Baaghi TV

Category: مذہب

  • طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    نبی کریمﷺ کاجسموں کا علاج تین طرح کا تھا۰ایک طبعی دواؤں سے جنہیں اجزائے جماداتی وحیوانی سے تعبیر کیا جاتا ہے،دوسرا روحانی اورالہی دعاؤں سے جو کچھ ادعیہ،اذکار اور آیات قرآنیہ میں ہے،اور تیسرا ادویہ کامرکب ہے جو ان دونوں قسموں سے مرکب ہے یعنی داوؤں سے بھی اور دعاؤں سے بھی۰

    دعاؤں سے علاج: قرآن شریف سے بڑھ کر کوئی شے اعم وانفع اور اعظم ثناء نازل نہیں ہوئی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

    ترجمہ:”اور ہم نے قرآن سے وہ نازل فرمایا جو مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے۰”(سورۃ بنی اسرائیل:آیت۸۱)۰

    اب رہا امراض جسمانیہ کیلئے قرآن کریم کا شفا ہونا تو اس وجہ سے ہے کہ اس کی تلاوت کیذریعے برکتیں حاصل کرنا بہت سے امراض وعلاج میں نافع ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی شحص کو شفاء قرآن پڑھ کر بھی نہ ہو تو اسے حق تعالی کبھی شفاء نہ دے گا۰

    حدیث میں ہے کہ فاتحۃ الکتاب ہر مرض کی دوا ہے۰

    حضرت علی المرتضی رض کی حدیث میں ہے جو ابن ماجہ میں مرفوعا مروی ہے”خیرالدواءالقرآن”(بہترین علاج قرآن ہے)۰

    بدنظری کا علاج:نبی کریمﷺ اس کا علاج معوذتین سے فرماتے۰یعنی ان آیات سے جن میں شرور سے استعاذہ ہے جیسے معوذتین سورۃفاتحہ آیۃ الکرسی وغیرہ علماء کہتے ہیں کہ سب سے اہم واعظم دعا وشفاء سورۃ الفاتحہ ایۃ الکرسی اور معوذتین کا پڑھنا ہے۰

    لا حولا ولا قوۃ کاعمل:حضرت ابن عباس رض سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جسے غم وافکار گھیرلیں اسے چاہئے کہ لاحولاولاقوۃالاباللہ بکثرت سے پڑھا کرے علماء فرماتے ہیں کہ اس کلمہ کے عمل سے بڑھ کر کوئی چیز مددگار نہیں ہے۰

    درد سر کی دعا:حمیدی بروایت یونس بن یعقوب عبداللہ سے درد سر کی دعا نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ درد سر میں اپنے اس ارشاد سے تعوذ فرماتے تھے:”بسم اللہ الکبیر واعوذباللہ العظیم من کل عرق نعار ومن شر حدالنار”

    ترجمہ:”حدا کے نام کیساتھ جو بڑا ہے اور میں پناہ چاہتا ہوں اللہ بزرگ کی ہررگ اچھلنے والے کی اور اگ کی گرمی کے نقصان سے۰” 

    ہر درد وبلاء کی دعا: حضرت ابان ابن عثمان اپنے والد عثمان رض سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا ہے کہ جو کوئی تین مرتبہ شام کے وقت:بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمه شیء فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم”تو شام تک اس کو کوئی شے ناگہانی بلا مصیبت نہ پہنچے گی۰(مدارج النبوۃ)۰

    دنت کے درد کی دعا:بیہقی عبداللہ بن رواحہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے درد دنت کی شکایت کی۰تو حضورﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے رخسار پر جس میں درد تھا رکھ کر سات مرتبہ پڑھا:اللھم اذھب عنه ما یجد وفحشه بدعوۃ نبیک المسکین المبارک عندک”دست اٹھانے سے پہلے اللہ نے ان کے درد کو رفع فرمالیا۰(مدراج النبوۃ)۰

    حرام چیز میں شفاء نہیں:سنن میں مروی ہے کہ نبی کریمﷺ سے شراب کو دوا میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو اپنے فرمایا مرض ہے علاج نہیں۰(زادالمعاد)

    نیز نبی کریمﷺ سے منقول ہے کہ جس نے شراب سے علاج کیا اسے اللہ شفاء نہ دے۰(زادالمعاد)۰

    شہد ک تاثیر:حضرت ابو ھریرہ رض فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شحص ہر مہینہ تین دفعہ صبح کے وقت چاٹ لے وہ کسی بڑی مصیبت وبلا میں مبتلا نہیں ہوتا۰(ابن ماجہ،مشکوۃ)۰

    قرآن وشہد میں شفا:حضرت عبداللہ بن مسعود رض فرماتےہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:کہ دو شھاء دینے والی چیزوں کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی اس کا استعمال ضرور کیاکرو)ایک شہد دوسرا قرآنشریف(یعنی أیات قرآن)۰(ابن ماجہ ،بیہقی،مشکوۃ)۰

    کلونجی کی تاثیر:حضرت ابوھریرہ رض فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کلونجی سے ہر بیماری کی شفاء ہے مگر موت کی نہیں۰(بخاری،مسلم،مشکوۃ)۰

    روغن زیتون:حضرت زید بن ارقم رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ذات الجنب کی بیماری میں روغن زیتون اور ورس (ایک بونی)کی تعریف کی۰(ترمذ,مشکوۃ)۰

    دوا میں حرام چیز کی ممانعت:حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم دوا سے بیماری کا علاج کرو لیکن حرام چیز سے اس بیماری کا علاج نہیں کرو۰(ابوداؤد، مشکوۃشریف)۰

    مرگی:نبی کریمﷺ اکثر اوقات آفت زدہ کے کان میں یہ آیت پڑھا کرتے تھے: (افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون)اور آیت الکرسی سے بھی اسکا علاج کیا کرتے تھے اور آفت زدہ کو بھی اسکا ورد رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اور معوذتین پڑھنے کو بھی فرمایا کرتی تھے۰(زادالمعاد)۰

    ‎@Tareef1234

  • اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام انسان دوستی اور عظمت ِ انسانیت کا درس دیتا ہے اسلام ہمیں نفرت اور قتل و غارت نہیں بلکے امن، سلامتی اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسانیت کی کامیابی کا ضامن ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے غیرمعمولی ظاہری اور معنوی خوبیوں سے آراستہ کیا اسلام ایک دینِ کامل اور مکمل دستورِحیات ہے، اسلام میں انسانی زندگی سے متعلق تعلیمات وہدایات موجود ہیں اسلام نے انسانی تاریخ میں غیرمعمولی انقلاب برپا کیا، اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ تمام انسان ،خواہ وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتے ہوں، کسی بھی مذہب کو ماننے والے ہوں مگر سب اللہ کے بندے ہیں
    اللہ کے رسول نے تمام انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
    ’’اے لوگو!بلاشبہ تمہارارب ایک ہے اورتم سب کا باپ بھی ایک ہے،جان لوکہ کسی عربی کوکسی عجمی پراورنہ ہی کسی عجمی کوکسی عربی پر،نہ کسی گورے کوکسی کالے پر اورنہ کسی کالے کو کسی گورے پرکوئی فضیلت اوربرتری حاصل ہے ،سوائے تقویٰ کے۔ ‘‘
    سب انسان ایک مٹی سے بنے ہیں ہم انسانوں میں فرق ہم دنیا والوں نے بیدا کررکھا ہے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ،کسی بھی گورے کو کالے پر کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ،غریب کو امیر یا امیر کو غریب پر ،کسی رنگ ،نسل ،قوم،علاقے کی وجہ سے کوئی فوقیت نہیں ۔سب انسان برابر ہیں اللہ کی نظر میں برابر ہیں ۔ذات قبیلے رنگ روپ نسل سب کوایک دوسرے کی پہچان کو بنائے گیا ہے ابتر بتر کے لئے نہیں بنایا گیا ۔

    اسلام انسان کو کچھ حقوق بھی دیے ہیں اسلام ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اسلام بلاتفریق ِ رنگ و نسل و مسلک و مذہب، ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ انسانی جان کے احترام کو اسلام نے فرض قرار دیا ہے ہر انسان کو جینے کا حق ہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ معاشرے میں ہر شخص کی جان، مال اور آبرو کا تحفظ ہر انسان کا حق ہے بلاتفریق بنیادی حق ہے۔ اسلام نے عزتِ نفس کو بھی اہمیت دی ہے اور ایسی گفتگو کو بھی منا کیا گیا ہے جس سے کسی کی بے عزتی کا پہلو نکلتا ہو۔ اسلامیہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ عورت بہرحال محترم ہے، خواہ وہ اپنی قوم کی ہو، یا دشمن قوم کی ہماری ہم مذہب ہو یا کسی غیرمذہب سے تعلق رکھتی ہو، یا لامذہب ہو۔عورت کی عصمت کے احترام کا یہ تصور اسلام کے سوا کہیں نہیں پایا جاتا۔ بدقسمتی سے معاشرے نے عزت کا پیمانہ معاشی حیثیت کو بنا رکھا ہے اسلام ہمیں شخصی ومذہبی آزادی کا حق بھی دیتا ہے دین اسلام میں زبردستی کا پہلو موجود نہیں ہے

    اسلام احترامِ انسانیت اور امن و سلامتی کا علم بردار ہے۔انسان دوستی اور احترام انسانیت دین اسلام کا امتیاز اور بنیادی شعار ہے ،جس کے بغیر احترام انسانیت اور امن و سلامتی کا تصور بھی محال ہے۔ فتنا فساد تب ہوتا ہے جب انسان جب اپنی اس حیثیت کو بھول جاتا ہے یااحساس برتری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو فتنہ وفسادپر آمادہ ہوجاتا ہے۔ پھرحسد، تکبر، غیبت ، چوری ،چغلی، قتل و غارتگری، بدکاری و بداخلاقی جیسی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس صورت میں ایسے لوگوں کی اصلاح و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے آج انسان اپنی عظمت کھو چکا ہے ، غلط جگہ پر اپنی عزت کو تلاش کر رہا ہے، دنیا کے عارضی عیش وآرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے جسیے ساری عمر اس دنیا میں رہنا ہے آج کا انسان یہ بھول چکا ہے ایک دن اللہ کے سامنے پیش بھی ہونا ہے اور ہر چیز کا جواب دینا ہے اس کو بس دنیا کے کاموں سے مطلب رہے گیا ہے ۔ پوری طرح اپنی ذاتی خواہشِ نفس کا غلام بن چکا ہے انسانی جان کا کوئی احترام باقی نہیں رہ گیا اپنے مطلب کے لئے کچھ مقصد کے خاطر یک دوسرے کی جانوں کے در پر ہے۔انسان کے وہ سارے اخلاقی اقدار کھو چکا ہے۔ فضیلت انسان کی تخلیق اس کائنا ت میں جتنی بھی اشیاء اللہ رب العزت نے پیدا کیں ’کُنْ‘’فَیَکُوْنُ‘ کے پس منظر میں نظر آتیں ہیں جبکہ حضرت انسان کو اللہ رب العزت نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث اس بات پر دلالت کرتیں ہیں ، اللہ رب العزت کا اپنے ہاتھوں کسی کا تخلیق کرنا اس کی اہمیت اور انفرادیت کو واضح کرتاہے کائنات کو تخلیق کرنے کے مفہوم پر نظر ڈالی جائے تو تسخیرِ کائنات کا مقصد ایک یہ کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے، زمین، سمندر،پانی، ہوائیں،پہاڑ، چاند،سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیاء کائنات گنی جاسکتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا مگر انسان کے بغیر ان چیزوں کا کچھ نہیں بگڑتا۔

    اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہوں، نباتات ہوں یا حیوانات ہو ں، اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمادی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے استعمال کر چکا ہےاور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتاہے۔ رہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً : سورج، چاند ،ستارے وغیرہ تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنادیئے ہیں اور انسان کو ایسے نظم وضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتاہے اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتاہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی   تحریر: احسان الحق

    تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی تحریر: احسان الحق

    سورہ الشمس میں اللہ رب العالمین نے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کا تذکیہ کر لیا. اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی کامیابی کی تعریف ہماری تعریف سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ نے کامیابی کی تعریف بھی بتا دی اور کامیابی حاصل کرنے کے 3 اصول بھی واضح طور پر سمجھا دیئے ہیں. ہمارے خیال میں دنیا کی ترقی ہی کامیابی ہے. دنیا میں کامیابی دنیاوی لحاظ سے تو ٹھیک ہے کیونکہ دنیا میں سہولیات سے فائدہ اٹھانا درست ہے مگر حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں رہتے ہوئے اعمال صالحہ کرتے کرتے فوت ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو جہنم سے نجات دی اور اسکو جنت میں داخل کر دیا، ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے.

    اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے قرآن مجید میں تین اصول ارشاد فرمائے ہیں. پہلا اصول "تذکیہ نفس” مطلب نفس کو پاک کرنا. حقیقی کامیابی کا پہلا ضابطہ اور اصول یہ کہ جس انسان نے اپنے نفس کا تذکیہ اور محاسبہ کرتے ہوئے اپنے نفس کو پاک اور طاہر بنا لیا اور خود کو گناہوں سے بچا لیا، وہ شخص کامیاب ہے.

    "تذکیہ” کا لغوی معنی ہے کہ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنا اور دوسرا مطلب زکوٰة سے ملتا ہے جس کا مطلب پاک کرنا اور "بڑھانا” ہے. جیسے زکوٰة دینے سے آپ کا مال پاک ہوتا ہے اور دوسرا اس مال میں برکت حاصل ہوتی ہے، گویا تذکیہ نفس کا مطلب ہوا کہ اپنے باطن اور نفس کو گناہوں سے پاک کرنا، معافی طلب کرتے ہوئے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنا اور اپنی نیکیوں اور اجروثواب میں اضافہ کرنا. ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات دے دیتے ہیں اور جنت میں داخل فرما دیتے ہیں. جس شخص کو جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور اس کو جنت کا داخلہ مل جائے وہی شخص کامیاب ہے. اللہ رب العزت جس شخص کے بارے میں فیصلہ فرما دیں کہ اس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کرنا ہے، وہی شخص حقیقی فلاح اور کامیابی پانے والا ہے.

    صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں ارشاد فرمایا. آپ رسولﷺ نے فرمایا کہ میری ساری امت کی تمام عافیت، بہتری، فلاح اور برتری پہلے دور میں ہے مطلب "ابتدائی خلفائے راشدین کا دور”. بعد کا دور بدعات اور فتنوں کا دور ہے. آپ لوگ ایسے ایسے کام دیکھیں گے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہونگے. لوگ عبادت سمجھتے ہوئے ان فتنوں اور بدعات کو قبول کر لیں گے. آپ لوگ اپنے علم کی بنیاد پر سوچیں گے کہ یہ کام نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں، پھر بھی لوگ اس کام کو نیکی اور باعث اجروثواب سمجھ کر کر رہے ہونگے. اس وقت فتنوں کے دور میں، جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے اور جہنم سے چھٹکارا حاصل ہو جائے تو اس بندے کو جب موت آئے تو عقیدہ توحید اور عقیدہ سنت پر موت آئے مطلب آخر تک عین اسلام پر ڈٹا رہے، آخرت پر اس کا پورا یقین ہو، اعمال صالحہ کرتے ہوئے اس کو موت آ لے تو ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالیشان کا مطلب ہے پرفتن دور میں ہر شخص اپنے آپ کو فتنوں سے دور رکھے اور صحیح اسلام پر ڈٹا رہے.

    .

    قرآن مجید میں بیان کردہ کامیابی کے 3 اصولوں میں پہلا اصول "تذکیہ نفس” ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اور جتنا بڑا گناہ اتنا بڑا اور گہرا دھبہ ہوتا ہے. گناہ کرنے سے انسان کا نفس اور باطن مجروح اور سیاہ ہو جاتا ہے اور تذکیہ نفس یا نفس کی پاکیزگی سے اس گناہ کی سیاہی اور گندگی صاف ہوتی ہے. گناہ کی سب سے بھیانک سزا یہ ہے کہ بندہ یکے بعد دیگرے گناہ کرتا جاتا ہے. گناہ سرزد ہونے کے فوراً بعد انسان کو توبہ اور تذکیہ نفس کر لینا چاہئے ورنہ ایک کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تیسرے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے.

    انسان کے مسلسل گناہوں کی وجہ سے اس کے دل پر سیاہ دھبے لگتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں. کسی انسان کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس بندے کے اور اس بندے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے. جب اللہ تعالیٰ کسی بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جائیں تو پھر کوئی بھی اس بندے کو نیکی کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں کر سکتا ہے.

    رسولﷺ کے ارشاد کے مطابق "اگر آسمان کے سارے فرشتے آ جائیں، زمین میں مدفن تمام مردوں کو زندہ کر دیا جائے، دنیا میں موجود ہر چیز کو اللہ رب العالمین کی طرف سے زبان دے دی جائے، ریت کے تمام ذرات اور پتوں سمیت ہر چیز کو بولنے کی طاقت دے دی جائے اور وہ سب مل کر اس مہر زدہ بندے کو نیکی کی طرف نہیں بلا سکتے.

    انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اس سے پہلے کہ اس کا یوم محشر حساب ہو، انسان اپنے ضمیر کا معائنہ و محاسبہ کرتے ہوئے تذکیہ نفس کرے اور تمام گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مستفید ہو اور حقیقی کامیابی کی سند لے.

    صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ایک بار رسولﷺ تشریف لاتے ہیں اور صحابہ کرامؓ سامنے بیٹھے تھے اور آپ رسولﷺ نے ایک سوال کیا کہ "آپ میں سے کوئی اپنے گھر جائے اور کسی اجنبی کو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا دیکھے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟”

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فوراً بولے کہ میں تلوار کی دھار سے اس آدمی کا سر اس کے ڈھڑ سے جدا کر دونگا. جواب سن کر نبی کریم ﷺ فرمانے لگے کہ سعد کی غیرت کو دیکھو، اس کو بالکل گوارا نہیں کہ کوئی غیر بندہ اس کے گھر میں داخل ہو. اسی طرح اللہ رب العزت کو بھی یہ بات پسند نہیں کہ میرا بندہ میرے علاوہ کسی کی عبادت کرے یا مدد طلب کرے. رسولﷺ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں سب سے بڑا باغیرت اور باحیا ہوں اور اللہ مجھ سے بڑے باحیا اور باغیرت ہیں”. اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک صفت غیرت بھی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت مخلوق کی غیرت سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہے.

    جناب رسولﷺ فرماتے ہیں کہ میری پوری امت معافی کی مستحق ہے مگر وہ لوگ مستحق نہیں جو کھلے عام گناہ کرتے ہیں یا تنہائی میں گناہ کرنے کے بعد خود لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں اور فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ پیش کرتے ہوئے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ فلاں کام (گناہ) میں نے کیا. بندے نے تنہائی میں گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ پر پردہ ڈال کر اس بندے کو شرمندگی سے بچا لیا مگر اس بدبخت نے لوگوں میں خود ہی اپنا گناہ بیان کر دیا. یہ دونوں قسم کے بندے بخشش کے لائق نہیں.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کے کچھ لوگ آخرت کے دن تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں لائیں گے لیکن ان تمام نیکیوں کا ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوگا. یہ وہ لوگ ہیں جو تنہائی میں گناہ کرتے ہیں اور محفل میں بڑے متقی اور پرہیزگار ہیں.

    "ایک مومن بندہ شیطان کو تھکا دیتا ہے ایسے جیسے تم لوگ مسلسل سفر کرنے کے بعد تھک جاتے ہو”. اس ارشادِ نبویؐ کا مطلب یہ ہے مومن بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس ذکر الٰہی کے ہر ورد یا کلمے پر شیطان کی پیٹھ پر کوڑا لگتا ہے. حضرت سفیان ثوری کا قول ہے کہ سب سے زیادہ جس ذکر سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے وہ "لا اله الا الله” ہے. اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو حقیقی کامیابی عطا فرمائیں اور تذکیہ نفس کی توفیق دیں.

    @mian_ihsaa

  • علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآنِ مجید میں قیامت کی ایک علامت بتائی گئی ہے، وہ علامت یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ ہمارے ہاں یأجوج و مأجوج کے بہت سے قصے مشہور ہو گئے ہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہے۔ قرآن نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کے بارے میں بتا دیا ہے کہ ” یہاں تک کہ یأجوج و مأجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر گھاٹی سے آپ کو لپکتے ہوئے نظر آئیں گے، جیسے کوئی گروہ پِل پڑتا ہے۔” پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کا ظہور ہو جائے گا۔

    ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ علاماتِ قیامت کو بیان کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آ گئی؟

    انبیاء نے بتا دیا کہ قیامت آئے گی، لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب برپا ہو گی۔ قیامت کا وقت کسی نبی نے نہیں بتایا، اور وقت بتانا بھی نہیں چاہیے۔ اگر قیامت کا وقت معین کر دیا جائے تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ امتحان کے لیے جس طرح ضروری ہے کہ موت کا وقت نہ بتایا جائے اسی طرح قیامت کا وقت بھی نہیں بتایا گیا۔سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی۔

    قیامت درحقیقت موت ہی ہے۔ ایک وہ موت ہے جو انفرادی طور پر انسانوں پر طاری ہو رہی ہے۔ ایک موت وہ ہے جو گویا پوری کی پوری انسانیت پر طاری ہو جانی ہے۔ اسی کو قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامت کے بارے میں وقت تو نہیں بتایا گیا پر خبر ضرور دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں منادی کی گئی ہے، لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کی تیاری کرو۔

    اس کی علامت بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔ اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے۔ قیامت کی جب منادی کی جا رہی ہے تو منادی کرنے والے کون ہیں۔۔۔اللہ کے پیغمبر۔ انبیاء کرام جس طرح کسی چیز کے علمی اور عقلی دلائل دیتے ہیں بالکل اسی طریقے سے بعض اوقات حسی دلائل بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یعنی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ علمی اور عقلی دلائل سے متنبہ نہیں ہو رہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر متنبہ ہو جائیں۔ بعض انبیاء کو اپنے معجزات بھی دکھانے پڑے۔ وہ معجزات ان کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کے دونوں بڑے معجزے” یدبیضاء” اور "عصا” کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو دلائل تھے”۔

    معجزہ کیا ہے؟۔۔۔کسی شخص کے ساتھ خدا کی معیت کا ظہور ہی معجزہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اسی طرح سے انبیاء کرام کچھ پیشین گوئیاں کرتے ہیں، وہ پیشین گوئیاں بھی اصل میں ان کی صداقت کے دلائل ہیں۔ مثال کے طور پر غلبہ روم کی پیشین گوئی کی گئی تھی، جب کِسری (خسرو) نے آپﷺ کا خط پھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس نے اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دیے۔ بہت سی پیشین گوئیاں ہیں جو اللہ کے پیغمبر نے کی تھیں، اسی طریقے سے وہ بعد میں آنے والے زمانوں کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ جس وقت ان پیشین گوئیوں کا ظہور ہوتا ہے تو پیغمبر کی عدم موجودگی میں بھی پیغمبر کی طرف توجہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں، گویا صداقت کی ایک اور دلیل پیدا ہو جاتی ہے۔

    یہ درحقیقت وہ دلائل ہیں جن کو قرآن مجید نے  آپ ﷺ کی موجودگی میں بیان کیا تھا کہ،”ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے” یہ نشانیاں خود آپﷺ کے سامنے بھی دکھائی گئیں اور جب آپﷺ کی نبوت قیامت تک ہے تو ظاہر ہے یہ نشانیاں قیامت تک نمودار ہوتی رہیں گی۔

    اسی طرح آپﷺ نے قرب قیامت کے بارے میں بھی کچھ نشانیاں بیان کی ہیں اور قرآن مجید نے بھی اس بارے میں بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک نشانی ہی بیان کی گئی ہے، اور وہ نشانی یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ یأجوج و مأجوج کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ جو اس وقت دنیا ہے  یعنی دنیا کا ایک دور وہ ہے جو حضرت آدمؑ کے بعد شروع ہوا اور اُس کا خاتمہ حضرت نوحؑ پر ہوا۔ اس کے بعد حضرت نوحؑ کا دور شروع ہوا۔ ساڑھے نو سو سال کی غیر معمولی زندگی انہوں نے بسر کی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر عذاب کا فیصلہ کیا۔ وہ لوگ جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے ان کے لیے حکم دیا گیا کہ ایک کشتی میں سوار کر لیا جائے۔ تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نجات پائی۔ ان میں سے ان کے تین بیٹے ہیں (حام، سام اور یافث) جن کی اولادیں پروان چڑھیں۔ 

    آپ اگر دیکھیں تو پہلے مرحلے میں حام کی اولاد ہے جو دنیا میں اقتدار تک پہنچی، یہ زیادہ تر افریقہ میں آباد رہے۔ ان کی بڑی بڑی سلطنتیں وہیں وجود میں آئیں۔اس کے بعد سام کی اولاد کو اقتدار حاصل ہونا شروع ہوا، یہ جو قدیم عرب کے بادشاہ تھے یہ دراصل سامی بادشاہ تھے۔ تیسرے بیٹے یافث کی اولاد وسطی ایشیا میں جا کر آباد ہوئی۔ یافث کے پھر دس ،بارہ بیٹوں کا نام آتا ہے۔ یافث کی اولاد میں سے یأجوج و مأجوج کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔ یہ یأجوج و مأجوج کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہے بلکہ حضرت نوحؑ کے پوتے ہیں۔

    یأجوج و مأجوج نے وسطی ایشیا سے اپنی زندگی کی ابتدا کی اور پھر یہیں سے ہجرت کر کے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پہنچے۔ جب دنیا ختم ہونے کے قریب آئے گی تو یہ دنیا کے پھاٹکوں پر قبضہ کر چکے ہوں گے۔ آج اگر آپ دنیا کے نقشے کو اُٹھا کر دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک دائرے میں یأجوج و مأجوج کا اقتدار ہے، اور درمیان میں حام اور سام  کی نسلیں آباد ہیں۔ چنانچہ اس وقت یأجوج و مأجوج اقتدار میں ہیں اور اب آہستہ آہستہ یہ وقت آئے گا کہ جب یہ ہر گھاٹی سے لپکیں گے اور یہاں تک کہ سمندروں کا سارا پانی پی جائیں گے، اور اس کے بعد قیامت برپا ہو گی۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات  تحریر: تیمور خان

    ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات تحریر: تیمور خان

    صفر المظفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس مہینے کے حوالے سے میں آج چند گذارشات تحریر کر رہا ہوں، اور وہ گذارشات یہ ہیں، کہ جہالت کی وجہ سے عام طور پر اس مہینے کو منحوس مہینا کہا جاتا ہے، اور کم علمی کی وجہ سے جہالت کی وجہ سے اس مہینے کے ساتھ بہت سارے شکوک اور تھمات وابستہ کیے جاتے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ شعریت اسلامیہ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے کہ ماہ صفر المظفر کے متعلق جو شکوک اور جہالت والی باتیں ہیں ان کی کیا حقیقت ہے،

    یاد رکھیں انسان پہ جو بھی مصیبت آتی ہے تکالیف اور بیماریاں آتی ہے اس کے آنے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں، اللہ تعالیٰ نے پانچویں پارہ کے سورۃ نساء میں واضح طور پہ فرمایا۔ ٫٫ اے لوگوں تم میں سے جس پر بھی دنیا میں جو بلائی اور خیر ملتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور تمہیں دنیا میں جو تکلیفات مشکلات اور مصیبتیں ملتی ہے تو تمہارے اپنے کئے ہوئے شامت اعمال کی وجہ سے ملتی ہیں؛؛

    تو پہلی بنیادی وجہ انسان کو دنیا میں جو تکلیف اور اذیت ملتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال ہوا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تمہارے گناہ اور تکسیرات کو معاف بھی کر دیتا ہے،اور  دوسری بنیادی وجہ انسان پہ جو مصیبتیں اور تکالیف آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائشی کے طور پر آتی ہے، ان میں گناہوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ میرے اس بندے کے دراجات بلند ہوں اور جب اللہ اپنے بندے کو اپنا قرب دینا چاہتا ہے اپنا نزدیک بنانا چاہتا ہے، تو پھر بندے پہ اللہ اپنے امتحانات مقرر کر دیتا ہے، اور جب ان تکالیف اور امتحانات کے باوجود بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ سے لو لگائی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے درجات بلند کرتا ہے۔ 

    اسی کے متعلق اللہ تبارک وتعالٰی نے دوسرے پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ اے لوگوں ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور آزمائیں گے ڈر کی وجہ سے، اس ڈر کی وجہ سے تمہیں آزمائیں گے، کبھی تمہیں بھوکا رکھیں وہ تمہاری آزمائش ہوگی، تمہارے مالوں میں ہم کمی کر دینگے ، تمہاری جانوں کا بھی ہم امتحان لینگے، اور کبھی کبھی میووں کے ذریعے تمہاری آزمائش لیں گے، اولاد چین کے تمہارا امتحان لیں گے، لیکن اللہ نے فرمایا اے میرے حبیب ان تکالیف میں جو صبر کرنے والے ہیں آپ ان کو خوشخبری دے دیجیے۔

    یہی وجہ ہے انبیاء کرام جو کے تمام انسانوں میں سب سے افضل اور اشرف جماعت ہیں ان پہ سب سے زیادہ تکلیفات اور مصیبتیں آئیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا جتنی تکلیفات اور مصیبتیں انبیاء اور سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں مجھ پہ آئیں اتنی آج تک کسی بھی نبی پہ  نہیں آئیں، تو جو اللہ کا جتنا ہی زیادہ مقرب ہوگا اس کی مشکلات بھی اتنی ہی زیادہ ہونگی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ جب عام انسان پہ مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں تو وہ شور مچائے گا وہ اللہ سے شکوہ کرے گا، لیکن جب اللہ کا نیک بندہ ہوگا اس کے ظاہری چہرے سے بھی کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہ تکلیف میں ہے وہ صبر اور تحمل سے کام لے گا، اسی لئے اللہ فرماتا ہے کہ انہیں لوگوں پہ اللہ کی رحمت پھر اترتی ہے۔

    تو اسی لئے میں نے شروع میں تحریر کیا کہ صفر المظفر کا مہینہ ہے لوگ جہالت کی وجہ سے منحوس کا لقب دیتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب بھی صفر المظفر کا مہینہ آتا لوگ تجارت کے لئے نہیں جاتے تھے لوگ سوچتے تھے اگر تجارت کے لئے جاؤں گا تو مجھے تجارت میں نقصان ملے گا، لوگ اس مہینے میں شادیاں روک لیتے تھے ان کا کہنا تھا یہ شادی ناکام ہو جائے گی یہاں تک کہ اس مہینے میں کوئی بھی فیصلہ جس میں انسان اپنے کامیابی کی طرف جاتے تھے وہ اس مہینے میں وہ فیصلے نہیں کرتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو اسلام نے اسے قسم کے شکوک تھمات کو ختم کر دیا اسلام نے کہا یہ سب توھمات ہیں، اسلام نے کہا سارے مہینے اللہ کہ محرم الحرام بھی اللہ کا مہینہ ہے صفر المظفر بھی اللہ کا مہینہ ہے ذی الحجہ تک جتنے بھی قمری مہینے ہیں یہ سب اللہ کے مہینے ہیں کوئی بھی نحوست کی بات نہیں بلکہ اسلام نے لفظ نحوست کو ختم کیا۔ ، جب اسلام نے کسی چیز میں کمی نہیں چوڑی تو پھر توھم کس بات کا، جب تم اللہ پہ توکل کرو گے کوئی وسوسہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا توھم کے بت سرکارِ دوعالم ﷺ نے دفنا دیے ہیں

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا بخآری مسلم شریف کی حدیث ہے، آپ نے فرمایا چار چیزیں جن کو عرب نے منحوس قرار دیا وہ کہتے تھے بیماری خود بخود ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہیں اسلام نے اس کو ختم کر دیا یہ توھم والی بات ہے ایک بیماری اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر دوسرے انسان کو کبھی بھی نہیں لگتی محدیثین فرماتے ہیں بلکہ اللہ کا ارادہ اس میں شامل ہوتا ہے، حضور نے فرمایا بدفغالی اسلام میں نہیں٫ مثال کے طور پر میں راستے میں جا رہا تھا کالی بلی میرے سامنے سے گزر گئی اس لئے میں بیمار ہوا؛ فلاں میرے ماتھے پہ لگا صبحِ صبح،، البتہ نیک فعا لی  ہے، مثال کے طور پر آج میرا دن بہت اچھا گزرا کیوں کہ میں نے اپنی ماں کے چہرے کی زیارت کی۔ حضور نے فرمایا علو میں بھی کوئی نحوسیت نہیں، ٫٫علو ایک پرندہ ہے؛؛ جس کو عرب والے نحوس پرندہ کہتے تھے، جب کوئی راستہ پہ جاتا تو اگر راستے میں اس کو علو کی آواز آتی یا اسکا نظر علو پر لگتا تو وہ واپس آتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ صفر المظفر میں بھی کوئی نحوسیت نہیں ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صفر المظفر کو نحوس مہینہ کہا جاتا تھا خصوصاً صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو منحوس کہا جاتا ہے یہ رسم ہمارے معاشرے میں ہندستان سے آئی ہے چونکہ ہم متحدہ ہندوستان میں تھے پہلے ہمارے بڑے اکٹھے رہتے تھے سکوں اور ہندوؤں کے ساتھ کیونکہ یہ ان کے ہی توھمات  تھے اور یہی توھمات زمانہ جاہلیت میں عرب کے بھی تھے اور ہمارے برصغیر میں صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو تیرہ تیزی بھی کہتے ہیں، تیرہ تیزی کا مطلب کی اس مہینے کے پہلے تیرہ دن سخت ہوتے ہیں،، تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ان باتوں کا کوئی بھی اصل نہیں ہے یہ جھوٹ اور جہالت والی باتیں ہیں سارے دن اللہ کے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں اسی لئے علماء نے کہا کہ صفر کے نام کے ساتھ  المظفر کا نام بھی لگا دیا کرو آپ نے اکثر دیکھا بھی ہوگا، المظفر کا مطلب کامیابی،، تو صفر المظفر یعنی وہ مہینہ جس میں انسان کو کامیابیاں ملتی ہیں، یہ المظفر کا لفظ ساتھ میں اس لئے لگایا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں سے وہ توھمات اور بد شگونیاں نکل جائیں۔ اس لئے اس مہینے میں اس قسم کی باتیں کرنا یہ جہالت والی باتیں اس قسم کی باتوں کا اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ صفر المظفر کے پورے مہینے میں اکثر لوگ پورا مہینہ یا صفر کے آخری بدھ کو کیر پکھاتے ہیں یا کوئی خیرات کرتے ہیں، اگر یہ اپنے بڑوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی دن بھی مقرر نہیں یعنی پورے مہینے میں ہر وقت کرے پھر جائز ہے اور اگر نہیں صرف اس کے لئے خاص دن یعنی بدھ رکھا گیا ہو تو پھر ناجائز ہے اگرچہ ہمیں اس کا اصلاح کرنا چاہیے کہ آپ جو بھی خیرات دے رہے ہو وہ اللہ کی رضا اور بڑوں کے ایصالِ سواب کے لئے اگر وہ بدھ ہو گا جمعرات تو پھر جائز ہے۔ بعض غیر مستند کتب او رسالوں میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس آخری بدھ والے دن ہم چوری یا خیرات اس لئے کرتے ہیں کہ یہ بیبیوں نے کی تھی اور خاص کر حضرت فاطمہ خاتون جنت کے متعلق اس قسم کی روایات بیان کی جاتی ہے یاد رکھیں یہ روایت غلط ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔٫٫ اور روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ صفر کا جو آخری بدھ تھا سرکارِ دوعالم ﷺ چونکہ اس بدھ سے پہلے بیمار تھے اور اس آخری بدھ کو آپ کی تبعیت زرہ سی ٹھیک ہوئی تھی اور آپ گھر سے باہر تشریف لائے تھے، تو اس خوشی میں خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ نے کچھ خیرات کیا تھا، تو یاد رکھیں صدقہ اور خیرات بلکل جائز ہے لیکن اس روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی بنیاد پر یہ بلکل ناجائز ہے، ہمارے برصغیر پاک و ہند میں جتنے بھی بڑے بڑے علماء ہیں انھوں نے اس روایت سے یکسر انکار کیا ہے یہاں تک کہ مستند کتابوں میں بھی اس کا کوئی اصل نہیں بلکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ نے اپنے تصانیف میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخری بدھ تھا صفر المظفر کا اس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی بیماری اور بھی زیادہ ہو گئی تھی، بعض لوگ لا علمی کی وجہ سے کہ آپ کی بیماری شائد کم ہوئی تھی تو اس لئے اگر کوئی  اس نیت سے کہ آخری بدھ والے دن  صدقہ یا خیرات کرتا ہے تو یہ ناجائز ہے باقی اگر کوئی اچھے نیت سے محرم سے لے کر ذی الحجہ تک اور صفر المظفر کے پورے مہینے خیرات کرتا ہے اس کو منع نہیں کرنا چاہیے یہ جائز ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  • طب، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کون کون سے ادویہ کا ذکر قرآن وحدیث میں آیا تحریر اکرام اللہ نسیم

    قرآن مجید اللہ پاک کی آخری نازل شدہ آسمانی کتاب ہے جو نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ وسلم پر تیس سال کے عرصے میں نازل ہوئی اللہ پاک نے ہر مسلمان کو قرآن مجید کو پڑھنے اور اسکو سمجھنے کے لئے بھیجا تاکہ اسکو سمجھ کر صحیح معنوں میں دین اسلام پر چلنے کا سلیقہ آئے

     اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں طبی ادویات کا ذکر کیا تاکہ انسان بیماری کی صورت میں ان ادویات سے فائدہ   اٹھا سکے

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں  انجیر ، زیتون ، کافور، کھجور، دودھ ،انار ، مچھلی ، یاقوت، مرجان، شہد، پیاز مٹی ریشم سونا چاندی ترنجبین  زنجبیل مونگا موتی الحدید پرندوں کا گوشت بیر ریحان جانوروں کا گوشت مختلف پھلوں میوں اور بارش کے پانی کا بھی ذکر کیا 

    طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد وہ تمام ادویہ اغذیہ بقاء صحت کی تدابیر اور وہ چیزیں جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو

    حدیث میں ان ادویہ کا ذکر ہے کھمبی سناء شہد سویا تلبینہ قسط زیتون مہندی سرمہ اونٹنی کا دودھ کافور زعفران تربوز گھی بیر ریحان کستوری  ریشم لوبان ثرید آب بارش  زم زم چقندر کاسنی  کا ذکر ہے اسکے علاوہ بھی دیگر اشیاء کا ذکر ہے 

    عطائی معالج کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے علاج کیا حالانکہ اس سے علاج معالجے کا کچھ علم نہ تھا  اس حال میں زمہ داری اس معالج پر آئے گی  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے طب کا علم نہ ہونے کے باوجود معالجے کی زمہ داری لی تو وہ ہر طرح کے نقصان کا ذمہ دار ہوگا 

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار کے بیمار کے لئے جو کا دلیا بنانے کا حکم دیتے اور وہ مریض کو کھلایا جاتا  

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھمبی کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء بخش ہے اور تلبینہ دل کے بیمار کے لئے تسکین بخش ہے اور یہ غم کو زائل کرتاہے بہی کے بارے میں فرمایا کہ یہ دل کو مضبوط کرتی ہے روح کو نشاط بخشتی ہے اور سینے کی گھٹن کو دور کرتی ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلونجی میں ہر بیماری کے لئے شفاء ہے سماء اور شہد کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کو استعمال کرو اسمیں سوائے موت کہ ہر بیماری کی شفاء ہے 

    اسہال کی شکایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے ایک شخص کو شہد تین بار پینے کا کہا تین مرتبہ پینے کے بعد اسکو شفاء مل گئی

    زم زم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے 

    زیتون کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسمیں 72بیماریوں کی شفاء ہے

    ہر انار کے اندر جنت کے پانی کا ایک قطر ہے 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ میں بہترین سرمہ اثمد ہے یہ بینائی کو روشن کرتا ہے اور بال اگاتا ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے کاسنی موجود ہے کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا  کہ جب جنت کے پانی کے قطرے اس پر نہ گرتے ہوںکاسنی کھاؤ مگر اسے جھاڑو متکاسنی بچھو کے کاٹے پر لگانا مفید ہے اور آنکھ میں ڈالنا موتیا کو فایدہ دیتا ہے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل  ‎@realikramnaseem

  • حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    ‏(بسم اللہ الرحمن الرحیم)

    تابعین کرام میں اپ کی کیا حیثیت تھی؟اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں  کسی کو کوڑوں سے نہیں مارا ،مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہ رض پر زبان درازی کی تھی،اس کے متعلق انہوں نے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں۰

    (ابن عبدالبر:الاستیعاب تحت الاصابہ ج:۳ ص:۱۳۵)

    حافظ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک جہ مشہور تابعین میں سے ہیں ،ان سے کسی نے حضرت معاویہ کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن المبارک جواب میں کہنے لگے:بھلا میں اس شخص کے بارےمیں کیا کہوں؟جس نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہو اور جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو انہوں نے جواب میں ربنا لک الحمد کہا ہو۰

    (ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج۸ ص:۱۳۹)

    انہی عبداللہ ابن المبارک سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا کہ :یہ بتلائے کہ حضرت معاویہ اور حضرت عمربن عبدالعزیز میں سے کون افضل ہے؟سوال کرنے والے نے ایک جانب اس صحابی کو رکھا جس پرطرح طرح کے اعتراضات کئے گئے تھے ،اور دوسری طرف اس جلیل القدر تابعی کو جس کی جلالت شان پر تمام امت کا  اتفاق ہے،یہ سوال سن کرعبداللہ ابن مبارک غصے میں اگئے اور فرمایا”تم ان دونوں کی اپس میں نسبت.  پوچھتےہو،خدا کی قسم! وہ مٹی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے  ہمراہ جہاد کرتے ہوئےحضرت معاویہ کی ناک کے سوراخ میں چلی گئی،وہ حضرت عمر بن عبدالوزیز سے افضل ہے ”

    (حوالامذکورہ بالا)۰

    اسی قسم کا سوال حضرت معافی بن عمران رض سے کیا گیا تو وہ بھی غضب ناک  ہوگئے اور فرمایا :بھلا ایک تابعی کسی صحابی کے برابر ہوسکتا ہے؟حضرت معاویہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ،ان کی بہن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں تھیں،انہوں نے وحی خداوندی کی کتابت کی اور حفاظت کی،بھلا ان کے مقام کو کوئی تابعی کیسے پہنچ سکتا ہے؟

    اور پھر یہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ حضورﷺ  نے فرمایا جس نے میرے اصحاب اور رشتہ داروں کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو۰

    (ابن کثیر:البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۳۹)

    مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس اہل عرب میں بہت حلیم اور بردبار مشہور ہیں ،ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ:بردبار کون ہے ؟اپ یا معاویہ ؟اپ نے فرمایا :بخدا میں نے تم سے بڑا جاہل کوئی نہیں دیکھا ،حضرت معاویہ قدرت رکھتے ہوئے حلم اور بردباری سے کام لیتے ہیں اور میں قدرت نہ رکھتے ہوئے بردباری کرتا ہوں ،لہذا میں ان سے کیسے بڑھ سکتاہوں ؟یا ان کے  برابر کیسے ہوسکتا ہے؟

    چنانچہ ایک شیعہ مورخ امیر علی لکھتے ہیں:-

    مجموعی طور پر حضرت معاویہ کی حکومت اندرون ملک بڑی خوشحال اور پرامن تھی اور خارجہ پالیسی کے لحاظ سےبڑی کامیاب تھی۰

    (بحوالہ "حضرت معاویہ "مولفہ:حکیم محمود احمد ظفر سیالکوٹی۰)

    یہاں پر اسکی ایک حوش طبوعی کی واقعہ لکھتا ہوں ،ایک بار ایک شخص اپ رض کے پاس ایا اور کہنے لگا میں ایک مکان بنا رہا ہوں ،اپ میری مدد کردیجئے اور بارہ ہزار درخت عطا کردیجئے۰

    اپ رض نےپوچھا:کہاں گھر ہے؟

    کہنے لگا:بصرہ میں !

    اپ رض نے پوچھا "لمبائی چوڑائی کتنی ہے؟”

    کہنے لگا :دو فرسخ لمبائی ہے اور دو فرسخ چوڑائی ۰:

    اپ رض نے مزاخا فرمایا :-

    :-یہ مت کہو کہ میرا گھر بصرہ میں ہے،بلکہ یوں کہو کہ بصرہ میرے گھر میں ہے۰

    (حافظ ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۴۱۰)۰

    الغرض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین بہت بڑے مقام والے ہیں ۰ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریفات احادیث میں ائی صحابہ کرام اجمین نے ان کی تعریفات کئے ہیں اور بڑے بڑے اکابرین امت نے ان کی تعریفات کئے ہیں انشاء اللہ ابھی علمائے حق ان کی تعریفات کرتے اور قیامت کی صبح تک کریگی 

    صحابہ تو وہ لوگ ہے جس اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہے اللہ تعالی ہم کو صحابہ کرام اجمعین کی محبت عوطا فرمائے اور ان کی گستاخی سے اللہ تعالیہم سب کو محفوظ فرمائے۰امین ثم امین۰

    ‎@Tareef1234

  • معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی  کیا ہے ؟ اس کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے جس پہ تمام لوگوں کو جمع کیا جاسکے۔ ہر جگہ ہرسماج اور ہربرادری میں اس تعریف الگ الگ ہے۔

     انسان اپنے معیار پہ زندہ رہنے کی کوشش کرے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر جب انسان اپنے قائم کردہ معیار کو اپنے لئے لازم اور فرض ٹھہرالیتا ہے یا پھر دوسروں کے معیار زندگی کو اپنانے میں سماجی براربری یا برتری سمجھنے لگتا ہے تو یہ چیز کبھی کبھی جان لیوا بھی ہوجاتی ہے۔

    سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی اس مسئلہ کا شافی حل رکھتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کی زندگی بسر کیا کرتے تھے، اپنے احباب اور دوستوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر بیٹھا کرتے تھے کہ آنے والا شخص کنفیوژ ہوکر پوچھتا تھا کہ تم میں محمد کون ہے؟ کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، اٹھنا بیٹھنا ،سونا جاگنا سارا کچھ سادگی سے بھرا تھا اور بے جا تکلف سے پاک و صاف تھا۔آپ ص کی پسند بھی ایسی نہ تھی کہ جسے عام آدمی اگر اپنانا چاہے تو نہ اپنا سکے۔

    اہل مدینہ کو گوہ یعنی سانڈا پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان کھایا بھی گیا مگر آپ کو پسند نہ آیا تو آپ نے کبھی نہیں کھایا،مگر کسی کو منع بھی نہیں کیا۔

    من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کوئی کسی قوم کی نقالی کرے وہ اسی میں سے ہے) میں ایک نحیف اشارہ یہ ہیکہ مذہبی طور پہ کوئی مسلمان کسی کی نقالی نہ کرے۔ مسلمانوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ اس کا کلچر سارے عالم میں بہترین کلچرہے۔

    کبھی کبھار جب باہر سے کوئی امیر ملنے آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یمنی جبہ زیب تن فرماتے اور ملنے جاتے اور اس کا جواب یہ دیتے کہ انہیں ایسا نہ لگے کہ مسلمانوں کا امیر بالکل ہی کنگال ہے۔

    صحابہ کرام کوطواف کعبہ  کے پہلے تین چکر میں دلکی چال چلنے کو کہا تاکہ اہل مکہ کو یہ باور کرایا جائے کہ ایمان لانے کے بعد مسلمان لاغر نہیں ہوئے۔

    انسان اپنے لئے کوئی معیار اور اسٹنڈرڈ نہ بنائے کہ اس کے بغیر وہ جی نہیں سکتا مثلا ہفتہ میں ایک دن یا دو دن گوشت کھانا،بغیر جوتے کے باہر نہ نکلنا ،تہبند پہن کر باہر جانے کو معیوب سمجھنا،بغیر گوشت کے دعوت نہ کرنا،ادھار کی چیز پہ مہمانوں کی ضیافت کرنا،اپنے مسائل کو بلاوجہ چھپانے کی کوشش کرنا،لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا کہ وہ بڑا امیر انسان ہے جبکہ قرضوں میں مبتلا ہونا۔بغیر تحفہ و تحائف کے کسی کے گھر ملنے نہ جانا۔لوگوں کو قیمتی گفٹ دینا۔شان وشوکت کی مہمان نوازی کرنا۔۔۔۔۔۔

    المھم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان عیوب سے بالکل پاک تھی لہذا انہیں کوئی فکر اور ٹینشن نہیں تھا۔اپنے لئے چونکے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی لہذا ہمیشہ اوروں کیلئے سوچتے تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پہ پھٹے کپڑے ہوتے تھے جسےسب دیکھتے تھے،فاقہ سے پیٹ پہ پتھر بندھے تھے اسے سبھوں نے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض تھے سب کو پتہ تھا،اپنی پیاری بیٹی کو باندی نہ دی اور نصیحت کی کہ بیٹا تسبیح پڑھ لیا کرو اس سے تمہاری تکان دور ہوجایا کرے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ کبھی زکوٰۃ ادا کرپاتے،سونے کیلئے نرم بستر بھی میسرنہ تھا پیٹھ پہ چٹائی کا نشان دیکھ کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

    دراصل ہماری شان شوکت ہماری ایمانداری ، امانت داری اورعدہ پورا کرنے ،قرض سے دور بھاگنے اور اچھے معاملات برتنے میں ہے جسے ہم نے یکسر نظر انداز کردیا ہے اور اس کی جگہ ہم نے مصنوعی چیزوں کو اپنی پہچان بنانا شروع کر دیا ہے ۔

    یاد رکھیں کہ پیتل پہ سونے کی پرت خواہ کتنی بھی کم کیوں نہ ہو مگر قیمتی سونا ہی ہوتا ہے پیتل نہیں ۔

    اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر 

    آرام سے وہ ہیں جو تکلف نہیں کرتے.

    ‎@ImTaimurKhan

  • دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں ہر ایک کے لیے زندگی اور موت کا کارخانہ چل رہا ہے۔ موت و حیات کا یہ کارخانہ بنایا ہی اسی لیے گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما سکیں ۔جس وقت کوئی عزیر دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو انسان کو صدمہ پہنچتا ہے، یہ صدمہ پہنچنا بھی فطری عمل ہے اس لیے فطری اظہار پر دین میں کوئی پابندی نہیں، لیکن اس کو حدود میں رہنا چاہیے۔ وہ حدود آپﷺ نے مختلف موقعوں پر واضح فرما دیے ہیں۔ نوحہ نہ کیا جائے، چیخ وپکار نہ کی جائے اور اس طرح کی آوازیں بلند نہ کی جائیں جس سے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کا اظہار ہو۔

    اس موقعے پر اللہ تعالیٰ سے تعلق کا اظہار کرنا چاہیے، خود موت کو یاد کرنا چاہیے، اگر انسان صدمے کی کیفیت میں ہو تو خاموشی کو ترجیح دیں، اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کریں، نیکی اور خیر کی باتیں کریں اور سنیں۔انسان کو ان چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن صدمہ پہنچا ہے تو فطری طور پر کچھ وقت لگتا ہے جس کے بعد انسان سنبھلنا شروع ہو جاتا ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تین دن بہت ہیں۔ یعنی اگر آپ تین دن لوگوں کے لیے تعزیت کے لیے بیٹھ گئے ہو، اپنا کام کاج چھوڑا ہوا ہے یا اس صدمے کی کیفیت میں بسر کر رہے ہیں تو بس یہ تین دن بہت ہیں۔ اس کے بعد خود کو اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    یہ دنیا کیوں کہ دارالعمل ہے تو آپ موت ہی کے ساتھ وابستہ ہو کر تو نہیں رہ سکتے۔ لوگ اس دنیا میں آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس دنیا سے رخصت بھی ہو رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے عزیز دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اولاد سے بڑھ کر کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔لیکن آپﷺ کو اپنے آغوش میں بیٹھے ہوئے بچوں کو رخصت کرنا پڑا ہے۔ اس میں نہ پیغمبروں کو استثناء حاصل ہے نہ ہی بڑے اور نیک لوگوں کو استثناء ہے۔ اس کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر کے ہی زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔

    ہمارے دین نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ایسے موقعوں پر صبر کیا جائے۔ صبر کی اللہ تعالیٰ نے بہت غیر معمولی جزا بیان کی ہے۔ یعنی وہ صبر ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کی خوشنودگی حاصل ہوتی ہے، صبر ہے کہ جس کے نتیجے میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ملتی ہیں، اور صبر ہی ہے جس کا صلح اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جنت ہے۔

    جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تعزیت کے لیے تین دن بہت ہیں، اسکے بعد آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہو جائیے۔ اگر آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہوں گے تو صدمے کی کیفیت میں بھی کمی ہو گی، آدمی کا دماغ پلٹتا ہے، خیالات میں تبدیلی آتی ہے ورنہ تو ظاہر ہے کہ اگر آپ صدمہ کی کیفیت میں بیٹھے رہیں گے تو وہ چیز زیادہ اثر انداز ہو گی۔ بعض لوگ زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں، تو کوشش کرنی چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس سے نکل جانا چاہیے۔

    میت کے لیے ایصالِ ثواب تو  ہر وقت، ہر موقعہ پر کرنا جائز ہے اور اس کے لیے گھر میں ہی جو افراد جمع ہوں اور دعوت کے بغیر ہی اپنی خوشی سے کچھ پڑھ لیں اور قرآن پڑھنے کے عوض اجرت کا لین دین نہ ہو تو اس کی دین میں اجازت ہے۔ اس کے بعد یہ جو رسومات ہمارے ہاں بنا لی گئی ہیں مثال کے طور پر قل، چالیسواں، جمعرات، برسی وغیرہ یہ ہندوستان کی چیزیں ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر ان میں کوئی دینی چیز شامل کی جائے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے بدعت قرار دیا جائے گا۔ اور بدعت سے ہر حال میں خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ 

    اللہ تعالی ہم سب کو دین اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد توبہ کر لیں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کریں۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے خود پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بندے کے اس رجوع کو قبول کر لے گا۔
    بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں کوئی دوسرا بندہ بھی متاثر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں صرف زبان کی حد تک یا ارادے کی حد تک توبہ کر نا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کی تلافی کریں اور اس شخص سے معافی مانگیں۔ اگر آپ نے اس کا کوئی حق مار لیا ہے تو اس کو ادا کرنا ہو گا۔ اسی کو قرآن مجید اصلاح کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔
    اصلاح کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آئندہ کے لیے آپ وہ کام نہیں کریں گے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو آپ نے غلطی کی ہے اس کی تلافی کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کسی خاتون کے مکان پر قبضہ کر لیا ہے، اب وہ شخص سوچتا ہے کہ اس نے یہ غلط کیا ہے اور وہ اپنے اس گناہ پر توبہ کر لیتا ہے لیکن مکان نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ تو یہ توبہ نہیں ہوئی۔اُسے چاہیے کہ وہ توبہ کے ساتھ ساتھ مکان بھی خاتون کے حوالے کر کے اپنے گناہ کی تلافی کرے۔
    بعض ناقابلِ تلافی گناہ ہوتے ہیں جس میں سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ناقابلِ تلافی گناہ کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو قتل کر دیا، وہ آدمی تو اب دنیا میں موجود نہیں رہا۔ اب اس سے جو کچھ معاملہ ہونا ہے وہ آخرت میں جا کر ہو گا۔ اس صورتحال میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آخرت میں معاف کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اُس وقت تو آپ کے پاس لینے اور دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہو گا، تو اس کا ازالہ کیسے ہو گا؟
    اس چیز کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر اُس کے کہنے پر آپ کو اپنی نیکیاں اس کے حصہ میں ڈالنی ہوں گی اور اس کی بُرائیاں اپنے کھاتے ہیں لینی پڑیں گی۔
    اسی طریقے سے اگر آپ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں، کوئی ظلم کرتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب ازالے کی کوئی صورت موجود نہیں رہی ہے تو پھر آپ اس کے لیے استغفار کریں، اس کے اہل و عیال، اس کے رشتے دار اگر دنیا میں موجود ہیں تو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں۔ یعنی ازالے کی کوئی نہ کوئی صورت آپ کو اختیار کرنی ہے۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملا تو یہ طے ہے کہ آخرت میں ہر حال میں اس شخص کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑے گا۔
    گناہوں کی دونوں صورتوں میں، ایک وہ جو خدا کی بارگاہ میں ہم سے سرزد ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو بندوں کے حقوق سے متعلق ہیں، تو خدا کی بارگاہ میں ہونے والے گناہوں سے بھی ہمیں ڈرنا چاہیے اس لیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو پھر بھی غفور و رحیم ہے پر بندوں کے معاملے میں آپ کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا رویہ وہاں کیا ہو گا، اس لیے اس معاملے میں اور بھی زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
    کوئی شخص اگر بددیانتی کرتا ہے، خیانت کرتا ہے، کم تولتا ہے یا ملاوٹ کرتا ہے تو وہ اصل میں حقوق العباد کے متعلق گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ خدا کا بھی مجرم ہے اور اس بندے کا بھی مجرم ہے۔ ایک وہ خیانتیں ہیں جو فرد کی حیثیت سے ہوتی ہیں اور ایک وہ ہیں جو ریاست کی سطح پر ہوتی ہیں تو اس صورتحال میں خیانت کرنے والا پوری قوم کا مجرم بن جاتا ہے۔ اگر کسی نے قومی خزانے میں خیانت کی تو وہ پوری قوم کا جوابدہ ہو گا، پوری کی پوری قوم قیامت کے دن اس سے حساب لینے کا حق رکھتی ہے۔ اس وجہ سے حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اس میں توبہ بھی کرنی ہو گی، گناہ کو چھوڑنا بھی ہو گا اور اس کی تلافی بھی کرنی ہو گی۔
    آپﷺ نے صحابہ کرام کو ایک روایت سنائی تھی، جس میں ایک شخص نے سو قتل کر دیے تھے۔ ظاہر ہے وہ جو سو مقتولین تھے ان سے اُس نے معافی نہیں مانگی تھی لیکن  اس نے اللہ سے سچے دل سے معافی مانگی تواللہ نے اسے معاف کر دیا تھا۔
    اس روایت میں بھی خدا کی معافی کی بات کی گئی ہے، یہ یاد رہے کہ بندے کی طرف سے خدا کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ قتل کا جرم ایک ایسا جرم ہے جس میں انسان خدا کا بھی مجرم ٹھہرتا ہے، معاشرے کا بھی اور مقتول کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ یہ معمولی جرم نہیں ہے اس لیے اس پر ابدی جہنم کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس کو ایک آسان سی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں قتل اتنا عام ہو گیا ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے کہ کیوں مر رہا ہے اور نہ مارنے والے کو پتا ہے کہ وہ کیوں مار رہا ہے۔
    یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا  تو صحابہ کرام نے پوچھا وہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کا قتل جس میں نہ مارنے والے کو پتا ہو گا اور نہ مرنے والے کو پتا ہو گا۔
    ہمیں اب معلوم ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے تو ہمیں  توبہ کرنی چاہیے، اس بارے میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا توبہ کرنے کے لیے بھی کوئی مہلت دی گئی ہے؟
    اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں اور اللہ نے اپنے بندوں کو موت تک کی مہلت دی ہے کہ آپ کسی بھی وقت اپنے گناہوں کی بخشش کی دعا کر سکتے ہیں، لیکن اگر فوراً آپ نے اپنے گناہ کی توبہ کر لی ہے، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول کر لے گا، اور اگر آپ نے توبہ کرنے میں تاخیر کی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اُسی آیات میں آگے فرمایا ہے کہ اگر موت تک موخر کر دیا ہے تو پھر اللہ توبہ قبول نہیں کریں گے۔ یعنی سقراطِ موت طاری ہو گئی ہے، آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، اس وقت اگر توبہ توبہ کا ورد شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ میں یہ توبہ قبول نہیں کروں گا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ جو درمیان کا عرصہ ہے، یعنی  فوراً توبہ بھی نہیں کی اور موت تک بھی موخر نہیں کیا، لیکن درمیان میں کسی وقت اللہ نے توفیق دی اور رجوع کر لیا تو اس میں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ خاموشی خوف بھی پیدا کرتی ہے اور یہ خاموشی امید بھی پیدا کرتی ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرمائیں اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف کریں۔آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal