Baaghi TV

Category: مذہب

  • شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر”  تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر” تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی (سندھی زبان کے شاعر) برصغیر کے عظیم صوفی شاعر تھے۔

    آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ولادت 1639 عیسوی۔ 1101 ہجری میں سندھ کے موجودہ ضلع مٹیاری کی تعلقہ ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ ہالا حویلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں تھا۔

    شاہ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب شاہ نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ اپنے اپنی محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبد اللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ آپ کی مرادبر آئے گی۔ میری خواہش ہے آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر شاہ عبداللطیف رکھیں۔

    خدا نے چاہا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہوگا۔

    سید حبیب شاہ کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا، درویش کی خواہش کے مطابق اس کا نام شاہ عبداللطیف رکھا گیا لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہوگیا۔ پھر اس ہی بیوی سے دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر شاہ عبداللطیف رکھا گیا، یہی لڑکا آگے چل کردرویش کی پیش گوئی کے مطابق واقعی یگانہ روزگار ہوا۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کے آباو اجداد سادات کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ امیر تیمور کے زمانے میں ہرات کے ایک بزرگ سید میر علی بہت سی خوبیوں کے ملک تھے۔ اور آپ کا شمار اس علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے تھا۔ 1398 801-2ھ میں جب امیر تیمور ہرات آیا، تو سید صاحب نے اس کی اس کے ساتھیوں کی بڑی خاطر تواضع کی، ساتھ ہی بڑی رقم بطور نظرانہ پیش کی، تیمور اس حسن سلوک سے متاثر ہوا۔ سید صاحب اور ان کے دو بیٹوں کو میر ابوبکر اور حیدر شاہ کو مصاحبین خاص میں شامل کرکے ہندوستان لے کر آیا۔

    یہاں آنے کے بعد میر ابوبکر کو سندھ علاقے سیوہن کا حاکم مقرر کیا، اور سید میر علی اور حیدر شاہ کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعد کو سید حیدر شاہ بھی اپنے والد بزرگوار اور تیمور کی اجازت سے گھومتے پھرتے مستقل طور پر سندھ میں اگئے۔ ہالا کے علاقے میں شاہ محمد زمیندار کے مہمان ہوئے۔ شاہ محمد نے آپ کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ درسم پر خلوص محبت میں بدل گئی۔ کچھ دنوں بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی آپ سے کردی، چونکہ آپ کی ماں کا نام بھی فاطمہ تھا۔ اس لیے شادی کے بعد اس نام کو سلطانہ سے بدل دیا گیا۔ سید حبیب شاہ قریب قریب تین تین سال تک ہالا میں رہے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ھرات ھئے جہاں تین چار تک رہنے کے بعد وفات پاگئے، کہتے ہیں جب سید صاحب ہرات روانہ ہوئے تو آپ کی اہلیہ حاملہ تھیں۔ انہوں نے چلتے چلتے یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بچہ پیدا ہوا تو لڑکا ہونے کی صورت میں اس کا نام میر علی اور لڑکی ہوئی تو فاطمہ رکھا جائے۔ چنانچہ لڑکا پیدا ہوا۔

    اور وصیت کے مطابق اس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی خاندان میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، ان بزرگوں میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے علاوہ شاہ عبد الکریم بلڑی والے، سید ہاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

    آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی، شاہ جو رسالو آپ ہی ایک عظیم کوشش ہے۔

    آپ (شاہ عبداللطیف بھٹائی) نے 1752ء میں 63سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

    حسیب احمد 

    @JaanbazHaseeb

  • انسانیت اور مسلمانیت   تحریر : امین 

    انسانیت اور مسلمانیت  تحریر : امین 

    خط جو میں نے لکھا انسانیت کے نام پر ڈاکیاں ہی مر گیا پتہ پوچھتے پوچھتے ۔

    ہروز سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا میں انسانیت سوزی کے ایسے ایسے واقعات اور شہ سرخیاں نظروں سے گزرتی ہیں کہ انسانیت شرمسار نظر آتی ہے ۔ 

    زاتی اناؤں،جھوٹی شخصیت کے تکبر میں گم ہم اپنے اصل اپنی پیدائش کے مقصد کو مکمل بھول چکے ہیں 

    کہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

    انسان انس سے ہے اور انس محبت ہے جس میں محبت ہی نہیں وہ انسان ہی نہیں 

    انگریزی کہاوت ہے کہ 

                                                 Do good Have good 

    اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کسی کے ساتھ نیک عمل کریں تو وہ ہی  شخص ہی آپ کے ساتھ بھلائ کرے  نہیں ایسا نہیں ہے جس طرح آپ نے انسانیت کے ناطے کسی کی مدد کی بلکل اسی طرح کہیں کسی موڑ پہ کوئ اجنبی آپ کے معاملے بھی ایسے ہی انسانیت دکھائے گا اور  اسکا مطلب یہ بھی  ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ بھلائ کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے ساتھ بھلائ کا معاملہ فرمائیں گے  

    ہم پہلے انسان ہے اور پھر مسلمان  اگر ایک شخص صرف مسلمان ہے اور اس میں انسانیت نہیں  تو یہ اسکے لۓ کافی نہیں وہ کامیاب نہیں ہے در حقیقت وہ مسلمان ہی نہیں ۔اسلام کو تمام مزاہب میں سے بہترین مزہب کا درجہ انسانیت کی بنیاد پہ ہی دیا گیا ہے 

    مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جاۓ تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کیلۓ پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئ کمی نہیں تھی   

    میرے پیاروں اگر ایک انسان پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے روزے رکھتا ہے حج ادا کرتا ہے اپنے چہرے پر داڑھی سجاتا ہے سفید کپڑے پہنتا ہے تہجد پڑھتا ہے دیگر نوافل ادا کرتا ہے حقوق اللہ تو پورا کرتا ہے لیکن 

    وہ انسان حقوق العباد میں کوتاہی کرتا ہے اس میں انسانیت نہیں ہے وہ حرام کھاتا ہے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے لوگوں کو تنگ کرتا ہے تو یقیناً یہ انسان خسارے میں ہے اسکی آخروی کامیابی ناکامی ہے 

     کیونکہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہی کہی پیدا ہوتی ہے  میرا مذہب انسانیت پسندی ہے جو کہ دنیا کے ہر مذہب کی بنیاد ہے۔

    دوسرے طرف ایک انسان جس میں انس ہے محبت ہے شفقت ہے ہم دردی ہے اخلاق ہے حرام نہیں کھاتا حقوق العباد تو پورا کرتا ہے لیکن یہ انسان محض انسانیت کی حد تک ہے روزے نہیں رکھتا نماز نہیں پڑھتا حلال کام نہیں کرتا حقوق اللہ پورا نہیں کرتا تو یہ انسان بھی خسارے میں ہے اسکی کامیابی ناممکن ہے

     طرف لاکھوں انسان بھی دیکھے اور لاکھوں مسلمان  بھی دیکھے لیکن ایسا بہت کم دیکھا جو انسان بھی ہو اور مسلمان بھی ہو ۔

    آج انسان چاند پر پہنچ گیا ،سمندر کی تہوں تک رسائ حاصل کر لی ،صدیوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ لیا ،لیکن افسوس انسانیت تک نہ پہنچ پایا ۔وہ اونچائ یا  بلندی کس کام کی جس پر سوار ہو  کر انسان انسانیت کے میعار سے ہی گر جائے

    اے بادل اتنا برس کے نفرت ڈھل جائیں 

     انسانیت ترس گئ ہے محبت کے سیلاب کو  

    قربان جاؤں اس عظیم شخص اور عظیم انسان سے جسکی انسانیت اور مسلمانیت دیکھ کر غیر مذہب ایمان لے آتے  

    آپ میرے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ تو پڑھے آپکو ایک ہی شخصیت میں انسان بھی نظر آئیگا اور مسلمان بھی ۔اور کتنے بد نصیب ہیں ہم کہ ہم اس نبی کے امتی ہیں لیکن انسانیت کے الف سے بھی واقفیت نہیں رکھتے 

    یہاں  اگر مسلمان ہے تو انسان نہیں اور گر  انسان ہے۔جب کہ اسلام بار بار کہتا ہے کہ دین و دنیا کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی پورے کیے جائے یعنی ثابت ہوا کہ مزہب اور انسانیت لازم و ملزم ہیں ،

     آج ہمارہ مقصد صرف دوسروں پہ طنز و تنقید کرنا رہ گیا ہے ،دوسروں کے رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہم اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔ خدارا دوسروں پہ فتوے لگانے کی بجائے اپنے اعمال کو سدھاریے ،صحیح اور غلط کا فیصلہ رب تعالی پر  چھوڑ دیں 

    آپ انسان ہیں انسانیت پر زور دیں۔ 

     کسی کو دنیا اور آخرت میں خوشحالی، کا میابی و کامرانی چاہئے تو مزہب اور انسانیت  دونوں چیزیں خود میں پیدا کرے اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا انسان بھی بنے

     موجودہ دور کا سنگین المیہ ہے کہ سمجھانے والے نے سمجھا کر چھوڑا سمجھنے والے نے سمجھ کر چھوڑا 

    سنانے والے نے سنا کر چھوڑا سننے والے نے سن کر چھوڑا

     پڑھانے والے نے پڑھا کر چھوڑا پڑھنے والے نے پڑھ کر چھوڑا

    لکھنے والے نے لکھ کر چھوڑا ،عمل کرنے کے مقام تک کوئ نہیں آتا ۔بحیثیت مسلمان ،بحیثیت انسان ہمیں اس بات کو  سمجھنا ہے کہ کامیاب انسان بننے کیلیے 

    گفتار کے دور میں کردار کی ضرورت ہے ۔

    محض دلچسپی کے لۓ نہ پڑھے عمل کی کوشش ضرور کیجۓ گا۔

    Twitter Handle : @ameyynn

  • آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے ہم امتی ہونے کا حق ادا کرنا بھول گئے، ہم اپنی زندگیوں کو آپ کے بتائے ہوئے احکامات پر چلانے کی بجائے ایسے کاموں میں ملوث ہو گئے جس کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

    افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کرگئے ہیں۔

     اگر ایک نگاہ مسلمانوں کے موجودہ احوال پر ڈالی جائے، برما ہو یا شام، فلسطین ہو یا افغانستان، افریقہ یا امریکہ، عراق ہو یا یمن، ہر ملک اور دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ تمام اقوام عالم نے یک زبان ہو کر دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑدیا ہے، مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالی مسلمانوں کے حوالے سے ارشاد فرماتا ہے: ” تم بہترین امت ہو "یعنی دنیا کی سب سے اچھی امت ہو ؛حالانکہ سب سے اچھی امت اسے کہتے جسے دنیا میں عز ت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے، دوسری اقوام جسے اپنے لیے نمونہ بنائیں، اس کی تہذیب کو اپنایا جائے نیز وہ ایسی امت ہو کہ خوش حالی کی زندگی گزارے، تمام طرح کی دنیاوی پریشانیوں سے مامون ومحفوظ ہو۔ ان میں سے کوئی چیز بظاہر امت مسلمہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

    وہ کون سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی یہ حالت ہے، ہمیں جلد ہی ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا کہیں دیر نا ہو جائے۔ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کہیں کسی دن موت کا بلاوا نہ آ جائے۔ بحیثیت مسلمان اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہمیں ہر وقت اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیئے اور آخرت کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔

    مسلمانوں کی موجودہ پریشان حالی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ انھیں اس ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بسنے والے تمام افراد کے نفع و نقصان کی فکرکریں، مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے ہیں کہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کو بھول بیٹھے ہیں۔

    دوسرا سبب یہ ہے کہ مسلمان تعلیمی اور فنی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی کسی بھی میدان میں صحیح راہنمائی کرنا محض خواب وخیال ہے۔

    تیسرا سبب یہ ہے کہ دین سے ان کا رشتہ بہت کمزرو پڑچکا ہے، چنانچہ دینی تعلیمات ، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق ان کی زندگی سے ختم ہورہے ہیں۔

    چوتھا سبب یہ ہے کہ امت اللہ کی طرف رجوع کرنا بھول گئی ہے، جس کا بہترین راستہ نماز ہے، 

    نماز ہر طرح کی پریشانیوں، تکلیفوں، غموں، مصیبتوں، الجھنوں، بیماریوں اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دیتی ہے۔ جب کبھی حضور ﷺ کو کوئی اہم مسئلہ پیش ہوتا تو آپ اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کی حالت میں رجوع کرتے، نماز کی ادا سے اپنے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور نماز سے ہی اپنے تمام معاملات کو بہتر کرتے۔ کائنات میں صرف ایک ذات اللہ عزوجل کی ہے جو دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی ہے۔

     ہم لوگ آج ہر طرف سے نفسیاتی،جسمانی،دماغی، معاشرتی، پریشانیوں، الجھنوں میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ سے صبر و سکون حاصل کرنے کے بجائے ہم مادی وسائل کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ سکون، اطمینان حاصل کرنے اور ان  تمام بیماریوں کے علاج کا ایک ہی ذریعہ، ایک ہی مداوا اور حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کے سامنے نماز کی حالت میں جھک جائے۔

    لہٰذا مسلمانوں کو ان چاروں اسباب میں غور کرنا چاہیے اور ان چاروں کی طرف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے،ان انشاءاللہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ہوگی اور زمین کی سربراہی اور دیگر اقوام کی قیادت و سیادت انھیں حاصل ہوگی، وہ ایک قائد امت بن کر دوبارہ ابھر سکیں گے اور پوری دنیا انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

     آیت 139: وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا:  ”اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ’ 

    وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ:  ”اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔”

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • اعمال کا دارومدار نیتوں پر   تحریر: تیمور خان

    اعمال کا دارومدار نیتوں پر تحریر: تیمور خان

    تمام اعمال اور تمام عبادات بلکہ مسلمانوں کے تمام معاملات میں نیت اور اخلاص کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، اور وہ اہم چیز قران کریم اور احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے، جو  ایک مسلمان کے اخلاص کے ساتھ نیت اور ارادہ ہے، مسلمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جب بھی کوئی کام کیا کرے گا، چاہیے وہ کام خالص عبادات میں سے ہو یا دنیاوی اغراض اور مقاصد کے لئے ہو، جس مقصد کے لئے جو کام کیا جائے اس میں مسلمان اپنی نیت کو خالص رکھے اگر وہ اپنی نیت کو خالص رکھے گا تو اس نیت کے اخلاص کی وجہ سے اس مسلمان کو دنیاوی اور اخروی بہت سارے ثمرات اور فوائد حاصل ہونگے، سرکارِ دوعالم ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورت انعام میں یہی ارشاد فرمایا٫٫ اے میرے حبیب  ﷺ آپ فرما دیجئے میری نماز اور میری قربانی اور میری ساری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور آپ فرما دیجئے کہ مجھے اسی طرح اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے نیت کو خالص رکھوں یہاں تک کہ میری موت اور زندگی خالص اللہ کہ لئے ہو، اور میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کرنے والا ہوں، قرآن کریم فرقان حمید میں بہت جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ یوں کہیے یا آپ یوں مجھ سے دعا منگیئے، کی اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما، تو جس چیز کا حکم اللہ اپنے نبی کو دے اور مطالبہ یہ ہو کہ تم اللہ سے یہ چیز مانگو تو وہ چیز نہایت ہی اہمیت کہ حامل ہوتی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ احلاص نیت جب انسان ایک کام کرتا ہے اپنی زندگی اللہ کے لئے گزراتا ہے اپنے معاملات اللہ کے لئے وہ سر انجام دیتا ہے یہاں تک اس کی موت بھی اللہ کے لئے ہوتی ہے تو یہ اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو اس چیز کا ارشاد فرمایا،

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے بھی اپنے احادیثِ طیبہ میں اس چیز کو بنیاد فرما کر ارشاد فرمایا اور یہاں تک محدیثین بھی اپنی کتابوں کے ابتدا میں لکتے  ہیں تاکہ کوئی بھی انسان دین سیکے اور دنیاوی معاملات کے لئے دین سے شعریت سے  رہنمائی حاصل کرے تاکہ اس کی نیت خالص ہو، ٫٫ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اعمال کی قبولیت کا دارومدار یہ نیتوں پر ہے، جس شخص کے نیت خالص ہوگی اس شخص کی عبادت اتنا ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا کہ جو ایک نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سات سو گنا تک اجر دیتا ہے،اور اللہ جیسے چاہتا ہے اسے اس سے بھی دگنا کر کے دیتا ہے اور کبھی کبھی اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ایک نیکی کا اجر اللہ بے حساب بھی دیتا ہے، اب ان تمام احکامات اور آیاتوں کا دارومدار انسان کے نیتوں پر منحصر ہے، اگر ایک شخص نیکی کرتا ہے اگر نیکی دنیاوی معاملات یا اللہ کی رضامندی کے لئے ہو تو اس کا دس گنا اجر دے دیا جاتا ہے اب اس کا احلاص جتنا زیادہ ہوگا تو اس کے اخلاص کے مطابق اس کو اتنا ہی اجر ملے گا،

    تو اسی لئے نیت جو ہے یہ ایک مومن اور مسلمان کے تمام اعمال کا اصل ہے جب ہم گھر سے مسجد کے لئے نکلتے ہیں تو ہماری نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم مسجد میں نماز کے لئے اللہ کو راضی کرنے کے لئے جاتے ہیں، اب یہ ارادہ کامل ہوتا اس نیت کا اجر بھی سو گنا ہوگا اگر اتفاقاً ایک انسان گھر سے مسجد کی طرف نکلا اور راستے میں یہ کسی کام کی طرف چلا گیا تو تب بھی اللہ اس کو پورا اجر دیگا کیوں کہ اس کی نیت مسجد جانے کا تھا، اسی لئے محدیثین فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی کام کے نیت کریں تو اس نیت کے ساتھ اور بھی اچھے کام کے نیت کر لیا کریں اگر وہ کام ہوا بھی نہیں تو بھی اس کام کا اجر ملے گا، ایک مسجد جاتے ہوئے کئی نیک نیتیں جمع ہو سکتی ہیں اب ایک شخص گھر سے نکلتا ہے اور اسے کوئی ایسا کام نہیں ملا جس کی اس  نے نیت کی تھی  تب بھی اس کو پورا کا پورا ثواب جتنی بھی نیتیں اس نے کی تھی اسے ملے گا، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جو بھی عمل انسان کرتا ہے اس کی نیتوں کا دیکھا جائے گا، اب اللہ کے ہاں نیت معتبر ہے اللہ کے ہاں ظاہری کام معتبر نہیں ہے کیوں کہ اس نے تو نیت کی تھی کہ راستے میں اگر کوئی شخص آیا میں اسے سلام کروں گا راستے میں اسے کوئی شخص ملا ہی نہیں تو بھی اس کو اجر ملا، 

    اسی لئے ایک دوسرے حدیث میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہت بہتر  ہے اب ایک انسان نے تو عمل کی تھی کہ گھر سے مسجد کی طرف جاتے وقت میں راستے میں ہر اچھے اعمال کروں گا لیکن اس نے وہ اعمال کیے ہی نہیں اسکو موقع ہی نہیں ملا اب اس نے صرف نیت کی عمل اس نے کیا نہیں گویا کہ اس نے یہ تمام کام کر لیے حضور نے فرمایا یہ وہ چیز ہے کہ جس کی نیت کا بھی اس کو اجر مل جاتا ہے، 

    لیکن اس کے بر خلاف ایک شخص کام تو بڑے نیک کرتا ہے لیکن نیت اس کی خالص نہیں ہے نیت اللہ کی رضا نہیں ہے تو یاد رکھیں یہ نیک کام بھی اس کے منہ پہ مارا جائے گا، ایک شخص ہے وہ نماز اللہ کی رضا کے لئے پڑھتا ہے تو اس کو نماز پڑھنے کا اجر دیا جائے گا، لیکن ایک انسان نماز پڑھتا ہے اس کی نے نیت بھی کی لیکن وہ نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ لوگ اس سے نمازی کہیں تو فرشتے نماز اس کے منہ پہ ماریں گے کہ اسے نماز کو اللہ کی کوئی ضرورت نہیں اسی طرح ہماری زندگی کے جتنے بھی نیک اعمال ہیں ان تمام کا دارومدار نیتوں پر ہے،

    احادیث مبارکہ میں آتا ہے قیامت کے دن ایک شہید کو اٹھایا جائے گا بخآری شریف کی حدیث ہے اس شہید کو اللہ تعالیٰ کہے گا اے بندے میں نے دنیا میں تجھے یہ نعمت دی تھی فلاں نعمت دی تھی وہ اقرار کرے گا ہاں میرے رب تو نے یہ سب کچھہ دی تھی اللہ پوچھے گا پھر تو نے ان نعمتوں کے بدلے میرے لئے کیا کیا، تو یہ شہید کہے گا اے میرے پروردگار میں نے تیرے دین کی سربلندی کے لئے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، اللہ فرمائے گا نہیں نہیں تو نے اس لئے جان قربان نہیں کی کہ میرا دین سربلند ہو بلکہ تو نے اس لئے جان قربان کی کہ لوگ آپ کو بہادر اور شہید کہیں، جا تجھے دنیا میں تمغے بھی مل گئی تیری وا وا بھی ہو گئی، اے فرشتوں اس کو جہنم میں لے جاؤ، اب وہ شہید اس کی نیت خالص تھی اور اس کی نیت اللہ کی رضا تھی اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن وہی شہید عمل تو وہی ہوا اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن اس کے نیت میں فرق تھا تو الٹا وہ جہنم میں داخل ہوا،

    اسی لئے تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جو  بھی عمال کرے چاہے وہ دنیا کے لئے ہو  یا چاہے وہ  آخرت کے لئے ہو ہر عمل میں  اس کی نیت خالص ہونی چاہیے اسی لئے نیت اپنی خالص کر لیں ہم سب کو چاہئے کہ اپنی نیتیں خالص کر لیں عمل بے شک اپنے ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کر رہے ہیں لیکن نیت وہ اللہ کی رضا ہو اور جب اللہ رضا ہوگا تو اس کے اجر ہمیں بے شمار ملیں گے اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  • ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت محمد ﷺ مکہ المکرمہ (حجاز) میں پیر کے دن عام الفیل والے سال ۹ یا ۱۲ ربیع الاول بمطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ عیسوی میں پیدا ہوئے۔
      آپ ﷺ کا تعلق قبیلہ قریش اور بنی ہاشم کے گھرانے سا تھا۔
     آپ ﷺکی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ ہے جو وہب بن عبد مناف، زہرہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
     آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ بن عبدالمطلب بن عبد مناف ، قریش کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
     آپ ؐکی نانی کا نام برہ اور دادی کا نام فاطمہ تھا۔
    آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے انتقال فرما گئے تھے۔
     
      آپ ؐنے سب سے پہلے اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ پیا ، پھر اپنے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ غلامہ ثویبہ کا اور پھر حضرت حلیمہ کامکہ کے لوگ اپنے بچوں کو گاوں دیہات بھیجتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے آپؐ حضرت حلیمہ جن کا تعلق بنی سعد سے تھا اُن کے ساتھ چار سال تک رہے۔
      اسی دوران آپؐ کے شق صدر (دل کو کھولنے) کا پہلا واقعہ پیش آیا۔
      آپؐ اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ صرف دو سال رہے۔ جب آپؐ کی عمر چھ سال کی تھی آپؐ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔
      پھر آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی پرورش کا ذمہ لیا۔ دو سال بعد آپؐ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا جب آپؐ کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔
      پھر آپؐ کے چچا ابو طالب نے آپؐ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھائی۔ بارہ سال کی عمر میں آپؐ اپنے چچا کے ساتھ ایک تجارتی سفر پر شام کی طرف گئے۔بصرہ کے مقام پر عیسائی پادری بحیرہ نے آپؐ کی نشانیاں دیکھ کر آپؐ کے آخری نبی ہونے کی پیشنگوئی دی اور آپؐ کے چچا ابو طالب سے کہا کہ ان کو واپس بھیج دیں ورنہ یہود ان کو قتل کر دیں گے۔
      پچیس سال کی عمر میں آپؐ نے ایک مرتبہ پھر شام کی طرف تجارتی سفر کیا لیکن اس مرتبہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کا مال لے کر گئے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی تھا۔ اس سفر میں آپؐ کی ملاقات ایک اور عیسائی پادری نسطورہ سے ہوئی اور اُس نے بھی آپؐ کی نبوت کی پیشنگوئی دی۔
      آپؐ کے اخلاق کا علم پا کر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ جب آپؐ کا نکاح حضرت خدیجہؓ سے ہوا اُس وقت آپؐ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی۔ یہ ازدواجی رشتہ پچیس سال اور دو ماہ تک قائم رہا۔ حضرت خدیجہؓ سے آپؐ کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے لیکن دونوں بیٹوں کو چھوٹی ہی عمر میں اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔
      ۳۵سال کی عمر میں آپؐ نے اپنی ذہانت و حکمت سے کعبہ کی تعمیر کے دوران پیدا شدہ تنازعہ کو ختم فرمایا۔ 
      چالیس سال کی عمر میں آپؐ کو غار حرا میں نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
      حضرت خدیجہؓ کے رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔
      عورتوں میں حضرت خدیجہؓ پہلی عورت تھیں اسلام قبول فرمانے والی، مردوں حضرت ابو بکر صدیق پہلے مرد تھے، غلاموں میں حضرت زیدؓ بن حارثہ پہلے غلام تھے اور بچوں میں حضرت علیؓ پہلے بچے تھے۔
      تین سال کے بعد آپؐ نے صفاء کی پہاڑی پر چڑھ کر اپنے خاندان والوں کو اسلام کی طرف دعوت دی-
      نبوت کے پانچویں سال آپؐ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ یہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی جس میں کل۱۵یا ۱۶ افراد تھے، ۱۱ مرد اور ۴ یا ۵ عورتیں۔
      نبوت کے ساتویں سال حبشہ کی طرف مسلمانوں کی دوسری ہجرت ہوئی ۔ جس میں ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتیں تھیں۔
      نبوت کے ساتویں سال مکہ کے کفار نے مسلمانوں سے قطعہ تعلق کر لیا ۔ آپؐ اور آپؐ کے ماننے والوں کو ایک گھاٹی میں محسور کر دیا۔ اس قطعہ تعلقی کا عرصہ تین سال تک رہا۔
      نبوت کے دسویں سال جب یہ قطعہ تعلقی کا سلسلہ ختم ہوا ، اسی سال حضرت خدیجہؓ اور آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔
      نبوت کے دسویں سال ہی طائف کا واقعہ پیش آیا ۔ جس میں آپؐ کو تبلیغ اسلام کے سلسلے میں پتھر مارے گئے۔
      نبوت کے گیارہویں سال معراج کا واقعہ پیش آیا۔جس میں آپؐ مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس گئے ، پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں ، جنت و جہنم کا سفر کیا اور اللہ رب العزت سے ملاقات کی۔
      اس سفر کے بعد مدینہ کے قبیلہ خرج کے ۶ افراد نے آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔
      اس سے اگلے سال ۱۲ افراد نے مدینہ سے آ کر آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔ جن میں سے دس افراد قبیلہ خرج اور دو افراد قبیلہ اوس کے تھے۔
      اگلے سال حضرت مصعبؓ بن عمیر کی تبلیغ سے جن کو آپؐ نے مدینہ بھیجا تھا ۷۰ مرد اور دو عورتوں نے اسلام قبول کیا۔
      پھر آپ ﷺ نے مکہ  کے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
      نبوت کے تیرہویں سال آپؐ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس سفر کے دوران آپؐ تین دن غار ثور میں رہے۔
      مدینہ کی طرف جاتے ہوئے آپؐ نے قباء کے مقام پر ۱۴ دن قیام فرمایا اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد تعمیر فرمائی۔ جس کا نام مسجد قباء ہے
      بروز جمعہ آپؐ قباء سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران قبیلہ بنی سلیم میں آپؐ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ آج اس مقام پر مسجد جمعہ ہے۔
      مدینہ پہنچ کر آپؐ کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے رکی ، جہاں آپؐ نے قیام فرمایا۔ اور اسی جگہ پر مسجد کے لیے زمین خریدکر مسجد تعمیر فرمائی ۔ جو آج مسجد نبویﷺ کہلاتی ہے۔

    @mmasief

  • جمعہ کی فضیلت : تحریر : فرح بیگم

    جمعہ کی فضیلت :

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے ، اور اللّه کے نزدیک سب سے بڑا دن ہے ۔” جمعہ کا دن اللّه کے نزدیک عید الفطر اور عید الاضحیٰ سی بھی بڑھ کر ہے ۔ جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "جمع ہونا ہے ”
    اس دن ہی حضرت آدم ع کی اولاد جمع کی جائے گی ،حضرت آدم ع اور حضرت حوا ع زمین پر اسی روز ہی ملے تھے ۔ اس دن میں ہی انکو وفات بھی دی اور اس دن قیامت بھی اے گی ۔ حدیث میں جمعہ کے کہی ناموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ  سید الایام (دنوں کا سردار ) ، خیر الایام (بہترین دن ) ، افضل الایام  (فضیلت والا دن ) ، عید المومنین ( مومنوں کا دن) ۔ جمعہ ایک اسلامی اصطلاح ہے ۔ یہودیوں کے لیے  ہفتے کا دن عبادت کے لیے مقرر تھا کیوں کہ اس دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی ۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودی سے الگ کرنے کے لیے اتوار کا دن خود با خود مقرر کیا تھا ۔اس بات کا حکم نہ حضرت عیسیٰ ع نے دیا نہ انکی کتاب نے ۔ اسلام نے اپنی ملت کو ہمیشہ ممتاز رکھا ہے اور جمعہ کے دن کا انتحاب کیا ہے عبادت کے لیے ۔ اس لیے جمعہ کو عید کا دن کہا جاتا ہے ۔

                           حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس دن تمہارے باپ آدم ع پیدا ہے ، اور اس دن ہی صور پھونکا جائے گا اور اس دن ہی لوگ قبروں سے اٹھاییں جائے گے ۔ اور اس دن ہی سب کی پکڑ ہوگی "۔ حضرت امام سے راویت ہے کہ انہوں نے فرمایا جمعہ کا مطلب لیلتہ القدر سے بھی زیادہ ہے ۔جمعہ کا دن سارے دنوں سے افضل ہے ۔ ہر مسلمان کو چاہیئے جمعہ کے دن لازمی غسل کرے ، اپنے سر کے بالوں کو اور جسم کو خوب صاف رکھے ، مسواک کرے ، ، عمدہ کپڑے پہنے ، ناخن کاٹے، خوشو بو لگائے وغیرہ ۔ ارشاد مبارک ہے جو شخص  جمعہ کے دن اچھے سی غسل کرے گا ،اپنے آپکو پاک صاف رکھے گا اور وقت پر مسجد جائے گا تو اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی ، اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں گیا تو اس نے گاۓ کی قربانی دے اور جو تیسری ساعت میں گیا اس نے مینڈک کی قربانی دی اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے ایک انڈے کا صدقہ دیا ۔ جب خطبہ دینے کے لیے خطیب نکلتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں ۔اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آ بیٹھتے ہیں ۔

                      حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوے فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گڑھی ہے جس میں ایک مسلمان جو نماز کا پابند ہو اللّه سے جو بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو عطاء کرتا ہے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس مرد نے گھر میں جمعہ کی نماز ادا کی دل کرتا ہے میں اس کے گھر کو جلا دوں "۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک لال ہو جاتی تھی ، آواز بلند ہو جاتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے میں صحابہ کو اسلام کی تعلمیات دیتے تھے ۔حضرت جبر فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل ہوتا تھا ۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے اور پھر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ۔ جمعہ کے خطبہ کی آرام اور سکون سے سنانا چاہیئے ۔ تا کہ روحانی فائدہ ہو سکے ۔
                     جمعہ کے دن جو دعا مانگی جائے وہ ضرور پوری ہوتی ہے ۔ مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جمعہ کی نماز لازمی ادا کرے اور لوگوں کو بھی اس کی ترگیب دے ۔

    Twitter id: @iam_farha

  • 12 ربیع الاول   تحریر : فرح بیگم

    12 ربیع الاول تحریر : فرح بیگم

    حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات میں مختلف راۓ ہیں ۔ کوئی 8 ربیع الاول کا قول راجح کرتا ہے تو کوئی 12 ربیع الاول کا ۔ لیکن زیادہ مشہور 12 ربیع الاول ہے ۔ اسی طرح حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تاریخ میں بھی تضاد ہے بعض علمائے کرام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز وفات پائے اور مہینہ بھی ربیع الاول کا تھا ۔البتہ تاریخ کی رائے پھر مختلف ہے ،پر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ 12 ربیع الاول کا دن تھا ۔

    زمانہ گواہ ہے کہ جب بھی 12 ربیع الاول کا چاند دیکھائی دیتا ہے دل میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کی لہر دوڑتی ہے ۔ ہمارا ایمان پر جوش اور یک دم تازہ ہو جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کی آمد ہر سال تجدید عہد وفا سنت کا پیغام لے کر آتی ہے ۔ اس مہینے کا مطلب ہے کہ کوئی سنت کے خلاف کام نہ ہو ۔ حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے روشنی کا سر چشمہ ہیں ۔وہ پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں ۔اور ہمیں فخر ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ملت لے کر اے جو دن میں نور اور رات میں امن ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ راہ دیکھائی جس پر چل کر ہم نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی فلاح پا سکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب کی باتیں بھی بتائی پر کھبی بخل سے کام نا لیا ۔

    جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آپنے آمد کے مقصد کو پورا کر بیٹھے اور اسلام کو لوگوں تک پہنچا دیا تو اپنے خالق سے جا ملے۔ اور اس دین کو قیامت تک مکمل قرار دیا ۔ اب اس دین کے بعد کوئی دین نہیں اے گا اور حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اللّه کے آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اے گا ۔ نہ ہی اس دین میں کسی زیادتی ، مکاری کی گنجائش ہے اور نہ کسی نقصان کی ۔ لوگ 12 ربیع الاول کو عبادت سمجھ کر مناتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں ،لوگ جلوسوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ گھروں میں محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے ۔ یہ سب ایک عادت ہے دین سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔لیکن برصغیر پاک و ہند میں اسکو ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو محفل میلاد کا سما شروع ہو جاتا ہے اور کیوں نا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات کا دن ہے اور اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہے ۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔

    12 ربیع الاول کی خوشی میں پورے ملک کے تمام شہروں کو ،گلیوں کو سجایا جاتا ہے ۔سارا منظر روح پرور ہوتا ہے ۔اس دن کو مولود نبی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ملک بھر میں قرآن پاک کی تلاوت اور نماز کے لیے بڑے اجتامت منعقد کیے جاتے ہیں ۔ لوگ ضرورت مندوں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں ۔ لوگ خیرات دیتے ہیں ۔ غریبوں میں کپڑے اور کھلونے بانٹے جاتے ہیں ۔ باہر ملکوں میں مسلمان 12 ربیع الاول کو مسجد میں جمع ہوتے ہیں ، عبادت کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ محفل میلاد منائی جاتی ہے ۔

    اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس دن کو نہایت پر جوش ،احترام ، عقیدت اور ولولے کے ساتھ منائیں۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • دعا ایک عظیم نعمت   تحریر: اسد ملک 

    دعا ایک عظیم نعمت  تحریر: اسد ملک 

    انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے یہ شرف حاصل ہے کہ وہ دعا کے ذریعے اللہ سے دنیا کی کوئی بھی چیز حاصل مانگ سکتا۔ اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت دعا ہے اور خاص عبادت بھی گردانی جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پورے دل اور اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا مانگے۔انسان کا مانگنا اللہ کو ویسے بھی بہت پسند ہے وہ خود چاہتا ہے کہ انسان صرف اسی سے مانگے کیوں کہ دینے والی ذات بھی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اللہ سے مانگ کر کبھی بھی شرمندگی یا ندامت نہیں ہوتی ، جو بھی مانگا جاتا ہے وہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ہی رہتا ہے ۔

    اللہ تعالی سے جب بھی مانگا جائے تو اس پہ پورے یقین اور توکل سے مانگنا چاہیے۔ مومن صرف اللہ ہی پر توکل کرتا ہے کیوں کہ قرآن میں بھی اللہ فرماتا ہے ، "وعلی ربّھم یتوکلون” (اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں)۔ بحثیت مومن اس بات پہ یقین ہونا کہ کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کی مرضی کے بنا نہیں ہل سکتا اور کوئی بھی اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا ، سب اللہ ہی کی رضا سے ہوتا ہے لہذا وہ صرف اسی پہ یقین اور بھروسہ کرتا ہے۔ اور اس کامل بھروسے کی وجہ سے اس کے اندر کی امید کبھی مدھم نہیں پڑتی اور نہ ہی انسان کبھی کسی خوف کا شکار ہوتا۔ بے شک اللہ پہ توکل اور یقین رکھنے والوں کو آزمایا جاتا ہے مگر امید کا جو دامن اس وقت مومن کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ ہزار مشکلات کے باوجود بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتا ، نہ اس میں کسی قسم کی کوئی اکڑ ہوتی ہے نہ اسے کوئی چیز اللہ کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے پہ مجبور کر سکتی ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے جو بھی ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی اور رضا سے ہوتا ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ستر ماوں سے زیادہ محبت کرنے والا اس کے لیے کچھ برا کرے گا اسی لئے وہ ہر حال میں بہت مطمئن ہو کر وہ زندگی بسر کرتا ۔

    اللہ سے یقین کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ دعا کرتے ہوئے انسان کو اس کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے کیوں کہ مایوس دل سے نکلی دعا اللہ کو پسند نہیں لہذا دعا اس یقین سے مانگنی چاہیے کہ دینے والی ذات صرف اللہ ہی کی ہے، وہ ہر شہ پہ قادر ہے اور وہ "کن فیکون” کا مالک ہے اسی لیے اس سے نا ممکن کو بھی مانگتے ہوئے ہچکچانا نہیں چاہیے اللہ عزوجل کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔اور جب یقینِ کامل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے تو وہ کریم اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے۔

    انسان زندگی میں ہر چیز حتی کہ اپنے مسائل اور خواہشات میں بھی اللہ تعالی کے حکم کا محتاج ہے ۔ دراصل انسا ن بہت بے بس اور لاچار ہے اور جب انسان کو یہ چیز محسوس ہوتی ہے تو وہ دعاوں کا سہارا لے کے اللہ کے آگے گرگراتا ہے اور اللہ کی قدرت پہ کامل یقین کے ساتھ اپنے تمام معملات اس کے سپرد کر دیتا ہے ، اس مقام پر انسان اپنی محرومی اللہ کے ہاں پیش کر دیتا ہے اور اس کی مدد کا طالب ہو جاتا ہے۔ مگر دعا قبول نہ ہونے کی صورت میں ناشکری اور نا امیدی اللہ کی ناراضی مول لینے کی مترادف ہے ۔ اللہ سے مانگنا ضرور چاہیے اور مکمل یقین کے سا تھ مانگنا چاہیے مگر ضد نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ یہ اللہ جانتا ہے کہ انسان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کچھ دعائیں انسان کے لیے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ ایمان اور کامل یقین کا تقاضا دعا کی قبولیت سے ہر گز مشروط نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پہ ہونا چاہیے کہ جو بھی ہوگا وہ میرے لیے بہتر ہی ہوگا کیوں کہ میں نے اپنا معاملہ اس ذات کے سپرد کیا ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے اور اپنی مخلوق سے بے انتہا محبت کرتا ہے اسی لیے دعا جیسی عظیم نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • میرے آقاﷺ کی عبادت  تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    میرے آقاﷺ کی عبادت تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    ‏(

    میرے اور آپ کے آقاﷺ مغفور تھے،مرحوم تھے،مقدس تھے مطہر تھے،مقرب ومحبوب تھے،محفوظ تھے،معصوم تھےآپ جنتی تھے بلکہ آپﷺ کو دنیا ہی میں بتادیا گیا تھا کہ بے شمار گہنگاروں کو آپ کیوجہ سے جنت میں ٹھکانہ ملے گا،آپ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا،آپ حطاکاروں کی سفارش کریں گے،قیامت کے دن لوگ پیاسے ہونگے اور اپ اپنی امت کو حوض کوثر سے جام بھر بھر کر پلائیں گے۰

    لیکن ان تمام بشارتوں کے باوجود آپ بے انتہاعبادت فرماتے تھے۰

    آپﷺ کا قلب مبارک اور آپ کی زبان مبارک ہر لمحہ اللہ کی یاد میں مصروف رہے تھے مگر اپ صرف قلبی اور لسانی عبادت پر اکتفا نہیں فرماتے تھے بلکہ جسمانی عبادات بھی کرتے تھے۰

    ہمارے دور کے جعلی درویش اور بناسپتی پیر تو کہتے ہیں کہ جناب ہم دل ہی دل میں عبادت کرلیتے ہیں۰

    گویا یہ بدبخت روٹیاں منہ سے کھاتے ہیں ،قورمہ منہ سے کھاتے ہیں،بریانی کا ستیاناس منہ سے کرتے ہیں،تکے اور کباب کی ایسی تیسی منہ سے کرتے ہیں،حلیم اورکچھڑے کو منہ ہی سے واصل شکم کرتے ہیں،دودھ منہ سے پیتے ہیں،شربت منہ سے پیتے ہیں۰

    لیکن عبادت دل ہی سے کرتے ہیں۰ارے لنڈے کی مخلوق!اگر عبادت دل سے ہوسکتی ہے تو کیا کھانا پینا دل سے نہیں ہوسکتا؟

    ذرا کھانا پینا دل سے تو کرو سہی،دیکھنا چند ہی دنوں میں پیٹ کاسائز کتنا کم ہوجاتا ہے اور یہ پھیلی ہوئی توند کیسے نیچے أتی ہے۰

    اچھا ہے حضرت سمارٹ ہوجائیں گی۰

    یہ تو لنڈے کے مال کا حال ہے مگر وہ جو پیروں کا پیر تھا وہ جو مرشد حق تھا وہ جو نبیوں کا امام تھا وہ جو خاتم النبیین تھا اس کی عبادت کا یہ حال تھا کہ اتنی عبادت فرماتے کہ دیکھنے والوں کو ترس آنے لگتا ۰

    تہجد کی نماز کی فرضیت عام مسلمانوں سے فوت ہوگئ تھی مگر اپﷺ عمر بھر تہجد ادا فرماتے رہے اور اس طرح ادا فرماتے کہ حضرت عائشہ رض عرض کرتیں اللہ تعالی نے تو اپ کو معاف فرمادیا ہے پھرأپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں آپ فرماتے”افلا اکون عبدا شکورا”کیا میں اللہ کا شکر گذار بندہ نہ بنوں؟

    نبوت کے آغاز ہی سے آپ نماز پڑھتے تھے ،کفار کی موجودگی میں عین حرم میں جاکر سب کے سامنے نماز پڑھتے تھے،کئ دفعہ نمازکی حالت میں دشمنوں نے آپ پر حملہ کیا مگر پھر بھی أپ نماز سے باز نہ آئے۰

    حدیہ کہ جنگ کی حالت میں بھی نمازنہ چھوڑتے سامنے خونخوار دشمن ہوتا،تیر اور خنجر چل رہے ہوتے،لوگوں کو جان کے لالے پڑھے ہوتے ادھر آپﷺ اللہ کے حضور سجدے میں جھکے ہوتے تھے۰

    تمام عمر میں اپ کی کوئی نماز اپنے وقت سے نہیں ہٹی اور نہ دو وقتوں کے علاوہ کھبی اپ کی کوئی نماز قضا ہوئی ،ایک تو غزوہ خندق میں کافروں نے اپ کو عصر کی نماز کا موقع نہیں دیا اور دوسری دفعہ یہ ہوا کہ ایک ۔ غزوہ کی سفر میں رات بھر چل کر صبح تمام لوگ سوگئے اورکسی کی انکھ نہ کھلی تو اپ نماز قضہ ادا کی۰

     اس بھی بڑھ دیکھئے کہ مرض الموت میں شدت کا بخار تھا۰تکلیف بہت زیادہ تھی لیکن اس حالت میں بھی نماز تو نماز آپ نے جماعت کو ترک کرنا بھی گوارا نہیں کیا او دو صحابیوں کے سہارے اس حالت میں مسجد تشریف لائے کہ قدم مبارک زمیں پر گھسٹ رہے تھے۰

    یہ تو اپ کی نماز کا حالت تھا۰روزوں کا حال بھی نماز سے مختلف نہ تھا اپ بکثڑت سے روزے رکھے تھے،کوئی ہفتہ اور کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہیں جاتا تھا ۰حضرت عائشہ رض کہتی ہے”جب اپ روزے رکھنے پر اتے تو معلوم ہوتا تھا کہ اب کھبی افطار نہیں کریں گے”۰

    اپ مسلمانوں کو دن بھر سے زیادہ روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے مگر خود اپ کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی بغیر کچھ کھائے پئے مسلسل دودو دن اور تین تین دن روزے رکھتے تھے۰

    بعض صحابہ نے بھی دودو دن رکھنا چاہا تو اپ نے فرمایا :(تم میں سے کون میرے مانند ہے،مجھ کو تو میرا اقا کھلاتا پلاتا ہے)۰

    رمضان کے علاوہ اپ کا شعبان بھی پورے کا پورے روزوں میں گزرتا تھا،ہر مہینے ایام بیض کے روزے رکھتے تھے۰

    ہر ہفتے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے،

    عاشورا محرم اور شوال کے چھ روزے رکھتے تھے۰

    روزوں کے علاوہ زکوۃ اورخیرات میں بھی پیش پیش تھے۰

    حضرت ابن عباس رض کہتے ہیں کہ اپ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے ۰حضرت جابر رض فرماتے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبی کریمﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور اپ نے لا(نہیں)فرمایا ہو۰

    حضرت ابوھریرہ رض کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے عام اعلان فرما رکھا تھا۰جو مسلمان قرضہ چھوڑ کر مرے گا میں اسے ادا کروں گا اور جو مسلمان وراثت چھوڑ کر مرےگا اسے اس کے وارث سنبھالیں گے۰

    اپ جانتے ہیں کہ عبادت تین قسم کی ہے۰

    لسانی عبادت،مالی عبادت اور بدنی عبادت ۰یہ تینوں قسم کی عبادت حضور اکرمﷺ کی سیرت میں ہمیں اپنے کمال پر دکھائی دیتی ہے۰اللہ تعالی ہمیں اپنے آقاﷺ کی اتباع نصیب فرمائے۰

    وما علینا الا البلاغ

    ‎@Tareef1234

  • دعا کی فضیلت تحریر: فرح بیگم

    دعا کی فضیلت تحریر: فرح بیگم


    دعا عربی زبان سے نکلا ہے ۔جس کے مغی "تو التجا یا تو پکار ” کے ہیں ۔ لیکن مزہبی lعتبار سی اس سے مراد اللّه سی التجا کرنا ہے ،یا مانگنا ہے ۔
    اللّه تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ :
    "میں اپنے بندوں سے بے حد قریب ہوں اور انکی ہر پکار سننے کو تیار ہوں ۔”
    اللّه تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو وہ ہار بات کا علم رکھتے ہیں ۔اللّه تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ پکارو ۔ وہ تمہاری پکار کا جواب بھی اخلاص سے دیں گے ۔آپنے رب سے گڑگڑاتے رہو اور ان سے چیکے چپکے دعا مانگواللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتے رہو یقیناً اللّه تعالیٰ اپنی رحمت سے ہر ایک کو نوازتا ہے ۔جب دعا مانگو تو اللہ تعالیٰ کو ان کے نام سی پکارو ۔ اللہ تعالیٰ کو یا تو اللّه کہ کر یا رحمن کہ کر پکارو ۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے روزگار کی دعا مانگتے رہو اسکی عبادت کرتے رہو اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کو بڑھا دے گا ۔اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہو مسلم ہو یا غیر مسلم ان کے سامنے مانگنے سے مت شرماؤ اپنے رب کی تعریف کرتے رہو اسکی عبادت کرتے رہو بیشک کافر برا مانیں تم دعا مانگنا نہ روکو ۔ اللہ تعالیٰ زندہ ہیں اور وہی لا شریک ہے ، تواللہ تعالیٰ سے مناگتے رہو ۔دعا عین عبادت ہے ۔حضرت محمّد نے فرمایا :
    "جو اللہ تعالیٰ سے مانگنا چھوڑ دیتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے ”
    اللہ تعالیٰ کو دعا سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اے آدم کے بیٹے ، جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے گا ،مجھ سے امید رکھے گا میں تجھے معاف کر دوں گا بیشک تم سی کچھ بھی سر زد ہو ۔ اگر تمھارے گناہ آسمان تک بھی ہو اور زمین جتنے گہرے ہوں میں تمھارے سارے گناہ مٹا دوں گا ۔اگر تم مجھ سی بخشش مانگو گے تو میں تمھے بخش دونگا ۔اللہ تعالیٰ کہتے ہیں اگر تمہارے گناہوں سے پوری زمین بھر جائے لیکن تمھارے دامن میں میرے ساتھ شرک کا داغ نہ ہو تو میں تمھارے سب گناہ اتنی تیزی سے ختم کرونگا جیسے تم لے کر اوگے ۔
    حضرت محمّد ص فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، "اے میرے بندوں تم سب بھوکے ہو سوۓ اس کے جسے میں نے کھانا كهاليا ، تم بس مجھ سے ہی کھانا مانگو میں تمھیں کھیلونگا ،اے میرے بندوں میں تم سب ننگے ہو سوۓ اس کے جسے میں پہہنوں، تو تم مجھ سے ہی لباس طلب کرو میں تمھیں لباس دوں گا ۔ اے میرے بندوں تم مجھ سی سوال کرو میں تمہارے تمام سوالوں کا جواب دونگا ۔” میں تمھارے خزانے بھر دونگا تم مجھ سی مانگو ۔ میں تمھارے سارے راستے کھول دونگا تم میری طرف آ کر تو دیکھو ۔ میں اپنے بندے کے مطابق ہی اس سی معاملہ کرتا ہوں ۔اللہ کھتا ہے جب میرا بندا مجھے پکارتا ہے تو میں اسکے ساتھ ہوتا ہوں ۔اگر میرا بندا مجھے اپنی نفس میں یاد کرے میں اسکو اپنی نفس میں یاد کرتا ہوں۔ اگر میرا بندا مجھے کسی مجلس میں یاد کرے میں بھی اسکو اچھی مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ اگر میرا بندا میری طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہے تو میں اسکی طرف دو ہاتھ بڑھاتا ہوں ۔اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اسکی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔
    دعا سے انسان کی تقدیر بدل جاتی ہے ۔حضرت محمّد ص نے فرمایا "تقدیر الہی کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی ۔ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر نہیں بڑھا سکتی ۔اس لیے دعا کرتے رہا کرو کیوں کہ دعا ہر انسان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔ اور ہر نماز کے بعد دعا مانگنا لازم اور ضروری ہے ۔

    Twitter ID: ‎@iam_farha