، گھر کی دیکھ بھال نہیں کرے گی تو پورا دن کیا کرے گی؟ اب چونکہ تحریر کے دشت میں سیاحی کی دہائی مکمل کیے بیٹھے لہذا بھانپ لیتے کہ اعتراض ہونے نہیں لگا ہو چکا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کیوں گھر سنبھالیں؟ تو جواب شکوہ ملازمت میں ہم نے بھی اوائل 2011 سے کرایہ پر رہ کر حصول علم کے لیے سفر بھی کیا روز، پڑھا، نوکری کی گھر کا کام کپڑے دھونا وغیرہ سالن بنانے تک کیا دو تین دوست تھے مل کر سب کام مکمل لہذا ملازمت پیشہ خواتین کی اکثریت نے پہلے ہی ملازم بعوض تنخواہ رکھے ہوتے یا پھر مشترکہ خاندان میں رہنے سے کام کی تقسیم دوسروں میں ہو جاتی ایک مرد اور عورت کے الگ رہنے پر مرد اکثر کام میں مدد کرتے اور اس میں کوئی عار نہیں۔ جو بیوی ماں، باپ بہن بھائی چھوڑ کر خاوند کو سب کچھ مانے ہوئے اس کی دل جوئی اور ہر ممکن سہولت خاوند کی ذمہ داری ہے۔

    واپس عورت مارچ پر چلتے ہیں ان کے نعرے بہت دلفریب ہوتے لیکن عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق مانگنے والی خواتین سے احتراماً عرض ہے کہ ہم تو گاڑی میں بیٹھنے کی جگہ چھوڑ دیتے قطار میں خواتین کو آگے بھیج دیتے سر راہ کسی خاتون سے کوئی حادثہ یا غیرمعمولی صورتحال پر قریب موجود مرد سب سے پہلے اس کے سر اور جسم پے چادر ڈالتے۔ آپ نے مردوں کے برابر حقوق لے کر کیوں الٹا گئیر لگانا ہے۔ جب عورت کو دیکھ کر ہم مرد نگاہ جھکا لیتے بڑے سے بڑا تنازعہ ایک بیٹی بہن کے سامنے آنے پر حل ہوجاتا اور زندگی موت کا مسئلہ بنا کر کسی معاملے میں ایک دوسرے کی جان کے درپے فریقین بھی خواتین کی موجودگی میں انا پس پشت ڈال کر سر جھکا دیتے تو کیوں عورتوں کو عورت مارچ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی کسی ماں کے سفید بال کسی بہن کے آنسو اور پھیلا دوپٹا دیکھ کر کسی مقتول کے ورثا جب خود روتے ہوئے قاتل کو معاف کرتے اور عورت کا تقدس وہ کروا دیتا جو قابل سے قابل وکیل نہ کرسکا تو کیوں عورت مارچ کرنا۔

    فارسی کا ایک محاورہ ہے کہ( ترجمہ) بھرا ہو پیٹ فارسی بولتا ہے۔ بڑے شہروں کی بظاہر الٹرا ماڈرن اور مغرب کے فلسفے سے متاثر ایلیٹ کلاس کی ایک اقلیت کے پیچھے چلنے سے پہلے رکیں، سوچیں، پڑھیں، تحقیق کریں اکثر سانپ بھی خوشنما ہوتا اور نادان بچے چلتا انگارہ کھلونا سمجھ کر پکڑ لیتے۔
    اختتام پر ضروری اعلان۔ ریپ کیسز، مردوں کی جانب سے عورتوں پر تشدد اور دیگر تمام منفی حوالے میرے بھی ذہن میں ہیں اس تحریر پر اعتراض کرنے سے پہلے جو کچھ لکھا ہے اس پر دوبارہ سوچیں اگر تو وہ درست ہے تو یہ مسائل ہم نے ہی حل کرنے ہر ایک خود کو درست کر لے معاشرہ خود ہی درست اور اگر میری بات غلط ہے تو اصلاح کے لیے مرتے دم تک تیار۔۔۔۔۔
    خواتین کے تحفظ اور حقوق کی بلا رکاوٹ ادائیگی کے لیے ہر مثبت کام کی حوصلہ افزائی ضروری ہے لیکن عورت مارچ کے مخصوص نعروں اور پہلے سے طے مقاصد کے تحت عورت کو بے وقعت کرنا دیکھ کر خاموش رہنا جرم ہے

  • عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں

    عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں

    عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    8 مارچ خواتین کے حقوق کا عالمی دن ہے، جو دنیا بھر میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔ اس دن خواتین کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے اور ان کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کے خاتمے پر زور دیا جاتا ہے۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں مزدور تحریکوں سے شروع ہونے والا یہ دن 1975 میں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم کیا گیا اور اب دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، جہاں خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں اور صنفی مساوات کے حصول کے لیے جدوجہد کا عزم کرتی ہیں۔

    خواتین کے حقوق ہر مذہب اور معاشرت میں ایک اہم اور حساس موضوع رہا ہے۔ ہر مذہب نے خواتین کی حیثیت، ان کے حقوق اور فرائض کے متعلق مخصوص نظریات اور قوانین پیش کیے ہیں۔ بعض معاشروں میں خواتین کو مکمل برابری حاصل رہی، جبکہ کئی مذاہب میں انہیں مرد کے تابع رکھا گیا۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے، وہ نہ صرف اپنے وقت کے لحاظ سے انقلابی تھے بلکہ آج بھی خواتین کے تحفظ اور مساوات کے لیے ایک جامع ضابطہ فراہم کرتے ہیں۔ اس مضمون میں اسلام اور دیگر مذاہب میں خواتین کے حقوق کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ واضح ہو سکے کہ خواتین کو کہاں زیادہ تحفظ، عزت اور برابری حاصل ہوئی۔

    اسلام نے ساتویں صدی عیسوی میں خواتین کو وہ حقوق عطا کیے جو اس سے قبل کسی بھی سماج یا تہذیب میں نہیں دیے گئے تھے۔ اسلام سے پہلے خواتین کو نہ تو وراثت میں حصہ ملتا تھا اور نہ ہی انہیں سماجی برابری حاصل تھی۔ لیکن اسلام نے انہیں ایک مکمل انسان اور مرد کے برابر قرار دیا۔ تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا اور خواتین کو اس حق سے محروم نہیں رکھا گیا۔ حدیث مبارکہ میں واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” یہ تعلیم صرف دینی علم تک محدود نہیں بلکہ دنیاوی تعلیم بھی شامل ہے تاکہ خواتین اپنی ذاتی، سماجی اور معاشی زندگی بہتر بنا سکیں۔

    قبل از اسلام خواتین کو جائیداد رکھنے اور وراثت میں حصہ لینے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا لیکن اسلام نے اس غیر منصفانہ روایت کو ختم کر دیا۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ "مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔” (النساء:7)۔ یہ اصول دنیا کے کسی اور مذہب میں اس طرح نہیں پایا جاتا جہاں خواتین کو وراثت میں اتنا واضح اور یقینی حق دیا گیا ہو۔

    اسلام میں نکاح عورت کی مرضی کے بغیر جائز نہیں اور اسے خلع لینے کا بھی مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے مطمئن نہیں ہے تو اسے شرعی بنیادوں پر طلاق لینے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق عیسائیت اور ہندو مت میں بہت محدود رہا ہے، جہاں خواتین کو شوہر کی مرضی کے بغیر نکاح ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

    عیسائیت میں خواتین کو مذہبی قیادت کا مکمل اختیار نہیں دیا گیا۔ آج بھی کیتھولک چرچ میں خواتین کو پوپ یا کارڈینل بننے کی اجازت نہیں ہے، جبکہ اسلام میں حضرت عائشہؓ سمیت کئی خواتین نے مذہبی فتوے جاری کیے اور علمی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا.اسلام نے خواتین کی عزت اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات دیے ہیں۔ قرآن میں حکم دیا گیا کہ اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیا کریں، یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں(سورہ الاحزاب: 59) یہ حکم خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دیا گیا تاکہ وہ کسی بھی طرح کے استحصال اور ہراسانی سے محفوظ رہیں۔

    عیسائیت میں ابتدا میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل نہیں تھے بلکہ انہیں مرد کی خدمت گزار اور تابع تصور کیا جاتا تھا۔ بائبل میں بعض مقامات پر خواتین کو مرد سے کم درجے کا قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی عیسائی تعلیمات میں خواتین کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو اسلام میں دیا گیا۔ قرونِ وسطیٰ میں کیتھولک چرچ نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی اور انہیں جائیداد رکھنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ صرف نوبل خاندانوں کی خواتین کو بعض حقوق دیے گئے، لیکن عام عورت کے لیے تعلیم اور جائیداد کی ملکیت ایک خواب تھا جبکہ اسلام نے ان دونوں چیزوں کو لازمی قرار دیا۔

    عیسائیت میں عورت کو طلاق کا حق نہیں دیا گیا۔ اگر کوئی عورت ناپسندیدہ شادی میں پھنسی ہوئی ہو، تب بھی وہ اس رشتے کو ختم نہیں کر سکتی، جب تک کہ چرچ کی خصوصی اجازت حاصل نہ ہو، جو کہ بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں عورت کو خلع کا اختیار دیا گیا جو کہ اس کا بنیادی حق ہے۔

    ہندو مت میں خواتین کے حقوق صدیوں سے ایک پیچیدہ اور متنازعہ موضوع رہے ہیں۔ ہندو مت میں ایک طویل عرصے تک "ستی” کی رسم موجود رہی، جس میں بیوہ عورت کو شوہر کے مرنے کے بعد زبردستی اس کی چتا کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا۔ یہ رسم برطانوی دور میں ختم کی گئی، لیکن اسلام نے ابتدا ہی سے ایسی کسی بھی غیر انسانی رسم کی اجازت نہیں دی۔

    ہندو معاشرے میں خواتین کو وراثت کا مکمل حق حاصل نہیں تھا خاص طور پر بیٹیوں کو اکثر جائیداد سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اسلام نے خواتین کو وراثت میں مقررہ حصہ دیا، چاہے وہ بیٹی ہو، ماں ہو، بہن ہو یا بیوی۔ ہندو مت میں خواتین کے دوبارہ شادی کرنے پر سخت پابندیاں رہی ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ یا مطلقہ عورت کو دوبارہ شادی کرنے کی مکمل اجازت دی گئی ہے۔

    یہودیت میں بھی خواتین کو محدود حقوق دیے گئے ہیں۔ انہیں مذہبی عبادات میں مردوں کے برابر شرکت کی اجازت نہیں ہے اور وراثت میں ان کا حق بہت محدود ہے۔ اسی طرح بدھ مت میں خواتین کو نجات (نروان) حاصل کرنے کے لیے مردوں کے تابع رہنا پڑتا ہے جبکہ اسلام میں خواتین کو مساوی روحانی حقوق حاصل ہیں۔

    اسلام نے خواتین کو دنیا کے کسی بھی دوسرے مذہب سے کہیں زیادہ حقوق عطا کیے ہیں، جو کسی دوسرے مذہب میں موجود نہیں ہیں۔ اسلام سے پہلے، خواتین کو معاشرے میں کوئی خاص مقام حاصل نہیں تھالیکن اسلام نے انہیں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے عزت اور احترام کا مقام دیا۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم، وراثت، اور جائیداد میں حق دیا، اور انہیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق بھی دیا۔

    اس سب کے باوجود مغربی ذرائع ابلاغ اکثر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں غلط فہمی، ثقافتی اختلافات، سیاسی مقاصد اور میڈیا کا کردار شامل ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور خواتین کے حقوق کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کیے ہیں وہ کسی بھی دوسرے مذہب سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں ان حقوق کو نافذ کرنے اور خواتین کو معاشرے میں برابر کا مقام دلانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    مندرجہ بالا تقابلی جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے خواتین کو سب سے زیادہ عزت، حقوق اور تحفظ دیا۔ جہاں دیگر مذاہب میں خواتین کو محدود مواقع اور حقوق دیے گئے وہیں اسلام نے انہیں مکمل سماجی، معاشی، ازدواجی، تعلیمی اور قانونی حقوق عطا کیے۔ اسلام نے خواتین کی عزت کو لازم قرار دیا اور انہیں مساوی حقوق دیے جو آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔