Baaghi TV

Category: مذہب

  • مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟  تحریر: نویداختربھٹی

    مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟ تحریر: نویداختربھٹی

    قربانی کا فلسفہ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن ہمیں تھوڑا وقت نکال کر غور کرنا ہوگا کہ ہر سال عیدالاضحٰی سے پہلے چھوٹا گوشت آخر مہنگا کیوں ہوجاتا ہے؟

    چھوٹا گوشت ہر گزرتے سال کے ساتھ عام پاکستانی کی پہنچ سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
    چھوٹے گوشت کے شوقین لوگ بھی گائے کی قربانی دینے کو کیوں ترجیح دینے لگے ہیں؟

    دنبہ جو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل کی جگہ قربان ہونے کیلئے جنت سے آیا تھا، موجودہ دور میں مسلمان اس کی قربانی کیوں نہیں کر رہے؟
    یہ حقیقت تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر ایک حلال جانور کی قربانی سنت ابراہیمی ہے اور سنت بھی ان کیلئے ہے جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
    ابتدائے اسلام میں مسلمان کعبہ کے احاطے میں مینڈھوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک مینڈھوں کی پیداوار پریشان کن حد تک کم نا ہوگئی۔ منڈیوں میں مینڈھوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے لوگ بکروں، چھتروں اور اونٹوں کی طرف آئے اور قربانی کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اب چونکہ حالات کا فیصلہ یہی تھا کہ جو بھی حلال چوپایہ ملے اسے قربان کردیا جائے اس لئے کئی سو سال تک مسلمانوں کے کسی ملک میں جانوروں کی کمی کا سامنا نہیں کیا گیا۔
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے علاقوں میں بکرے اور چھترے کا گوشت خصوصی طور پر پسند کیا جاتا رہا ہے اس لئے اس خطے میں قربانی کیلئے بھی بکروں یا چھتروں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔
    بکروں اور چھتروں کی قربانی کے اس رجحان نے آہستہ آہستہ آنے والے ہر سال کے ساتھ ان کی کمی کا سبب بننا شروع کردیا اور اصول معاشیات کے مطابق جس چیز کی رسد کم اور طلب زیادہ ہوگی، اس کی قیمت بھی زیادہ طلب کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں عام دنوں میں گوشت 1300 روپے سے 1500 روپے فی کلو بک رہا ہے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتوں پر عمل کروانے میں بری طرح سے ناکام ہیں۔
    اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مویشیوں کی افزائش کے حوالے سے کبھی کسی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہر جاتے سال کے ساتھ ان جانوروں کی افزائش میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔
    حکومت وقت کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل جب مرغیاں، انڈے اور مویشی پالنے کیلئے قوم کو متحرک کیا اور باقاعدہ پالیسی بنانے کا وعدہ کیا تو پاکستان کے نام نہاد سکالرز اور میڈیا پر بیٹھی کالی بھیڑوں نے اس فلسفے کا مزاق اڑایا اور کہا کہ عمران خان دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے سے یو ٹرن لیتا ہوا مرغیوں اور انڈوں تک آگیا ہے۔
    موجودہ حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں آج بھی لائیو اسٹاک پر قابل قدر توجہ نہیں دی جارہی خصوصاً چھتروں اور بکروں کی افزائش جدید ریسرچ اور سائنسی بنیادوں پر نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے اس عیدالاضحٰی کے موقع پر دس سے پندرہ کلو گرام گوشت والا چھترا 20 ہزار جبکہ اسی وزن کا بکرا 30 ہزار میں فروخت ہوا ہے۔
    گائے کی پیداوار بھی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں دودھ کی کمی کا بحران ہے تو دوسری طرف جو کروڑ پتی لوگ ہیں ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ گائے قربان کرنے کا ایسا مقابلہ چل پڑا ہے جو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں بڑے گوشت کے مہنگا ہونے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے اور اس گوشت کے بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر جانے کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔
    وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ ایک طرف تو لائیو اسٹاک میں بکرے پالنے والوں کو بلا سود قرضے دیں اور دوسری طرف بینکوں کو ہدایات دیں کہ وہ ان مویشی پال حضرات کی ماہرین کی مدد سے راہنمائی اور نگرانی کرائیں تاکہ ریاست کے اس بڑے مقصد کو نقصان نا پہنچے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
    وزیراعظم کو جو غیر مقبول اور دیرپا فیصلہ کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ علماء اکرام کی مشاورت سے کم از کم تین سے پانچ سال کیلئے بکرے، مینڈھے اور چھترے کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دیں۔
    ہوسکتا ہے کہ جنونی مذہبی رجحان رکھنے والا طبقہ اس تحریر کو ناپسند کرے اور ایک لمبی بحث چھڑ جائے۔۔۔ مگر ان کو میری دعوت ہے کہ تاریخی اور معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر اس تحریر پر غور فرمائیں!

  • کرونا اور لاک ڈاؤن . تحریر : عزیز الحق

    کرونا اور لاک ڈاؤن . تحریر : عزیز الحق

    ساری دنیا کرونا وبا کی چوتھی لہر اور ساری دنیا کرونا وبا کی چوتھی لہر اور متعدد قسم کے بیماریوں کے لپیٹ میں ہے، بھارت سے نمودار ہونے والا ویرینٹ ڈیلٹا بہت ممالک کو اپنے شکنجے میں لے لیا ہے اور انسانی زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے اب ہمارے پاکستان کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے، 2019 میں یہ وبا ظاہر ہونے کے بعد 2020 میں یہ وبا کئی لاک ڈاؤن متعارف کرواچکے ہیں جیسے اسمارٹ لاک ڈاؤن، مائیکرو لاک ڈاؤن اور مکمل لاک ڈاؤن سے پہچانے جاتے ہیں، عید ہو یا کوئی اور تہوار، خوشی کی سبھی مواقع چھین لیا ہے، لوگ پریشان ہیں مزدور ہو یا بزنسمین کاروبار کو تھالے لگے ہوئے ہیں، کبھی کبار تو یہ بیماری اتنی شدید پھیلتی جا رہی ہیں کہ عوام میں ایک خوف پیدا ہوجاتا ہے وہ یہی سوچتا ہے کہ شاید یہ وباء اب ختم ہونے کا نام نہیں لے گا، لیکن ہمیں بحیثیت ایک قوم اس وباء سے لڑنے کی اشد ضرورت ہے اور ہر بندے کو اختیاطی تدابیر پہ عمل کرنا اپنی اور دوسری انسانوں کی جان بچانے میں پوری کردار ادا کرنا چاہئیے.

    دنیا کی ہرحکومت خاص کر ہمارے سائینس دان طبقہ جس طرح اس مرض سے نپٹنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے، ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہونا چاہئیے اللہ پہ بھروسہ کرنا چاہئیے اورجو وقت کے مطابق ایس او پیسز ہیں اس پہ عمل کرنا چاہئیے، اللہ ساری دنیا سے کرونا جیسے ہر وباء کو انسان محفوظ رکھے. آمین.

    @azizbuneri58

  • ماں باپ ایک نعمت  ۔تحریر :  فجر علی

    ماں باپ ایک نعمت ۔تحریر : فجر علی

    زندگی بہت تکلیف دہ چیز ہے یہ موت سے بڑھ کر اذیت دیتی ہے ۔کیونکہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں کب بیچ راستے میں چھوڑ جائے نہیں معلوم ۔ہمارے ماں باپ ہمیں جنم دیتے ۔ہماری پیدائش سے ہمارے لئے سپنے دیکھنا شروع ہوتے ہیں۔ہمیں دنیا جہاں کی خوشیاں عطا کرتے ہیں ۔انکی ہر طرح سے کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے کی زندگی میں کوئی خواہش ادھوری نہ رہ جائے ۔اپنی تمام تر پونجی ہم پر نچھاور کردیتے ہیں ۔بچے ماں باپ کو دیکھتے ہوئے بٹے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔کیونکہ ماں باپ ہر چیز سیکھاتے ہیں سوائے اس کے کہ بیٹا ہم ایک دن نہیں رہینگے تو تم ابھی سے ہمارے بغیر زندگی جینا سیکھ لو
    ۔اولاد کے لیے سب سے تکلیف دہ مقام یہ ہوتا ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے ماں باپ کو بوڑھا اور کمزور ہوتا دیکھتی ہے ۔پھر ایک دن ان میں کوئی ایک ہمیشہ کے لیے چلے جاتا اور وہ اولاد جس نے اپنی سانس بھی والدین کے بغیر لینے کا تصور تک نہیں کیا ہوتا وہ بڑے بڑے پہاڑ اکیلے برداشت کرنا سیکھ جاتی ۔
    اللہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں سے ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں ۔تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا کوئی ایک ماں اپنے بچے کو یوں بلکتا ہوا دیکھ سکتی ہے؟ حضرت اسماعیل کی پیاس بی بی حاجرہ سے برداشت نہ ہوئی وہ کس قدر تڑپی تھی کہ نگے پاوں پانی کی تلاش میں دوڑتی گئیں ۔یہ تھی ماں کی تڑپ ۔یہاں ہم ہر روز تڑپتے بلکتے رہتے کوئی دلاسہ دینے والی ذات نہیں آتی ۔ایک ماں جو بچے کو جنم دینے کے دوران فوت ہوجاتی ہے اس میں رب کی کیا مصلحت ہے ۔جو بچے کو تو جنم دے گئی اور جود اس جہاں سے کوچ کرگئی ۔اور وہ بچہ جس نے اپنی ماں کا لمس تک محسوس نہیں کیا اس کے مسکین ہونے میں کیا بہتری تھی؟ دونوں کو ملی تو ہمیشہ کے واسطے کی جدائی ،تڑپ ۔اللہ تو ہر چیز سے پاک ہے اور بے پراوہ بھی ۔وہ خود کو کبھی بھی کسی چیز پر ذمہ دار نہیں ٹھہراتا ۔۔
    جیسے جب کسی کا وصال ہوتا ہے تو عزرائیل پر الزام لگتا کہ انہوں نے جان نکالی؟ لیکن کس کے کہنے پر؟ یہ کسی نے نہیں بولا ۔
    یہ بات آج تک سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ماں باپ کو اولاد سے محبت اور اولاد کو ماں باپ سے محبت کی تاکید کی گئی لیکن دوسری طرف ان کو جدا کرکے جو ہمیشہ کا غم دیا جاتا ہے اللہ کی طرف سے اس پر بھی صبر کا حکم ۔
    کسی کی ساری دنیا لے جاتی ہے اور اسے صبر کی تلقین کرنا کیا دانائی کی بات ہے؟یقینا نہیں ۔ ہم اللہ کے ہیں اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں لیکن یہ اذیت بھرا سفر کبھی تمام نہیں ہوتا چاہے اس پر صبر کربھی لیں تو ۔۔یہ سفر یونہی ٹوٹی پھوٹی لہروں کی مانند جاری وساری رہتا ہے

    @FA_aLLi_

  • اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم  تحریر: فرح بیگم

    اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم تحریر: فرح بیگم

    اخلاق کا سب مقدم اور ضروری پہلو یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرت ثانیہ بن جاۓ

    حضرت علی رضی اللہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ، حضرت انس رضی اللہ جو مدتوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے تھے ان سب کا متفقہ بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرم مزاج، نیک سیرت اور اخلاق کے اعلی مرتبے پر فائز تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتا تو آپ اس کی بات کو غور سے سنتے تھے جب تک اس شخص کی بات ختم نہ ہوجاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ نہیں پھیرتے تھے۔ کوئی شخص آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب تک اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ چھڑاتا

    مجالس میں لوگوں کی ناگوار باتوں کو بھی برداشت کر لیتے تھے اور اظہار نہ کرتے تھے کسی شخص کی کوئی بات پسند نہ آۓ تو اس کے سامنے اس کا تزکرہ نہیں کرتے تھے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ہمیشہ جگہ کی کمی ہو جایا کرتی تھی کیونکہ صحابہ کرام زیادہ تعداد میں شرکت کرتے تھے تو ایسے میں اگر کوئی شخص آ جاۓ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دیا کرتے تھے۔

    اگر کسی شخص کی کوئی بات ناگوار گزرے تو اس کا نام صیغہ راز میں رکھ کر فرماتے تھے کہ لوگ ایسا کرتے ہیں یا ایسا کہتے ہیں انہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے اس سے لوگوں کی اصلاح بھی ہو جاتی تھی اور اس شخص تک بھی پیغام پہنچ جاتا تھا۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہیں ہمیں بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوۓ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • میں اور مولوی . تحریر : قاسم ظہیر

    میں اور مولوی . تحریر : قاسم ظہیر

    دنیا میں آج تک کسی فرد گروہ خاندان یا نظریات کو نقصان پہنچا تو اس کے اندر سے ہی پہنچا. اسی تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ حالات میں ہمارے اسلام کو بھی بے حد خطرات لاحق ہیں. چاہے وہ مسلمانوں کا اسلام پر عمل نہ کرنا ہو یا غیر مسلموں کی اسلام کے خلاف سازشیں ہو سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں ان حالات میں جس پر سب سے زیادہ ذمہ داری آتی ہے وہ ہمارے مذہبی اسکالر ہیں.لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نہ سمجھا.

    میں ایک عام پاکستانی اور مسلمان ہوں.میری اخلاقی تربیت میری معاشرتی تربیت کی جہاں ذمہ داری میرے والدین پر عائد ہوتی ہے وہیں یہ ذمہ داری ہمارے مذہبی علماء پر بھی عائد ہوتی ہے.ہمارے علماء کا ہمارے کردار کی تعمیر میں بے حد عمل دخل ہوتا ہے
    لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے عالم آج بھی موسیقی حرام, اٹھ اور بیس تراویح, نماز جنازہ آہستہ پڑھنی چاہیے یا اونچی, تین طلاق تین ہیں یا ایک,کیمرہ اور تصویر کیوں ناجائز ہے,اور ایسی کئی چیزیں جن کا ہماری معاشرت سے کوئی لینا دینا نہیں کی گردان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ معاشرہ جہالت قتل کفر دھوکہ منشیات حق مارنا دشمنی بے حیائی اور منافقت میں ڈوب رہا ہے.یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ میں ہرگز اس حق میں نہیں ہوں کہ ان کے بارے میں بات نہ کی جائے ان کے بارے میں بھی بات کی جائے لیکن اتنی بات کی ہے جتنی اس کی ضرورت ہے.نہ کہ ہماری ساری توانائی صرف اسی پر صرف ہو جائے.

    میرے نزدیک معاشرے میں ایک رہبر و رہنما اور لیڈر کی ذمہ داری بھی علماء پر عائد ہوتی ہے.ذرا سوچئے ان پچہتر سالوں میں ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟ ایک ہندو بھی سپریم کورٹ کا جج ریٹائر ہوا لیکن ایک مدرسے کا طالب علم کہاں تک پہنچا ؟اس سسٹم کی ہم نے کتنی خدمت کی؟

    اگر علماء صحیح معنوں میں اس ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو نے آگے آنا ہوگا قدم بڑھانے ہوں گے.میں سب علماء سے درخواست کرتا ہوں کہ عورت کی حرمت,بہنوں کا حق, بیوی کے حقوق ,مسلمان کے مسلمان کے ساتھ تعلقات, اسلامی معاشرے میں جان کی قیمت , برداشت, صبر , محبت اور ہم آہنگی جیسے موضوعات پر بات کی جائے.اسی میں اصلاح کا رازمضمر ہے

    @QasimZahee

  • آج مسلمان کی تذلیل کیوں؟ . تحریر: محمد معوّذ

    آج مسلمان کی تذلیل کیوں؟ . تحریر: محمد معوّذ

    بھائیو! تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو اور تمہارا ایمان ہے کہ مسلمان پر اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے مگر ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت تم پر نازل ہو رہی ہے آخرت میں جو کچھ ہوگا وہ تم بعد میں دیکھو گے مگر اس دنیا میں تمہارا جو حال ہے اس پر نظر ڈالو اس ہندوستان میں تم 32 کروڑ ہو تمہاری اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر ایک ایک شخص ایک ایک کنکری پھینکے تو پہاڑ بن جائے لیکن جہاں اتنے مسلمان موجود ہیں وہاں کفار حکومت کر رہے ہیں تمہاری گردنیں ان کی مٹھی میں ہیں کہ جدھر چاہیں تمھیں موڑ دیں۔ تمہارا سر جو اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کے آگے نہ جھکتا تھا اور آج انسانوں کے آگے جھک رہا ہے تمہاری عزت جس پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی ہمت نہ کر سکتا تھا آج وہ خاک میں مل رہی ہے تمہارا ہاتھ جو ہمیشہ اونچا ہی رہتا تھا اب نیچا ہوتا ہے اور کافر کی آگے پھیلتا ہے جہالت اور افلاس اور قرض داری نے تم ہر جگہ تم کو ذلیل و خوار کر رکھا ہے کیا یہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہے اگر یہ رحمت نہیں ہے بلکہ کھلا ہوا غضب ہے تو کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اور اس پر خدا کا غضب نازل ہو۔ مسلمان اور ذلیل ہو۔ مسلمان اور غلام ہو۔ یہ تو ایسی ناممکن بات ہے جیسے ہر چیز سفید بھی ہو اور سیاح بھی ہو۔ جب مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب دنیا میں ذلیل و خوار کیسے ہو سکتا ہے کیا نعوذباللّٰہ تمہارا خدا ظالم ہے کہ تم اس کا حق پہچان اور اس کی فرماں برداری کرو اور وہ نافرمانوں کو تم پر حاکم بنا دے۔ اور تم کو فرماں برداری کے معاوضے میں سزا دے؟ اگر تمہارا ایمان ہے کہ اللّٰہ ظالم نہیں اور اگر تم یقین رکھتے ہو اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بدلہ ذلت سے نہیں مل سکتا تو پھر تمہیں ماننا پڑے گا کہ مسلمان ہونے کا دعویٰ جو تم کرتے ہو اسی میں کوئی غلطی ہے تمہارا نام سرکاری کاغذات میں تو ضرور مسلمان لکھا جاتا ہے مگر اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں انگریزی سرکار کے دفتر کی سند پر فیصلہ نہیں ہوتا اللّٰہ تعالیٰ اپنا دفتر الگ رکھتا ہے وہاں تلاش کرو تمہارا نام فرمانبرداروں میں لکھا ہوا ہے یا نافرمانوں میں؟

    اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے پاس کتاب بھیجی تاکہ تم اس کتاب کو پڑھ کر اپنے مالک کو پہچانو اور اس کی فرمانبرداری کا طریقہ معلوم کرو کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہے؟ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تمہارے پاس بھیجا تاکہ تم مسلمان بننے کا طریقہ سکھائے کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی اس نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا سکھایا اللّٰہ تعالی نے تم کو دنیا اور آخرت میں عزت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا کیا تم اس طریقے پر چلتے ہو اللّٰہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بتایا کہ کون سے کام ہے جن سے انسان دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے کیا تم ایسے کاموں سے بچتے ہو بتاؤ تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے اگر تم مانتے ہو کہ نہ تم نے اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب اس کے نبی کی زندگی سے علم حاصل کیا اور نہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کی تو تم مسلمان ہوئے کب تمہیں اس کا اجر ملے جیسے تم مسلمان ہو ویسا ہی تمہیں اجر مل رہا ہے اور ویسے ہی اجر آخرت میں بھی دیکھ لو گے۔
    اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین.

    @muhammadmoawaz_

  • سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے فائدے  تحریر : سیف اللہ عمران

    سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے فائدے تحریر : سیف اللہ عمران

    ایک مسلمان کے لیے مطالعہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت ظہور سورج سی ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو قانون و شریعت کا مآخذ سمجھتا ہے اور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا عملی تقاضا

    اور اس کے ساتھ یہ بات بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطا عت ہی میں نجات ہے۔ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعت ِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایمان والا نہیں جو مجھے اپنے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ رکھے۔

    اگر کسی کے لئے خوبصورتی کا کوئی معیار ہے ، تو یہ صرف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    ” تم کو رسول خدا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا بہتر ہے یعنی اس شخص کو جسے اللہ تعالی سے ملنے اور روز آخرت کے آنےکی آس ہو اور وہ کثرت سے زکر الہی کرتا ہو "(سورۃ الا حزاب:آیت 21)

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا پہلا تقاضا یہ ہے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں آپ کی صفات اور اخلاق کو آپ کی نبوت کے ثبوتوں اور خصوصیات کے ذریعہ حاصل کیا جائے۔ کیونکہ جو شخص آپ کے اخلاق اور اوصاف کو جانے گا وہ یقینا آپ سے محبت کرے گا۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے کیونکہ سعادتِ دارین سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر مبنی ہے۔

    سیرت نبوی ؐ، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کے جذبہ ایمان و یقین کے واقعات سے لبریز ہے
    خدا کے اعلی کلام کی شان کے ان کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو پڑھنے اور سننے سے مومنین کے عزائم و قوت کو تقویت ملتی ہے اور حقیقی دین کے دفاع کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے اور دلوں کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے رہنمائی موجود ہے چاہے حاکم ہو یا محکوم ، طالب علم ہو یا استاد گویا آپ ؐ کی سیرت ِ طیبہ ایک انسان ِ کامل کے لیے ہر اعتبار سے اعلیٰ درجے کی نادر مثال ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعہ سے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا تعلق سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت گہرا ہے۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور امتیازات کا صحیح علم صرف سیرت سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے سے طے ہوتا ہے۔

    رب کائنات کی سوانح حیات کا مطالعہ کرکے عقیدہ اور اعتقاد ، شریعت ، اخلاقیات ، تفسیر ، حدیث ، سچائی ، سیاست ، انصاف ، دعوت اور تربیت اور معاشرے اور مختلف کے بارے میں درست اور مستند اور کارآمد معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں

    سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور حدیث مبارکہ میں گہرا تعلق ہے سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے صحیح احادیث کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

    سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ دعوتِ اسلام کے مراحل کی روشنی فراہم کرتا ہے۔ اور ان مشکلات و تکالیف کا پتہ چلتا ہے جن سے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کو کلمہ طیبہ کی سربلندی کے لیے گزرنا پڑا ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ ؐ نے پیش آمدہ دشواریوں کی گھاٹیاں عبور کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا۔

    سیرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس لیے کہ سعادت دارین، رسولؐ اللہ کی لائی ہوئی ہدایت اور رہنمائی پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت کا ذریعہ صرف اور صرف اطاعتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    Twitter @Patriot_Mani

  • عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    اللہ تعالیٰ نے سورہ حج کی آیت ٣٧ میں فرمایا
    لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوْمُهَا وَلَا دِمَاۤؤُهَا وَلٰـكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْۗ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمْۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ

    ‘نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو’

    یہی عید الاضحی کی اساس ہے کے نہ نمود و نمائش نہ ہی فخر و غرور اور نہ ہی مہنگے جانور خرید کر اترانے کا نام عید الاضحی ہے _ مسلمانوں کا یہ مذہبی تہوار حضرت ابراہیم علیہ سلام کی اس عظیم قربانی کی یادگار میں ہے جب انہوں نے خواب میں ملنے والے حکم الہی پر عمل کرتے ہوۓ اپنے جگر گوشے حضرت اسماعیل علیہ سلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی حکم بجالانے کی کوشش کی _ اللہ پاک نے انکی بندگی اور فرمانبرداری کو قبول فرماتے ہوۓ حضرت اسماعیل علیہ سلام کو بچا لیا اور انکی جگہ ایک دنبے کو قربان کیا
    یہ بندگی یہ عاجزی یہ خالق و ارض و عرش کا حکم بجا لانا ایک مثال ہے تمام جہان والوں کیلئے اللہ کی راہ میں اپنی سب سے عزیز شے کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا جاۓ ہر عید الاضحی پر سنت ابراہمی پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ اپنی استعاعت کےمطابق جانور خرید کر اللہ کی راہ میں قربان کئے جائیں

    اسمیں نہ تو نمود ونمائش کا عنصر ہو نہ ہی معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش ہو بلکے اپنے عمل کو اللہ کی رضا کیلئے خالص کرلینے کا نام ہی بندگی ہے جسکا حکم اللہ نے سورہ حج میں ہمیں دیا کے قربانی کے جانور کا گوشت اور اسکا خون اللہ تک نہیں پہنچتا بلکے مسلمان کا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے _ وہ خلوص نیت پر مبنی ہے کے ہم اپنی دی ہوئی قربانی کو صرف ثواب نیت سے اللہ کی راہ میں قربان کریں

    عید الاضحی کی بنیاد میں یہ عنصر پنہاں ہے کے ہم معاشرے کے محروم طبقے کو نظر انداز نہ کریں اور قربانی کا گوشت انھیں پہنچائیں تاکے انکی تنگدستی میں انکی مدد ہو سکے یہی وجہ ہے کے قربانی کے گوشت میں غربا کا ایک حصہ مقرر ہے . اسکے ساتھ رشتہ داروں اور قربت داروں کا خیال رکھنے کا بھی حکم ہے تاکے صلہ رحمی میں کوئی کمی نہ ہو
    عید الاضحی اس روایت کا نام ہے کے اپنے عزیز رشتہ دار پڑوسیوں اور دوست احباب کی بھی مدد کریں والدین اور رشتہ داروں کےحقوق پورے کئے جائیں تبھی رب کائنات کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے

    عالم اسلام عید الاضحی پر قربانی کا فریضہ ادا کرکے سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہے
    بحیثیت پاکستانی ہمارا فریضہ محض قربانی کر کے اور اسکا گوشت بانٹ کر ہی پورا نہیں ہوتا بلکے لازم ہے کے ہم اپنے گردو نواح کا بھی خیال رکھیں اور حکومتی ہدایت کے مطابق قربانی کی آلائشوں کو ٹھکانے لگائیں ، گلی محلے اور سڑکوں پر الاینشیں پھینکنے کی بجاۓ مقامی حکومت کی ہدایت کے مطابق مطلوبہ مقام پر ہی الائشیں پہنچائیں تاکے گلی محلوں اور سڑکوں میں تعفن پیدا نہ ہو اور بیماریاں نہ پھیلیں

    مسلمان کا فریضہ صرف جانور کی قربانی سے ہی پورا نہیں ہوتا بلکے ضروری ہے کے نیت کو صرف رب کی رضا کیلئے خالص رکھتے ہوۓ اسکی پیدا کردہ مخلوق اور بناۓ گۓ رشتوں کے حقوق پورے کریں اور عید الاضحی کی اس اصل روح پر عمل کریں کے انسان کی اپنی کوئی انا نہیں بلکے اسکے پاس جو کچھ ہے وہ رب العزت کا ہے اور وہ اسکی راہ میں سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوۓ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرے کیوں کے وہی ایک تقویٰ ہے جو اللہ کے ہاں پہنچتا ہے

  • جمعہ کی فضلیت   تحریر: فہد ملک

    جمعہ کی فضلیت تحریر: فہد ملک

    جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اجتماع سے مشابہہ ہے، جمعہ (جمع ہونے کا دن)
    ہم (امت محمدیہ) بہت خوش نصیب ہیں کہ اللہ تَعَالٰی نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ہمیں جُمُعۃُ الْمبارَک جیسی بہت بڑی نعمت سے نوازا ہے۔ مگر افسوس! ہم نا قدرے لوگ جُمُعہ مبارک کوبھی عام دنوں کی طرح غفلت میں گزار دیتے ہیں حالانکہ جُمُعہ کا دن تو عید کا دن ہے، جُمُعہ کا دن ہفتے کے دنوں کا سردار ہے، جُمُعہ مبارک کے روز جہنَّم کی آگ نہیں سُلگائی جائے گی، جُمُعہ کی رات دوزخ کے دروازے بند رہتے ہیں، جُمُعہ کے دن کو قِیامت کے دن دلہن کی طرح اُٹھایا جائیگا، جُمُعہ کے روز مرنے والا شخص خوش نصیب مسلمان شہید کا رُتبہ پاتا ہے۔ اور قبر کے عذاب سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کے فرمان کے مطابق، جُمُعہ مبارک کو حج ہو تو اس کا ثواب ستَّر حج کے برابر ہوتا ہے ، جُمُعہ کی ایک نیکی کا ثواب ستّرگنا ہوتا یے۔ (چونکہ جمعہ کا شرف بہت زیادہ ہے لہٰذا ) جُمُعہ کے روز گناہ کاعذاب بھی ستّرگنا ہی ہے۔ (مُلَخَّص از مِراٰۃ ج۲ص ۳۲۳، ۳۲۵ ، ۶ ۳ ۳)

    جمعہ المبارک کے فضائل کے تو کیا کہنے ۔ اللّٰہ تعالٰی نے جُمُعہ مبارک کئ فضلیت بیان فرماتے ہوئے ایک پوری سورت ’’ سُوْرَۃُ الْجُمُعَہ’’ نازل فرمائی جو کہ قرآن پاک کے 28 پارے میں جگمگا رہی ہے۔

    ارشاد ہے۔

    ذیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۹)

    ترجمہ: ا ے ایمان والو ! جب نَماز کی اذان ہوجُمُعہ کے دن تواللہ کے ذِکر کی طرف دوڑواور خریدوفروخت چھوڑدو،   یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جمعہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام اس دن پیدا کئے گئے تھے۔ اور اس دن میں جنت میں داخل کئے گئے تھے۔ اور اس دن کو ہی جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی اسی دن آئے گی

    ‎@Malik_Fahad333

  • پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم   تحریر : اقصیٰ صدیق

    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تحریر : اقصیٰ صدیق

    حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول عام الفیل بمطابق 570ء یا 571ء کو دنیا میں رہ تشریف لائے ۔
    آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کا نام محمد رکھا، عربی زبان میں لفظ “محمد” کے معنی تعریف کے ہیں، یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب طرف بھیجے جانے والے انبیاء اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی تکمیل کے لیے بھیجا.
    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور حیات طیبہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی سے ہدایت میسر آسکتی ہے، اللّٰہ پاک ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔
    رسولؐ اللہ سے محبت ایک مسلمان کے ایمان کا عملی تقاضا ہے حضور ؐ نے فرمایا:” کوئی شخص اس وقت تک ایمان والا نہیں ہے ہو سکتا جب تک میں اس کو اسکے ماں باپ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاٶں“۔

    سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنا ہر اس شخص کے لیےضروری ہے، جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔ اور خود کو سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے،

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو،
    لہٰذا سیرت نبوی کو جانے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔
    صحابہٴ کرام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس تھے ان کی عبادات میں ہی نہیں بلکہ چال ڈھال میں بھی سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور جھلکتا تھا۔
    اگر کسی کو عہدِ رسالت نہ مل سکا تو پھر ان کے لیے عہدِ صحابہ معیارِ عمل ہے۔

    اللہ رب العزت نے دین اسلام کو نظامِ حیات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے مکمل نمونہ حیات بنایا ہے یہی طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سنت کہلاتا ہے اور آپ نے فرمایا ہے من رغب عن سنتی فلیس منی جس نے میرے طریقے سے اعراض کیاوہ مجھ سے نہیں ہے۔
    انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب ترین شخصیت قرار پائے ہیں ۔
    دنیا وآخرت میں کامیابی وسرفرازی کا عنوان اتباع سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا زیادہ تر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت ( پہلی وحی) چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔
    اس کے بعد سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسول کی حیثیت سے تبلیغ اسلام کی ابتداء کی اور لوگوں کو توحید کی دعوت دینا شروع کی۔
    اس سے پہلے ہر طرف درندگی اور حیوانیت کا راج تھا ہر طاقتور فرعون بنا ہوا تھا۔ قتل وغارت عام تھی نہ عزت و عصمت محفوظ، نہ عورتوں کا کوئی مقام، نہ غریبوں کے لیے کوئی پناہ،
    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا۔

    @_aqsasiddique