تحریر یاسمین آفتاب
یہ سوال صدیوں سے زیرِ بحث رہا ہے، اور اس کا جواب پیچیدہ اور کئی عوامل پر منحصر ہے۔ تاہم، ایک بنیادی عنصر جو اکثر روابط کی کامیابی کا سبب بنتا ہے، وہ ہے باہمی احترام۔ ایک رشتے میں جہاں عزت و احترام موجود نہ ہو، اسے دوبارہ قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خواتین اس احترام کی مستحق ہیں جو مرد ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ بے ادبی یا فوقیت جتانے کا رویہ نہ صرف رشتے میں تلخی پیدا کرتا ہے بلکہ اسے ٹوٹنے کی راہ پر بھی لے جاتا ہے۔ ہمارے اور دنیا کے بہت سے معاشروں میں، پیشہ ور ماہر خواتین کو اکثر ان کے مرد ہم منصب کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ دفتر کے اوقات کے بعد بھی گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اکثر خواتین ہی پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ مرد ساتھی یا ان کے خاندان سے مناسب مدد نہ ملنے سے خواتین کا کیریئر متاثر ہوتا ہے۔ یہ چیلنج خاص طور پر اس وقت بڑھ جاتا ہے جب خواتین خاندان بنانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ تاہم، خاندان اور مرد ساتھی کی طرف سے مناسب تعاون اور سمجھ سے ان مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی مضبوط رشتے کی بنیاد ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ جوڑے کو نہ صرف ایک دوسرے کی جدوجہدوں کو تسلیم کرنا چاہیے بلکہ ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور پیار کرنا ایک کامیاب رشتے کی روح ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جسمانی طاقت ذہانت کی علامت نہیں ہے۔ ایک صحت مند رشتے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق مل کر مسائل کا حل نکالیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔ کسی پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہ صرف رشتے کو کمزور کرتی ہے بلکہ اس میں تلخیا بھی پیدا کرتی ہے۔ سماجی کرداروں کی بنیاد پر کسی کا استحصال رشتے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ثقافتی پس منظر اور تعصبات اس بات کو متاثر کرتے ہیں کہ ہم صنفی کرداروں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ مردوں کو اپنے تعصبات سے آگاہ ہونا چاہیے اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سماجی رویے خواتین کو کس طرح منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ باپ، بھائی یا شوہر جیسے کرداروں میں مرد کی حمایت خواتین کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔جب بات قربت کی آتی ہے تو، خواتین اس بات کی تعریف کرتی ہیں جب مرد ہر چیز کو جنسی تعلقات سے جوڑ کر نہ دیکھیں۔ اچھے سلوک کو کسی غرض سے کیا گیا رویہ نہ سمجھا جائے۔ خواتین کو حقیقی تعاون اور مہربانی کی اہمیت ہوتی ہے جو جنسی توقعات سے وابستہ نہ ہو۔ احترام، سمجھ اور تعاون وہ بنیادی ستون ہیں جن کی بنیاد پر عورت ایک مرد میں تلاش کرتی ہے۔
Category: معاشرہ و ثقافت

عورتِیں مردوں سے کیا چاہتی ہیں؟

سرگودھا میں مسیحیوں پر حملہ: ہم یہاں کیسے پہنچے؟
پنجاب کے شہر سرگودھا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، سرگودھامیں پیش آنے والا سانحہ ہجوم کے بے قابو تشدد کی ایک سنگین یاد دہانی ہے جس سے ہماری قوم کو دوچار کر رہا ہے۔ ایک مشتعل ہجوم نے ایک شخص پر توہین مذہب کا الزام لگاتے ہوئے املاک کی توڑ پھوڑ کی اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔ ویڈیو ز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں،سوشل میڈیا فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہجوم نے ایک شخص کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، اس ہجوم میں نوجوان بھی شامل ہیں، وہ فرنیچر کی توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں ایک گھر کے باہر ایک بڑی آگ کو دکھایا گیا ہے۔
اقلیتی حقوق مارچ کے ایک بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایک مقامی مولوی کی طرف سے بیان کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک 70 سالہ شخص کو مار دیا ، اس کے گھر اور فیکٹری کو نذر آتش کر دیا۔ پریشان کن طور پر، ہجوم کی جانب سے حملے کی ویڈیوز میں پنجاب پولیس کے افسران کو خاموش تماشائی کے طور پر کھڑے دکھایا گیا ہے، جو حملہ آوروں کو ان کی خاموشی سے منظوری اور سہولت کاری کا مشورہ دیتے ہیں۔ سرگودھا پولیس نے واقعے میں ملوث 15 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، یہ جڑانوالہ کیس میں اسی طرح کی گرفتاریوں اور گرجا گھروں، عیسائیوں کے گھروں اور کمیونٹیز پر متعدد دوسرے ہجوم کے حملوں کو ذہن میں لاتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان حملہ آوروں میں سے کسی کو سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
بہت طویل عرصے سے، پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین کو ذاتی انتقام اور مذہبی ایذا رسانی کے ہتھیار کے طور پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حوصلہ افزائی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں مختلف انتہا پسند دھڑے ہجومی تشدد کو بھڑکانے کے لیے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔اس طرح کے تشدد کو بھڑکانے اور اس میں ملوث ہونے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ پولیس اور دیگر حکام کی غیر فعال مداخلت جاری نہیں رہ سکتی۔ معصوم جانوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
واقعات و سانحات کے بعد ،حکومت اور پولیس کی خاموشی، اس کے بعد خالی بیان بازی، اہم سوالات کو جنم دیتی ہے،وہ کس کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ عدم برداشت کو اتنی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟ مذہبی اختلافات پر عدم برداشت کا غلبہ کیوں ہے؟ اس مسئلے کی جڑ 7 ستمبر 1974 تک جا سکتی ہے جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے مذہبی علماء کی خوشنودی کے لیے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ فرح ناز اصفہانی نے 2017 میں نوٹ کیا کہ مذہبی جماعتوں نے ایک متفقہ قرارداد منظور کرنے کے لیے سیکولر اپوزیشن اراکین کی حمایت حاصل کی جس میں وفاقی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ احمدیوں کو ان کے ختم نبوت میں کفر کی وجہ سے اقلیت قرار دے۔
نئی قانون سازی اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا حکومتی نقطہ نظر درست سمت میں ایک قدم ہے۔ تاہم، مستقبل کے خطرات کو روکنے اور زیادہ جامع معاشرے کو فروغ دینے کے لیے اختراعی سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی حکمت عملی ضروری ہے۔ انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے نہ صرف سخت قوانین اور نفاذ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس طرح کے تشدد کو ہوا دینے والے بنیادی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کرنا ہوں گے کہ تمام شہریوں بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ایسے گھناؤنے فعل کا شکار ہونے والوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

دوپٹہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور لیڈی پولیس آفیسر
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خاتون پولیس افسر کا دوپٹہ سر سے اترنے کے بعد اسے پہنا دیا،واقعہ کی ویڈیو جو وزیراعلیٰ کی میڈیا ٹیم نے بنائی وہ وائرل ہو گئی اور اس پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا،جو معاشرے میں تیزی سے پولرائزیشن کا اشارہ ہے۔
ویڈیو کلپ کا کیپشن اسے "ہمدردی اور سمجھ ” کا لمحہ قرار دیتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مریم نواز کی ’اخلاقی پولیسنگ‘ تھی، جس میں یہ بتایا گیا کہ خواتین کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ لباس پہننا ذاتی معاملہ ہے اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پولیس افسر کی ذاتی جگہ پر حملہ کیا۔ اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ لیڈی پولیس آفیسر نے پہلے ہی سر پر دوپٹہ پہن رکھا تھا، اور جیسا کہ یہ پھسل گیا تھا، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اسے محض ’’ٹھیک‘‘ کیا۔
یہاں اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مریم نواز اب صرف مریم نواز نہیں رہیں۔ وہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں۔ انکے ہر عمل کو قریب سے دیکھا جائے گا، اورحامی و مخالف دونوں طرح کے تجزیہ کار اس کے کاموں پر اپنی رائے دیں گے،

مریم نواز کی میڈیا ٹیم نے جوش میں آ کر مریم نواز کی جانب سے خاتون پولیس افسر کے دوپٹہ درست کرنے کے لمحے کو پی آر سٹنٹ شو میں بدل دیا۔ دوسری غلطی، عنوان میں الفاظ کا چناؤ نامناسب تھا۔ اصطلاح ‘ہمدرد’ کا مطلب احساس یا ہمدردی ظاہر کرنا اور دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش ہے، جبکہ ‘سمجھنا’ کسی موضوع یا صورتحال کے بارے میں علم ہے،ویڈیو کے تناظر میں ان اصطلاحات کا استعمال گمراہ کن تھا۔ذاتی طور پر،سرکاری حیثیت میں کوئی بھی جسمانی قربت انتہائی نامناسب ہے۔ جونیئر کے لباس کو درست کرنے والا سینئر، چاہے اسکی نیت کتنی ہی مثبت کیوں نہ ہو، سرکاری ماحول میں ناقابل قبول ہے۔
اگر یہ عمل واقعی ‘ہمدردی’ تھا، تو سب سے زیادہ ہمدردانہ عمل یہ ہوتا کہ اسے سوشل میڈیا پر مکمل طور پر شیئر نہ کیا جاتا۔ حجاب کی حرمت کا احترام کیا جاتا اور پولیس افسر کے وقار کو برقرار رکھا جاتا
اوچ شریف:اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی
اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں،جو قومیں اپنی ثقافت، تہذیب کو بھلا دیتی ہیں وہ تاریخ سے ہی مٹ جاتی ہیں
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ قبیلہ کے عامل صحافی ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی بلوچ ،شمس خان رند بلوچ ،اجمل خان بلوچ، ساجد خان بلوچ ،مجتہد رضوی ۔حفیظ خان بلوچ، آمنہ نذر بلوچ کا بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاشرتی نا ہمواریوں کے خاتمے کے لئے قوموں کا اتحاد نا گزیر ہو چکا ہے ۔
انہوں نے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر بلوچی پگڑ ی پہن کے ثقافتی ریت بحال رکھی۔ان کا مزید بلوچ قبیلہ کے تعارف میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچ کے لفظی معنی”بلند تاج”کے ہیں ۔ بلوچ نسلاََ عرب ہیں تاہم بلوچ کو مختلف ادوار میں مختلف قوموں نے بعل، بلوص، بلوس ، بلوث اور بلوچ لکھا ۔ اہل بابل اپنے قومی دیوتا کوبعل یعنی عظیم کہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں لفظ بلوچ فارسی سے مشہور ہوا۔
انہوں نے کلچر ڈے کے موقع پر پوری بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچ قوم اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے اتحاد قائم کریں اور اپنے کلچر کو فروغ دیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد
پاکستان کی معروف قدیمی درس گاہ ۔۔۔۔اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور اور اس کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو بدنام کرنے کےلئے جو جھوٹ بولے گئے ۔۔۔وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب اور یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا اسیکنڈل جب منظر عام پر آیا تو اسی وقت ہی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص سمجھ گیا تھا کہ یہ سازش ہے اور الزام تراشی ہے ۔اس کے بعد جو حقائق منظر عام پر آئے اور خاص کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو ٹربیونل بنایا اس نے بھی اپنی آزادا نہ تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا ہے کہ آئی یو بی کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا ۔
اب آئیں مختصراَ َ اس واردات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے میں انتظامی اعتبار سے چیف سکیورٹی آفیسر کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، چیف سکیورٹی آفیسر ادارے کے حفاظتی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔لہذا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سب سے پہلے یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ میجر اعجاز شاہ کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس مقصد کےلئے جو سیکنڈل گھڑا گیا وہ یہ تھا کہ یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر سے منشیات اور اس کے موبائل سے 5,500 یونیورسٹی کی طالبات کی نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں اس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ یونیورسٹی کا چیف سیکورٹی آفیسر ایک جرائم پیشہ اور اخلاق باختہ شخص ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ دیگر سٹاف کے بارے میں تواتر کے ساتھ منشیات اور ویڈیوز برآمدگی کی خبریں چلائی گئیں جنھیں اور سن کر یوں لگتا تھا جیسے یونیورسٹی میں اساتذہ اور سٹاف نہیں اٹھائی گیر ہیں اور یہ اسلامیہ یونیورسٹی نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور منشیات کا اڈاہے ۔یہ ایسی ہولناک سازش تھی کہ جس نے ملک بھر میں غم وغصے اور اضطراب کی کیفیت برپا کردی۔ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ اس سازش کا پردہ چاک کیا جاتا چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے سب سے پہلے خود کو اور اپنے سٹاف کو احتساب اور خون ٹیسٹ کروانے کےلئے پیش کیا ۔ آئی جی پنجاب کو مراسلہ لکھ کر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔کئی ادارہ جاتی کمیٹیاں قائم کی گئیں جن میں جنوبی پنجاب سے ہائر ایجوکیشن کے ممبران بھی شامل کیے گئے تھے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی دو ڈی آئی جی لیول کے پولیس اہلکار اور ایک صوبائی سیکرٹری پر مشتمل ایک اعلی تحقیقاتی کمیٹی بھیجی ۔ ان سب نے مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد کہا کہ اس سکینڈل کا کوئی وجود نہیں ہے نہ کوئی ویڈیو بنی اور نہ برآمد ہوئی ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید کاروائی یہ کی گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ایک حاضر سروس جج کے تقرر کےلئے درخواست ارسال کردی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تاکہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کے منشیات استعمال کرنے ،بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کرنے کی تفتیش کریں ۔
جسٹس سردار ڈوگر نے پوری تحقیق کے بعد جو رپورٹ تیار کی اس کے درج ذیل نکات ہیں :
یونیورسٹی کی حدود میں نہ تو مبینہ منشیات استعمال ہوئیں اور نہ ہی جنسی استحصال ہوا ۔ اور اس ضمن میں کوئی گینگ بھی نہیں پایا گیا جو ایسا ارتکاب کرتا ہو ۔ کسی پکے ثبوت یا شہادت کے بغیر ہی جنسی ہراسگی یا منشیات کے استعمال کے الزام پر پولیس نے اس کیس کو مس ہینڈل کیا اور یوں یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا ۔ یوینورسٹی میں طالبات یا ارکان جامعہ کے جنسی ہراسانی یا منشیات کے استعمال میں ملوث ہونے کی خبریں سوشل میڈیا کے لوگوں نے پھیلا ئیں جن سے یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا اور طالبات اور پروفیسرز کی عزت اور وقار پر بھی حرف آیا ۔
ٹربیونل نے درج ذیل افراد کو سازش رچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا
جمشید ڈی ایس پی /سی آئی اے
ایس ایچ او تھانہ دراوڑ
سید محمد عباس ڈی پی او بہاولپور
عبداللہ نامی ٹاﺅٹ پولیس جس کے خلاف کریمنل مقدمے کی سفارش کی گئی
اقرار الحسن سید ٹی وی اینکر ، یوٹیوبر /ولاگر اور ثاقب مشتاق یوٹیوبر اور بلاگر( لودھراں )
ٹربیونل نے اپنی رپورٹ نے واضح طور پر لکھا کہ ان ولاگر نے بغیر تصدیق کے ولاگ کئے اور یونیورسٹی کو بدنام کیا ۔
جسٹس سردار ڈوگر کی اس رپورٹ سے بھی یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ آئی یو بی ، اس کے سٹاف سابق وی سی اور طالبات کو ایک دانستہ سازش کے تحت بدنام کیا گیا ہے ۔یہاں ایک بہت اہم سوال بھی ہے کہ آئی یوبی کے خلاف یہ گھناﺅنی سازش کیوں کی گئی اور اس کے مقاصد کیا تھے ۔۔۔۔ ؟
اس کا جواب یہ ہے پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے چار سال کے عرصہ میں یونیورسٹی کے تعلیمی اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کےلئے جو کاوشیں کیں ۔۔۔۔انھیں ناکام بنانا مقصود تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ایک طرف امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم اور مثالی منتظم ہیں تو دوسری طرف وہ دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمار اقدامات کئے ہیں ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجرا کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو نہ صرف بہتر کیا گیا بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ۔یہ وہ قدامات تھے جنھوں نے ایک طرف یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے تو دوسری طرف اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔طلبہ وطالبات جوق در جوق یونیورسٹی کا رخ کرنے کےلئے اور یونیورسٹی کی کلاسز تنگ داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں ان کی تعداد13تک جاپہنچی ۔ پہلے یونیورسٹی میں کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب کل وقتی اساتذہ کی تعداد 400سے بڑھ کر 1400تک جاپہنچی ۔جب لائق فائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ یونیورسٹی کی زینت بنے توطلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کے اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے سے پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔ اسی طرح ڈاکٹر اطہر محبوب کے اس جامعہ میں آنے سے پہلے طالبات کی تعداد صرف 4000تھی جو 27,000تک چلی گئی ۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے یونیورسٹی میں آنے کے بعد والدین کا خصوصاََ بچیوں کے حوالے سے یونیورسٹی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ۔یہ ہے ڈاکٹر اطہر محبوب کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ ۔ ان کاوشوں کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں کے کاروبار مانند پڑنے لگے تھے اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ اسلئے مبینہ طور پر یونیورسٹی کو بدنام کرنے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر یہ ڈرامہ پلے کیا گیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈرامہ جنھوں نے پلے کیاانھوں نے اچھے مسلمان اور شہری ہونے کا ثبوت نہیں دیا بلکہ چند ٹکوں کی خاطر اپنے ہی منہ پر کالک ملی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے عدالتی ٹربیونل نے اس شرمناک ڈرامہ کے جن کرداروں کی نشاندھی کی ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی توسیع دی جائے تاکہ انھوں نے پسماندہ علاقے کی جس یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کا جوسفر شروع کیا تھا وہ چلتا رہے ۔
بہاولپوراسلامیہ یونیورسٹی میں خواتین ٹیچرزکاسی آئی اے پولیس پر ہراسانی کاالزام
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،بزدار دورمیں وائس چانسلرکو نکالنے کی سفارش ہوئی تھی
سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا


محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق
محکمہ بہبود آبادی،حکومت پنجاب عوام الناس میں خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ، زچہ و بچہ کی صحت،ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم موضوعات پر آگاہی و شعور کے فروغ کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کرنے کیلئے روایتی ذرائع ابلاغ جیسا کہ ٹی وی چینلز،ریڈیو اوراخبارات سے استفادہ تو اٹھایا ہی جاتا ہے مگر محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات کو گھر گھر پہنچانے اور مزید آسان طریقہ سے عوام کو خوشحالی اور صحت کا پیغام سمجھانے کیلئے متعدد جدیدطریقہ جات بھی زیر استعمال لائے جا رہے ہیں ۔
ٹیلی ویژن،عوامی آگاہی کا مستند ذریعہ
ٹیلی ویژن آج پاکستان کے ہر گھر موجود ہے اور ہر انسان دن میں کئی بار معلومات، انٹرٹینمنٹ وغیرہ کے حصول کیلئے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ ٹی وی چینلز کو ایک وقت میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پیغامات کی نشریات کیلئے ٹی وی چینلز کو منفرد اور ممتا ز حیثیت حاصل ہے۔ محکمہ بہبود آبادی عوامی سطح پر شعور و آگاہی عام کرنے کیلئے اب تک ہزاروں پیغامات نشر کر چکا ہے اور اس آگاہی مہم کی بدولت نہایت مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں اور محکمہ مزید آگاہی عام کرنے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔معلومات کی فراہمی کیلئے پرنٹ میڈیا کا استعمال
اخبارات کو چونکہ معلومات کا مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں اخبار بینی کا رواج آج بھی اتنا ہی ہے جتنا دہائیوں پہلے تھا۔ محکمہ بہبود آبادی گزشتہ دوسالوں سے اخبارات میں سینکڑوں پرنٹ ایڈز شائع کر چکا ہے جہاں عوام الناس کو خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیںاور معاشرے میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے دی گئی معلومات کو نا صرف مستند سمجھا جاتا ہے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔عوامی سوچ میں تبدیلی لانے اور خوشحال،روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانے کیلئے امیدافزاءنتائج موصول ہوئے ہیں۔بذریعہ ریڈیو،عوام تک رسائی
عوامی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر اہم موضوعات پر آگاہی عام کرنے کیلئے ریڈیو اسٹیشنز کی وسیع تعداد زیر استعمال لائی جا رہی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔چونکہ عوام کی ایک کثیر تعداددوران سفر،دفاتر یاگھروں میں ریڈیو سننا پسند کرتے ہیں اور ریڈیوکئی دہائیوں سے معلومات کا مستند ترین ذریعہ سمجھا جارہا ہے اور اسی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ بہبود آبادی اب تک ریڈیو پر سینکڑوں پیغامات نشر کر چکا ہے۔ اور عوامی سطح پر خوب پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آگاہی
چونکہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی مہم کا اجراءانتہائی مو ¿ثر طریقہ سمجھا جاتا ہے،افادیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر محکمہ بہبود آبادی کے سوشل میڈیا گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت،سرگرمیوں اورپیغامات کی تشہیر کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی کا مقصد زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق نوجوان طبقہ تک آسان رسائی بھی ممکن بنانا ہے۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بنائے گئے ان سوشل میڈیا گروپس کے حوصلہ افزاءنتائج موصول ہوئے ہیں اور نوجوان طبقہ سمیت معاشرے کے ہر طبقہ کی جانب سے محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات پزیزائی مل رہی ہے۔صوبائی،ضلعی،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر آگاہی
عوام الناس اوربالخصوص نوجوان طبقہ میں خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر خدمات سے متعلق آگاہی کیلئے قومی سطح پر سیمینارز، صوبائی سطح پر کانفرنسز اورضلعی و تحصیل کی سطح پر میٹنگز کا انعقاد باقاعدگی سے ممکن بنایا جاتا ہے اور ماہرین کے ساتھ طلباءاور دیگر طبقہ جات کی براہ راست گفتگو سے ان کے ذہنوں میں موجودابہام اور روایتی تصورات کا ازالہ سائنسی اورمنطقی دلائل سے ممکن بنایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر سکھی گھر اور دیگر چھوٹی کمیٹیوں کے ذریعے خواتین اور مردوں تک خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقہ جات، فوائد اور خوشحالی کے رہنما اصولوں کے بارے آگاہی عام کی جاتی ہے۔مقامی زبانوں میں آسان پیغام
مقامی لوگوں کوخاندانی منصوبہ بندی کی افادیت کے بارے آگاہی فراہم کرنے کیلئے مقامی زبانوں جیساکہ پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری وغیرہ میں پیغامات کی تشہیر ممکن بنائی جاتی ہے جس کیلئے ٹی وی، ریڈیو سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی سچی کہانیاں،انہی کی زبانی،مقامی زبان میں دیگر لوگوں کو بتائی جاتی ہیں تا کہ عوام الناس غلط فہمیوں کی بجائے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے خوشحال مستقبل کے بارے 100فیصددرست فیصلہ ممکن بنا سکیں۔بذریعہ پتلی تماشہ عوامی سطح پر آگاہی
محکمہ بہبود آبادی، عوام الناس کو شعور فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پتلی تماشوں کا انعقاد ممکن بنا رہا ہے جس میں بچوں کی کم تعداد،ان کی تعلیم تربیت اور ان کے روشن مستقبل کیلئے والدین کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ،زچہ و بچہ کی صحت اور دیگر اہم سماجی معاملات سے متعلق کردار ڈرامہ کی صورت میں شعور عام کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر پتلی تماشوں کی نمائش کو بھرپور پزیرائی مل رہی ہے اور عوام ان کرداروں سے سیکھ کر عملی زندگی میں متوازن خاندان اور صحت معاشرے کے ساتھ ساتھ خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔اِن ہاو س سٹوڈیو کاآغاز
محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے اِن ہاوس سٹوڈیو کا بھی آغاز کیا گیا ہے جہاں ماہرین خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے عوام کو اہم معلومات فراہم کرتے ہیں جس کو بعدازاں ڈیجیٹل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک محکمہ کا پیغام پہنچا کر خوشحال کل اور صحت مند آج کے خواب کو عملی تعبیر فراہم کی جا سکے۔ورکرز بھی متوازن سوچ کے فروغ کیلئے مصروف عمل
محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے ہر میدان میں رائے عامہ ہموارکی جا رہی ہے جہاں محکمہ بہبود آبادی کے ہر ورکرکی تربیت اس انداز میں ممکن بنائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے دوست احباب، رشتے داروں اور اپنی کمیونٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کیلئے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ورکرزخاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے میں قائم فرسودہ خیالات اور غلط فہمیوں کا سائنسی اور منطقی انداز میں ازالہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کو نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں بلکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے قابل بھروسہ اور جدید طریقہ جات تک بھی عوامی رسائی ممکن بنا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں نئی سوچ کے فروغ سے ایک خوشحال پاکستان کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔یہ ورکرز کی محنت کے ہی نتائج ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام الناس زیادہ بچوں، بیٹوں کی خواہش سمیت دیگرفرسودہ خیالات ترک کررہے ہیں۔ آگاہی کے اشتہارات سے محکمہ،لوگوں کی ذہن سازی اس انداز سے کر رہا ہے کہ وہ اب والدین بچوں کی تعداد کا تعین کرتے وقت زیادہ تعداد کی بجائے ان کی بہتر تعلیم تربیت اور اچھی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔عوامی سوچ اور رویوں میں واضح تبدیلی
محکمہ بہبود آبادی لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔محکمہ،عوام الناس کے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے قومی ذرائع ابلاغ جیسا کہ الیکٹرانک،پرنٹ،سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کامیابی سے آگاہی مہم کو فروغ دے رہا ہے۔محکمہ اپنی آگاہی مہم میں بیٹیوں کی تعلیم تربیت اور ان کے مساوی حقوق کے بارے عوام الناس میں شعور اجاگرکر رہا ہے۔ بچوں کی زیادہ تعداد کی بجائے،ان کی بہتر تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا جا رہاہے۔ عوامی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے خواتین کی خود مختاری اور انہیں تعلیم تربیت کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا گیا ہے جہاں فرسودہ روایات و پرانی سوچ کی بجائے اپنوں کے روشن کل کی بات عوام تک پہنچائی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی جدید اور محفوظ سہولیات چھوٹے خاندان کے روشن کل کی مضبوط بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ عوامی سطح پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور بچوں کی کم تعداد یقینی بناکر ان کے روشن مستقبل کی تشکیل کیلئے بھی رائے عامہ بنائی گئی ہے۔آئیں!خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر چھوٹے خاندان کو خوشیوں اور صحت کی مضبوط بنیاد فراہم کریں اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے اپنا کردارادا کریں کیونکہ سوچ میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے متوازن خاندان، خوشحال پاکستان
ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاک پنجاب کیلئے پر عزم
محکمہ بہبود آبادی،عوام الناس کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے مضر اثرات سے بچاوءکیلئے بھی آگاہی عام کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جنگلات کارقبہ تیزی سے کم ہورہاہے، آتش زدگی اوردیگرقدرتی وانسانی عوامل سے جنگلات کیلئے خدشات اورخطرات بڑھ رہے ہیں،اس صورتحال کے تناظرمیں انسانی صحت اورغذائی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ ماحولیات اورایکونظام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے عالمی معاہدوں پرعمل درآمد کیاجائے۔اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کی 40 فیصدآبادی کو خطرات لاحق ہیں اس تناظرمیں ایکونظام کی بحالی کیلئے تمام ممالک کواپنامشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنا پڑے گا۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا نہایت مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 3.3فیصد جنگلات موجود ہیں جو کہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔متوازن غذا اور نفسیاتی صحت،سب سے پہلے
محکمہ بہبود آبادی کے زیر نگرانی کوالیفائیڈ نیوٹریشنسٹ اورسائیکالوجسٹ ضلعی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں جو متوازن غذا کی افادیت، غذائی مسائل سے نجات،حاملہ خواتین کیلئے ضروری غذائی اجزاءکے علاوہ ذہنی،جسمانی اور جنسی صحت کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدمات سر انجام دہے رہے ہیں۔ عوام الناس بالخصوص خواتین کو نفسیاتی مسائل کے آسان حل بتائے جاتے ہیں،ورزش سمیت دیگر معمولات میں ہم آہنگی اور ذہنی سکون کے حوالے سے اہم نکات پر زور دیا جاتا ہے۔عوامی صحت،ہماری اولین ترجیح
محکمہ بہبود آبادی،صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ڈینگی، نمونیا، وبائی امراض سے متعلق ویکسینیشن،متوازن غذا،ماں بچہ کی صحت سے متعلق اہم معلومات اور ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق بھی معلومات ڈیجیٹل اور قومی میڈیا کے ذریعے آگاہی عام کر رہا ہے۔ جس کا مقصد عوام الناس کو صحت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کر کے نہ صرف خوشحال بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنانا ہے.

تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید
سگریٹ پر ٹیکس، عالمی بینک نے تمباکو نوش افرادکو بری خبر سنا دی، عالمی بینک نے سگریٹ پرٹیکس میں اضافے کی سفارش کی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں، قیمتیں کم ہونے کی وجہ ٹیکس کا کم ہونا ہے، ٹیکس کم ہونے کی وجہ سے سگریٹ کی فروخت زیادہ ہوتی ہے اور سالانہ تین لاکھ سے زائد افراد کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے موت ہو جاتی ہے
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ پریمیم سگریٹ (16.50 روپے فی سگریٹ) پر موجودہ شرح کو عام کیٹگری کے سگریٹ پر بھی لاگو کرکے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کا نمایاں ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، رپورٹ میں اس اقدام کے ذریعے معاشی اور صحت سے متعلق فوائد کے امکانات کو اجاگر کیا گیا ہے،پاکستان میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی اس وقت اپنی متوقع شرح سے کم ہے، مالی سال 21 کے دوران جی ڈی پی کا صرف 0.5 فیصد حصہ اس وصولی سے ملا ہے،سگریٹ پر ٹیکس، جو کہ جی ڈی پی کا 0.19 فیصد ہے، حالیہ برسوں میں نسبتاً جمود کا شکار رہا ہے،
سگریٹ مضر صحت ہے، سگریٹ کی پیکٹ پر لکھا ہونے کے باوجود کوئی سگریٹ چھوڑنے کو تیار نہیں، گھر میں کچھ کھانے کو ہے یا نہیں؟ سگریٹ ضرور پینا ہے، بجلی کا بل جمع کروانے کے پیسے نہیں،بچوں کو سرکاری سکول میں اسلئے داخل کروایا کہ پرائیویٹ کی فیس نہیں دے سکتے، بیمار ہو جائیں تو سرکاری ہسپتال میں لائن میں لگیں ،پرائیویٹ ہسپتال نہیں جا سکتے کہ فیسوں کے پیسے نہیں، البتہ، دھواں اڑانے کے لیے ، سگریٹ پینے کے لئے روز پیسے ہوتے ہیں اور روز ہی خرچ ہوتے ہیں، ایک پیکٹ سگریٹ کی قیمت کا ماہانہ اگر حساب کیا جائے تو سگریٹ نوش کم از کم ماہانہ چھ سے دس ہزار کے سگریٹ پی جاتا ہے، ان پیسوںسے وہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، اچھی صحت، اچھی غذا کا بندوبست کر سکتا ہے تا ہم سگریٹ ضروری باقی سب جائیں بھاڑ میں…
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا ڈھائی کروڑ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں،رپورٹ عالمی ادارے ٹوبیکو ہارم ریڈ کشن نے تیار کی،رپورٹ میں کہا گیا کہ تمباکو نوشی کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلا کر 12 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں، تمباکو نوشی سے شرح اموات بڑھ چکی ہے،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والے بالغ افراد کی تعداد دو کروڑ 39 لاکھ ہے ،ان میں سے چھ فیصد ای سگریٹ اور ویپنگ کا استعمال کرتے ہیں،پاکستان میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے لیکن قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا کیونکہ پاکستان شاید بنا ہی اسی لئے کہ ہر بندے کا اپنا ہی قانون ہے،جہاں پابندی ہو یا رکاوٹیں ہوں پاکستانی وہیں غلط کام کرنے کو نہ صرف ترجیح دیتے بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں، تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی بڑھ چکی، پولیس کو کاروائی کی ہدایت ہے لیکن اسکے باوجود تعلیمی ادارے نہ صرف سگریٹ بلکہ منشیات کے گڑھ بن چکے ہیں،طالبات میں بھی سگریٹ نوشی دیکھنے میں آئی ہے ،
پاکستان میں تمباکو نوشی پر کنٹرول ،یہ ایک چیلنج ہے، حکومت کو تمباکو ساز کمپنیوں کی جانب سے رشوتیں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسز نہیں لگتے، عالمی بینک نے تو سفارش کر دی لیکن اب مزید ٹیکس کون لگائے گا؟ سگریٹ ساز کمپنیاں سفارشیں شروع کروا دیں گی اور اگر کوئی فائل نکلی تو پھر نوٹوں کی گڈی تلے دب جائے گی،پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ، یہ بات ہر پاکستانی کہتا ہے، تاہم تمباکو سے پاک پاکستان، اس نعرے کو بھی پھیلانے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں اس نعرے کو شامل کرنا چاہئے، سیاسی لیڈران کو اس نعرےکو اپنانا چاہئے کہ وہ اپنے نسل کو تمباکو کی زیر سے بچائیں گے اور تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،
شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟
تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد
ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے
تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون
یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ….
کبھی اپنا وقت بھی آ ئے گا…. یہ کہنے کو تو ایک تسلی ہے مگر اس ایک جملے میں ہم نہیں جانتے کتنے ہی لوگ اپنی امیدوں کے پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر اپنی حسرتوں اپنی امیدوں کو اپنے ساتھ لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ,
البتہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی ہوتی تو شاید ان کی تکلیفیں کم ہوجاتیں,
اور جو لوگ اپنی حیثیت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں مگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو support نہیں کرتے اگر ایسے وقت اسے تھوڑی سی بھی support مل جائے تو کئی لوگ اپنے رویوں میں نہ صرف تبدیلی لے آئیں گے بلکہ اس انسان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے
ہم زندگی میں کئی لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اکثر غلط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کئی راز ہوتے ہیں جو نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ وہ کسی پر ظاہر ہونے دیتے ہیں.
مانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر جس انسان نے اپنے بھلے وقت میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی, اپنوں کا خیال رکھا مگر جب اس انسان پر برا وقت آتا ہے ناں تو یقین کریں جس پر ان کو پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے وہی اس انسان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ انسان ان کے سامنے ڈوب رہا ہوتا ہے مگر وہ دور سے تماشائی بنے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں.
کیا اپنوں کا ایسا طرز عمل اس انسان کو ہمت دے گا ؟؟؟
اس کو تو اوع دلبرداشتہ کردے گا کہ میں کیا کرتا رہا اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے….
آ ج یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اپنے ہی لوگ اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں…
وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اب گھر میں بیچنے کو کچھ بھی نہیں بچا, گاڑی خالہ کو بیچ دی اب ایک چھت رہ گئی ہے وہ بھی جیٹھانی کہہ رہی کہ اگر بیچنا ہوا تو مجھے بتا دینا میں خرید لونگی….
یہ اس عورت کو کہا جا رہا ہے جو انہی لوگوں کا اس وقت سہارا بنی جب اس کی جیٹھانی بیوہ ہوئی تھی اور اس کے گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی کا زمہ اس عورت نے اٹھایا تھا اور آخر کار اسکے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے…
کہتے ہیں ناں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا کسی کو اللہ دے کر آ زماتا ہے اور کسی کو اس سے محروم رکھ کر,
اس عورت کے شوہر کی جاب چار پانچ سال پہلے کسی وجہ سے چلی گئی اور تب سے یہ عورت کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود گھر سے باہر کام کرنے جانے لگی اور وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے کہ اسے کئی طرح کی باتوں کا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
آ ج وہ کسی کام سے میرے گھر آئی تو میری زرا سی تسلی سے اس کی آنکھیں بھر آ ئیں
میرے چپ کروانے پر بولی کہ کاش میرے گھر والوں کو میری تکلیفوں کا احساس ہو کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں, وہ روتے روتے کہنے لگی کہ آپا میں بہت حساس ہوں شاید…. میری ماں بھی نہیں رہی کہ اس کی گود میں سر رکھ کر رو لوں, میں اپنے بچوں میں اپنی ماں کا پیار ڈھونڈتی ہوں کہ مجھے وہ سہارا دیں مگر آپا ان کو بھی میری تکلیفیں نظر نہیں آرہی…
میں کیسے ان کی ضرورتیں پوری کررہی ہوں یہ ان کو نہیں پتا…
بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو سب کچھ دے کر پھر تنگدستی نہ دے کیونکہ عیش و آرام کے بعد تنگدستی کی زندگی جینا بہت کٹھن ہے.
میں نے اسے حوصلہ دیا کہ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تو آ نسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی اور ساتھ گویا ہوئی آپا میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کوئی کام تلاش کرے تو کہتا ہے کوئی کام ملتا ہی نہیں تو کیا کروں کہاں جا کے کام کروں تم کام کررہی ہو ناں… اور جب جواب میں اسے کہتی ہوں میرے میں ہمت نہیں رہی ہے گھر میں بیٹھنے سے کام تمھیں نہیں ملے گا ڈھونڈنا شروع کروگے تو ملے گا تو کہتا ہے ساری زندگی میں نے عیش کروائی ہے کیا ہوگیا جو اب تم کام کر رہی ہو.
آپا کیا وہ عیش کی زندگی میں نے اکیلے گزاری تھی کہ اب سارا بوجھ مجھے اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ اس عیش میں اس کے اپنے گھر والے بھی تو تھے ناںیہ کہتے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مگر میرے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا سوائے تسلی دینے کے کہ حوصلہ رکھو سب بہتر ہوجائے گا تو جواب میں اس کا جواب آیا کہ جب میں ہی نہ رہی تو سب ٹھیک ہوگا بھی تو مجھے کیا….
اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہی ہو تو وہ بولی آ پا میں سوچتی تھی کہ خودکشی کرنے والوں کو ڈر کیوں نہیں لگتا مگر اب سمجھ آرہی ہے کہ لوگ خودکشی کو کیوں اتنا آ سان سمجھتے ہیں ایک بار کی تکلیف ہوتی ہے ناں, روز روز کی تکلیفوں سے کم از کم نجات تو پالیتے ہیں,
میں نے اس کی پوری بات سن کر اس کو ڈانٹا کہ اپنے ذہن سے منفی سوچ نکالو کہ خودکشی کرنے سے سب تکلیفیں ختم ہوجائیں گی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو مجھے حیرت ہے, اپنے آپ کو مضبوط بناؤ جیسے دکھاتی ہو کہ تم ہمت والی ہو, اور خودکشی بزدل لوگ کرتے ہیں جو حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے. خیر میرے ڈانٹنے پر وہ تھوڑا مسکرا دی اور میرے گلے لگ گئی یہ کہتے ہوئے کہ آپا کبھی تو اپنا وقت بھی آئے گا ناں ؟اس کی بات سن کر میں نے مصنوعی ہنسی سے کہا ہاں انشاءاللہ ضرور آئے گا بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے.یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ،اس کے برے حالات سے زیادہ میرے خیال میں اسے اس کے اپنوں کے رویے اذیت دے رہے تھے کیونکہ بقول اس کے کہ اس کی تکلیفوں کا کسی کو بھی احساس نہیں ،وہ اپنی استطاعت کے مطابق مشکل حالات کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی کیونکہ اسے مشکل حالات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئی تھی
یہ سچ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی انسان کو سبق سیکھا دیتے ہیں,
اس کڑے وقت میں وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو بہت سی باتیں اور تنقید بھی سننے کو ملتی ہے اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا ہے عورت جتنا مرضی کام کر لے اس کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے.یہاں اس اکیلی کی زمہ داری نہیں تھی, ان حالات میں اسے اسکے شوہر کی زیادہ support کی ضرورت تھی مگر جو نظر نہیں آتی, اگر اس کا ساتھ ان حالات میں شوہر بھی دیتا تو کم از کم وہ زندگی سے مایوس نہ ہوتی, وہ آ ج خود کو اکیلا محسوس نہ کرتی, شوہر کا یہ کہنا کہ ساری زندگی عیش کروائی ہے تو کیا ہوا اب جو تمھیں کام کرنا پڑ رہا ہے یہ ہر لحاظ سے غلط سوچ ہے
ہمیں اس معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کا عزت دینا ہوگی ان کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا اور یہ تبھی ہوگا جب ہم منفی کی بجائے مثبت سوچ رکھیں گے جب دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں گے جزاک اللہ
@Rehna_7
بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)
پاکستان میں ہر سال اکتوبر کا مہینہ بریسٹ کینسر سے آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ شروع ہوتا ہے تو میری نظر میں کئی ایسے قریبی رشتہ دار اور دوست احباب گھومنے لگتے ہیں جو بریسٹ کینسر کا شکار ہوئے اور آج ہم میں موجود نہیں۔ تب معاشرے میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے زیادہ آگاہی موجود نہیں تھی۔ گو کہ علم ہونے پر علاج کیلئے بہت بھاگ دوڑ ہوئی۔ کوئی ہسپتال، پیر، فقیر نہیں چھوڑا گیا۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر علاج کی ہر کوشش کی گئی۔ مگر بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ بریسٹ کینسر سے آگاہی کا مہینہ میرے اندر مذکورہ تمام متاثرین اور لواحقین کے دُکھ تازہ کر دیتا ہے۔
مختلف بیماریوں سے نہ صرف آگاہی رکھنا، بلکہ ان کے علاج کی کوشش ہر فرد کا حق ہے۔ اس کا خود کو اس حق سے محروم رکھنا اپنے ساتھ ایک ایسی زیادتی ہے جس کا ازالہ سالوں بھگتنا پڑتا ہے۔ خواتین میں چھاتی کے بڑھتے سرطان کی ایک بڑی وجہ جھجک ہے۔ ”لوگ کیا کہیں گے“ یا، معمولی مسئلہ سمجھ کر پہلے ایسی بیماری کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا پھر دیسی ٹوٹکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب بات بگڑ جاتی ہے تو علاج کیلئے یہاں وہاں بھاگا جاتا ہے، مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ حالانکہ ماہرین کا موقف ہے کہ بریسٹ کینسر ایسی بیماری ہے جس کو ابتدائی طور پر ہی پکڑا جا ئے تو بچنے کے چانسز 95 فیصد سے زائد ہوتے ہیں۔ تاہم دنیا کے بدلتے مزاج اور ترجیحات کے ساتھ ساتھ اب صورتحال مختلف ہوچکی ہے۔ جس معاشرے میں پہلے مذکورہ حوالے سے بات کرنے میں جھجک آڑے رہتی تھی، وہاں اب ”پنک ربن“ نامی ایک پلیٹ فارم کی وجہ سے خواتین میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ سے آگاہی اور مختلف ہدایات دینے کے ضمن میں منظم آگاہی مہم بھرپور انداز میں چلائی جاتی ہے اور علاج میں کوتاہی نہ برتنے بارے انہیں خبردار کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح پورے ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر 9 میں سے 1 خاتون کو بریسٹ کینسر ہونے کا رسک ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین بریسٹ کینسر کے رسک پر ہیں۔ پاکستان تھرڈ ورلڈ ممالک سے تعلق رکھنا والا وہ ملک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگ مہنگے علاج کے خوف سے بھی ہسپتالوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر تشخیص کی مناسب فیس بھی وصول کرے تو ادویات ہی اس قدر مہنگی ہوتی ہیں کہ انہیں ریگولر بنیادوں پر لیتے رہنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے آغاز میں چھاتی میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو معمولی گردانا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں جو 18 میموگرام مشینیں انسٹال کی ہیں، ان سے استفادہ کرنے والی خواتین کی تعداد بے حد مایوس کن ہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ اسی رویے کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد خواتین اُس وقت ہسپتال میں علاج شروع کرواتی ہیں جب وہ انجانے میں بریسٹ کینسر کی تیسری اسٹیج پر پہنچ چکی ہوتی ہیں اور یوں پاکستان میں ہر سال 40 ہزار سے زائد خواتین موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔ اگر وہ تیسری اسٹیج کی بجائے ابتداء میں ہی مستند جگہوں سے اپنا چیک اپ کروانا شروع کر دیں تو نہ صرف علاج کے اخراجات کنٹرول میں رہیں گے بلکہ ان کا شمار صحتیاب ہو کر اس مرض سے چھٹکارہ پانے والی 95 فیصد خواتین میں ہوگا۔جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا
غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟
بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”
50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار
خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف
ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا
تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے
شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟
خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی
”پنک ربن“ کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے 90 ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ اس صورتحال میں خواتین میں جھجک کا عنصر ختم کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔ آگاہی کا فقدان دور کرنے اور اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کیلئے آگاہی مہم کا دائرہ کار مساجد میں خطبوں، تعلیمی اداروں میں سیمینارز، ہسپتالوں اور کاروباری پوائنٹس پر تشہیری ذرائع کے استعمال حتیٰ کہ گھروں تک آگاہی پمفلٹس پہنچانے کی صورت میں بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں لائف لانگ میسج سرایت کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہر زون کی سطح پر فری ڈائیگناسٹک سروسز مہیا کی جائیں۔ جبکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن ہسپتالوں میں یہ سروسز موجود ہیں وہاں خواتین کو ٹیسٹوں اور علاج کیلئے شارٹ سے شارٹ ٹائم دیا جائے تاکہ ان کی تیز ترین ریکوری ممکن ہو سکے۔ خواتین میں چھاتی کے سرطان کی بڑھتی شرح دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اب ”لوگ کیا کہیں گے“ سے آگے نکلنا ہوگا۔ اس ضمن میں یہ امر بھی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ جو خواتین چھاتی کے سرطان کی تیسری اور چوتھی اسٹیج پر پہنچ چکی ہیں ان کیلئے علاج کی سہولیات کم لاگت کی جائیں تاکہ ان کے گھر والے بآسانی ان کا علاج کروا سکیں …… وگرنہ 20 لاکھ روپے کے قریب ہونے والا علاج ہر خاتون کیلئے کروانا ممکن نہیں

پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ
زنیرہ ماہم کی حالیہ ویڈیو نے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ ہولناک زیادتی کا پردہ فاش کیا ہے،
زنیرہ ماہم کی جانب سے شیئر کی گئی ایک حالیہ ویڈیو نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر ایک سول جج کی سربراہی میں ایک خاندان کے ہاتھوں 14 سالہ لڑکی پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ ویڈیو میں کم از کم 15 مختلف مقامات پر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے پریشان کن مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ تشدد اس کے جنسی اعضاء تک بھی کیا گیا ہے،۔ لڑکی کے سر پر ایک کھلا زخم بتایا جاتا ہے، جس کے اندر کیڑے رینگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد میں اسے تشدد کرنے والوں نے ایک بس سٹاپ پر چھوڑ دیا اور بالآخر اس کے والدین اسے سرگودھا کے ایک ہسپتال لے گئے، وہاں پر اسکا علاج نہ ہونے کی وجہ سے اسے مزید علاج کے لیے لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔حکام نے لڑکی کے لیے روزگار تلاش کرنے کے ذمہ دار فرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باوجود، پولیس کی جانب سے جج اور ان کی اہلیہ سے تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ جج نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ متاثرہ لڑکی کو خاندان نے چھ ماہ سے ملازم رکھا تھا۔
لنک: https://www.youtube.com/watch?v=rcRsOJ2hfz0
اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی عدم مساوات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جہاں بااثر افراد اکثر اپنے اعمال کے لیے جوابدہی سے بچ سکتے ہیں۔ جب کہ عام عوام کو معمولی جرائم کے لیے بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بدعنوانی اقتدار میں رہنے والوں کے لئے ڈھال بنتی ہے، انہیں انصاف سے بچاتی ہے، اور یہاں تک کہ اگر وہ چاہیں تو ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واضح تضاد ملک کے تمام صوبوں میں قیدیوں کی خطرناک تعداد میں ظاہر ہوتا ہے، جن کو سزا نہیں دی گئی۔ جس کا تناسب سندھ میں 70%، کے پی میں 71%، بلوچستان میں 59%، اور پنجاب میں 55% تک پہنچ گیا ہے – بااثر مجرم سزا سے بچتے رہتے ہیں، اور اکثر بیرون ملک چلے جاتے ہیں
کسی کی سماجی حیثیت سے قطع نظر، معاشرے میں انصاف اور مساوات کی بالادستی ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ ملک میں بدعنوانی، استثنیٰ، اور عام آدمی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کے مروجہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ان مشکلات کو تسلیم کرنے اور ان سے نمٹنے کے ذریعے ہی، پاکستان ایک منصفانہ اور ہمدرد معاشرہ بن سکتا ہے۔ جو اپنے سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کرتا ہے۔













