Baaghi TV

Category: مذہب

  • دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    والدین زندہ ہوں تو وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں اللہ رب العالمین سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر سلامت رکھیں اور یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیں آمین ، دین اسلام میں یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال پر ا للہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو نبی رحمت ﷺ کے زریعے سے بہت سی نصیحتیں کیں ہیں اور انعامات کا بھی وعدہ فرمایا ہے آج ہم کوشش کریں گے کہ یتیموں کے حقوق کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے
    یتیم :اردو لغت میں تنہا رہ جانے والا یا ایسا شخص جس کی طرف سےغفلت برتی جائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بھلاگھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 559
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان ذرا کشادگی رکھی۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 288

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 42

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سات مہلک چیزوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور جادو اور جس جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا سوائے حق کے قتل کرنا اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جنگ کے دن پشت پھیر کر بھاگ جانا اور غافل، مومن، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1789

    حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 223

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2968

    حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے البتہ میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس کے مال میں سے کھا بغیر فضول خرچی کے اور بغیر ڈرے ہوئے اس کے بڑے ہوجانے سے اور بغیر پونجی بنانے کے اس کے مال سے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1105

    حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے واسطے کچھ بھی (مال وغیرہ) موجود نہیں ہے اور ایک یتیم بچے کا میں ولی بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھا لیا کرو لیکن تم فضول خرچی نہ کرنا اور تم حد سے زیادہ نہ کھانا اور نہ تم دولت اکٹھا کرنا۔سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1609عون بن ابوجحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عامل زکوة آیا اور اس نے مالداروں سے زکوة وصول کرنے کے بعد ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دی ایک میں یتیم بچہ تھا پس مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 632

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ بے شک وشبہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مگر یہ کہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2001

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں دو نا تو انوں کا حق (مال) حرام کرتا ہوں ایک یتیم اور دوسرے عورت ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 558

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدخلق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ اس امت میں پہلی امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ (بہت ممکن ہے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ بدخلقی کریں) فرمایا جی ہاں لیکن ان کا ایسے ہی خیال رکھو جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا ہمیں دنیا میں کونسی چیز فائدہ پہنچانے والی ہے ؟ فرمایا گھوڑا جسے تم باندھ رکھو اس پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں لڑو تمہارا غلام تمہارے لئے کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے (مسلمان ہو جائے) تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 571

    نبی کریم ﷺ جہاں یتیوں کے خیال رکھنے پر انعامات کا وعدہ کیا ہے وہیں ان کے ساتھ بدسلوکی اور نا جائز ان کے مال ودولت پر قبضہ کرلینے پر سخت ترین سزا کا مستحق بھی بتایا ہے
    جس گھر میں یتیم ہو اس سے اچھا سلوک کریں تو وہ سب سے اچھا گھر کہا گیا اور جس گھر میں یتیم ہو اس سے برا سلوک کیا جائے اسے برا ترین گھر کہا
    اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں سے اچھا برتاو کرنے اور سنت محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نبی مہربان ﷺکا ساتھ نصیب فرمائیں

    @mmasief

  • کربلا،  وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    کربلا، وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    اہل بیت کے مقدس خوں سے رنگین، مکر و فریب سے اٹی، بے وفائی سے بھری، عشقِ حقیقی کے پروانوں کی اک داستان الم

    حق و صداقت
    صبر و استقامت
    فلسفہ شہادت
    حسین کی عظمت
    یزید نشان عبرت

    عراق، 61 ہجری، ماہ محرم الحرام، وادی کربلا کا المناک منظر: تپتا ریگستان, دہکتا آسمان، دشمن قہرمان، لیکن رب مہربان۔
    نواسہ رسول ﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ کی شہادت، جب روشن سورج سیاہ ماتمی لباس پہن کر افق پر نمودار ہوا۔ تاریخ انسانی کی وہ خونیں شام جب امام عالی مقام ؓ اور اہل بیت کے مقدس لہو سے دریائے فرات آگ و خون کا دریا بنا۔
    اپنوں کی غداری اور سفر کی صعوبتیں سہنے کے باوجود، اس وادی پرخار میں اہل بیت کی آن و شان پوری تب و تاب کے ساتھ قائم دائم تھی۔ جرآت و شجاعت سے لبریز کیا بچے کیا بوڑھے، دین کی سربلندی جن کا مقصد حیات تھا، وہ کہاں ان مشکلات کو خاطر میں لاتے تھے۔ یہ حق کی اذان اور باطل کی پکار کا مقابلہ تھا۔ کوئی معمولی دنگل نہیں بلکہ وہ عظیم الشان معرکہ تھا جس نے تاقیامت حسینیت اور یزیدیت میں فرق واضح کردیا۔ چشم فلک نے نہ پہلے کبھی ایسا مقابلہ دیکھا نہ خاک ارض کبھی ایسے مقدس لہو سے تر ہوئی۔

    جو کربلا میں شاہِ شہیداں سے پھِر گئے
    کعبہ سے منحرف ہوئے قرآں سے پھِر گئے

    حق و باطل مدمقابل تھے، نواسہ رسولﷺ کا امتحان تھا اور وہ برگزیدہ ہستی کیا خوب کامیاب ہوئی کہ اس رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی جو آج 1400 سال گزرنے کے باوجود بھی زندہ و جاوید ہے۔ ایک دین کیلئے کٹ کر بھی ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا تو ایک فاتح ہو کر بھی روز محشر تک ملعون ٹھہرا۔ جنت کے جوانوں کا سردار روز حشر جب یزید کا گریبان پکڑے گا تو کیا یزید اور اس کے چیلوں کے پاس کوئی جائے پناہ ہوگی؟ کیا سرور کائنات ﷺکے اس فرمان عالیشان کے بعد بھی یزید کیلئے کوئی جائے پناہ ہو گی؟
    ’’جس نے ان دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سےدشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی‘‘۔ (متفق علیہ)

    یہ کوئی عام قصہ نہیں بلکہ جرآت و استقلال کی وہ لازوال داستان ہے جس نے تاریخ انسانی کو ایک نیا موڑ دیا۔ وہ ناقابلِ فراموش دن، جب سیدنا امام حسینؓ نے حق و انصاف اور سربلندی اسلام کیلئے سر مبارک کٹا تو دیا لیکن جھکایا نہیں۔ نظام خلافت کو ملوکیت و موروثیت میں بدلنے والوں کیخلاف علم جہاد بلند کیا اور اس دن اہل بیت کے مقدس لہو کے غسل نے اسلام کو نئے سرے سے جلا بخش کر ہمیشہ کیلئے رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کبھی اسلام پر کفر و ظلمت کے سائے چھائے، تب امام عالی مقام ؓ کی تقلید ہی واحد راہ نجات ثابت ہوئی۔

    بیعت یزید کے انکار نے تاقیامت ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی جرات مندانہ روایت قائم کر دی۔ امام عالی مقام ؓ نے اپنی عظیم و الشان شہادت کے زریعے، اللّٰہ کی حکمرانی اور اللّٰہ کے رسول ﷺ کے قانون کے نفاذ کا عالمگیری پیام اہل حق تک پہنچا دیا۔ وہ عظیم پیغام جس پر عمل پیرا ہونے میں ہی نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانیت کی نجات ہے۔

    مطلق العنان یزید کیخلاف للکار دراصل استعماریت و استکباریت کیخلاف علم بغاوت بلند کرنا تھا۔ آغوش نبوت میں پرورش پانے والے نواسہ رسولﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ، فرزند حیدر کرار ؓ امام عالی مقام نے احیائے اسلام کی خاطر جو لازوال داستان شجاعت رقم کی وہ حریت پسندوں اور راہ عشق کے مسافروں کیلئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

    تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں کا تصور کرنا بھی ہم گنہگاروں کیلئے محال ہے کجا یہ کہ اس دردناک واقعہ کو احاطہ تحریر میں لانا۔ ہوس اقتدار کے مارے ہوئے خودساختہ جابر حاکم کے سامنے سینہ سپر باکردارنوجوانان اہل بیت و اطہار کی بے مثال دلیرانہ شہادت کا معاملہ ہو یا شیر خوار معصوم پھولوں کی پیاس سے تڑپ کا احوال، علم اسلام کی سربلندی کیلئے شجیح مردان حق کا عزم مصمم ہو یا خانوادہ رسول ﷺ کی عفت مآب بیبیوں کی فاسق و فاجر یزید کے دربار میں بآواز بلند للکار، ہر ہر سانحہ جلال حیدری کی یاد تازہ کرتا ہے۔ نہ کوئی ڈر و خوف، نہ جاہ و حشم کی چاہ، نہ اقتدار کا لالچ، نہ جانوں کی پروا؛ ایسی جرات، ایسی جوانمردی، ایسا استقلال سوائے اہل بیت کے کون بھلا دکھا سکتا تھا؟؟

    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

    آج حسینیت، مسلم و غیر مسلم کے فرق سے بالاتر، ہر مظلوم مگر عزم و ہمت کے پیکر کیلئے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے پھر چاہے وہ مطلق العنان بادشاہ ہو یا ظلم وبربریت کا نظام حکومت۔
    جہاں بھی کہیں کوئی ظالم اپنی حدود پھلانگتا ہے وہیں تاریخ کے دریچوں میں جلوہ گر خانوادہ رسولﷺ کی بے مثال قربانی، مظلومین کے لئے مشعل راہ کا کام دیتی ہے ۔

    قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    واقعہ کربلا صرف قربانی کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ تو عشق حقیقی میں اپنا سب کچھ تیاگ دینے والوں کی داستان مہر و وفا ہے جو تاقیامت ظلمت کے اندھیروں سے نبردآزما، راہ عشق کے مسافروں کیلئے روشن چراغ اور اہل بیت کی محبت سے سرشار ہم عاصیوں کیلئے توشہ آخرت ہے۔

    اے اہلِ بیتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    یہ نذرانہ گر قبول افتند زے عز و شرف

    @once_says

  • ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر  تحریر: عائشہ رسول

    ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر تحریر: عائشہ رسول

    کائنات کا یہ چھوٹا سا کرہ ارض جسے ہم دنیا کہتے ہیں ایسے کروڑہا کرےّ ہیں جن میں اللہ کی مخلوق ہے . دنیا جہاں میں بسنے والوں کو انسان کہتے ہیں۔
    خالق مطلق کا انسان پر سب سے عظیم احسان یہ ہے کہ اس نے زندگی اور موت کا راز پنہاں رکھاہے…قلوب انسانی اور قلوب حیوانی میں فرق صرف احساس ہے.. اگر انسان کو موت کے وقت کا یقین ہو جائے تو اس کی زندگی میں سے یکسوئی نکل جائے. یکسوئی وہ احساس ہے جس پر زندگی قائم ہے.

    انسان سمجھتا ہے مرجانے کے بعد اس کے سر سے گناہوں کا بوجھ اتر جائے گا. ہاں لیکن وہ بوجھ روح اٹھائے رکھے گی.
    دانائی ایسی میں ہے کی صراط مستقیم پر سے خیرو عافیت سے گزرنے کی تیاری کی جائے
    ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے.
    ہمارا زندگی اور موت پر کیا اختیار ہے. حثیت کیا ہے. منزل مقصود ہمیں معلوم ہونی چاہئے. عذابِ الٰہی اور اذیت قبر کی خبر ہونی چاہئے
    راہ غیر مستقیم پر چلنے والا انسان نہیں جانتا اور نہ جاننے کی کوششں کرتا ہے کہ اس کی ابتدا جراثیم حیات اور اسکی انتہا خوراک حشرات ہے. پہلے وہ اپنی ضروریات زمین سے حاصل کرتا ہے بعد میں اُسکا جسم زمین کی ضرورت بن جاتا ہے. پہلے وہ اسی مٹی سے پیدا ہوا مرنے کے بعد اُسی مٹی ملا دیا جائے گا
    اے غافل انسان ! تیرا سفر عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف ہے. خدا نے جو کچھ تجھے عطا کیا ہے اس پر تجھے اختیار بھی دیا گیا ہے مگر حدود کا تعین بھی کر دیا گیا ہے .اس حد سے آگے مت جاؤ جہاں وہ( اللہ) غضب ناک ہوجائے. اس کے غضب کو جو دعوت دیتا ہے وہ انہیں عبرت بنا دیتا ہے
    دنیا مقامِ الوداع ہے اور قبر ابدی اور آخری آرام گاہ….
    دنیا میں جو آئے ہیں وہ جانے کے لئے ہیں اور جو چلے گئے ہیں وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے یہ ہی دنیا کا اصول ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھنے اور سچی توبہ اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے
    آمین…

    Official Twitter Handle
    ‎@Ayesha__ra

  • انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے
    محمد نعیم شہزاد

    اسلام ایک الہامی مذہب ہے جس کی بنیاد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت پر ہے۔ روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور اپنا اکثر وقت غار حرا میں گزارتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ جو نیند میں بصورت خواب دیکھتے دن کی روشنی میں بعینہ واقع ہو جاتا۔ پھر ایک دن غار حرا میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور وحی الٰہی کا آغاز ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو مشرکین مکہ آپ کے خلاف ہو گئے۔ سمجھنے کے لحاظ سے یہ ایک مرکزی نکتہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت اپنی زبان سے کیا جسے عرف کے مطابق حدیث کہا جائے گا۔ پیغمبر علیہ السلام نے ہی بتلایا کہ یوں مجھ پر وحی کا نزول ہوا اور مجھے نبوت سے سرفراز کیا گیا ہے اور یہ بات پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں براہ راست نہیں بتلائی اور نہ ہمیں ایسا کوئی الہام ہوا اور نہ خواب آیا بلکہ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ بات بیان کی اور محدثین نے اس بات کو نقل کیا ہے۔ اسی بیان روایت اور اسناد حدیث پر دین کی بنیاد ہے۔ تو جو شخص بظاہر احادیث نبوی پر بے اعتباری اور شک کا اظہار کرتا ہے درحقیقت وہ دین کا انکار کرنے کی راہ تلاش کرتا ہے۔

    بالفرض ایسے معترضین کی بات کو مان بھی لیا جائے تو قرآن مجید کے کون سے معنی معتبر ہوں گے۔ زبان و ادب کا ہر طالب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بہت سے الفاظ کثیر المعنی ہوتے ہیں جن کے کئی مطالب و مفاہیم نکلتے ہیں۔ کس عبارت میں کسی لفظ سے کیا مراد لی جائے گی اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اور اگر ہر شخص کو اپنا اپنا معنی و مطلب اخذ کرنے کی آزادی دے دی جائے تو دین ایک کھیل بن کر رہ جائے جو ان معترضین کا اصل ہدف ہے۔

    ایسے بے علم فقیہان سے چند بنیادی سوال کیے جا سکتے ہیں اور ان کے جوابات کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ہی بات کچھ آگے بڑھ سکے گی۔

    حدیث کو چھوڑ قرآن کو کافی سمجھنے والوں سے چند بنیادی سوالات

    1. قرآن مجید الہامی کتاب ہے، کلام اللہ ہے اس کی کیا دلیل ہے؟
    2. قرآن مجید میں نازل کردہ احکام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں، اس کا کیا ثبوت ہے؟
    3. قرآن مجید میں ہے کہ کفار و مشرکین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا کہ یہ کلام آپ نے خود بنایا ہے اس کا رد؟
    4. قرآن مجید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ وہ کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب و حکمت سے کیا مراد ہے؟
    5. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے تو قرآن مجید اور وحی الٰہی کو ماننے کی دلیل کیا ہو گی۔

    موسیٰ علیہ کی قوم بنی اسرائیل کا احوال اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے کہ وہ عجیب و غریب مطالبات کرتے تھے ۔ انھوں نے مطالبہ کر دیا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ کسی نے یہ مطالبہ کیا کہ آسمان پر ایک سیڑھی لگا دیجیے جس پر ہم چڑھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق و مالک ہے اس کے احکام کی تعمیل کے لیے من پسند سوالات اور فرمائشیں کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔ اور دین میں بے اصل اور بے عقل سوال کرنے والے دین نہیں سیکھتے بلکہ دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دین اسلام کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار کر لے۔

  • تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک پاکستان کاقیام 2017میں وجود میں آیا۔ اس تحریک کےقیام کےپیچھےجو وجہ کارفرما تھی وہ ممتاز قادری کی گرفتاری اور سزاۓموت تھی۔ حافظ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی رہاٸی کیلیے مذہبی تحریک لبیک یارسول ﷺ کی بنیاد رکھی۔ 2017میں ختم نبوت ﷺکےقانون میں تبدیلی کیخلاف فیض آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺنےدھرنادیا جسےتاریخ کامیاب دھرناماناجاتاہے۔ اس دھرنےکےبعد اس تحریک کےسیاسی ونگ کےقیام کی ضرورت محسوس کی گٸ اور تحریک لبیک پاکستان کوالیکشن کمیشن میں رجسٹر کروایاگیااور کرین کانشان الاٹ کیاگیا۔ TLPنے2018کےانتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری۔ اسکی شاندار کامیابی سے سب چونک اٹھے۔ اور بڑےبڑے مگرمچھ جو گزشتہ 73سالوں سےپاکستان کو نسل در نسل لوٹتےآرہےہیں انہیں اپنی طاقت خطرےمیں پڑتی نظر آٸی ۔غریب جوکٸ سالوں سے معاشی استحصال کاشکارہیں انکو کوٸی آپشن نہیں مل رہاتھا کیونکہ تمام قومی سطح کی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی نماٸندگی کرتی ہیں۔ تحریک لبیک کی بڑھتی ہوٸی مقبولیت سےبڑے بڑے دیاسی برج اور سرمایہ دار خوفزدہ ہیں۔آخر وہ کیاوجہ ہے جس کی وجہ سے بیورو کریسی سےلیکر تاجرمافیا تک اور کرپٹ سیاستدانوں سےلیکر بڑےبڑے میڈیا ہاٶسسز TLP سےخوفزدہ ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ TLPمتوسط اور غریب طبقےکی جماعت ہے جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں ٗ میڈیا ٗ بیوروکریسی ٗ سرمایہ دار ٗ بڑےبڑے عیش پرست گدی نشین سب اشرافیہ کی نماٸندگی کرتےہیں۔ اور پوری دنیاجانتی ہےکہ یہ اشرافیہ کس طرح پاکستان کےغریب اورمتوسط طبقےکاکٸ سالوں سےاستحصال کررہےہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ تحریک لبیک بمقابلہ دیگر سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ غریب بمقابلہ اشرافیہ کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ میں وقتی طور پراشرافیہ جیتتی ہوٸی نظر آرہی ہےکیونکہ یہ پورےسسٹم پر قابض ہے۔مگر یہ ایک لاوا ہے جو پھٹنےوالاہے اور یہ لاوا تمام اشرافیہ اور سرمایہ داروں کو بہاکر لےجاۓگا۔کیونکہ اب غریب کو تحریک لبیک کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل چکاہے۔جلد یا بدیر غریب اور متوسط طبقےسے تعلق رکھنےوالٕےپاکستانیوں کو اس اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ملنےوالاہے۔

    @waqasRizviJutt

  • نماز تحریر : اعجاز حسین

    نماز تحریر : اعجاز حسین

    ہزاروں سوچیں الجھاتی ہیں مجھے
    اور ایک سجدہ سلجھا دیتا ہے سب

    اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن نماز کی اداٸیگی ہے۔جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گٸی ہے۔
    نماز فجر ،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب اور نماز عشإ۔
    جس طرح ہر عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کے بغیر کوٸی بھی عمارت قاٸم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز کو ”دین اسلام کا ستون“ قرار دیا گیا ہے۔
    نماز کامیابیوں کی کنجی ہے اور سجدہ دل و روح کا سکون ہے۔قیامت کے دن ہر انسان سے پہلا سوال نماز کی اداٸیگی کے متعلق ہو گا۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو نمازی بن جاٶ،کیونکہ نماز کے بغیر کوٸی بھی کامیابی ممکن نہیں۔
    نماز گناہوں اور بے حیاٸی سے روکتی ہے ۔جیسے سورج کی شعاٸیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان تیز شعاٶں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے۔
    نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہے۔اور نماز فجر انسان کی شیطان کے خلاف دن کی پہلی فتح ہے۔
    یقین کریں کہ نمازِ فجر قاٸم کرنے سے انسان سارا دن رب تعالٰی کی رحمتوں کے ساۓ میں رہتا ہے۔جب ہم نماز محبت سمجھ کر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری نماز کیلیے خود کھڑا کر دیگا۔
    جب اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے تو وہ روٹی نہیں چھینتا بلکہ انسان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
    اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دیگا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاٶ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔“
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا” بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“
    حضرت علیؓ نے فرمایا” کہ نماز کے لیے سستی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔“
    اس لیے مسلمان اور نماز میں سستی یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں نماز جنت کی کنجی ہے۔
    ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا ”ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گٸی ہے،آپﷺ نے جواب دیا ،جب تمہارا اگلی نماز پڑھنے کا دل کرے۔“
    نماز انسان کو مٹی سے سونا بنا دیتی ہے۔نماز ایسے پڑھو جیسے تم سے زیادہ گنہگار کوٸی نہیں بےشک اللہ سے زیادہ مہربان کوٸی نہیں۔نماز اللہ تعالٰی سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
    نماز وہ واحد حکم ہے جسے اللہ نے آسمان سے وحی کے ذریعے نہیں اتارا بلکہ اپنے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کو آسمان پہ بلا کر تحفے میں دیا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا ” اپنے بہترین وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے سب کام تمہاری ”نماز“ کے بعد ہی قبول ہونگے۔
    ایک اور جگہ حضرت علؓی نے فرمایا ”جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔اور جب میرا جی کرتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں“۔
    سجدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم زمین پر سرگوشی کرتے ہیں اور وہ عرش پر سنی جاتی ہے۔ وضو سے شکل،قرآن سے عقل اور نماز سے نسل پاک ہوتی ہے۔
    ایک میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرتا ہے لیکن دماغ ،دل کے اوپر ہونے کیوجہ سے خون پورے پریشر کے ساتھ دماغ تک نہیں پہنچتا ۔اور یہ کمی دماغ کی کمزوری اور ڈپریشن کیوجہ بنتی ہے ۔اگر انسان روز ایک بار بھی ایسی پوزیشن میں آۓ کہ اسکا دماغ اسکے دل سے نیچے ہو ۔جیسے مسلمان سجدہ کرتے ہیں تو خون صحیح طرح سے دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کو طاقتور اور ترو تازہ رکھتا ہے۔
    نماز اور قرآن بعض دفعہ آپکے حالات تو نہیں بدلتے لیکن آپکو ان حالات میں اچھی طرح سے رہنا سکھا دیتے ہیں ۔آزماٸشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزماٸشیں لکھ دی جاتی ہیں۔نماز اور سجدہ ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔سجدے کی توفیق ملنا رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔
    اگر نماز کے وقت طواف کعبہ رک سکتا ہے تو ہمارے کام اور کاروبار کیوں نہیں؟
    حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ” مجھے جنت سے زیادہ عزیز نماز ہے کیونکہ جنت میری رضا ہے اور نماز میرے رب کی رضا ہے“۔

    پتا نہیں کیا جادو ہے سجدے میں
    جتنا جھکتا ہوں اتنا اوپر جاتا ہوں

    اللہ پاک ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔جب بچہ سات سال کا ہو جاۓ تو اس پر نماز فرض ہو جاتی ہے۔خود بھی نمازپڑھیں اور بچوں سے بھی پڑھاٸیں۔کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کرنے کا بولتے ہیں بلکہ بچے ہماری نقل کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

    @Ra_jo5

  • "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    اللہ پاک رحمن ہے رحیم ہے کریم ہے اللہ پاک کی ذات پہ بھروسہ پختہ یقین ہے امید اور یقین صرف رب کریم پہ سرخروع ہونے کی دلیل ہے ہر دعا کے اخر میں امین کہنا اپنی دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت پہ بھروسہ اور پختہ یقین ہے اکثر لوگ دعا مانگنے کے بعد کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی دعا قبول ہوتی ہے بس کن فیکون پہ اور مقرر وقت پہ ہوتی ہے اللہ پاک کے فیصلوں پہ اگر ہم راضی ہوجائے تو ہر مشکل کی راہ نکل آتی ہے خود سے منسلک ایک حقیقت کا انکشاف کرنا چاہوں گی میرا ایک پودا کچھ قبل روز تیز بارش اور گرج چمک ہونے کی وجہ جل گیا بجلی اس پہ پڑنے سے وہ اوپر سے پوری طرح جل گیا نیچے سے کچھ تنا اور ایک پتہ بچا میری والدہ محترم نے اس پودے کو دوبارہ سے صیحح کرنے کے لیے اس میں کھاد ڈال دی اور اس امید پہ کہ اللہ اس پودے میں پر سے جان ڈال دے گا مجھے پہلے نہیں بتایا مگر کچھ دن بعد والدہ نے بتایا کہ ایسا واقعہ تمھارے پودے کیساتھ درپیش آیا اب تمھارا پودا پر سے صیحح ہوگیا ہے مجھے یہ سن کہ خوشی بھی تعجب بھی ہوا کیسے اس پودے کی پر سے زندگی رواں ہوگئ وہ رب کریم ہر شے پہ قدرت رکھتا ہے میں اکثر مایوس ہوجاتی ہوں مگر میرا بھروسہ ایمان ہے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ میرے ساتھ ہے بس جینے کی وجہ مل جاتی ہے ہر مشکل میں اللہ کے سوا کسی بھی انسان کو ہمنوا نا پایا اسلیے اللہ پہ بےحد پختہ یقین نے ہر مشکل کو خود آساں فرمایا رب پاک کی ذات کی مدد پہ یقین اس کدھر ہے کہ خود سے بے خبر ہوسکتی ہوں پر رب پاک مجھ سے باخبر ہے اسکا یقین آخری سانس تک قائم و دائم رہے گا
    مجھ کو ملے نا ملے میرے ہونے کا نشاں
    وہ باخبر ہے مجھ سے جو ہے لامکاں
    نا کر سکوں میں خود کے فیصلوں پہ بھی یقین
    پر اس ذات پہ ہے پختہ یقین کہہ دو ہردعامیں امین !

    @ Hu__rt7

  • مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قبا ء اسلام کی اولین مسجد جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی سب سے پہلا پتھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور اس کے بعد ایک ایک پتھر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے رکھا ، آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے بڑھ چڑھ کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ،یہ مسجد کلثوم بن ہدم کی زمین پر قائم کی گئی
    ہمارے پیارے نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے جہاں اہل مدینہ نے آپ ﷺ کا استقبال کیا اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا وہ جگہ قباء تھی اور اسی جگہ مسجد قباء کی تعمیر ہوئی قباء محلے میں ہونے کی وجہ سے مسجد کو مسجد قباء کا نام دیا گیا ہے ،مسجد قباء 8 تا 11 ربیع الاول 1 ھجری میں تعمیر کی گئی
    مسجد قباء مدینہ منورہ کے جنوب میں کم و بیش 5 کلومیٹر پر ہے شروع شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، جب تحویل کعبہ کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ بنفس نفیس قباء تشریف لائے اور قبلہ کا تعین فرمایا ،مسجد قباء کے ساتھ ہی ایک کنواں ہے جو کہ ابو ایوب انصاری ؓ کے نام سے مشہور ہے ، اس مسجد کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 108 میں کچھ ایسے آیا ہے
    لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ١٠٨؁
    جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں ۔(108سورۃ التوبہ )
    مسجد قباء کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قباء سواری پر اور پیدل بھی جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 898
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر ہفتہ قباء تشریف لاتے تھے اور فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتہ قباء تشریف لے جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 902

    اہل قبا ء کی شان میں نازل ہونے والی آیت

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت فیہ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھّرُوا وَاللہ یُحِبُ المُطَّھِّرِین (یہاں کے لوگ ایسے ہیں جو خوب طہارت حاصل کرنے کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی خوب پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اہل قباء کے بارے نازل ہوئی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ قباء کے لوگ (ڈھیلوں سے استنجے کے بعد) پانی سے طہارت حاصل کیا کرتے تھے اور اسی بنا پر یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی۔سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 44

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل تشریف لاتے اور کبھی سوار ہو کر ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں آ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 275

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنا اس طرح ہے جیسے کسی نے عمرہ ادا کیا۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 311

    حضرت اسید بن ظہیر جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد قباء میں (پڑھی گئی) ایک نماز (ثواب میں) عمرہ کے برابر ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1411حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اپنے گھر خوب پاکی حاصل کرے پھر مسجد قباء آ کر نماز پڑھے اس کو عمرہ کے برابر اجر ملے گا ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1412
    عمرہ اور حج کیلئے آنے والے ہوں یا محنت مزدوری کیلئے موجود افراد جو بھی مدینہ منورہ پہنچتا ہے اسکی دلی خواہش ہوتی ہے کہ مسجد قباء میں حاضر ہو اور دورکعت نماز ادا کرکے عمرہ کا ثواب حاصل کرے ، مجھے بھی الحمد اللہ گزشتہ 17 سالوں میں بکثرت یہ سعادت حاصل رہی جب تک ریا ض مقیم رہا تو واپسی پر مسجد قباء بچوں سمیت نماز ادا کرنے پہنچا کرتا تھا اب جبکہ اللہ رب العالمین نے اپنے فضل و کرم سے رزق کا بندہ بست جدہ میں کردیا ہے تو اب ہر دفعہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی پہلے مسجد قباء پہنچتے ہیں عیدوں کا موقع ہو تو گاڑی وہیں پارک کرکے مسجد نبوی ﷺ جاتے ہیں اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے ہیں جتنا ممکن ہو وہاں رکتے ہیں اور پھر بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے واپس آجاتے ہیں جو سکون مسجد نبوی ﷺ میں پہنچ کر ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے ،
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ آپ سب مسلمان بہن بھائیوں کو جلد ان دونوں مساجد میں حاضر ہونے اور عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین یا رب العامین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار، انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔

    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔

    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔

    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    معاشرے میں برداشت کا ہونا بہت ضروری ہے،  جس سے زندگی تو آسان ہوتی ہی ہے  انسان کی،  اسکے ساتھ ہی امن کوبھی فوقیت ملتی ہے انتہا پسندی اور لڑائی جھگڑوں پر۔ اخلاق میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ہمیں،  پہلے خد کو ٹھیک کرنا ہے پھر دوسروں کو،  پہلے اپنی نصیحت خد پر تجربہ کرنی ہے پھر دوسروں کو بتلانی ہے معاشرے کی بنیاد ہی ایک دوسرے کی فکر و محبت،  بھائی چارے اور برداشت کرنے میں ہے ایک دوسرے کے کام آئیں ہمیشہ دوسروں کا بھلا سوچیں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔ اپنے نیک مقاصد کی کامیابی کے حصول کےلئے  پوری جان کے ساتھ بھرپور محنت کریں ،  جب تک کہ آپ اپنی منزل مقصود تک پہنچ نہیں جاتے ۔ کوشش کبھی مت چھوڑیئے،  منزل ملے یا ناں ملے ! اگر ، مگر اور کاش زندگی تباہ کر دیتی ہے انسان کی ۔

    اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنا ہی کامیابی ہے ، جو ملا نہیں اس پر مایوس ہونے کے بجائے صبر اور وتحمل کام لیا جائے ۔ یہ دنیا آپکو نہیں سمجھ سکتی سوائے اللہ تعالی کے، اللہ ہی ہے جو اپنے بندے/ بندی کو کبھی بھی مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑتا ! اللہ کوئی نہ کوئی وسیلہ ضرور بنادے دیتا ہے انسان کی مشکلات کودور فرمانے کا۔

    اللہ تعالی کی قربت چاہتے ہو تو اللہ کی خوب عبادت کرو اللہ کا کلام قرآن پاک سمجھ کر پڑھو ذکر الہی زیادہ سے زیادہ کرو ، اپنے دکھ درد میں اللہ کو یاد کرو ، دعائیں کرو رو رو کر اللہ کے آگے جھکو۔ تہجد کی نماز میں قربت الہی حاصل کی جاسکتی ہے، تب اللہ اپنے بندے/بندی سے فرماتا ہے مانگ جو مانگنا ہے میں تجھے دوں ۔

    موت اور زندگی دینے والا میرا اللہ ہی ہے، موت کا فرشتہ ایک گھر کے دن میں پانچ چکر لگاتا ہے، لیکن فرشتہ جان اپنی مرضی سے نہیں نکال سکتا، موت کا فرشتہ تو حکم الہی پر ہی اپنا کام سر انجام دیتے ہیں ۔ معاشرہ میں عظیم کامیابی کے حصول کے لیے اللہ کی رضا میں راضی بہت ضروری ہے ۔

    ایک دفعہ ایک بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار اپنی کسی منزل کی طرف تیزی سے جارہا تھا تو اک درویش نے بادشاہ کو راستے میں روکا اور کہا کہ گھوڑے سے نیچے اترو، میں نے تم سے کچھ بات کرنی ہے تو بادشاہ نے کہا جو بات ہے میرے کان میں بتا دو مجھے بہت جلدی ہے ، تو بادشاہ کےبار بار
    کان میں بات بتانے کے اسرار پر ، درویش نے بادشاہ کے کان میں صرف اتنا کہا ہے کہ میں موت کا فرشتہ ہوں اور تیری جان نکالنے آیا ہوں ۔

    یہ سنتے ہی کہ بادشاہ کو سکتا جاری ہوگیا، روئے پیٹے کہ مجھے میرے بیوی بچوں سے تو مل لینے دو ۔ تب درویش نما موت کے فرشتے نے کہا ہم تو اللہ کےحکم کے پابند ہیں، میں تمہیں تمہارے بیوی بچوں سے نہیں ملنے دوں گا۔ تمہاری جان ابھی اسی وقت نکالنے کا حکم مجھے اللہ تعالی نے دے دیا ہے ۔

    شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
    اس سے تو خاموشی بہتر ہے ، کہ کسی کو دل کی بات کہہ کر پھر اس سے کہا جائے کہ کسی سے نہ کہنا ۔ میرا اک دوست مجھ کہتا کہ میرا دل نماز میں نہیں لگتا تو میں کیا کروں کہ میرا دل نماز میں لگ جائے؟

    تومیں نے جواباً اپنے دوست سے کہا کہ:

    جب تم نماز شروع کرو تو زمین کی طرف دیکھو !
    کہ مرنے کے بعد ہمیں زمین میں جانا ہے ۔

    جب رکوع میں جاؤ تو اپنے پاؤں کی طرف دیکھو!
    اس لئے کہ انسان کی جان پاؤں سے نکلتی ہے ۔

    جب سجدہ کرو تو اپنے ناک کیسمت میں دیکھو!
    مرنے کے بعد قبر میں انسان کی سب سے پہلے ناک ختم ہوتی ہے۔

    اور جب تشہد کی حالت بیٹھو تو اپنی خالی جھولی کی طرف دیکھو!

    خالی جھولی دنیا میں آئے اور ہمیں خالی جھولی ہی لوٹنا ہے ۔

    اللہ تعالی ہم سب کو اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطافرمائیں۔

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @khubaibmkf